#bordertalks #iftikharfirdous #TalibanRegime #TalibanActions #AfghanIssues #HumanRights #TalibanRule #pakistan #security #lawandorder #publicsafety #fieldmarshalasimmunir #indiapakistanwar #ARYNews
👇🏼
https://www.youtube.com/playlist?list=PLS19FEYA85DjMXsnoR2YfAXLvuriQIEKb
Follow the ARY News channel on WhatsApp: https://bit.ly/46e5HzY
Subscribe to our channel and press the bell icon for latest news updates: http://bit.ly/3e0SwKP
ARY News is a leading Pakistani news channel that promises to bring you factual and timely international stories and stories about Pakistan, sports, entertainment, and business, amid others.
👇🏼
https://www.youtube.com/playlist?list=PLS19FEYA85DjMXsnoR2YfAXLvuriQIEKb
Follow the ARY News channel on WhatsApp: https://bit.ly/46e5HzY
Subscribe to our channel and press the bell icon for latest news updates: http://bit.ly/3e0SwKP
ARY News is a leading Pakistani news channel that promises to bring you factual and timely international stories and stories about Pakistan, sports, entertainment, and business, amid others.
Category
🗞
NewsTranscript
00:01. . . . .
00:30. . . .
01:00. . . . .
01:02. . . . . . . . . . . . . . . . . . . .
01:02. . . . . . . . . . . . . . . . . . . .
01:06. . . . . . . . . . . . . . . . . . . .
01:08. . . . . . . . . . . . . . . . . . . .
01:13. . . . . . . . . . . . . . . . . . . .
01:16. . . . . . . . . . . . . . . . . . . .
01:18. . . . . . . . . . . . . . . . . . . .
01:20. . . . . . . . . . . . . . . . . . . .
01:20. . . . . . . . . . . . . . . . . . . .
01:21. . . . . . . . . . . . . . . . . . . .
01:23. . . . . . . . . . . . . . . . . . . .
01:25. . .
01:25that chairmen Khrushcheid Medin Saad
01:27today join us. We will ask that
01:30in the question of the question of the question
01:31in the masses for what is the interpretation?
01:34Thank you very much, Khrushcheid Medin Saad.
01:36The time for the time is for
01:37and when you have come here,
01:39when you have come here, you have to be able to see it.
01:42That's why we are going to be able to see it.
01:44We are going to talk about it.
01:44This is a continuous topic.
01:45We have got to talk about it.
01:48Rosemary, who are directly
01:50who directly deal with them,
01:51they will be able to talk about it.
01:53Legislators will be able to talk about it.
01:54This is important for the time of the time of the time.
01:59It is important for the time of the time of the time of the time.
02:01However, it is important that
02:03the Islam has a concept of state.
02:08This current scenario in the world,
02:09it is how to fit it.
02:11This is when we look at democracy and look at the place.
02:17We look at the situation of the time of the time of the time of the time.
02:17Thank you very much.
02:18Islam, you know, Allah Almighty has the last day.
02:21Mmки. Yeah. Yes. Yes.
02:23So, that's…
02:23All right. Yeah. It's a little…
02:27So, you know, the…
02:28That's…
02:29Our idea of a!
02:30It's going to have.
02:31Yeah. Yes.
02:33So, that's…
02:33There are dominated…
02:34Thank you,…
02:35There are so many…
02:36That has highlighted…
02:38Yep.
02:39And that you know…
02:40This is a pictures Historians,
02:41Hermitage,
02:42that our presentation –
02:43Our味 part of a site,
02:43which reminds us,
02:43yes. Yeah.
02:44Yes.
02:48What we mean,
02:51says,
02:51I think about this.
03:21ڈھائیر پر قائم رہے یہ اصول اسٹیبلش ہو گیا اچھ اب سوسائٹی استقاع
03:28کے مراحل سے گزرتی رہی آگے بڑھی تو اس کے آگے بڑھنے کے بعد اب
03:32صورت یہ پیدا ہوئی کہ ہر دور کے اندر اس کو اپلائی کیا گیا اس
03:36سارے بنیادی اصولی ہدایت کو اپنے اپنے دور کی روشنی میں آج کی
03:41دور میں جب ہم آتی ہیں بیسویں کیسویں صدی میں تو آپ کو معلوم ہے
03:44کہ دنیا کا ڈھانچہ بدل گیا جب اسلام نازل ہوا تو یہ امپائرز کا
03:48دور تھا دنیا پھر میں امپائرز تھیں بڑی بڑی سلطنتیں تھیں آج
03:52بسویں صدی میں آپ نیشن سٹیٹ کے دور میں زندہ ہیں نیشن سٹیٹ کا
03:56مطلب یہ ہے کہ ایک قومی ریاست قائم ہو جاتی ہے اور دنیا میں
04:00اقوام و دیدہ کی شکل میں ان کی ایک انٹرنیشنل آرگنیزیشن
04:03بنا جن گئی ہے یہ ایک بڑی چینج ہے ایک بڑی تبدیلی ہے اب آپ
04:07نے دیکھنا ہے کہ وہ جو اصول آپ کو رسالت مہاب صلی اللہ
04:10علیہ السلام نے دیئے اس میں آپ نے کیسے اپلائی کرنا ہے تو
04:13پنیادی اصول کیا ہے کہ آپ نے وامروہم شورہ بینہ ہو مشاورت
04:18سے چلتا ہے اب یہ مشاورت کا مطلب یہ ہے کہ عام عادلی کی
04:21رائے سے بنتا ہے وہ رائے آپ کیسے حاصل کریں گے ایک شکل
04:24پہلے ہوتی تھی کہ آپ بیعت کرتے تھے ایک شکل آج کی ہے کہ
04:28آپ ووٹ سے فیصلہ کرتے ہیں تو ووٹ سے یہ تیع کرنا کہ حکمران
04:32کون ہوگا اس کا مطلب یہ ہے کہ مشاورت سے تیع کرنا ہے اب سسٹم آپ
04:36بناتے ہیں اپنی ضرورت کے تیعت یہ صدارتی ہو سکتا ہے یہ پالیمانی
04:40ہو سکتا ہے یہ کوئی بھی ہو سکتا ہے لیکن بنیادی اصول وہی ہے
04:43کہ وامروہم شورہ بینہ ہو تو آج کے دور میں اگر آپ پالیمانی
04:47سسٹم بھی لے کے آئیں گے یہ صدارتی لے کے آئیں گے تو بنیادی
04:50یہ سوال واضح ہونا چاہیے کہ یہ عوام کی رائے سے عوام کی
04:54بشورے سے باہم اتفاق کے ساتھ اور کسرت رائے کی بنیاد پر وجود
04:59میں آیا ہے جی ٹھیک تو تو ریاست کا جو تصور ہے وہ بسیکلی جو
05:03رولنگ کلاس ہے وہ بسیکل یعنی جو لوگ اپنی رائے سے پسند کریں
05:08گے جس کو اس کو جو ہے وہ لے کر آئیں گے پھر جو ان لوگوں کی
05:13سیکیورٹی ہے جو ریایہ ہے اس کی سیکیورٹی کا ایشو ہے اس کے جو
05:18اصول ہوں گے وہ کہاں سے ہیں گے اس کی بنیاد یہ ہے کہ جب آپ جمع
05:22ہو جائیں گے تو اس کی اساس کسی social contact پر ہوگی آپ متفق ہو
05:29جائیں گے کہ یہ ہیں وہ principle جس پر ہم نے نظمی اجتماعی کو
05:32چلانا ہے اس کو آپ modern terminology میں constitution کہتے ہیں یعنی
05:37آپ اتفاہ کر لیتے ہیں کہ یہ وہ social construction ہے یہ وہ political
05:41construction ہے جس کے تحت ہم نے اپنے نظمی اجتماعی کو لے کے چلنا
05:45ہے یہ عوام کی نامائندے ہیں یہ بیٹھیں گے یہ فیصلہ کریں گے اور
05:48یہ آئین ہے جو حدود تیع کر دے گا کہ ان حدود کے اندر انہوں نے
05:51فیصلہ کرنا ہے جیسے مثلا آپ کے آئین میں یہ تیع کر دیا گیا
05:54کہ قرآن و سنت کے برخلاف کوئی legislation نہیں ہو سکتی اس
05:58طرح کے کچھ اور human rights کے ہیں آپ کو معلوم ہے کہ آئین کی
06:01شروع میں principles دے دئیے گئے ہیں اب آپ جو بھی legislation
06:05کریں گے جو بھی ملکہ نظام بنائیں گے وہ اس کے گرد فمیں گا
06:08تو یہ ایک معایدہ ہے جو عوام اور ریاست کے درمیان ہو گیا کہ
06:14ہم نے اس معایدے کے تحت اپنی اجتماعی معاملات کو چلانا ہے اب
06:18حکومت جو ریاست کے ریپیزنٹ کر رہی ہے اور عوام دونوں اس
06:22معایدے کے پابند ہیں اس لیے کہ وہ معایدہ دونوں کی حقوق
06:24کو فرائز کا تعیون کر رہا ہے اور اسلام میں ہمیں یہ حکم
06:27دیا گیا ہے کہ ہم معایدوں کی پاس تاریخ کریں اہد کو پورا
06:31کریں اور اس اہد کا تعلق یہ کہ ہم نے جو حکومت نے اور
06:35ریاست نے عوام کے ساتھ جو معایدہ کیا اور عوام نے ریاست
06:38کے ساتھ کیا یعنی میں اگر پاکستان کے شہری ہوں تو میں نے ایک
06:41معایدہ کیا ہے کہ میں اس کو ٹیکس دوں گا اس کی قوانین
06:44کو مانوں گا اس کے اگر یہ کہے گی کہ تم نے یہاں رک جانا
06:48ہے تو میں رک جاؤں گا یہ میری ذمہ داریوں میں شامل ہے
06:51ریاست کی ذمہ داریاں کیا ہیں وہ میری جان و مال کا
06:53تحفظ کرے گی مجھے قانون کے تحت پروٹیکشن دے گی یہ
06:57اس کی ذمہ داریاں ہیں تو حقوق بھی ہوتے ہیں اور ذمہ داریاں
07:00بھی ہوتے ہیں ان کا تعیون ایک معایدہ کی شکل میں ہوتا ہے
07:02اس کو ہم کانسٹیوشن کہتے ہیں اور اس کانسٹیوشن کی
07:04پاسداری ماری دینی ذمہ داری ہے اخلاقی ذمہ داری ہے اور
07:08اگر ہم نہیں کریں گے تو خدا کے عامی جواب دیں
07:11یہ تو کلیر ہو گیا کہ یہ رشتہ اب ہے کیا سٹیزن کا سٹیٹ
07:15کا پھر جب ہم اب اس کو موڈن کانٹیکس میں لے کر آتے ہیں اور
07:19خصوصی طور پر آج کل کے دور کے اندر جو کانفلیٹس کا جو
07:22ہے وہ دور ہے اور ہم دیکھتے ہیں کہ مسلح گروہ جو ہے وہ
07:26ریاست کے اوپر اس basic structure کو جو ہے وہ target کرتے ہیں کہ
07:29جس طریقہ کار سے یہ سٹیٹ چلائی جا رہی ہے وہ اسی کے اوپر جو
07:33ہے وہ questions جو ہے وہ لگاتے ہیں تو پھر یہ difference of
07:37opinion اس کے بیچ میں کوئی درمیانہ راستہ نظر آتا ہے یہ جو
07:41اسلوب ہے نا اس کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں ہے نبی صلی اللہ
07:45صلی اللہ علیہ وسلم کے کرشاد ہے کہ اللہ کا ہاتھ جماعت
07:48پر ہے الجماعت الجماعت سے مراد سٹیٹ ہے نظم
07:52اجتماعی ہے جب لوگ متفق ہو کے کوئی حکومت
07:56کسی نظام پر اتفاق کر لیتے ہیں تو اس کے بعد اس کے خلاف
08:00جانا شرن نجائز ہے یہ میں کوئی نئی بات نہیں کہہ رہا یہ
08:03ہمارا ایک نون چیز ہے جو پوری مسلم روایت کے اندر موجود
08:07ہے بلکہ میں آپ صحیح سکھ کروں کہ یہ وہ بات ہے جس پر کوئی
08:10اختلاف نہیں ہے ہم حکمرانوں سے اختلاف بھی کر سکتے ہیں لیکن
08:15ہم اپنے اختلاف کا اظہار کریں گے زبان سے کریں گے کلم سے
08:18کر دیں گے لیکن ہم اس کی بغاوت نہیں کریں گے اس لیے کہ بغاوت کا
08:22مطلب یہ ہے کہ آپ نے نظم اجتماعی کو توڑ دیا آپ نے اس
08:26معاہدے کو توڑ دیا جو آپ کا حکمرانوں کے ساتھ ہے میرا
08:29معاہدہ حکومت کے ساتھ ہے ریاست کے ساتھ ہے کہ میں اس کی
08:31اطاعت کروں گا لیکن میں اس پر تنقید بھی کروں گا جہاں
08:35کوئی بات غرض لگے گی لیکن میں اس کی اطاعت کے دائرے سے نکلوں گا
08:39نہیں یہ قرآن مجید کو حکم ہے کہ اللہ تعالیٰ کی اطاعت
08:43کرو اتی اللہ واتی الرسول وعولی الامر منکو اللہ اور
08:47رسول کی اطاعت اور پھر وہ جو صاحبان امر ہیں جو آپ کی حکومت
08:51ہے جو آپ کا نظم اجتماعی اس کی آپ اطاعت کریں گے اور یہ
08:54اطاعت لازم ہے اس سے آپ نکلیں گے تو گویا آپ فساد پیدا کریں
08:58گے اور قرآن مجید میں جو سب سے سخت سزا بیان کی گئی ہے وہ
09:02فساد فیلرز کی بیان کی گئی ہے فتنہ پھیلانے کی کی گئی ہے
09:06جب جیسے ہی آپ اجتماعی نظم کو توڑتے ہیں اس کا مطلب ہے
09:09کہ آپ فری فرال ہو گیا نا یعنی وہ چیز جو آپ کو اور مجھے
09:13پابند کرتی ہے کہ ایک نظم میں رہے ہیں آپ کو میرے وجہ سے میری
09:17وجہ سے آپ کی جان و مال کو کوئی نقصان نہ پہنچے وہ یہ
09:20معایدہ ہے وہ اگر میں توڑ دیتا ہوں اپنی رائے سے اس کا
09:23مطلب یہ ہے کہ یہ حق آپ کو بھی ہو گیا یہ حق تیسرے کو بھی
09:26ہو گیا پھر انورکی ہے پھر کوئی نظم اجتماعی وجود میں نہیں
09:29رہ سکتا ہے اس لیے فساد کو ہمارے دین کی اندر ایک بہت
09:32پڑا جرم قرار دیا گیا ہے اور قرآن مجید میں اس کی سزا
09:36تقتیل بیان کی گئی ہے یہ قتل سے بھی سنگین تر چیز ہے
09:39تقتیل اور اس میں کہا گیا ہے کہ ان کے ہاتھ پاؤں
09:42الٹے طریقے سے کارتو یعنی دائیں ہاتھ کارتو بھائیں پاؤں
09:45کارتو اور ان کے عبرتناک طریقے سے سزا دو اس لیے کہ
09:49فساد فیلحرس لوگوں کی جان و مال سے کھیلنا یہ معمولی
09:52درجہ کا جرم نہیں ہے یہ بہت سنگین جرم ہے یعنی ایک قتل آپ
09:56کرتے ہیں تو اس کے بدلے میں بھی کساس ہے جان لی جائے گی جان کے
09:59بدلے میں لیکن پورے معاشر کو آپ خوف کیکے موقعہ کر دیں
10:03تو یہ معمولی واقعہ نہیں ہے اس لیے یہ بات سمجھنے کی ہے
10:07کہ نظم اجتماعی سے بغاوت کرنا یہ فساد فیلحرس ہے اور اس کی
10:11بہت شدید سزا ہمارے دینی میں بھی بیان ہوئی ہمارے آئینی میں بھی
10:14بیان ہوئی ایک چھوٹے سے بریک کا ٹائم ہوا ہے واپس آ کر وہ دوسرے
10:19مسلمان ممالک کے ساتھ تعلق ہے اس کے حوالے سے تھوڑا جو میں ہو جانا
10:23چاہیں گے ناظرین ہمارے ساتھ رہے ہیں
10:28ویلکم بیک ناظرین اچھا قرشید صاحب ہم بات کر رہے تھے جو بیسک
10:32کانسپس سے سٹیٹ کے ریایہ کے لوگوں کے حقوق کس طرح سٹیٹ اپسٹیٹ
10:38اپنے آپ کو جو ہے وہ امپوس کر دی ہے لیکن اگر ہم اس کو کرنٹ
10:42کانٹیکسٹ میں جو ہے وہ شفٹ جو ہے وہ کر دیتے ہیں ایک بہت بڑا سوال جو ہے وہ
10:46آ جاتا ہے کیونکہ بغاوت کا تو آپ نے ایک complete chapter جو ہے وہ
10:50explain کر دیا کہ کیا سزا ہے اور تقتیل سے جو ہے اس almost اس کو
10:54متشابہ جو ہے وہ قرار جو ہے وہ دیا ہے لیکن جو آج کل کے دور کے
11:00اندر کچھ ایسے گروپس ہیں جو کہتے ہیں کہ جو ہمارا ورجن ہے شریعہ
11:05کے لحاظ سے وہ ہم امپوس کریں گے اور جو باقی ہیں وہ غلط ہیں اس
11:09کانسپٹ کو اسلام نے کیسے وضع جو ہے اس کا حق کسی کو نہیں ہے وہ اپنی
11:15رائے بیان کر سکتے ہیں وہ اپنی تعبیر بیان کر سکتے ہیں اور
11:19اس کے بعد یہ حق ہے ریاست کا نظم اشتماعی کا کہ وہ کسی تعبیر
11:23کو اختیار کر لے دیکھیں ہماری آئین نے ہمیں پابند کیا قرآن
11:27و سنت کا کسی خاص تعبیر کا پابند نہیں کیا یعنی نہ ہم ہنفی
11:31تعبیر کے پابند ہیں نہ ہم مال کی تعبیر کے پابند ہیں ہم کسی
11:35فقی کسی مصدر کی تعبیر کے پابند نہیں ہیں یہ ساری ہماری
11:38روایت ہے ہم سب سے استفادہ کریں گے لیکن وہ جو ایک فورم ہے آپ
11:42کا نظم اشتماعی کا آپ کی اسمبلی ہے آپ کی پارلیمنٹ ہے وہ جس رائے
11:46کو چاہے قبول کر سکتی ہے اور اس کے لیے بھی ایک کانسٹوشنل آپ کے
11:50پاس راستہ ہے جس کو اسلامی نظیاتی کانسل کی شکل میں بیان کر دی
11:53ہے کسی معاملے میں ڈسپیوٹ ہے تو آپ ان کی طرف بھیجتے ہیں وہ
11:56ریکمنٹ کریں گے آپ کو پارلیمنٹ کو کہ ہمارے خیال میں یہ رائے
11:59درست ہے آپ اس کے پابند نہیں ہیں لیکن وہ آپ کی ایک طرح سے
12:02مشاورت ہو جائے گی کہ اس میں دین کا نکتہ نظر کیا ہے ایک عالم
12:06کا حق بس اتنا ہے وہ عالم فرد کی شکل میں ہو یا اجتماعی
12:10وہ گروہ کی شکل میں ہو کہ وہ اپنا نکتہ نظر بیان کر دیں اب
12:13اس کے بات قبول کرنا نہ کرنا یہ عوام کا حق ہے اور عوام اپنا
12:16حق استعمال کرتے ہیں تھرو پارلیمنٹ اس لیے کسی گروہ کو یہ حق
12:20نہیں دیا جا سکتا کہ اپنی رائے کو بالکوبت یعنی پیکچیکلی
12:25لوگوں کی اوپر مسلط کریں میں آپ کو آس کروں کہ ہمارے بہت
12:29بڑے امام مالک ہماری تاریخ میں آپ کو معلوم ہے کہ ان کی
12:33کیا حیثیت ہے امام اندار الحجرہ ان کو کہا جاتا ہے یہ اور جو
12:36عباسی حکمران تھی منصور یہ کلاس فیل ہو رہے ہیں آپ اس میں
12:40بہت قریبی تعلق تھا تو امام مالک کی بہت مشہور کتاب ہے
12:43موتا وہ حدیث کی کتاب ہے لیکن آپ یہ سمجھیں کہ فقی کتاب
12:46بھی ہے چونکہ اس میں فقی ترتیب سے سارے ابباب بیان کی گئے ہیں
12:50تو منصور نے اس خواہش کا اظہار کیا کہ میں موتا کو سٹریٹ لاؤ
12:53بنا دیتا ہوں آپ کو معلوم ہے اس وقت کوئی پارلیمنٹ ہوتی
12:56نہیں تھی خلیفہ بادشاہی تھے وہ جو چاہیں کریں تو وہ
12:59چاہتا تو کر سکتا تھا تو امام مالک نے اس کو منع کر دیا
13:03وہ نے کہا کہ میں نے جو سمجھا جو میری رائے تھی جو میری
13:07معلومات میں نے جمع کی وہ میں نے اس میں جمع کر دیا اب یہ
13:10لوگوں کا کام ہے کہ وہ چاہیں تو اس کو قبول کریں چاہیں تو نہ
13:12کریں اس لیے میں یہ آپ کو اجازت نہیں دوں گا کہ میری
13:16رائے کو آپ عوام پر مسلط کریں اس لیے یہ ہمارے کلیر تھے
13:20ہمارے علماء ہمارے سکالرز ہمارے فقہا اس معاملے میں کہ
13:23آپ اپری علمی رائے بیان کرتے ہیں اس کے بعد یہ نسبی
13:27اجتماعی کا فیصلہ ہے کہ وہ کس رائے کو قبول کرتی ہے ایک کو
13:30کرتی ہے دوسرے کو رد کر دیتی ہے یہ ہمارے ہاں خود خلافت
13:34راشتہ میں بھی آراب بدلتی رہیں ذرا بتائیں ایکسپلین کریں
13:36مثلا ایک رائے اختیار کی گئی حضرت ابو بکر صدیق کے
13:41دور میں حضرت عمر کے دور میں حالات بدلے تو انہوں نے اس
13:44رائے کو بدل دیا مثال کے طور پر بلکہ اس سے بہت اگلی درجہ
13:47کی مثال ہے قرآن مجید نے یہ زکاة کے مسارف پیان کی
13:51ہیں وہ آٹھ مسارف پیان کی ہیں جہاں آپ زکاة خرش کر
13:53سکتے ہیں اس پر ایسے ایک تعلیف قلب بھی ہے لوگوں کی دل
13:57جیتنی کے لیے آپ استعمال کرتے ہیں یہ پہلے بھی رائج رہا
13:59قرآن مجید کا حکم تھا حضرت ابو بکر صدیق کے دور میں رائج
14:03رہا لیکن جب معاملہ حضرت عمر کے پاس آیا تو انہوں نے
14:06کہا کہ اس مد میں اب خرش کرنے کے ضرورت نہیں رہی اب
14:09اسلام اس سے کھا پہ کھڑا ہے اسلامی ریاست اس سے کھا پہ
14:12کھڑی ہے کہ ہمیں تعلیف قلب کے لیے پیسے خرش کرنے کے
14:15ضرورت نہیں اس لیے آئندہ زکاة اس کام کے لیے خرش نہیں
14:18ہوگی تو ایک بڑا فیصلہ لی ہے طلاق کے بارے میں دیکھ لی
14:23طلاق یہ جو ایک نشست میں تین طلاقوں کا جو معاملہ ہے یہ
14:27حضرت عمر کے دور سے پہلے کوچھ اور تھا حضرت عمر نے
14:31اپنے دور کی حالات کو دیکھا کہ لوگ اس کو کس طرح سے
14:33سوئے استعمال کر رہے ہیں اس رائٹ کو کیسے لوگ غلط
14:36استعمال کر رہے ہیں تو انہوں نے کہا کہ آئندہ پھر ایک
14:38نشست کی طلاقوں میں تین قرار دے دوں گا تو یہ نظم
14:41اجتماعی کی فیصلے ہیں یہ فیصلے آج بھی بہت سے لوگ نہیں
14:44مانتے وہ یہ کہتے ہیں کہ وہ حضرت عمر کی رائے سے
14:48ہے ابھی بھی بہت زیادہ ہے وہ یہ کہتے ہیں کہ ایک
14:50نشست میں ایک اطلاق ہوتی ہے آپ کو معلوم ہے یہ ہمارے
14:52مشہور فقی اختلاف ہے تو کہنا یہ ہے کہ یہ اختلاف
14:55ہوتے ہیں کوئی ایک رائے ہے جس کو آپ اختیار کر لیتے ہیں
14:58آج بھی کوئی چاہتا ہے تو حضرت عمر کی رائے کو اختیار
15:00کر سکتا ہے لیکن بہت سارے لوگ چاہیں تو دوسری رائے
15:03کو بھی اختیار کر سکتے ہیں یہ انٹرپیٹیشن کا اختلاف ہے
15:06لیکن یہ حق کہ کونسی رائے اختیار کی جائے گی یہ آپ کا
15:09نظم اجتماعی اس کا فیصلہ کرتا ہے ہر گروہ کو یہ حق
15:13نہیں دیا جا سکتا مثلا آج ایک گروہ کھڑا ہوتا ہے وہ
15:16کہتا ہے کہ میری تعبیر کے مطابق اسلام نافذ کرنی ہے کل
15:19ایک دوسرا گروہ کھڑا ہو جاتا ہے میری تعبیر کے مطابق
15:22کھڑیں کل تیسرا گروہ کھڑا ہو جاتا ہے آپ بتائیے
15:24کہ اس کے بعد کسی نظم اجتماعی کا قائم رہنا ممکن ہے
15:27تو آپ کو لازمان ایک شکل اختیار کرنی ہے
15:30کہ جس میں کسی ایک رائے کو اختیار کر لیا جائے
15:32اور وہ ہم نے پارلیمنٹ آئین کی شکل پر کر لیا
15:35تو پھر اجماع علمہ کا جو کونسپٹ ہے
15:38یا نیشن سٹیٹ کے اندر ایک اجماع کا کونسپٹ ہے
15:40تو وہ کن چیزوں پر پھر ہوگا
15:42اس کو علامہ اقبال نے بہت اچھی طرح سے بیان کر دیا
15:44انہوں نے اپنے خطبات میں اجتہار پر جن کو خطبہ ہے
15:47انہوں نے واضح کیا ہے
15:48کہ دور جدید میں اجماع کو جاننے کا پلیٹ فارم پلیٹ پارلیمنٹ ہے
15:52یعنی یہ بات کہ لوگ کے اکثریت کی احتیار ہے
15:55اجماع اصلا میں تھوڑا ایک مس کلکولیٹڈ یا جو کری
15:59کہ مس انڈرسٹوٹ کونسپٹ ہے
16:03اجماع عام طور پر ممکن نہیں ہوتا
16:06یعنی انٹرپرٹیشن میں نہیں ممکن ہوتا
16:09اجماع کا مطلب ہے کہ اس سے کوئی اختلاف نہ کرنے والا ہو
16:12آپ اکثریت کی بات کر سکتے ہیں
16:14یعنی لوگ اکثریت اس کو قبول کر رہی ہے
16:16تو اکثریت اس کو قبول کرتی ہے
16:18اجماع انہوں نے
16:19اس کے لیے ایک اور ٹرم بھی استعمال ہونا ہے
16:21شروع ہی بات کی فکر میں
16:22وہ ہے اجتماعی اجتہات
16:25وہ عالموس اجماع کے برابر کی
16:26اجتماعی سطح پر آپ نے اجتہات
16:29تو اس کو علام اقبال نے آپ کے خطبات میں بتایا
16:31کہ دور جدید میں اس کو اپنانے کا طریقہ پارلیمنٹ ہے
16:35آپ پارلیمنٹ
16:35ان کو نے سیجسٹ کیا ہوا ہے
16:37کہ اس میں علماء کی بھی میمورشپ ہو
16:38جیسے ہمارے ہم یہ ہے نا
16:40ٹیکٹوکریٹس کی سیٹیں ہیں
16:41اس میں علماء بھی آتے ہیں
16:42تو آتے ہیں یا نہیں آتے ہیں
16:44یہ تو ہمارا پیکٹس ہے
16:45لیکن اس میں آئین میں ہے ہمارے
16:46تو اب یہ ہے کہ وہ پارلیمنٹ کا جو ہے
16:49وجود پارلیمنٹ کا جو کردار ہے
16:51وہ اصل میں اس اجماع
16:52یا اس اجتماعی اجتہاد ہی کا
16:55دور جدید میں
16:56اس کی ایک مذر ہے
16:57اس کا ایک مستاق ہے
16:58بہت شکریہ پرشید ندین صاحب
17:00آپ کے ٹائم کا
17:01گفتگو جو ہے آپ نے مہمان کی سنی
17:03بہت امپورٹن گفتگو
17:05ایک ایسے ٹاپک کے اوپر
17:06جس کے اوپر
17:06مین سٹریم میڈیا میں کمی جو ہے
17:08وہ بادشیت ہوتی ہے
17:09کوشش کریں گے کہ آگے بھی
17:10پروگرام کے اندر جو کانسپٹس ہیں
17:12ان کو باقی مہمانوں کو بھی
17:14اور خوشید ندین صاحب کو بھی
17:16دوبارہ بلا کر
17:17کچھ اور سوالات جو ہے
17:18وہ سامنے رکھیں
17:19کیونکہ جو موجودہ دور کے اندر
17:21پیچیدہ مسائل ہیں
17:22ان کے بیسکس کافی انکلیر ہیں
17:24بیسکس جاننے سے ہی آگے
17:25کمپلیکس پروبلمز کی سمجھ جائے
17:27وہ آتی ہے
17:27پروگرام میں گفتگو کا سلسلہ
17:29جاری رہے گا
17:30دیکھتے رہے گا
17:30بارٹر ٹاپس
Comments