Skip to playerSkip to main content
#bordertalks #iftikharfirdous #balochistan #TalibanRegime #TalibanActions #Afghanistan #AfghanIssues #HumanRights #TalibanRule #pakistan #security #breakingnews #lawandorder #maulanaidris #investigation #crimeupdate #citynews #publicsafety #markaehaq #fieldmarshalasimmunir #pmshehbazsharif #indiapakistanwar #ARYNews

👇🏼
https://www.youtube.com/playlist?list=PLS19FEYA85DjMXsnoR2YfAXLvuriQIEKb

Follow the ARY News channel on WhatsApp: https://bit.ly/46e5HzY

Subscribe to our channel and press the bell icon for latest news updates: http://bit.ly/3e0SwKP

ARY News is a leading Pakistani news channel that promises to bring you factual and timely international stories and stories about Pakistan, sports, entertainment, and business, amid others.

Category

🗞
News
Transcript
00:01. . . .
00:30knowledge in the first place.
00:32The financial issues are the same part by the biological issues because
00:33Belochistan has a final one which is resourceful.
00:38This is the same part without a question which is three different
00:43and is the main part by the people in California.
00:44As of the following we see that the Army Chief and Prime Minister
00:47which has been in Belochistan today.
00:49The Chief of Army Staff has been a field marshal
00:53and the members of the seer Violence Authority,
00:54They came to a call that, the design, the design, the propaganda, the propaganda, is an important thing,
01:06which was the image.
01:08It was that Pakistan was by the way, but the nefarious designs was by the recruitment.
01:14So if we look at it, the Pakistan and Pakistan, the Pakistan economic corridor,
01:20it's the centrality.
01:21بھی اسی صوبے میں بنتی ہیں اور آخری کے جو ایران کا مسئلہ ہے وہ
01:26بھی بلوشستان کے بارڈر سے متصل ہے کس طرح یہ چیزیں ساکھ آپس میں
01:31آ کر جو ہے ایک ایسا ایشو جو ہے وہ بن رہی ہے جو ایک عالمی
01:34ڈیویٹ کا حصہ تو ہے لیکن اس کی لوکل ایسپیکس بھی ہیں ان ساری
01:38باتوں پر آج گفتگو کرنے کے لیے وزیر اعلی بلوشستان کے مشیر
01:42ورائے میڈیا فیز شاہد رنس صاحب کو جو ہے وہ مدعو کیا ہے جو ان
01:46باتوں پر کافی گہری نظر رکھتے ہیں اور ان سے کچھ سخص حوالات جو ہے وہ
01:50پوچھیں گے بہت شکریہ نورین صاحب ٹائم دینے کے لیے اور خصوصی طور
01:54پر جو ہے وہ اسلام آباد آنے کے لیے بات چیز جو ہے وہ کرنے کے لیے
01:58دو چیزیں بلوشستان کے حوالے سے کافی امپورٹنٹ ہیں ایک سیکیورٹی اور
02:02جو دوسری گووننس کے ایشوز ہیں تو اگر ہم انٹرنل سیکیورٹی
02:06ڈائنیمکس کے اوپر بات کریں اور آپ کو بتا ہے کہ بلوشستان آہ اس
02:11ٹائم پر کانسنٹریشن ہے اور ایک لائم لائٹ بھی انٹرنیشنلی ایران
02:15کے ایشو کے حوالے سے لیکن ہم نے حالیہ دنوں میں دوبارہ کچھ
02:19اسکیلیشن جو ہے وہ وائلنس میں دیکھی ہے انٹرنلی کیا سوچا جا رہا ہے
02:23کہ محرکات کیا ہے اور جو ڈی سٹیبلائزیشن ہے کیونکہ لارج طور پر تو اس
02:29میں فائننشل ایشوز کو ہٹ کیا جا رہا ہے اور جو ملک کا
02:32بیکبون ہے وہ بلوشستان ہے فائننشلی
02:34what is this thinking inside the government circles کہ اس کے جو ہے وہ
02:39catalysts کیا ہیں افتخار اگر اس کو بالکل ہی میں short کرنا چاہوں
02:44نا تو میں آپ کو دو چھوٹی سی examples دوں گا ایک example یہ دوں گا کہ
02:50بلوشستان کا جو ایک لفظ کہا جاتا ہے بلوشستان کا مسئلہ میں اسے
02:54مسئلہ نہیں کہتا it's a basically a challenge اور challenge کوئی
02:58نیا نہیں ہے اگر قیام پاکستان سے آپ اٹھاتے ہیں دو چیزے ہیں
03:03اس سے آپ agree اور differ دونوں کر سکتے ہیں ایک لمبے عرصے تک بلکہ
03:08آپ کہہ سکتے ہیں پچاس سالوں تک اسلام آباد نے یا جو ہمارے ملک
03:13کے فیصلہ ساز جگہیں ہیں ان کے سامنے ایک nationalist narrative رہا ہے
03:19اور پچھلے پچاس سالوں میں جو féderationist narrative تھا جسے میں نام
03:26لے لیتا ہوں کسی کو اچھا لگے یا برا لگی لیکن چونکہ جب آپ
03:29history پہ بات کرتے ہیں تو آپ کو brutal ہونا پڑتا ہے ایک طرف
03:33nationalist narrative تھا جنہیں سردار طاولہ مینگل میرغاس بخش بزنجو
03:37اور جو ہے باقی لوگ elite کرتے تھے اور کچھ جو ہے féderationist
03:44politics کرتے تھے جمالی صاحب تھے کونسا تھے اور دیگر لوگ تھے
03:48لیکن 2000 سے پہلے تک آپ کو féderation کی pro voices ہیں وہ سنائی
03:55نہیں دیتی وہ آپ کو موجودہ جو insurgency ہے یا جو موجودہ جسے میں
04:01دہشتگردی کہتا ہوں جو 2000 سے شروع ہوتی ہے اور جو ابھی تک جاری
04:05ہے افتخار کسی بھی ملک میں دہشتگردی کا سامنا کسی بھی ترقی
04:11یافتہ ملک کو یا ترقی پذیر ملک کو کرنا پڑا تو انہوں نے ایک
04:15policy کے تحت اسے deal کی لیکن اگر گزشتہ 26 سالوں میں دیکھیں
04:21بلوچستان کے case میں ایک چھوٹی سی مثال میں بار بار اس کو
04:24repeat کرتا ہوں national action plan آپ نے دیکھا ہوگا national action
04:28plan ایک ایسا document ہے جس پہ سب کا اتفاق کر رہا ہے اس میں
04:31مذہبی جو بندوق اٹھانے والا ہے وہ دہشتگرد ہے لیکن اگر
04:36افتخار اور شاہد قومیت کے نام پہ بندوق اٹھاتے ہیں تو وہ
04:39دہشتگرد نہیں ہے this is the level of confusion موجودہ جو لہر ہے
04:44اس میں اضافہ آیا ہے اس کے وجوہات پہ اگر آپ جائیں گے
04:48وجوہات external انڈیا سے لے کے جب بھی کوئی ایک دہشتگردی کا
04:54واقعہ ہوتا ہے ہم اس کی جب چیزوں کو لنک کرنا شروع کرتے ہیں
05:00چاہے وہ satellite calls کی صورت میں ہو چاہے وہ communications کی
05:03صورت میں ہو وہ کندھار سے کابل سے وائیہ نیو دہلیہ میں connect ہوتی
05:07بھی نظر آتی ہے اور جو region میں جو situation ہے پاکستان کا جو
05:12چائنہ کے ساتھ تعلق ہے وہ بھی بہت سے عالمی ممالک کو قبول
05:17نہیں ہے جس کی وجہ سے اس کی بھی ایک cost پاکستان کو پے کرنی
05:21پڑتی ہے لازمی سی بات ہے چائنہ ایک ایسا ملک ہے جس سے ہو سکتا ہے
05:25کوئی عالمی طاقت برائے راست نہیں لڑ سکتی تو وہ ایک طور پہ
05:30پاکستان کو ہی challenge کرتی ہے ہندوستان کو جو operation marka
05:35حق ہو بنیان المرسوس ہو اس سے پہلے جتنے false flag operations ہو آپ
05:41series کو connect کریں جب انڈیا نے پاکستان کے border پہ کوئی
05:46misadventure کیا پاکستان کی security forces نے اسے جو جواب دیا اس جواب
05:51کے بعد آپ کو بلوستان میں ایک wave بڑھتی بھی نظر آئے گی ایک امید
05:56ہمیں یہ تھی کہ جب افغانستان میں regime change ہو رہی تھی جو موجودہ
06:02امارت اسلامی افغانستان جو پچھلے سارا set up تھا وہ wipe out ہو رہا
06:06تھا نیا set up آ رہا تھا عالمی دنیا کی expectations تھیں کہ پچھلا
06:10set up کوئی 20-30 سال resist کر لے گا بہتر گھنٹے resist نہیں کر
06:14سکا جو american weapon جو gadgetry وہاں موجود تھی وہ آج تمام چاہے وہ
06:20فتنت الخوارج کی صورت میں فتنت الہندوستان کی صورت میں وہ سب کے
06:24پاس موجود ہے تو اس وقت بھی جب میں آپ سے بات کر رہا ہوں ہم
06:28جس چاہے وہ سانیہ جعفر ایکسپریس کا واقعہ ہو کوئی بھی واقعہ ہو
06:32جب ہم connectivities کو connect کرتے ہیں ہم dots کو connect کرتے ہیں تو
06:35ہمیں بلوچستان سے کندھار کندھار سے کابل اور نیو دہلی کا لگتا ہے
06:40this is something that we've been hearing again and again لیکن جو اس پہ
06:43criticism آتی ہے وہ یہ ہے کہ بلوچستان کو جس طرح پیش کیا جا رہا ہے
06:48اس time پر globally بھی جتنی بھی senior diplomats جو پاکستان آتے ہیں ان سے
06:53بات چیت ہوتی ہے ان سب کو پتا ہے کہ بلوچستان جو ہے یہ ایک
06:57gold کا ذخیرہ ہے سارا and there's no bigger sort of a this time
07:03per repertoire of gold and copper in the world جتنا recording ہے اور اگر ہم
07:08پچھلے پانچھے سال یا دس سال تک جو ہے وہ پیچھے چلے جائیں
07:11تو ہماری جو financial backbone ہے وہ اس پر reliant ہے اس کو ایک تو
07:16external challenges کی تو ہم بات کر رہے ہیں لیکن جو internal challenges
07:20ہے why is it کہ یہ recurrent ہے threshold اتنا زیادہ ہے ممالک بہت
07:24زیادہ جو ہے proxy wars میں جو ہے وہ involved ہیں یا internal بھی تو
07:29challenges ہوں گے آپ نے nationalists کی جو ہے وہ بات کی تو جو
07:32nationalists national action plan میں نہیں آتے ایک سوچ تو ابھی بھی یہ
07:36ہے کہ nationalists کو قومی دارے میں لے کر آیا جائے اور شاید یہ جو
07:41ہے وہ elixir ہو جسے جو ہے ہم شاید کوئی حل جو ہے وہ ڈون لیں اچھا آپ
07:46اس کو میں اگر آپ کے question کو آخری جو nationalist والے جملے کو summarize
07:50کروں یا جو میں understand کر پایا آپ یہ کہنا چاہ رہے ہیں کہ
07:54کوئی nationalist government ہو وہ آ کے lead کرے نہیں جو اس time پر جو
07:59crackdown بھی ہم دیکھ رہے ہیں شاید ان سے بات چیز جو بارہ nationalists
08:04elements ہیں جو pro nationalists ہیں جو insurgent کی طرف جو ہے وہ tilted
08:08ہے نام لیں تاکہ میں بھی نام لے کے بعد کر سوں تو ہم usually جو ہے وہ
08:12بات جو ہے وہ کرتے ہیں کہ بی وائی سی کے اوپر جو ہے وہ ایک crack
08:15down ہے اب ایک سوچ یہ ہے معاشرے کے اندر بھی generally میں کہ یہ اس
08:19علاقے کے لوگ ہیں اگر ان سے بات چیز جو ہے وہ ہو تو شاید اس
08:22مسئلے کا کوئی حل جو ہے وہ نکالا ہے اور ریکروٹمنٹ جو ہے وہ
08:25کم ہو what is the government thing on there?
08:27اچھا that's that's very important point
08:31بی وائی سی بنائی کیوں گئی?
08:33reason یہ تھا کہ جی missing persons جو آپ کے سامنے اسلام آباد کے
08:37سامنے perception ہے بی وائی سی کا missing person کا issue deputy
08:42commissioner گوادر نے resolve کرنا تھا یا ڈی جی گوادر
08:46development authority نے resolve کرنا تھا missing person کا issue is related
08:49with the home department with the chief minister تو جو گوادر کا ان کا
08:53دھرنا تھا وہ اس وقت تھا جب آپ CPAC phase two کو شروع کرنے
08:58کی بات کر رہے تھے تو اندازہ یہ ہوتا ہے کہ slogan کچھ
09:02اور ہے احداف کچھ اور ہے بی وائی سی کے ساتھ negotiations
09:07minister level پہ بھی ہوئیں بی وائی سی کے ساتھ negotiations
09:11bureaucratic level پہ بھی ہوئیں اور ہر ان کے احتجاج میں ہوئیں گورنمنٹ
09:16of bulustان chief minister bulustان sir fras buchtti کا stance very clear
09:19تھا کہ احتجاج کرنا پور امن احتجاج کرنا اچھا ایک چھوٹے سے
09:25break کا time ہوئے واپس آ کر یہی سے شروعات پہ پہ ناظرین واپس آ کر
09:28آم برند صاحب سے یہی سے جو ہے وہ جواب سنیں گے ہمارے ساتھ رہے
09:40welcome back ناظرین اچھا آپ بتا رہے تھے کہ جب یہ شروع ہوئی بات
09:44چیف منسٹر سے بات چیت ہی ہے ہمارا چیف منسٹر کا گورنمنٹ
09:47of bulustان کا stance یہ تھا کہ کسی بھی شہری کا پور امن احتجاج
09:51کرنا اس کا آئینی حق ہے آئین اس کو یہ guarantee کرتا ہے لیکن وہ
09:55احتجاج کس مقام پر ہوگا کتنی دیر کے لیے ہوگا اس کو govern
10:00کرنے کا حق district administration کے پاس ہے تین معاہدے ہمارے پاس
10:05ایسے موجود ہیں جن پر بی وائی سی کی leadership ڈاکٹر مارنگ کے
10:08سائن موجود ہیں so why doesn't that go public so why doesn't that come public
10:12publics are tweeter پر موجود ہیں میں ابھی آپ کو tweeter کے
10:15timelines نکال کے دکھاتا ہوں ہم نے کئی مرتبہ یہ چیزیں public کی
10:18ہیں problem یہ ہے کہ بی وائی سی نہ تو registered political party
10:23ہے مطلب اگر کوئی چیز آج ڈاکٹر مالک کی national party
10:28ہے وہ کوئی چیز ٹھیک کرتے ہیں حالت کرتے ہیں تو ان کی کوئی
10:31election commission کے سامنے جواب دیئی ہے عدالت کے سامنے جواب دیئی
10:34ہے کہیں پر ہے بی وائی سی کا ایسا کچھ نہیں ہے دوسرا پوائنٹ بی
10:38وائی سی کو کی leadership کو گرفتار کس وقت کیا گیا سانیہ
10:42جعفر ایکسپریس میں جو دہشتگرد مارے گئے ان دہشتگردوں کی
10:45لاشوں کو جب retrieve کرنے کے لیے بی وائی سی آئی اور انہوں نے
10:49وہ لاشیں وہاں سے اٹھائیں جنہیں کوئیٹا کی پولیس نے
10:52دوبارہ retrieve کیا اس دوران ان کا ایک claim آیا کہ جی آپ نے
10:56ہمارے تین workers مارے ہیں اس سارے process کے دوران یہ
11:01declare ہوا کہ وہ جو تین لوگ مارے گئے تھے ان کا بی وائی سی سے
11:05کوئی تعلق نہیں تھا ٹھیک ہے اس کے بعد آپ مجھے بتائیں جب آپ
11:09دہشتگردوں کی لاشیں retrieve کرنے آئیں گے تو گورنمنٹ کے پاس
11:12کیا option رہ جاتا ہے ماں سے وائی اس کے کہ وہ آپ کو گرفتار کرے
11:15اب معاملہ عدالتوں میں ہے عدالتیں اپنا جو بھی فیصلہ کرتی ہیں
11:20اگر حکومت کو اس سے اختلاف ہوگا حکومت review میں جائے گی
11:23اس سے highest forum پہ جائے گی اختلاف نہیں ہوگا حکومت accept کر لیگی
11:27جو اس وقت wave ہے terrorism کی آپ نے چونکہ بی وائی سی کی بات کی
11:32confusion کے ساتھ آئی ہے کہ جنبلا مجھے add کرنے ہیں میں نے آپ کو کہا
11:37بہت سی چیزوں پہ ہمیشہ national level کی political leadership کو
11:40confuse کیا گیا یہ بات میں کیوں کرتا ہوں
11:44سرفراز بکٹی کے چیف منسٹر بننے سے تھوڑا سا پیچھے
11:47reverse gear میں چلے جائیں بلوستان صوبائی assembly کے floor سے یہ کہا
11:51گیا یہ ہمارے بچے ہیں جب آپ گزشتہ سات آٹھ سال ایک تنظیم
11:57کو بلوستان کی ہر سڑک بند کرنے کی اجازت دیں گے اپنا بچہ
12:01کہیں گے اور انہیں ہر طرح کا اختیار ہوگا کہ وہ کسی کا بھی
12:05آزاد بلوستان کا جھنڈا بھی لے رہے ہیں وہ جو ہے بلوچی سوگند
12:09بھی لیں اور اس کے بعد آپ یہ believe کرتے ہیں کہ ایک نئی
12:13government آئے گی اور جو recruitment جو میں آپ کو ایسی کئی تصویریں
12:17دے سکتا ہوں جن میں بی وائی سی کے مظاہروں میں موجود لوگ
12:22دہشتگردی کے واقعات میں مارے گئے تنظیموں نے مانا کہ وہ ان کے
12:25ایکٹیویسٹ تھے میں آپ کو ایسی کئی بلوچی تقریریں دے سکتا ہوں جس میں
12:30ریاست کے خلاف مواد موجود ہے ان تقریروں کو افتخار فردوس کے لیے
12:35اردو میں مختلف تقریر کی جاتی ہے اور بلوچی میں مختلف تقریر کی
12:39جاتی ہے یہ evidences اسٹیٹ کے پاس موجود ہیں problem صرف یہ ہے کہ
12:43narrative کے domain میں جو بھی soft corner ان کے لیے رکھتے ہیں بہت سے
12:48anchors ہیں بہت سے vocal آئیں لیکن جب ان کے سامنے آپ evidences
12:51رکھیں HRCP کا ایک delegation آیا انہوں نے چیف منسٹر سے ملاقات کی
12:55جو باتیں انہوں نے کی چیف منسٹر نے ان کے سامنے evidences رکھے
12:59HRCP کی report میں وہ چیزیں نہیں تھیں دیکھیں پھر آپ کو report
13:03اگر کرنا ہے تو پھر آپ دونوں sides کو کریں اچھا جو public perception
13:07کی آپ بات کر رہے ہیں and obviously that is one of my questions as well
13:12یہاں پر جو اسلام آباد کے اندر یا mainstream پاکستان جب propaganda جو
13:17ہے وہ آتا ہے تو اس کے اندر کے اندر جو تصویرے ہوتی ہیں جو
13:20لڑکے دکھائے جاتے ہیں وہ کسی mainstream university سے دکھائے جاتے ہیں
13:24اور یہ دکھایا جا رہا ہے کہ ان کی جو ایک ideological connect ہے یہ
13:29basically پڑے لکھے لوگ ہیں یہاں سے نہیں ہیں کہ یہ کسی you know
13:32ایسی جگہ سے آئیں جن کو issues کی سمجھ نہیں ہیں اور وہ impact کرتا ہے
13:37society کو بلوچستان کے اندر یہ تصور ہے نہیں ہے اور یہ basically جو
13:42propaganda دکھایا جاتا ہے اس کی اکرکس جو ہے وہ کیا ہے افتخار
13:47بلوچستان سے students اسلام آباد بھی پڑھنے آتے ہیں لاہور بھی
13:50جاتے ہیں آپ جن کا ذکر کر رہے ہیں اسے کئی واقعات ہیں جنہوں نے
13:53اسلام آباد اور لاہور کی جامعات سے اعلیٰ ڈگرییاں لی ہیں اور بعد میں
13:57وہ دہشتگر تنظیموں کی کاروائیوں میں مارے گئے ہیں آپ پور ریفرنس
13:59دے رہے ہیں افتخار سب سے پہلا پوائنٹ یہ ہے کہ ایک confusion
14:04اسلام آباد کے لیول پہ میڈیا کے لیول پہ گزشتہ دو سال سے
14:08چیف منسٹر بلوچستان صرف راز بروک ٹی مائی سیلف ہم آپ کو یہ
14:12convince کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ سمجھیں کہ اس وقت جنہوں
14:16نے بندوق اٹھائی بھی ہے وہ آپ سے rights نہیں مانگ رہے ہیں وہ
14:21national identity کی بنیاد پہ nationality کی بنیاد پہ پاکستان
14:27کو توڑنا چاہتے ہیں ان کا phase one پاکستان سے بلوچستان کو
14:32الگ کرنا ہے phase two افغانستان کا بلوچلا کا phase three
14:35ایران کا چیف منسٹر اپنے انٹرویوز میں اس کا ذکر کر چکے ہیں
14:39ایک بی ال ایف کے سر برائے ہیں ڈاکٹر اللہ نظر ان کی ایک
14:42ڈائیری ان کی نظر سے گزری ہے چیف منسٹر بتاتے ہیں کہ اس
14:45ڈائیری میں وہ لکھتے ہیں کہ بلوچستان جو پاکستان کا بلوچستان
14:50ہے اسے ہم militancy سے آزاد کروائیں گے اور افغانستان اور ایران
14:58وہاں آپ قومیت کی بنیاد پر اگر بندوق اٹھائیں گے جو وہ
15:01ریاستیں آپ کے ساتھ کریں گی ان کا تصور آپ کو بھی ہے مجھے
15:05بھی ہے یہاں پر صرف ایک بات سمجھنے کی ضرورت ہے جنہوں نے
15:09بندوق اٹھائی ہے وہ آپ سے حقوق نہیں مانگ رہے وہ آپ کے ساتھ
15:13ایک ہی بات پر بات کرنے کو تیار ہے کہ جی آپ اپنی تمام فورسز
15:16ویڈراؤ کریں انٹرنیشنل گارنٹیرز کی موجودگی میں بیٹھ کے
15:20بات کریں تو کیا افتخار فردوس یا اسلام آباد میں بیٹھا کوئی
15:24بھی چاہے وہ پنجاب سے تعلق رکھتا ہو سن سے ہو کے پی سے ہو کیا
15:28وہ اس بات پر تیار ہے کہ کسی کو بلوچستان آزاد کرنے کی
15:31اجازت دے دیتا ہے never never تو اس وقت جو صرف ایک
15:36confusion اسلام آباد کے لیول پہ دور ہو کہ جو لوگ جنہوں نے
15:40بندوق اٹھائی ہے وہ دہشتگرد ہیں انہیں دہشتگرد ہی گردان آ جائے
15:45اور ان کے جو soft faces ہیں چاہے وہ بی وائی سی کی صورت میں ہو یا
15:50کسی اور کی صورت میں ہو انہیں آپ دہشتگردوں کا سہولتکار ہی
15:54تصور کریں رہ گئی بات حقوق کی بلوچستان کی politics میں
15:58حاجی لشکری ریسانی is not part of parliament right now he is not senator
16:03he is not MNA he is not MPA ایک bill ہے mines and minerals کا اس کے
16:09متعلق ان کے تحفظات ہیں انہوں نے بلوچستان ہائی کورٹ سے
16:12رجوع کیا ہوئے تو میرے خیال سے جو حقوق کی بات کر رہا ہے وہ
16:16حاجی لشکری کر رہا ہے مولانا ہدایت و رحمان is the example
16:19گوادر میں بیٹھا ہے بہت سخت تقریریں کرتا ہے وہ اسیمبلی کے
16:22فورم پہ آکے بات کرتا ہے ڈاکٹر مالک سردار اختر منگل کی
16:26ایک ممبر کی رکنیت ہے بلوچستان صوبہ اسیمبلی میں اگر انہیں
16:30کوئی مسئلہ ہے گورنمنٹ کے دروازے ان کے لیے کھولے ہوئے ہیں اور
16:34اس کے علاوہ کوئی بھی ایسا شخص جس نے اگر آج بھی بندوق
16:39اٹھائی ہوئی ہے اور ریاست اب بھی اتنا بڑا دل رکھتی ہے کہ اگر
16:43وہ یہ بات تسلیم کر لے کہ وہ پاکستان کے آئین کو ریاست کو
16:47تسلیم کرتا ہے اور اسے بلوچستان میں حقوق چاہیے صوبائی حکومت
16:50اس سے بات کرتا ہے یعنی آپ یہ سمجھنے کی قانون کے دائرے کے
16:53اندر رہ کر اور اگر political motives ہیں تو وہ parliamentary politics
16:56میں آ کر جو بات سریں تو حکومت بلوچستان سب کو گلے لگانے
17:00کے لیے جو ہوتا ہے ہم تیار دیکھیں آپ کے سامنے دو چیزیں
17:04یاد رکھئے گا چیف منسٹر بلوچستان سرفراز بگٹی کا اپنا
17:09ایک پوری اس ٹیرررزم پر ایک opinion ہے اس opinion کے باوجود وہ
17:15بارہا یہ کہتے ہیں کہ میرا جس سیاسی جماعت سے تعلق ہے میں ایک
17:20صوبے کے چیف ایگزیکٹیو کے طور پہ اگر تو ڈائلوگ سے
17:24مسئلہ حل ہوتا ہے تو میں اپنا اختیار opposition leader
17:27اور ڈاکٹر مالک کو دینے کو تیار ہوں اگر ڈائلوگ سے
17:31لیکن اگر کوئی ڈائلوگ کرنے کو تیار نہیں ہے کوئی پاکستان
17:34کی ریاست کو تسلیم کرنے کو تیار نہیں ہے اور وہ ہم سے
17:36barrel of gun سے بات کر رہا ہے تو پھر ہم بھی اس سے
17:39barrel of gun سے ہی بات کر رہا ہے سٹیٹ جو ہے اب دی ریٹ جو ہے وہ
17:42establish کرے گی ہر حال کے اندر بہت شکریہ آپ کا
17:45ریند صاحب ناظرین گفت ہو ہے وہ آپ نے سنی پروگرام کا
17:48time unfortunately ختم ہو گیا سوالات تو بہت ہیں امید کریں گے
17:51کہ دوبارہ بھی ریند صاحب جو ہے وہ time دیں گے اور جو
17:55مزید سوالات ہوں گے ان کے جوابات بھی دیں گے دیکھتے رہیے گا
17:58border talks
Comments

Recommended