- 10 hours ago
- #khutbaejumma
- #datadarbarlahore
- #aryqtv
Khutba e Jumma - Friday SerKhutba e Jumma - Friday Sermon
Watch All The Episodes || https://www.youtube.com/playlist?list=PLQ74MR5_8Xict4-IpN7LivO4Tu8Vff0XD
#khutbaejumma #datadarbarlahore #aryqtv
Join ARY Qtv on WhatsApp ➡️ https://bit.ly/3Qn5cym
Subscribe Here ➡️ https://www.youtube.com/ARYQtvofficial
Instagram ➡️️ https://www.instagram.com/aryqtvofficial
Facebook ➡️ https://www.facebook.com/ARYQTV/
Website ➡️ https://aryqtv.tv/
Watch ARY Qtv Live ➡️ http://live.aryqtv.tv/
TikTok ➡️ ttps://www.tiktok.com/ @ARYQtvofficialmon
Watch All The Episodes || https://www.youtube.com/playlist?list=PLQ74MR5_8Xict4-IpN7LivO4Tu8Vff0XD
#khutbaejumma #datadarbarlahore #aryqtv
Join ARY Qtv on WhatsApp ➡️ https://bit.ly/3Qn5cym
Subscribe Here ➡️ https://www.youtube.com/ARYQtvofficial
Instagram ➡️️ https://www.instagram.com/aryqtvofficial
Facebook ➡️ https://www.facebook.com/ARYQTV/
Website ➡️ https://aryqtv.tv/
Watch ARY Qtv Live ➡️ http://live.aryqtv.tv/
TikTok ➡️ ttps://www.tiktok.com/ @ARYQtvofficialmon
Category
🛠️
LifestyleTranscript
00:00:06Surah Al-Fatihah
00:00:51Surah Al-Fatihah
00:01:20Surah Al-Fatihah
00:01:30Surah Al-Fatihah
00:01:48Surah Al-Fatihah
00:02:06Surah Al-Fatihah
00:02:34Surah Al-Fatihah
00:02:57Surah Al-Fatihah
00:03:03Surah Al-Fatihah
00:03:36Surah Al-Fatihah
00:03:39Surah Al-Fatihah
00:04:01Surah Al-Fatihah
00:04:04Surah Al-Fatihah
00:04:13Surah Al-Fatihah
00:04:27Surah Al-Fatihah
00:04:35Surah Al-Fatihah
00:05:04Surah Al-Fatihah
00:05:16Surah Al-Fatihah
00:05:44Surah Al-Fatihah
00:05:55Surah Al-Fatihah
00:06:25Surah Al-Fatihah
00:06:44Surah Al-Fatihah
00:06:47Surah Al-Fatihah
00:06:49Surah Al-Fatihah
00:06:56Surah Al-Fatihah
00:07:17Surah Al-Fatihah
00:07:18Surah Al-Fatihah
00:07:19Surah Al-Fatihah
00:07:20Surah Al-Fatihah
00:07:24Surah Al-Fatihah
00:07:27Surah Al-Fatihah
00:07:30Surah Al-Fatihah
00:07:34Surah Al-Fatihah
00:07:39Surah Al-Fatihah
00:07:41یہ اس کی آزمائش میں کامیابی ہے
00:07:44اور اگر مال ہے
00:07:47تو پھر اسے
00:07:53اللہ تعالیٰ کے اس دیئے ہوئے مال کو
00:07:58صحیح طریقے سے خرج کر کے
00:08:01اللہ کی رضا کا طلبگار ہونا چاہیے
00:08:05یہ مال کا اسراف بھی درست ہے
00:08:09لیکن اگر مال ملے تو بندہ بگاڑ کا
00:08:13شکار ہو جائے
00:08:14مال ملنے پر اس کی اخلاقیات تبدیل ہو جائیں
00:08:20تو پھر وہ مال فتنہ ہے
00:08:24اسی طرح رب تبارک و تعالیٰ
00:08:27اولاد کو نعمت قرار دیتا ہے جہاں
00:08:31وہاں اس اولاد کو آزمائش اور فتنہ بھی قرار دیتا ہے
00:08:36کہ اولاد انسان کی آزمائش ہے
00:08:40بساوقات اولاد کی محبت میں آ کر
00:08:45بندہ ایسے ناجائز کاموں کو اختیار کر جاتا ہے
00:08:52تو گویا اس اولاد کی محبت نے اسے فتنے میں ڈال دیا ہے
00:08:59تو لہٰذا ان امور میں اعتدال ہی نجات کا راستہ ہے
00:09:07اعتدال ہی سرات مستقیم ہے
00:09:12تو حبابِ گرامی قدر اللہ کریم جللہ وعلا فرماتا ہے
00:09:17کہ اللہ وعالوں کی ایک نشانی یہ ہے
00:09:22کہ جب وہ خرچ کرتے ہیں تو فضول خرچی نہیں کرتے
00:09:27مال کو ضائع نہیں کرتے
00:09:31اور قرآن حکیم میں ایک اور مقام پہ
00:09:34رب ذل جلال والاکرام نے فضول خرچی کرنے والوں کے حوالے سے فرمایا
00:09:48بے شک فضول خرچی کرنے والے شیعاتین کے بھائی
00:09:53گویا وہ شیطان کے کہنے پہ شیعاتین کے وسوسہ انداز ہونے پر
00:10:03مالوں کو ضائع کرتے ہیں
00:10:05تو گویا مال اللہ کی نعمت ہے اس کو اچھے انداز سے ضرورت کے لیے
00:10:12اور اللہ کی رضا کے حصول کے لیے ہی خرچ کرنا چاہیے
00:10:19اگر ایسا نہ ہو
00:10:21تو مال تو کفن میں جیب نہیں ہوتی
00:10:26کہ جیب میں ڈال کے چلے جائیں
00:10:29آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا
00:10:33کہ
00:10:35قال العبد مالی
00:10:39مالی
00:10:40مالی
00:10:41بندہ کہتا ہے میرا مال
00:10:43میرا مال
00:10:45میرا مال
00:10:47اب صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا
00:10:48اس کا مال تو وہ ہے جو اس نے کھا لیا
00:10:53خوراک کی صورت میں خرج کر لیا
00:10:56یا اس کا مال وہ ہے جو اس نے پہن کر لباس کی صورت میں خرج کیا
00:11:05یا پھر اس کا مال وہ ہے جو اس نے
00:11:09اللہ کی راہ میں خرج کر کے اپنے لیے توشہ آخرت بنا لیا
00:11:16محفوظ کر لیا اپنے لیے
00:11:19اس کے علاوہ اس کا کچھ نہیں ہے
00:11:23کروڑوں کا مالی کو
00:11:25عربوں کا مالی کو
00:11:26کھربوں کا مالی کی کیوں نہ ہو
00:11:29جب وہ دنیا سے جاتا ہے
00:11:31تو سکندر جب دنیا سے گیا
00:11:35تو دونوں ہاتھ خالی تھے
00:11:38خالی ہاتھ جاتا ہے
00:11:40تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بڑا واضح راستہ بتا دیا ہے
00:11:44کہ تمہارا مال وہ ہے جو تمہیں فائدہ دے
00:11:48خوراک کی صورت میں لباس کی صورت میں
00:11:53اور تمہارا مال وہ ہے جو تم اپنے ہاتھوں سے
00:11:58اللہ کریم جلہ وعلا کی رضا کی خاطر
00:12:03خرج کر ڈالو
00:12:04وہ تمہارا مال ہے
00:12:07کیونکہ وہ تمہارے لیے آخرت کا توشہ ہے
00:12:12آخرت میں وہ مال تمہارے کام آئے گا
00:12:16اور اس اللہ کی راہ میں خرج کیے ہوئے مال پر
00:12:23جو کم سے کم عجر ہے
00:12:28اللہ کریم جلہ وعلا سورة البقرہ میں ارشاد فرماتا ہے
00:12:32مَسَلُ الَّذِينَ يُنْفِقُونَ اَمْوَالَهُمْ فِي سَبِيلِ اللَّهِ
00:12:39کَمَاسَا لِي حَبَّةُ
00:12:41ان لوگوں کی مثال
00:12:43جو اللہ کی راہ میں اپنے مالوں کو خرج کرتے ہیں
00:12:49اس کی مثال
00:12:51گندم کے دانے کیسی ہے
00:12:58اَمْبَتَتْ سَبَعَ سَنَابِلِ
00:13:01ایک گندم کا دانہ زمین میں بویا جاتا ہے
00:13:05تو اس سے سات سٹے نکلتے ہیں
00:13:08فِي كُلِّ سُمْبُلَةِمْ مِعَتُوا حَبَّةُ
00:13:13ہر سٹے میں سو دانے ہوتے ہیں
00:13:16تو ایک گندم کا دانہ خرچ کرنے پر سات سو دانے
00:13:26ایک روپیہ خرچ کرنے پر سات سو روپیہ
00:13:32گویا سات سو گنا عجر ملتا ہے
00:13:36اللہ کی راہ میں خرچ کرنے پر
00:13:38اور یہاں یہ اس کی ابتدائی سٹیج ہے
00:13:44آخری سٹیج کی حد بندی نہیں کی گئی
00:13:47بلکہ فرمایا
00:13:49وَاللَّهُ يُدَائِفُ لِمَنْ يَشَا
00:13:52اللہ جس کے لئے چاہتا ہے اور بڑھا دیتا ہے
00:13:58وَاللَّهُ وَاسِعُنْ عَلِيمَ
00:14:00اللہ وسعتوں والا ہے علم والا ہے
00:14:02تو اس کی وسعتوں کی کوئی حد نہیں ہے
00:14:06تو وہ اضافہ بھی جتنا چاہے کر دے
00:14:13کم از کم سات سو گنا
00:14:17اور چاہے تو سات ہزار گنا فرما دے اضافہ
00:14:21چاہے تو سات لاکھ گنا فرما دے
00:14:24چاہے تو سات کروڑ گنا فرما دے
00:14:27چاہے تو سات عرب سات کرب
00:14:30اور اتنا اضافہ فرما دے کہ
00:14:33جس کا شمار ہی ممکن نہ ہو
00:14:36یہ اللہ کی وسعتوں کا عالم ہے
00:14:40تو حبابِ گرامی قدر
00:14:43اللہ کریم فرماتا ہے کہ میرے بندے جو ہیں
00:14:48یعنی اللہ والے جو ہیں
00:14:50ان کی پانچویں نشانی یہ ہے
00:14:54کہ وہ جب مال خرچ کرتے ہیں
00:14:58تو اسراف نہیں کرتے
00:15:01اپنے لیے اپنے گھر والوں کے لیے
00:15:05جو ضرورت تھی
00:15:07اتنا مال خرچ کریں تو یہ عبادت ہے
00:15:13آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا
00:15:16کہ جو شخص حلال کا لکمہ
00:15:20اپنے بیوی بچوں کو کھلاتا ہے
00:15:24وہ حلال کا لکمہ بھی اس کے لیے صدقے کا درجہ رکھتا ہے
00:15:30تو ضرورت کے ساتھ خرچ کرنا
00:15:33یہ اللہ والوں کا طریق ہے
00:15:37اور
00:15:39ضائع کرنا مالکوں
00:15:41یہ اللہ والوں کا راستہ نہیں ہے
00:15:44یہ شیطان کا راستہ ہے
00:15:46تو فرمایا کہ ایک تو وہ مال خرچ کرتے ہوئے
00:15:52اسراف نہیں کرتے
00:15:54فضول خرچی نہیں کرتے
00:15:56پھر فرمایا کہ کنجوسی بھی نہیں کرتے
00:16:01ضرورت ہے
00:16:02تو پھر مال کو نہ خرچ کریں
00:16:06یہ بھی ان کا طریق نہیں ہے
00:16:08اور یہاں ایک بات میں
00:16:10ارز کرتا ہوں کہ جو اللہ کریم جل اللہ والا نے فرمایا
00:16:14کہ بندے کا محفوظ مال وہ ہے
00:16:19جو اس نے راہ خدا میں خرچ کر لیا
00:16:23تو یہاں اسراف کی بات ہی نہیں ہے
00:16:29یہ جب قربانی کے دن آتے ہیں
00:16:31تو کچھ لوگ ایسے بھی آپ کو ملیں گے
00:16:35عربوں کھربوں کے جانور زبا کر دیں گے
00:16:38کیا فائدہ ہے ان کا
00:16:42کسی بیوہ بچی کی شادی کروا دیں
00:16:48کسی یتیم بچے کی تعلیم پہ خرج کر دیں
00:16:51کسی بیوہ خاتون کی ضرورت کو پورا کر دیں
00:16:55اس طرح کے لوگ آپ کو ملیں گے
00:16:57بھائی یہ مال ضائع نہیں ہو رہا
00:17:00یہ اللہ کی راہ میں خرچ ہو رہا ہے
00:17:03اور یہ اللہ کی راہ میں خرچ ہونے والا مال
00:17:07سات سو گناہ تو اس کا پہلا پیمانہ ہے
00:17:12اس کے عجر کا
00:17:13اور زیادتی میں انتہا بیان نہیں کی گئی
00:17:19حد بیان نہیں کی گئی
00:17:21لہٰذا راہ خدا میں خرچ کرنا ہی مال کو محفوظ کرنا ہے
00:17:28وعبابِ گرامی قدر
00:17:30اللہ کریم فرماتا ہے
00:17:32نہ وہ فضول خرچی کرتے ہیں
00:17:34نہ وہ کنجوسی کرتے ہیں
00:17:37بلکہ اعتدال کے ساتھ درمیانی راہ کو اختیار کرتے ہیں
00:17:45یہاں ایک بات میں یہ عرض کروں گا
00:17:48میں نے کہا نا کہ راہ خدا میں خرچ کرنا
00:17:52لیکن اس انداز میں خرچ کرنا
00:17:54کہ بعد میں تمہیں ہاتھ پھیلانا پڑ جائے
00:17:58یہ اس سے بھی منع کیا گیا ہے
00:18:00آپ کے پاس کسرت سے مال ہے
00:18:03تو جتنا چاہے راہ خدا میں خرچ کریں
00:18:06وہ آپ کے لئے زخیرہ آخرت ہے
00:18:10لیکن اگر آپ سارا مال
00:18:16راہ خدا میں خرچ کر دیتے ہیں
00:18:19کہ آپ کی اولاد بھوکی مر رہی ہو
00:18:22تو حقوق العباد کی پاسداری نہیں ہوتی
00:18:26اور حقوق العباد کے بارے میں سوال ہوگا
00:18:31پوچھا جائے گا
00:18:33اللہ کریم جل وعلا
00:18:35اپنے حقوق تو معاف فرما دیتا ہے
00:18:40لیکن بندوں کے حقوق جو غصب کرتا ہے
00:18:44جب تک وہ بندہ معاف نہ کرے
00:18:47اسے معافی اللہ تعالی بھی نہیں دیتا
00:18:51اب اندازہ لگائیں نا یہاں
00:18:53ایک پہلو ہمیں اصلاح کا یہ بھی مل رہا ہے
00:18:56کہ ہمیں لوگوں کے حقوق جو ہم پر ہیں
00:19:02ان کو بھی ادا کرنا ہے
00:19:05اور لوگوں کے مالوں کو غصب کرنے سے بھی بچنا ہے
00:19:11اگر لوگوں کا مال غصب کریں گے
00:19:14تو پھر لوگوں کے حقوق تلف کریں گے
00:19:17آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے
00:19:22صحابہ اکرام نے عرض کی
00:19:24یا رسول اللہ
00:19:26روز حشر کے احوال بیان کیجئے
00:19:29تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا
00:19:31میرے صحابہ تم جانتے ہو
00:19:33مفلس کون ہوتا
00:19:37صحابہ اکرام نے عرض کی
00:19:39یا رسول اللہ جس کے پاس کچھ نہ ہو
00:19:41جسے ہم اپنی زبان میں کنگلا بھی کہتے ہیں
00:19:47تو وہ کون ہوتا ہے
00:19:49تو صحابہ اکرام نے عرض کی
00:19:51یا رسول اللہ
00:19:53کنگال وہ ہے
00:19:54جس کے پاس کچھ نہ ہو
00:19:56ایک وقت کا کھانا ملے
00:19:57تو دوسرے کی
00:19:58اس کو فکر ہو
00:20:00اور پریشانی میں ہی زندگی بسر کرتا ہو
00:20:03تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا
00:20:05میرے صحابہ
00:20:06میری امت کا
00:20:10مفلس آدمی وہ ہے
00:20:13جو قیامت کے دن
00:20:15اپنے ساتھ نیکیوں کے پہاڑ لے کر آئے گا
00:20:21اپنے ساتھ
00:20:22نیکیوں کے پہاڑ لے کر آئے گا
00:20:25پھر
00:20:27اس کا حساب و کتاب شروع ہوگا
00:20:30اس نے کسی کا حق مارا ہوگا
00:20:33کسی کا مال غصب کیا ہوگا
00:20:36کسی کو کوئی تکلیف دی ہوگی
00:20:38تو
00:20:39اس کے
00:20:42ان
00:20:45جو
00:20:45کرزخہ کہہ لیجئے
00:20:47کہ کسی کا مال
00:20:50کسی کا حق
00:20:51کسی کو تکلیف دی
00:20:53جب حساب و کتاب ہوگا نا
00:20:55تو سارے لوگ آتے جائیں گے
00:20:58اور اس کی نیکیاں تقسیم ہونا شروع ہو جائیں گے
00:21:02کیونکہ مال تو وہاں لے کے جا نہیں سکے گا
00:21:05اور نہ کوئی جا سکتا ہے
00:21:06وہاں نیکیاں ہوں گی اس کے پاس
00:21:09تو اس کی نیکیاں تقسیم ہونا شروع ہو جائیں گی
00:21:14ساری نیکیاں جو پہاڑوں کے برابر تھیں
00:21:17وہ بٹ جائیں گی
00:21:20پھر بھی
00:21:21اس نے لوگوں کے حقوق غصب کیے ہوں گے
00:21:25ابھی ان کے حقوق ادا کرنا باقی ہوگا
00:21:28تو پھر کیا ہوگا
00:21:30آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا
00:21:32اب اس کی
00:21:34اس کے پلڑے میں لوگوں کے گناہوں کو ڈالا جائے گا
00:21:40تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا
00:21:42کہ میری امت کا مفلس بندہ وہ ہے
00:21:48تو اس سے ہمیں جو تربیت اور سبق حاصل ہوتا ہے
00:21:53وہ یہ ہے کہ لوگوں کا مال آج آپ دکان پہ بیٹھ کر
00:22:01پانچ سو والی چیز ہزار روپے میں بیچ کر
00:22:06شاید یہ سمجھ رہے ہوں
00:22:08کہ تم نے پانچ سو منافع کما لیا ہے
00:22:13آج کسی کو ملاوٹ شدہ اشیاء بیچ کر
00:22:18شاید تم لوگ یہ سمجھ رہے ہو
00:22:21کہ تم نے مال اکٹھا کر لیا ہے
00:22:25یہ مال اکٹھا نہیں کیا
00:22:27بلکہ یہ مال تو تمہارے ہاتھوں سے دنیا سے ہی نکل جائے گا
00:22:32روزِ حشر اس مال کے بدلے میں
00:22:35تمہیں نیکیاں دینا پڑیں گی
00:22:38تو اس حساب و کتاب کی طرف بھی ہمیں توجہ کرنی ہوگی
00:22:42کہ کل روزِ حشر ہم کیا جواب دے ہوں گے
00:22:49تو حبابِ گرامی قدر میں نے ارز کیا
00:22:53کہ اللہ والوں کی پانچویں نشانی یہ ہے
00:22:58اِزَا أَنْفَكُوا لَمْ يُسْرِفُوا وَلَمْ يَتُرُوا وَكَانَ بَيْنَ ذَالِكَ قَوَامَا
00:23:06کہ نہ فضول خرچی کرتے ہیں نہ کنجوسی کرتے ہیں
00:23:12اعتدال والی راہ اختیار کرتے ہیں
00:23:16اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا
00:23:18خیرُ الْأُمُورِ اَوْسَتُهَا
00:23:22بہترین کام وہ ہیں جو درمیانِ درجے کے ہوں
00:23:27ایسا نہ ہو کہ ایک دن ساری رات عبادت میں آپ گزار دیں
00:23:31اور دن کی نمازیں ہی بھول جائیں
00:23:36تو اعتدال والا راستہ نجات کا راستہ ہے
00:23:41پھر فرمایا
00:23:43وَالَّذِينَا لَا يَدْعُونَا مَا اللَّهِ الٰہًا آخر
00:23:48چھٹی نشانی
00:23:51کہ وہ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہراتے
00:23:54گویا پختہ ایمان والے ہیں
00:23:58ان کا ایمان اتنا کامل ہے
00:24:02کہ توحید ان کے دل اور دماغ میں رچ بس گئی ہے
00:24:08وہ اپنے رب پہ کامل یقین رکھتے ہیں
00:24:12اور اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہراتے
00:24:16وَلَا يَقْتُلُونَ النَّفْسَ اللَّتِي حَرَّمَ اللَّهُ عَلَيْهَا
00:24:24اور کسی انسانی جان کو نقصان نہیں پہنچاتے
00:24:32قتل نہیں کرتے
00:24:33جس جان کی حرمت اللہ نے ان پر لازم کر رکھی ہے
00:24:38وَلَا يَزْنُونَ
00:24:42اور نہ ہی بدکاری کی طرف جاتے ہیں
00:24:45یہ اس ایک آیت میں تین نشانیاں بیان ہوئیں
00:24:51پانچویں نشانی تو پہلے عرض کر دی
00:24:54کہ خرچ کرنے میں میاں ناروی اختیار کرتے ہیں
00:25:00اعتدال کا راستہ اختیار کرتے ہیں
00:25:02پھر چھٹی نشانی یہ ہے
00:25:05کہ وہ سچے توحید پرست ہوتے ہیں
00:25:10اللہ کو ایک مانتے بھی ہیں
00:25:13اللہ کے ساتھ نہ کسی انسان کو
00:25:16نہ کسی اور مخلوق کو
00:25:19نہ کسی درخت کو
00:25:21نہ کسی سمندر کو
00:25:23نہ کسی دریا کو آپ کو ایسے لوگ ملیں گے
00:25:26نہ آگ کو
00:25:27اللہ کے ساتھ شریک نہیں ٹھہراتے
00:25:30وہ اللہ کی وحدانیت پہ کامل یقین رکھتے ہیں
00:25:35یہ اللہ والوں کی نشانی ہے
00:25:39اور فرمایا
00:25:41وَلَا يَقْتُلُونَ النَّفْسَ اللَّتِي حَرَّمَ اللَّهُ عَلَيْهَا
00:25:45کہ ایسی جان کو جس کی حرمت لازم کر دی گئی ہے
00:25:52اس کو نقصان نہیں پہنچاتے ہیں
00:25:54یہ کچھ جانوں کو تلف کرنا حکم رب ہوتا ہے
00:26:00مثال کے طور پہ کوئی کسی انسان کو قتل کر ڈالتا ہے
00:26:04تو قاتل کی سزا قساس ہے
00:26:12وَلَكُمْ فِي الْقِسَاسِ حَيَاتُ يَا أُلِي الْأَلْبَابِ
00:26:17اللہ کریم فرماتا ہے
00:26:18تم پر قساس کو لازم کیا گیا ہے
00:26:21اور اس میں تمہارے لیے زندگی ہے
00:26:24اے عقل والو
00:26:26بڑی قابل غور بات ہے
00:26:28کہ ساس لے کے ہم کسی ایک جان کو تلف کر رہے ہیں
00:26:32جرم کی سزا کی صورت میں
00:26:35اللہ کریم فرماتا ہے
00:26:36اس میں تمہارے لیے زندگی ہے
00:26:38اس کا مطلب یہ ہے
00:26:41کہ اگر تم مجرم کو سزا نہیں دوگے
00:26:45تو اس نے آج ایک قتل کیا
00:26:47کل دوسرا کرے گا
00:26:49پھر اس کو عادت پڑ جائے گی
00:26:52مجھے کس نے پوچھنا ہے
00:26:53لہذا اگر لوگوں کو اس بات کا
00:26:57یقین ہو
00:26:58کہ کسی ایک انسانی جان کو
00:27:01ضائع کیا تو
00:27:02اپنی جان دینا پڑے گی
00:27:05تو پھر لوگ انسانی جانوں کو نقصان نہ پہنچائیں
00:27:10اور اللہ کریم جللہ وعالی سورة المائدہ میں
00:27:14ارشاد فرماتا ہے
00:27:18من قتل نفسم بغیر نفس او فساد فی الارد
00:27:25فکعنما قتل الناس جمیعہ
00:27:29کسی انسان نے
00:27:31کسی دوسرے انسان کو
00:27:35قتل کیا
00:27:39بغیر کسی کی ساس کے
00:27:43فساد برپا کرنے کے لیے
00:27:47فکعنما قتل الناس جمیعہ
00:27:50گویا اس نے ساری انسانیت کو مار ڈالا
00:27:53یہ انسان کا قتل
00:27:56اتنا بڑا جرم ہے
00:27:58اگر ہم قرآن حکیم سورہ مائدہ کے
00:28:03جہاں یہ آیاء مبارکہ ہے
00:28:05یہ حکم بیان ہوا ہے
00:28:07اس کے سیاہ کو سباک کو دیکھیں
00:28:09تو وہاں انسانوں کے پہلے قتل کا تذکرہ ہوا ہے
00:28:15وَطْلُوا عَلَيْهِمْ نَبَعَبْنَئِیْا
00:28:18آدَمَ بِالْحَقُّ
00:28:21اللہ کریم فرماتا ہے
00:28:23محبوب ان لوگوں کو
00:28:25آدم علیہ السلام کے دو بیٹوں
00:28:28کا واقعہ قرآن پڑھ کے بیان فرمائیے
00:28:35ایک بیٹا حق پہ تھا
00:28:38حضرت حابیل
00:28:39دوسرا باطل پہ تھا
00:28:43چھگڑا ہو گئے
00:28:44مختصر کرتے ہوئے آپ
00:28:46بات کو آگے بڑھاؤں گا
00:28:47آدم علیہ السلام نے فرمایا
00:28:49تم قربانیاں اللہ کی بارگاہ میں پیش کرو
00:28:52جو سچا ہوگا
00:28:54اس کی قربانی قبول ہو جائے گی
00:28:55جو جھوٹا ہوگا
00:28:57اس کی قربانی قبول نہیں ہوگی
00:28:59تو دونوں نے
00:29:00اِذْ قَرَّبَا قُرْبَانًا
00:29:02فَتُقُبِّلَ مِنْ آَحَدِهِمَا
00:29:05وَلَمْ يُتَقَبَّلْ مِنَ الْآخَرَ
00:29:07جب دونوں نے قربانیاں پیش کی
00:29:09ایک کی قربانی قبول ہو گئی
00:29:11دوسرے کی نہ ہوئی
00:29:13حضرت حابیل کی قربانی قبول ہو گئی
00:29:16قابیل کی قربانی قبول نہ ہوئی
00:29:19تو قابیل نے پھر
00:29:21پہلے دھمکی دی اپنے بھائی کو
00:29:24تو بھائی نے کہا
00:29:26کہ تم میری طرف ہاتھ بڑھاؤ
00:29:29میں تو نہیں بڑھاؤں گا
00:29:30میں تو انسانی جان کو طلف نہیں کروں گا
00:29:34تو قابیل نے
00:29:35اپنے بھائی کو قتل کر ڈالا
00:29:38یہ انسانی تاریخ کا پہلا قتل تھا
00:29:42اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا
00:29:45کہ قیامت تک جتنے قتل ہوں گے
00:29:50ہر قتل کا گناہ قابیل کے کھاتے میں جائے گا
00:29:54قاتل نے جو گناہ کیا وہ تو ہے ہی اس کا
00:29:58لیکن قابیل کے کھاتے میں اس لیے جائے گا
00:30:01کہ یہ کام شروع اس نے کیا تھا
00:30:05تو انسانی جان کی عظمت بہت ہے
00:30:09آپ صلی اللہ علیہ وسلم جب ہجرت فرما کے
00:30:13مدینہ طیبہ کی طرف جانے لگے
00:30:17تو آخری دفعہ قابیل کی زیارت کی
00:30:22اور قابیل کو چھوڑ کر جب جانے لگے
00:30:26تو فرمایا
00:30:37اے قابیل
00:30:39لیکن تمہارے قرب و جوار میں رہنے والے لوگ
00:30:43مجھے یہاں رہنے نہیں دیتے
00:30:46اس لیے تجھے چھوڑ کے جا رہا ہوں
00:30:48تو اس سے یہ بات پتا چلتی ہے
00:30:51کہ قابیل کتنا عظیم اور محترم گھر ہے
00:31:02اللہ کریم فرماتا ہے
00:31:04کہ اس کائناتِ عرضی میں
00:31:07پہلا گھر
00:31:09جو اللہ کے نام پہ بنایا گیا
00:31:12یا اللہ کا گھر بنایا گیا
00:31:13وہ قابت اللہ ہے
00:31:15وہ مبارک مکہ میں ہے
00:31:17اور بلکہ
00:31:19جب ہم
00:31:21اس کی تفاصیل میں جاتے ہیں
00:31:23تو یہ بات سامنے آتی ہے
00:31:26ابوفسرینِ کرام نے لکھا ہے
00:31:29کہ جب اللہ تعالی نے زمین کی تخلیق فرمائی
00:31:33پہلے پانی ہی پانی تھا
00:31:35تو سب سے پہلا زمین کا جو ٹکڑا
00:31:40خشکی کی صورت میں نمودار ہوا
00:31:43وہ وہ جگہ ہے جہاں قابت اللہ ہے
00:31:46اسی لیے قابت اللہ زمین کا مرکز بھی کہلاتا ہے
00:31:51تو اسی عظمت والے قابہ کے حوالے سے
00:31:57ایک اور موقع پر رسولِ مکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا
00:32:03کہ اے قابہ
00:32:05تو بہت عظمت والا ہے
00:32:10تیری بڑی فضیلت ہے
00:32:12تیرا بڑا مرتبہ اور مقام ہے
00:32:15لیکن تجھ سے بڑھ کر
00:32:18بندہِ مومن کی جان محترم ہے
00:32:22تو انسان کی جان اتنی احترام والی ہے
00:32:26پھر خطبِ حجت الودا کی طرف ہم جائیں
00:32:30تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا
00:32:32اِنَّا دِمَاعَكُمْ وَأَمْوَالَكُمْ وَأَعْرَادَكُمْ حَرَامٌ عَلَيْكُمْ كَحُرْمَاتِي يَوْمِكُمْ حَاذَا
00:32:44اَوْ شَهْرِكُمْ حَاذَا
00:32:46اَوْ بَلَدِكُمْ حَاذَا
00:32:48فرمایا کہ بے شک تمہاری جانیں
00:32:51تمہارے مال
00:32:53تمہاری عزتیں
00:32:55اس قدر حرمت والی ہیں
00:32:58کہ جس طرح یہ آج کا حج کا دن حرمت والا ہے
00:33:03جس طرح یہ حج کا مہینہ حرمت والا ہے
00:33:06جس طرح یہ شہر مکہ حرمت والا ہے
00:33:09تو حبابِ گرامی قدر
00:33:12اللہ کریم فرماتا ہے
00:33:14میرے بندوں کی
00:33:15چھٹی نشانی یہ ہے
00:33:18کہ وہ کسی انسانی جان کو نقصان نہیں پہنچاتے
00:33:24وہ انسانی جان کا احترام کرتے ہیں
00:33:28پھر فرمایا
00:33:32وَلَا يَقْتُلُونَ النَّفْسَ اللَّتِي
00:33:35حَرَّمَ اللَّهُ عَلَيْهَا
00:33:38وہ انسانی جان کو نقصان نہیں پہنچاتے
00:33:42وَلَا يَزْنُونَ
00:33:45اور وہ بے حیائی کی طرف بھی نہیں جاتے
00:33:49بدکاری کی طرف بھی نہیں جاتے
00:33:52بے حیائی بدکاری
00:33:55اور بدکاری کی طرف لے جانے والے امور
00:34:00ان سے وہ بچتے ہیں
00:34:03فقہ حی کرام فرماتے ہیں
00:34:05دوائی گناہ
00:34:08گناہ کی طرف دعوت دینے والی چیزیں بھی
00:34:12گناہ کے ہی زمرے میں آ جاتی ہیں
00:34:15لہٰذا ایسے انداز بھی مت اپناو جو لوگوں کو گناہ کی دعوت دے رہی
00:34:21تو ابابِ گرامی قدر یہ اللہ والوں کا انداز تو یہ ہوتا ہے
00:34:28اور پھر فرمایا
00:34:30کہ جو ان گناہوں کو اپنائے گا
00:34:37اللہ کریم فرماتا ہے
00:34:40کہ اللہ ان کو دوہرے عذاب میں مبتلا کرے گا
00:34:45اور پھر
00:34:48اللہ کریم جل وعلا فرماتا ہے
00:34:51وَالَّذِينَ يَقُولُونَا
00:34:54رَبَّنَا حَبْلَنَا مِنْ اَزْوَاجِنَا وَزُرِّيَّاتِنَا
00:34:59قُرَّةَ آئِنْ وَجْعَلْنَا لِلْمُتَّقِينَ اِمَامًا
00:35:04اے ہمارے رب
00:35:06ہماری بیویوں
00:35:08ہمارے بچوں
00:35:10ہماری اولادوں
00:35:12کو نیک راستہ عطا فرما
00:35:14اور ان کے آمال
00:35:17ہماری آنکھوں کی ٹھنڈک بنا
00:35:21اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں
00:35:23وَقُرَّةُ عَيْنِ فِي الصَّلَاةِ
00:35:27نماز میری آنکھوں کی ٹھنڈک ہے
00:35:30تو ہم امتی سرکار کے ہوں
00:35:33اور نماز سرکار صلی اللہ علیہ وسلم کی آنکھوں کی ٹھنڈک ہو
00:35:37پھر نماز ہی نہ پڑھیں
00:35:39تو پھر آپ انتازہ لگائیے نہ
00:35:42کہ کتنے امتی ہیں ہم
00:35:44امتی ہونے کا کون سا حق
00:35:46ہم نے ادا کیا ہے
00:35:47تو نیک لوگ جو ہیں
00:35:50یہ اللہ کی بارگاہ میں
00:35:52اپنے اہل و ایال
00:35:54اور پھر اپنی آنے والی
00:35:57نسلوں کی ہدایت کی دعا کرتے ہیں
00:36:00اور ان کی ہدایت
00:36:01کی اس انداز میں دعا کرتے ہیں
00:36:04کہ مالک و مولا ان کو ایسا
00:36:06ہدایت کے راستے پہ چلا
00:36:08کہ ان کا ہدایت کے راستے پہ چلنا
00:36:11ہماری آنکھوں کی ٹھنڈک بن جائے
00:36:15اللہ حافظ
00:36:18یا رسول اللہ
00:36:27جی
00:36:28اللہ کریم جللہ و عالی نے
00:36:31اپنے بندوں کے حوالے سے
00:36:34یہ فرمانے کے بعد فرمایا
00:36:35کہ وہ بندے اللہ کی بارگاہ میں
00:36:38یہ دعا کرتے ہیں
00:36:41وَجْعَلْنَا لِلْمُتَّقِينَ اِمَامَاتِ
00:36:44مالک و مولا
00:36:46ہمیں اپنے متقی پرہیزگار
00:36:49بندوں کا قائد بنا دے
00:36:51ان کا امام بنا دے
00:36:53اور ہمیں جو حکم ہے وہ یہ ہے
00:36:56ہر نماز میں ہم یہ دعا کرتے ہیں
00:36:59سِرَاقَ الَّذِينَ اَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ
00:37:03مالک و مولا ہمیں اپنے انعام یافتہ
00:37:06بندوں کے راستے پہ چلا
00:37:08تو یہ وَجْعَلْنَا لِلْمُتَّقِينَ اِمَامَاتِ
00:37:11یہ وہی دعا ہے
00:37:14کہ مالک و مولا ہمیں
00:37:16تقوی پرہیزگاری
00:37:18سیدھے راستے پہ چلنے
00:37:20شیطان سے بچنے
00:37:22اور خواہشات نفس سے
00:37:25اپنے آپ کو بچا کر
00:37:27اپنے اور اپنے حبیب کے
00:37:29آکامات پہ عمل کرنے والا بنا
00:37:32تاکہ ہم تیرے متقین بندوں کے
00:37:35رہنما بن جائیں
00:37:37ان کے امام بن جائیں
00:37:39وہ ہماری راستے پہ چل کر
00:37:42تیری شناخت حاصل کر لیں
00:37:45تیری معرفت پا لیں
00:37:47یہاں میں آخر پہ
00:37:49پہلے بھی عرض کیا ہے
00:37:51حضرت سیدی داتا گنج بخش فیضِ عالم
00:37:54رحمت اللہ تعالیٰ لے
00:37:58وَجْعَلْنَا لِلْمُتَّقِينَ اِمَامًا
00:38:01اس کے زمن میں
00:38:03اس فرمان کو ضرور لانا چاہوں گا
00:38:06سیدی فیضِ عالم
00:38:08رحمت اللہ تعالیٰ
00:38:10علیہ اپنی کتاب
00:38:11کشف المحجوب شریف میں
00:38:12بڑا واضح حکم دیتے ہیں
00:38:15کہ جو بندہ شریعت کا
00:38:19مخالف ہو
00:38:21کہتا ہوں میں بڑا پہنچا ہوا ہوں
00:38:24تو وہ
00:38:25پہنچا ہوا ضرور ہے
00:38:27جہنم میں
00:38:29یہ آپ نے بڑا واضح طور پر لکھا ہے
00:38:31وہ صحیح ہی کہتا ہے
00:38:33پہنچا ہوا ضرور ہے
00:38:34لیکن جہنم میں
00:38:36اللہ کی معرفت کے ساتھ
00:38:38اس کا کوئی تعلق نہیں ہے
00:38:40اللہ کی پہچان کے ساتھ
00:38:42اس کا کوئی تعلق نہیں ہے
00:38:44اللہ کریم جل وعالی کی دوستی
00:38:47اور ولایت کے ساتھ
00:38:49اس کا کوئی تعلق نہیں ہے
00:38:51وہ شیطان کا ساتھی ہو سکتا ہے
00:38:54وہ جہنمی ہے
00:38:56لیکن
00:38:57ولایتِ رب اسے ہرگز نہیں مل سکتی
00:39:01تو یہ جو فرمایا ہے نا
00:39:02وَجَعَلْنَا لِلْمُتَّقِينَ اِمَامَا
00:39:05ہمیں ایسا اعتقاد اتا فرما
00:39:09ایسی عبادت کرنے کی توفیق اتا فرما
00:39:14ایسا تقویٰ اور پرہزگاری اتا فرما
00:39:17اور شریعتِ متاہرہ پہ
00:39:19ایسا عمل کرنا نصیب فرما
00:39:22کہ ہم لوگوں کے امام بن جائیں
00:39:24لوگ ہمارے مقتدی ہو جائیں
00:39:27ہم ان کے مقتدہ بن جائیں
00:39:29اللہ کریم جل وعلا
00:39:31اپنے محبوب بندوں کی
00:39:34تعلیمات پہ ہمیں
00:39:35عمل کرنے کی توفیق اتا فرمائے
00:39:38وما علی یا البلاغ المبین
00:39:40محبوب بندوں کی توفیق اتا فرما
00:40:16محبوب بندوں کی توفیق اتا فرما
00:55:15And
00:55:46And
00:56:22And
00:56:41And
00:56:42And
00:56:44And
00:57:43And
00:58:13And
00:58:19And
00:58:25And
00:58:48And
00:58:49And
00:58:55And
00:58:56And
00:58:58And
00:58:59And
00:59:29And
00:59:35And
01:00:01And
01:00:40And
01:01:10And
01:01:11And
01:01:42And
01:01:42And
01:01:43And
01:01:45And
01:01:48And
01:01:49And
01:01:50And
01:01:52And
01:01:54And
01:01:56And
01:01:58And
01:01:59And
01:02:00And
01:02:01And
01:02:07And
01:02:08And
01:02:40And
01:03:13And
01:03:14And
01:03:17And
01:03:47And
01:03:59And
01:04:04And
01:04:05And
01:04:07And
01:04:08And
01:05:06And
01:05:08And
01:05:19And
Comments