Skip to playerSkip to main content
Taarekh ka sab se bara janaza?

#YasirShami
#AliKhamenei
#Iran-US
#StraightofHormuz
Transcript
00:00Ayatollah Khamnayi کے جنازے میں کتنے لاکھ لوگوں نے شرکت کی
00:04تہران نے ان کے جنازے کے لیے چالیس دن پہلے ہی تیاریاں کیوں شروع کر دی تھی
00:10ان کے تابوت کو ہوائی جہاز میں رکھ کر عراق کیوں پہنچایا گیا
00:15کربلا میں سید الشہدہ امام حسین علیہ السلام کے روزہ مبارک پر
00:21کتنے لوگ موجود تھے جب ان کا جستخاکی لایا گیا
00:26رہبر معظم کے بیٹے نے جنازے میں شرکت کیوں نہ کی
00:29اور عراق نے اپنے ملک میں عام تاتیل کا اعلان کیوں کیا
00:33جانئے اس ویڈیو میں
00:39Ayatollah Khamnayi ان کے داماد بیٹی بہو اور چودہ ماہ کی معصوم بچی کو
00:45آٹھ میں امام امام علی رضا علیہ السلام کے قدمین شریفین میں مدفن کر دیا گیا
00:59رہبر معظم کو ان کی شہادت کے تقریباً چار مہینوں کے بعد مدفن کیا گیا ہے
01:06ان کے جنازے میں ان کے بیٹے مجتبہ خامنائی نے شرکت نہیں کی
01:10جبکہ باقی تین بیٹے جنازے میں شریک تھے
01:18خامنائی صاحب پر جب امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے حملہ کیا گیا
01:23تو بیٹے مجتبہ خامنائی بھی شدید زخمی ہوئے
01:26جس کے بعد وہ منظر سے غائب ہو گئے
01:28بس سیکیورٹی وجوہات کی بنا پر وہ جنازے میں شرکت نہ کر سکے
01:32رہبر معظم کی آخری رسومات چھے دن تک جاری رہیں
01:36تین دن تک ایرانی دار الحکومت تہران میں
01:39ایک دن کم شہر میں
01:41ایک دن عراق نجف اور کربلا میں
01:43اور آخری دن ان کو مشہد میں
01:46امام علی رضا علیہ السلام کے روزہ مبارک کے آہاتے میں
01:50انتہائی عدب اور عقیدت کے ساتھ سپرد خاک کر دیا گیا
01:54تہران کے انکلاب سکوئر میں ان کا تابوت تین دن کے لیے رکھا گیا
01:59یہ روٹ دس سے بیس کلومیٹر طویل تھا
02:02جس میں لوگوں کا اتنا زیادہ رشت تھا
02:05کہ وہ انسانی سمندر دور سے ایسے نظر آتا تھا
02:08کہ جیسے کوئی انسانی سروں کا حجوم امڑایا ہو
02:18تہران کی گورمنٹ نے ان کے جنازے کے سلسلے میں
02:22چالیس دن پہلے ہی تیاریاں شروع کر دی تھی
02:25کیونکہ ان کو علم تھا کہ یہ جنازہ بہت بڑا ہوگا
02:29تہران کے ٹرانسپورٹ سسٹم نے تین دنوں میں
02:32دو کروڑ سینٹس لاکھ لوگوں کو سفری سہولیات مہیا کی
02:36جس میں سے ایک کروڑ چھالیس لاکھ انتالیس ہزار لوگوں نے
02:40میٹرو سروس استعمال کی اس کے علاوہ
02:43چھتیس سو بسز تھی جو ایران کے دوسرے شہروں یا سوبوں سے منگوائی گئی تھی
02:48ان بسز کے ذریعے سے تین دنوں میں نوے لاکھ لوگوں نے سفر کیا
02:53ٹیکسیز اور بینز میں تقریباً چھ لاکھ لوگوں نے سفر کیا
02:57تہران میں گرمی اور حبس شدید تھی اور درجہ حرارت چالیس ڈگری سینٹی گریٹ سے بھی زیادہ تھا
03:03گرمی اور حبس پر کابو پانے کے لیے ٹرکوں پر سے پانی کی پھوار پھیکی گئی
03:08لیکن اس سب کے باوجود بھی تقریباً پچاس ہزار کے قریب لوگوں کو تیبی امداد دی گئی
03:15لوگوں کا جذبہ دیتنی تھا وہ ایک انچ بھی اپنی جگہ سے ٹس سے مسنا ہوئے اور ہر آنکھ عشق
03:22بار تھی
03:26اتنے بڑے جمع غفیر میں تین لوگوں کو ہارٹ اٹیک آیا اور اٹھارہ ہزار وہ لوگ تھے
03:32جن کو قریبی ہسپتالوں میں ایمرجنسی تیبی امداد دی گئی
03:36اب تہران میں تین دن گزارنے کے بعد رہبر معظم کے تابوت کو علمی شہر کم پہنچایا گیا
03:43وہاں پر آٹھ میں امام امام علی رضا علیہ السلام کی بہن کا روزہ اکدس بھی ہے
03:49جس کی وجہ سے اس کا عجب و احترام مسلمانوں کے دلوں میں اور پڑ جاتا ہے
03:54یہاں جب ان کی میت کو رکھا گیا تو وہاں بھی لاکھوں لوگوں نے شرکت کی اور جنازہ پڑھا
03:59کم شہر میں سات کلومیٹر کا ایک لمبا اور چوڑا بولی وارڈ تھا
04:04جو کہ انسانوں سے گچا گچ بھرا ہوا تھا
04:08کم شہر کے بعد ان کے تابوت کو ایراک میں ہوائی جہاز کے ذریعے پہنچایا گیا
04:13ایراک میں ایرانی صدر پہلے سے موجود تھے
04:16جنہوں نے سابق سپریم لیڈر ان کے داماد بیٹی بہو اور چودہ ماہ کی ننی معصوم پوتی کے تابوت کو
04:24وصول کیا
04:25اور ایراکی حکام کے حوالے کر دیا
04:27ایراک میں اس سلسلے میں پورے ملک میں عام تاتیل کا اعلان کیا گیا تھا
04:33تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگ جنازے میں شرکت کر سکیں
04:36ان پانچ تابوتوں کو مولا کائنات حضرت علی رضی اللہ عنہ کے روزہ مبارک نجف لے جایا گیا
04:43نجف میں بارہ کلومیٹر کا ایک بڑا جلوز تھا
04:47جس میں لاکھوں کی تعداد میں انسانی سمندر نے شرکت کی
04:56اس کے بعد ان تابوتوں کو سید الشہدہ نواسہ رسول حضرت امام حسین
05:02رضی اللہ عنہ کے روزہ مبارک پر حاضری دی گئی جہاں پر ہزاروں نہیں لاکھوں لوگ موجود تھے
05:09پھر آخری دن ان کو مشہد لے جایا گیا جہاں پر آٹھوے امام
05:14امام علی رضا علیہ السلام کا روزہ مبارک ہے
05:17اس کے آہاتے میں ان پانچوں افراد کو سپردے خاک کر دیا گیا
05:23اس موقع پر امام علی رضا علیہ السلام کے روزہ مبارک پر
05:27امام کا جمع غفیر تھا
05:29ٹریفک کئی کئی کلومیٹر تک جیم تھی
05:32لوگوں نے گرمی حبز اور اتنے زیادہ ٹیمپریچر کی پرواہ کیے بغیر
05:37پیدل ہی امام علی رضا علیہ السلام کے روزے کی طرف چلنا شروع کر دیا
05:41اور وہاں ان کا جنازہ پڑھ کر آہوں اور سسکیوں میں سپردے خاک کر دیا گیا
05:49اس دوران بشہد کے ہوتیلز اور گیسٹ ہاؤس کے مالکان کا جذبہ بھی دیدنی تھا
05:54جنہوں نے اپنے گیسٹ ہاؤس اور ہوتلوں کے دروازے تمام حاضرین کے لیے کھول دیئے
06:00جو کھانا کھانا چاہیں ان کے لیے کھانا فی سبیل اللہ تھا
06:03جو وہاں آرام کرنا چاہیں ان کے لیے ان کے کمروں کے دروازے کھلے تھے
06:09ان کو تھنڈے مشروبات اور پانی کی سبیلوں سے توازو کی گئی
06:13لیکن سوال یہ ہے کہ رہبر معظم کی آخری رسومات کو چھے دن پر محید کیوں رکھا گیا
06:19اس کی پہلی وجہ تو یہ ہے کہ پوری دنیا کو ایک میسج دیا جائے
06:23کہ ایرانی قوم متحد یکجہ اور اتحاد سے مزین ہے
06:27جبکہ دوسری وجہ یہ تھی کہ اگر ایک ہی جگہ پر ایک ہی وقت میں تمام لوگ اکٹھے ہو جاتے
06:33تو یہ مجمع لاکھوں نہیں بلکہ کروڑوں لوگوں کا بن جاتا
06:37جن کو مینج کرنا حکومت کے لیے ناممکن تھا
06:40اسی لیے مختلف شہروں میں مختلف اوقات میں یہ تمام امور سرانجان دیے گئے
06:45تاکہ کروڑوں لوگ ایک ہی جگہ پر اکٹھے نہ ہوں اور لاکھوں لوگ ہو جائیں
06:49اور اتنے لوگوں کو مینج کرنے میں حکومت کو بھی کوئی پرابلم نہ ہو
06:551989 میں ایران کے پہلے سپریم ریڈر امام خمینی کا جب جنازہ ہوا تھا
07:01تو اس میں تقریباً ایک کروڑ سے زائد لوگوں نے شرکت کی تھی
07:05جو کہ ایک عالمی ریکارڈ ہے
07:07ان کی تقریبات دو دن تک جاری رہی تھی
07:10ایک ہی وقت میں جب اتنے زیادہ لوگ ایک جگہ پر اکٹھے ہو گئے
07:14تو اس سے کیا ہوا
07:15جنازے میں بھگدر مچ گئی
07:17لوگ جذباتی ہوئے
07:18اور تابوت کی طرف لپکنے سے تقریباً دس افراد لکمیں اجل بن گئے
07:23اور دس ہزار کے قریب لوگ زخمی ہو گئے
07:26کچھ بھگدر مچ جانے کی وجہ سے نیچے گر گئے
07:28کچھ پیروں تلے رونتے چلے گئے
07:30حتیٰ کہ حالات اتنے خراب ہو گئے
07:33کہ امام خمینی کے تابوت کو
07:35ایک بڑے ہیلیکوپٹر کے ذریعے اپ لفٹ کرنا پڑا
07:38اور اس کے بعد لوگوں کو کہا گیا
07:40کہ جنازہ اب ختم ہو گیا ہے
07:42لہٰذا آپ لوگ منتشر ہو جائیں
07:45اب یہ ایران کے دوسرے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنائی تھے
07:48جن کے جنازے میں ڈسپلن رکھنے کے لیے
07:51اور لوگوں کی اتنی بڑی تعداد کو منیج کرنے کے لیے
07:55ان کو مختلف شہروں میں ڈیوائیڈ کیا گیا
07:57اور ان کی آخری رسومات کو چھے دن تک محیط کیا گیا
08:01تاکہ کسی قسم کے کوئی بدنظمی نہ ہو
08:04اور انتظامات اپنے اختتام کی طرف
08:07بڑی آسانی اور خوش اسلوبی سے ہو سکیں
08:10اپنے مزبان یاستر شامی کو اجازت دیجئے
08:13اور دیکھتے ریڈی لی پاکستان
08:14اللہ حافظ
Comments

Recommended