Skip to playerSkip to main content
  • 1 day ago
islamic channel

Category

📺
TV
Transcript
00:00بسم اللہ الرحمن الرحیم
00:01السلام علیکم ورحمت اللہ وبرکاتہو
00:05ایک اور نئی ویڈیو کے ساتھ آپ دیکھ رہے ہیں
00:07ایمان سٹوریز
00:10یقین تمام تعریفیں اللہ تعالیٰ کے لیے ہیں
00:12ہم اسی کی حمد بیان کرتے ہیں
00:14اور اسی سے مدد طلب کرتے ہیں
00:17میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کے سوا
00:19کوئی معبود برحق نہیں
00:22ناظرین اس دنیا میں کوئی مقام ایسا نہیں
00:24جو خانہ کعبہ کی طرح عظمت
00:26تقدس اور مرکزیت کا حامل ہو
00:28یہ بابرکت مقام
00:30سعودی عرب کی وادی حجاز میں واقع ہے
00:33ہر روز ہزاروں افراد
00:35چوبیس گھنٹے بیت اللہ شریف کا تواف کرتے ہیں
00:38خانہ کعبہ کی مقدس تصاویر
00:40لاکھوں گھروں کی زینت بنتی ہیں
00:41اور کرونوں مسلمان اسے اپنا قبلہ مانتے ہوئے
00:44دن میں پانچ مرتبہ نماز کے لیے
00:46اسی کی جانب رخ کرتے ہیں
00:48خانہ کعبہ اپنی منفرد تعمیر
00:50اور تاریخی حیثیت کے باعث
00:51پوری اسلامی تاریخ میں خاص مقام رکھتا ہے
00:55آج کی اس ویڈیو میں
00:56ہم آپ کے سامنے خانہ کعبہ سے متعلق
00:58چند حیرت انگیز حقائق پیش کریں گے
01:00جن کے بارے میں بہت کم لوگ جانتے ہیں
01:03ہم آپ کو بتائیں گے
01:04کہ خانہ کعبہ کی تعمیر
01:06مختلف ادوار میں کب اور کیسے ہوئی
01:08اس مقام پر ابتدا میں کیا موجود تھا
01:10اور اسی جگہ کو بیت اللہ کی تعمیر کے لیے
01:13کیوں منتخب کیا گیا
01:15ہم غلاف کعبہ کی سات رنگوں پر
01:17مشتمل دلچسپ تاریخ بھی بیان کریں گے
01:19اس کے ساتھ یہ راز بھی کھولیں گے
01:21کہ خانہ کعبہ کو پہاروں کے درمیان
01:23کیوں تعمیر کیا گیا
01:25آپ یہ بھی جانیں گے
01:26کہ غلاف کعبہ کا موجودہ سیاہ رنگ
01:29کن وجوہات کی بنا پر اختیار کیا گیا
01:31اور جب غلاف تبدیل کیا جاتا ہے
01:33تو پرانے غلاف کے ساتھ کیا سلوک کیا جاتا ہے
01:36ویڈیو کو آخر تک ضرور دیکھئے گا
01:38کیونکہ اس میں آپ کے لیے
01:40کئی ایمان افروز اور معلوماتی حقائق موجود ہیں
01:42ناظرین
01:44آج جس شان و عظمت کے ساتھ
01:46خانہ کعبہ ہمیں دکھائی دیتا ہے
01:47یہ اپنے ابتدائی شکل میں
01:49ہمیشہ ایسا نہیں رہا
01:51حضرت ابراہیم علیہ السلام
01:53اور حضرت اسماعیل علیہ السلام کے ہاتھوں
01:55تعمیر ہونے کے بعد
01:56مختلف عدوار میں آنے والے سیلاب
01:58توفان اور دیگر قدرتی حادثات کے باعث
02:01اس مقدس امارت کی کئی مرتبہ
02:03تعمیر کی گئی
02:04تاریخ اسلام کا ایک نہایت اہم واقعہ وہ بھی ہے
02:08جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم
02:10کو ابھی نبوت عطا نہیں ہوئی تھی
02:12اور قریش کے قبائل حجر اسود کو
02:14اپنی جگہ نصب کرنے کے معاملے پر
02:16شدید اختلاف کا شکار ہو گئے تھے
02:18اس نازک موقع پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم
02:21نے اپنی بے مثال دانائی سے
02:23ایک ممکنہ خون ریزی کو روک دیا
02:25آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے
02:28حجر اسود کو ایک چادر میں رکھوایا
02:29اور ہر قبیلے کے سردار کو
02:31اس کے کنارے پکڑنے کا حکم دیا
02:33پھر اپنے مبارک ہاتھوں سے
02:35حجر اسود کو اس کی جگہ نصب فرمایا
02:38اس کے بعد بھی مختلف زمانوں میں
02:40بیت اللہ شریف کی تعمیر اور
02:41مرمت کا سنسلہ جاری رہا
02:43جدید دور میں خان کعبہ کی
02:45بڑی تزین و مضبوطی کا کام
02:47سن 1996 میں انجام دیا گیا
02:49جس میں پرانے پتھنوں کو تبدیل کر کے
02:51بنیادوں کو مزید مستحکم بنایا گیا
02:53اور نئی چھت تیار کی گئی
02:56یہی وہ تعمیر ہے
02:57جسے موجودہ دور کی آخری بڑی مرمت
03:00تصور کیا جاتا ہے
03:01بیت اللہ شریف ہر زمانے میں
03:03عزت، حیبت اور روحانی مرکزیت
03:06کی علامت رہا ہے
03:07اسلام سے پہلے کا دور ہو
03:09یا اسلام کے بعد کا
03:10خان کعبہ کا احترام ہمیشہ قائم رہا
03:13اور جس کسی کو بھی اس مقدس مقام کی
03:15خدمت نصیب ہوئی
03:16اس نے نہایت عدب، عقیدت اور
03:19ذمہ داری کے ساتھ اس عظیم گھر کی حفاظت
03:21اور دیکھ پھال کا فریضہ انجام دیا
03:23بعض اوقات دشمنان اسلام اور
03:25مخالف قوتوں نے خانہ کعبہ کی
03:27خرمت و عظمت کو نخصان پہنچانے کی
03:29ناپاک کوششیں ضرور کی
03:30لیکن ہر بار ان کی سازشیں انہی پر
03:33الٹ گئیں
03:34کیونکہ اس پاکیزہ گھر کی حفاظت
03:36خود اللہ تعالیٰ نے اپنے ذمہ لے رکھی ہے
03:40اللہ تعالیٰ نے بیت اللہ شریف کو
03:42دنیا کی تمام مساجد اور
03:43عبادت گاہوں پر فضیلت اتا فرمائی ہے
03:45اور یہاں کی جانے والی عبادت
03:47کا عجر دوسری جگہوں کے مقابلے میں
03:49کئی گناہ زیادہ رکھا گیا ہے
03:52وقت گزرنے کے ساتھ
03:53خانہ کعبہ کی تعمیر میں مختلف
03:55تبدیلیاں آتی رہیں اور بعض
03:57ناغذیر حالات کے باعث اس مقدس
03:59عمارت کی کئی مرتبہ تجدید بھی کی گئی
04:01اس موضوع کو سمجھنے
04:03کے لیے ضروری ہے کہ تعمیر کعبہ
04:05کے مختلف عدوار اور ان کے تاریخی
04:07پس منظر پر نظر ڈالی جائے
04:09جب ہم قدیم اسلامی تاریخ
04:11اور مستند روایات کا متعلیہ کرتے ہیں
04:14تو یہ حقیقت نمائع ہوتی ہے
04:16کہ تعمیر کعبہ کو بنیادی طور پر
04:18دو بڑے عدوار میں تقسیم کیا جاتا ہے
04:21پہلا دور
04:21اسلام سے پہلے کا ہے
04:23جبکہ دوسرا دور
04:25اسلام کے بعد کا شمار ہوتا ہے
04:27قبل از اسلام خانہ کعبہ
04:29کتنی مرتبہ تعمیر ہوا
04:31اس بارے میں علماء اور موررخین کے درمیان
04:33قدیم زمانے سے اختلاف پایا جاتا ہے
04:36مشہور موررخ
04:37امام فاسی رحمہ اللہ
04:39اپنی معروف کتاب
04:40شفاء الغرام بے اخبار البلد الحرام
04:43میں تحریر کرتے ہیں
04:44کہ اس بات پر تو سب کا اتفاق ہے
04:46کہ بیت اللہ شریف کی تعمیر کئی مرتبہ ہوئی
04:49لیکن تعداد کے تائین میں
04:51مختلف آرہ پائی جاتی ہیں
04:52ان تمام روایات اور اقوال
04:55کا خلاصہ یہ سامنے آتا ہے
04:56کہ خانہ کعبہ تقریباً دس مرتبہ
04:59تعمیر کیا گیا
05:00جن میں سے آٹھ تعمیرات اسلام سے پہلے ہوئیں
05:03جبکہ دو مرتبہ یہ عظیم گھر
05:05اسلام کے دور میں اثر نو تعمیر کیا گیا
05:08تعمیر خانہ کعبہ کی تاریخ
05:09نہایت طویل اور ایمان افروز
05:11واقعات پر مشتمل ہے
05:13روایات کے مطابق
05:14سب سے پہلے فرشتوں نے اللہ تعالیٰ کے حکم سے
05:17بیت اللہ کی بنیات قائم کی
05:18اس کے بعد حضرت آدم علیہ السلام
05:21نے اس مقدس گھر کی تعمیر فرمائی
05:23پھر ان کی اولاد نے
05:25وقت گزرنے کے ساتھ اس کی تجدید کی
05:27بعد ازان خلیل اللہ
05:29حضرت ابراہیم علیہ السلام
05:31اور حضرت اسماعیل علیہ السلام نے
05:33اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق
05:35خانہ کعبہ کو دوبارہ تعمیر کیا
05:37اور یہی تعمیر تاریخ اسلام میں
05:39سب سے زیادہ معروف
05:41اور عظیم حیثیت رکھتی ہے
05:42اس کے بعد مختلف عدوار میں
05:45قبیلہ امالقہ اور پھر قبیلہ جرہم
05:47نے اس مقدس امارت کی
05:49مرمت اور تعمیر کا کام انجام دیا
05:51زمان جاہلیت میں
05:53قریش نے بھی بیت اللہ شریف کی
05:55تعمیر نو کی
05:56اور یہی وہ موقع تھا جب نبی کریم
05:59صلی اللہ علیہ وسلم نے
06:00حجر اسوت کے معاملے میں اپنی حکمت
06:03و دانائی سے قبائل کے درمیان
06:04پیدا ہونے والا شدید اختلاف
06:06ختم فرمایا
06:07بعد کے زمانے میں حضرت عبداللہ بن زبیر
06:10رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے
06:12خانہ کعبہ کی اثر نو تعمیر کی
06:14جبکہ حجاج بن یوسف
06:16سقفی کے دور میں بھی
06:17اس میں تبدیلیاں کی گئیں
06:19بعد ازاں خلافت عثمانیہ کے
06:21سلطان مراد خان نے
06:23بیت اللہ شریف کی مرمت اور
06:25مضبوطی کا عظیم کام سر انجام دیا
06:28مشہور موررخ
06:29امام علی بن عبدالقادر
06:31تبری رحمہ اللہ نے
06:32اپنی کتاب
06:33الارج المسکی فی تاریخ المکی میں
06:35ذکر کیا ہے
06:36کہ خانہ کعبہ مجموعی طور پر
06:38دس مرتبہ تعمیر کیا گیا
06:40ان کے مطابق اولاد آدم کی
06:42تعمیر کو حضرت آدم علیہ السلام
06:44ہی کی تعمیر میں شامل کیا جاتا ہے
06:46جبکہ آخری بڑی تعمیر
06:48سلطان مراد خان کے دور میں ہوئی
06:51ناظرین
06:52خانہ کعبہ وہ عظیم مرکز ہے
06:54جس کی طرف پوری دنیا کے مسلمان
06:56رخ کر کے نماز ادا کرتے ہیں
06:58اور یہ مسجد حرام کے
07:00این وسط میں واقع ہے
07:01مسجد حرام کی سب سے بڑی فضیلت
07:04یہ ہے کہ اللہ تبارک و تعالی
07:06نے اسے امن و سکون کا مرکز
07:08بنایا اور یہاں ادا کی جانے
07:10والی ایک نماز کا ثواب
07:12ایک لاکھ نمازوں کے برابر رکھا گیا ہے
07:15روایات میں آتا ہے
07:16کہ اللہ تعالی نے خانہ کعبہ کی
07:18زمین کو پوری دنیا کی تخلیق
07:20سے بہت پہلے پیدا فرمایا تھا
07:22اور ابتدا میں یہ حصہ پانی
07:24کے اوپر جھاک کی مانند ظاہر تھا
07:26پھر اسی مقام کے نیچے
07:28زمین کو پھیلایا گیا اور
07:30دنیا کی بقیہ سرزمین وجود میں آئی
07:32جب حضرت آدم علیہ السلام اللہ تعالی
07:34کے حکم سے زمین پر تشریف لائے
07:36تو زمین کی تنہائی اور اجنبیت
07:38نے آپ علیہ السلام کو غمگین کر دیا
07:41اس وقت حضرت آدم
07:42علیہ السلام نے اللہ تعالی کے حضور
07:44دعا کی جس پر رب کریم
07:46نے اپنی رحمت سے بیت المامور
07:49کو زمین پر نازل فرمایا
07:51روایات کے مطابق
07:52یہ مبارک گھر جنت کے یاکوت سے
07:54بنایا گیا تھا اور اس میں
07:56سب زبرجت کے دو دروازے نصب تھے
07:58جن میں ایک مشرق کی جانب
08:00اور دوسرا مغرب کی سمت کھلتا تھا
08:03اللہ تعالی نے اسے
08:04اسی مقام پر رکھا جہاں آج
08:06خانہ کعبہ موجود ہے
08:08پھر حضرت آدم علیہ السلام کو حکم
08:10دیا گیا کہ وہ اس مقدس گھر
08:12کا اسی طرح تواف کریں جیسے
08:14فرشتِ عرشِ الٰہی کے گرد تواف کرتے ہیں
08:16اور اس کے قریب اسی انداز
08:18سے عبادت کریں جیسے آسمانوں
08:20میں فرشتِ اللہ تعالی کے حضور
08:22عبادت بجالاتے ہیں
08:24جب حضرت آدم علیہ السلام
08:26سرزمینِ ہند سے مکہ مکرمہ کی طرف
08:28روانہ ہوئے تو اللہ تعالی نے
08:30ایک فرشتے کو آپ علیہ السلام کی
08:32رہنمائی کے لئے مقرر فرمایا
08:33تاکہ وہ آپ کو بیت اللہ تک پہنچائے
08:37حضرت آدم علیہ السلام
08:38نے مکہ مکرمہ پہنچ کر
08:39مناسقِ حج ادا کیے اور حج
08:42مکمل ہونے کے بعد فرشتوں نے
08:43آپ علیہ السلام کو خوشخبری دیتے ہوئے کہا
08:46کہ اللہ تعالی آپ کا حج قبول فرمائے
08:48کیونکہ ہم اس مقدس
08:50گھر کا تواف آپ سے دو ہزار سال
08:52پہلے سے کر رہے ہیں
08:54روایات میں آتا ہے کہ حضرت
08:56آدم علیہ السلام نے سرزمینِ ہند سے
08:58مکہ مکرمہ تک پیدل سفر کر کے
08:59چالیس مرتبہ حج ادا کیا
09:02بیت المامور طوفان
09:04نوح تک زمین پر موجود رہا
09:05لیکن جب حضرت نوح علیہ السلام
09:08کا عظیم طوفان آیا تو
09:09اللہ تعالی نے اس مبارک گھر کو آسمانوں
09:11کی طرف اٹھا لیا
09:13اسی دوران حضرت جبرائیل علیہ السلام
09:15کو حکم دیا گیا کہ حجرِ اسوت
09:17کو جبلِ ابھی قیس میں محفوظ کر دیا
09:19جائے تاکہ وہ طوفان سے محفوظ
09:21رہے اور آنے والے زمانوں میں
09:23دوبارہ بیت اللہ کی زینت بن سکے
09:25چنانچہ خانہ کعبہ یعنی بیت اللہ شریف
09:27کی جگہ حضرت ابراہیم علیہ السلام
09:29کے زمانے تک ایک طویل عرصے تک
09:31خالی اور غیر آباد رہی
09:33طوفان نوح علیہ السلام کے وقت
09:35خانہ کعبہ کی سابقہ تعمیر آسمان
09:37کی طرف اٹھا لی گئی اور زمین
09:39پر صرف ایک بلند ٹیلے کی مانند
09:41نشان باقی رہ گیا پھر اسی
09:43قدیم بنیاد اور نشانی پر حضرت
09:45ابراہیم علیہ السلام کو اللہ تعالی کی طرف
09:47سے خانہ کعبہ کی تعمیر کا حکم
09:49کا ہلپ دیا جبکہ اس وقت
09:51حضرت اسماعیل علیہ السلام بھی پیدا ہو چکے تھے
09:54حضرت ابراہیم علیہ السلام
09:55نے اللہ تعالی سے دعا کی
09:56کہ انہیں بیت اللہ کی اصل جگہ
09:58واضح طور پر دکھا دی جائے
10:00تاکہ تعمیر میں کوئی شک باقی نہ رہے
10:03بعض روایات کے مطابق
10:05حضرت ابباس رضی اللہ تعالی عنہ
10:07سے منقول ہے کہ اللہ تعالی کی
10:09جانب سے ایک بادل بھیجا گیا
10:10جو بیت اللہ کی جگہ کی رہنمائی کرتا تھا
10:13اور حضرت ابراہیم علیہ السلام
10:15اس کے سائے کے ساتھ ساتھ چلتے رہے
10:17یہاں تک کہ وہ مکہ مکرمہ میں
10:18اس مخصوص مقام پر آ کر ٹھیر گیا
10:20جہاں بیت اللہ کی بنیاد موجود تھی
10:23اسی وقت آواز دی گئی
10:25کہ اسی نشان اور اسی سائے
10:27کے مطابق بیت اللہ کی تعمیر کرو
10:28اور اس میں نہ کمی کرو نہ زیادتی
10:31چنانچہ جب جگہ متعین ہو گئی
10:33تو حضرت ابراہیم علیہ السلام
10:35نے اللہ تعالی کے حکم سے خانہ کعبہ
10:37کی تعمیر شروع فرمائی
10:38اور حضرت اسماعیل علیہ السلام پتھر
10:40اٹھا کر لاتے اور اپنے والد کی مدد کرتے تھے
10:43اس تعمیر میں
10:45مختلف روایات کے مطابق
10:50جبل زیتون جبل لبنان جو شام میں واقع ہے
10:53جبل جودی اور مکہ مکرمہ
10:55کا جبل ہراشامل ہیں
10:56اور انہی مضبوط پتھروں کے ذریعے
10:59بیت اللہ کی دیواریں بلند کی گئیں
11:01تاکہ یہ گھر ہمیشہ توہید اور عبادت
11:03کا مرکز بنا رہے
11:04جب حضرت ابراہیم علیہ السلام نے خانہ کعبہ کی تعمیر
11:07حجر اسود کے مقام تک مکمل فرمالی
11:09تو آپ نے اپنے فرزند
11:11حضرت اسماعیل علیہ السلام سے فرمایا
11:13کہ ایک ایسا پتھر لاؤ
11:15جو لوگوں کے لیے ایک علامت اور
11:17یادگار کے طور پر باقی رہے
11:19حضرت اسماعیل علیہ السلام ایک پتھر
11:21لے کر حاضر ہوئے
11:22تو حضرت ابراہیم علیہ السلام نے فرمایا
11:24کہ اس سے بھی بہتر اور مناسب پتھر
11:27تلاش کرو
11:28اس پر حضرت اسماعیل علیہ السلام دوبارہ تلاش
11:30کے لیے روانہ ہوئے
11:32تو روایت کے مطابق جبل ابو قیس
11:35کی طرف سے ایک آواز آئی
11:36کہ اے ابراہیم علیہ السلام
11:38تیرے پاس ایک امانت موجود ہے
11:40اسے قبول کر لے
11:43چنانچہ حضرت ابراہیم علیہ السلام
11:44نے وہی مقدس پتھر
11:46یعنی حجر اسود حاصل فرمایا
11:48اور اسے بیت اللہ کے مخصوص مقام پر
11:50نسب کر دیا
11:52مسلمانوں کے نزدیک حجر اسود
11:54نہایت متبرک اور مقدس پتھر ہے
11:56اور حج عمرہ کے دوران
11:58تواف کرنے والوں کے لیے سنت ہے
12:00کہ وہ ہر چکر میں اس کا استلام کریں
12:02یعنی اسے بوسا دیں
12:04یا ازدہام کی صورت میں دور سے
12:06ہاتھ کے اشارے کے ساتھ اس کی طرف
12:08اشارہ کر کے بوسا دیں
12:10جب خانہ کعبہ کی دیواریں
12:12انسانی قط کے برابر بلند ہو گئیں
12:13تو حضرت اسماعیل علیہ السلام
12:15ایک پتھر لے کر آئے
12:16جسے مقام ابراہیم کہا جاتا ہے
12:19اور حضرت ابراہیم علیہ السلام
12:21اس پر کھڑے ہو کر
12:22دیواروں کی تعمیر کو مزید بلند کرتے رہے
12:26روایت کے مطابق
12:27جیسے جیسے دیواریں اوپر ہوتی جاتی
12:29یہ پتھر بھی اللہ تعالیٰ کے حکم سے
12:31بلند ہوتا جاتا
12:32اور جب آپ نیچے اترنا چاہتے
12:34تو یہ نیچے آ جاتا تھا
12:36اس پر حضرت ابراہیم علیہ السلام
12:38کے قدموں کے نشانات آج بھی موجود ہیں
12:41یہ مبارک پتھر
12:43طویل عرصے تک بیت اللہ کی دیوار کے ساتھ
12:45منسلک رہا
12:46بعد ازاں حضرت عمر فاروق
12:48رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے دور خلافت میں
12:50اسے دیوار سے الگ کر کے
12:52کچھ فاصلے پر رکھا گیا
12:53تاکہ تواف کرنے والوں کو آسانی ہو
12:55اور یہی مقام آج
12:58مقام ابراہیم کے نام سے معروف ہے
13:00روایات کے مطابق خانہ کعبہ کو
13:02اسلام سے قبل مختلف عدوار میں
13:04متعدد مرتبہ تعمیر کیا گیا
13:06جن میں بعض روایات کے مطابق
13:09مجموعی طور پر چار بڑی تعمیرات
13:11کا ذکر ملتا ہے
13:12بعض اہل علم کے نزدیک سب سے پہلی تعمیر
13:15حضرت ابراہیم علیہ السلام
13:16اور حضرت اسماعیل علیہ السلام
13:18نے اللہ تعالی کے حکم سے انجام دی
13:20اور اسی کا ذکر قرآن و حدیث میں بھی ملتا ہے
13:23اس کے بعد مختلف عدوار میں
13:25خانہ کعبہ کی تعمیر اور تجدید ہوتی رہی
13:28حضرت ابراہیم علیہ السلام
13:30نے جب بیت اللہ شریف کی تعمیر فرمائی
13:32تو اس کی اوچائی تقریباً نو گز
13:34یعنی چار اشاریہ پانچ میٹر
13:37کے قریب رکھی گئی
13:38جبکہ مشرقی جانب اس کی لمبائی
13:40تقریباً بتیس گز
13:41یعنی سولہ میٹر
13:43مغربی جانب اکتیس گز
13:45یعنی پندرہ نوماسی اشاریہ پانچ میٹر
13:48شمالی جانب بیس گز
13:50یعنی دس میٹر
13:51اور جنوبی جانب تیس گز
13:54یعنی گیارہ میٹر کے قریب بیان کی جاتی ہے
13:57اس وقت تعمیر میں
13:58کعبہ شریف کے اوپر چھت موجود نہیں تھی
14:00اور اس میں دو دروازے رکھے گئے تھے
14:03جو زمین کے قریب واقع تھے
14:05اس کے بعد بعض تاریخی روایات کے مطابق
14:08دوسری اور تیسری مرتبہ
14:10بنو امالقہ اور بنو جرحم نے خانہ کعبہ کی
14:13تعمیر نو اور مرمت کا کام انجام دیا
14:15اور اس کی ساخت کو دو بارہ مضبوط کیا
14:19بعض موررخین اور اہل علم کی روایات میں
14:21حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ سے منقول ہے
14:24کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی تعمیر کے بعد
14:27ایک طویل عرصہ گزرنے پر
14:28جب بیت اللہ کی دیواریں کمزور ہونے لگی
14:31تو بنو امالقہ نے اس کی تجدید کی
14:34پھر ان کے بعد بنو جرحم نے بھی
14:36اس کی مرمت اور تعمیر نو کی
14:37اس کے بعد جب مزید زمانہ گزرا
14:40اور امارت میں کمزوریاں ظاہر ہوئیں
14:42تو قریش نے بیت اللہ کی تعمیر کا ذمہ لیا
14:45اور اسے اثر نو تعمیر کیا
14:47اور یہی چوتھی بڑی تعمیر شمار کی جاتی ہے
14:51جس کے بعد خانہ کعبہ کی امارت
14:53کو مزید مضبوط اور محفوظ بنانے کی کوشش کی گئی
14:56تاریخی روایات میں قریش کی تعمیر کعبہ کے حوالے سے
14:59یہ بیان ملتا ہے
15:00کہ ایک مرتبہ خانہ کعبہ کے قریب آگ لگنے کا واقعہ پیش آیا
15:04جس کے نتیجے میں بیت اللہ شریف کی دیواروں
15:07اور غلاف کو نقصان پہنچا
15:09بعض روایات کے مطابق اس واقعے کے بعد
15:12قریش کے دلوں میں یہ خوف پیدا ہوا
15:13کہ اگر انہوں نے بیت اللہ کی تعمیر و مرمت نہ کی
15:16تو کہیں یہ ان کے لیے عذابِ الٰہی کا سبب نہ بن جائے
15:20اسی احساس کے تحت تمام قبائل نے مل کر
15:23خانہ کعبہ کی تعمیر نو کا فیصلہ کیا
15:26اس تعمیر کے لیے انہوں نے صرف حلال اور پاکیزہ مال جمع کرنے کا احتمام کیا
15:30لیکن چونکہ جمع شدہ مال مکمل تعمیر کے لیے کافی نہ تھا
15:34اس لیے انہوں نے بیت اللہ کی کچھ اصل حدود کو برقرار رکھتے ہوئے
15:38تقریباً چھے گس کے قریب ایک حصہ الگ کر دیا
15:41جسے بعد میں حتین کے نام سے جانا گیا
15:44اور وہاں ایک چھوٹی دیوار قائم کر دی
15:46تاکہ تواف کے دوران اس حصے کے اندر داخل نہ ہوا جائے
15:50قریش نے اس تعمیر کے دوران بیت اللہ کی انچائی میں اضافہ کیا
15:53دروازے کو زمین سے کچھ بلند کر دیا
15:56اور چھت بھی تعمیر کی
15:57جبکہ شمالی اور جنوبی حصوں میں بھی تعمیراتی تبدیلیاں کی گئیں
16:02روایات کے مطابق اس عزین تعمیر کے موقع پر
16:05نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بھی قریش کے ساتھ شریک تھے
16:08اور حجرِ اسوت کو نصب کرنے کے معاملے میں
16:11آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی حکمت و دانائی نے
16:14قبائل کے درمیان بڑے اختلاف کو ختم کیا
16:16اس کے بعد ایک طویل عرصے تک خانہِ کعبہ
16:19اسی قریشی تعمیر کے مطابق قائم رہا
16:21اور بیت اللہ کی حیت بڑی حد تک
16:24اسی بنیادی ڈھانچے پر برقرار رہی
16:26ناظرین
16:26جب حضرت ابراہیم علیہ السلام نے مکہ مکرمہ کی
16:29بے آب و گیاہ اور چٹی الوادی مقدم رکھا
16:32تو اس وقت سے لے کر آج تک
16:34بلکہ قیامت تک کے لیے
16:36یہ بابر قد وادی
16:38اہل ایمان کے لیے مرکزِ ہدایت
16:40اور قبلہ کی حیثیت اختیار کر گئی ہے
16:42حضرت ابراہیم علیہ السلام
16:44اپنے ننے فرزند حضرت اسماعیل علیہ السلام
16:47اور ان کی والدہ حضرت حاجرہ علیہ السلام
16:49کو
16:49اسی وادی میں اللہ تعالیٰ کے حکم سے چھوڑ کر
16:52واپس تشریف لے گئے
16:53اور ان کے جانے کے بعد حضرت حاجرہ علیہ السلام
16:56اپنے شیرخار بچے کے لیے پانی کی تلاش میں
16:59صفہ و مروہ کے درمیان
17:00بے چینی کے عالم میں دورتی رہیں
17:02یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ کے حکم سے
17:04حضرت اسماعیل علیہ السلام کی
17:06ایڑی کے قریب سے پانی کا ایک چشمہ جاری ہوا
17:08جسے زمزم کہا جاتا ہے
17:10اور یہ مبارک پانی آج تک جاری و ساری ہے
17:14روایات کے مطابق
17:15جب حضرت ابراہیم علیہ السلام
17:17دوبارہ مکہ مکرمہ تشریف لائے
17:19تو اس وقت حضرت اسماعیل علیہ السلام کی عمر بڑھ چکی تھی
17:22اور پھر دونوں باپ بیٹے نے
17:25اللہ تعالیٰ کے حکم سے
17:26خانہ کعبہ کی بنیادیں
17:27اسرنو تعمیر کی
17:28جیسا کہ تاریخی کتب جیسے
17:30تاریخ التبری اور دیگر مسادر میں
17:33ذکر ملتا ہے
17:34بعض روایات کے مطابق
17:36اسی دور میں بیت اللہ کے لیے
17:37ایک سادہ غلاف بھی تیار کیا گیا
17:39اور بعد میں دروازے کی تنصیب بھی عمل میں آئی
17:42جبکہ ابتدائی زمانے میں
17:44یہ ایک نہایت سادہ سی عمارت تھی
17:46تاریخی روایات میں یہ بھی ذکر ملتا ہے
17:49کہ مختلف ادوار میں
17:50بیت اللہ کے لیے
17:51مختلف قسم کے غلاف تیار کیے گئے
17:53جن میں چمڑے اور دیگر
17:55سادہ کپروں کے غلاف بھی شامل تھے
17:56اور ان کا رن مختلف ادوار میں بدلتا رہا
18:00بعض روایات کے مطابق
18:02غلاف کعبہ کے رنگوں میں خاکی
18:03سرخ، سفید، زرد، سبز، سیاہ
18:07اور سنہری رنگ بھی بیان کیے جاتے ہیں
18:09تاہم ان میں سب سے زیادہ معروف
18:11اور طویل عرصتک استعمال ہونے والا رنگ سیاہ ہے
18:14جو آج بھی بیت اللہ شریف کی شان
18:17اور عظمت کی علامت سمجھا جاتا ہے
18:18بعض اوقات ایک ہی وقت میں
18:20خانہ کعبہ کے لیے
18:21ایک سے زیادہ رنگوں کے غلاف پی تیار کیے جاتے رہیں
18:24جن میں ایک بنیادی رنگ ہوتا تھا
18:26اور دوسرا رنگ
18:27تزین و آرائش کے لیے استعمال کیا جاتا تھا
18:31سیاہ کپڑے پر سنہری کڑھائی
18:33اور نقش و نگار کا رواج
18:34زیادہ تر اسلام کے بعد کے ادوار میں نمائع ہوا
18:37جس میں قرآن کریم کی آیات
18:39اور مقدس عبارات
18:40نہایت عقیدت اور احترام کے ساتھ تحریر کی جاتی ہیں
18:44موجودہ دور میں
18:45غلاف کعبہ زیادہ تر خالص ریشم
18:47سے تیار کیا جاتا ہے
18:48جو انتہائی قینتی اور وزنی ہوتا ہے
18:51اور اسے تیار کرنا اور نصب کرنا
18:53ایک منظم اور باقاعدہ نظام
18:55کے تحت انجام دیا جاتا ہے
18:57غلاف کے اوپر مختلف حصوں پر
18:59خوبصورت کرہائی اور تزین کی جاتی ہے
19:01جس سے اس کی شان و زیبائش
19:03میں مزید اضافہ ہو جاتا ہے
19:05خانہ کعبہ پر غلاف تبدیل
19:07کرنے کا طریقہ اور اس کا عرصہ بھی
19:09مختلف عدوار میں بدلتا رہا ہے
19:10اور آج کل ہر سال غلاف کعبہ
19:13تبدیل کیا جاتا ہے
19:14جبکہ ماضی میں بعض اوقات اسے سال میں
19:17دو یا تین مرتبہ بھی تبدیل کیا جاتا رہا ہے
19:20تاریخی روایات میں
19:21غلاف کی تبدیلی کے لیے
19:23یوم آشور، یکم رجب
19:24ستائیس رمضان، یوم ترویہ
19:27اور یوم قربانی جیسے
19:29ایام کا ذکر بھی ملتا ہے
19:30جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم
19:33فتح مکہ کے موقع پر
19:35مکہ مکرمہ میں داخل ہوئے
19:36تو اس وقت خانہ کعبہ پر
19:38قریش کا تیار کردہ غلاف موجود تھا
19:40اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم
19:43نے اسے تبدیل نہیں فرمایا
19:44بلکہ اسے اپنی حالت پر برقرار رکھا
19:47بعض روایات میں یہ بھی آتا ہے
19:49کہ خوشبو لگانے کے عمل کے دوران
19:52غلاف کو نقصان پہنچا
19:53تو بعد میں نیا غلاف تیار کیا گیا
19:55جس میں سفید اور سرخ رنگ کے
19:57یمانی کپڑے کا استعمال کیا گیا
20:00آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد
20:02حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ
20:05اور حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ
20:08کے عدوار میں بھی خانہ کعبہ کے لیے
20:10سادہ مگر باوقار غلاف تیار کیا جاتا رہا
20:13جسے قباتی کہا جاتا تھا
20:16اور یہ مصر میں تیار ہونے والا
20:18نہایت باریک اور نفیس کپڑا ہوتا تھا
20:20حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے دور خلافت میں
20:23بیت المال سے سال میں دو مرتبہ غلاف کعبہ تیار کیا جاتا تھا
20:27اور اسی کے مطابق اسے تبدیل بھی کیا جاتا تھا
20:31اس دور میں تبدیلی کے بعد پرانا غلاف
20:33حضرت شہبہ بن عثمان الحجبی کے پاس
20:36بطور امانت محفوظ رکھا جاتا تھا
20:39بعد کے عدوار میں بھی غلاف کعبہ کی روایت
20:41مختلف انداز میں جاری رہی
20:44فاطمی دور میں غلاف کا رنگ زرد رہا
20:46جبکہ محمد بن سبتگین کے دور میں بھی
20:48زرد ریشمی کپڑے کا غلاف تیار کیا گیا
20:51اب باسی خلیفت الناصر کے زمانے میں
20:54سبز ریشم کا استعمال کیا گیا
20:55اور اس کے بعد سیاہ ریشم کا رواج عام ہوا
20:58جو بعد میں مستقل روایت بن گیا
21:01اور آج تک اسی پر عمل کیا جا رہا ہے
21:04موجودہ دور میں سعودی عرب میں
21:05غلاف کعبہ کے لیے باقاعدہ کارخانہ قائم ہیں
21:08جہاں اس کی تیاری کے لیے ریشم
21:10اور دیگر تمام ضروری اشیاں مہیا کی جاتی ہیں
21:13اور غلاف کعبہ کو آیات قرآنی سے
21:16سنہری دھاگے کی کرہائی کے ذریعے مزین کیا جاتا ہے
21:19جس میں سیاہ ریشم پر سنہری نقش و نگار نمائع ہوتے ہیں
21:23جبکہ اس کا اندرونی حصہ
21:24عموماً سبز یا سفید کپڑے سے تیار کیا جاتا ہے
21:28روایات کے مطابق غلاف کعبہ کی تبدیلی
21:31یوم عرفہ کے موقع پر انجام دی جاتی ہے
21:33اور پرانے غلاف کو محفوظ رکھنے کے لیے
21:36اسے حرم مکی کے قریب موجود میوزیم میں رکھا جاتا ہے
21:39یا بعض اوقات
21:41بطور تحفہ دیگر اسلامی ممالک کو بھی دیا جاتا ہے
21:44جس کے بعد
21:45اسے حصوں میں تقسیم کر کے محفوظ کیا جاتا ہے
21:49تاریخی طور پر ایک دور میں خانہ کعبہ
21:51ہفتے میں دو مرتبہ عوام کے لیے کھولا جاتا تھا
21:54تاکہ لوگ اندر جا کر عبادت کر سکیں
21:56تاہم موجودہ دور میں
21:58زائرین کی کسرت اور انتظامی وجوہات کی بنا پر
22:01اسے عام طور پر سال میں محدود مواقع پر ہی کھولا جاتا ہے
22:05اور اس میں داخلہ
22:06زیادہ تر خصوصی شخصیات
22:08اور معزز مہمانوں تک محدود ہوتا ہے
22:11اس سلسلے میں امام مسلم رحمت اللہ علیہ نے
22:13حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ سے روایت نقل کی ہے
22:16کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ بیان فرماتی ہیں
22:20کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے
22:23حتیم کے بارے میں سوال کیا
22:25کہ کیا یہ بیت اللہ کا حصہ ہے
22:27تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا
22:30ہاں
22:31حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ فرماتی ہیں
22:33کہ میں نے ارز کیا
22:35کہ پھر اسے بیت اللہ میں داخل کیوں نہیں کیا گیا
22:38تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا
22:40کہ تمہاری قوم کے پاس خرچے کے لیے رقم کم پڑ گئی تھی
22:45پھر میں نے پوچھا
22:46کہ بیت اللہ کا دروازہ ہونچا کیوں رکھا گیا ہے
22:49تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا
22:52کہ تمہاری قوم نے اسے اس لیے اُنچا کیا
22:54تاکہ وہ جسے چاہیں داخل کریں
22:56اور جسے چاہیں روک دیں
22:59پھر آپ ﷺ نے فرمایا
23:01کہ اگر تمہاری قوم نئی نئی اسلام میں داخل نہ ہوئی ہوتی
23:05اور ان کے دل اس بات کو قبول کرنے میں دشواری محسوس نہ کرتے
23:08تو میں حتیم کو بیت اللہ میں شامل کر دیتا
23:11اور دروازے کو زمین کے برابر کر دیتا
23:15ناظرین خانہ کعبہ کی تعمیر اور اس کی تاریخ کے تفصیلی تذکرے کے بعد
23:19اس کی عظمت و فضیلت کو سمجھنا بھی ضروری ہے
23:22کیونکہ اللہ تعالی نے بیت اللہ شریف کو بے پناہ شان و عظمت عطا فرمائی ہے
23:26اور اسے اپنی خاص رحمت و جلال کے ساتھ ممتاز فرمایا ہے
23:30یہ وہ مقدس گھر ہے
23:32جسے اللہ تعالی نے امن و سلامتی کا مرکز بنایا ہے
23:35اور اس میں داخل ہونے والوں کے لیے سکون اور اتمنان رکھا گیا ہے
23:40اور یہی وہ بابرکت مقام ہے
23:42جہاں سے نبی کریم ﷺ نے حجرت فرمائی
23:45اور یہی وہ قبلہ ہے
23:47جس کی طرف پوری دنیا کے مسلمان دن میں پانچ وقت رخ کر کے عبادت ادا کرتے ہیں
23:52ناظرین آخر میں اللہ تعالی سے دعا ہے
23:54کہ اللہ پاک ہمیں بھی بیت اللہ شریف کی زیارت اور حج کی سعادت نصیب فرمائے
23:59آمین
24:01ناظرین آج کی ویڈیو یہی پر مکمل ہوتی ہے
24:04ہمیں امید ہے کہ یہ معلوماتی ویڈیو آپ کو ضرور پسند آئی ہوگی
24:08اگر آپ کو ہماری یہ کوشش اچھی لگی ہو تو گزارش ہے
24:11کہ ہمارے چینل کو سبسکرائب ضرور کریں
24:28اللہ تعالیٰ آپ سب کو اپنی حفظ و امان میں رکھے
24:31آمین
Comments
jery jhonn
Creator
Biyaan

Recommended