Skip to playerSkip to main content
Mumbai, Maharashtra: एक्टर गजेंद्र चौहान ने दिलजीत दोसांझ स्टारर फिल्म 'सतलुज' से जुड़े विवाद पर IANS से खास बातचीत की। इस दौरान FTII के पूर्व चेयरमैन ने सिनेमा के समाज पर पड़ने वाले प्रभाव पर खुलकर अपनी राय रखी। उन्होंने 'सतलुज' कंट्रोवर्सी में ओटीटी प्लेटफॉर्म्स की जिम्मेदारी और सेंसर बोर्ड की अपनी राय सामने रखी। बातचीत के आखिर में गजेंद्र चौहान ने कहा कि जिन लोगों ने 'सतलुज' नहीं देखी है, उनका कोई नुकसान नहीं हुआ।

#GajendraChauhan #DiljitDosanjh #Satluj #SatlujControversy #BollywoodNews #EntertainmentNews #IANS #OTT #CensorBoard #FTII #CelebrityInterview #HindiNews #LatestNews #MovieControversy #FilmNews

Category

🎈
Fun
Transcript
00:01foreign
00:05foreign
00:30so
01:00ھٹ چکی ہے لیکن جو سوتروں کے حساب سے جو سماجہ رہا ہے وہ یہ ہے
01:06کہ زی فائف کے اوٹی ٹی پلیٹ فارم سے دو دن کے بعد فلم کو ہٹا
01:11دیا گیا دخد ہے نرماتہ نردشک کے لیے لیکن سخد ہے اس دیش کی
01:16جنتہ کے لیے دیش کے سماج کے لیے اور کلا کے لیے تو میں یہ
01:23مانتا ہوں کہ ایسی فلموں کو بالکل بھی بڑھاوا نہیں دیا جانا
01:26چاہیے اور سنسر بورڈ کو بہت ہی بہت ہی احتیاط کے ساتھ ایسی
01:32فلموں کو سنسر سنٹیویٹ دینا چاہیے کہیں نہ کہیں ہم سب اس
01:37بات کے ذمہ دار ہوتے ہیں کہ ایسی فلموں کو لکھا جاتا ہے آگے
01:43بنایا جاتا ہے پھر ٹیلیکاسٹ اوٹی ٹی پلیٹ فارم سے یا سینیما کے
01:48مادیم سے لوگوں تک پہنچا جنے کی کوشش کی جاتی ہے لیکن اس میں ایک
01:52اور وشہ اٹھتا ہے کہ جو کلاکار اس میں کام کرتے ہیں یہ کلاکار
01:57ہونے کے ناتے میں یہ مانتا ہوں کہ ان کا بھی دوش اس میں رہتا ہے
02:01دوش کس طرح کی رہتا ہے کہ جب آپ سبجیکٹ سنتے ہیں تو آپ کو
02:05معلوم ہوتا ہے کہ اس فلم میں کیا دکھائے جائے گا کیا نہیں دکھائے
02:08جائے گا تو آپ اس کے بھاگی دار ہوتے ہیں آپ کلاکار کی اس
02:13مداری سماج کے پرتی راشت کے پرتی یہ ہے کہ ان کی جو فلم بنے اس کے
02:18مادے ہم سے کوئی غلط سندیش جو ہے جنتہ تک نہ پہنچے سماج تک نہ
02:22پہنچے میں ایک ذمہ دار کلاکار ہوں کوئی بھی فلم میرے پاس ایسی
02:26آئے گی تو میں منع کر دیتا ہوں آئی ہیں بہت ساری آئی ہیں جو کہیں
02:31نہ کہیں دیش کے خلاف تھی ایک ایسا سندیش تھا جو مجھے اچھا نہیں
02:36لگا کہ میں اس سندیش کا حصہ دار بنوں تو زی فائف کی تھوڑی گلتی اس میں
02:43یہ ہے کہ انہوں نے دو دن ٹیلی کاسٹ کیا اوٹی ٹی پلیٹ فرم بھی لگایا
02:46اور اس کے بعد ہٹایا کیا پہلے دن ان کو یہ بات سمجھ میں نہیں آئی
02:49کیا پریویو کے سمجھ ان کو یہ بات سمجھ میں نہیں آئی کہ دیش کے
02:53خلاف تھی بات ہے سنسر بورڈ بھی ذمہ دار ہے کہ سنسر بورڈ نے ایسی
02:57فلموں کو لگایا اتنے کٹس کے ساتھ بھی ایسے کچھ کٹس رہ گئے جو
03:01objectionable تھے تو میں مانتا ہوں کہ ہم سب چاہے سنسر بورڈ ہو
03:05چاہے کوئی چینل ہو اوٹی ٹی پلیٹ فرم ہو کلاکار ہو
03:09ٹیکنیشنز ہو رائٹر پروڈوسر ڈیریکٹر جو بھی ہیں ہم سب جب بھی
03:14کوئی کام ایسا کریں گے کہ جو دیش کے خلاف ہوگا یا ایسی چیزوں
03:18کو بڑھاوا دیتا ہوگا جو دیش کے خلاف ہو تو ہم سب اس کی ذمہ دار
03:22ہیں اور مجھے لگتا کہ ہمیں بہت احتیاط سے سینما کو سینما کی
03:25طرح پیش کرنا چاہیے تاکہ لوگ سینما سے یا تو ایجوکیشن لے
03:29سکیں یا انٹرٹینمنٹ دے سکیں اور نرمہ در نیزشک اس سے
03:33ان کر سکیں کیا آپ کو لگتا ہے کہ پونی طرح فلم کو دیکھنا
03:37چاہیے اس کے بعد جج کرنا چاہیے کہ نہ تو کوئی کچھ سیلیکٹڈ
03:42سیمز کو لے کر آپ اس کے بعد آراب نے ڈھاڑنا کر رہے ہیں
03:46کیوں تو یہ ایسی برمہر ایسی برمہر ایسی برمہر دیش کے خلاف
03:50نہیں نہیں ایسا ہے کہ جب سینما سینسر بورڈ میں جاتی ہے تو
03:55وہاں جو بھی عدیقاری لوگ ہیں ان کا یہ فرض بنتا ہے کہ اس میں
03:58کوئی بھی سینما کا ایسا حصہ نہ ہو جو دیش کے خلاف ہو ایسی
04:03چیزوں کو بڑھاوا دیتا ہو جو راشت کے خلاف ہو یا سماج کے
04:06خلاف ہو یہ ان کی ذمہ داری بنتی ہے ان کو وہاں اسی لیے پلیس
04:10کیا گیا ہے کہ وہ اس کام کو بخوبی نبھائیں اس لیے چاہے پوری
04:16فلم ہو یا فلم کا کوئی حصہ ہو جس میں غلط چیز دکھائی جا
04:20رہی ہے جس سے لوگ بھڑک سکتے ہیں لوگوں کو غلط اندیش جا
04:24سکتا ہے تو ان کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ اس کو پاسٹ نہ
04:27کریں اس فلم کو روکیں ٹیلی کاسٹ رونے سے پہلے روکیں اور
04:31چینل پہ جب جاتا ہے اوٹی ٹی پلیٹ فارم تو چینل کی بھی
04:33ذمہ داری ہوتی ہے کہ چینل جو ہے اسی چیزوں کو ٹیلی کاسٹ نہ
04:37کریں نہیں ایسا نہیں ہے دیکھیں ابھی پیچھے دنوں فلم آئی تھی
04:50دھرندر لوگوں نے پسند کی اسے بہت ساری چیزیں ایسی دکھائی
04:54گئی جو واقعی میں سچائی تھی دیش کے پرتی اس میں ایک بہت اچھا
05:00سمان اور دیش کے پرتی ایک بہت اچھا سندیش دیا گیا کہ ایسی ایسی
05:05گھٹنا ہے اس دیش میں بہت سارے لوگ پلان کر رہے ہیں ان پلانز
05:09کو کیسے روکا جائے تو میرا ماننا یہ ہے کہ ایسا کچھ نہیں
05:12کہ چیلنجنگ ہے پولٹیکل فلم بنائی جائے یا کوئی فلمیں بن
05:16رہی ہیں ایسی بھی بن رہی ہیں اور وہ پاسٹ بھی ہو رہی ہیں سنسر
05:19بڑھٹسٹ ٹیلی کاسٹ بھی ہو رہی ہیں بروڑکاسٹ بھی ہو رہی ہیں
05:21سینما تک پہنچ بھی رہی ہیں لیکن کسی بھی سینما سینما جو ہے
05:27غلط میسیج دینے کے لیے نہیں ہے سینما کو جو ہے ایک اچھے سے
05:32پیش کیا جائے اور سماج کی بہتری کے لیے اس میں چیزیں
05:36دکھائی جائیں تو سینما ہمیشہ پبلک ایکسپ کرتی ہے دوسری ہوتی ہے
05:40انٹرٹینمنٹ انٹرٹینمنٹ کی چیزیں دکھائیں گے تو لوگ پسند کریں گے
05:44سر آپ کے حساب سے کریٹیو فیڈم اور ناشنل سیکریٹی کنٹرن کے بھی
05:48ٹیلیٹس کیسے ہونا چاہیے دیکھیں ایسا ہے میں آپ کو ایک چھوٹا
05:53سا بات شیئر کروں گا کہ اس دیش میں پاکستانی کلاکر بہت آتے
05:58تھے دو ہزار تیرہ میں میں پہلا ویکتی تھا جب میں سینٹہ میں تھا
06:03جس نے اس بات کو بہت زوروں سے اٹھایا تھا کہ پاکستانی کلاکر
06:07یہاں نہیں آنا چاہیے اس سے دو نقصان ہوتے تھے اس سے نقصان ایک
06:11تو ہوتا تھا فائننشلی کیونکہ وہ لوگ یہاں ٹیکس نہیں
06:13دیتے تھے ان کا کوئی ٹیکس نمبر نہیں تھا یہاں ہمارے دیش کی
06:17کرنسی کو وہ اپنے دیش میں لے جاتے تھے یہاں کے پیسے کو
06:19اپنے دیش میں لے جاتے تھے دوسرا تھا سیکیورٹی وہ یہاں کی
06:23چیزوں کو شوٹ کر کے نہ جانے کس طرح سے ان کا میسیوز ہوتا تھا
06:27دروبیو ہوتا تھا اپنے دیش میں جا کے اس لیے سیکیورٹی کا جو
06:32وشہ ہے وہ بہت ہی سنسلیو ہے اور میں پہلا وقتی تھا جس نے
06:38اس بات کو اٹھایا تھا اور اس کا پرنام یہ ہوا کہ پاکستانی
06:42ایکٹروں کو ہندوستان میں بین کیا گیا وہ آتے تھے بزنس ویزا
06:47پہ وہاں سے بی ویزا پہ اور یہاں کے ایمپلائیمنٹ لیتے تھے
06:50ای ویزا مطلب بزنس ویزا پہ آ کے ایمپلائیمنٹ کرنا یہ بھی
06:54ایک گناہ ہے تو ایسی چیزیں جب جب دیش میں ہوئی ہے میں نے اس کی
07:00آواز کو زوروں سے اٹھایا ہے اور مجھے لگتا ہے کہ سیکیورٹی
07:04کا وشہ اوشی آتا ہے سینیما کی مادیم سے کیونکہ سینیما جو ہے
07:08کروڑوں کروڑوں لوگوں کی گھروں تک پہنچتا ہے ان کے دباغ
07:12تک پہنچتا ہے ان کی سوچ کو بدل سکتا ہے اس لیے سیکیورٹی
07:15کا وشہ بہت مہت مون ہے جہاں تک سینیما کنسرڈ ہے
07:44دیکھیں ہر آدمی کی سوچ الگ ہوتی ہے ہر آدمی کی سوچ
07:48کو کوئی چیز پسند آتی ہے دوسرے کو نہیں آتی ہے سینیما
07:51جو ہے ایسا مادیم ہے جس کے جو ایسا وشہ ہے کہ جس کے
07:57قومن آدمی جو دیش کا قومن آدمی ہے اس سق بات صحیح طریقے سے
08:01پہنچے آپ یہ نہیں کر سکتے کہ غلط چیز بنائی جائے اور اسے
08:05پیش کریں اور کہیں کہ ہاں لوگوں کو سمجھ دے کا موقع دیجئے
08:08ایسا چانس نہیں ہونا چاہیے کیونکہ اس سے غلط بات تو
08:12ہوئی جائے گی ابھی بھی میں کہہ رہا ہوں جیسے بھارت میں اس کو
08:19انفلٹر کر کے یہ پھر یہاں آ جائے گی تو یہ گلت طریقہ ہے
08:23اور زی فائیف کو بھی بہت ہوشا رہنا چاہیتا ہے اس
08:26دشئے میں کہ ایسی فلم کو اپنے پلیٹ فارم پر ایک ایک دن
08:30کے آئے گھنٹے کے لئے بھی ٹیلگاسٹ نہ کریں
08:33دیکھیں سینسر بورڈ کی بھی دلکی کی سینسر بورڈ کو
08:35نے جب آپ کو لگتا ہے کہ ایک سینسر بورڈ کی بہت بڑی
08:41ذمہ داری ہے اس دیش میں اور سینسر بورڈ کو کوئی بھی
08:45سلائٹلی بھی ڈاؤٹ اگر آتا ہے ان کے میمبرز کو جو
08:48فلم کو دیکھتے ہیں اور پاس کرتے ہیں تو ان کو
08:51دیفنیٹی اس بات کو روک دینا چاہیے وہاں ہی روک دینا چاہیے
08:53اس کو آگے بلکل بھی بڑھاوا نہیں دینا چاہیے میں یہ پہلے بھی
08:57کئی بار اپنے آپ کے مادہم سے کہہ چکا ہے اس بات کو
09:01کہ سینسر بورڈ کی بہت بڑی ذمہ داری ہے کہ وہ پہلا سٹیپ ہے
09:04جہاں گلت چیزوں کو روکا جا سکتا ہے تو سینسر بورڈ کی
09:08ڈیفنیٹیز میں ذمہ داری ہے اور اس میں میں نے سنا کہ
09:11بہت سارے کٹس دیے گئے تھے اس کے باوجود بھی کچھ چیزیں
09:13رہ گئی جس کو objection کیا گیا اور پھر زی فائی پہ جب
09:18یہ تیلی کاسٹ ہو یو ٹی ٹی پلیٹ فارم پہ تو لوگوں کو
09:21objection لگا گورنمنٹ کو objection لگا اس بات کے لیے اور اس
09:24film کو روکا گیا آج کے وقت میں فرمیکل اور اکٹرز کے لیے
09:27سب سے بڑی challenge کیا ہے creative expression یا public perception
09:32نہیں دیکھیں cinema جو ہے وہ public perception تو ہے ہی ہے لیکن
09:37اس میں creativity ہونی ہی چاہیے cinema کا دوسرا نام ہی
09:42creativity ہے جب آپ کوئی چیز سوچتے ہیں اور چاہتے ہیں
09:46کہ میرا جو یہ thought ہے public تک پہنچے اگر وہ public
09:50opinion کے ساتھ mix ہوتا ہے تو سونے پہ سواگا ہو جاتا ہے
09:53public کو لگتا ہے کہ ہاں ہماری سوچ ایسی ہے جیسی
09:56cinema میں دکھائی گئی ہے تو definitely film چلتی بھی ہے
09:59hit بھی ہوتی ہے super hit ہوتی ہے اس لیے public opinion
10:02تو شک ہے ہی public کیونکہ film بنتی ہے public
10:06کے لیے کسی اور کے لیے نہیں تو cinema جو ہے وہ public
10:08تک پہنچے گا public opinion اس میں mix ہونا چاہے لیکن
10:11public opinion negativity نکاراتمک نہیں ہونا چاہے اور
10:15نکاراتمک سوچ جو public کی ہے اس کو اس میں include نہیں
10:18کرنا چاہے اس لیے سکاراتمک چیزیں اگر public opinion میں ہیں
10:22تو definitely cinema میں include کی جا سکتی ہے
10:36دیکھیں ایسا ہے جو لوگ نہیں دیکھ پہے میں سمجھتا وہ بس
10:39اباگشالی ہیں کیونکہ آپ نے غلط چیز کو نہیں دیکھا ہے
10:42اگر غلط چیز آپ دیکھتے تو آپ کی سوچ میں بدلہ آتا
10:46اچھا ہے اگر یہ دوبارہ film اگر واپس آئے گی تو ان cuts
10:49کو لے کے آئے گی جو objectionable چیزیں ہیں جو سرکار کو
10:52غلط لگی ہیں انہیں کاٹ کے اگر واپس پیش کی جائے گی تو آپ
10:56دیکھ پائیں گے اس picture کو لیکن میں سمجھتا ہوں کہ آپ اس
11:01نکاراتمک سوچ سے بچ گئے جیسے میں نے یہ film نہیں دیکھی
11:04ہے تو مجھے یہ سمجھ میں نہیں آئی کیا ہے میں نے صرف پڑھا
11:07اس کے وشے میں جانا ہے لوگوں سے پریس کے مادہم سے مجھ
11:09تک کچھ خبریں آئی ہیں اس لیے میں یہ کہہ رہا ہوں کہ کوئی
11:13فرق نہیں پڑتا اگر آپ نے یہ film نہیں دیکھئے تو
11:18thank you
Comments

Recommended