Skip to playerSkip to main content
#dubbedmovies #hindidubbed #urdudubbed #movie #explainer #nehasingh #filmexplain #newmovie #englishmovie #latestmovie #2025 #2026 #hdmovies #topmovies #hindi #english #usa #uk #india #pakistan #action #horrormovie #fuze #fuzemovie



Fair use is a legal doctrine that allows creators to use copyrighted material without permission for purposes like commentary, criticism, parody, and education. In entertainment—especially for movie recaps, reaction videos, and reviews—fair use protects content creators if their work meets specific legal criteria
Movie Recaps: Editing clips together accompanied by an original, heavily detailed voiceover script that analyzes the plot or filmmaking techniques.

Disclaimer: Fair use is a legal defense evaluated on a case-by-case basis by courts, not a guaranteed right that automatically prevents copyright strikes on platforms like YouTube,Facebook and Dailymotion.

Category

🎈
Fun
Transcript
00:00Sochiya aigar eeg dine poore sheper ko khaali kira dya jay e
00:02Kyunki zamein ke nige eeg eeg aisa bomb mila eeg jo kisiy bhi pul phat saktaya
00:061000 loog apni jaan bucha kar bhaag rhehe hoon, polis sađkou ko bend kher chukhi hoon
00:10Aarmi ke sbse bade e bomb eksperte mauke per pahunch chukhe hoon
00:13Lekin kisiy ko ya anadaza bhi na ho ki asoldi khatrha bum nahi
00:16Bulkki kirođo dollarz ki eeg aisiy robbery hai
00:19Jo usi somnay unke sámenne ho rhehi hai
00:20Or sbse hiran karne wali baat yeh hai
00:22کہ اس رابری میں چُرائے جانے والے ہیں لاکھوں نہیں
00:25بلکہ لگ بھگ 30 ملین ڈالرز کے ایسے ہیرے جن کا کوئی ریکارڈ نہیں ہے
00:30دوسری طرف بینک کے اندر کروڑوں کا کیش بھرا پڑا ہے
00:33اور کچھ لوگ شہر میں پھیلے ڈر اور افرا تفریق کا فائدہ اٹھا کر
00:36چپ چاپ اسے سمیٹ رہے ہیں
00:38لیکن کہانی یہیں ختم نہیں ہوتی
00:40جیسے جیسے راج کھلتے ہیں
00:41ویسے ویسے پتا چلتا ہے
00:43کہ جس بام کو سبھی اصلی سمجھ رہے ہیں
00:46اس کے پیچھے بھی ایک خطرناک سازش چھپی ہوئی ہے
00:49ہر نیا خلاصہ پچھلے خلاصے سے زیادہ چونک آنے والا ہے
00:52آخر کون ہیں یہ لوگ جو پورے شہر کو بے وکوف بنا کر کروڑوں ڈالرز لے کر غائب ہونے والے
00:57ہیں
00:57کیا بام سچ میں پھٹے گا
00:58اصلی ہیرے کس کے پاس جائیں گے
00:59اور کون آخری سمیہ میں سب سے بڑا دھوکہ دے گا
01:02یقین مانیے اس کہانی کا آخری ٹویسٹ جاننے کے بعد
01:05آپ کچھ سیکنڈ تک سکرین سے نظر نہیں ہٹا پائیں گے
01:08کہانی کی شروعات میں کچھ مزدور ایک کنسٹرکشن سائٹ پر کھدائی کا کام کر رہے ہوتے ہیں
01:13تب ہی اچانک ان کی مشین زمین کے نیچے دبے ہوئے ایک بہت بڑے بام سے ٹکرا جاتی ہے
01:18یہ دیکھ کر سب ہی لوگ گھبرا جاتے ہیں
01:20سب سے ڈرانے والی بات یہ تھی
01:22کہ یہ بام کسی بھی سمیں پھٹ سکتا تھا
01:24اور اس کے دھماکے سے آس پاس کا پورا علاقہ تباہ ہو سکتا تھا
01:28انسیڈنٹ سائٹ سے لی گئی تصویریں
01:30ترنت آرمی کے بام ڈیفیوزل کرنے والے ایکسپرٹ
01:33ٹرانٹر کو بھیجی جاتی ہیں
01:34جیسے ہی ٹرانٹر ان تصویروں کو دیکھتے ہیں
01:37وہ حالات کی گمبھیرتہ سمجھ جاتا ہے
01:39بینا سمیں گموائے وہ اپنے ساتھیوں کو آدیش دیتے ہیں
01:42کہ آٹھ سو میٹر کے دائرے میں سرکشہ گھیرا بنایا جائے
01:45اور ساتھی آس پاس رہنے والے سبھی لوگوں کو ترنت وہاں سے نکالا جائے
01:49الگ الگ ڈیپارٹمنٹس کے اچھے تالمیل کی وجہ سے
01:51پورا علاقہ بہت جلدی بند کر دیا جاتا ہے
01:54پولس سڑکوں پر تینات ہو جاتی ہے
01:56اور لوگوں کو سرکشت ستھانوں پر بھیجا جانے لگتا ہے
01:59کچھ ہی سمیں میں پورا کشیتر لگ بھگ خالی ہو جاتا ہے
02:03لیکن اسی بیچ ایک اپارٹمنٹ کی ایک خاص جگہ پر کچھ ایسا ہو رہا ہوتا ہے
02:07جو باقی حالات سے بلکل الگ تھا
02:09اس کمرے کی کھڑکیاں اور دروازے پوری طرح بند تھے
02:12پردے بھی کس کر لگائے گئے تھے
02:13تاکہ اندر کیا چل رہا ہے یہ کسی کو دکھائی نہ دے سکے
02:16کمرے کے اندر موجود کچھ طاقتور آدمی
02:19آرمی کے آرڈرز کو پوری طرح نظرانداز کر رہے ہوتے ہیں
02:22جبکہ باقی سبھی لوگ اپنی جان بچانے کے لیے وہاں سے جا رہے ہوتے ہیں
02:26لیکن یہ لوگ اپنی جگہ چھوڑنے کے لیے بلکل تیار نہیں دکھائی دیتے
02:29ایسا لگتا ہے جیسے انہیں باہر موجود خطرے کی کوئی پرواہ ہی نہیں ہے
02:33ان کا یہ عجیب ویوہار پاس میں رہنے والے رحیم کا دھیان کھینچ لیتا ہے
02:37اسے یہ سب کافی suspicious لگتا ہے
02:39حالانکہ اس سمیہ اس کے پاس زیادہ سوچنے کا سمیہ نہیں ہوتا
02:42کیونکہ اس کے لیے سب سے ضروری کام
02:44اپنے پریوار کو سرکشت جگہ پہنچانا تھا
02:47اس لیے رحیم جلدی سے اپنے پریوار کو لے کر وہاں سے نکل جاتا ہے
02:51کچھ سمیہ بعد ٹرانٹر اپنی ٹیم کے ساتھ تیزی سے انسیڈنٹ سائٹ پر پہنچتے ہیں
02:55وہاں پہنچ کر وہ construction work کے انچارج سے ملتے ہیں
02:58اور پوری ستھتی کے بارے میں جانکاری لیتے ہیں
03:00جب ٹرانٹر کو ضروری جانکاری مل جاتی ہے
03:02تو وہ ترنت بوم کو defuse کرنے کا پلان بنانے لگتے ہیں
03:05جانچ کے دوران انہیں پتا چلتا ہے
03:07کہ یہ بوم آکار میں اسی بم جیسا ہے
03:10جسے دو سال پہلے ایکسٹر میں ڈسٹرائی کیا گیا تھا
03:13سب ہی لوگ مل کر سب سے سرکشت اپائے پر چرچہ کر رہے ہوتے ہیں
03:16تب ہی امرجنسی پلاننگ ڈپارٹمنٹ کا ایک آفیسر دوڑتا ہوا وہاں پہنچتا ہے
03:20وہ سب کو یاد دلاتا ہے
03:21کہ construction site کے ٹھیک نیچے 400 کلو وولٹ کی مین بجلی لائن گزر رہی ہے
03:27اس کا مطلب یہ تھا
03:28کہ بوم کو diffuse کرنے سے پہلے پورے علاقے کی بجلی بند کرنی پڑے گی
03:32اگر کسی کارن سے دھماکا ہوا اور بجلی کی لائنیں نشٹ ہو گئیں
03:36تو اس کے بعد کئی دوسری درگھٹنائیں بھی ہو سکتی تھیں
03:39جن سے بھاری نقصان ہونے کے چانس تھے
03:41اس کے بعد روبوٹ آپریٹر ساوڈھانی سے بوم ڈی ایکٹیویٹڈ کرنے والے روبوٹ کو آگے بڑھاتا ہے
03:46کیمرے سے آنے والی تصویروں کو دیکھ کر
03:48ٹرانٹر نوٹس کرتے ہیں
03:50کہ بوم کا مین حصہ زمین کے کافی اندر دبا ہوا ہے
03:53اس کے علاوہ اس کے آس پاس کا پورا ایریا گندے پانی سے بھرا ہوا تھا
03:57ستھیتی کو دیکھتے ہوئے ٹرانٹر سمجھ جاتے ہیں
03:59کہ بوم تک سرکشت طریقے سے پہلے
04:02سارا جمع ہوا پانی نکالنا ضروری ہے
04:05اس لیے ان کے آدیش پر
04:06سینک بہت ساوڈھانی سے ایک سکشن پائپ اس پانی میں نیچے اتارتے ہیں
04:10تاکہ وہاں جمع پانی کو باہر نکالا جا سکے
04:13پانی نکالنے کا کام پورا ہونے کے بعد
04:15بوم کو ڈیفیوز کرنے کا کام شروع ہو جاتا ہے
04:18اسی سمیں پورے علاقے کی بجلی بھی بند کر دی جاتی ہے
04:21آس پاس کی سب ہی سڑکیں خالی کرا دی جاتی ہیں
04:23اور ہر چوراہے پر پولس تینات کر دی جاتی ہے
04:25تاکہ کوئی بھی ویکتی یا واہن
04:27رسٹرکٹڈ ایریا میں انٹر نہ کر سکے
04:29لیکن دوسری طرف وہی چار آدمی
04:31جن کا ویوہار پہلے سے ہی سسپیشس تھا
04:33اب اپنے پلان پر کام شروع کر دیتے ہیں
04:35وہ سب ہی سرکشہ والے کپڑے پہنتے ہیں
04:37اور تیزی سے اپارٹمنٹ کی بیسمنٹ کی طرف اتر جاتے ہیں
04:40وہاں انہوں نے پہلے سے ہی
04:42اپنے کام کے لیے
04:43ضروری سب ہی ایکوپمنٹ چھپا کر رکھے ہوئے تھے
04:45اس بیسمنٹ کی ایک دیوار کے ٹھیک
04:47دوسری طرف بینک کا والٹ موجود تھا
04:49اب ان کی اصلی یوجنا ساف ہو چکی تھی
04:51وہ باوم کی وجہ سے بنے اس ہنگامے کا فائدہ اٹھا کر
04:54بینک کا سارا پیسہ لوٹنا چاہتے تھے
04:56اسی لیے سمائے برباد کیے بنا
04:58وہ اپنے کام میں لگ جاتے ہیں
04:59چاروں لوگ اپنے اپنے کام بہت صاف طریقے سے بانٹ لیتے ہیں
05:02ان میں سے ایک آدمی
05:03باہر سڑک پر جا کر نگرانی رکھنے والا کیامرہ بھی لگا دیتا ہے
05:07اس کے بعد وہ ایک جنریٹر چالو کرتا ہے
05:09جسے پہلے سے ہی ایک ڈسٹ بین کے اندر چھپا کر رکھا گیا تھا
05:13یہ جنریٹر ان کے سب ہی ڈیوائسز کو لگاتار بجلی دینے والا تھا
05:16جیسے ہی جنریٹر چالو ہوتا ہے
05:17باقی تین لوگ اینگل گرائنڈر نکال کر دیوار کاٹنا شروع کر دیتے ہیں
05:21کچھ دیر بعد وہ بڑے ہتھوڑوں کا استعمال کرنے لگتے ہیں
05:24وہ پوری طاقت سے لگاتار دیوار پر وار کرتے ہیں
05:27کیول کچھ ہی منٹوں میں
05:28وہ باہری اینٹوں کی دیوار کو توڑنے میں سفل ہو جاتے ہیں
05:31اس سمیہ تک پولیس کو ان کے بارے میں کوئی جانکاری نہیں ہوتی
05:34دلچسپ بات یہ تھی کہ بینک کا علام سسٹم لگاتار بج رہا تھا
05:37بینک کے ایک کرمچاری نے سجھاو بھی دیا
05:40کہ اس کی جانچ کی جانی چاہیے
05:42لیکن علاقے کی گھیرہ بندی میں لگے پولیس ادھکاری نے
05:44اس چیتاونی کو زیادہ ایمپورٹنس نہیں دی
05:47اور اسے نظرانداز کر دیا
05:48ادھر چوروں نے باہری دیوار ہٹانے کے بعد
05:51اس کے پیچھے موجود مضبوط کانکریٹ کی پرد تک پہنچ بنا لی تھی
05:55اب وہ ایک اور ڈرل مشین لے کر آتے ہیں
05:57تاکہ اگلے فیز کا کام شروع کیا جا سکے
05:59لیکن یہ کام بہت پیشنس مانگنے والا تھا
06:01ڈرلنگ کے دوران کافی تیز آواز نکلتی تھی
06:04اور یہی آواز انہیں پولیس کے سامنے بینکاب کر سکتی تھی
06:07اسی لیے گینگ کا ایک صدس سے
06:09گورالیس باہر نگرانی کے لیے تینات کیا جاتا ہے
06:11اس کا کام تھا پولیس کی ہر حرکت پر نظر رکھنا
06:14جیسے ہی کوئی پولیس کی گاڑی وہاں سے گزرتی دکھائی دیتی
06:17وہ ترنت اپنے ساتھیوں کو مشین بند کرنے کا سنکیت دیتا
06:20اسی دوران کنسٹرکشن سائٹ پر بھی کام آگے بڑھ چکا تھا
06:23سارا گندہ پانی نکال دیا گیا تھا
06:25اور ٹرانٹر اپنے ساتھیوں کے ساتھ
06:27سپیشل ایکوپمنٹ لے کر دوبارہ باوم کے پاس پہنچتے ہیں
06:30وہاں ساوڈھانی سے مٹی ہٹاتے ہیں
06:31اور تب ہی انہیں بم کے اوپر لگا
06:33ایک پریشر ڈیٹونیٹر دکھائی دیتا ہے
06:35ٹرانٹر بہت دھیان سے اس کی جانچ کرتے ہیں
06:37جانچ کے دوران انہیں پتا چلتا ہے
06:39کہ ایک پریشر ڈیٹونیٹر ابھی بھی صحیح حالت میں موجود ہے
06:42اور پوری طرح خراب نہیں ہوا ہے
06:44لیکن اس سے بھی زیادہ چنتہ کی بات کچھ اور تھی
06:46جانچ کو آگے بڑھانے پر
06:48ٹرانٹر کو پتا چلتا ہے
06:49کہ بوم میں کیول پریشر ڈیٹونیٹر ہی نہیں لگا ہوا تھا
06:52اس کے اندر ایک ٹائمر ڈیٹونیٹر بھی چھپا ہوا تھا
06:54یہ خوج سبھی کے لیے بہت چنتہ کی بات تھی
06:57ستھیتی کی گمبھیرتہ سمجھنے کے لیے
06:59ٹرانٹر ایک سپیشل سننے والے ایکوپمنٹ کا استعمال کرتے ہیں
07:02جیسے ہی وہ ایکوپمنٹ کی مدد سے اندر کی آواز سنتے ہیں
07:05ان کے چہرے کا رنگ اڑ جاتا ہے
07:07انہیں صاف سنائی دیتا ہے
07:08کہ ٹائمر ابھی بھی چل رہا ہے
07:10اس کا مطلب یہ تھا کہ بوم کسی بھی سمیں پھٹ سکتا تھا
07:13اور کسی کو یہ نہیں پتا تھا
07:14کہ اس کے پاس کتنا سمیں بچا ہے
07:16ٹرانٹر کا سہایک ترنت یہ جانکاری
07:18کمانڈ سینٹر تک پہنچاتا ہے
07:20وہاں موجود ادھکاری بھی یہ خبر سن کر حیران رہ جاتے ہیں
07:23اب خطرہ پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ چکا تھا
07:26کیونکہ اگلے 48 گھنٹوں کے اندر
07:28کسی بھی سمیں ایکسپلوزن ہو سکتا تھا
07:30موت کے اتنے قریب کھڑے ہونے کے باوجود
07:32ٹرانٹر ہمت نہیں ہارتے
07:34وہ تیزی سے ایک مائگنٹک ٹائمر انٹرسپٹر نکالتے ہیں
07:37اور اسے بم پر لگا دیتے ہیں
07:38اس کے ترنت بعد وہ مضبوط سیکیورٹی شیلڈ کے پیچھے چلے جاتے ہیں
07:42اور سب ہی لوگ سانس روک کر ریزلٹ کا انتظار کرنے لگتے ہیں
07:45کچھ سمیں بعد سب ہی کو راحت ملتی ہے
07:47کیونکہ انٹرسپٹر تیمپوریری ٹائمر کی گنتی کو روک دیتا ہے
07:50حالانکہ خطرہ پوری طرح ٹلا نہیں تھا
07:52یہ کیول تھوڑے سمیں کی راحت تھی
07:53جبکہ اصلی سمسیا اب بھی ان کے سامنے موجود تھی
07:56ستھتی کا انلائیسز کرنے کے بعد
07:58ٹرانٹر بتاتے ہیں
07:59کہ سب سے سرکشت طریقہ یہ ہوگا
08:00کہ پہلے بم کے آس پاس
08:02ایک مضبوط ایکسپلوزن پروف دیوار بنائی جائے
08:05اور اس کے بعد
08:06کنٹرولڈ ایکسپلوزن کیا جائے
08:08لیکن پوری پرکریہ میں
08:09کم سے کم پانچ گھنٹے لگنے والے تھے
08:11دوسری طرف بینک تک پہنچنے کی کوشش کر رہے
08:14چور بھی لگاتار آگے بڑھ رہے تھے
08:16وہ کانکریٹ کی پرت کو سکسیسفلی پار کر چکے تھے
08:18اور اب انتیم سٹیل کی پرت کو کاٹنے کے لیے
08:21ویلڈنگ مشین کا استعمال کر رہے تھے
08:23دونوں طرف کے لوگ سمیں کے خلاف دوڑ رہے تھے
08:25ایک طرف ٹرانٹر اور ان کی ٹیم
08:27شہر کو بچانے کی کوشش کر رہی تھی
08:28جبکہ دوسری طرف چور ہر منٹ کا فائدہ اٹھا کر
08:31بینک تک پہنچنے میں لگے ہوئے تھے
08:33دونوں جگہیں ہر سیکنڈ کی قیمت
08:35بہت زیادہ تھی
08:36اسی دوران بوم ڈیفیوز کرنے والی ٹیم میں
08:38ایک نیا آیا میمبر
08:40ایک عجیب بات نوٹس کرتا ہے
08:42وہ دیکھتا ہے کہ بوم کی سرفیس پر
08:44ایک حصہ باقی جگہوں کی تلنا میں
08:46بہت زیادہ چمکدار دکھائی دے رہا ہے
08:48آس پاس کے پورے حصے پر جنگ لگی ہوئی تھی
08:50لیکن وہ چھوٹا سا حصہ
08:52بلکل الگ نظر آ رہا تھا
08:53اسے دیکھ کر ایسا نہیں لگتا تھا
08:55کہ یہ بم کافی سمیسے زمین کے نیچے دبا ہوا ہے
08:57اس لیے وہ اپنی یہ بات ٹرانٹر کو بتاتا ہے
09:00لیکن ٹرانٹر کو لگتا ہے
09:01کہ کنسٹرکشن ورک کے دوران کسی مشین نے
09:03غلطی سے اس حصے کو رگڑ دیا ہوگا
09:05اسی وجہ سے وہ چمکدار دکھائی دے رہا ہے
09:08اس لیے وہ اس بات پر زیادہ دھیان نہیں دیتے
09:10اور اپنے کام میں لگے رہتے ہیں
09:12اُدھر بینک میں گھسنے والے لوگ
09:14آخرکار سٹیل کی دیوار بھی
09:15توڑنے میں سفل ہو جاتے ہیں
09:16جیسے ہی وہ والٹ کے اندر پہنچتے ہیں
09:18سب سے پہلے کیمرو پر دھندھ جیسا سپری کرتے ہیں
09:21تاکہ ان کی ویڈیو ریکارڈ نہ ہو سکے
09:23اس کے بعد وہ اندر روشنی کی ارینجمنٹ کرتے ہیں
09:26اور روبری کی تیاری شروع کر دیتے ہیں
09:28ویسے دوستو
09:29اگر آپ کو بھی ایسی ہوش اڑا دینے والی فلمیں پسند آتی ہیں
09:32جہاں ہر منٹ کہانی نیا موڑ لیتی ہے
09:34تو ویڈیو کو لائک ضرور کر دینا
09:36اور کومنٹ میں بتائیے
09:38کہ آپ کو ابھی تک سب سے زیادہ چونکانے والا پل کون سا لگا ہے
09:41ساتھ ہی چینل کو سبسکرائب کر لیجئے
09:43کیونکہ آگے کہانی اور بھی خطرناک ہونے والی ہے
09:46والٹ کے اندر انہیں کافی سونا بھی ملتا ہے
09:48لیکن سونا بہت بھاری تھا
09:49اور اسے لے کر بھاگنا آسان نہیں تھا
09:51اس لیے وہ مجبوری میں اسے وہیں چھوڑ دیتے ہیں
09:54اور نکد پیسوں اور چھوٹے قیمتی گہنوں پر فوکس کرتے ہیں
09:57دوسری طرف بام ڈیفیوز کرنے والی ٹیم کا نیا سدسی
10:00ابھی بھی سنتشت نہیں تھا
10:02اسے لگاتار لگ رہا تھا
10:03کہ بام میں کچھ نہ کچھ گڑبڑ ضرور ہے
10:06اس لیے وہ ایک بار پھر
10:07ٹرانٹر کو بھلا کر
10:08اس چمکدار حصے کو دھیان سے دیکھنے کے لیے کہتا ہے
10:11لیکن جیسے ہی دونوں دوبارہ بم کی جانچ کرنے لگتے ہیں
10:14تب ہی ایک چونکانے والی گھٹنا ہوتی ہے
10:16جو ٹائمر پہلے رکھ چکا تھا
10:18وہ اچانک پھر سے چلنا شروع ہو جاتا ہے
10:20یہ دیکھ کر وہاں موجود سبھی لوگوں کے چہرے پر
10:22چنتہ ساف دکھائی دینے لگتی ہے
10:24اس نئی سمسیا کی وجہ سے
10:26ایکسپلوزن پروف دیوار بنانے کا کام
10:42اگر یہ لیکویڈ سہی جگہ پہنچ جاتا
10:44تو اندر کی میکینیکل سسٹم جام ہو جاتی
10:46اور بم ڈو فیوز ہو سکتا تھا
10:48اب یہ ان کے لیے آخری آپشن بچی تھی
10:51جیسے ہی ٹرانٹر اور ان کی ٹیم
10:52اس خطرناک پروسس کی تیاری شروع کرتی ہے
10:55اسی سمیں پولیس کو بھی کچھ انیوزول دکھائی دیتا ہے
10:57پورے علاقے کی بجلی پہلے ہی کاٹی جا چکی تھی
11:00اور ہر راستہ بند تھا
11:01پھر بھی نگرانی کر رہے ڈرون کو
11:03دو الگ الگ ہیٹ سورسز دکھائی دیتے ہیں
11:05پہلا سورس تو کنسٹرکشن سائٹ پر موجود
11:07بوم ڈیفیوز کرنے والی ٹیم تھی
11:09لیکن دوسرا سورس کون تھا
11:10یہ کسی کو سمجھ نہیں آتا
11:12یہ جانکاری ملتے ہی کمانڈر گرین فیلڈ بے چین ہو اٹھتی ہیں
11:15انہیں ڈر تھا کہ کہیں کوئی ناغرک ابھی بھی
11:17رسٹرکٹڈ ایریا کے اندر پھنسا نہ ہو
11:19اگر ایسے سمیہ میں ویسپھوٹ ہو جاتا
11:21تو بڑی سنکھیا میں لوگوں کی جان جا سکتی تھی
11:24اس لیے وہ ترنت بوم ڈیفیوز کرنے کی پرکریہ کو روکنے کا آدیش دیتی ہیں
11:28ادھر بینک کے اندر موجود چاروں چور پوری تیزی سے کام کر رہے تھے
11:32وہ ایک ایک کر کے سب ہی سیکیورٹی لوکرز کھول رہے تھے
11:35اور ان میں موجود قیمتی سامان اپنے بیگ میں بھر رہے تھے
11:38ان کے چہرے پر صاف دکھائی دے رہا تھا
11:40کہ وہ اس موقع کا پورا فائدہ اٹھانا چاہتے تھے
11:42اسی دوران کورالیز بھی اندر پہنچ جاتا ہے
11:45وہ سیدھے والٹ کے کونے میں رکھی ایک خاص علماری کی طرف بڑھتا ہے
11:48باقی لوگوں سے الگ اس کا دھیان کسی وشیش چیز پر پڑھتا ہے
11:51وہ سافدھانی سے علماری کھولتا ہے
11:53اور اس کے اندر رکھا ایک آبجیکٹ نکال کر اپنے پاس رکھ لیتا ہے
11:56گینگ کا لیڈر یہ سب دیکھتا ہے لیکن حیران نہیں ہوتا
11:59وہ کیول اشارہ کر کے کورالیز کو وہ سامان باقی لوٹ کے ساتھ رکھنے کے لیے کہتا ہے
12:04کچھ سمیے بعد کمانڈر گرین فیلڈ دوارہ بھیجے گئے پولیس ادھکاری
12:07اپارٹمنٹ کی طرف پہنچ جاتے ہیں
12:08کورالیز باہر سے یہ سب دیکھ لیتا ہے
12:10جیسے ہی اسے پتا چلتا ہے کہ پولیس امارت کی تلاشی لینے والی ہے
12:14وہ ترنت اپنے ساتھیوں کو چیتاونی دیتا ہے
12:16وہ سبھی کو جلدی کام ختم کر کے نکلنے کے لیے کہتا ہے
12:19لیکن تب ہی ایک unexpected گھٹنا ہو جاتی ہے
12:21امارت سے باہر نکلتے سمیے کورالیز کی ملاقات
12:24اچانک ایک پولیس ادھکاری سے ہو جاتی ہے
12:26پولیس ادھکاری اسے رکنے اور جانچ کے لیے تیار رہنے کا اشارہ کرتا ہے
12:30لیکن کورالیز بنا ایک پل گموائے مڑتا ہے
12:33اور پوری طاقت سے بھاگنا شروع کر دیتا ہے
12:35اس کا یہ ویوہار پولیس کو ترنت شک میں ڈال دیتا ہے
12:38ادھر اندر موجود باقی چور بھی باہر کے شور کو سن لیتے ہیں
12:41وہ سمجھ جاتے ہیں کہ اب ان کے پاس زیادہ سمیے نہیں بچا ہے
12:44اس لیے پورا گینگ ترنت پیچھے ہٹنے کی تیاری شروع کر دیتا ہے
12:47اور تب ہی اگلے ہی پل کچھ ایسا ہوتا ہے جس کی کسی نے کلپنا بھی نہیں کی تھی
12:51بم کا چلتا ہوا ٹائمر اچانک جھٹکے سے پوری طرح رک جاتا ہے
12:54یہ دیکھ کر انسیڈنٹ سائٹ پر موجود ہر ویقتی کچھ سمیے کے لیے سن رہ جاتا ہے
12:58بم کا ٹائمر اچانک رک جانے کی وجہ سے وہاں موجود سب ہی لوگ کچھ سمیے کے لیے حیران رہ
13:03جاتے ہیں
13:04کسی کو سمجھ نہیں آتا کہ آخر ابھی کیا ہوا ہے
13:07سو بھاگی سے اس سمیے ویسپھوٹ والی جگہ کے آس پاس کوئی کرمچاری موجود نہیں تھا
13:11اس لیے کیول کچھ لوگوں کو معمولی چھوٹیں آتی ہیں اور ایک بڑی درگھٹنا ٹل جاتی ہے
13:16دوسری طرف چاروں چور دوبارہ ایک جگہ اکٹھا ہو جاتے ہیں
13:19اور یہ تیہ کرتے ہیں کہ اب ترنت وہاں سے نکل جانا چاہیے
13:22سب کچھ جانچنے کے بعد وہ دو الگ الگ گروپس میں بٹ جاتے ہیں
13:26اور دو دشاؤں میں بھاگنے کی یوجنا بناتے ہیں
13:28پہلا گروپ مین دروازے سے باہر نکل کر پہلے سے تیار کھڑی ایک گاڑی تک پہنچتا ہے
13:33ان کا کام تھا باقی ساتھیوں کا انتظار کرنا اور ضرورت پڑھنے پر ترنت وہاں سے نکل جانا
13:38جبکہ دوسرا گروپ عمارت کی چھت کی طرف دوڑ پڑتا ہے
13:41ان کے پاس لوٹ سے بھرے دو بڑے بکسے تھے
13:43رسٹرکٹڈ ایریا کے اندر اتنی بڑی ماترہ میں سامان لے کر گھومنا بہت جوکھم بھرا تھا
13:49اگر وہ پولس کے ہاتھ لگ جاتے تو ان کی ساری محنت بیکار ہو جاتی
13:52اس لیے انہوں نے پہلے سے ایک الگ یوجنا تیار کر رکھی تھی
13:55کچھ ہی دیر میں دو ڈرون ایک کے بعد ایک اڑان بھڑتے ہیں
13:58دونوں ڈرون ان بکسوں کو لے کر رسٹرکٹڈ ایریا سے باہر نکل جاتے ہیں
14:01آخرکار وہ سامان کو ایک میڈ لیم تک پہنچا دیتے ہیں
14:04جو آگے کی ارینجمنٹ کرنے والا تھا
14:06ادھر باقی دو چور پہلے سے طے کیے گئے ایک نکلی کنسٹرکشن سائٹ تک پہنچتے ہیں
14:10وہاں سے وہ نیچے سیور میں اتر جاتے ہیں اور اسی راستے سے بھاگنے لگتے ہیں
14:14اسی دوران کمانڈر گرین فیلڈ کو کچھ گڑ بڑی کا احساس ہو جاتا ہے
14:18پولیس ترنت پیچھا شروع کرتی ہے
14:20حالانکہ دونوں چور سامان سوپنے کے بعد پولیس کو کافی دور تک گھوماتے رہتے ہیں
14:24پھر موقع ملتے ہی وہ دوبارہ انڈرگراؤن پائپس کے اندر گھس جاتے ہیں
14:27علاقے کی پوری جانکاری ہونے کی وجہ سے
14:29وہ پولیس کو چکمہ دینے میں سفل ہو جاتے ہیں
14:32پیچھا کرنے والے ادھکاری انہیں پکڑ نہیں پاتے
14:34اور آخرکار دونوں چور سرکشت روپ سے اپنے ساتھیوں کی گاڑی تک پہنچ جاتے ہیں
14:38گاڑی میں بیٹھنے کے بعد
14:40وہ پہلے ڈرون کے ذریعے بھیجے گئے
14:42لوٹ کے سامان کو بھی واپس حاصل کر لیتے ہیں
14:44اب تک ان کی پوری یوجنہ لگ بھگ سفل دکھائی دے رہی تھی
14:47ادھر ویسپھوٹ کی گھٹنا کے بعد بھی
14:49بوم ڈیفیوز کرنے والی ٹیم کا نیا سدسی
14:52اپنی شک نہیں چھوڑتا
14:54اسے اب بھی لگتا تھا
14:55کہ بم میں کچھ اسامانی ضرور ہے
14:57اس لیے وہ ٹرانٹر کو سجھاو دیتا ہے
14:59کہ ایکسپلوسیف سبسٹنسز کا کیمیکل ٹیسٹ کروائی جانی چاہیے
15:02اس بار ٹرانٹر اس کی بات کو گمبھیرتہ سے لیتے ہیں
15:05وہ سہمتی جتاتے ہیں
15:06اور دوبارہ جانچ کرانے کا فیصلہ کرتے ہیں
15:08اس کے بعد وہ کمانڈر گرین فیلڈ کو
15:19پہنچ جاتا ہے جہاں سے چوروں کی ایکٹیوٹیز شروع ہوئی تھیں
15:23وہاں پہنچ کر وہ دیکھ کر حیران رہ جاتا ہے
15:25کہ بینک کا والٹ لگ بھگ خالی کیا جا چکا تھا
15:28وہ ترنت یہ خبر کمانڈر گرین فیلڈ تک پہنچ جاتا ہے
15:31یہ سنتے ہی انہیں سمجھ آ جاتا ہے
15:33کہ پورا ماملہ کےول بم تک سیمت نہیں ہے
15:35بلکہ اس کے پیچھے ایک بڑی بینک ڈکیتی بھی ہوئی ہے
15:38کمانڈر گرین فیلڈ ترنت آدیش دیتی ہیں
15:40کہ سبھی مین سڑکوں اور چوراہوں پر
15:42چیکنگ شروع کر دی جائیں
15:43لیکن تب تک چور کافی آگے نکل چکے تھے
15:45اور مین سڑک پار پہنچ چکے تھے
15:47راستے میں کورالیس ایک بار پھر
15:49گینگ کے نیتا سے وہ خاص ڈببہ مانگتا ہے
15:51جسے وہ پہلے سے اپنے پاس رکھنا چاہتا تھا
15:53اس کے بعد سبھی لوگ پہلے سے تیار کیے گئے
15:55پہچان پتروں کا استعمال کرتے ہوئے
15:57پولیس کی جانچ چوکیوں سے آسانی سے گزر جاتے ہیں
16:00جب تک پولیس CCTV فٹیج دیکھ کر یہ پہچان پاتی
16:03کہ یہ لوگ وارٹر ڈپارٹمنٹ کے کرمچاریوں کا
16:05بھیش بنا کر گھوم رہے تھے
16:07تب تک وہ کافی دور نکل چکے ہوتے ہیں
16:08وہ ایک پل کے نیچے رکھتے ہیں
16:10اور تیزی سے اپنی گاڑی کی نمبر پلیٹ بدل دیتے ہیں
16:13اس کے بعد وہ گاڑی پر بنے
16:14وارٹر ڈپارٹمنٹ کے نشان کو بھی پانی سے ساف کر دیتے ہیں
16:17ساری پہچان مٹانے کے بعد
16:19وہ تیز رفتار سے ہائیوے کی طرف نکل جاتے ہیں
16:21اور پولیس کی پہنچ سے پوری طرح باہر ہو جاتے ہیں
16:24دوسری طرف روبری والی جگہ کی شروعاتی جانچ پوری ہونے کے بعد
16:27کمانڈر گرین فیلڈ اپنے ادھکاریوں کو آدیش دیتی ہیں
16:30کہ اپارٹمنٹ میں رہنے والے سبھی لوگوں کی جانکاری نکالی جائے
16:34خاص طور پر وہ رحیم اور اس کے پریوار کے بارے میں پوری جانکاری مانگواتی ہیں
16:38اسی سمیں رحیم اور اس کا پریوار پولیس سے بات کرنے کی کوشش کر رہے ہوتے ہیں
16:42وہ بتاتے ہیں کہ اگلی صبح ان کی ایک فلائٹ ہے
16:44اور انہیں اپنا سامان لینے کے لیے
16:47اپارٹمنٹ کے اندر جانا ضروری ہے
16:49اب جبکہ وہ سپھوٹ کا خطرہ ختم ہو چکا ہے
16:51اس لیے وہ اندر جانے کی انمتی مانگتے ہیں
16:54جب پولیس ادھکاری کو پتا چلتا ہے
16:55کہ رحیم اسی امارت کے ایک فلائٹ میں رہتا ہے
16:58تو وہ ترنت انہیں اپنے ساتھ چلنے کے لیے کہتا ہے
17:01دوسری طرف کہانی پھر سے ٹرانٹر کی اور مڑتی ہے
17:03یہ پوری گھٹنا اب سینئر اوفیشلز تک پہنچ چکی تھی
17:07سبھی جانکاری ملنے کے بعد
17:08ایک ورشت ادھکاری ٹرانٹر سے سوال کرتا ہے
17:11کہ جب پہلی بار باوم میں شک والی بات سامنے آئی تھی
17:14تب انہوں نے ترنت کمانڈ سینٹر کو اس کی سوچنا کیوں نہیں دی
17:17ٹرانٹر جواب دیتے ہیں کہ یہ شک سب سے پہلے ان کے دوارہ نہیں
17:20بلکہ ٹیم کے ایک نئے صدس سے دوارہ جتایا گیا تھا
17:23اس کے علاوہ اس سمائے ان کا پورا دھیان بم کو ڈیفیوز کرنے پر لگا ہوا تھا
17:26اس لیے انہوں نے اس بات کو ترنت آگے نہیں بڑھایا
17:29کافی وچار کرنے کے بعد سینئر آفیسرز فیصلہ لیتے ہیں
17:32کہ اس چھوٹی سی گلتی کے لیے
17:33ٹرانٹر کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی جائے گی
17:36ماملہ وہیں سماپت کر دیا جاتا ہے
17:38ادھر چور شہر سے دور ایک سنسان علاقے میں پہنچ چکے تھے
17:41ان کا ارادہ لوٹ کا سامان آپس میں بانٹنا
17:43اور پھر الگ الگ ہو کر غائب ہو جانا تھا
17:46تاکہ پولس انہیں پکڑ نہ سکے
17:48یہیں پر باقی لوگوں کو پہلی بار پتا چلتا ہے
17:50کہ کورالیز بینک سے آخر کیا لے کر آیا تھا
17:52وہاں کوئی سادھارن چیز نہیں تھی
17:54بلکہ بینہ کٹے ہوئے بہت قیمتی
17:56نیچرل ڈائمنڈز کا ایک بڑا کلیکشن تھا
17:58کورالیز سبھی کو بتاتا ہے
18:00کہ ان ہیروں کی قیمت کم سے کم 30 ملین ڈالرز ہے
18:03سب سے بڑی بات یہ تھی
18:04کہ یہ ہیرے ابھی تک کٹے یا تیار نہیں کیے گئے تھے
18:07اس کا مطلب تھا
18:08کہ انہیں بعد میں آسانی سے بیچا جا سکتا تھا
18:11اور ان کا پتہ لگانا لگ بھگ ناممکن ہو جاتا
18:14اس کے بعد کورالیز باہر جا کر ایک فون کال کرتا ہے
18:16وہاں کسی ایسے ویکتی سے سمپرک کر رہا تھا
18:19جو ان ہیروں کو بیچنے اور ثبوت مٹانے میں مدد کر سکے
18:22لیکن اسے نہیں پتا تھا
18:23کہ اگلے ہی پل سب کچھ بدلنے والا ہے
18:25اچانک کچھ اجنبی لوگ اس گھر میں گھوس آتے ہیں
18:28چور ان کا مقابلہ کرنے کی پوری کوشش کرتے ہیں
18:30لیکن وہ سنکھیا اور طاقت دونوں میں کمزور پڑ جاتے ہیں
18:33کچھ ہی منٹوں میں سب ہی کو کابو کر لیا جاتا ہے
18:36اور ایک اندھیرے کمرے میں بند کر دیا جاتا ہے
18:39اب صاف ہو جاتا ہے کہ یہ پہلے سے رچا گیا جال تھا
18:42کسی نے ان چوروں کی جانکاری دوسرے گینگ تک پہنچا دی تھی
18:45سب سے چونکانے والی بات یہ تھی
18:47کہ جانکاری دینے والا کوئی اور نہیں
18:49بلکہ کورالیز خود تھا
18:51اصل میں اس نئے گینگ کا لیڈر وہی ویکتی تھا
18:53جس سے کورالیز نے پہلے سیکرٹلی سمپرک کیا تھا
18:56دوسری طرف پولس جانچ میں یہ بھی سامنے آتا ہے
18:59کہ بیسمنٹ کی چابیوں کی ذمہ داری رحیم کے پاس تھی
19:02اسی لیے پولس رحیم اور اس کے پورے پریوار کو بیان درج کرانے کے لیے جاتی ہے
19:06رحیم کا پریوار مائیگرنٹ تھا
19:08اس کے ماتا پتا انگلیش نہیں بول پاتے تھے
19:10اسی لیے پولس سے باتچیت کرنے کی ذمہ داری اسی پر تھی
19:13پوچھتاچ کے دوران رحیم بتاتا ہے
19:15کہ کچھ دن پہلے دو آدمی اس کے گھر آئے تھے
19:17انہوں نے سرکشہ والے کپڑے پہنے ہوئے تھے
19:19اور ان کے پاس اوفیشل ڈاکیومنٹس بھی تھے
19:22ان لوگوں نے کہا کہ انہیں بیسمنٹ میں کنسٹرکشن ورک کا سامان رکھنا ہے
19:25اس لیے چابیاں چاہیے
19:27رحیم بتاتا ہے کہ وہ کسی گورنمنٹ ڈپارٹمنٹ سے ویواد نہیں چاہتا تھا
19:30اس لیے اس نے بنا کسی شک کے چابیاں انہیں دے دیں
19:33لیکن اسے بلکل اندازہ نہیں تھا
19:35کہ اس کے بعد اتنی بڑی بینک روبری ہونے والی ہے
19:37پولیس اس کی بات سننے کے بعد یہ مان لیتی ہے
19:40کہ رحیم کا اس ماملے میں سیدھا ہاتھ نہیں ہے
19:42اس لیے اسے واپس گھر جا کر اپنا سامان پیک کرنے کی پرمیشن دے دی جاتی ہے
19:46رحیم کو واپس گھر جانے کی پرمیشن تو مل جاتی ہے
19:48لیکن اس سمیہ تک علاقے کی بجلی ابھی بھی نہیں آئی تھی
19:52لفٹ بند تھی
19:52اس لیے پولیس ادھکاریوں کو اس کے پریوار کے بزرگ لوگوں کو
19:56سیڑھیوں سے اوپر پہنچانے میں مدد کرنی پڑتی ہے
19:58دوسری طرف کورالیس کی کہانی آگے بڑھتی ہے
20:01شروعات میں اس نے نئے گینگ کے لیڈر کے ساتھ ایک سمجھوتہ کیا تھا
20:04سمجھوتے کے انسار باقی سارے گہنے اور نگت پیسے
20:07نئے گروہ کو ملنے والے تھے
20:09جبکہ ہیرے کیول کورالیس کے پاس رہنے والے تھے
20:11لیکن کورالیس نے انسانی لالچ کو کم آکا تھا
20:14جیسے ہی نئے گینگ کے لیڈر کو ہیروں کی اصلی قیمت کا اندازہ ہوا
20:17اس نے پہلے ایک ہیرہ مانگ لیا
20:20کورالیس نے کچھ سوچ کر ترنت ہامی بھڑ دی
20:22حالانکہ اگلے ہی پل لیڈر نے ایک اور ہیرہ مانگ لیا
20:25یہ سن کر کورالیس کو برا لگنے لگا
20:27لیکن ماملہ یہی نہیں رکا
20:28کچھ دیر بعد وہ لیڈر اور زیادہ لالچی ہو گیا
20:31اور آدھے ہیرے مانگنے لگا
20:32یہ سنتے ہی کورالیس کا گصہ پھوٹ پڑا
20:34دونوں کے بیچ وہیں پر بحث شروع ہو گئی
20:36لیکن تب ہی کچھ ایسا ہوا جس نے سب کو حیران کر دیا
20:39بحث کے دوران ایک بے حد قیمتی ہیرہ
20:41اچانک ٹوٹ کر باریک پاوڈر میں بدل گیا
20:43یہ دیکھ کر کمرے میں موجود سبھی لوگ سن نہ رہ گئے
20:45کیونکہ ہیرہ دنیا کے سب سے مضبوط پدارتوں میں سے ایک مانا جاتا ہے
20:49نئے گینگ کے لیڈر کو ترنت شک ہو گیا
20:51اس نے سمجھ لیا کہ کچھ بہت بڑی گڑ بڑ ہے
20:53اس کی نظر سیدھے کورالز پر ٹک گئی
20:55دوسری طرف کورالز بھی گھبرا گیا
20:57اور باقی ہیروں کو ایک ایک کر کے جانچنے لگا
20:59لیکن نتیجہ اور بھی چونک آنے والا تھا
21:01سب ہی ہیرے نکلی نکلے
21:03یہ دیکھتے ہی کورالیس پوری طرح بے کابو ہو گیا
21:05اور لگاتار گصے میں چلانے لگا
21:07حالانکہ نیا گینگ اس کی باتوں پر وشواس نہیں کرتا
21:10ان کا ماننا تھا کہ کورالز ہیروں کا ایکسپرٹ ہے
21:12ایسا کیسے ہو سکتا ہے
21:13کہ اس نے ہیرے لینے کے بعد انہیں جانچا ہی نہ ہو
21:16انہیں پورا یقین تھا
21:17کہ اصلی ہیرے پہلے ہی بدل دیے گئے ہیں
21:19اور اس پوری چال کے پیچھے کورالز کا ہاتھ ہے
21:21اسی لیے گینگ کا لیڈر اپنے آدمیوں کو آدیش دیتا ہے
21:24کہ کورالز کو پکڑ کر میز پر دبا دیا جائے
21:27اس کے بعد بھی کورالز بار بار یہی کہتا رہتا ہے
21:30کہ اسے کچھ نہیں پتا
21:31لیکن کوئی اس کی بات ماننے کو تیار نہیں تھا
21:33یہاں تک کہ جب اس کی لیفٹ رسٹ توڑ دی جاتی ہے
21:36تب بھی وہ اصلی ہیروں کا پتہ نہیں بتاتا
21:38اس کے بعد اس کی دوسری رسٹ کو بھی چوٹ پہنچائی جاتی ہے
21:40لیکن پھر بھی کورالز کچھ نہیں بولتا
21:42یہ دیکھ کر گینگ کا لیڈر اور زیادہ کیوریس ہو جاتا ہے
21:45وہ فیصلہ کرتا ہے کہ کورالز کو ایک الگ جگہ لے جا کر
21:48اس سے سچائی نکلوائی جائے گی
21:50اس لئے اس کے آدمی کورالز کو گاڑی کی ڈککی میں ڈال دیتے ہیں
21:53اور پورا گینگ وہاں سے نکل پڑتا ہے
21:55دوسری طرف بام ڈیفیوز کرنے والے ایکسپرٹ اور ٹرانٹر
21:58اپنے ساتھیوں کے ساتھ ایک سفل کیمپین کے بعد جشن منا رہے ہوتے ہیں
22:02وہاں اپنے ساتھیوں کے ساتھ ڈرنک کرتا ہے
22:04اور پھر گھر جانے کے لیے نکل پڑتے ہیں
22:05لیکن ان کے چہرے پر ایک عجیب سی بے چینی صاف دکھائی دے رہی تھی
22:09جیسے انہیں کسی بات کی چنتہ ہو
22:11کچھ ہی سمیے بعد ٹرانٹر کو ان کے سینئر آفیسر کا فون آتا ہے
22:14فون پر انہیں بتایا جاتا ہے
22:15کہ بم کے آس پاس سے لیے گئے مٹی کے سیمپلز کی جانچ پوری ہو چکی ہے
22:19ریپورٹ سنتے ہی ٹرانٹر کا چہرہ بدل جاتا ہے
22:22کیونکہ جانچ میں پتا چلتا ہے
22:23کہ شہر کے بیچوں بیچ ملا ہوا بم
22:25کوئی پرانا وار ٹائم کا بم نہیں تھا
22:27وہ مارڈرن ایکسپلوسیوز سے بنایا گیا ایک نکلی بم تھا
22:30جسے پرانا دکھانے کی کوشش کی گئی تھی
22:33اتنا ہی نہیں
22:33جانچ میں یہ بھی سامنے آتا ہے
22:35کہ اس بم کو بنانے میں استعمال ہوئے کچھ پدارتھوں کا سمبند
22:38سیدھے ملٹری سورسز سے جوڑا جا سکتا ہے
22:41اب دھیرے دھیرے پورے رہس سے پردہ اٹھنے لگا تھا
22:44شروعات سے لے کر آخر تک
22:45بم کا پورا معاملہ ایک سوچی سمجھی سازش تھا
22:48اس نکلی بم کا مقصد
22:50کیول بینک روبری کو چھپانا تھا
22:51تاکہ پولس کا پورا دھیان
22:53دوسری طرف لگا رہے
22:55ایسے میں ٹرینٹر کی پچھلی کئی حرکتیں بھی
22:57سسپیشس لگنے لگتی ہیں
22:58دوسری طرف کہانی پھر ان چوروں کی اور جاتی ہے
23:01جنہیں نئے گینگ نے باندھ کر بند کر دیا تھا
23:03پورانے گینگ کا لیڈر پوری طاقت لگا کر
23:05اپنے ہاتھوں کی رسیاں کاٹنے میں سفل ہو جاتا ہے
23:08اس کے بعد وہ باقی ساتھیوں کو بھی آزاد کر دیتا ہے
23:10اس کے بعد لیڈر گاڑی سے ایک ٹیبلٹ نکالتا ہے
23:13تب ہی پتہ چلتا ہے
23:14کہ وہ شروع سے ہی کورالز پر پوری طرح بھروسہ نہیں کرتا تھا
23:18اسی وجہ سے اس نے پہلے سے کچھ نگرانی کی ویوستہ کر رکھی تھی
23:21اب وہ دو گاڑیوں میں بیٹھ کر کورالز کا پیچھا شروع کر دیتے ہیں
23:24ادھر کورالز گاڑی کی ڈگگی میں بند تھا
23:26وہ ایک طرف اپنے دشمنوں سے دیا کی بھیک مانگنے کا ناٹک کر رہا تھا
23:29اور دوسری طرف چپکے سے اپنے فون سے مدد کا سندیش بھیج رہا تھا
23:33اس نے اپنے ساتھ اپنی پریزنٹ لوکیشن بھی بھیج دی تھی
23:35اسی سمیہ دوسری طرف رہیم پولیس کی نظر بچا کر
23:38اپارٹمنٹ کی چھت پر پہنچ جاتا ہے
23:40وہاں پہنچ کر وہ ایک گملے کے اندر چھپا ہوا کاغذ کا بیگ نکالتا ہے
23:44وہ اس بیگ کو سابدھانی سے اپنے کپڑوں کے اندر چھپا لیتا ہے
23:47یہیں پر ایک بڑا خلاصہ ہوتا ہے
23:49اصلی ہیروں کو بدلنے والا ویکتی کرالز تھا
23:51اور اس نے یہ کام پہلے سے رہیم کے ساتھ مل کر کیا تھا
23:54ڈرون کی مرمت کے دوران ملے موقع کا فائدہ اٹھا کر
23:57دونوں نے اصلی ہیروں کی جگہ نقلی ہیرے رکھ دیئے تھے
24:00اس کے بعد رہیم اصلی ہیرے نکالتا ہے
24:02اور انہیں ایک سوٹکیس کے ہینڈل کے اندر بہت سابدھانی سے چھپا دیتا ہے
24:06وہ گلو کی مدد سے انہیں مضبوطی سے چپکا دیتا ہے
24:08تاکہ کسی کو ان پر شک نہ ہو
24:10اس کے بعد پورا پریوار اپنی فلائٹ پکڑتا ہے
24:12اور سکسیسفولی دیش چھوڑ دیتا ہے
24:14اوپر سے دیکھنے پر ایسا لگتا ہے
24:15کہ ان کی یوجنا پوری طرح سفل ہو گئی ہے
24:17لیکن پولیس ابھی بھی جانچ میں لگی ہوئی تھی
24:19گہرائی سے جانچ کرنے پر انہیں پتا چلتا ہے
24:22کہ کرالیس کا کئی سال پہلے
24:23ہیروں کی چوری اور سمگلنگ سے سمبند رہا ہے
24:26اس کے خلاف پرانے اپرادھک ریکارڈ بھی موجود تھے
24:29پولیس ترنت سرویلنس کی کی فٹیج جانچتی ہے
24:31اور شور ہو جاتی ہے
24:33کہ کرالیس اصل میں روبری کرنے والے گینگ کا حصہ تھا
24:36دوسری طرف بوم ڈیفیوز کرنے والی ٹیم کا نیا سدس سے بھی
24:39اپنی شنکہ چھوڑنے کو تیار نہیں تھا
24:41اسے بار بار ٹائمر کا چالو ہونا
24:43اور پھر رک جانا بے حد عجیب لگ رہا تھا
24:46اس لیے اس نے ٹیسٹ والے ایکوپمنٹ کو الگ کر کے
24:48اس کی گہرائی سے جانچ کی
24:49جانچ کے دوران اسے ایک چونکانے والی بات پتا چلتی ہے
24:52کسی نے اس ایکوپمنٹ کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کی تھی
24:54اور وہاں ویقتی کوئی اور نہیں بلکہ ٹرانٹر تھا
24:57وہی ویقتی جس نے بار بار
24:58اسے سینئر اوفیشلز کو ریپورٹ کرنے سے روکا تھا
25:01یہ سچائی سامنے آتے ہی
25:02نیا سدس سے ترنت کمانڈر گرین فیلڈ کو
25:05ساری جانکاری دیتا ہے
25:06ادھر روبری کرنے والے پرانے ساتھی بھی
25:08آخر کار کورالس تک پہنچ جاتے ہیں
25:10وہ اپنی دو گاڑیوں سے دشمنوں کی گاڑی
25:12کو دونوں طرف سے گھیر لیتے ہیں
25:14اور زبردستی اسے روک دیتے ہیں
25:16اندر بیٹھے لوگ پوری طرح تیار نہیں تھے
25:18اس لیے انہیں سنبھلنے کا موقع بھی نہیں ملتا
25:21سب سے بڑی سمسیا یہ ہوتی ہے
25:22کہ ان کے پاس موجود اکلوتی بندوک
25:24بھی ترنت چھین لی جاتی ہے
25:26اسی سمائے گاڑی کی ڈگگی میں بند کورالس کو
25:28باہر سے تین گولیوں کی آواز سنائی دیتی ہے
25:30یہ آواز سن کر اسے لگتا ہے
25:31کہ شاید اس کے پرانے ساتھی اسے بچانے کے لیے آ گئے ہیں
25:34لیکن جب ڈگگی کھلتی ہے
25:36اور وہ باہر موجود لوگوں کو دیکھتا ہے
25:38تو اس کا چہرہ ڈر سے سفید پڑ جاتا ہے
25:40اس کے سامنے اس کے پرانے ساتھی کھڑے ہوتے ہیں
25:42اور ان کے چہرے پر گصہ صاف دکھائی دے رہا ہوتا ہے
25:45گینگ کا لیڈر اپنے آدمیوں کو آدیش دیتا ہے
25:48کہ کورالس کو باہر گھسیٹ کر لائے جائے
25:50وہ اسے اپنی صفائی دینے کا کوئی موقع نہیں دیتا
25:53اس کے بعد وہ کورالس کے سر پر ایک پلاسٹک کا بیگ کس کر چڑھا دیتا ہے
25:58دھیرے دھیرے کورالس کی سانس رکنے لگتی ہے
26:00وہ موت کے بہت قریب پہنچ جاتا ہے
26:02لیکن ٹھیک اسی سمیں کوئی اس کی جان بچانے کے لیے وہاں پہنچ جاتا ہے
26:07وہاں ویقتی ٹرانٹر ہوتا ہے
26:08یہیں پر ایک اور بڑا رہش سے سامنے آتا ہے
26:10اصل میں اس پوری بینک ڈکیتی کے پیچھے
26:12ٹرانٹر ہی اندر کا آدمی تھا
26:14بم سے جڑے ڈیوائسز میں جو بدلاو کیے گئے تھے
26:17اور ٹائمر کو جب چاہے چالو یا بند کیا جا سکتا تھا
26:20یہ سب اسی کی یوجنا کا حصہ تھا
26:22دوسری طرف پولیس بھی کورالس کی پہچان پوری طرح پتا کر چکی تھی
26:25اس لیے تورنت ائرپورٹس کو سوچنا بھیجی جاتی ہے
26:28تاکہ اسے بھاگنے سے پہلے روکا جا سکے
26:30اسی سمیں بوم ڈی ایکٹیویٹ کرنے والی ٹیم کا نیا سدس یا
26:33پولیس سٹیشن پہنچتا ہے
26:34اس کے پاس ابھی کوئی پکا سبوت نہیں ہوتا
26:36اس لیے وہاں کیول اپنے ڈاؤٹ سدھیکاریوں کے سامنے رکھتا ہے
26:39لیکن تب ہی اس کی نظر رہیم کی تصویر پر پڑتی ہے
26:42تصویر دیکھتے ہی وہاں اسے پہچان لیتا ہے
26:44رہیم پہلے افغانسٹان میں ٹرانٹر کے ساتھ
26:46ٹرانسلیٹر کے روپ میں کام کر چکا تھا
26:48اتنا ہی نہیں
26:48ٹرانٹر ہی وہ ویقتی تھا
26:50جس نے رہیم اور اس کے پورے پریوار کو
26:52اس دیش میں بسنے میں مدد کی تھی
26:54یہ جانکاری سامنے آنے کے بعد پولیس کو سمجھ آنے لگتا ہے
26:57کہ ماملہ کتنا گہرا ہے
26:58اُدھر کورالیس اور ٹرانٹر
27:00اب الگ الگ راستوں سے بھاگ رہے ہوتے ہیں
27:02کورالیس پہلے سے بک کیے گئے ایک ہوتل میں پہنچتا ہے
27:05وہاں وہاں اپنے کپڑے بدلتا ہے
27:07اور پھر بلکل سامان یا پیسنجر کی طرح
27:09ائرپورٹ کی طرف بڑھ جاتا ہے
27:11حالانکہ بہت سے لوگ اس کی تلاش کر رہے ہوتے ہیں
27:13لیکن وہاں اپنے تیہ کیے گئے گیٹ کی طرف نہیں جاتا
27:16اس کے بجائے وہاں ایک سنسان کاؤنٹر پر پہنچتا ہے
27:19اور ایک دوسرا پاسپورٹ دکھا کر
27:20سکسیسفولی اپنی یاترہ کا پروسس پوری کر لیتا ہے
27:23دوسری طرف ٹرانٹر
27:24ایک ہوای اڈے پر پہنچ چکا ہوتا ہے
27:26وہاں سے وہاں ایک نیجی ویمان میں بیٹھتا ہے
27:28اور دیش چھوڑ کر دور نکل جاتا ہے
27:30جب پولس کی ٹیم ٹرانٹر کے گھر پہنچتی ہے
27:32تب تک وہاں کوئی نہیں ہوتا
27:34پورا گھر خالی پڑا ہوتا ہے
27:35حالانکہ وہاں ملے کچھ ایکوپمنٹ اور ایک نوٹ بک
27:38یہ ثابت کرنے کے لیے کافی تھے
27:39کہ نکلی بم کی پوری یوجنا کا
27:41اسلی ماسٹر مائنڈ ٹرانٹر ہی تھا
27:43کچھ سمیے بعد ٹرانٹر, کورالس اور رہیم
27:45تینوں ٹرکی کے ایک ریسٹورانٹ میں ملتے ہیں
27:47یہی سے ان کے پاسٹ کی کہانی سامنے آتی ہے
27:49ٹرانٹر, کورالس اور رہیم کے بیچ کا رشتہ آج کا نہیں تھا
27:52ان کی کہانی لگ بھگ
27:53نو یا دس سال پہلے شروع ہوئی تھی
27:55اس سمیے کورالس ہیروں کی چوری کرتے ہوئے پکڑا گیا تھا
27:58اور اسے سیکیورٹی فورسز کی نگرانی میں لے جایا جا رہا تھا
28:01اسی علاقے میں ٹرانٹر
28:02ایک ملٹری میشنز پر تینات تھا
28:04جبکہ رہیم اس کے ساتھ
28:06ٹرانسلیٹر کے روپ میں کام کر رہا تھا
28:08ایک دن پٹرولنگ کے دوران
28:09وہ آتنک وادیوں کے حملے میں بھنس جاتے ہیں
28:12حملے سے بچنے کی کوشش میں
28:13ٹرانٹر اور رہیم
28:14غلطی سے ایک پریشر مائن کے اوپر پہنچ جاتے ہیں
28:16اگر وہ وہاں سے ہلتے
28:18تو ترنت ایکسپلوزن ہو سکتا تھا
28:19اسی سمیہ کورالس کو لے جا رہا
28:21کافلہ بھی وہاں سے گزر رہا ہوتا ہے
28:22لیکن دربھاگے سے کافلے کی سب سے آگے والی گاڑی
28:25ایک ایکسپلوزن کا شکار ہو جاتی ہے
28:27اور وہیں نشٹ ہو جاتی ہے
28:29اس کے بعد دونوں طرف سے بھینگ کر گولی باری شروع ہو جاتی ہے
28:32اس افرا تفری کا فائدہ اٹھا کر
28:33کورالس بھاگنے کی کوشش کرتا ہے
28:35لیکن اس کی ملاقات ٹرانٹر سے ہو جاتی ہے
28:38اس کے پیچھے دشمن لگے ہوئے تھے
28:39اور نیچے مائن دبی ہوئی تھی
28:41ایسے میں بچنے کا ایک ہی راستہ تھا
28:42اسے ٹرانٹر کے نردیشوں کا پالن کرتے ہوئے
28:45مائن کو ڈیاکٹیویٹ کرنا تھا
28:47مجبوری میں تینوں ایک ٹیمپوریری ٹیم بنا لیتے ہیں
28:49رہیم دشمنوں پر گولی باری کر کے
28:51انہیں روکنے کی کوشش کرتا ہے
28:52وہیں کورالس ٹرانٹر کے انسٹرکشنز کا پالن کرتے ہوئے
28:55دھیرے دھیرے مائن کو انیکٹیو کرنے میں لگ جاتا ہے
28:58کافی سنگھرش کے بعد
28:59دشمنوں کو پیچھے ہٹنے پر مجبور کر دیا جاتا ہے
29:02اور آخرکار
29:02مائن بھی سکسیسفلی ڈیاکٹیویٹ ہو جاتی ہے
29:05اس جیون اور موت کے انوبھف کے بعد
29:07تینوں کے بیچ گہرا بھروسہ بن جاتا ہے
29:09سمیہ بیتنے کے ساتھ
29:10کورالس اپنے پرانے اپمان
29:12اور بدلے کی بھاونہ کو نہیں بھول پاتا
29:14آخرکار کورالس وہیں بینک روبری کی پوری یوجنہ بناتا ہے
29:18دوسری طرف رحیم اور ٹرانٹر بھی اس کا ساتھ دینے کا فیصلہ کرتے ہیں
29:22تینوں مل کر ایسی یوجنہ تیار کرتے ہیں
29:24جس میں نکلی بم کے ذریعے پورے شہر کا دھیان بھٹکایا جا سکے
29:27ان کی یوجنہ سفل ہو جاتی ہے
29:29اور آخرکار اصلی ہیرے ان کے ہاتھ لگ جاتے ہیں
29:32اس کے بعد تینوں ہیروں کو بیچنے کے لیے
29:34ایک بڑے سودے میں شامل ہوتے ہیں
29:36سودہ پورا ہوتے ہی بہت بڑی رقم ان کے خاتوں میں پہنچ جاتی ہے
29:40پیسے کو برابر حصوں میں بانٹا جاتا ہے
29:42اور تینوں کو کروڑوں ڈالرز ملتے ہیں
29:44اس کے بعد وہ الگ الگ راستوں پر نکل جاتے ہیں
29:46تاکہ کسی کو ان پر شک نہ ہو
29:48اس طرح یہ پوری کہانی اپنے انت تک پہنچتی ہے
29:51ایک نکلی بم سے شروع ہوئی یہ گھٹنا
29:52کروڑوں ڈالرز کی روبری اور کئی سال پرانے رشتوں کے رہس سے تک پہنچ جاتی ہے
29:57اگر آپ کو بھی ایسی رومانچک اور دماغ گھما دینے والی فلمیں پسند ہیں
30:00تو ویڈیو کو لائک ضرور کیجئے
30:02کمنٹ کر کے بتائیے
30:03کہ کہانی کا کون سا پارٹ آپ کو سب سے زیادہ چونکانے والا لگا
30:07اور ایسے ہی شاندار مووی ایکسپلین ویڈیو دیکھنے کے لیے
30:10چینل کو سبسکرائب کر کے
30:11بیل آئیکن ضرور دبائیے
30:13تاکہ آنے والی کوئی بھی ویڈیو آپ سے چھوٹ نہ جائے
30:15آج کی کہانی یہی سماپت ہوتی ہے
Comments

Recommended