00:00شیخ آئیس بتاتے ہیں کہ وہ جب شاہ فیصل کے ہمراہ روزہ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اندر
00:05داخل ہوئے تو وہاں کا منظر ہی کچھ اور تھا
00:07انہوں نے دیکھا کہ روزہ مبارک کے اندر لوہے سے بنے ہوئے بڑے صندوق موجود ہیں اور وہ تمام کے
00:13تمام مقفل یعنی ان پر لوک لگے ہوئے تھے
00:15یوٹیوب پر موجود اپنے ایک انٹرویو میں شیخ آئیس بتاتے ہیں کہ ہم نہیں جانتے تھے کہ ان صندوقوں میں
00:20کیا ہے
00:20چنانچہ روزہ رسول سے واپس آنے کے بعد شاہ فیصل نے ایک شاہی حکم نامہ جاری کیا اور ایک کمیٹی
00:26تشکیل دی یہ جاننے کے لیے کہ وہ ان صندوقوں کو کھولا جائے اور یہ معلوم کیا جائے کہ ان
00:31کے اندر کیا ہے
00:32یہ صندوق دراصل سلطنت عثمانیہ کے زمانے ہی سے روزہ مبارک میں موجود تھے
00:36ایک شام کو شیخ آئیس اپنے ساتھ ایک نمائندہ لے کر روزہ مبارک کے حجرے میں داخل ہوئے
00:42ان کے ساتھ زیورات کا ماہر ایک شخص بھی تھا
00:44حجرہ نبوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں داخل ہو کر مکفل صندوقوں کے تعلے کھولے گئے اور اشیاء کا
00:50جائزہ لینا شروع کیا گیا
00:51شیخ آئیس بتاتے ہیں کہ جس صندوق کا سب سے پہلے معاینہ کیا گیا اس میں سونے کے زیورات پائے
00:56گئے
00:56جبکہ دوسرے صندوق سے چاندی کی زنجیریں بنامت ہوئیں جو کسی زمانے میں خانہ کعبہ اور روزہ رسول کے دروازے
01:04سے منسلک تھی
01:04ہمیں حجرے سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ذات سے منسلک بھی کچھ تبرکات ملے
01:10کمیٹی نے پندرہ روز تک حجرے میں موجود اشیاء کا جائزہ لیا
01:14اور بعد ازاں حجرے سے ملنے والے زیورات کو مدینہ منورہ کے میوزیم میں رکھنے کی تجویز پیش کی گئی
01:20آج یہ تمام نوادرات مدینہ منورہ کے میوزیم میں رکھ دئیے گئے ہیں
01:23تاکہ عام لوگ بھی ان کی زیارت کر سکیں
01:26خواتین و حضرات یہاں پر ایک وضاحت نہائید ضروری ہے
01:28کہ شیخ آئیز بھی اصل قبر مبارک تک رسائی نہیں رکھتے تھے
01:32جیسا کہ ہم سب کو معلوم ہے کہ آن حضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا وصال
01:36ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہ کے حجرہ مبارک میں ہوا تھا
01:41اور وہیں آپ کی تدفین ہوئی تھی
01:42اس کے بعد حضرت ابو بکر اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ بھی وہیں پر مدفون ہیں
01:47اس طرح روزہ شریف کے اندر تین قبریں موجود ہیں
01:50اگر آپ کو انٹرنیٹ پر کوئی بھی ایسی تصویر ملے
01:53کہ جس میں صرف ایک قبر دکھائی دے رہی ہو
01:55تو یہ جان لیجئے کہ یہ تصاویر جالی ہیں
01:57ویسے بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مرکد مبارک کی
02:01اصل تصویر دنیا میں موجود نہیں ہے
02:04اس لیے کہ آخری مرتبہ جب کوئی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی
02:08اصل قبر مبارک تک گیا تھا
02:10تو یہ ساڑھے پانچ سو سال پہلے کا واقعہ ہے
02:12وہ حجرہ شریف جس میں آپ اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اصحاب کی قبریں ہیں
02:17اس کے گرد ایک چار دیواری ہے
02:19اس چار دیواری کے بعد اس کے گرد ایک اور دیوار کھینچی گئی
02:23جو پانچ کونوں پر مشتمل ہے
02:24یہ خصوصی دیوار حضرت عمر بن عبدالعزیز نے اپنے دور خلافت میں بنوائی تھی
02:29اور اس پانچ کونی دیوار کا مقصد اسے خانہ کعبہ کی مشابہت سے بچانا تھا
02:34اسی پانچ کونے والی دیوار پر ایک بڑا سا سبز رنگ کا غلاف یا پردہ ڈالا جاتا ہے
02:38یہ دیواریں بغیر دروازوں کے ہیں
02:40چنانچہ کسی کے بھی ان دیواروں کے پار اصل قبر مبارک تب پہنچنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا
02:46جو بھی سربراہن مملکت کو آج تک روزہ شریف کے اندر داخل ہونے کا شرف حاصل ہوا ہے
02:51وہ اس پانچ کونی دیوار پر پڑے سبز پردے تک ہی جا پاتے ہیں
02:55روزہ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر سلام ارز کرنے کی غرص سے جب زائرین سنہری جالیوں کے پاس
03:01کھڑے ہوتے ہیں
03:02تو سنہری جالیوں کے پار انہیں بس یہی پانچ کونی دیوار پر پڑا ہوا سبز پردہ نظر آتا ہے
03:07گزشتہ تیرہ چودہ سو برس میں اس پانچ دیواری حجرہ کے اندر سوائے دو افراد کے کوئی نہیں جا سکا
03:14پہلی بار اکیانوے ہجری میں حضرت عمر بن عبدالعزیز رحمت اللہ کے دور میں ان کا غلام
03:19اور دوسری بار آٹھ سو اکیاسی ہجری میں معروف مورخ علامہ اسمہودی کے بیان کے مطابق وہ خود اس پانچ
03:26دیواری حجرے کے اندر گئے
03:27آخری بار آٹھ سو اکیاسی ہجری میں حجرہ نبوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی دیواریں پرانی ہو جانے کے
03:33باعث ان کی تعمیر نو اور ان کی زیبائش و آرائش کرنا پڑی
03:37اس وقت نامور مورخ اور فقی علامہ نور الحسن اسمہودی مدینہ منورہ میں ہی موجود تھے
03:43اور انہیں حجرہ مبارک کی دیواروں کے تعمیر نو کے کام میں حصہ لینے کی سادت نصیب ہوئی
03:48علامہ اسمہودی لکھتے ہیں کہ چودہ شابان آٹھ سو اکیاسی ہجری کے دن پانچ دیواری کو مکمل طور پر ڈھا
03:55دیا گیا
03:55دیکھا تو اندرونی چار دیواری میں بھی درادیں پڑی ہوئی تھی
03:58چنانچہ وہ دیوار بھی گرا دی گئی
04:00اب ہماری آنکھوں کے سامنے مقدس حجرہ تھا
04:03مجھے وہاں پر داخلے کی سادت ملی
04:06میں شمالی سم سے داخل ہوا
04:08تو خوشبو کی ایسی لپٹائی جو زندگی میں کبھی محسوس نہ ہوئی تھی
04:12میں نے رسول اقدس صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
04:14اور آپ کے دونوں خلافہ راشدین کی خدمت میں عدب سے سلام پیش کیا
04:18مقدس حجرہ مربع شکل کا تھا
04:21اس کی چار دیواری سیاہ رنگ کے پتھروں سے بنی تھی
04:24جیسے خانہ کعبہ کی دیواروں میں استعمال ہوئے ہیں
04:27چار دیواری میں کوئی دروازہ نہ تھا
04:29میری پوری توجہ تین قبروں پر مرکوز تھی
04:32تینوں سطح زمین کے تقریباً برابر تھی
04:35صرف ایک جگہ ذرا سا عبار تھا
04:37یہ شاید حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی قبر مبارک تھی
04:40رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا جست مبارک
04:44حجرہ نبوی کی جنوبی سمت میں دفن کیا گیا
04:46حجرے کی دیوار اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مرکد مبارک کے درمیان صرف ایک ہاتھ کا
04:53فاصلہ ہے
04:53رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا سر مبارک مغرب کی سمت پاؤں مشرق کی سمت اور آپ صلی
04:59اللہ علیہ وآلہ وسلم کا چہرہ مبارک قبلہ رخ رکھا گیا
05:02خلیفہ اول حضرت ابو برکر صدیق رضی اللہ عنہ کی جب وفات ہوئی
05:07تو انہیں بھی یہیں پر دفن کیا گیا
05:08اور ان کا سر مبارک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے شانوں سے ذرا نیچے رکھا گیا
05:14جب خلیفہ دوم حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی وفات کا وقت قریب آیا
05:18تو انہوں نے ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہ سے اجازت چاہی
05:22کہ وہ اسی حجرے میں دفن ہونا چاہتے ہیں
05:24ام المومنین نے ایسار کرتے ہوئے یہ اجازت دیتی
05:28اگرچہ اس سے قبل وہ خود وہاں پر دفن ہونے کا ارادہ رکھتی تھی
05:31حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی تدفین کے بعد
05:34ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ نے حجرہ میں ایک دیوار کھینچ دی
05:38اور یوں یہ حجرہ دو حصوں میں تقسیم ہو گیا
05:41خلیفہ ولید بن عبد الملک کے دور میں یہ دیوار گر گئی
05:44حضرت عمر بن عبدالعزیز رحمت اللہ علیہ نے اندر جا کر اس کا معاینہ کیا
05:48تو دیکھا کہ یہ دیواروں کا گرنا قبر مبارک پر ہوا ہے
05:52اور اس سے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے پاؤں مبارک ظاہر ہو گئے تھے
05:55عمر بن عبدالعزیز نے اس حجرے کے ارد گرد کالے پتھروں سے ایک مربع شکل دیوار تعمیر کروا دی
06:01اور اس مربع شکل دیوار کے باہر ایک پانچ کونوں والی دیوار بھی بنائی گئی
06:06حرمین شریفین کے امور کے محقق محیدن الحاشمی لکھتے ہیں
06:10کہ حجرے میں داخل ہونے کا واحد راستہ سبز رنگ کا مشرقی دروازہ ہے
06:14جو چھے سو برس سے زیادہ پرانا ہے
06:16داخل ہونے کے بعد ہی سامنے سفید رنگ کا سنگ مرمر ہے
06:20جس کو شاہ فیصل شہید کے دور میں بنایا گیا
06:23اس کے بعد سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہ کا تخت ہے
06:26اور اس کے عقب میں ان کی محراب ہے
06:28تخت وہ مقام ہے جہاں صلاتین اور حکمرانوں کی جانب سے پیش کیے جانے والے قیمتی تحائف کو رکھا جاتا
06:34تھا
06:34اس تخت میں موجود تمام اشیاء کو ٹرین کے ذریعے استمبول کے توپ کاپی محل پہنچا دیا گیا تھا
06:40جہاں وہ آج تک محفوظ ہیں
06:42اور لاکھوں کروڑوں لوگ آج بھی تبرکات روزہ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زیارت کرتے ہیں
06:48تو دوستو یہ تھی روزہ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اندرونی مناظر
06:52موسیقا
Comments