00:00اور قانون پر اپنے آپ کو کیسے پیش کیا؟
00:06ایک گورنر کے متعلق کی اطلاع آئی
00:12کہ اس کے بیدے میں ایک کسائی مہدوان کو چابق مارے ہوں
00:22اور یہ گورنر کون تھے؟
00:24ساتھ ہے نصر حضرت عمر بن آس روی اللہ تعالی
00:29آج میری باتیں آپ گوشتیں سنیں گے
00:35خدا سے التجاہ ہے
00:37کہ مبارس کو کچھ دیر کے لیے ایدار کر دے
00:40علاوہ العالمین اپنے فضل و کرم کے ساتھ
00:44مجھے برسنے دے گا
00:47باتیں آج تفصیل ہوں گی
00:55فاتح امیس الحضرت عمر بن آس رضی اللہ تعالیٰ نا
01:02ایک سبتی عیسائی ہوا قدیمت طیبہ میں اور امیر المومنین کے شدمت میں آگ دارد کیا
01:17آپ کے گورنر کے بیٹے نے مجھے چابت مارے ہیں
01:21میں نے سنا ہے کہ محمد کے غلام انساف پرور ہوتے ہیں
01:24صلی اللہ علیہ وسلم
01:25میں انساف کی امید رہتے ہیں
01:29مجھے بزیدے آیا ہو
01:32بارو کے عمر رضی اللہ تعالیٰ نے فرمایا
01:34کیوں مارا ہے تجھے
01:38اس نے عرض کیا
01:39گھوڑا دور میں میں نے حصہ لیا تھا
01:40قاہرہ کے باہر گھوڑا دور ہوئی میدان نے
01:44اسکری
01:45میدان میں حصہ لینے والے گھوڑے دور آئے گا
01:47میرا گھوڑا درہ تیز تھا
01:49وہ سب سے آگے نکل گیا
01:50گورنر کے بیٹے کے گھوڑے سے بھی آگے نکل گیا
01:54تو اس نے برداشت لکیا
01:55ایک عیسائی کبتی کے گھوڑے کو یہ جرد کیسے ہوئی
01:59کہ وہ میرے گھوڑے سے سب سے لے جائے
02:01میں گورنر کا بیٹا ہوں
02:04اس نے
02:06مجھے چابت مارے ہو
02:08میری چمری اوبر گئی
02:10میں انساف چاہتا
02:15اللہ مہدن جوزیر عمت اللہ علیہ نے بلی
02:17قصیل کے ساتھ مکتا
02:19فرمایاتے ہیں
02:20حلیر مومنین فاروک آزم کھڑے ہو گئے
02:22فرمایا مکاما
02:23تم یہیں پھیرو جب تک
02:25تجھے انساف نہیں بنے گا
02:26کوئی اور کام نہیں کروں
02:31اپنے آئی جی
02:34آئی جی پی کو بلے
02:37انسپیکٹر جنرل پولیس
02:38حضرت محمد الدین مسلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ
02:43اور حکم دیا
02:44اب یا رسیبت جائے
02:45فاتح مصر عمر بن آس
02:48کو جا کے میرا یہ خط دو جاؤ
02:51اور اس خط میں چالت کھا تھا
02:54بسم اللہ الرحمن الرحیم
02:57اوپر یہ نہیں کھتا
02:59یا رسول اللہ
02:59یا محمد
03:03بسم اللہ الرحمن الرحیم
03:07من امیر المومنین
03:09عمر بن الخطاب
03:16مدینہ آؤ
03:17میں تمہیں یاد کر رہا ہوں
03:18اور اپنے بیٹوں کو نہیں ساتھ لے آؤ
03:19جس کے چابت بڑے آزاد ہو گئے ہیں
03:21لوگوں پشتے سے برستے پھرتے ہیں
03:23جلدی پہنچے
03:26خط پہتا ہے کہ عمر بن آس
03:28رضی اللہ تعالیٰ نے سمجھ گئے
03:30بیٹوں کو ساتھ لیا
03:32تیز رکھتا ہے
03:32گھوروں کو مدینہ طیبہ پہتے
03:34فاروق آزاد رضی اللہ تعالیٰ
03:36انہوں نے عدالت کے سکرے میں
03:38تینوں کو کھڑا دیا
03:41اس مستغیث سبتی حیسائی کو
03:43حضرت عمر بن آس کو
03:45اور ان کے بیٹے کو
03:47اس سبتی حیسائی سے کہا
03:49اپنے اشتغاہ سے بیام کرو
03:54اس نے رودات بیان
03:57جب وہ اپنی باپ
03:58پوری کر چکا
03:59تو فاروق آزم رضی اللہ تعالیٰ نے
04:02سوالیہ نظروں سے
04:03عمر بن آس کی طرف دیکھا
04:08کہ جو کچھ میں سن رہا ہوں
04:10یہ صح ہے
04:11فاروق آزم نے
04:12عمر بن آس کی طرف دیکھا
04:13اور حضرت عمر بن آس
04:15رضی اللہ تعالیٰ عنہ
04:16انہوں نے
04:17اپنے بیٹے کی طرف دیکھا
04:19کیونکہ معاملہ بیٹے کا
04:21اور
04:22حضرت عمر بن آس کے بیٹے نے
04:25اعتراف میں سر جھکا لیا
04:27کہ ہاں مجھ سے یہ غلطی ہوگی
04:30آئے اس دور کے بیٹے
04:32جان چلی جائے
04:33مگر جوت نہیں بولتے
04:40حضرت عمر بن آس رضی اللہ تعالیٰ عنہ
04:44جب اپنے بیٹے کو سر جھکا دیکھا
04:48فاروق آزم کی آنکھوں میں
04:50جلالت کی سرخی امدہ
04:55جلالت کی سرخی امدہ
04:56جلالت کی سرخی امدہ
05:24جلالت کی سرخی امدہ
05:32کیا ہے
05:34حالاکہ رحمت آلم کی انقلاب میں
05:36تو ہمیں یہ سبق دیا
05:37کہ ہر انسان فطرتاً آزاد پیدا ہوتا ہے
05:44اسلام انسان کو غلامی کی زنجیروں میں جھکرنے کے لئے نہیں آیا
05:48غلامی کی زنجیروں میں جھکرہوں کو آداد کرنے آیا ہے
05:56حضرت عمر ابن عاد
05:57اپنا درہ امیر المومنین کو پیش کرتے ہوئے عرض کیا
06:03امیر المومنین آپ میرے چابک سے میرے بیٹے کو سزا دیجئے
06:09تاریخ آزم کھڑے ہوئے
06:11فرمایا عمر ابن عاد
06:13اگر تیرے چابک نے سزا دینی تھی
06:16تو مصر میں دے لیتا
06:20اب چابک میرا ہوگا
06:24ساتھ اس تبتی عیسائی کے ہوں گے
06:27اور پشت تیرے لاب لے کی ہوگی
06:32اپنا چابک پر
06:33کہ آدم نے اس تبتی عیسائی کو دیتے ہوئے فرمایا
06:37سب سے جاؤں کملی والے تنہیں کیسے شاگر کہیا
06:40اس عیسائی سے فرما دی
06:45عزر کو قمال جاراب
06:49مخضل ہو کمہ غازل
06:52اسے مارو جیسے اس نے تجھے مارا
06:55اسے زلیل کرو جیسے اس نے تجھے زلیل کیا
07:00اس نے تجھے کہہ رہا کہ میدان میں مارا تھا
07:03تو اسے بات اور میرے سامنے مار
07:08وہ عیسائی امیروں میں مینین کے ہاتھوں سے چابک لے لیتا ہے
07:13اور کہتا میروں میں مینین جب جس نے مجھے چابک مارے تھے
07:17تو میرے پسٹ سے پرطاہت آ لیا تھا
07:19باری اسلام کرتی ہے اس بات کے امری بنی آتھ نے اپنے ہاتھوں سے اپنے بیتری کی پسٹ سے پرطاہت
07:26آئے
07:30اور اس حیسائی چپٹی میں جتنے چابک مارے تھے
07:34جتنے چابک کھائے تھے وہ پارے
07:37پورے زناتے کے ساتھ
07:41بات کے سامنے امیروں مومینین کے سامنے
07:44ایک زہر مسلم
07:46ایک اسلام کے دشمن
07:48حیسائی مگر انسان
07:52چابک مارتا ہے
07:53پارن کے آدم ہر چابک پہ الحمدللہ کہتے ہیں
07:58امر بنی آتھ بھی ہر چابک پہ الحمدللہ کہتے ہیں
08:02جب وہ چابک مار چکا
08:04تو چابک رکھتے چلائے
08:07جس نے بھی کہا تھا
08:08سچ کہا تھا
08:09محمد کے غلام انسان پرور ہوتے ہیں
08:15امیروں پر باروں کی آزب
08:18امیروں پر باروں کی آزب
08:25اور ارکر تامیر المومینین
08:27اب مجھے بھی اسی کا غلام منا دیجئے
08:29جس کی غلامی نے آپ کو حد و انسان کی
08:32ابل انبیاء عطا کی ہے
08:38رحمتِ عالم صلی اللہ علیہ وسلم کے غلاموں کے حلقے میں آ لیا
08:45تلوار کے در سے یا کردار سے نتاثر ہو کر
08:52کردار بری بات ہوتی ہے بابو
08:55اور کردار پچھا آپ کو جفتار بھی ٹھیک نہیں رہی
09:00کردار کے خواہدی کو بری بات ہوتی ہے
09:03جفتار بھی ٹھیک نہیں رہی
09:04جفتار بھی ٹھیک نہیں رہی
Comments