00:27।
00:30سماج کے تانوں کو اپنی کامیابی کی سیڑھی بنا لیا
00:331980 کے دشک میں نقسلیوں نے ان کے ہستے کھیلتے پریوار کو برباد کر دیا
00:39پتہ کو جان بچا کر گاؤں سے پلائن کرنا پڑا
00:42جو پریوار کبھی دوسروں کی مدد کرتا تھا
00:45وہ ایک چھوٹے سے کمرے میں غریبی ریکھا کے نیچے آ گیا
00:49اسی کے دشک میں انت میں اور پورا نوے اور دو ہزار کے شروع میں بھی
00:55جو اس تھی تھی ہے اس چھتر کی پورے امام گنگ چھتر کی
00:58وہ ماؤوادی کی وجہ سے بہت زیادہ وشیش کر
01:03ہمارے پریوار یا ہمارے پریوار جیسے اور بھی بہت سارے پریوار کے لوگوں کو سنگرش کرنا پڑا
01:08ہم لوگ غریب نہیں تھے لیکن غریب بنائے گئے تھے
01:13مجھے نہیں پتا کی ان کی کیا سوچ تھی کس نیتی سے وہ چل رہے تھے
01:19پرانتو کچھ پریوار جو سماج کا بھلا کرتے آئے تھے ہمیشہ سے
01:24اور جن میں شمتہ تھی کہ اس چھتر کو آگے بڑھا سکے
01:27انہوں نے بہت پتارک کیا اور پلائین کرنے پر مجبور کیا
01:32ہم سب لوگ گھر سے بے گھر رہے بہت سمائے تک
01:35لیکن کہتے ہیں نا کہ غریبی شریر کو بھوکا رکھ سکتی ہے
01:39سوچ کو نہیں
01:40گھر کے بڑے بیٹے بیرم نے سکولی سکشا کے دوران ہی
01:44ٹیوشن پڑھا کر پریوار کے ذمہ داریاں اٹھا لیں
01:47محنت لگن اور حمد سے اچھا سکشا کے لیے دلی کا رخ کیا
01:52اور جامعہ ملیا اسلامیہ میں داخلہ حاصل کیا
01:55سارا جو سنگھرش کا معاملہ ہے وہ چلتا رہا
01:58لیکن کسی پرکار بہت مشکل سے آرتھک استثیتی کمزور ہونے کے باوجود
02:03دسویں کرنے میں ہم کامیاب رہے
02:06دسویں کرنے کے بعد لگا کہ دسویں کرتے کرتے ہی
02:10چونکہ پڑھائی کا تھوڑا خرچ آنے لگا تھا
02:12تو کچھ لوگوں کو پڑھانا شروع کر دیا ہم نے
02:14آگے کی جو پڑھائی ہے وہ اسنا تک کی پڑھائی کرنے کے لیے
02:18شاید ہمیں اس شیطر سے چونکہ جو استثیتی تھی ان دنوں
02:22وششکر شکچہ کی ہم سب لوگ پریچیت ہے
02:26باہر ہی جانا بہتر ہوگا
02:27تو بڑی مشکل سے کچھ پیسوں کا انتظام
02:31ہزار پندرسوں کا انتظام کر کے دلی نکل گئے
02:34کوئی سہارا نہیں تھا کوئی بیک اپ نہیں تھا
02:36بس جنون تھا کہ کچھ کرنا ہے اچھے سے پڑھنا ہے
02:39پرانتو ٹھکے رہے کوشش کرتے رہے
02:41اور داخلہ لیا بھی
02:43جامیہ میلیا سے انگلیش آنرز میں پڑھائی چل رہی تھی
02:48لیکن اسی دوران اچھا شکشہ کی بھوک کچھ اس قدر بڑھی
02:52کہ جامیہ کے دو سال قربان کیے
02:54تاکہ علیگرہ مسلم یونیورسٹی سے
02:57اپنی پسند کا وشہ بھاشا وگیان پڑھ سکیں
03:00بیرم خان نے علیگرہ یونیورسٹی سے ہی
03:03ماسٹرز این لنگویسٹکس کی پڑھائی پوری کی
03:05اور پھر قسمت کا وہ تعلہ کھلا
03:08جس نے اتحاس رچ دیا
03:10دو ہزار چھے میں
03:13میں علیگرہ مسلم یونیورسٹی گھومنے کے لیے گیا
03:15جب وہاں گیا تو جتنا نام سنا تھا
03:17اس سے بھی بہتر اس کو پایا
03:18کیونکہ وہاں نئے نئے پرکار
03:24کہ وہاں کورسز شلتے ہیں
03:25جو وہاں کی تہذیب ہے
03:28وہ اس نے مجھے اپنی اور بڑا آکرشت کیا
03:31اور میں نے
03:32نرنے کیا کہ مجھے
03:33وہاں بیچلرز ان لنگبر
03:36جب میں اس سے قریب ہوا
03:38میں نے ایک کلاس جا کر کے
03:39مجھے موقع ملا جو دو دروازے ہوتے ہیں
03:42لکچہ تھی ایٹر کے پیشے کے دروازے سے
03:43میں نے جا کر بیٹھ کر ایک کلاس اپنڈ کی اس کی
03:46اور میں نے میرے ایک کزن وہاں پڑھتے تھے
03:48تو ان سے اپنی اچھا ظاہی تھی
03:50تو انہوں نے کہا کہ
03:51اب تم دو سال پہلے سے پڑھ چکے ہو
03:54اور یہاں پرانسفر کا سسٹم ایسا کچھ ہے نہیں
03:56تو وہ دو سال برباد چلے جائیں گے
03:58پر مجھے جنون تھا اور مجھے کچھ ایسا کرنا تھا
04:00جس میں سچ معنوں میں میرا دل لگتا
04:03تو میں نے تھوڑا سا زد کی
04:05اور میں نے کہا کہ آپ پاپا کو منا سکتے ہیں
04:07اور ظاہر ہے کہ میرے ماں باپ کو
04:09مجھ پہ بھروسہ تھا
04:11اور جب یہ بات آئی تو وہ ایک بار میں راضی ہو گیا
04:14جو بہت بڑی بات ہے اس سمیں کے حساب سے
04:16سن دوہزار سولہ میں
04:20پندرہ میں
04:21امریکہ میں ایک مشہور وشور ویڈیالے ہے
04:26مشیگن وشور ویڈیالے
04:28وہاں
04:29ڈپارٹمنٹ آف ایشن لینگویجز اور کلچرز
04:32میں
04:33پوزیشن آئی
04:34لیچرر کی وہاں
04:35اپلائی کیا
04:36اور
04:38سیلیکشن ہو گیا
04:41تو دوہزار پندرہ کے ستمبر کا جو سیمسٹر شروع ہوا
04:45اس میں
04:45آج بیرم ساتھ سمندر پار
04:48امریکہ کی مشہور ویڈیالے بیلٹ یونیورسٹی میں
04:51اسسسٹن پروفیسر ہیں
04:52انہیں دو بار بیس ٹیچر اوورڈ سے نوازا گیا ہے
04:55ڈاکٹر بیرم خان نے ثابت کر دیا
04:57کہ ونمرتہ اور ذمہ داری سے
05:00ہر مشکل کو گھٹنے دیکھنے پر
05:02مجبور کیا جا سکتا ہے
05:03ای ٹی وی بھارت کے لیے گیا سے
05:06سرطاج احمد کی ریپورٹ
Comments