Skip to playerSkip to main content
  • 2 days ago
A legendary princess ruled over seven magnificent kingdoms, but a hidden secret changed everything! 👑✨ Follow her magical journey filled with mystery, adventure, courage, and destiny. Will she protect her kingdoms, or will an ancient force destroy them all? 🌟🏰
Watch this enchanting fairy tale until the end for a surprising twist! 💖
✨ Don't forget to Like, Comment, Share & Subscribe for more magical stories from Febspot studio
#PrincessOfSevenKingdoms #FairyTale #Dreamora #PrincessStory #MagicKingdom #FantasyStory #RoyalPrincess #FairyTales #MagicalAdventure #StoryTime #ViralStory #FantasyWorld #EnchantedKingdom #EpicStory #PrincessMagic #BedtimeStory #TrendingNow #ViralVideo #MagicStory #FairyMagic #FantasyAdventure #Storytelling #YouTubeShorts #FYP
Transcript
00:00It was very good at the time, when the flood was near, when the flood was in the same time
00:08of adrenaline,
00:08and when the wind was in and over time, the wind was in the same time,
00:23She does not know how a drink they would go to the nest,
00:26but she is least one of those of us who have been Waiter.
00:28She was beautiful here in the fall of the 섭.
00:30The girls' very beautiful and fair maid of the world.
00:37The eyes of the water came for the sea.
00:41The stars of the sea were blue-white,
00:43She called the Queen Rose White,
00:44a rainbow around the rest of the world.
00:47She assumed that the stars being a child,
00:50foreign
00:51they wanted to be an entire
00:53but they wanted their lives
00:54they wanted to not give a chance
00:56that they didn't have a child
00:57they couldn't be a child
00:59they were all alone
01:02but they didn't have a child
01:05but they didn't have a child
01:05they didn't have a little
01:08they didn't have a voice
01:10which could be an abba or a amma
01:11could be a year
01:13the queen has every morning
01:14every night
01:15ndluit aftab ke waht dhuwa maanggi
01:17hr rat sitaron se iltja ki
01:19bachah ne hr buzdurg se dhuwae li
01:21jib bhi drebar me koi amir
01:23apani bachay ko gud mele ka rata
01:25bachah ki ankhomem eek dard ki leher
01:27utti jishe wo chupanhe ki koosish
01:30ka rata
01:30jib bhi malakha kisi bachay ko husta dhekdi
01:33waa aipne kimeri meja kar akele
01:35aansu bahati
01:36wak guserta raha
01:37aur umid kumzor pardti raha
01:39pher ek rat
01:40jib pura mahl saraa tha
01:41jib mumbtiyaan budh chuki thi
01:43When she was in the middle of the night, she was in the middle of the night when she was
01:54in the middle of the night.
02:14She was in the middle of the night, she was in the middle of the night.
03:12She was in the middle of the night, she was in the middle of the night.
03:16She was in the middle of the night, she was in the middle of the night.
03:23She was in the middle of the night, she was in the middle of the night.
03:40She was in the middle of the night, she was in the middle of the night.
04:31She was in the middle of the night.
04:31She was in the middle of the night, she was in the middle of the night.
04:55She was in the middle of the night.
05:23She was in the middle of the night, she was in the middle of the night.
05:46She was in the middle of the night, she was in the middle of the night.
06:00She was in the middle of the night.
06:02She was in the middle of the night.
06:06She was in the middle of the night, she was in the middle of the night.
06:20She was in the middle of the night, she was in the middle of the night.
06:41She was in the middle of the night, she was in the middle of the night.
06:56I'll see you later.
07:27His birth in the sea, the rainbow of the sea, the golden size, the light of the sea, the never
07:31heard of it.
07:31I'll have a first time for the first half.
07:34Today he has a first time for the second, and after their flesh, the red will flee.
07:43He fell apart with his face, so he won't see their eyes.
07:46When he opened his face, he told her alysses for the last time for the first child.
07:52شہر کی ہر غریب بچی کو
07:54نئے جوتے توفے میں دیئے
07:56سال گزرتے رہے
07:57اور جب شہزادی سترہ سال کی ہوئی
08:00تو بادشاہ سے اب رہا نہیں جاتا تھا
08:02وہ راتوں کو جاگتا
08:04محل کی چھت پر جا کر
08:05پہاڑوں کی طرف دیکھتا اور سوچتا
08:08میری بیٹی وہاں ہے
08:10اتنے قریب
08:11پھر بھی اتنی دور
08:12ملکہ نے ایک دن کہا
08:14صرف ایک سال اور
08:16سبر کرو
08:17لیکن بادشاہ کا سبر جواب دے جکا تھا
08:20اس نے اپنے سب سے بھروسے من جنرل کو بلایا
08:23اور کہا
08:23فوج تیار کرو
08:25ہم سات شہروں کی طرف چلیں گے
08:27فوج روانہ ہوئی
08:29پہلے دن سفر آسان رہا
08:31سڑکیں صاف تھیں
08:33موسم خوشگوار تھا
08:35لیکن جو جو وہ سات شہروں کے قریب آتے گئے
08:38قدرت نے جیسے راستہ روکنا شروع کر دیا
08:41دوسرے دن آسمان پر کالے بادل آ گئے
08:44اور ہوا تیز ہو گئی
08:45تیسرے دن توفان آیا
08:47بارش کے ساتھ آسمانی بجلی کرنے لگی
08:50جو سیدھی زمین میں گھستی
08:52اور دھرتی کو ہلا دیتی تھی
08:54جنرل نے گھوڑا روکا
08:56حضور
08:57قدرت نشانیاں دے رہی ہے
08:59واپس چلتے ہیں
09:00لیکن بادشاہ نے سامنے دیکھا
09:03دور پہاروں کے پیچھے سے
09:04ایک روشنی آ رہی تھی
09:06اور وہ جانتا تھا
09:07وہ روشنی سات شہروں کی تھی
09:09آگے بڑھو
09:11چوتھے دن زمین کامپنے لگی
09:13فوجی گھوڑوں سے گر پڑے
09:15پہاروں سے بڑے بڑے پتھر
09:17راستے میں آ گئے
09:18درخت چڑوں سے اکھڑ گئے
09:20یہ ہمارے لیے موت ہے
09:22فوجی چیخنے لگے
09:23لیکن بادشاہ تنہا گھوڑا
09:25بڑھاتا رہا
09:26پتھروں کے درمیان سے
09:28توفان میں سے
09:29لرستی زمین پر
09:30اس کے دماغ میں صرف ایک تصویر تھی
09:33ایک چھوٹی سی بچی
09:35تین دن کی
09:36جس کی انگلیاں اس نے تھامی تھی
09:38آخر کار پہاڑ کا مور مڑا
09:41اور بادشاہ رک گیا
09:42سامنے تھی وہ دیواریں
09:44اونچی
09:45سفید
09:46چمکتی ہوئی
09:47آسمان کو چھوٹی ہوئی
09:49ان میں کوئی دروازہ نہیں تھا
09:51کوئی کھڑکی نہیں تھی
09:53یہ جادو سے بنی تھی
09:54اور ان کے پیچھے سے آ رہی تھی
09:57ایک روشنی
09:58ایسی روشنی جو صرف کسی
10:00بہت خوبصورت چیز سے آ سکتی ہے
10:02بادشاہ کا دل تیز تھرکنے لگا
10:05اس کے کان میں جیسے ایک آواز آئی
10:07ہلکی میٹھی
10:09ہوا جیسی
10:10ابباجان
10:11بادشاہ کی آنکھوں میں آسو آگئے
10:14اٹھارہ سال
10:15اٹھارہ سال کا انتصار
10:17اس نے اپنی تلوار نکالی
10:19پری کہیں دور سے یہ سب دیکھ رہی تھی
10:22اور اس کی آنکھوں میں آسو تھے
10:24نہیں گریوائٹ
10:25بس چند مہینے
10:27بس چند مہینے اور
10:28لیکن بادشاہ نے تلوار دیوار پر ماری
10:31ایک لمحہ سب ساکت رہا
10:34پھر دیوار میں ایک دراد آئی
10:36اور اس سے ایسی روشنی نکلی
10:38جو آنکھوں کو چندھیہ دے
10:40پھر ایک زبردست تھماکہ ہوا
10:42زمین اتنی زور سے کاپی
10:44کہ فوجی ہوا میں اچھل گئے
10:47آسمان پر آگ کا توفان آ گیا
10:49سمندر کی لہریں اچانک پہاڑوں سے بھی
10:52اونچی ہو گئیں
10:53لیکن اس سب کے درمیان
10:55دیوار کے پیچھے
10:57آگ اور پانی سے پرے
10:59ایک لڑکی کھڑی تھی
11:00وہ حیران تھی
11:02دری ہوئی تھی
11:04اس کی آنکھیں
11:05وہ نیلی نیلی آنکھیں
11:06سمندر کی طرح گہری تھی
11:09وہ بلیو گرین تھی
11:10اور اسی لمحے جب دنیا
11:13ڈوبنے لگی
11:14ایک گھوڑے کی آواز آئی
11:16ایک سوار تھا
11:17نوجوان
11:18بہادر
11:19اور خوبصورت
11:20وہ آگ کی لپٹوں کو چیرتا
11:22لہروں کو پار کرتا
11:24سیدھا شہزادی کی طرف آیا
11:26اس کا نام تھا اورنگزیب
11:28ایک دور کی سلطنت کا شہزادہ
11:31جو کئی دنوں سے
11:32ان پہاڑوں میں بھٹک رہا تھا
11:34ایک عجیب سی روشنے کا پیچھا کرتے ہوئے
11:37جو اسے اپنی طرف کھیجتی تھی
11:40اورنگزیب نے گھوڑا روکا
11:41اور اس لڑکی کو دیکھا
11:43جو آگ اور پانی کے درمیان
11:45بلکل اکیلی کھڑی تھی
11:46اور اس کی آنکھوں میں خوف نہیں تھا
11:49صرف حیرت تھی
11:51اورنگزیب نے ہاتھ بڑھایا
11:53آؤ یہاں رکنا ٹھیک نہیں
11:55بلیو گرین نے اس انجان چہرے کو دیکھا
11:59اور نہ جانے کیوں
12:00اسے ڈڑ نہیں لگا
12:01اس نے ہاتھ تھام لیا
12:03اورنگزیب نے اسے گھوڑے پر بٹھایا
12:06اور وہ دونوں توفان میں سے نکل گئے
12:08جیسے قسمت نے ان کے لیے
12:10ایک راستہ بنا دیا ہو
12:12پیچھے
12:13اٹلانٹی سمندر میں ڈوب رہا تھا
12:16سونے کے محل
12:17چاندی کی سرکیں
12:19پھولوں کے باغات
12:20سب لہروں میں غائب ہو گئے
12:22بادشاہ گریوائٹ نے آخری بار
12:25اپنی بیٹی کی جھلک دیکھی
12:27گھوڑے پر بیٹھی
12:28ایک نوجوان کے ساتھ
12:30دور جاتی ہوئی
12:31اور اس کے ہونٹوں پر
12:33ایک دل پھری مسکراہ ہٹائی
12:35اس نے جو کھویا تھا
12:36وہ بہت بڑا تھا
12:38لیکن جو بچ گئی تھی
12:39وہ محفوظ تھی
12:40جب وہ دونوں پہاڑوں سے دور نکل آئے
12:43اور توفان پیچھے رہ گیا
12:45اورنگزیب نے گھوڑا روکا
12:47دونوں خاموش بیٹھے رہے
12:49دور سمندر میں ابھی بھی لہریں اونچی تھی
12:52اور آسمان پر دھوا تھا
12:54پھر بلیو گرین نے آہستہ سے پوچھا
12:56تم کون ہو
12:57اورنگزیب نے مسکرا کر کہا
13:00ایک مسافر جو راستہ بھٹک گیا تھا
13:03اور تم
13:03بلیو گرین نے دور سمندر کو دیکھا
13:06جس میں اس کی ساری دنیا ڈوب چکی تھی
13:08اس کے ساتھ شہر
13:10اس کی کتابیں
13:11اس کے پھول
13:12اس کے پرندے
13:14اس کی پریما
13:15اور آنکھوں میں آسو آ گئے
13:18لیکن پھر اس نے اورنگزیب کو دیکھا
13:20اور کہا
13:20میں بلیو گرین ہوں
13:22اور شاید اب میں بھی ایک مسافر ہوں
13:24اورنگزیب نے اس کے آسو دیکھے
13:26اور دل میں کچھ ہلا
13:28ایک ایسا درد جو پہلے کبھی نہیں ہوا تھا
13:31اس نے آہستہ سے کہا
13:33تو پھر ساتھ چلو
13:35مسافر مل کر سفر کرے
13:37تو راستہ آسان ہو جاتا ہے
13:39مہینے گزرے
13:40اورنگزیب اور بلیو گرین
13:42ساتھ سفر کرتے رہے
13:44اورنگزیب نے دیکھا
13:45کہ یہ لڑکی صرف خوبصورت نہیں
13:47یہ ہر زبان جانتی ہے
13:49ہر علم رکھتی ہے
13:50ہر دکھی کے لیے
13:52اس کا دل دکھتا ہے
13:53اور بلیو گرین نے دیکھا
13:55کہ یہ نوجوان صرف بہادر نہیں
13:57یہ مخلص ہے
13:59سچا ہے
14:00اور اس کی آنکھوں میں
14:01کوئی چھلکپٹ نہیں
14:03آہستہ آہستہ
14:05وہ خالی پن
14:06جو بلیو گرین کے دل میں
14:07ہمیشہ سے تھا
14:08بھننے لگا
14:09موسیقی
14:11موسیقی
Comments

Recommended