Skip to playerSkip to main content
#Pakistan #PakistaniPolitics #PTI
#Pakistan #PakistaniPolitics #PTI #ImranKhan #Establishment #Political #Economy #Crisis #imranriazkhan #imrankhanpti #imrankhanyoutubechannel #imrankhan #news #pakistan #currentaffairs #supremecourt #ptijalsa #SupremeCourt #imranriazkhan #imrankhanpti #imrankhanyoutubechannel #imrankhan #news #pakistan #currentaffairs #aliamingandapur #arifalvi

Category

🗞
News
Transcript
00:00my mi krasm chan soori
00:02law mahi khan hirmaq
00:07kandhaシan
00:08bismillahirrahmanirrahim
00:09yaqan abadu yaqan asti in
00:10ay Allah teary wa sari wa'dat kraty Dahtu
00:14I'mran Khan Khan Saab ko
00:15Aasim Munir ki jayl mein
00:17jhutte begunah mqadmati me kait woe
00:19aic 104 dino ho chukye
00:21ndo bumbhara bumbhi ko Aasim Munir ki jayl
00:23mein jhutte begunah mqadmati me
00:25kait woe 769
00:27dino ho chukye
00:28is this the guilt and the crime of the struggle is now
00:31to go through and is not getting away from the right name
00:34from him. He said that the name of the family was made of 7 months
00:37from his eyes, his eyes were 25% of his eyes
00:41and his eyes were finished and he also had the eyes of his eyes
00:44and his eyes had the eye and his eyes were closed.
00:46And the family of Pakistan and the health of the family
00:48that the demand for him is to make an international hospital
00:51go and they will get their own personal family
00:54and his family and their family in front of him
00:56fazer made between the blood and the blood
00:58and the blood and the blood and the blood
00:59which is laid down
01:05Mr君
01:06is the one who is a
01:11really do it
01:11is a very rare
01:12of the people who have
01:13actually
01:13ridden
01:14and they can
01:18think that
01:19he has to resist
01:19this
01:20where
01:20,
01:50military establishment and form 47
01:52has been closed. They are
01:55still in actuality. I am
01:57ڈر رہے ہیں آج جتنے بھی آسکری لفافہ صافی ہیں وہ بھی چپ کر کے بیٹھے
02:02ہوئے ہیں کہ نہیں یہ ہیں وہ ہیں کیڑے نکال رہے ہیں لیکن میرے پاکستانیوں
02:06آپ نے اس سیفر کو بھولنا نہیں ہے آپ نے اس کو پڑھنا ہے اور یہ ایک
02:12حقیقت پوری دنیا کے سامنے آگئی کہ عمران خان سچا تھا اور فوج اور
02:18اس کے یہ جرنیل جو ہمیشہ سے فوج پر چھائے رہتے ہیں یہ جھوٹے تھے اور
02:24آرمی چیف اس وقت کا جرنل باجوا سہولتکار بنا اور اس نے عمران
02:29خان کی کمر میں جھورا کوپا اور ایک چلتی بھی حکومت کو گرایا وجہ
02:33کیا تھی وجہ یہ تھی کہ عمران خان جو ہے وہ انٹرنیشنل اسٹیبلشمنٹ
02:39کی بات نہیں مان رہے تھے وہ ایک ازاد آدمی تھے اور پاکستان کو
02:43ازاد دیکھنا چاہتے تھے اور وہ قائد اعظم کا پاکستان اور علامہ
02:46اقبال کا جو خودی کا فلسفہ تھا اس پہ چل رہے تھے اور انہوں نے
02:51پاکستانیوں کا سوچا اپنے ملک کا سوچا انہوں نے کہا کہ میں کسی
02:55جنگ کا حسانی بنوں گا میں اڈے نہیں دوں گا absolutely not انہوں نے
03:00بولا انہوں نے اقوام متحدہ میں ہمارے پیارے نبی صلی اللہ
03:04علیہ وسلم کی حرمت کی بات کی اسلاموفبیہ کا مقدمہ لڑا اور انہوں
03:08نے کہا کہ میں لا علاہ پہ یقین رکھنے والا ہوں اگر کسی نے ہم پہ
03:12حملہ کیا تو میں اس کا جواب دوں گا اور انہوں نے ازاد خارجہ پولیسی
03:17کی بات کی میرے پاکستانیوں اس جیس کی سزا دی گئی اور آج ہم
03:22سب کے سامنے ہیں کہ آج امران خان تو ازاد سوچنے والا شخص آج
03:27جیل میں تو بند ہے لیکن ان کا فلسفہ ان کا نظریہ پورے پاکستان میں
03:32پھیل چکا ہے اور امران خان پاکستان کا واحد لیڈر ہے جو چاروں صوبوں
03:37میں ایک جیسا مقبول ہے اور رنگ اور نسل انہوں نے ختم کر دیا اور آج
03:43ایک نظریہ میں پرو دیا ہے پورے پاکستانیوں کو چاہے وہ کسی بھی
03:48مذہب سے تعلق رکھتے ہوں کسی بھی فرقے سے تعلق رکھ سکتے ہوں کوئی
03:52بھی زبان بولنے والے ہوں لیکن آج پورے پاکستان کو سمجھا دیا ہے
03:56کہ پورے پاکستانیوں کے مسائل ایک جیسے ہی ہیں اور سب سے پہلے ہمیں
04:00حقیقی ازادی کی طرف جانا ہے تو امران خان یہ جو قربانیاں دے رہے ہیں
04:04حقیقی ازادی کے لیے میرے پاکستانیوں جب تک ہم خود نہیں کھڑے ہوں گے
04:09ہم اپنی زنجیریں نہیں توڑیں گے ہم اس آرمی اسٹیبلشمنٹ کے جو کچھ جرنیل
04:14ہمیشہ سے انٹرنیشنل اسٹیبلشمنٹ کی بات مانتے ہیں جب تک ہم ان کو نہیں
04:20چھوڑیں گے یہ مسئلہ حل ہونے والا نہیں ہے اور اب ہم سب کے سامنے
04:25ہے کہ غزہ امن بورڈ میں جو شمولیت کی آسیم منیر اور شباز شریف
04:28نے ڈانلڈ ٹرمپ کے کہنے پر اب یہ سفر جو ہے آگے کی طرف جا رہا ہے اور
04:33آپ یہ دیکھیں ٹوتھ سوشل پر ڈانلڈ ٹرمپ نے یہ پیغام دیا ہے اس پیغام
04:41کے اندر انہوں نے کہا ہے کہ میں نے پاکستان کے فیلڈ مارشل آسیم منیر
04:45سے بات کی ہے اور دوسروں سے بھی بات کیا اور میں انہیں کہہ رہا ہوں کہ اب آپ
04:49نے ابراہیم ایکارڈ میں شامل ہونا ہے تو ابراہیم ایکارڈ کیا ہے یہ جو ہے
04:53اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات صحیح کرنے کے لیے اس کے اندر کہا گیا ہے
04:59اس میں اسرائیل کو ملک تسلیم کرنے کا کہا گیا ہے اس ایکارڈ کے اندر
05:03تو اب مجھے آپ بتائیں کہ آیا یہ ہے قائد اعظم کا پاکستان
05:07مران خان صاحب تو قائد اعظم کے موقع پر قائم تھے اور وہ کہتے تھے
05:11کہ جس طرح قائد اعظم نے کہا ہے جب تک فلسطینیوں کو ان کا حق نہیں دیا جاتا
05:15اور فلسطینی مطمئنی ہو جاتے جب تک ہم جو ہے وہ اسرائیل کو ایک ملک
05:19تسلیم نہیں کریں گے تو آیا اب یہ کیا ڈانلڈ ٹرم کو انکار کر سکتے ہیں
05:25اور کیا یہ ابراہیم ایکارڈ کا حصہ بننے نہیں جائیں گے اب یہ ہم نے دیکھنا ہے
05:31اور تاریخ میں جو بتایا گیا ہے کہ غلام جو ہے وہ کبھی بھی اپنا نہیں سوچتے
05:36غلاموں کی ذہنیت اس طرح کی ہو جاتی ہے کہ وہ صرف اپنے مالکوں کا سوچتے ہیں
05:41اور جس طرح آج آسے منیر ڈانلڈ ٹرم کو خوش کرنے کے لیے یہ تمام ہر عدے پار کر رہے
05:47ہیں
05:47اور کیا یہ اب ابراہیم ایکارڈ کو بھی مان لیں گے اب یہ آنے والا وقت دکھائے گا
05:54تو اب ایک اور مشکل میں پاکستان پھس سکا ہے کہ اگر وہ انکار کرتا ہے تو بھی مشکل میں
06:00ہے
06:00اور اگر وہ ابراہیم ایکارڈ کا حصہ بنتا ہے تو بھی مشکل میں ہے
06:05جب تین اپریل دوہزار بائیس کو میں نے رولنگ دی پہلا رمضان المبارک تھا
06:09اور اس کے بعد سیفر کا تو پتہ تھا حقیقت تھی آج ہی حقیقت کھل گئی
06:15لیکن نو اپریل دوہزار بائیس کو جب امران خان کی حکومت گرائی گئی غیر قانونی طریقے سے غیر آئینی طریقے
06:23سے
06:23دس اپریل دوہزار بائیس کو جس طرح پاکستانی پوری دنیا میں خصوصا پاکستان میں باہر نکلے
06:29اس سے جو حوصلہ ملا اور امران خان صاحب نے جو طفانی جلسے کیے پاکستان کے اندر
06:35اور اس کے بعد انہوں نے پچیس مئے دوہزار بائیس کو حقیقی ازادی مارچ کا اعلان کیا
06:41میری جو ڈوئیٹی لگی ہوئی تھی وہ اسلامباد میں تھی اور اس سے پہلے مجھ پر
06:46انتیس اپریل دوہزار بائیس کو رات کو جب میں ایک ہوتل میں سیری کر رہا تھا
06:51قاتلانہ حملہ بھی ہو چکا تھا اور میں اس کے بعد گھر پہ نہیں رہ رہا تھا
06:57اکثر میں چھپا رہتا تھا اس لئے کہ میرے گھر پر ایک دفعہ چھاپا بھی ہوا
07:01تو پچیس مئے دوہزار بائیس جو یوم فستائیت ہے جس دن سب سے زیادہ فستائیت ہوئی
07:08اور ہم سب نے دیکھا کہ پاکستان تحریک انصاف کے کارکنان پر رہنماؤں کے گھروں پر
07:14عودہ داران کے گھروں پر چھاپیں مارے گئے ان کے کاروباروں پر چھاپیں مارے گئے
07:19اور ان کو پکڑا گیا جلوں میں ڈالا گیا ہزاروں کی تعداد میں چھاپیں مارے گئے
07:26اور پکڑا گیا لوگوں کو لوگوں کے گھروں میں رات کے ٹائم ان کے بیڈروموں میں گھس کے
07:32ان کی ماں بہنوں کے سامنے ان کو اٹھایا گیا اور جب پوری پاکستان سے کافلے روانہ ہوئے
07:39تو پنجاب کے اندر لاہور میں آپ کو پتا ہے جو فستائیت شروع کی اور رابی ٹول پلازے کو بند
07:46کر دیا
07:47ڈاکٹر یاسبین راشد کی گاڑی کے شیشے توڑے گئے اور یہ آپ منظر دیکھیں
08:03اسی طرح جو ہے تمام اسلامباد کے جو خارجی راستے تھے اس کو بند کر دیا گیا
08:08عمران خان صاحب جو کافلہ لے کر پشاور سے آ رہے تھے ان کو اٹک پل کے پاس رکا گیا
08:13شدید شلنگ کی گئی اور اسلامباد کو تو پہلے ہی سے کنٹینر کا شہر بنا دیا تھا
08:20ہر طرف کنٹینر اور داخلی علاقوں میں پورے کے پورے کنٹینر لگا کے روکا ہوا تھا
08:28اٹک پل میں انہوں نے جو ہے وہ شیشے لک میں لگا کر روڈوں پہ بچھا دیئے تھے
08:33کہ جو گاڑی گزرے وہ پینچر ہو جائے آگے نہیں جا سکے
08:36تو اتنی جو نیچ حرکتوں پہ آگئے تھے رانہ سناولہ کھلی دھمکیاں دے رہا تھا
08:41کہ میں نہیں چھوڑوں گا اسلامباد اور ڈی چوک کوئی نہیں پہنچ سکے گا
08:45میں ڈی چوک پہنچا وہاں پہ خواتین بچے بوڑے اسلامباد کے شہری
08:53راولپنڈی کے شہری جو ہے وہ خود نکلے ہوئے تھے
08:57اور وہ مناظر میں آج تک نہیں بھول سکتا
09:00ہم سب ترانے گا رہے تھے
09:01پرامان پاکستان کا میرے ہاتھ میں جھنڈا تھا
09:05یہ آپ دیکھیں
09:05تو ہم جو ہے وہ آئینی اور قانونی ہمارا حق تھا
09:09کہ ہم پرامان رہتے ہوئے تجاج کر سکیں
09:12اور ڈی چوک کا اعلان ہم نے کیا ہوا تھا
09:15میں لیٹ کرتا ہوا پہلے ڈی چوک پہنچا
09:19یہ آپ دیکھیں
09:22تو ڈی چوک سے بچے بوڑے نوجوان خواتین سب ساتھ تھے
09:27جب میں ڈی چوک پہنچا تو وہاں پر انہوں نے شیلنگ شروع کر دی
09:31وہاں پر رینجرز بھی آئے ہوئے تھے
09:33ایف سی اور پنجاب سے پولیس کی بڑی تعداد بلائی ہوئی تھی اسلامباد میں
09:37انہوں نے ہم پر ربڑ کی گولیاں چلانی شروع کر دی
09:41شیلنگ شدید تلین شروع کر دی
09:43وہاں پر بچے بھیوش ہونا شروع ہو گئے
09:46خواتین بیوش ہونا شروع ہو گئی
09:48میری اپنی اہلیہ وہاں پر بیوش ہو گئی
09:50ان کو اٹھا کے لے جایا گیا
09:52تو اتنا زیادہ ظلم اور جبر وہاں پر جو رینجرز تھی
09:55انہوں نے شروع کیا
09:56جس طرح کوئی ہم غیر ملکی ہیں
09:58یا ہم انڈیا سے آئے ہوئی کوئی فورس ہیں
10:01اس طرح انہوں نے ہمیں ڈیل کیا
10:03اور لاٹھی چارج کیا
10:05پکڑ رہے تھے لوگوں کو
10:07اور تمام خواتین بچے ہم کہہ رہے تھے
10:10کہ ہم پورا من ہیں
10:11ہم جو ہے وہ یہاں پہ کوئی لڑنے نہیں آئے
10:14ہم ایک پورا من اتجاج کرنے آئے ہیں
10:15تو اس دن
10:17عمران خان صاحب سے میرا ٹیکس پہ رابطہ ہو رہا تھا
10:20بار بار میں ان سے پوچھ رہا تھا
10:22کب تک کافلہ ڈی چاک پہنچے گا
10:24اس لئے کہ میں پہلے پہنچ کے
10:26وہاں پہ لوگوں کو موٹیویٹ کر رہا تھا
10:28شیلنگ ہوتی تھی
10:29تو ہم تھوڑا پیچھے چلے جاتے تھے
10:31پھر تھوڑا آگے آ جاتے تھے
10:32لوگوں کو وہاں پہ انگیج رکھا ہوا تھا میں نے
10:35اور جب عمران خان صاحب
10:37کافی رات ہو گئی کافلہ نہیں آیا
10:39تو میں عمران خان صاحب سے ملنے گاڑی میں گیا
10:41اور جب میں کشمیر آئی وے پہ گیا
10:43تو آخر میں عمران خان صاحب کا
10:45کنٹینر وہاں پہ کھڑا تھا
10:47ہزاروں کی تعداد میں گاڑیاں لوگ
10:49اور رات سے صبح ہونے والی تھی
10:52تو عمران خان صاحب سے جب میں نے پوچھا
10:54کہ کیا مسئلہ ہے
10:55تو انہوں نے مجھے بتایا کہ
10:57آرمی چیف جرنل باجوا
10:59اور فارم سنتالیس کی جو حکومت ہے
11:02انہوں نے خون خرابے کا
11:03منصوبہ بنایا ہوا ہے
11:05اور اگر ہم ڈی چوک میں آتا ہوں
11:07تو انہوں نے اندہ دن فائرنگ کر دینی ہے
11:10اور لوگوں کو شہید کرنا ہے
11:12میں نہیں چاہتا کہ
11:13تصادم ہو
11:14تو اب میں پلان چینج کر رہا ہوں
11:16اور میں ڈی چوک سے پہلے ہی
11:18اپنی ازادی مارچ ختم کر دوں گا
11:21تو میرے پاکستانیوں عمران خان صاحب نے
11:23اس سے پہلے ہی
11:24روک کے ازادی مارچ ختم کی
11:26تو وہ دن اور آج کا دن
11:28یہ فستائیت حکومت کی ختم نہیں ہو رہی
11:32چہرے بدل گئے
11:33آرمی چیف
11:34جرنل باجوا سے آرمی چیف
11:36آسے منیر ہو گیا
11:37پھر وہ فیلڈ مارشل ہو گیا
11:39اور امپورٹڈ حکومت سے
11:41فارم سنتالیس کی حکومت بن گئی
11:43منڈیٹ چوری کر دیا انہوں نے
11:44آج تک یہ ظلم اور زیادیاں کرتے آ رہے ہیں
11:48اور پاکستان کی معیشت ڈوبتی جا رہی ہے
11:51آج یہ حال ہو چکا ہے
11:52پاکستانی دو وقت کی روٹی کے محتاج ہو گئے ہیں
11:55آج سنتالیس فیصد پاکستانی
11:57غربت کی لکیر سے نیچے جا چکے ہیں
11:59عید کے دن ہے
12:00تاجر جو ہے پریس کانفرنس کر رہے ہیں
12:02کہ ستر فیصد ان کی بکری کم ہو گئی ہے
12:06لوگوں کے پاس پیسے نہیں ہے
12:08کہ وہ عید کی شاپنگ کر سکیں
12:09بچوں کے کپڑے جوتے لے سکیں
12:11ضرورت زندگی کی چیزیں لے سکیں
12:14اور آج جو منڈیوں میں
12:16قربانی کے جانور لوگ لے کے آئے ہوئے ہیں
12:18وہ کہہ رہے ہیں کہ ہمارے جانور نہیں بکرے
12:20لوگوں میں اتنی سکت نہیں رہی
12:22کہ وہ قربانی کر سکیں
12:24تو یہ حال ہے
12:25اور دوسری طرف آپ دیکھیں
12:26کہ جو میرا شہر ہے
12:27کوئٹا جو ایک خوبصورت شہر ہوتا تھا
12:29مختلف قوموں کا گلدستہ
12:31مختلف زبانیں بولنے والا شہر
12:33آج وہ بدقسمت شہر پاکستان کا بن چکا ہے
12:36آج سب سے زیادہ دہشتگردی وہاں پہ ہے
12:39اور دہشتگرد آج
12:41بی ایل اے نے ڈیکلیئر کر دیا ہے
12:43کہ انہوں نے ٹرین دھماکہ کیا ہے
12:44اور ٹرین دھماکے میں جو ہے وہ
12:47کئی لوگ جانیں اپنی دے چکے ہیں
12:50شہید ہو چکے ہیں
12:51اور ایک بدقسمت خاندان
12:53آپ کے ماں باپ کے ساتھ
12:54ان کے بچے بھی فلیٹ کے اندر تھے
12:57جہاں پہ دھماکہ ہوا اس کے نزدیک
12:59وہ فلیٹ ہی میں شہید ہو گئے
13:01اور ہمارا پاکستان تحریک انصاف کا
13:04کارکون
13:05آصف خان کاکڑ بھی
13:06اس دھماکے میں شہید ہو گیا
13:09تو آپ سوچیں ان
13:11گھروں کا ان فیملیز کا ان
13:13ماں بہنوں ان
13:14کا سوچیں کہ جن کے پیارے
13:17شہید ہو گئے اور
13:18ان کے خون کا حساب کون دے گا
13:21کون پوچھے گا ان کو
13:23پوری کی پوری زندگیاں
13:25لوگوں کی متاثر ہو گئیں
13:26اب ہم سب نے فیصلہ کرنا ہے
13:28کہ عمران خان صاحب جو ظلم اور زیادیاں
13:31اور جو جبر سہ رہے ہیں
13:33اور اللہ پہ یقین کر کے یہ مشکلات
13:35کاٹ رہے ہیں یہ مشکلات
13:37میری اور آپ کی حقیقی
13:38ازادی کے لیے کر رہے ہیں تو میرے پاکستانیوں
13:41اس حقیقی ازادی کے لیے ہم سب کو
13:43پر امن طور پر نکلنا پڑے گا
13:44اپنے حق کے لیے
13:46اپنی ازادی کے لیے اپنی آنے والی
13:49نسلوں کے لیے
13:50آج تک اتنا ہی اپنا بہت خیال رکھیں
13:53میرے لیے بھی دعا کریں
13:54پاکستان زندہ باد
13:56عمران خان پائندہ باد
14:00کب تک خاموشی اور کب تک اندھیرہ
14:04وقت کا پیہ
14:06اب تیزی سے گھوم رہا ہے
14:08لکھنے یہ باد
14:10اب بازی پیٹے کی
14:11جب جبر حد سے بڑھتا ہے
14:15تو پھر حرسند سے
14:17ایک آواز اوپرتی ہے
14:18وہ آز ہے
14:21انقلاب کی آواز
14:23تاریخ گواہ
14:24کہ ظالم کا ظلم ہمیشہ اروج پر جا کر
14:28اپنے ہی بوجھ سے گرتا ہے
14:31اب اس سیاہ رات
14:32اور اس ظلم کے غروب ہونے کا وقت
14:35آ گیا ہے
14:36وہ جو ثابت قدم رہے
14:39وہی تاریخ رکم کریں گے
14:41اور جب یہ اندھیرہ چھٹے گا
14:43تو یاد رکھنا
14:45پھر سورج امن کا تلو ہوگا
14:48ایک ایسی صبح
14:50جو نئی امید اور حقیقی ذاتی کی نویت لائے گا
14:54کیا آپ اس نئی صبح
14:56اور اس انقلاب کے لئے تیار ہیں
Comments

Recommended