Skip to playerSkip to main content
  • 2 days ago
Kabhi kabhi sach samne laane ke liye sirf aqal ki zarurat hoti hai 🤔

Ek andhe bhikari ne ek tajar ki sikon ki thaili ko apna banane ki koshish ki 😲
Lekin ek dana darvish ne apni aqalmandi se aisa tareeqa apnaya ke haqeeqat chand lamhon mein sab ke samne aa gayi.

Yeh kahani insaf, aqal aur sachai ki ek dilchasp misaal hai 📜

📌 Puri kahani end tak zaroor dekhein!

Category

📚
Learning
Transcript
00:00ایک شخص کئی برسوں سے گوشت بیچتا رہا
00:02برسوں کی محنت کے بعد اس نے تین ہزار سکھے جمع کیے
00:06اور اپنے دیش کی اور روانہ ہوا
00:08کئی دنوں کے سفر کے بعد وہ ایک ریگستان سے گزر رہا تھا
00:12کی اچانک اس کی نظر ایک اندھے بھکاری پر پڑی
00:14جو ایک پیر کے نیچے بیٹھا اونچی آواز میں پکار رہا تھا
00:18دنیا نے مجھ سے سب کچھ چھین لیا
00:20یہاں تک کی میری آنکھوں کی روشنی بھی چلی گئی
00:23کاش ایک بار پھر میرے ہاتھوں میں روپیوں کی تھیلی آ جائے
00:27بھکاری بار بار یہی شبد دھرا رہا تھا
00:29ویاپاری اس کے قریب گیا اور پوچھا
00:32تم زمانے سے اتنے پریشان کیوں ہو
00:35بھکاری نے آہ بھرتے ہوئے کہا
00:36میں بھی کبھی ایک بڑا ویاپاری تھا
00:38میرے پاس بہت دولت اور سمپتی تھی
00:40پر قسمت نے پلٹا کھایا
00:41سب کچھ لٹ گیا اور آنکھوں کی روشنی بھی چلی گئی
00:44اب دل میں صرف یہی اچھا ہے
00:46کہ اگر اپنے نہیں
00:47تو کسی اور کے کمائے ہوئے روپے
00:49ایک پل کے لیے ہی سہی
00:51اپنے ہاتھوں میں محسوس کرو
00:53تاکہ دل کو کچھ سکون مل جائے
00:56ویاپاری نے سوچا یہ تو اندھا بھکاری ہے
00:58جائے گا کہا
00:59اگر اس کی دل کی اچھا ہے اتنی سی ہے
01:00تو پوری کر دینی چاہیے
01:02اس نے اپنی تھیلی بھکاری کے ہاتھ میں دیتے ہوئے کہا
01:04لو ایک پل کے لیے تمہاری اچھا پوری ہو جائے
01:07بھکاری نے خوشی خوشی تھیلی لی اور شکریہ کہا
01:10کچھ دیر بعد ویاپاری نے کہا
01:12اب میری تھیلی واپس کر دو مجھے دیر ہو رہی ہے
01:14بھکاری نے حیرانی سے کہا
01:15تھیلی کونسی تھیلی
01:17میں نے تو کوئی تھیلی نہیں لی
01:19ویاپاری گھبرائیا اور بولا
01:20مزاک مت کرو
01:22تھیلی واپس کر دو
01:23بھکاری نے جواب دیا
01:24میں نے تمام عمر بھیق مانگ کر پیسہ جوڑا ہے
01:27تم کہاں سے بدبخت ڈاکو آگئے
01:30جو میری ساری زندگی کی کمائی
01:32اتنی آسانی سے چھین لینا چاہتے ہو
01:33یہ سن کر ویاپاری کا صبر جواب دے گیا
01:37دونوں کے بیچ جھگرا شروع ہو گیا
01:39ہاتھ ہپائی ہو رہی تھی
01:41کہ تب ہی ایک درویش وہاں سے گزر رہے تھے
01:43اس نے دونوں کی بات سنی اور بولا
01:45میں تمہارے بیچ فیصلہ کرتا ہوں
01:48قریب ہی ایک گاؤں ہے
01:49تم میں سے ایک وہاں سے پتیلہ لاؤ
01:51اور دوسرا لکریان اکھٹھا کریں
01:54دونوں نے درویش کی بات مان لی
01:55جب پتیلہ آ گیا
01:57تو درویش نے اس میں پانی ڈالا
01:58نیچے آگ لگائی اور وہ تھیلی پتیلے میں ڈال دی
02:01کچھ دیر تک وہ پانی کو دھیان سے دیکھتا رہا
02:03پھر اس نے تھیلی نکالی اور ویاپاری کے حوالے کر دی
02:06یہ دیکھ کر بھکاری غصے میں بولا
02:08یہ تھیلی میری ہے
02:08آپ نے اسے ویاپاری کو کیوں دے دیا
02:11درویش مسکرائے اور بولے
02:12تم جھوٹ بول رہے ہو
02:13یہ تھیلی گوشت فروش کی ہے
02:15دیکھو گرم پانی کی سطح پر گوشت کی چربی کے ذرات تیر رہے ہیں
02:18یہ اس بات کا سنکیت ہے
02:19کہ ویاپاری کے ہاتھوں پر گوشت کی چربی لگی تھی
02:22جو سککوں پر بھی چلی گئی
02:23یہی اس کے پکش میں گواہی دے رہی ہے
02:25یہ سن کر بھکاری شرمندہ ہو گیا
02:27ویاپاری نے درویش کا دھنیواد کیا
02:29اور اتمنان کے ساتھ
02:31اپنے سفر پر نکل پڑا
Comments

Recommended