00:00ایک شخص کئی برسوں سے گوشت بیچتا رہا
00:02برسوں کی محنت کے بعد اس نے تین ہزار سکھے جمع کیے
00:06اور اپنے دیش کی اور روانہ ہوا
00:08کئی دنوں کے سفر کے بعد وہ ایک ریگستان سے گزر رہا تھا
00:12کی اچانک اس کی نظر ایک اندھے بھکاری پر پڑی
00:14جو ایک پیر کے نیچے بیٹھا اونچی آواز میں پکار رہا تھا
00:18دنیا نے مجھ سے سب کچھ چھین لیا
00:20یہاں تک کی میری آنکھوں کی روشنی بھی چلی گئی
00:23کاش ایک بار پھر میرے ہاتھوں میں روپیوں کی تھیلی آ جائے
00:27بھکاری بار بار یہی شبد دھرا رہا تھا
00:29ویاپاری اس کے قریب گیا اور پوچھا
00:32تم زمانے سے اتنے پریشان کیوں ہو
00:35بھکاری نے آہ بھرتے ہوئے کہا
00:36میں بھی کبھی ایک بڑا ویاپاری تھا
00:38میرے پاس بہت دولت اور سمپتی تھی
00:40پر قسمت نے پلٹا کھایا
00:41سب کچھ لٹ گیا اور آنکھوں کی روشنی بھی چلی گئی
00:44اب دل میں صرف یہی اچھا ہے
00:46کہ اگر اپنے نہیں
00:47تو کسی اور کے کمائے ہوئے روپے
00:49ایک پل کے لیے ہی سہی
00:51اپنے ہاتھوں میں محسوس کرو
00:53تاکہ دل کو کچھ سکون مل جائے
00:56ویاپاری نے سوچا یہ تو اندھا بھکاری ہے
00:58جائے گا کہا
00:59اگر اس کی دل کی اچھا ہے اتنی سی ہے
01:00تو پوری کر دینی چاہیے
01:02اس نے اپنی تھیلی بھکاری کے ہاتھ میں دیتے ہوئے کہا
01:04لو ایک پل کے لیے تمہاری اچھا پوری ہو جائے
01:07بھکاری نے خوشی خوشی تھیلی لی اور شکریہ کہا
01:10کچھ دیر بعد ویاپاری نے کہا
01:12اب میری تھیلی واپس کر دو مجھے دیر ہو رہی ہے
01:14بھکاری نے حیرانی سے کہا
01:15تھیلی کونسی تھیلی
01:17میں نے تو کوئی تھیلی نہیں لی
01:19ویاپاری گھبرائیا اور بولا
01:20مزاک مت کرو
01:22تھیلی واپس کر دو
01:23بھکاری نے جواب دیا
01:24میں نے تمام عمر بھیق مانگ کر پیسہ جوڑا ہے
01:27تم کہاں سے بدبخت ڈاکو آگئے
01:30جو میری ساری زندگی کی کمائی
01:32اتنی آسانی سے چھین لینا چاہتے ہو
01:33یہ سن کر ویاپاری کا صبر جواب دے گیا
01:37دونوں کے بیچ جھگرا شروع ہو گیا
01:39ہاتھ ہپائی ہو رہی تھی
01:41کہ تب ہی ایک درویش وہاں سے گزر رہے تھے
01:43اس نے دونوں کی بات سنی اور بولا
01:45میں تمہارے بیچ فیصلہ کرتا ہوں
01:48قریب ہی ایک گاؤں ہے
01:49تم میں سے ایک وہاں سے پتیلہ لاؤ
01:51اور دوسرا لکریان اکھٹھا کریں
01:54دونوں نے درویش کی بات مان لی
01:55جب پتیلہ آ گیا
01:57تو درویش نے اس میں پانی ڈالا
01:58نیچے آگ لگائی اور وہ تھیلی پتیلے میں ڈال دی
02:01کچھ دیر تک وہ پانی کو دھیان سے دیکھتا رہا
02:03پھر اس نے تھیلی نکالی اور ویاپاری کے حوالے کر دی
02:06یہ دیکھ کر بھکاری غصے میں بولا
02:08یہ تھیلی میری ہے
02:08آپ نے اسے ویاپاری کو کیوں دے دیا
02:11درویش مسکرائے اور بولے
02:12تم جھوٹ بول رہے ہو
02:13یہ تھیلی گوشت فروش کی ہے
02:15دیکھو گرم پانی کی سطح پر گوشت کی چربی کے ذرات تیر رہے ہیں
02:18یہ اس بات کا سنکیت ہے
02:19کہ ویاپاری کے ہاتھوں پر گوشت کی چربی لگی تھی
02:22جو سککوں پر بھی چلی گئی
02:23یہی اس کے پکش میں گواہی دے رہی ہے
02:25یہ سن کر بھکاری شرمندہ ہو گیا
02:27ویاپاری نے درویش کا دھنیواد کیا
02:29اور اتمنان کے ساتھ
02:31اپنے سفر پر نکل پڑا
Comments