Skip to playerSkip to main content
ऐसे ही मजेदार भोजपुरी लाइव देखने के लिए चैनल को सब्सक्राइब करे
क्या अटूट भक्ति किसी भी विनाशकारी काली शक्ति को ख़त्म कर सकती है?
देखिए कपिल की यह रोंगटे खड़े कर देने वाली सच्ची कहानी, जिस पर किसी ने विनाशकारी प्रेत टोटका कर दिया था, और उसका हँसता-खेलता जीवन, व्यापार और स्वास्थ्य सब कुछ बर्बाद हो गया था। तांत्रिकों और डॉक्टरों के असफल प्रयासों के बाद, एक पुराने मित्र की सलाह और हनुमान चालीसा के पाठ ने उसकी ज़िंदगी कैसे बदल दी, यह रहस्य आपको हैरान कर देगा।

यह कथा सिखाती है कि ईश्वर की शक्ति के सामने कोई भी बुरी शक्ति नहीं टिक सकती। कठिन समय में धैर्य और विश्वास बनाए रखने का संदेश देने वाली इस कथा को ज़रूर देखें!

क्या आप ऐसी शक्तियों पर विश्वास करते हैं? कमेंट में बताएं। और चैनल को सब्सक्राइब ज़रूर करें। 🙏

#HanumanJi #HanumanChalisa #PretTotka #BlackMagicSpells #MiracleStory #Faith #Spirituality #Miracle #KapilStory #AdhyatmikRahasya #AatutVishwas #LordHanuman #EvilEyeRemoval #Positivity #MotivationHindi

Category

😹
Fun
Transcript
00:00سوچئے زندگی بلکل پرفیکٹ چل رہی ہو، پیسا، شوہرت، کامیابی، سب کچھ خدموں میں ہو، اور پھر اچانک ایک جھٹکے
00:07میں سب کچھ ایک خوفناک سپنے میں بدل جائے، آج ہم ایک ایسے ہی ادرشت دشمن کی کہانی کھنگالنے والے
00:14ہیں، ایک ایسا خوف جہاں ہر پرچھائی میں موت شپی نظر آتی تھی، یہ کوئی مرگھڑت کہانی نہیں ہے، یہ
00:20ایک ایسا رحیسی ہے جو سچ میں انسان کی روح کمپا دیتا ہے، چلیے اس اندھکار میں
00:25ادرتے ہیں، میں پاگل ہو چکا ہوں، تمہارا اور ہماری بیٹیوں کا خیال کون رکھے گا، اب میں کسی کام
00:31کا نہیں رہا، ذرا اس درد کو محسوس کیجئے، یہ محض کچھ شبد نہیں ہے، یہ پکار تھی کپل کی،
00:37ایک ایسا انسان جو اندر سے پوری طرح ٹوٹ چکا تھا، جسے یقین ہو گیا تھا کہ کوئی اندیکھی خوفناک
00:44طاقت ہاتھ دھو کر اس کے پیچھے پڑی ہے، ایک ایسا دشمن جو دکھتا تو نہیں لیکن جان لینے پر
00:49آمادہ تھا، تو یہ سب شروع کیسے ہوا
00:52چلیے شروعات کے وہم کی طرف چالتے ہیں، اس پوری دہشت کے شروع ہونے سے پہلے کپل کی زندگی کامیابی
00:59کے ایک دم شکر پڑ تھی، مطلب ایک چمکتا ہوا بزنس، ویدیش یاترائیں اور گلے میں بھاری سونے کی چھینے،
01:06ان کا رودبہ ہی الگ تھا، وہ اکثر کھلے آم کہتے تھے کہ بھگوان نے انہیں چھپڑ پھاڑ کے دیا
01:11ہے، لیکن انہوں نے اپنے قریبیوں کی ایک بہت بڑی چیتاونی کو پوری طرح نظرانداز کر دیا، وہ کہتے ہیں
01:16نا
01:17ضرورت سے زیادہ دکھاوا کبھی کبھی ایک خاموش اور خطرناک جلن کو نیوطہ دے دیتا ہے، اور یہی جلن آگے
01:23چل کر کیا بیناشکاری روپ لے سکتی ہے، اس کا انہیں اندازہ بھی نہیں تھا، اور یہی سے ہوتی ہے
01:29تباہی کی شروعات
01:30تباہی کا پہلا ڈومینو گیرہ ایک آم سی صبح، صبح کے ٹھیک سارے چھے بج رہے تھے، اچانک کہیں سے
01:37ایک کالا کتہ سامنے آ گیا، اس کے بعد جو ہوا وہ رونگٹے کھڑے کر دینے والا تھا، ایک بھیانک
01:43ایکسیڈنٹ، سر میں گہری چوٹ اور کئی سارے ٹاکے، لیکن اصلی خوف شاریلیگ چوٹوں کا نہیں تھا، جیسے جیسے شریر
01:51کے گھاؤ بھر رہے تھے، ویسے ویسے دماغ کے اندر ایک انجانہ، گہرا اور اپراکرتک خوف گھ
01:57کرنے لگا، ایک ایسی بیچینی جسے کوئی بھی ڈاکٹر سمجھا نہیں پا رہا تھا، لیکن بات صرف بیچینی تک نہیں
02:03رکی، دیکھتے ہی دیکھتے یہ خوف بڑھنے لگا، جو گھبراہت شروع میں ایک وہم لگ رہی تھی، اس نے بہت
02:10جلد ایک خوفناک دہشت کا روپ لے لیا، ذرا سوچئے، بند اور تالہ لگی چھت پر کسی کے بھاری قدموں
02:16کی آوازیں گونج رہی ہیں، بیڈروم کا پنکھا اچانک ایسے کپنے لگتا ہے جیسے
02:21کوئی بڑا بھوکم پا گیا ہو، پینے کا ساف پانی راتو رات بلکل کالا اور میلا ہو جاتا ہے، اور
02:27تو اور گلی کے جانور وہ بینا پلک جھپکائے کھاموشی سے بس گھورتے رہتے ہیں جیسے وہ کسی ادرش سائے
02:34کو دیکھ رہے ہو، یہ سب کوئی اتفاق نہیں تھا، یہ سب ایک ہی وقت پر ہو رہا تھا، اور
02:39پھر وہ پالایا جس کا سب سے زیادہ ڈر تھا، سائے کا جاغنا، اب تک جو چیزیں صرف وہم لگ
02:47رہی تھی، وہ اچانک ایک خوفناک
02:50اور جان لیوہ سچائی میں بدل گئی، شام کے ساڑے ساتھ بج رہے تھے، کپل اپنے گودام میں بلکو لکیے
02:56لے کھڑے تھے، اندھیرہ چھا رہا تھا اور تب ہی پیچھے سے ایک گھنے، ٹھوس کالے سائے نے ان پر
03:03زبردست چھپٹا مارا، وہ وہی کے وہی پوری طرح سے بے ہوش ہو گئے، اس ایک حملے نے کپل کو
03:08اندر تک اتنا توڑ دیا کہ انہیں اپنے ہی پریوار کے سدسیوں کے چہروں میں وہی بھوتیا سایا نظر آنے
03:15لگا، وہ اب کسی پ
03:16پر بھی بھروسہ نہیں کر پا رہے تھے، جب حالت پوری طرح بے کابو ہو گئی تو باٹ آئی ڈائیگنوسس
03:22پر، کپل دن با دن ٹوٹتے جا رہے تھے اور ان کے بے بس پریوار کے سامنے دو بلکل الگ
03:29الگ جواب تھے، ایک طرف تھی مارڈن میڈیکل سائنس، ڈاکٹرز کا کہنا تھا کہ یہ سب اس ایکسیڈنٹ سے جڑا
03:35دماغی صدمہ اور بھینکر پیرانویا ہے، لیکن دوسری طرف تھا ادھیا آتما، ایک ستھانیہ مندر کے پجاری نے
03:43کسی بہت ہی بھیانک اور الوقک چیز کی طرف اشارہ کیا، دو بلکل الگ دنیا اور دونوں کے اپنے اپنے
03:50ترک، پوجاری نے اس رہش سے میں بیماری کو نام دیا پریتھ ٹوٹکا، اب یہ کیا ہوتا ہے؟ یہ کالے
03:57جادو کا ایک ایسا بھیانک اور خطرناک روپ مانا جاتا ہے جسے کوئی ایسا انسان کرواتا ہے جو آپ سے
04:03بے انتہا جلتا ہو، اس کا صرف ایک ہی مقصد ہوتا ہے، سامنے والے کی پرفیکٹ زندگی، اس کا بزنس
04:09اور اس کا مانسک سنتولن پوری طر
04:11اسے جڑ سے اکھاڑ پھیکنا، کپل کی خوشال زندگی کو جیسے کسی کی گہری نظر لگ گئی تھی، اس کے
04:18بعد شروع ہوا ہتاشا اور گھور نیراشا کا دور، پریوار نے اپنی طرف سے کوئی قصر نہیں چھوڑی، بڑے بڑے
04:25انوشتھان کروائے، مہنگے تابیز باندھے، کئی باباؤں کے چکر کاٹے، پانی کی طرح پیسہ بہایا، لیکن نتیجہ کچھ بھی نہیں،
04:33ان سب چیزوں کا کوئی اثر نہیں ہوا، بلکہ وہ کالا سایا اور بھی زیادہ طا
04:38کتور ہو کر واپس لوٹا اور اس بار اس نے کپل کا ایک اور بھیانک ایکسیڈنٹ کروا دیا، کپل ایک
04:45بار پھر سے سڑک پر خون سے لطپت پڑے تھے، سب ختم ہوتا دکھ رہا تھا، لیکن تب ہی ملا
04:50بچاو کا راستہ، جب انسان کی ساری امیدیں ٹوٹ جاتی ہیں، تب کبھی کبھی مدد بلکل اب پرتیاشت جگہ سے
04:57آتی ہے، ایک دن پارک میں کپل کے ایک پرانے دوست کی آواز کھونجی، بہت بےباک اور سخت، اس دوست
05:04نے صاف صاف کہہ دیا کہ پجاری
05:06کو انشتھان کے لیے پیسہ دینا تورنت بند کرو، اگر سچ میں ایشوری مدد چاہیے نا تو اپنی ادھیاتمک سرکشہ
05:13کی ذمہ داری خود اٹھانی ہوگی، یہ کوئی کھوکلی سانتونا نہیں تھی، یہ ایک چنوٹی تھی، اس دوست نے کپل
05:20کو ایک بڑا حصی دھا لیکن بہت اصردار تین قدموں کا راستہ بتایا، پہلا، مندر کا پوچھا سندور پجاریوں سے
05:27لگوانے کے بجائے خود اپنے ہاتھوں سے لگانا، دوسرا، رکشہ کرنے والی حنمان
05:32چالیسہ کو یاد کرنا اور خود اس کا پاٹ کرنا، اور تیسرا جو شاید سب سے مشکل تھا، اپنے اندر
05:38بیٹھے اس کمپا دینے والے خوف کو پوری طرح سے نکال پھیکنا اور بلکل بے خوف ہو کر سونا، کسی
05:44اور پر نربھر ہونے کے بجائے خود کو ہی اپنی ڈھال بنانا
05:48بارہ، جی ہاں بارہ گھنٹے، اسی رات ان تین سٹی قدموں کا پوری طرح سے پالن کرنے کے بعد ایک
05:55چمتکار سا ہوا، جو کپل رات رات بھر خوف کے مارے کاپتے ہوئے اٹھ جاتے تھے، وہ ایک کومہ جیسی
06:01گہری اور بینا کسی بادھا والی نیند میں پورے بارہ گھنٹے تک سوتے رہے، کوئی سایا نہیں، کوئی دہشت نہیں
06:08اور جب وہ گہری نیند ٹوٹی نا، تو دماغ اس خوفناک ڈر سے پوری طرح دھل چکا تھا، وہ نیند
06:15اتنی گہری اور سکون بھرے تھی کہ اٹھنے پر کپل کو کچھ پل کے لیے اپنا نام تک یاد نہیں
06:20رہا، وہ خوفناک دشوپن، وہ کالا سایا سب کچھ ٹوٹ کر بکھر چکا تھا، ان کا کھویا ہوا آتم وشواس
06:26واپس لوٹ آیا تھا، انہوں نے اپنی زندگی، اپنا بزنس، سب کچھ واپس حاصل کر لیا
06:31اور اس خوف کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالتے ہوئے انہوں نے اپنی وہ بھاری سونے کی چینے پھر سے پہن
06:37لی، تو اس رونگٹے کھڑے کر دینے والی کہانی کے انت میں ایک بہت بڑا سوال پیچھے چھوٹ جاتا ہے
06:42کیا کپل کی یہ جیت سچ میں کسی اولوک ایک کالے جادو یا شراب کی ہار تھی؟ یا پھر یہ
06:50انسان کے اپنے بھیتر پلنے والے اس اٹوٹ وشواس کی طاقت کا ایک جیتا جاگتا سبوت تھا
06:55کیا سچی سرکشہ ہمیں باہر کے خریدے گئے انوشتھانوں سے ملتی ہے یا اس حمد سے جو ہم خود اپنے
07:02اندر پیدا کرتے ہیں؟
07:03اس بارے میں ضرور سوچے گا
07:25باہر کے خریدے ہیں
Comments

Recommended