00:00سوچئے زندگی بلکل پرفیکٹ چل رہی ہو، پیسا، شوہرت، کامیابی، سب کچھ خدموں میں ہو، اور پھر اچانک ایک جھٹکے
00:07میں سب کچھ ایک خوفناک سپنے میں بدل جائے، آج ہم ایک ایسے ہی ادرشت دشمن کی کہانی کھنگالنے والے
00:14ہیں، ایک ایسا خوف جہاں ہر پرچھائی میں موت شپی نظر آتی تھی، یہ کوئی مرگھڑت کہانی نہیں ہے، یہ
00:20ایک ایسا رحیسی ہے جو سچ میں انسان کی روح کمپا دیتا ہے، چلیے اس اندھکار میں
00:25ادرتے ہیں، میں پاگل ہو چکا ہوں، تمہارا اور ہماری بیٹیوں کا خیال کون رکھے گا، اب میں کسی کام
00:31کا نہیں رہا، ذرا اس درد کو محسوس کیجئے، یہ محض کچھ شبد نہیں ہے، یہ پکار تھی کپل کی،
00:37ایک ایسا انسان جو اندر سے پوری طرح ٹوٹ چکا تھا، جسے یقین ہو گیا تھا کہ کوئی اندیکھی خوفناک
00:44طاقت ہاتھ دھو کر اس کے پیچھے پڑی ہے، ایک ایسا دشمن جو دکھتا تو نہیں لیکن جان لینے پر
00:49آمادہ تھا، تو یہ سب شروع کیسے ہوا
00:52چلیے شروعات کے وہم کی طرف چالتے ہیں، اس پوری دہشت کے شروع ہونے سے پہلے کپل کی زندگی کامیابی
00:59کے ایک دم شکر پڑ تھی، مطلب ایک چمکتا ہوا بزنس، ویدیش یاترائیں اور گلے میں بھاری سونے کی چھینے،
01:06ان کا رودبہ ہی الگ تھا، وہ اکثر کھلے آم کہتے تھے کہ بھگوان نے انہیں چھپڑ پھاڑ کے دیا
01:11ہے، لیکن انہوں نے اپنے قریبیوں کی ایک بہت بڑی چیتاونی کو پوری طرح نظرانداز کر دیا، وہ کہتے ہیں
01:16نا
01:17ضرورت سے زیادہ دکھاوا کبھی کبھی ایک خاموش اور خطرناک جلن کو نیوطہ دے دیتا ہے، اور یہی جلن آگے
01:23چل کر کیا بیناشکاری روپ لے سکتی ہے، اس کا انہیں اندازہ بھی نہیں تھا، اور یہی سے ہوتی ہے
01:29تباہی کی شروعات
01:30تباہی کا پہلا ڈومینو گیرہ ایک آم سی صبح، صبح کے ٹھیک سارے چھے بج رہے تھے، اچانک کہیں سے
01:37ایک کالا کتہ سامنے آ گیا، اس کے بعد جو ہوا وہ رونگٹے کھڑے کر دینے والا تھا، ایک بھیانک
01:43ایکسیڈنٹ، سر میں گہری چوٹ اور کئی سارے ٹاکے، لیکن اصلی خوف شاریلیگ چوٹوں کا نہیں تھا، جیسے جیسے شریر
01:51کے گھاؤ بھر رہے تھے، ویسے ویسے دماغ کے اندر ایک انجانہ، گہرا اور اپراکرتک خوف گھ
01:57کرنے لگا، ایک ایسی بیچینی جسے کوئی بھی ڈاکٹر سمجھا نہیں پا رہا تھا، لیکن بات صرف بیچینی تک نہیں
02:03رکی، دیکھتے ہی دیکھتے یہ خوف بڑھنے لگا، جو گھبراہت شروع میں ایک وہم لگ رہی تھی، اس نے بہت
02:10جلد ایک خوفناک دہشت کا روپ لے لیا، ذرا سوچئے، بند اور تالہ لگی چھت پر کسی کے بھاری قدموں
02:16کی آوازیں گونج رہی ہیں، بیڈروم کا پنکھا اچانک ایسے کپنے لگتا ہے جیسے
02:21کوئی بڑا بھوکم پا گیا ہو، پینے کا ساف پانی راتو رات بلکل کالا اور میلا ہو جاتا ہے، اور
02:27تو اور گلی کے جانور وہ بینا پلک جھپکائے کھاموشی سے بس گھورتے رہتے ہیں جیسے وہ کسی ادرش سائے
02:34کو دیکھ رہے ہو، یہ سب کوئی اتفاق نہیں تھا، یہ سب ایک ہی وقت پر ہو رہا تھا، اور
02:39پھر وہ پالایا جس کا سب سے زیادہ ڈر تھا، سائے کا جاغنا، اب تک جو چیزیں صرف وہم لگ
02:47رہی تھی، وہ اچانک ایک خوفناک
02:50اور جان لیوہ سچائی میں بدل گئی، شام کے ساڑے ساتھ بج رہے تھے، کپل اپنے گودام میں بلکو لکیے
02:56لے کھڑے تھے، اندھیرہ چھا رہا تھا اور تب ہی پیچھے سے ایک گھنے، ٹھوس کالے سائے نے ان پر
03:03زبردست چھپٹا مارا، وہ وہی کے وہی پوری طرح سے بے ہوش ہو گئے، اس ایک حملے نے کپل کو
03:08اندر تک اتنا توڑ دیا کہ انہیں اپنے ہی پریوار کے سدسیوں کے چہروں میں وہی بھوتیا سایا نظر آنے
03:15لگا، وہ اب کسی پ
03:16پر بھی بھروسہ نہیں کر پا رہے تھے، جب حالت پوری طرح بے کابو ہو گئی تو باٹ آئی ڈائیگنوسس
03:22پر، کپل دن با دن ٹوٹتے جا رہے تھے اور ان کے بے بس پریوار کے سامنے دو بلکل الگ
03:29الگ جواب تھے، ایک طرف تھی مارڈن میڈیکل سائنس، ڈاکٹرز کا کہنا تھا کہ یہ سب اس ایکسیڈنٹ سے جڑا
03:35دماغی صدمہ اور بھینکر پیرانویا ہے، لیکن دوسری طرف تھا ادھیا آتما، ایک ستھانیہ مندر کے پجاری نے
03:43کسی بہت ہی بھیانک اور الوقک چیز کی طرف اشارہ کیا، دو بلکل الگ دنیا اور دونوں کے اپنے اپنے
03:50ترک، پوجاری نے اس رہش سے میں بیماری کو نام دیا پریتھ ٹوٹکا، اب یہ کیا ہوتا ہے؟ یہ کالے
03:57جادو کا ایک ایسا بھیانک اور خطرناک روپ مانا جاتا ہے جسے کوئی ایسا انسان کرواتا ہے جو آپ سے
04:03بے انتہا جلتا ہو، اس کا صرف ایک ہی مقصد ہوتا ہے، سامنے والے کی پرفیکٹ زندگی، اس کا بزنس
04:09اور اس کا مانسک سنتولن پوری طر
04:11اسے جڑ سے اکھاڑ پھیکنا، کپل کی خوشال زندگی کو جیسے کسی کی گہری نظر لگ گئی تھی، اس کے
04:18بعد شروع ہوا ہتاشا اور گھور نیراشا کا دور، پریوار نے اپنی طرف سے کوئی قصر نہیں چھوڑی، بڑے بڑے
04:25انوشتھان کروائے، مہنگے تابیز باندھے، کئی باباؤں کے چکر کاٹے، پانی کی طرح پیسہ بہایا، لیکن نتیجہ کچھ بھی نہیں،
04:33ان سب چیزوں کا کوئی اثر نہیں ہوا، بلکہ وہ کالا سایا اور بھی زیادہ طا
04:38کتور ہو کر واپس لوٹا اور اس بار اس نے کپل کا ایک اور بھیانک ایکسیڈنٹ کروا دیا، کپل ایک
04:45بار پھر سے سڑک پر خون سے لطپت پڑے تھے، سب ختم ہوتا دکھ رہا تھا، لیکن تب ہی ملا
04:50بچاو کا راستہ، جب انسان کی ساری امیدیں ٹوٹ جاتی ہیں، تب کبھی کبھی مدد بلکل اب پرتیاشت جگہ سے
04:57آتی ہے، ایک دن پارک میں کپل کے ایک پرانے دوست کی آواز کھونجی، بہت بےباک اور سخت، اس دوست
05:04نے صاف صاف کہہ دیا کہ پجاری
05:06کو انشتھان کے لیے پیسہ دینا تورنت بند کرو، اگر سچ میں ایشوری مدد چاہیے نا تو اپنی ادھیاتمک سرکشہ
05:13کی ذمہ داری خود اٹھانی ہوگی، یہ کوئی کھوکلی سانتونا نہیں تھی، یہ ایک چنوٹی تھی، اس دوست نے کپل
05:20کو ایک بڑا حصی دھا لیکن بہت اصردار تین قدموں کا راستہ بتایا، پہلا، مندر کا پوچھا سندور پجاریوں سے
05:27لگوانے کے بجائے خود اپنے ہاتھوں سے لگانا، دوسرا، رکشہ کرنے والی حنمان
05:32چالیسہ کو یاد کرنا اور خود اس کا پاٹ کرنا، اور تیسرا جو شاید سب سے مشکل تھا، اپنے اندر
05:38بیٹھے اس کمپا دینے والے خوف کو پوری طرح سے نکال پھیکنا اور بلکل بے خوف ہو کر سونا، کسی
05:44اور پر نربھر ہونے کے بجائے خود کو ہی اپنی ڈھال بنانا
05:48بارہ، جی ہاں بارہ گھنٹے، اسی رات ان تین سٹی قدموں کا پوری طرح سے پالن کرنے کے بعد ایک
05:55چمتکار سا ہوا، جو کپل رات رات بھر خوف کے مارے کاپتے ہوئے اٹھ جاتے تھے، وہ ایک کومہ جیسی
06:01گہری اور بینا کسی بادھا والی نیند میں پورے بارہ گھنٹے تک سوتے رہے، کوئی سایا نہیں، کوئی دہشت نہیں
06:08اور جب وہ گہری نیند ٹوٹی نا، تو دماغ اس خوفناک ڈر سے پوری طرح دھل چکا تھا، وہ نیند
06:15اتنی گہری اور سکون بھرے تھی کہ اٹھنے پر کپل کو کچھ پل کے لیے اپنا نام تک یاد نہیں
06:20رہا، وہ خوفناک دشوپن، وہ کالا سایا سب کچھ ٹوٹ کر بکھر چکا تھا، ان کا کھویا ہوا آتم وشواس
06:26واپس لوٹ آیا تھا، انہوں نے اپنی زندگی، اپنا بزنس، سب کچھ واپس حاصل کر لیا
06:31اور اس خوف کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالتے ہوئے انہوں نے اپنی وہ بھاری سونے کی چینے پھر سے پہن
06:37لی، تو اس رونگٹے کھڑے کر دینے والی کہانی کے انت میں ایک بہت بڑا سوال پیچھے چھوٹ جاتا ہے
06:42کیا کپل کی یہ جیت سچ میں کسی اولوک ایک کالے جادو یا شراب کی ہار تھی؟ یا پھر یہ
06:50انسان کے اپنے بھیتر پلنے والے اس اٹوٹ وشواس کی طاقت کا ایک جیتا جاگتا سبوت تھا
06:55کیا سچی سرکشہ ہمیں باہر کے خریدے گئے انوشتھانوں سے ملتی ہے یا اس حمد سے جو ہم خود اپنے
07:02اندر پیدا کرتے ہیں؟
07:03اس بارے میں ضرور سوچے گا
07:25باہر کے خریدے ہیں
Comments