- 7 minutes ago
Kafeel ep 29 Pakistani drama
Category
😹
FunTranscript
00:00عشقہ دی ماری پیہ ساتھ چھوڑنا بے ہم سے جو بھول ہوئی ہے
00:08کچھ تو بھولنا
00:12مجھے ہرگز یہ توقع نہیں تھی تم لوگوں سے
00:17اتنے قابل لائق سمجھدار بچے ہو تم لوگ
00:20مجھے تو پورا یقین تھا کہ
00:23سیبا کو سمجھا کے اپنے ماں باپ کی صلاح کروا گے
00:30بہت مایوس کیا ہے تم لوگوں نے مجھے
00:32تم سب نے سب سے زیادہ سبک نے
00:37کہاں ہے وہ
00:38شام میں آئیں گے سبک بھائی
00:40آفیس گئے ہے ابھی وہ
00:44بس اب یہ سب نہیں چلے گا اس طرح
00:47میں آئی ہوں نہ پاکستان
00:50صلاح کروا گے
00:52اس مسئلے کو صورف کروا گے
00:53اور تم لوگ کو تمہارے گھر واپس چھوڑ کر ہی
00:56یہاں سے جاؤں گی
00:57پھپا بہت لیٹ ہو چکی ہے
00:59اگلی پیشے پہ کھلا کا فیصلہ ہو جائے گا
01:01ہرے کوئی بچوں کا کھیلے کیا کھلا
01:03اور اللہ نہ کرے تمہاری ماں کھلا لے
01:07ہرے تم لوگ جانتی بھی ہو
01:09طلاق یافتہ عورت کا کیا حال کرتا ہے یہ معاشرہ
01:13نہیں پھپو
01:13میں یہ بالکل نہیں جانتی کہ
01:15ایک طلاق یافتہ عورت کے ساتھ
01:17یہ معاشرہ کیا حال کرتا ہے
01:18یہ مجھے نہیں پتا
01:19ہاں لیکن میں یہ ضرور جانتی ہوں
01:21کہ ایک بڑی شادی
01:23ایک اچھی عورت کا کیا بگار سکتی ہے
01:24دیکھا ہوں میں نے یہ سب کو
01:26چار وٹنس ہوں میں سب کی
01:27بیٹا تمہیں تو ان معاملات میں
01:29کچھ بولنا ہی نہیں چاہیے
01:30عمر دیکھو اپنی
01:32جانتی کیا ہو تم
01:33اس دنیا کے بارے میں
01:35پھپا میں بڑی ہو گئی ہوں
01:36میں چھوٹی نہیں رہی ہوں اب
01:38پتہ ہے مجھے سب کچھ
01:40اور آپ جس ملک سے آئی ہیں
01:41وہاں میری عمر کے لوگ
01:42اپنے زندگی کے فیصلے کر رہے ہوتے ہیں
01:44اور آپ مجھے کہہ رہے کہ
01:45مجھے کچھ پتہ ہی نہیں ہے
01:46میں چھوٹی ہوں
01:48کس لہچے میں بات کر رہی ہو تم مجھ سے
01:53کیا ہو گیا ہے تمہیں
01:54اگر آپ بھی ہماری والی زندگی گزارتی نہیں
01:56اتنے سالوں تک
01:57تو آپ بھی میری جیسی ہو جاتی
01:59بلکہ آپ کے بچے بھی میری جیسے ہو جاتے
02:01اگر پھپا اببو کی طرح ہوتے
02:02یہ کیا کہہ رہی ہے
02:06سمجھاؤ اسے
02:07بڑے چھوٹے کی
02:09تمیز ہی نہیں رہی
02:10کس طرح بات کرنا ہے
02:13اپپو تمیز تو آپ مجھ میں بھی نہیں رہی ہے
02:16تانیا جو کہہ رہی ہے
02:16صحیح کہہ رہی ہے
02:18آپ اتنی دھور سے آئیں ہیں
02:20آپ کو ہمارا کنسرن ہے
02:22اس کے لئے شکریہ
02:24لیکن اگر آپ ہماری زندگی
02:25تھوڑی سی بھی آسان بنانا چاہتی ہیں
02:27تو آپ تیز اببو کو سمجھا دے
02:29کہ میری امی کے اور میرے بھائی کے نمبرز
02:31ان لوگوں کو نہ دے
02:31جن سے انہوں نے کرزے لیے ہوئے
02:34ہم اس گھر میں صرف عزت بچانے آئے تھے
02:36ابتہ کچھ لے کے بھی نہیں آئے
02:38اب وہ بچی کچھ عزت بھی نہیں رہنے دیتے
02:40ان لوگوں کو ہمارے گھر بیچ کے
02:46بیٹا اسی لئے تو کہہ رہی ہے
02:48میری بیٹھ کے یہ معاملات حل ہو سکتے ہیں
02:53باپ ہے وہ تمہارا
02:55اولاد ہو تو اس کی زیبہ بیوی ہے اس کی
02:58آخر وہ کیوں تم لوگوں کی عزت خراب کرنا چاہے گا
03:02کیوں تم لوگوں کو اس طرح تنگ کرے گا
03:06سرور کوئی غلط فیمی ہوئی
03:08جب وہ غلط فیمی ایک دن ہوتی ہے
03:10ایک ہفتہ ہوتی ہے ایک مہینہ ہوتی ہے
03:12اگر اسی غلط فیمی میں پوری زندگی گزر جائے
03:15تو غلط فیمی نہیں رہتی وہ
03:17کوئی بیوکوفی ہو جس کو یہ بات سمجھنا ہے
03:33اسلام علیکم امی
03:35اسلام علیکم امی
03:47دس میں نے سوچا کہ تم لوگوں کو سرپرائز دے تو
03:50اسی لئے بنا بتائے چلی آئے
03:53خیر
03:55چویریہ کی شادی کی بہت بہت مبارک ہو
03:57شکریہ
04:00تو بیٹا فانے کا کچھ انتظام کرو
04:02جی
04:04آپ آئیں کمرے میں اندر رہے
04:21یہ سب کیا ہو رہا ہے حضر
04:25کیا ہو رہا ہے فرانہ با جی
04:27یہیں سب
04:28تم یہاں خوار ہو رہی ہو
04:30اور وہ وہاں خوار ہو رہا ہے
04:31میں خوار نہیں ہو رہا
04:33میں تم سے ایسا کیا کہوں
04:35کیا کروں کہ تمہارا غصہ اتر جائے
04:39تم واپس اپنے گھر چلی جائے
04:44میں مانتی ہوں کہ
04:46جامی نے بہت غلطیاں کی
04:51لیکن اگر تم کہو گی
04:52تو میں جامی کو ابھی یہاں بلالوں گی
04:54وہ تم سے معافی مانگ لے گا
04:59پلیز میری زمانت پر
05:03مان جاؤ وہ کام کرے گا
05:07پلیز ایک چانس دیتو اسے
05:09اور آنہ با جی اسے ایک چانس دیتے دیتے
05:11ساری زندگی گزر گئی چوبیس سال گزر گئے
05:14تو یہ کوئی عمر ہے طلاق لینے کی
05:21مارے بچے بڑے ہو گئے
05:23ایک بیٹی کو بیعا چکی ہو
05:27باقیوں کی بھی شادی کرنی ہے
05:29لوگوں کو کیا جواب دوگی
05:31کیسے ان کے سوالوں کا سامنا کروگی
05:41وہ تو مرد ہے
05:43جھامی کو تو اس عمر میں بھی
05:44ایک سولہ سال کی لڑکی مل جائے گی
05:50مسئلہ تو تمہارا ہے نا زیبا
05:52طلاق دینے کا شوق ہوتا نا فرانہ با جی
05:54تو شادی کے رات ہی لے لیتی
05:56دوسرے دن لے لیتی تیسرے دن لے لیتی
05:59لیکن میں رکھی رہی
06:02سبر کیا
06:03کہ یہی تو ہمارے بڑے سکھاتے نا ہم عورتوں کو
06:06کہ وقت دو
06:07دیکھ لو
06:09شروع شروع میں ایسا ہی ہوتا ہے
06:14مرد شادی کے بعد ٹھیک ہو جاتا ہے
06:16بچوں کے بعد ٹھیک ہو جاتا ہے
06:18اولاد کے جوان ہونے کے بعد ٹھیک ہو جاتا ہے
06:22مرد کے ٹھیک ہونے کا انتظار کرتے کرتے
06:25ساری زندگی چلی جاتی ہے
06:27میں نے بھی ساری زندگی گزار دی فرانہ با جی
06:33اور اتنے سال بعد اب جا کے خیال آیا کہ
06:37ایک ہی زندگی ملتی ہمیں
06:38میرا بھی حق ہے
06:40کہ میں اس میں سے چند سال اپنے لیے گزاروں
06:44اپنے بچوں کے لیے اچھے میمریز بناوں
06:46کہتو بچپن شور شرابا
06:49لڑائی جھگڑا دیکھتے دیکھتے گزر گئی نا
06:55اب اس سے پہلے کہ وہ
06:56اپنی زندگیاں شروع کر دیں
06:59میں انہیں کچھ اچھے میمریز تو بنا کے دوں
07:04تاکہ وہ اپنے ہمسائے اور بچوں کے ساتھ
07:07شیئر کر سکے یہ بتا سکے
07:08کہ ہمارا بھی اچھا گھر تھا
07:10ہم یہ کرتے تھے وہ کرتے تھے
07:13اس طرح ہستے مسکراتے تھے
07:15اچھی زندگی تھی ہماری
07:21بس
07:24بس فرانہ باجی اتنی سی بات ہے
07:28جس کی وجہ سے میں نے یہ فیصلہ لیا
07:31جذباتی فیصلہ ہے تمہارا
07:33بہت جذباتی فیصلہ زیب
07:37کچھ سالوں میں تمہاری بیٹیوں کی شادیاں ہو جائیں گی
07:41وہ اپنے اپنے گھر چلی جائیں گی
07:43جویری یا دوبائی چلی جائیں گی
07:45کیا پتہ باقی کی بیٹیاں کہاں جاتی ہیں
07:48سبح کی شادی ہوگی
07:50وہ اپنی پیوی میں مگن ہو جائے گا
07:53تمہارا کیا ہوں گا
07:56اکھیلی رہ جاؤ گی
07:59بڑھا پاکیلے گزارنا
08:01بہت مشکل ہوتا ہے
08:02جوانی تو ذمہ داریوں میں گزر جاتی ہے
08:05نہ عورت کی
08:09بڑھا پاکیلے نہیں گزارا جاتا
08:11کسی ساتھی کی ضرورت ہوتی ہے
08:13کوئی اپنا پاس ہو
08:14جس کے ساتھ اٹھ بیٹھ سکیں
08:16ہس بول سکیں
08:18اپنے دل کی بات کر سکیں
08:22جب جوانی میں یہ سن نہیں ہوا
08:23تو بڑھاپے میں کیسے ہوگا فرانہ باجی
08:26چومیس سال میں
08:27ہم نے کبھی ایک دوسرے سے
08:28دل کی بات نہیں کی
08:30ہم نوروں کو ایک دوسرے سے
08:31بات کرنی کی عادت ہی نہیں تھی
08:33آپ کی بات ہوتی تھی
08:34بچوں کی
08:36بلوں کی
08:37پریشانیوں کی
08:37لڑائی جھگڑے کی
08:40کی بات تو کبھی کیی تھی
08:42تو پھر بڑھاپے میں کیسے کریں گے
08:45بڑھاپے میں ایک دوسرے کا
08:46ہاتھ پکڑ کے ساتھ کیسے چلیں گے
08:48ساتھ کیسے ہسیں گے
08:55میں ان کا چہرہ دیکھوں گی
08:56تو وہ سب کچھ یاد آئے گا
08:59وہ میرا چہرہ دیکھیں گے
09:01تو شکایتوں کے لابہ وہ کچھ نہیں پڑھائے گا
09:06یہ شادی پوری تھی
09:07ہے اور ہمیشہ رہے گی
09:12اب میں اپنا بڑھاپا بھی
09:13اکیلے گزار لوں گی
09:15جیسے ساری زندگی اکیلے ہی گزارتی رہی
09:17مدی
09:19اکیلے ہس لوں گی
09:20اکیلے رو لوں گی
09:21بغیر سہارے کی لاتی سے چل لوں گی
09:23لیکن جامی کے ساتھ نہیں چلوں
09:26میں نہیں رہ سکتی اب جامی کے ساتھ
09:28فرانہ باجی
09:29میرا دل ختم ہو گیا
09:32دل ہوتا ہے نا عورت
09:34چوبیس سال سے میں اسے ماری ہوں
09:36لیکن آج تک وہ نہیں مرا
09:41اب وہ کہتا ہے میری مان لو نہیں
09:43تو کچھ ہو جائے گا
09:46میں سمجھ سکتی ہوں تمہیں زیبا
09:48میں بھی تو ایک عورت ہوں
09:53لیکن پھر بھی تم سے کہتی
09:57لیسے ایک موقع دے تو جامی کو
10:00وہ شرمندہ ہے
10:03وہ تم سے معافی مانگنا چاہتا ہے
10:06اسے بلن ہی رہنے دے فرانہ باجی
10:09اسے مجبور کر کے وہ
10:10سب نہ کرائیں جو وہ میرے اور میرے
10:12بچوں کے لئے محسوس ہی نہیں کرتے
10:16جو ہمیں کو اپنے حرکتوں
10:18اپنے فیصلے اپنے عادتوں پہ کوئی
10:20پچھتا ہوا نہیں ہے کوئی
10:21شرمندگی نہیں ہے
10:24وہ ہمارے سامنے آپ کی مجبور
10:26کرنے پر ہم سے معافی مانگیں گے
10:27تو ہم شرمندہ ہو جائیں گے
10:30آپ ہمیں اکٹھا کر کے چلی جائیں گی اور
10:33چار مہینے چھ مہینے بعد
10:36پھر سے ہم یہی پہ کھڑے ہوں گے
10:39پہلے میں اور میرے بچے پردان آتے تھے
10:41اب بہو دمات کے سامنے ہم چھپائیں گے
10:44بچوں کے بچوں کے سامنے ہم دیوارے کھڑے کریں گے
10:49بس فرحانہ باجی بس
10:53بے اپنے آپ سے بچوں سے لوگوں سے
10:56اور کتنے جھوٹ بولو
10:58کتنے جھوٹ بولو
10:59آپ کو اپنے بھائی کی شادی نہیں کرانا چاہیے تھی
11:04فرحانہ باجی
11:07تمہیں پہلے تو کبھی اتنی شکایتیں نہیں ہوئی زیبا
11:10پری اچھانا کتنی ساری شکایتیں کہاں سے آگئی
11:13کیونکہ میرے برداشت کا پیمانہ بھر چکا ہے
11:15میرا دل اٹھ گیا ہے زندگی سے اس رشتے سے
11:20برداشت کی بھی ایک حد ہوتی ہے
11:23آپ خود بتائیں نا
11:24دو لو جو ایک دوسری کی عزت نہ کریں
11:27وہ ساتھ کیسے چل سکتے ہیں
11:29چوبیس سال
11:31چوبیس سال چل کر دیکھیں میرے اور آپ پھر بھی کہہ رہی ہیں
11:34کہ ساری زندگی ہی ایسے گزار لو
11:36یہ جانتے ہوئے کہ میں جامی کی عزت نہیں کرتی
11:39نہ وہ میرے کرتے ہیں
11:41کسی گھر میں کوئی نوکر بھی ہونا
11:43جو اپنے مالک کی عزت نہ کرتا ہو
11:46تو یا تو مالک اس سے نکال دے گا
11:48یا وہ خود چھوڑ کے چلا جائے گا
11:51آپ تو مجھے یہ بھی اختیار نہیں دے رہی
11:54میں تو صرف فکر مند ہوں زیبا
11:59اور صرف ایک نا کھما کر کھلانے پر
12:01تمہارا دل میرے بھائی سے اکتا گیا ہے
12:05چوبیس سال
12:07نا کھما کے
12:09اس نے کہا کہ ایک کاغذ کی وجہ سے
12:10میں آپ کے بھائی کے ساتھ ہوں
12:14کھما کے نا کھلانا
12:15اس کا ایک عیب نہیں تھا فرانہ ماجی
12:18ایک کفیل ہوتا ہے نا
12:21نکاح کے بعد وہ صرف یہ نہیں کہتا کہ میں
12:25کما کے تمہیں کھلاؤں گا
12:29وہ کہتا ہے میں تمہارے احساس کروں گا
12:32تمہارا حسن سلوک کروں گا
12:35تمہارا لباس بنوں گا
12:36تمہاری عزت کروں گا
12:41جامی نے ایک چیز بھی نہیں کی
12:46ساری زندگی میں نے کما کے دیا ہے
12:49جامی کو کم کمانے پر شاید بلیم نہ کرتی اگر وہ
12:53وہ بس میرا خیال رکھتا
12:56میرا احساس کرتا
12:59میری قربانیوں کی قدر کرتا
13:05لیکن اس نے مالی طور پر میری کفالت نہیں کی
13:09جذباتی طور پر میری کفالت نہیں کی
13:13اس نے میری عزت نفس مجروح کی
13:15میرے بچوں کو تکلیف پہنچایا
13:17اپنے بچوں کو تکلیف پہنچایا
13:20ارے وہ تو باپ اور شوہر کے طور پر کفالت کرنے کے اہل ہی نہیں ہے فرانہ ماجی
13:25کیونکہ آپ لوگوں نے
13:27اس سے ذمہ داری کا احساس دلا کر شادی ہی نہیں کرائی
13:33جامی آ کر اب ہمیں الزام دیتا ہے اور اب
13:37تم بھی ہم پہ الزام ڈالوگی
13:40کسی کو تو قصور وار ٹھہرانا ہوگا
13:44کسی نہ کسی کو اس الزام کو اپنے سر پہ لینا ہوگا
13:47سندگیاں تباہ کر دی
13:50اب اگر آپ یہ الزام نہیں اٹھانا چاہتی تو بس ختم کر دی
13:58ہمارا رشتہ ایسے ہی رہے گا
14:01بچوں کی پھپی آپ رہیں گی لیکن ہمارا رشتہ تبدیل ہو جائے گا
14:04تو ہو جانے دے تبدیل
14:09وہ بیڑی جو آپ نے مجھے مو دکھائی میں دی تھی نا
14:13اس کو آج میرے پاو سے کٹ جانے دی
14:26موسیقی
14:34موسیقی
14:41موسیقی
14:43میں چلتا ہوں آئنٹی
14:46موسیقی
14:47موسیقی
14:48موسیقی
14:49بٹا میں کہہ رہی تھی کچھ کھا پی لیتے
14:51تھوڑے دو بیٹھ جاتے
14:52نہیں نہیں آئنٹی
14:53بس
14:54میں چلتا ہوں
14:56یہ
14:58کچھ کھانا آمی نے دیا تھا
14:59اتن دنوں سے وہ روز کھانا لائیتی
15:02اب انہیں منع کر دو
15:03ہاں میں
15:04اب منع کر دوں گا
15:05اب وہ گھر آگئی ہے نا
15:08تو بس بول دوں گا
15:25خدا حافظ
15:33خدا حافظ
15:36کیا حافظ
15:47جلو بیٹا
15:48آرام سے
15:58بردہ بیٹا
15:59تم بھی اچھے طریقے سے خدا حافظ کہہ دیتی
16:03تمہارا کیوں امو بنا ہوا تھا
16:05ممہ
16:07انہوں نے ایک دفعہ بھی مجھے ساتھ چلنے کو نہیں کہا
16:12ہاسپٹل سے سیدھا چھوڑ کر چلے گئے
16:17ایک دفعہ تو کہہ سکتے تھے نا
16:19کہ اپنے گھر چلو
16:22ہاں
16:23میں بھی یہ سوچ رہی تھی کہ
16:24اب سب کچھ ٹھیک ہے تو اس سے کہہ دینا چاہیے تھا
16:27لیکن بیٹا
16:29ہو سکتا ہے کہ وہ آج کل میں کہہ دے
16:33یا شاید
16:34وہ یہ سوچ رہا ہو کہ
16:36بچہ ابھی چھوٹا ہے
16:37اور تمہیں بھی تو آرام کی ضرورت ہے نا بیٹا
16:40تو ان کے گھر میں آرام نہیں مل سکتا
16:42کیا مجھے اور میرے بچے کو
16:45رہنے دے ماما
16:47وہ چاہتے ہی نہیں ہیں
16:50نہیں بیٹا
16:52ایسی بات نہیں ہے
16:54اس بیچارے نے لاکھوں روپے کے بل دے دیئے
16:56اور ہم سے ایک روپے بھی نہیں مانگا
16:58تو مطلب پیسے ہیں نا ان کے پاس
17:01گھاڑی بھی آ سکتی تھی
17:06پر انہیں عادت ہے بچت کی
17:08تو دیکھو نا یہی بچت تو کام آتی ہے
17:12یہاں کا تو خالی ہے کہ تمہارے ابو
17:13ناصر کے قوم میں سارے پیسے بھیجتے رہے ہیں
17:16اور وہ صاحب اپنی شادی پر سب کچھ خرج کر کے
17:19خالی آت ہو کر بیٹھے ہیں
17:22میں تو اتنی پریشان تھی
17:24بگر سیف ہمیں پیسے دینے کا کہہ دیتا تو
17:27ہم کیا کرتے
17:30تمہارے ابو فوری طور پر
17:32پیسے ارینج نہیں کر پا رہے تھے
17:35اور ناصر
17:37اسے تو کوئی دلچسپی بھی نہیں لی
17:39خیر تم
17:41آنا دو اس کو پاکستان
17:42دیکھنا کیسے کان کھیشتی ہوں میں اس کے
17:46اسے تم پریشان مت ہو
17:49نہ خیال رکھو
18:08نہیں ہے یہ نا
18:12نہیں ہے آپ میری بات لکھ لیں
18:21پوری زندگی رولے گی یہ عورت
18:25ایک دن آئے گا ایک دن میں پتا رہوں آئے گا
18:29منت سماجد کر کے باپس آئے گی وہ
18:39اس نے کہا ہے کہ
18:41یتنے سالوں سے میں بہت رول چکی فرانہ باچی
18:44چکی فرانہ باپس آئے گا
18:52چکی فرانہ باپس آئے گا
19:23اور ایسے بھی کہہ رہی تھی کہ مجھے کوئی بہت ضروری بات کرنی ہے
19:27حال بتا تم نے جو مو سجایا ہے بھے نا اس کو ٹھیک کر لو
19:31اب تو سرحال کے سامنے مو سجا کے بیٹھو گی تو
19:34اچھا نہیں لگے گا نا
19:36مو پس ویلیڈ ریزن ہے مو سجانے کا
19:38ای نو
19:40اچھا
19:41اچھا
19:41ای وز جس تنکنگ کہ
19:43نبیلہ اور فاروق بھائی کو بھی بلا لیتے ہیں
19:45اب جب وہ لوگ رشتے کے لیے آ رہے ہیں تو
19:47کچھ لوگ ہماری طرح سے بھی ہونے چاہیے
19:49تو مارے ڈیڈ تو کہہ رہے تھے کہ اور لوگ بھی ہونے چاہیے
19:52مجھے لگتا ابھی اتنے ہی کافی ہیں
19:55مجھے نہیں بدا آپ لوگ کو جو صحیح لگے کٹ لے
19:57اچھا ماما سننے پکی بات ہے نا
20:00کہ رشتہ لے کے آ رہے ہیں
20:01ایسا نہ ہو کہ کوئی اور ہی بات ہو
20:03اتنا ایک سپیٹنس تو ہے میرا
20:06تمہیں سرپرائز دینا چاہ رہے ہوں گے
20:08مجھے سرپرائز نہیں دے سکتے
20:11نیکس ویگ پہ پتا چل جائے گا
20:12کافی بناو تمہار ڈیئے
20:15ویسے تو تم ایپل کھا رہی ہو
20:16توڑی سے بناو دے
20:18اوکے
20:29ہلو
20:30ہلو زیبہ
20:31آواز آرہی ہے میری
20:33ہاں سنیرا ٹوٹ ٹوٹ کیا لی ہے
20:35تم باہر ہو کہیں
20:37ہاں میں جمال بھائی کے گھر آئی میں ہوں
20:39نکاح کا فنکشن ہے یہاں
20:41میں تھوڑی دیر بعد کال کروں
20:49موسیقی
20:58کیوں گیا میری
20:59اسی کیوں کھڑی ہے
21:00کچھ نہیں ہوں
21:04موسیقی
21:04موسیقی
21:05گرگا کل
21:06تانی کیا
21:07اسلا ہوگا
21:08موسیقی
21:09سب سے ہی ہوگا
21:10لا انشاءاللہ بہتر کرے گا
21:12شکریہ
21:16میری سوچو آپ کے پاس ہیdر قدہ لگا لیتا ہوں
21:18میں آج یہاں شہ جاتا ہوں
21:22نہیں
21:23ایسے بھی میں کچھ نہیں رکی ل کر رہنا چاہتی ہوں
21:27مشکل رات ہیں آج
21:29تو میں نہیں سمجھا ہاں گی
21:32اللہ کہے تمہیں ایسی کر بھی مشکل رات کا سامنا نہ کرنا پڑے
21:36آپ کو گیا پتا میں کتی مشکل راتے دیکھ چکو
21:42نام کرے
21:42میری باہر کچھ پیچھائیوں تو
22:13موسیقی
22:14موسیقی
22:17کیا ہوا؟ نین نیاری؟ نین نیاری؟
22:25مجھے بھی
22:26میں امی کو جا کے دیکھ کر ہوں
22:48موسیقی
22:49تانیا
22:51جی بھائی؟
22:52ابھی امی کو جس چرمی کرنا سو جائے
22:56رچی ٹھیک ہے
22:57موسیقی
22:57گوڈ نائٹ
23:04موسیقی
23:11موسیقی
23:22بیٹا ایک بار پھر سوچ لو
23:26فرانہ اتنی دور سے آئی ہے تمہیں سمجھانے
23:30بڑے وعدے کر کے گئی ہے مجھ سے
23:33وعدے کیا منتیں ہی سمجھ لو
23:37تمہارے پاس بھی تو آئی ہوگی
23:40آئی تھی امی یہی ساری باتیں کر کے گئی تھی
23:48دیکھو اتنا وقت گزر کے آئے
23:52جامعے کو اب تو عقل آئی گئی ہوگی
23:56آپ کو لگتا عقل آئی ہوگی
24:03میں تو صرف اس لئے کہہ رہی ہوں
24:05کہ جب تم نے دوسری شادی نہیں کرنی تو پھر
24:08خلا لینے کی کیا ضرورت ہے
24:11دیکھو بیٹا دنیا کے آکے ایک بھرم رہتا ہے
24:14جیسا ہے سب چل رہے تو
24:16اس بھرم کی قیمت بہت بھاری امی
24:19لوگوں کو کیا پتا کہ ہمارے دروازے پہ کون کون آتا ہے
24:21کس کیس کو بھیجتا ہے
24:24ہر ایک سلین دینے اس کا
24:26اب بات یہاں تک آگئی کہ صبح کے دفتر تک آ جاتا ہے
24:29یہ جامعی بھی نہ
24:32نہ وقت گزرنے کے بعد
24:36ابھی تک نہ اس میں کوئی عقل ہے
24:38نہ شعور
24:39نہ تمیز
24:40نہ شرم
24:41نہ حیاء
24:42اور پھر بھی آپ چاہتے ہیں کہ میں اس کے ساتھ رہو
24:49یقین مانو زیبہ آپ میں صرف تمہارے بچوں کی وجہ سے کہہ رہی ہیں
24:54کل کو بہو لے کر آوگی
24:57تمہاری بیٹیوں کو تانے دیں گی ماں کے
24:59اب دیکھو نا سانیا بھی تو باتوں باتوں میں عثمان کو سنائی دیتی ہے
25:03میرے بچے نہیں ڈرتے ان باتوں سے جن سے آپ ڈرتی ہیں
25:07آپ نے اتنی باتیں کر کر کے مجھے اس حال تک پہنچا دیا ہے
25:12اور اب
25:13اب جب فیصلے کا وقت قریب آ گیا تو آپ مجھے کمزور کرا رہی ہیں
25:20ہائے ہائے
25:21تمہارے اب بہائیات ہوتے نا تو یہ فیصلہ کب کا ہو گیا ہوتا
25:26ہاں ہمیں اس وقت میں کمزور پڑ گئی تھی
25:29بچے کی وجہ سے
25:31لیکن آج وہی بچہ میرے ساتھ کھڑا ہے
25:33مجھے اس ددلل سے نکالنے کے لیے
25:58امی ہم تو بلکل بھی انجھوئی نہیں کر سکیں
26:01پورا وقت ہمارا دھیان وردہ اور زاویار پہ تھا
26:03کہ وہ کیسے ہوں گے وہ دونوں
26:07ہاں
26:08بڑ جلدی آدھ آ گیا اسے لیے تمہیں
26:10اکستان واپس آنا
26:11ارے نہیں نہیں
26:12امی سے پوچھو ہم نے کوشش کی تھی سیٹ چینج کرنی کی
26:15لیکن ہمیں ملی نہیں سیٹ
26:17بلکل
26:18خیر ایسی بھی کوئی بات نہیں ہے ناسر
26:21دنیا جہاں کی ایئر لائنس چلتی ہیں ٹرکی سے
26:25ایک تمہیں سیٹ نہیں ملی
26:32میں ریسٹ کرنے جا رہی ہوں
26:33باتا کیوں
26:41یار انیلہ کے سامنے تو تمہیں اسے بات کر لیا کرو
26:43وہ بات میں مجھے کہتی ہے کہ
26:44تم اپنی بہن سے باتیں کیسے سن لیتے ہو
26:46تم باتیں سنتے ہو تو وہ کہتی ہے نا
26:50تم باتیں نہیں سنا کرو بہن کے خلاف
26:53کہنا چھوڑ دے گی
27:01یہ کیا تھا بردہ
27:03ماما
27:06میں منافقت نہیں کر سکتی
27:09تھنو ایسے ڈرامے کر رہے ہیں جیسے
27:11بہت فکر تھی انہیں میری اور زاویار کی
27:18سیف بھی تو بھائی ہے نا
27:24وہ ایسا نہیں کرتے
27:33ساویہ رو رہا ہے
27:36میں چلتی ہوں
27:46آپا آپ کی امانت ہمیشہ سلامت رہے گی
27:49میری جیسے ہی جوب لگ جائے گی میں سارے ایک سارے پیسے واپس کر دوں گا
27:52کیسی باتیں کر رہے ہو سیف
27:55تمہارے اور میری پیسے الگ الگ ہیں کیا
27:57تم واپس کرو نہیں کرو ایک ہی بات ہے
27:59اور یہ پیسے تمہارے بیوی اور بچے پر خرچ ہوئے نا
28:03تو بس
28:03لیکن یہ آپ کی بچوں کے پیسے ہیں
28:06میں نہیں لیتا لیکن مشکل ایسی آن بڑی کہ
28:10شاہ سیف اب بار بار احسان مت مناؤ
28:13میں تمہاری اپنی ہوں کوئی پرائی تو نہیں ہو
28:17لیکن آپ میرے مشکل وقت میں کام آئی نہ ہو
28:19تو تم جو ہر وقت میرے مشکل وقت میں کام آتے ہوگو
28:24سیف بہن اور بھائی کا تو رشتہ ایسا ہی ہوتا ہے نا
28:28اب بچ چھوڑو یہ باتیں
28:29اب تم وردہ اور زاویار کو گھر لے کر آؤ
28:32پھر ہم دھوم دھام سے اس کا کیکہ کریں گے
28:36وردہ اپنی مرضی سے گئی ہے
28:37وہ اپنی مرضی سے آئے گی
28:41میں اسے فورس نہیں کر سکتا
28:46چالو
28:48ویسے ان کے لیے اتنی فکر جتاتا ہے اور
28:51ابھی آنا دکھا رہے ہیں
28:55پتہ نہیں آپ یہ کیسے سن لیتے ہیں
28:56میری تو برداشت سے باہر ہے
28:58وردہ میں ذرا لحاظ نہیں ہے
29:00کبھی بھی کسی کو بھی کچھ بھی بول دیتی ہے
29:02حیرت تو مجھے سیف بھائی پہ ہے
29:04کہ وہ پھر بھی اس کے آگے پیچھے بھاگتے رہتے ہیں
29:06ظاہر ان سے ایسی باتیں کرتی ہوگی نا
29:08ابھی مجھے سارا ماجرہ سمجھ آیا
29:11یہاں وہ دل کی بری نہیں ہے
29:13تھوڑی تکلیف سے گزری ہے
29:14اور خفاہ ہے کہ میں
29:16وقت پڑھنی آسکا اس لیے ایسی باتیں کری ہے
29:18نہیں آسکے
29:27مجھے تو نراضی کی وجہ نہیں سمجھا رہی
29:29چا تم غصے میں تو نہ آو بیس
29:31کیسے نہ آو غصے میں
29:32غصے والی بات ہے نا
29:34ہم جب جا رہی تھی
29:34تب انہوں نے سیسے سلام نہیں کیا
29:36واپس آتے ہی بات چھرو کر دی ہے
29:38یہاں وہاں پہ ریسٹ کروں گی
29:41یہاں پہ آتے ساتھ ٹاکسیسٹی شروع ہو گئی ہے
29:43اچھا چھوڑ دوں گا
29:45چھوڑو یہ باتیں ہیں
29:46کفی انجھاری کرویا ہے
29:50میرا پلانٹر آج بھی موجود ہے
29:52اور دیفینڈٹ آج بھی خود نہیں آیا
29:54اور نن کی طرف سے کوئی لائر آیا
29:56لہذا میری حونریربل کورٹ سے درخواست ہے
29:59کہ میرے کلائنٹ کو
30:00خولہ گراند کر دی جائے
30:02تینکیو
30:03آپ انہیں لے کے میرے چیمبر میں آجائے
30:12ایک دفعہ دوبارہ
30:13اپنے فیصلے پر سوچ لیں
30:15کیونکہ آپ جن بنیادوں پر خولہ لے رہی ہیں
30:17وہ بالکل بھی مضبوط نہیں ہیں
30:20نہ ہی تو آپ کے شوہر
30:21آپ پر ہاتھ اٹھاتے ہیں
30:23نہ ہی کوئی کیاریکٹر لیس ہیں
30:26نہ ہی کوئی بڑا الزام
30:29چوبیس سال کے شادی کو
30:30اس بنیاد پر توڑ دینا کے
30:32کفالت نہیں کرتا
30:34مجھے مضبوط نہیں لگ رہا
30:36اور
30:37جب آپ نے چوبیس سال کارٹ ہی دیا ہے
30:39تو باقی کی زندگی بھی گزاری جا سکتی ہے
30:41آپ کو بتا ہے
30:42آپ کے اس فیصلے کی وجہ سے
30:44کتنے کوئنسکوئنسز آپ کے بچوں کو فیس کرنے پڑیں گے
30:48ایوین آپ کو بھی فیس کرنے پڑیں گے
30:51ایوال ایج میں جا کر آپ کے پاس
30:54ایک ہی بیٹا ہے آپ کا
30:55جو کہ ابھی ینگ ہے
30:57آج آپ کو سپورٹ کر رہا ہے
30:58لیکن کل اس کی اپنی لائف ہوگی
31:00اس کی بھی شادی ہو جائے گی
31:07اور کچھ کہنا آپ نے بس
31:11نہیں
31:13میں بس یہ کہنا چاہتے ہوں آپ سے
31:15کہ آپ جو ڈیسیجن لے رہے ہوں
31:17بلکل بھی مضبوط نہیں
31:18اس کی بنیاد مضبوط نہیں ہے
31:21اور مجھے ایسے لگتے شاید
31:22آپ لوگوں کی چھوٹی کوئی انبن ہوئی ہوگی
31:25جس پر آپ کو غصہ آگیا ہوگا
31:27یا کوئی ایکو کا مسئلہ ہوا ہوگا
31:31کیونکہ
31:33میں نے بھی بچپن سے اپنے فیملی میں
31:35اپنے پیرنٹس کو لڑتے شکرتے دیکھا ہے
31:37لیکن اتنا بڑا سٹیپ کسی نے نہیں اٹھایا آج تک
31:40جیسے آپ اٹھا رہے ہیں
31:42میں بس اتنا کہنا جا رہی ہوں
31:44آپ کو سنجھانا جا رہے ہیں
31:45ویری فرنڈلی
31:46کہ آپ اپنے فیصلے پر ایک تفاہ پھر سوچیں
31:50دھنڈے دماغ سے
31:52آپ کے شوار آن ہی رہے ہیں
31:53لیکن میں پوری کوشش کروں گی
31:55کہ ان کو یہاں پر بلواؤں اور مسالحت کروں
32:04آپ برا نام آنے تو میں آپ سے پوچھ سکتی ہوں
32:06آپ کے بالت صاحب کیا کرتے ہیں
32:07وہ لائر ہے
32:09پریکٹس کر رہے ہیں
32:12ماشااللہ
32:14آپ کی کفالت کرتے ہیں
32:18کفالت کر کے انہوں نے آپ کی ذمہ داری اٹھا کر
32:21آپ کو اس مقام تک پہنچایا ہے
32:25شاید آپ کی ابھی نہیں نہیں شادی بھی ہوئی ہے
32:29کیونکہ پچھلی ہیرنگ پہ
32:31ہمیں یہ ہی بتایا گیا تھا
32:32کہ شادی کی وجہ سے آپ چھٹی پر ہیں
32:39وہ شادی کی بھی سارے انتظامات
32:41یقیناً آپ کے والد نے اٹھائے ہوں گے
32:47یہ میرا بیٹا ہے
32:49سبوک کا
32:50تئیس سال کا ہے
32:55اور آج تک اس نے اپنے باپ کی کمائی کی
32:57کوئی ایک چیز بھی استعمال نہیں کی
33:01سوری میں تھوڑا وقت لوں گی آپ سے
33:03کنونس کرنے کے لیے
33:06دودھ کے پہلے ڈبے سے لے کر
33:08پہلے ڈائپرز تک
33:10میرے ماں باپ کے گھر سے آتی تھی
33:13ان کے بعد میں نے ذمہ داری اٹھائی
33:18آپ نے کہا کہ یہ اتنی بڑی بنیاد
33:27لیکن شادی کھڑی ہی کفالت کے اہد پر ہوتی ہے
33:33چوبیس سال سے اگر ایک عورت نے شکایت نہ کی ہو تو
33:36اس کا یہ نتیجہ تو نہیں ہو سکتا
33:38کہ اسے کہا جائے کہ
33:41بی بی چوبیس سال
33:43بغیر کفالت کے مرد کے ساتھ گزار لیے تو
33:46باقی زندگی بھی بس گزار لیں
33:58ایک مرد اگر
34:00بد کردار نہیں ہے
34:01تو اس کا یہ نہیں مطلب کہ
34:02اس کی باقی ساری خرابیہ تکلیفتیں نہیں ہوتی
34:06ایک شادی کو
34:08ناکام نہیں کر سکتی
34:12اس کا خود غرض ہونا
34:14بے حص ہونا
34:16غیر ذمہ دار ہونا
34:18لالچی ہونا
34:21یہ ساری وجوہاتیں جس سے ایک شادی ٹوٹ سکتی ہے
34:31کیسے کہہ سکتی ہیں آپ کے
34:34میرے کیس کا کوئی بنیاد ہی نہیں ہے
34:36کیا بنیاد دیتی آپ کو
34:43اپنے شور کے کون کونسی برائیاں اس کیس میں ڈال کر پوری دنیا کے سامنے اپنے بچوں کے سامنے اس
34:48کو زلیل کر کے خلا مانگتی
34:53میں نے تو شرم کے مارے صرف وہ بنیاد آپ کے سامنے رکھی ہیں جو
35:00جو دین ہمیں بتاتا ہے
35:03باقی سب کو تو ڈھپ کے رکھا ہے
35:07پتہ نہیں آپ اس کو بنیاد کیوں نہیں مان رہی ہیں
35:13کتنہ مشکل ایک عورت کے لیے
35:17خلا لینے کے لیے کوٹ آنا
35:20اندازہ تو ہوگا آپ کو
35:21پورا معاشرہ رکھتا ہے
35:24رشتہ دار دوست
35:26میری ماں نے بھی رکھا مجھے
35:28سب جانے کی کوشش کی
35:31آپ کی طرح
35:33کہ زیبہ چوبیس سال بعد شادی کو ختم نہیں کرتے
35:36چوبیس سال گزر گئے تو بس
35:38اسی طرح
35:41جیتے رو
35:44انگلی نہیں اٹھاؤ زبان نہ چلاو اپنا حق نہیں مانگو
35:49سر جگھا کر بس سہتے چلے جاؤ
35:54شاید کیونکہ ملنے جا گیا ہے
35:56آگے بڑھاپا ہے
35:59تو معاشرے کے سینئر سٹیزنز ہو کر
36:02معزز ہونا ضروری ہوتا ہے
36:06لیکن ایک خلا لینے والی عورت
36:08معزز تھوڑی ہوتی ہے
36:14چوبیس سال بعد بھی اپنے شوہر سے
36:16کفالت کا مطالبہ ایک عورت کرے تو وہ بری ہوتی ہے
36:20اچھی عورت تو صرف وہ ہوتی ہے جو چپ ہو کے
36:24سہتی چلی جاتی ہے
36:26کیوں
36:30شادی کے شروع میں اگر
36:34ایک مرد آپ کی
36:36مالی ذمہ داری اٹھانے کیلئے تیار
36:39نہیں ہے
36:41تو وقت کے گزرنے کے ساتھ ساتھ
36:44وہ آپ کے اور آپ کے بچوں کی ذمہ داری
36:46بھی نہیں اٹھا پائے گا
36:50نہ اہل ہوتا چلا جائے گا
36:53بے حص ہوتا چلا جائے گا
36:55غیر ذمہ دار ہوتا چلا جائے گا
36:58وہ اپنے بوجھ آپ کے کندوں پر رکھتا چلا جائے گا
37:03پھر ایک دن آئے گا جب وہ بوجھ اٹھاتے اٹھاتے آپ
37:06کبرے ہو جاؤ گے
37:12پس خدا نہ خواستہ آپ یہ تکلیف سے کبھی نہ گزرے
37:17اور اگر کبھی ایسا ہو تو
37:19شروع میں زندگی کا یہ بڑا فیشہ کر لیجیگا آپ
37:26چوبے سال انتظار نہ کرے ورنہ
37:30آپ بھی میری طرح
37:32اپنے سے آدھے عمر کی جج کے سامنے بیٹھ کر
37:34کوئی سمجھانی کی کوشش کریں گی
37:40کہ کفالت نہ کرنے کی بنیاد پہ بھی
37:42آپ ایک مرد کو چھوڑ سکتی ہے
37:47بس یہی کہنا تھا آپ سے
37:50اور کیا کہہ سکتی ہے
38:04موسیقی
38:09موسیقی
38:24موسیقی
38:25موسیقی
38:27موسیقی
38:38موسیقی
38:39موسیقی
38:53موسیقی
38:54موسیقی
39:07موسیقی
39:08موسیقی
39:09موسیقی
39:10موسیقی
Comments