00:14ुبیداللہ بن عبداللہ بن عطبہ بن مسود
00:30مک شام گئے ہوئے تھے اور یہ وہ زمانہ تھا جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قریش اور
00:36ابو سفیان سے ایک وقتی اہد کیا ہوا تھا
00:39جب ابو سفیان اور دوسرے لوگ ہرکل کے پاس الفالاق پہنچے جہاں ہرکل نے دربار طلب کیا تھا
00:46اس کے گرد روم کے بڑے بڑے لوگ علماء بزراء عمرہ بیٹھے ہوئے تھے
00:52ہرکل نے ان کو اور اپنے ترجمان کو بلوایا
00:55پھر ان سے پوچھا کہ تم میں سے کون شخص مدعی رسالت کا زیادہ قریبی عزیز ہے
01:01ابو سفیان کہتے ہیں کہ میں بول اٹھا کہ میں اس کا سب سے زیادہ قریبی رشتہ دار
01:07یہ سن کر اہرکل نے حکم دیا کہ اس کو ابو سفیان کو میرے قریب لا کر بٹھاؤ
01:13اور اس کے ساتھیوں کو اس کی پیٹ کے پیچھے بٹھا دو
01:17پھر اپنے ترجمان سے کہا کہ ان لوگوں سے کہہ دو کہ میں ابو سفیان سے اس شخص کے
01:22یعنی محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے حالات پوچھتا ہوں
01:27اگر یہ مجھ سے کسی بات میں جھوٹ بول دے تو تم اس کا جھوٹ ظاہر کر دینا
01:31ابو سفیان کا قول ہے کہ خدا کی قسم
01:35اگر مجھے یہ غیرت نہ آتی کہ یہ لوگ مجھ کو جھٹلائیں گے
01:39تو میں اب صلی اللہ علیہ وسلم کی نسبت ضرور غلط بوئی سے کام لیتا
01:44خیر پہلی بات جو ہرکل نے مجھ سے پوچھی وہ یہ کہ اس شخص کا خاندان تم لوگوں میں کیسا
01:50ہے
01:51میں نے کہا وہ تو بڑے اونچے آلی نسب والے ہیں
01:55کہنے لگا اس سے پہلے بھی کسی نے تم لوگوں میں ایسی بات کہی تھی
01:59میں نے کہا نہیں کہنے لگا اچھا اس کے بڑوں میں کوئی بادشاہ ہوا ہے
02:05میں نے کہا نہیں
02:07پھر اس نے کہا بڑے لوگوں نے اس کی پیروی اختیار کی ہے یا کمزوروں نے بھی
02:12میں نے کہا نہیں کمزوروں نے
02:14پھر کہنے لگا اس کے تابدار روز بڑھتے جاتے ہیں یا کوئی ساتھی پھر بھی جاتا ہے
02:21میں نے کہا نہیں
02:23کہنے لگا کہ کیا اپنے اس دوائی نبوت سے پہلے کبھی کسی بھی موقع پر اس نے جھوٹ بولا ہے
02:30میں نے کہا نہیں
02:33اور اب ہماری اس سے صلاح کی یہ ایک مقررہ مدد تھیری ہوئی ہے
02:38معلوم نہیں وہ اس میں کیا کرنے والا ہے
02:41ابو سفیان کہتے ہیں میں اس بات کے سوا اور کوئی چھوٹ اس گفتگو میں شامل نہ کر سکا
02:48ہرقل نے کہا کیا تمہاری اس سے کبھی لڑائی بھی ہوتی ہے
02:51ہم نے کہا کہ ہاں
02:54بولا پھر تمہاری اور اس کی جنگ کا کیا حال ہوتا ہے
02:58میں نے کہا لڑائی ڈول کی طرح ہے
03:01کبھی وہ ہم سے یا میدان جنگ جیت لیتے ہیں اور کبھی ہم ان سے جیت لیتے ہیں
03:07ہرقل نے پوچھا وہ تمہیں کس بات کا حکم دیتا ہے
03:12میں نے کہا وہ کہتا ہے کہ صرف ایک اللہ ہی کی عبادت کرو
03:16اس کا کسی کو شریک نہ بناو اور اپنے باپ دادا کی شرک کی باطیں چھوڑ دو
03:21اور ہمیں نماز پڑھنے سچ بولنے پرہزگاری اور صلح رہنی کا حکم دیتا ہے
03:27یہ سب سن کر پھر ہرقل نے اپنے ترجمان سے کہا کہ ابو سفیان سے کہہ دے کہ میں نے
03:33تم سے اس کا نصب پوچھا
03:34تو تم نے کہا کہ وہ ہم میں آلی نصب ہے اور پیغمبر اپنی قوم میں آلی نصب ہی بھیجے
03:40جایا کرتے
03:41میں نے تم سے پوچھا کہ دعویٰ نبوت کی یہ بات تمہارے اندر اس سے پہلے کسی اور نے بھی
03:47کہی تھی
03:48تو تم نے جواب دیا کہ نہیں
03:50تب میں نے اپنے دل میں کہا کہ اگر یہ بات اس سے پہلے کسی نے کہی ہوتی
03:54تو میں سمجھتا کہ اس شخص نے بھی اسی بات کی تقلید کی ہے جو پہلے کہی جا چکی ہے
04:00میں نے تم سے پوچھا کہ اس کے بڑوں میں کوئی بادشاہ بھی گزرا ہے
04:04تم نے کہا کہ نہیں
04:06تو میں نے دل میں کہا کہ ان کے بزرگوں میں سے کوئی بادشاہ ہوا ہوگا
04:11تو کہہ دوں گا کہ وہ شخص اس بہانہ اپنے آبا و اجداد کی بادشاہت
04:16اور ان کا مک دوبارہ حاصل کرنا چاہتا ہے
04:19اور میں نے تم سے پوچھا کہ اس بات کے کہنے
04:22یعنی پیغمبری کا دعویٰ کرنے
04:24سے پہلے تم نے کبھی اس کو دروگ گوئی کا الزام لگایا ہے
04:28تم نے کہا کہ نہیں
04:30تو میں نے سمجھ لیا کہ جو شخص آدمیوں کے ساتھ دروگ گوئی سے بچے
04:35وہ اللہ کے بارے میں کیسے جھوٹی بات کہہ سکتا ہے
04:38اور میں نے تم سے پوچھا کہ بڑے لوگ اس کے پیرو ہوتے ہیں
04:42یا کمزور آدمی
04:44تم نے کہا کمزوروں نے اس کی اتبا کی ہے
04:47تو اور دراصل یہی لوگ پیغمبروں کے متبعین ہوتے ہیں
04:51اور میں نے تم سے پوچھا کہ اس کے ساتھ ہی بڑھ رہے ہیں
04:55یا کم ہو رہے ہیں
04:57تم نے کہا کہ وہ بڑھ رہے ہیں
04:59اور ایمان کی کیفیت یہی ہوتی ہے
05:02حتیٰ کہ وہ کامل ہو جاتا ہے
05:03اور میں نے تم سے پوچھا کہ آیا کوئی شخص
05:06اس کے دین سے ناخش ہو کر مرتد بھی ہو جاتا ہے
05:09تم نے کہا نہیں
05:10تو ایمان کی خاصیت بھی یہی ہے جن کے دلوں میں اس کی مسرت ریچ بس جائے
05:15وہ اس سے لوٹا نہیں کرتے
05:17اور میں نے تم سے پوچھا کہ آیا وہ کبھی اہد شک نہیں کرتے ہیں
05:21تم نے کہا نہیں
05:23پیغمبروں کا یہی حال ہوتا ہے
05:25وہ اہد کے خلاف ورزی نہیں کرتے
05:28اور میں نے تم سے کہا
05:30کہ وہ تم سے کس چیز کے لیے کہتے ہیں
05:33تم نے کہا
05:33کہ وہ ہمیں حکم دیتے ہیں
05:35کہ اللہ کی عبادت کرو
05:36اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراؤ
05:39اور تمہیں بتوں کی پرستش سے روکتے ہیں
05:42سچ بولنے اور پرہزگاری کا حکم دیتے ہیں
05:46لہذا اگر یہ باتیں جو تم کہہ رہے ہو سچ ہیں
05:49تو انقریب وہ اس جگہ کا مالک ہو جائے گا
05:52کہ جہاں میرے یہ دونوں پاؤں ہیں
05:54مجھے معلوم تھا کہ وہ
05:56پیغمبر آنے والا ہے
05:58مگر مجھے یہ معلوم نہیں تھا
06:00کہ وہ تمہارے اندر ہوگا
06:02اگر میں جانتا کہ اس تک پہنچ سکوں گا
06:05تو اس سے ملنے کے لیے
06:06ہر تکلیف گوارہ کرتا
06:08اگر میں اس کے پاس ہوتا
06:10تو اس کے پاؤنٹ ہوتا
06:12ہرقل نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم
06:15وہ خط منگایا
06:16جو اپنے دھاکلبی رضی اللہ عنہوں کے ذریعہ
06:19حاکم بسر کے پاس بھیجا تھا
06:20اور اس نے وہ ہرقل کے پاس بھیج دیا تھا
06:23پھر اس کو پڑا تو اس میں لکھا تھا
06:26کہ اللہ کے نام کے ساتھ
06:28جو نہائیت مہربان اور رحم والا ہے
06:31اللہ کے بندے اور اس کے پیغمبر محمد صلی اللہ علیہ وسلم
06:35کی طرف سے یہ خط ہے شاروم کے لیے
06:38اس شخص پر سلام ہو جو ہدایت کی پیروی کرے
06:42اس کے بعد میں آپ کے سامنے دعوت اسلام پیش کرتا ہے
06:45اگر آپ اسلام لے آئیں گے تو
06:47دین وہ دنیا میں سلام کی نصیب ہوگی
06:51اللہ آپ کو دوہرہ سواب دے گا
06:53اور اگر آپ میری دعوت سے تیروگردانی کریں گے
06:56تو آپ کی ریایہ کا گناہ بھی اب ہی پر ہوگا
06:59اور اے اہل کتاب
07:02ایک ایسی بات پر آجاؤ جو ہمارے اور تمہارے درمیان یقصہ ہیں
07:06وہ یہ کہ ہم اللہ کے سوا کسی کی عبادت نہ کریں
07:10اور کسی کو اس کا شریک نہ ٹھہرائیں
07:12اور نہ ہم میں سے کوئی کسی کو خدا کے سوا اپنا رب بنائے
07:16پھر اگر وہ اہل کتاب
07:18اس بات سے منح پھیر لیں
07:20تو مسلمانوں تم ان سے کہہ دو کہ
07:23تم مانو آنا مانو ہم تو ایک خدا کے اطاعت گزار
07:27ابو سفیان کہتے ہیں
07:29جب ہرقل نے جو کچھ کہنا تھا کہہ دیا
07:31اور خط پڑ کر فارغ ہوا
07:33تو اس کے اردگرد بہت شور اور غوغہ ہوا
07:36بہت سی آوازیں اٹھیں
07:37اور ہمیں باہر نکال دیا گیا
07:40تب میں نے اپنے ساتھیوں سے کہا کہ ابو کبشا کے بیٹے
07:44آن حضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا معاملہ تو بہت بڑھ گیا
07:48دیکھو تو اس سے بنی اسفر روم کا بادشاہ بھی درتا
07:52مجھے اس وقت سے اس بات کا یقین ہو گیا
07:55کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم ان قریب غالب ہو کر رہیں گے
07:59حتیٰ کہ اللہ نے مجھے مسلمان کر دیا
08:03راوی کا بیان ہے کہ جیر ابن ناطور علف علاق کا حاکم ہرکل کا مساہب
08:08اور شام کے نصار کا لاٹ پادری بیان کرتا تھا
08:11کہ ہرکل جب علف علاق آیا
08:13ایک دن صبح کو پریشان اٹھا
08:15تو اس کے درباریوں نے دریافت کیا
08:17کہ آج ہم آپ کی حالت بدلی ہوئی پاتے ہیں
08:20کیا وجہ ہے
08:21ابن ناطور کا بیان ہے کہ ہرکل نجومی تھا
08:24علم نجوم میں وہ پوری مہارت رکھتا تھا
08:27اس نے اپنے ہم نشینوں کو بتایا
08:30کہ میں نے آج رات ستاروں پر نظر ڈالی
08:32تو دیکھا کہ خطنہ کرنے والوں کا بادشاہ
08:34ہمارے مرک پر غالب آ گیا ہے
08:37بھلات اس زمانے میں کون لوگ خطنہ کرتے ہیں
08:41انہوں نے کہا کہ یہود کے سوا کوئی خطنہ نہیں کرتا
08:45سو ان کی وجہ سے پریشان نہ ہوں
08:48سلطنت کے تمام شہروں میں یہ حکم لکھ بھیجئے
08:51کہ وہاں جتنے یہودی ہوں سب قتل کر دیے جائے
08:54وہ لوگ انہی باتوں میں مشغول تھے
08:57کہ ہرکل کے پاس ایک آدمی لائے گیا
09:00جسے شاہ غسان نے بھیجا تھا
09:02اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم
09:06کے حالات بیان کیے
09:08جب ہرکل نے سارے حالات سن لیے
09:11تو کہا کہ جا کر دیکھو وہ خطنہ کیے ہوئے ہے
09:13یا نہیں
09:15انہوں نے اسے دیکھا تو بتلایا
09:16کہ وہ خطنہ کیا ہوا ہے
09:19ہرکل نے جب اس شخص سے عرب کے بارے میں پوچھا
09:22تو اس نے بتلایا کہ وہ خطنہ کرتے ہیں
09:25تب ہرکل نے کہا کہ یہی
09:26محمد صلی اللہ علیہ وسلم
09:29اس امت کے بادشاہ ہیں
09:30جو پیدا ہو چکے ہیں
09:32پھر اس نے اپنے ایک دوست کو رومی خط لکھا
09:35اور وہ بھی ان نجوم میں ہرکل کی طرح ماہر تھا
09:38پھر وہاں سے ہرکل حمس چلا گیا
09:42ابھی حمس سے نکلا نہیں تھا
09:44کہ اس کے دوست کا خط
09:45اس کے جواب میں آ گیا
09:47اس کی رائے بھی حضور صلی اللہ علیہ وسلم
09:50کے ظہور کے بارے میں
09:51ہرکل کے موافق تھی
09:53کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم
09:55واقعی پیغمبر
09:57اس کے بعد ہرکل نے روم کے بڑے آدمیوں
10:00کو اپنے حمس کے محل میں طلب کیا
10:02اور اس کے حکم سے محل کے دروازے
10:04بند کر لیے گئے
10:05پھر وہ اپنے خاص محل سے ایک باہر آیا
10:08اور کہا ہی اے روم وال
10:11کیا ہدایت اور کامیابی میں
10:13کچھ حصہ تمہارے لیے بھی ہے
10:15اگر تم اپنی سلطنت کی بقا چاہتے ہو
10:18تو پھر اس نبی کی بیعت کر لو
10:20اور مسلمان ہو جاؤ
10:21یہ سننا تھا کہ پھر وہ لوگ
10:23وحشی گدھوں کی طرح دروازوں کی طرف دوڑے
10:26مگر انہیں بند پایا
10:28آخر جب ہرکل نے
10:29اس بات سے ہی ان کی یہ نفرت دیکھی
10:32اور ان کے ایمان لانے سے مایوس ہو گیا
10:34تو کہنے لگا کہ ان لوگوں کو
10:36میرے پاس لا
10:38جب وہ دوبارہ آئے
10:39تو اس نے کہا میں نے جو بات کہی تھی
10:42اس سے تمہاری دینی پختگی کی آزمائش
10:44مقصود تھی سو وہ میں نے دیکھی
10:47تب یہ بات سن کر
10:48وہ سب کے سب اس کے سامنے سجدے میں گر پڑے
10:51اور اس سے خوش ہو گئے
10:53بلاخر ہرکل کی آخری حالت یہ ہی رہی
10:56ابو عبداللہ کہتے ہیں
10:58کہ اس حدیث کو سالے بن کیسان
11:00یونس اور مومر نے بھی زہری سے روایت کیا ہے
Comments