Skip to playerSkip to main content
السلام علیکم! اس ویڈیو میں ہم صحیح بخاری کی ساتویں حدیث کا مطالعہ کریں گے۔ یہ ایک طویل اور نہایت اہم حدیث ہے جس میں رومی بادشاہ ہرقل نے ابوسفیان سے رسول اللہ ﷺ کی شخصیت، نسب، پیروکاروں اور تعلیمات کے بارے میں گیارہ سوالات کیے۔ اس مکالمے کے اختتام پر خود ایک غیر مسلم بادشاہ نے تسلیم کیا کہ آپ ﷺ واقعی اللہ کے سچے رسول ہیں۔

Is video mein hum Sahih al-Bukhari ki Hadith 7 ki mukammal tashreeh pesh kar rahe hain. Ye Caesar-e-Rum (Heraclius) aur Abu Sufyan ke darmiyan hone wali us mashhoor guftagu ke bare mein hai jo Huzoor ﷺ ki Nabuwat ki sachi nishani bani. Heraclius ne Abu Sufyan se jo sawalat kiye, unse sabit hua ke Islam hi sachha deen hai.

Reference: Sahih al-Bukhari 7

In-book reference: Book 1, Hadith 7

Topic: The conversation between Heraclius (Byzantine Emperor) and Abu Sufyan regarding the qualities of the Prophet P.B.U.H .
#SahihBukhari7 #Hadith7 #Heraclius #AbuSufyan #IslamicHistory #ProphetMuhammad #BukhariUrdu #History #Dawah
Subscribe for more Windows tips! Follow me for Urdu/Hindi tech tutorials:

- YouTube Tech Channel: https://www.youtube.com/@SadiOnlineComputerAcademy
- TikTok: https://www.tiktok.com/@sadionlineacademy
- Facebook: https://web.facebook.com/SadionlineComputerAcademy
- Instagram: https://www.instagram.com/sadi786ahmad/
- X: https://x.com/onlinewithsadi
- Dailymotion: https://dailymotion.com/masteringwithsadi
- Rumble: https://rumble.com/c/c-3084386
- Whats Up Channel: https://www.whatsapp.com/channel/0029VbBJltyKWEKv5T5mK801
- LinkedIn: https://www.linkedin.com/in/ahmad-sadi-194aa7378/

Category

📚
Learning
Transcript
00:14ुبیداللہ بن عبداللہ بن عطبہ بن مسود
00:30مک شام گئے ہوئے تھے اور یہ وہ زمانہ تھا جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قریش اور
00:36ابو سفیان سے ایک وقتی اہد کیا ہوا تھا
00:39جب ابو سفیان اور دوسرے لوگ ہرکل کے پاس الفالاق پہنچے جہاں ہرکل نے دربار طلب کیا تھا
00:46اس کے گرد روم کے بڑے بڑے لوگ علماء بزراء عمرہ بیٹھے ہوئے تھے
00:52ہرکل نے ان کو اور اپنے ترجمان کو بلوایا
00:55پھر ان سے پوچھا کہ تم میں سے کون شخص مدعی رسالت کا زیادہ قریبی عزیز ہے
01:01ابو سفیان کہتے ہیں کہ میں بول اٹھا کہ میں اس کا سب سے زیادہ قریبی رشتہ دار
01:07یہ سن کر اہرکل نے حکم دیا کہ اس کو ابو سفیان کو میرے قریب لا کر بٹھاؤ
01:13اور اس کے ساتھیوں کو اس کی پیٹ کے پیچھے بٹھا دو
01:17پھر اپنے ترجمان سے کہا کہ ان لوگوں سے کہہ دو کہ میں ابو سفیان سے اس شخص کے
01:22یعنی محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے حالات پوچھتا ہوں
01:27اگر یہ مجھ سے کسی بات میں جھوٹ بول دے تو تم اس کا جھوٹ ظاہر کر دینا
01:31ابو سفیان کا قول ہے کہ خدا کی قسم
01:35اگر مجھے یہ غیرت نہ آتی کہ یہ لوگ مجھ کو جھٹلائیں گے
01:39تو میں اب صلی اللہ علیہ وسلم کی نسبت ضرور غلط بوئی سے کام لیتا
01:44خیر پہلی بات جو ہرکل نے مجھ سے پوچھی وہ یہ کہ اس شخص کا خاندان تم لوگوں میں کیسا
01:50ہے
01:51میں نے کہا وہ تو بڑے اونچے آلی نسب والے ہیں
01:55کہنے لگا اس سے پہلے بھی کسی نے تم لوگوں میں ایسی بات کہی تھی
01:59میں نے کہا نہیں کہنے لگا اچھا اس کے بڑوں میں کوئی بادشاہ ہوا ہے
02:05میں نے کہا نہیں
02:07پھر اس نے کہا بڑے لوگوں نے اس کی پیروی اختیار کی ہے یا کمزوروں نے بھی
02:12میں نے کہا نہیں کمزوروں نے
02:14پھر کہنے لگا اس کے تابدار روز بڑھتے جاتے ہیں یا کوئی ساتھی پھر بھی جاتا ہے
02:21میں نے کہا نہیں
02:23کہنے لگا کہ کیا اپنے اس دوائی نبوت سے پہلے کبھی کسی بھی موقع پر اس نے جھوٹ بولا ہے
02:30میں نے کہا نہیں
02:33اور اب ہماری اس سے صلاح کی یہ ایک مقررہ مدد تھیری ہوئی ہے
02:38معلوم نہیں وہ اس میں کیا کرنے والا ہے
02:41ابو سفیان کہتے ہیں میں اس بات کے سوا اور کوئی چھوٹ اس گفتگو میں شامل نہ کر سکا
02:48ہرقل نے کہا کیا تمہاری اس سے کبھی لڑائی بھی ہوتی ہے
02:51ہم نے کہا کہ ہاں
02:54بولا پھر تمہاری اور اس کی جنگ کا کیا حال ہوتا ہے
02:58میں نے کہا لڑائی ڈول کی طرح ہے
03:01کبھی وہ ہم سے یا میدان جنگ جیت لیتے ہیں اور کبھی ہم ان سے جیت لیتے ہیں
03:07ہرقل نے پوچھا وہ تمہیں کس بات کا حکم دیتا ہے
03:12میں نے کہا وہ کہتا ہے کہ صرف ایک اللہ ہی کی عبادت کرو
03:16اس کا کسی کو شریک نہ بناو اور اپنے باپ دادا کی شرک کی باطیں چھوڑ دو
03:21اور ہمیں نماز پڑھنے سچ بولنے پرہزگاری اور صلح رہنی کا حکم دیتا ہے
03:27یہ سب سن کر پھر ہرقل نے اپنے ترجمان سے کہا کہ ابو سفیان سے کہہ دے کہ میں نے
03:33تم سے اس کا نصب پوچھا
03:34تو تم نے کہا کہ وہ ہم میں آلی نصب ہے اور پیغمبر اپنی قوم میں آلی نصب ہی بھیجے
03:40جایا کرتے
03:41میں نے تم سے پوچھا کہ دعویٰ نبوت کی یہ بات تمہارے اندر اس سے پہلے کسی اور نے بھی
03:47کہی تھی
03:48تو تم نے جواب دیا کہ نہیں
03:50تب میں نے اپنے دل میں کہا کہ اگر یہ بات اس سے پہلے کسی نے کہی ہوتی
03:54تو میں سمجھتا کہ اس شخص نے بھی اسی بات کی تقلید کی ہے جو پہلے کہی جا چکی ہے
04:00میں نے تم سے پوچھا کہ اس کے بڑوں میں کوئی بادشاہ بھی گزرا ہے
04:04تم نے کہا کہ نہیں
04:06تو میں نے دل میں کہا کہ ان کے بزرگوں میں سے کوئی بادشاہ ہوا ہوگا
04:11تو کہہ دوں گا کہ وہ شخص اس بہانہ اپنے آبا و اجداد کی بادشاہت
04:16اور ان کا مک دوبارہ حاصل کرنا چاہتا ہے
04:19اور میں نے تم سے پوچھا کہ اس بات کے کہنے
04:22یعنی پیغمبری کا دعویٰ کرنے
04:24سے پہلے تم نے کبھی اس کو دروگ گوئی کا الزام لگایا ہے
04:28تم نے کہا کہ نہیں
04:30تو میں نے سمجھ لیا کہ جو شخص آدمیوں کے ساتھ دروگ گوئی سے بچے
04:35وہ اللہ کے بارے میں کیسے جھوٹی بات کہہ سکتا ہے
04:38اور میں نے تم سے پوچھا کہ بڑے لوگ اس کے پیرو ہوتے ہیں
04:42یا کمزور آدمی
04:44تم نے کہا کمزوروں نے اس کی اتبا کی ہے
04:47تو اور دراصل یہی لوگ پیغمبروں کے متبعین ہوتے ہیں
04:51اور میں نے تم سے پوچھا کہ اس کے ساتھ ہی بڑھ رہے ہیں
04:55یا کم ہو رہے ہیں
04:57تم نے کہا کہ وہ بڑھ رہے ہیں
04:59اور ایمان کی کیفیت یہی ہوتی ہے
05:02حتیٰ کہ وہ کامل ہو جاتا ہے
05:03اور میں نے تم سے پوچھا کہ آیا کوئی شخص
05:06اس کے دین سے ناخش ہو کر مرتد بھی ہو جاتا ہے
05:09تم نے کہا نہیں
05:10تو ایمان کی خاصیت بھی یہی ہے جن کے دلوں میں اس کی مسرت ریچ بس جائے
05:15وہ اس سے لوٹا نہیں کرتے
05:17اور میں نے تم سے پوچھا کہ آیا وہ کبھی اہد شک نہیں کرتے ہیں
05:21تم نے کہا نہیں
05:23پیغمبروں کا یہی حال ہوتا ہے
05:25وہ اہد کے خلاف ورزی نہیں کرتے
05:28اور میں نے تم سے کہا
05:30کہ وہ تم سے کس چیز کے لیے کہتے ہیں
05:33تم نے کہا
05:33کہ وہ ہمیں حکم دیتے ہیں
05:35کہ اللہ کی عبادت کرو
05:36اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراؤ
05:39اور تمہیں بتوں کی پرستش سے روکتے ہیں
05:42سچ بولنے اور پرہزگاری کا حکم دیتے ہیں
05:46لہذا اگر یہ باتیں جو تم کہہ رہے ہو سچ ہیں
05:49تو انقریب وہ اس جگہ کا مالک ہو جائے گا
05:52کہ جہاں میرے یہ دونوں پاؤں ہیں
05:54مجھے معلوم تھا کہ وہ
05:56پیغمبر آنے والا ہے
05:58مگر مجھے یہ معلوم نہیں تھا
06:00کہ وہ تمہارے اندر ہوگا
06:02اگر میں جانتا کہ اس تک پہنچ سکوں گا
06:05تو اس سے ملنے کے لیے
06:06ہر تکلیف گوارہ کرتا
06:08اگر میں اس کے پاس ہوتا
06:10تو اس کے پاؤنٹ ہوتا
06:12ہرقل نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم
06:15وہ خط منگایا
06:16جو اپنے دھاکلبی رضی اللہ عنہوں کے ذریعہ
06:19حاکم بسر کے پاس بھیجا تھا
06:20اور اس نے وہ ہرقل کے پاس بھیج دیا تھا
06:23پھر اس کو پڑا تو اس میں لکھا تھا
06:26کہ اللہ کے نام کے ساتھ
06:28جو نہائیت مہربان اور رحم والا ہے
06:31اللہ کے بندے اور اس کے پیغمبر محمد صلی اللہ علیہ وسلم
06:35کی طرف سے یہ خط ہے شاروم کے لیے
06:38اس شخص پر سلام ہو جو ہدایت کی پیروی کرے
06:42اس کے بعد میں آپ کے سامنے دعوت اسلام پیش کرتا ہے
06:45اگر آپ اسلام لے آئیں گے تو
06:47دین وہ دنیا میں سلام کی نصیب ہوگی
06:51اللہ آپ کو دوہرہ سواب دے گا
06:53اور اگر آپ میری دعوت سے تیروگردانی کریں گے
06:56تو آپ کی ریایہ کا گناہ بھی اب ہی پر ہوگا
06:59اور اے اہل کتاب
07:02ایک ایسی بات پر آجاؤ جو ہمارے اور تمہارے درمیان یقصہ ہیں
07:06وہ یہ کہ ہم اللہ کے سوا کسی کی عبادت نہ کریں
07:10اور کسی کو اس کا شریک نہ ٹھہرائیں
07:12اور نہ ہم میں سے کوئی کسی کو خدا کے سوا اپنا رب بنائے
07:16پھر اگر وہ اہل کتاب
07:18اس بات سے منح پھیر لیں
07:20تو مسلمانوں تم ان سے کہہ دو کہ
07:23تم مانو آنا مانو ہم تو ایک خدا کے اطاعت گزار
07:27ابو سفیان کہتے ہیں
07:29جب ہرقل نے جو کچھ کہنا تھا کہہ دیا
07:31اور خط پڑ کر فارغ ہوا
07:33تو اس کے اردگرد بہت شور اور غوغہ ہوا
07:36بہت سی آوازیں اٹھیں
07:37اور ہمیں باہر نکال دیا گیا
07:40تب میں نے اپنے ساتھیوں سے کہا کہ ابو کبشا کے بیٹے
07:44آن حضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا معاملہ تو بہت بڑھ گیا
07:48دیکھو تو اس سے بنی اسفر روم کا بادشاہ بھی درتا
07:52مجھے اس وقت سے اس بات کا یقین ہو گیا
07:55کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم ان قریب غالب ہو کر رہیں گے
07:59حتیٰ کہ اللہ نے مجھے مسلمان کر دیا
08:03راوی کا بیان ہے کہ جیر ابن ناطور علف علاق کا حاکم ہرکل کا مساہب
08:08اور شام کے نصار کا لاٹ پادری بیان کرتا تھا
08:11کہ ہرکل جب علف علاق آیا
08:13ایک دن صبح کو پریشان اٹھا
08:15تو اس کے درباریوں نے دریافت کیا
08:17کہ آج ہم آپ کی حالت بدلی ہوئی پاتے ہیں
08:20کیا وجہ ہے
08:21ابن ناطور کا بیان ہے کہ ہرکل نجومی تھا
08:24علم نجوم میں وہ پوری مہارت رکھتا تھا
08:27اس نے اپنے ہم نشینوں کو بتایا
08:30کہ میں نے آج رات ستاروں پر نظر ڈالی
08:32تو دیکھا کہ خطنہ کرنے والوں کا بادشاہ
08:34ہمارے مرک پر غالب آ گیا ہے
08:37بھلات اس زمانے میں کون لوگ خطنہ کرتے ہیں
08:41انہوں نے کہا کہ یہود کے سوا کوئی خطنہ نہیں کرتا
08:45سو ان کی وجہ سے پریشان نہ ہوں
08:48سلطنت کے تمام شہروں میں یہ حکم لکھ بھیجئے
08:51کہ وہاں جتنے یہودی ہوں سب قتل کر دیے جائے
08:54وہ لوگ انہی باتوں میں مشغول تھے
08:57کہ ہرکل کے پاس ایک آدمی لائے گیا
09:00جسے شاہ غسان نے بھیجا تھا
09:02اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم
09:06کے حالات بیان کیے
09:08جب ہرکل نے سارے حالات سن لیے
09:11تو کہا کہ جا کر دیکھو وہ خطنہ کیے ہوئے ہے
09:13یا نہیں
09:15انہوں نے اسے دیکھا تو بتلایا
09:16کہ وہ خطنہ کیا ہوا ہے
09:19ہرکل نے جب اس شخص سے عرب کے بارے میں پوچھا
09:22تو اس نے بتلایا کہ وہ خطنہ کرتے ہیں
09:25تب ہرکل نے کہا کہ یہی
09:26محمد صلی اللہ علیہ وسلم
09:29اس امت کے بادشاہ ہیں
09:30جو پیدا ہو چکے ہیں
09:32پھر اس نے اپنے ایک دوست کو رومی خط لکھا
09:35اور وہ بھی ان نجوم میں ہرکل کی طرح ماہر تھا
09:38پھر وہاں سے ہرکل حمس چلا گیا
09:42ابھی حمس سے نکلا نہیں تھا
09:44کہ اس کے دوست کا خط
09:45اس کے جواب میں آ گیا
09:47اس کی رائے بھی حضور صلی اللہ علیہ وسلم
09:50کے ظہور کے بارے میں
09:51ہرکل کے موافق تھی
09:53کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم
09:55واقعی پیغمبر
09:57اس کے بعد ہرکل نے روم کے بڑے آدمیوں
10:00کو اپنے حمس کے محل میں طلب کیا
10:02اور اس کے حکم سے محل کے دروازے
10:04بند کر لیے گئے
10:05پھر وہ اپنے خاص محل سے ایک باہر آیا
10:08اور کہا ہی اے روم وال
10:11کیا ہدایت اور کامیابی میں
10:13کچھ حصہ تمہارے لیے بھی ہے
10:15اگر تم اپنی سلطنت کی بقا چاہتے ہو
10:18تو پھر اس نبی کی بیعت کر لو
10:20اور مسلمان ہو جاؤ
10:21یہ سننا تھا کہ پھر وہ لوگ
10:23وحشی گدھوں کی طرح دروازوں کی طرف دوڑے
10:26مگر انہیں بند پایا
10:28آخر جب ہرکل نے
10:29اس بات سے ہی ان کی یہ نفرت دیکھی
10:32اور ان کے ایمان لانے سے مایوس ہو گیا
10:34تو کہنے لگا کہ ان لوگوں کو
10:36میرے پاس لا
10:38جب وہ دوبارہ آئے
10:39تو اس نے کہا میں نے جو بات کہی تھی
10:42اس سے تمہاری دینی پختگی کی آزمائش
10:44مقصود تھی سو وہ میں نے دیکھی
10:47تب یہ بات سن کر
10:48وہ سب کے سب اس کے سامنے سجدے میں گر پڑے
10:51اور اس سے خوش ہو گئے
10:53بلاخر ہرکل کی آخری حالت یہ ہی رہی
10:56ابو عبداللہ کہتے ہیں
10:58کہ اس حدیث کو سالے بن کیسان
11:00یونس اور مومر نے بھی زہری سے روایت کیا ہے
Comments

Recommended