00:25।
00:26اب صلی اللہ علیہ وسلم
00:29خواب میں جو کچھ دیکھتے وہ صبح کی روشنی کی طرح سہی اور سچا ثابت ہوتا
00:34پھر من جانب قدرت اب
00:36رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم
00:38تنہائی پسند ہو گئے
00:40اور اب
00:40رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم
00:42نے غار ہرا میں خلوت نشینی اختیار فرمائی
00:45اور کئی کئی دن اور رات وہاں مسلسل عبادت اور یاد الہی و ذکر و فکر میں مشغول رہتے
00:51جب تک گھر آنے کو دل نہ چاہتا توشا ہمرا لیے ہوئے وہاں رہتے
00:57توشا ختم ہونے پر ہی اہلیہ محترمہ حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہ کے پاس تشریف لاتے
01:03اور کچھ توشا ہمرا لے کر پھر وہاں جا کر خلوت گزی ہو جاتے
01:06یہی طریقہ جاری رہا یہاں تک کہ اب
01:09صلی اللہ علیہ وسلم
01:11پر حق منکشف ہو گیا
01:12اور اب
01:14غار ہراہی میں قیام پذیر تھے
01:16کہ اچانک حضرت جبرائیل علیہ السلام
01:20کے پاس حاضر ہوئے
01:22اور کہنے لگے کہ اے محمد
01:24پڑو اب
01:26فرماتے ہیں کہ میں نے کہا
01:28کہ میں پڑنا نہیں جانتا
01:31فرماتے ہیں کہ
01:32فرشتے نے مجھے پکڑ کر
01:34اتنے زور سے بھینچا کہ میری طاقت جواب دے گئی
01:36پھر مجھے چھوڑ کر کہا
01:38کہ پڑو میں نے پھر وہی جواب دیا
01:40کہ میں پڑا ہوا نہیں ہوں
01:42اس فرشتے نے مجھ کو
01:44نہائیت ہی زور سے بھینچا
01:46کہ مجھ کو سخت تکلیف محسوس ہوئی
01:48پھر اس نے کہا کہ پڑ
01:50میں نے کہا کہ میں پڑا ہوا نہیں ہوں
01:53فرشتے نے
01:54تیسری بار مجھ کو پکڑا
01:56اور تیسری مرتبہ پھر مجھ کو بھینچا
01:58پھر مجھے چھوڑ دیا
01:59اور کہنے لگا کہ پڑو اپنے رب کے نام کی مدد سے
02:02جس نے پیدا کیا
02:03اور انسان کو خون کی پھٹکی سے بنایا
02:06پڑو اور آپ کا رب بہت ہی مہربانیاں
02:08کرنے والا ہے
02:10پس یہی آیتیں اب
02:11صلی اللہ علیہ وسلم
02:13حضرت جبرائیل علیہ السلام سے سن کر
02:15اس حال میں غار ہرا سے باپس ہوئے
02:17کہ اب صلی اللہ علیہ وسلم
02:19کا دل اس انوکھے واقعہ سے کام پر رہا تھا
02:22اب صلی اللہ علیہ وسلم
02:24حضرت خدیجہ کے ہاں تشریف لائے
02:26اور فرمایا کہ مجھے کمبل اڑا دو
02:28مجھے کمبل اڑا دو
02:31لوگوں نے اب صلی اللہ علیہ وسلم
02:33کو کمبل اڑا دیا
02:35جب اب صلی اللہ علیہ وسلم
02:37کا ڈر جاتا رہا
02:39تو اب صلی اللہ علیہ وسلم
02:41نے اپنی زوجہ محترمہ حضرت خدیجہ
02:44رضی اللہ عنہ کو تفصیل کے ساتھ
02:46یہ واقعہ سنایا
02:47اور فرمانے لگے کہ مجھ کو
02:49اب اپنی جان کا خوف ہو گیا
02:51اب صلی اللہ علیہ وسلم
02:53کی اہلیہ محترمہ حضرت خدیجہ
02:55رضی اللہ عنہ نے اب صلی اللہ علیہ وسلم
02:58کی دھارس بندھائی اور کہا
03:00کہ اب کا خیال صحیح نہیں
03:02خدا کی قسم آپ کو اللہ کبھی رسوہ نہیں کرے گا
03:06اب تو اخلاق فاضلہ کے مالک ہیں
03:08اب تو کمبہ پرور ہیں
03:09بے قسم کا بوجھ اپنے سر پر رکھ لیتے ہیں
03:12مفلسوں کے لیے اب کماتے ہیں
03:14مہمان نوازی میں آپ بے مثال ہیں
03:17اور مشکل وقت میں آپ عمر حق کا ساتھ دیتے ہیں
03:21ایسے اعصاف حسنہ والا انسان
03:23یوں بے وقت زلط اور خواری کی موت نہیں پاسکتا
03:26پھر مزید تسلی کے لیے حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہ
03:30اب صل اللہ علیہ وسلم
03:32وہ ورقہ بن نوفل کے پاس لے گئی
03:34جو ان کے چچا ذات بھائی تھے
03:36اور زمانہ جاہلیت میں نصرانی مذہب اختیار کر چکے تھے
03:40اور عبرانی زبان کے کاتب تھے
03:42چنانچہ انجیل کو بھی حسب منشاء خداوندی عبرانی زبان میں لکھا کرتے تھے
03:48انجیل سریانی زبان میں نازل ہوئی تھی
03:51پھر اس کا ترجمہ عبرانی زبان میں ہوا
03:54ورقہ اسی کو لکھتے تھے
03:56وہ بہت بولے ہو گئے تھے
03:57یہاں تک کہ ان کی بینائی بھی رخصت ہو چکی تھی
04:00حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہ نے ان کے سامنے
04:04اب صل اللہ علیہ وسلم
04:06کے حالات بیان کیے
04:07اور کہا کہ یہ چچا ذات بھائی
04:09اپنے بھتیجے
04:11محمد صل اللہ علیہ وسلم
04:13کی زبانی ذرا ان کی کیفیت سن لیجئے
04:15وہ بولے کہ بھتیجے اپنے جو کچھ دیکھا ہے
04:18اس کی تفصیل سناو
04:20چنانچہ اب صل اللہ علیہ وسلم
04:23نے از اول تا آخر پورا واقعہ سنایا
04:25جسے سن کر ورقہ بے اختیار ہو کر
04:28بول اٹھے کہ یہ تو وہی ناموس
04:30معزز رازدان فرشتہ ہے
04:32جسے اللہ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام پر
04:35وہی دے کر بھیجا تھا
04:36کاش میں آپ کے اس اہد نبوت کے شروع ہونے پر
04:40جوان عمر ہوتا
04:42کاش میں اس وقت تک زندہ رہتا
04:44جبکہ آپ کی قوم آپ کو
04:46اس شہر سے نکال دے گی
04:48رسول اللہ صل اللہ علیہ وسلم
04:50تم نے یہ سن کر تاجب سے پوچھا
04:52کہ کیا وہ لوگ مجھ کو نکال دیں گے
04:55حالانکہ میں تو ان میں
04:57صادق و امین و مقبول ہوں
04:58کہ ورقہ بولا ہاں یہ سب کچھ سچ ہے
05:02مگر جو شخص بھی آپ کی طرح
05:04عمر حق لے کر آیا لوگ
05:05اس کے دشمن ہی ہو گئے ہیں
05:07اگر مجھے آپ کی نبوت کا وہ زمانہ مل جائے
05:10تو میں آپ کی پوری پوری مدد کروں گا
05:13مگر ورقہ کچھ دنوں کے بعد انتقال کر گئے
05:17پھر کچھ عرصہ تک
05:19وہی کی آمد موقوف رہی
05:20موسیقی
Comments