Skip to playerSkip to main content
  • 5 weeks ago

Category

🗞
News
Transcript
00:00اسلام علیکم ناظرین
00:02افواج پاکستان کے ترجمان
00:04میجر جنرل آصف غفور نے
00:05ایک پرس کانفرنس کے دوران قوم
00:08کو یہ خوشخبری سنا دی
00:09کہ تحریک طالبان پاکستان اور
00:12جماعت الہرار کے سابق ترجمان
00:14احسان اللہ احسان نے
00:15اپنے آپ کو
00:17سیکیورٹی فورسز کے حوالے کر دیا ہے
00:20انہوں نے
00:21نہ صرف یہ کہ
00:23اس اقدام کو اپریشن
00:26رد الفساد کی بڑی کامیابی
00:28سے تعبیر کیا بلکہ یہ بھی ان کا کہنا
00:30تھا کہ اگر اسی طرح
00:32کے لوگ جو ماضی میں ریاست سے اور
00:33فوج سے اور حکومت سے لڑ رہے تھے
00:35وہ اگر اپنے آپ کو سرنڈر
00:37کرتے ہیں ریاست کے سامنے
00:39تو یہ اپریشن کی کامیابی
00:41تصور ہوگی
00:43اور آپ لوگ نارت وزیرستان سے کب
00:45چلے گئے تھے میں تو
00:48جب میں ترجمانی سے
00:49میرا اختلاف ہوا اشورہ
00:51کے ساتھ کچھ امور پر
00:53تو میں وہاں سے پھر
00:56واپس چلا گیا
00:58ننگرہار میں لالپورہ کے
01:00علاقے میں میں رہا ہوں
01:04جب جماعت الہرار
01:05جود میں آیا تو پھر میں مختلف جگہ
01:07کر رہا ہوں میں مزار شریف
01:10میں بھی رہا ہوں
01:12خوست میں رہا ہوں
01:15جلال آباد
01:16میں بھی رہا ہوں
01:16تو یہ جب آپ مزار شریف جاتے تھے
01:18یا خوست جاتے تھے
01:20مزار شریف جاتے ہوئے تو آپ کو
01:22کابل پہ سے گزرنا پڑتا ہے
01:25یا خوست میں بھی
01:27تو افغان حکومت اور افغان انٹیلیجنس
01:30ان لوگوں کو خبر نہیں ہوتی تھی
01:31یا وہی لوگ آپ کو لے کے جاتے تھے
01:33کیونکہ یہ تو یقین کرنا مشکل ہے کہ آپ جیسا آدمی
01:36جس کا چہرہ بھی ہر کوئی جانتا ہو
01:37یہ خبر تو ان کو ہوتی تھی
01:41ان کو باقاعدہ بتاتے تھے کہ ہم یہاں سے گزر کے جا رہے ہیں
01:45تو ہمیں تکلیف نہیں ہونی چاہئے
01:48افغان حکومت کو بتاتے تھے یا انڈیس کو بتاتے تھے
01:51یہ طریقہ کار یہ ہوتا ہے نا کہ جو
01:56تنظیمیں ہیں ان تنظیموں نے کمیٹیا بنائی ہوئی ہے
01:59انڈیس اور افغان حکومت سے روابط کیلئے
02:03تو ان کمیٹی کو جب کوئی بندہ سپر کرتا ہے تو کمیٹی کو بتاتا ہے
02:08کہ بھائی میں جانا ہے ادھر آپ میرا انتظام کر لیں
02:12تو کمیٹی انڈیس والوں سے حکومت سے جنہیں بھی ضرورت ہوتی ہے
02:18جس سے رابطہ کرنے کی ان سے رابطہ کرتے ہیں اور لوگ سپر کرتے ہیں
02:21اور جو عمر خالد خوراسانی ہے عبدالولی
02:26وہ ادھر ہی رہ رہے ہیں ننگرہار میں لالپورا میں
02:29یا کہ نہیں وہ بھی افغانستان کے مختلف شہروں میں
02:32نہیں سیر وہ ان کے مختلف گھر ہیں
02:36چار جگہوں پر ان کی تین شادیاں ہیں
02:39تو الگ الگ گھروں میں رکھتے ہیں
02:42کبھی ایک جگہ ہوتے ہیں کبھی لالپورا میں ہوتے ہیں
02:45کبھی جلال آباد میں ہوتے ہیں
02:47کابل میں بھی ہوتے ہیں خوست بھی جاتے ہیں
02:49جمعت الحرار کے امیر جو ہے وہ کابل بھی جاتے رہتے ہیں
02:52جی سر جاتے ہیں
02:54ایک گھر کابل میں ہے
02:55جی سر
02:56آخری ملاقات آپ کی ان سے کب ہوئی تھی
03:00میری ان سے آخری ملاقات
03:03میں تقریباً پانچ چہ مہینے پہلے ہوئی تھی
03:06خوست میں ہوئی تھی
03:07وہ مجھ سے ملنے خوشت آئے تھے اور ادھر ملاقات ہوئی تھے
03:10تو آپ لوگ جب یہ مثلا مزار شریف جاتے تھے
03:14یا قابل میں ان کا گھر تھا
03:15یا وہاں پہ ان کا گھر تھا
03:16آنا جانا جب آپ لوگ ان کا رہتا تھا
03:18تو ٹھیک ہے انڈی ایس تو آپ کو پروٹیکٹ کرتی تھی
03:21یا ان کی حکومت کے ساتھ تو آپ کی کوارڈینیشن ہوتی تھی
03:23تو ادھر تو امریکی بھی ہیں اور امریکی ڈرون بھی ہیں
03:27تو امریکی بھی اس معاملے میں آن بورڈ تھے
03:30یا کہ ان کو خبر نہیں ہوتی تھی
03:32اور ان کے ڈرون کا خطرہ نہیں ہوتا تھا
03:34دراصل یہ ہے کہ شہری علاقوں میں جو زیادہ تر انتظامی امور ہے
03:39اب وہ افغان فورسس کے حوالے ہو گئی ہے
03:41تو ہم جہاں جاتے تھے
03:44تو یعنی افغان فورسس کے یہ جو انڈی ایس تھا
03:48وہ کمیٹی اس کو اطلاع دیتی تھی
03:50کہ ہمارا بندہ پلانہ نام سے جا رہا ہے
03:53تو وہ محبوظ طریقہ ان کو بتاتے تھے
03:55کہ اس طریقے سے جانا ہے
03:57جہاں خطرہ ہوتا تھا تو وہ بتا دیتے تھے
04:00کہ یہاں ہماری نہیں چلتی
04:01نیٹو پورسس ہے امریکی ہے
04:03تو وہاں اس طریقے سے پھر ہنڈل کرنا پڑتا تھا
04:08کہ کیسے جائیں کس طرح نہ
04:09اور یہ کچھ عرصہ پہلے خبر آئی تھی
04:12زخمی ہونے کی تو حقیقت کیا تھی
04:15جی پرچاہوں میں لالپورا کا علاقہ ہے
04:17اچھا
04:18اس میں مرخالد خوراچہ دیز زخمی ہو گئے تھے
04:22لیکن ابھی ٹھیک ہے
04:23پھر وہ علاج کے لیے ہندوستان کی چلے گئے تھے
04:27یہ کب کی بات ہے
04:28یہ جب وہ زخمی ہو گئے تھے
04:30تقریبا جب جماعت الحرار بن گئے تھا
04:34تو اس سے کچھ پانچے مہینے بعد
04:36تو وہ زخمی ہوئے تھے
04:38دوہزار پندرہ کی بار
04:39ہندوستان چلے گئے تھے
04:40افغانی پاسپورٹ پہ
04:42جب بعد میں آئے تو
04:43وہ ہمیں بتا دیا کہ میں علاج کے لیے چلا گیا تھا
04:45ہے
Comments

Recommended