- 5 hours ago
- #shaneramzan
- #ramzan2026
- #aryqtv
Khulasa e Mazameen e Quran | Rehmat e Sehr
✨ Don’t miss our special Ramzan programming:
Watch Shan e Ramzan 2026➡️ https://www.youtube.com/playlist?list=PLQ74MR5_8XidxOPy82ppRmJ5GRaSujfOw
Naimat e Iftar | New Episodes | 2026➡️ https://youtube.com/playlist?list=PLQ74MR5_8XifM_2JI-vR0No8J3zKWTdec&si=ydRLxvXrh8nKk3on
Watch Rehmat e Sehr | Ramzan Episode's 2026➡️ https://youtube.com/playlist?list=PLQ74MR5_8XicMEurbK_1yWAYr02skW7Oq&si=5ZW8tuayXzOGsHwG
Speaker: Shujauddin Shaikh
#ShaneRamzan #ramzan2026 #aryqtv
Join ARY Qtv on WhatsApp ➡️ https://bit.ly/3Qn5cym
Subscribe Here ➡️ https://bit.ly/aryqtv
Instagram ➡️ https://www.instagram.com/aryqtvofficial
Facebook ➡️ https://www.facebook.com/ARYQTV/
Website ➡️ https://aryqtv.tv/
Watch ARY Qtv Live ➡️ http://live.aryqtv.tv/
TikTok ➡️ https://www.tiktok.com/@aryqtvofficial
✨ Don’t miss our special Ramzan programming:
Watch Shan e Ramzan 2026➡️ https://www.youtube.com/playlist?list=PLQ74MR5_8XidxOPy82ppRmJ5GRaSujfOw
Naimat e Iftar | New Episodes | 2026➡️ https://youtube.com/playlist?list=PLQ74MR5_8XifM_2JI-vR0No8J3zKWTdec&si=ydRLxvXrh8nKk3on
Watch Rehmat e Sehr | Ramzan Episode's 2026➡️ https://youtube.com/playlist?list=PLQ74MR5_8XicMEurbK_1yWAYr02skW7Oq&si=5ZW8tuayXzOGsHwG
Speaker: Shujauddin Shaikh
#ShaneRamzan #ramzan2026 #aryqtv
Join ARY Qtv on WhatsApp ➡️ https://bit.ly/3Qn5cym
Subscribe Here ➡️ https://bit.ly/aryqtv
Instagram ➡️ https://www.instagram.com/aryqtvofficial
Facebook ➡️ https://www.facebook.com/ARYQTV/
Website ➡️ https://aryqtv.tv/
Watch ARY Qtv Live ➡️ http://live.aryqtv.tv/
TikTok ➡️ https://www.tiktok.com/@aryqtvofficial
Category
🛠️
LifestyleTranscript
00:00Allahatah kalamu padha ya Rasul ne
00:04Asham be bar safa ko likha ya Rasul ne
00:09Nakhmaduhu wa nusalli ala Rasulihil karim
00:12Amma ba'd bismillahirrahmanirrahim
00:14Allahumma salli ala Muhammadin wa ala ala ala Muhammadin
00:18Wabarik wa sallim
00:19Rabbish rahli sadri ve yassir li amri
00:21Wachlul qudata min lisani yafqahu qawli
00:23Wajعل li waziran min ahli
00:25Amin ya Rabbil alameen
00:27Nazir karam assalamualikum warahmatullahi wabarakatuh
00:31Umidhah khair rafiyah se hunggye
00:32اور ہماری دعا ہے کہ آپ جہاں کہیں بھی ہوں
00:33Allah ta'ala آپ سب کو
00:34اور ہم سب کو اپنے زمان میں رکھیں
00:36آفیت اور سلامتی سے نوازیں
00:38Allah ta'ala hii ki توفیق سے
00:40خلاصہ مضامین قرآن حکیم کے بیان کا سسنا جاری ہے
00:43آدھ انشاءاللہ و تعالی ہم قرآن حکیم کے
00:4526 پارے کے مضامین کا خلاصہ
00:47آپ کے سامنے رکھنا چاہیں گے
00:4926 پارے میں
00:50سورہ احقاف کی پہلی آیت سے
00:52بیان شروع ہوتا ہے
00:54اور 26 پارہ مکمل ہوتا ہے
00:56سورت و ذاریات کی آیت نمبر 30 پر
00:59اب قرآن پاک کے آخری پارے
01:01تو سورتوں کی تعداد بھی بڑھ رہی ہے
01:02سورہ احقاف کے بعد
01:0426 پارے میں
01:05تین مدنی سورتیں بھی آتی ہیں
01:06سورہ محمد ہے
01:08صلی اللہ علیہ وسلم
01:09سورہ فتح ہے
01:10سورہ حجرات ہے
01:11پھر سورہ قوف
01:12اور پھر سورہ ذاریات مکی سورتیں
01:13تو انشاءاللہ تعارف آپ کے سامنے آتا رہے گا
01:16آئیے چلتے ہیں
01:17اور اپنا مطالعہ آگے بڑھاتے ہوئے
01:18سب سے پہلے
01:19سورت الاحقاف کا تعارف آپ کے سامنے رکھتے ہیں
01:22سورت الاحقاف کے تعارف کے حوالے سے پہلا نکتہ
01:25یہ سورت الاحقاف مکی سورت ہے
01:2726 پارے کا آغاز اسی سورت سے ہوتا ہے
01:30سورت کے آغاز میں شرک کی مضمت کی گئی ہے
01:33نیس قرآن مجید
01:34رسالت اور آخرت پر
01:36مشرکین کے اعتراضات کے جوابات دیے گئے ہیں
01:38والدین کے ساتھ
01:40حسس سلوک کا حکم دیا گیا ہے
01:41نیس نیک اولاد کا اچھا
01:43اور بری اولاد کا برا انجام بیان کیا گیا ہے
01:46مکی دور کے مضامین
01:47توحید
01:48رسالت آخرت کا ذکر
01:49مشرکین کی مضمت
01:51ان کے اعتراضات کے جوابات دیے گئے
01:52اور معاشرتی حوالے سے
01:54والدین کے حوالے سے رہنمائی دی گئی ہے
01:56اور نیک اور بری اولاد کے انجام کو بیان کیا گیا
01:59تاریخ سے برے کردار کی مثال کے طور پر
02:02قوم عادت کا قصہ ذکر کیا گیا
02:03جن پر اللہ کا عذاب آیا تھا
02:05آخر میں جنات کا
02:07نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے
02:09قرآن حکیم سن کر
02:10ایمان لانے کا واقعہ
02:12اور آخرت کا تذکرہ کیا گیا ہے
02:14جنات کا بڑا قیمتی واقعہ ہے
02:15بڑا ایمان افروس واقعہ ہے
02:17کچھ اس کا مطالعہ ہم آپ کے سامنے رکھیں گے
02:19انشاءاللہ و تعالی
02:20یہ تعرف وہاں
02:21سورة الاحقاف کا آوائی چلتے ہیں
02:23سورة الاحقاف کی چند منتخب آیات کے مطالعے کی طرف
02:27سب سے پہلے جس آیت کا ہم نے انتخاب کیا
02:30بہت جامع اور اہم آیت ہے
02:32سورة الاحقاف کی آیت امبر پندرہ
02:34گھر والوں کے لئے قیمتی دعا
02:36والدین کا ذکر بھی آئے گا
02:38خود اپنا ذکر بھی آئے گا
02:39یعنی بندوں کا
02:39اور اولاد کا ذکر بھی آئے گا
02:41اور والدین کے حوالے سے
02:43اہم رہنمائی خاص طور پر
02:45ماں کا تذکرہ بھی آ رہا ہے
02:47سورة الاحقاف آیت امبر پندرہ
02:55اور ہم نے انسان کو والدین کے بارے میں
02:58حسن سلوک کرنے کا حکم دیا
03:00جا بجا قرآن پاک میں
03:01معاشرت ہدایات عطا کی گئیں
03:03اور اللہ تعالیٰ نے کم و بیچ پانچ مرتبہ
03:06اپنے حق کے بعد
03:07والدین کے حق کو بیان کیا
03:09یہاں احسانہ حسن سلوک کا حکم
03:11البتہ اگلے الفاظ میں
03:13والدہ کا ذکر زیادہ آ رہا ہے
03:15حملت امہ کرہوں
03:17و ودعاتہ کرہا
03:18اس کی ماں اسے حمل کی حالت میں
03:21اٹھائے پھرتی رہی
03:22یعنی حالت حمل اس کی کیفیت
03:24اور اس نے تکلیف جھیلتے ہوئے
03:27اسے جنم دیا
03:27تو حمل کی مشقت کا ذکر
03:30اور بچے کو جنم دینے کی
03:32مشقت کا ذکر دو باتیں ہو گئیں
03:34وحملہ وفصالہ ثلاثون شہرہ
03:37اور اس کے حمل کی مدد
03:39اور دودھ پلانے کی کل مدد ہے
03:41تیس مہینے
03:42دودھ پلانے کی اور حمل کی کل مدد
03:45تیس مہینے
03:46قرآن کریم میں سروط البقرہ کی آیت
03:48نمبر ٹو تھریڈی تھری میں ذکر آتا ہے
03:50کہ بچے کو دودھ پلانے کی کل مدد ہے
03:53چوبیس مہینے
03:54دو سال
03:59دو سال کے بنتے ہیں چوبیس مہینے
04:01یا حمل اور دودھ پلانے کی مدد
04:03ٹوٹل بنی تیس مہینے
04:04تیس مہینے میں سے چوبیس مہینے نکال دے
04:07تو کتنے بچے چھ مہینے
04:08ممکنات میں سے نہ ہونے کے برابر ہے
04:10لیکن کم از کم حمل کی مدد
04:13وہ چھ مہینے بیان کی گئی
04:15اس کے زیر میں بہت سارے احکامات
04:17و تفصیلات وہ تفاصیل میں آپ دیکھئے گا
04:19اب ماں کا ذکر تین اعتبارات سے
04:21حمل کی مشقت
04:21بچے کو جنم دینے کی مشقت
04:24اور دودھ پلانے کی مشقت
04:26تین اعتبارات سے ماں کا ذکر زیادہ ہوا
04:28حدیث رسول
04:29ذہن میں لے کر آئیے صلی اللہ علیہ وسلم
04:31پوچھا گئے حضور علیہ السلام
04:33میرے حسن سلوک کا سب سے بڑھ کر مستحق کون
04:35تمہاری ماں پھر کون
04:36تمہاری ماں پھر کون
04:39تمہارے والد
04:40باپ کو درجہ انتظامی اعتبار سے
04:42اور قوام کے اعتبار سے
04:43سرورہ کے اعتبار سے دیا گیا
04:45بڑا
04:45لیکن حسن سلوک میں
04:47ماں
04:47ماں
04:48ماں اور پھر
04:48باپ کا تذکرہ
04:50احادیث بھی سامنے رہنی چاہیے
04:51یہ والدین کا ذکر بھی ہو گیا
04:53بلخصوص ماں کا تذکرہ بھی آ گیا
04:55اللہ ہمیں ماں باپ کی خدمت کی توفیق دے
04:56اسے سلوک کی توفیق دے
04:58اور اگر چلے گئے ہوں
04:59تو ان کے لئے صدقہ جالیہ بننے کی توفیق
05:01عطا فرمائے
05:02آگے ذکر ہے
05:03اولاد کے تعلق سے
05:04اور بڑی قیمتی دعائیں
05:06گھر والوں کے حوالے سے بتائی جا رہی ہیں
05:07حَبْتَا اِذَا بَلَغَ أَشُدَّهُ
05:10یہاں تک کہ وہ اپنے پخت عمر کو پہنچا
05:12وَبَلَغَ أَرْمَعِنَ سَنَتًا
05:14اور چالیس برس کا ہو گیا
05:16ایک ہوتا ہے جسم کی بلوغت کا معاملہ
05:18شرع اعتبار سے وہ علامات ظاہر ہو جاتی ہیں
05:20بچہ یا بچی وہ بالغ ہو جاتے ہیں
05:22ایک ہے شعور کی بلوغت
05:24انٹلیکٹ کی بلوغت
05:25وہ چالیس برس کی عمر بتائی جا رہی ہے
05:27یہاں تک کہ وہ اپنے پخت عمر کو پہنچا
05:30وَبَلَغَ أَرْمَعِنَ سَنَتًا
05:32اور چالیس برس کا ہو گیا
05:33قَالَ
05:34اس نے عرض کی
05:35یہ نیک اولاد کا ذکر ہو رہا ہے
05:44کہ میں اس نعمت کا شکر ادا کروں
05:46جو نعمت تُو نے مجھ پر فرمائی
05:48اور میرے والدین پر فرمائی
05:50اور میں ایسا نیک عمل کروں
05:54اے اللہ جس سے تُو راضی ہو جائے
05:58اور میری اولاد کے معاملے میں
05:59اصلاح کا بہتری کا معاملہ فرما دے
06:04بے شک میں نے تنی طرف رجوع کیا
06:06اور بے شک میں مسلمانین فرما برداروں میں سے ہوں
06:09ایسی دعا سلیمان علیہ السلام کی ہم پڑھ چکے ہیں
06:12وہاں آخر کی الفاظ کی ہیں
06:14وَاَدْخِلْنِ بِرَحْمَتِكَ فِي عِبَاتِكَ الصَّالِحِينَ
06:17اور اے میرے رب اپنی رحمت سے
06:18مجھے صالحین میں نیک لوگوں میں شامل فرما
06:21یہاں اولاد کے حوالے سے بھی دعا آگئی
06:24ماں باپ کا ذکر بھی آگیا
06:25بہت جامع دعا ہے
06:27اور شکر گداری کے رویش کی طرف بھی توجہ دلائی گئی
06:30اللہ تعالی ہمیں اپنے شکر گدار بندوں میں شامل فرمائے
06:33اس کے بعد سورہ احقاف کی جو اگلی آیات ہم نے منتخب کی ہیں
06:36وہ سورہ احقاف کی آیات
06:3839 تا 32
06:40جنات کا سمائی قرآن اور ایمان
06:43جنات نے قرآن پاک سنا
06:45حضور اکرم علیہ السلام سے سنا اور ایمان لے آئے
06:47اور قرآن کے داعی بن کر اپنی قوم کی طرف لوٹے
06:50بڑا ایمان افروض واقعہ
06:52اشاد ہو رہا ہے
06:53سورہ احقاف کی آیت 39
06:55وَإِذِ صَرَفْنَا إِلَيْكَ نَفْرَ مِنَ الْجِنِّ يَسْتَمِعُونَ الْقُرْآنِ
07:00اور یاد کیجئے نبی صلی اللہ علیہ وسلم
07:02ہم ایک جماعت پھیر لائے جنات کی ان کو متوجہ کر دیا
07:06آپ کی طرف
07:07يَسْتَمِعُونَ الْقُرْآنِ
07:08وہ توجہ سے قرآن پاک کو سن رہے تھے
07:10توجہ سے
07:13پس جب وہاں وہ پہنچے
07:15ایک دوسرے سے کہا خاموش ہو جاؤ
07:18پس جب تلاوت مکمل کر لی گئی
07:22وہ انذار کرنے والے
07:24یعنی اللہ تعالیٰ کی عذاب سے
07:25ڈرانے والے بن کر
07:27اپنی قوم کی طرف لوٹے
07:28پس منظر تفاصیل میں بھی دیکھئے
07:30ایک کا تفسیر سے
07:31واقعہ تائف ہمارے علم ہے
07:33جو کچھ ہوا ہمارے سامنے
07:34زمین والوں نے رد کیا
07:35آسمان و زمین کے رب نے جنات کو بھیج دیا
07:37فجر کی نماز
07:39تلاوت فرماتے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم
07:41اور اس تلاوت کو سنا جنات توجہ سے
07:43و قرآن پاک کا عدب بھی ہے
07:45خاموش رہنا توجہ سے سنا
07:47سورہ آراف کے آخر میں آتا ہے
07:48قرآن پاک کا عدب
07:49اذا قریل قرآن فستمعو لہو
07:52وانسطو لعلکم ترحمون
07:53جب قرآن کریم پڑھا جائے
07:55تو خاموش رہو
07:56توجہ سے سنو
07:56تاکہ تم پر رحم کیا جائے
07:58یہی عدب یہاں جنات نے اختیار کیا
08:01اور آگے ذکر آرہے
08:02کہ موسیٰ علیہ السلام کے ماننے والے تھے
08:04قالو
08:05بلکہ عرض کرتا ہوں آگے
08:06کہ انہوں نے قرآن پاک کو عدب سے سنا
08:09اور ایمان کی دولت ان کو مل گئی
08:11تلاوت مکمل ہوئی
08:12چند آیات قرآن پاک کی سنی ہیں انہوں نے
08:14اور حضور اکرم علیہ السلام
08:16نماز فجر کی تلاوت فرمارے
08:18اور منذر
08:19اللہ کے عدب سے درانے والے بن کر
08:21گویا قرآن کے مبلغ
08:22اور قرآن کی داعی بن کر
08:24اپنی قوم کی طرف لوٹے
08:32بے شک ہم نے کتاب کو سنا
08:34جب موسیٰ علیہ السلام کے بعد نازل کی گئی
08:36گویا موسیٰ علیہ السلام کو جانتے اور ان کو مانتے تھے
08:39مصدق اللی ما بین یدین
08:40یہ تصدیق کرتا ہے قرآن اپنی سپشلی کتابوں کی
08:44یہ حق کی جانب رہنمائی کرتا ہے
08:49اور سیدھے راستے کی ہدایت دیتا ہے
08:50قرآن پاکی صفات آگئی
08:52حق کی طرف ہدایت دیتا ہے
08:53سیدھے راستے کی ہدایت دیتا ہے
08:55اور یہ جنات مسلمان ہی نہیں ہو گئے
08:57بلکہ داعی بن کر اپنی قوم کی طرف لوٹے
09:00مزید ذکر آ رہا ہے
09:02یا قومنا اے ہماری قوم
09:04عجیب داعی اللہ و آمنو بہی
09:06اللہ کے طرف دعوت دینے والے پیغمبر
09:09صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت قبول کر لو
09:11اور ان پر ایمان لے آو
09:12یاغفر لکم من ذنوبکم
09:14اللہ سبحانہ وتعالی
09:15تمہارے گناہوں کو بخش لے گا
09:31تو پھر وہ زمین میں
09:33آجز کرنے والا تو نہ ہوگا
09:35کہ اللہ کے حکم کو روک دے
09:36اللہ کے حکم کو ٹال دے
09:37اور نہ ہی اس کے لیے
09:39کوئی دوستوں میں سے ہوگا
09:41کہ اس کو بچا سکیں
09:42اللہ اکبر
09:45یہی لوگ ہیں جو کھلی گمراہی میں ہیں
09:46مخصرن قرآن پاک کی چند آیات سن کر
09:49جنات مسلمان بھی ہو گئے
09:51اور قرآن کے داعی بن کر
09:53قوم کی طرف لوٹے
09:54ہم بھی قرآن پاک کو سننے
09:55کتنی آیات سن چکے ہیں
09:57اب قرآن پاک کو
09:58یقین کے ساتھ مانتے ہوئے
10:00ہدایت لیتے ہوئے
10:01عمل بھی کرنا ہے
10:02اس کے پیغام کو آگے بھی پہنچانا ہے
10:03جنات ہمیں سکھا رہے
10:05اللہ ہمیں عمل کرنے کی توفیق
10:06عطا فرمائے
10:07یہ سورہ احقاف کی چند منتخب
10:09آیات کا مطالعہ
10:10ہم نے آپ کے سامنے رکھا
10:10قرآن پاک کے چھبیس سے پارے میں
10:12سورہ احقاف کے بعد
10:14اب تین مدری صورتیں آ رہی ہیں
10:17سب سے پہلے سورہ محمد ہے
10:18صلی اللہ علیہ وسلم
10:19پھر سورہ فتح
10:20اور پھر سورہ خجرات
10:21آئیے سورہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم
10:23اس کا تعریف آپ کے سامنے رہتے ہیں
10:25اس سورت کا
10:26اور سورہ محمد کا ایک اور نام
10:27سورة القتال بھی ہے
10:28اس میں قتال فی سبیل اللہ کے بارے میں
10:30احکامات اور ہدایات عطا کی گئیں
10:33تعریف لیتے ہیں
10:33سورہ محمد کا صلی اللہ علیہ وسلم
10:36سورہ محمد مدنی سورت ہے
10:38اس سورت میں جہاد و قتال اور
10:40انفاق فی سبیل اللہ کی ترغیب
10:42اور احکام بیان ہوئے ہیں
10:44اس سورت میں جہاد و قتال اور انفاق
10:46ڈفرص بیاللہ کی ترغیب اور احکام بیان ہوئے ہیں
10:49بدر سے منسلک
10:50یعنی متصل یہ صورت نازل ہو رہی ہے
10:52پہلا باقاعدہ مار کا حق و بادل کا کون سا تھا
10:54بدر کا موقع
10:55اب اس کے زل میں اور ہدایت
10:57قتال اور جہاد کے والے سے اور ہدایت
10:59عطا ہوئی ہیں
11:00اللہ تعالی نے ان دو گروہوں
11:02یعنی اہل ایمان اور کفار کا ذکر فرمایا ہے
11:04جن کے درمیان حق و بادل کا فیصلہ
11:07کن مقابلہ درپیش تھا
11:08ایک طرح سچے ایمان والے دوسرے طرح کفار
11:10ان دو گروہوں کا ذکر سورہ محمد میں آیا ہے
11:13صلی اللہ علیہ وسلم
11:15مسلمانوں کو ابتدائی جنگی ہدایات دی گئی ہیں
11:17اور اللہ تعالی کی مدد و نصرت
11:19اور اس کی طرف سے ہدایت و رحنمائی کی بشارت دی گئی ہیں
11:23ایمان والے ڈٹے رہیں گے
11:24اللہ کے دین پر قائم رہیں گے
11:26اس کے دین کی سربلندی کی جد و جہد کریں گے
11:28اللہ تعالی کی نصرت ان کے شامل حال ہوگی
11:32کفار کو وعید سنائی گئی ہے
11:34کہ ان کی سب چالے بیکار ہوں گی
11:36اور دنیا اور آخر ان کا بہت برا انجام ہوگا
11:39منافقین کا بھی طرز عمل بیان کر کے
11:41انہیں متنبع کیا گیا ہے
11:42یہ دنیا پرس قسم کے لوگ ایمان کے دعوے کرتے تھے
11:45مگر دنیا کی محبت میں ڈوب کر
11:46جہاد و قتال کے تقادل سے فرار اختیار کرتے تھے
11:49مسلمانوں کے اس بات کی تلقین کی گئی
11:52کہ وہ اللہ تعالی کے دین کو غالب کرنے کے لئے
11:54مال و جان اور تمام وسائل کی ممکنہ حد تک
11:57بھرپور قربانی دیں
11:58مکہ کے تیرہ برست و ہاتھوں کو باندے رکھنے کا حکم تھا
12:01مدری دور میں قتال کا میدان سج رہا ہے
12:03اور قتال کی اجادت اور حکم آ چکا
12:05تو سورہ محمد میں بھی
12:07صلی اللہ علیہ وسلم
12:08راہِ خدا میں جان مال سب کچھ پیش کرنے کا
12:11مطالبہ کیا جا رہا ہے
12:12یہ چند نکات تھے سورہ محمد کے تعارف کے حوالے سے
12:15اب آئیے
12:16سورہ محمد کی چند منتخب آیات کے مطالبہ کی طرف چلتے ہیں
12:20سب سے پہلے جس آیت کا ہم نے انتخاب کیا
12:22یہ سورہ محمد کی آیت امبر ساتھ ہے
12:24اللہ کی نصرت کا حصول کیسے
12:26اللہ کے نصرت ہوگی تو ہمارے معاملات سور جائیں گے نا
12:29آج ہمارے معاملات بگڑے ہوئے ہیں
12:31تو نصرت الہی سے دوری ہے نا
12:34اللہ کے نصرت کیسے ملتی ہے
12:35آئیے معلوم کرتے ہیں
12:37سورہ محمد کی آیت امبر ساتھ میں بتایا گیا
12:43اے وہ لوگوں جو ایمان لائے ہو
12:44اگر تم اللہ کی نصرت کروگے
12:46تو اللہ تمہاری نصرت فرمائے گا
12:48ویثبت اقدامکم
12:49اور اللہ تمہارے قدموں کو مضبوطی عطا فرما دے گا
12:52اللہ کے نصرے سے مراد کیا ہے
12:55اٹھائیسے پارے میں
12:56سورہ صف کی آخری آیت ہے آیت نمبر چودہ
12:58وہاں ذکر آتا ہے
12:59کونو انصار اللہ
13:00اللہ کی مددگار بن جاؤ
13:01جیسے عیسیٰ ابن مریم نے اپنے
13:04حواریین کو ساتھیوں کو پکارا
13:10ان کے حواریوں ساتھیوں نے کہا
13:12ہم اللہ کے مددگار ہیں
13:14پیغمبر نے پکارا ہے
13:15اور ساتھی کہنا ہم اللہ کے مددگار ہیں
13:17پیغمبر کے مشن میں شامل ہونا
13:20پیغمبر کے دعوت دین کے کام میں
13:22پیغمبر کے نفات دین کے جدہ جہد کے کام میں
13:24پیغمبر کے اللہ کے دین کو قائم کرنے کی محنت کے کام میں
13:27جب ساتھی شرکت کرتے ہیں
13:29تو یہ گویا اللہ کے نصرت ہے
13:31ایمان والے شرکت کرتے ہیں اس کام میں
13:33تو یہ اللہ کے نصرت ہے
13:34تم اللہ کے نصرت کروگے
13:35اللہ تو والی نصرت فرمائے گا سبحان اللہ
13:37آج ہم کیوں زلیل ہیں دنیا میں
13:39سخت لفظ آ گیا نا
13:41بہرحال مجھے کہہ لینے دیجئے آج ہماری حالت
13:43کیا ہے دنیا کے اندر سب سے سستا خون
13:45ہمارا بیٹ ہے مسلمانوں کا
13:46سب سے زیادہ قبضیں ہماری زمینوں پر
13:49سب سے زیادہ حجرت مائگریشن کے معاملات
13:51ظلم کی وجہ سے گھر بار کو چھوڑنا
13:53ہم مسلمانوں کے ساتھ ایسے ہی ہے نا
13:55آج وجہ کیا ہے اللہ تعالیٰ کے
13:57نصرت شامل حال نہیں وجہ ایک
13:59خطہ زمین پر کوئی ایک ملک ہم دنیا کے
14:01سامنے پیش نہیں کر سکتے کہ آؤ دیکھو یہ
14:03اللہ کا دین یہاں پر نافذ اور قائم ہے
14:05اللہ کا دین ہم نے چھوڑا ہوا ہے
14:07اس کے دین کی محنت کو چھوڑا ہوا ہے تو اس کی
14:09مدد کہاں سے آئے گی یہ آیت بتا رہی ہے
14:11ام تنصر اللہ ینصر
14:13کم اگر تم اللہ کی نصرت کرو گے
14:15اس کے دین کی مدد کرو گے تو اللہ
14:17تمہاری نصرت فرمائے گا تمہاری مدد فرمائے گا
14:19ویثبت اقدامکم اور
14:21تمہارے قدموں کو مصبوطی عطا کر دے گا
14:23سیاسی بگاڑ ہمارے ہاں
14:25عدالتی بگاڑ ہمارے ہاں
14:26معاشر تباہی ہمارے ہاں معاشی تباہی
14:29ہمارے ہاں قدم تو اکھڑ گئے
14:31نا قدم جمیں گے جب اللہ
14:33ہمارے ساتھ ہوگا اللہ ہمارے ساتھ کب ہوگا
14:35جب اس کے دین کے ساتھ مخلص
14:37ہوں گے اللہ کے دین کی نصرت کرو گے
14:39اس کی دعوت اور اس کے نفاس
14:41کی محنت کرو گے اس کے حکامات کے
14:43نفاس کی محنت کرو گے تو اللہ تمہاری مدد
14:45فرمائے گا اور تمہارے قدموں کو
14:47اللہ مصبوطی عطا فرما دے گا
14:48اس کے بعد ہم نے جس اگلی آیت کے انتخاب کی ہے
14:51وہ سورہ محمد کی آخری آیت ہے
14:53سورہ محمد آیت نمبر 38
14:55رخ پھیڑ لینے کا برا انجام
14:57اللہ کے دین سے فراد اختیار کرو گے
14:59اللہ کے رامے خلچ نہیں کرو گے
15:01اس کی پکار پر لبائی نہیں کہو گئے
15:03تو پھر دیکھو تمہارا کیا حشر ہوگا
15:04اور تمہیں ہٹا کر اللہ کسی اور کو لے آئے گا
15:06اللہ تمہارا نہیں تم اللہ کے موتا جو
15:08تم فقیر ہو اس کے یہ بات اس آیت میں آرہی ہیں
15:11سورہ محمد کی آیت نمبر 38
15:14ہا انتم ہاؤ لائی تدعون لتنفقو
15:17فی سبیل اللہ
15:18یہ تمہیں تو ہو جنہیں پکارا جاتا ہے
15:20بلایا جاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی رامے خرچ کرو
15:23انفاق کرو فامینکو مئیب خل
15:25پس تمہیں سے کوئی ہے جو بخل کرتا ہے
15:26کنجوسی کرتا ہے جیسے کہ منافقین
15:28ان کو جان مال عزیز تھے راہی خدا میں خرچ نہیں کرتے تھے
15:31فامینکو مئیب خل
15:32پس تمہیں سے وہ ہے جو بخل کرتا ہے
15:34وَمَنْ يَبْخَلْ فَإِنَّمَا يَبْخَلُ عَمْ نَفْسِ
15:37اور جو بخل کرتا ہے کنجوسی کرتا ہے
15:40بچا بچا کے رکھتا ہے راہی خدا میں خرچ نہیں کرتا
15:42وہ اپنے ہی نقصان کا معاملہ کر رہا ہے
15:44اپنے ہی نقصان کے لئے وہ حرکتیں کر رہا ہے کنجوسی کی
15:47وَاللَّهُ الْغَنِي جِوَا أَمْتُمُ الْفُقَرَا
15:50اور اللہ غنی بے نیاز ہے
15:52وَالْتُمْ فَقِيرُ
15:53ہم موتاج ہیں اللہ کے
15:54اللہ کو کسی شیع کی حاجت نہیں
15:55وَإِن تَتَوَلَّوْ يَسْتَبْدِلْ قَوْمَا غَيْرَكُمْ
15:58اور اگر تم رخ پھیل لوگے
16:00تم فرار اختیار کروگے
16:01تم اللہ کے دین کی جد جہود نہیں کروگے
16:03جان و مال کو نہیں لگاؤگے
16:04رہی خدا میں انفاق نہیں کروگے
16:06بھاگوگے
16:07يَسْتَبْدِلْ قَوْمَا غَيْرَكُمْ
16:09اللہ تمہیں ہٹا کر مٹا کر کسی اور قوم کو لے آئے گا
16:12ثُمَّ لَا يَكُونُوا أَمْثَالَكُمْ
16:14پھر وہ تمہاری طرح نہیں ہوں گے
16:15تمہیں ہٹا کر اللہ کسی اور کو لے آئے گا
16:17اللہ بے نیاز ہے
16:19تمہیں اللہ کی حاجت ہے
16:20اللہ کو تمہاری حاجت نہیں ہے
16:22تم یہ سعادت حاصل نہیں کرنا چاہتے
16:24تم عجر حاصل کرنا نہیں چاہتے
16:25تم اللہ کی رضا حاصل کرنا نہیں چاہتے
16:27تمہیں اللہ ہٹا دے گا
16:28مٹا دے گا
16:28کسی اور کو لے آئے گا
16:29کبھی ہوا تھا نا
16:30هَيْعَيَا يُوْرِشِ تَعْتَار کے افسانے سے
16:33پاس با مل گئے کعبے کو سنم خانے سے
16:36جن تعتادوں نے لاکھوں کی تعداد میں مسلمانوں کو شہید کیا
16:39کل ان کی اگلی نسل کو
16:41اللہ نے اسلام اور ایمان کی دولت اتا کر دی
16:42اور ترکانِ عثمانی
16:44پھر سلطنتِ عثمانی کا قیام
16:46ان کے ذریعے سے ہو گئے
16:47الحمدللہ
16:47اللہ تمہیں ہٹا کر کسی اور کو لے آئے گا
16:49اللہ قادر اور اللہ بے نیاز ہے
16:52وہ تمہاری طرح نہیں ہوں گے
16:53تمہارا پھر کیا ہوگا غور کرنا چاہیے
16:55آج اگر ہم اللہ کی پکار پر لبائک نہیں کہہ رہے
16:57آج اگر اس کے دین کی جد و جہد کے لیے
16:59اس کے دین کی سر بلندی کے لیے
17:01ہم تن مندن نہیں لگا رہے
17:02اللہ مٹا سکتا ہے ہٹا سکتا ہے
17:03اللہ کسی اور کو لے آئے گا
17:05پھر ہماری دانستہ تک نہیں ہوگی دانستانوں میں
17:07اللہ ہمیں دین کی سمجھ دے
17:09اور دین کو پھیلانے
17:11دین کی دعوت دینے
17:12اور دین کے نفاظ کے جد و جہد کے لیے
17:14جان مال وقت صلاحیت وقات و الاد
17:16یہ سب کچھ لگانے کی توفیق عطا فرمائے
17:19قرآن حکیم 26 پارے میں
17:20سورہ محمد کے بعد
17:21سورت الفتح کا آغاز ہوتا ہے
17:23آئیے سورت الفتح کے
17:24تعریف کے حوالے سے چند باتیں
17:26آپ کے سامنے رکھتے ہیں
17:27تعریف کے حوالے سے
17:28سورہ فتح کے زمن میں پہلا نکتا
17:29سورت الفتح مدنی صورت ہے
17:32سن چھے ہجری میں
17:33پیش آنے والی سلہ حدیبیہ کو
17:35واضح فتح قرار دیا گیا
17:37فتح مبینہ
17:38واضح فتح قرار دیا گیا
17:40تاریخی پس منظر
17:41شان نزول کی تفصیل
17:43اللہ کے نبی علیہ السلام نے
17:45خواب دیکھا
17:46اس سورت کے آخر میں
17:47ذکر بھی آتا ہے
17:48آپ عمرہ دا فرما رہے ہیں
17:49اپنے پیارے صحابہ اکرام کے ساتھ
17:51آپ چودہ سو صحابہ اکرام
17:52کو لے کر تشریف لے گئے
17:53کفار نے روک دیا
17:55پھر صلح کا معاملہ ہوا
17:56بظاہر شرائط ایسی تھی
17:57بظاہر مسلمانوں کے خلاف جا رہی تھی
17:59مگر اللہ تعالی نے
18:00اسی صلح حدیبیہ کو
18:01مدینہ پیکٹ
18:02جسے انگلیش میں کہتے ہیں
18:03فتح مبین واضح کھلی
18:05فتح قرار دیا
18:06آگے لکھا ہے
18:07تعرف کے زیل میں
18:07منافقین کی ہیلہ بازیوں
18:10اور ان کے لئے سخت وعید
18:11بیان کی گئی ہے
18:12منافقین و مشکین کیلئے
18:14عذاب کا ذکر کیا گیا ہے
18:15بیتر عزوان کرنے والے
18:17صحابہ اکرام
18:17رضی اللہ عنہم کے لئے
18:19اللہ تعالی کے رضا کا
18:21اعلان کیا گیا ہے
18:22بیتر عزوان
18:23چودہ سو صحابہ نے
18:24حضور کے ہاتھ پر بیت کی
18:25کس لئے
18:26تفصیلی واقعہ کا موقع نہیں
18:27حضرت عثمان رضی اللہ تعالی عنہم
18:29کو حضور نے
18:30گفت و شنید کے لئے بھیجا تھا
18:31اور ان کو روک لیا گیا تھا
18:32آنے میں تاخیر ہو گئی
18:33ان کی شہالت کی افواہ پھیل گئی
18:35تو سیدن عثمان رضی اللہ
18:37ان کے خون کا بدلہ لینے کے لئے
18:38چودہ سو صحابہ اکرام
18:40نے حضور کے ہاتھ پر بیت نہیں
18:41یہ واقعہ آگے
18:42یعنی اس آیت پر ہم کلام کر لیں گے
18:44جس آیت میں یہ
18:44اللہ کے رضا کے اعلان کا ذکر آیا
18:47مسلمانوں کے لئے
18:47فتوحات اور غنیمتوں کی
18:49بشارت بیان کی گئی
18:50آئندہ اللہ فتوحات بھی
18:51عطا فرمائے گا
18:51فتح مکہ بھی عطا ہوگی
18:52اور غنیمتیں بھی عطا ہوں گی
18:54مسلمانوں کو
18:55نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم
18:57کے مقصد بیعصد
18:58اور صحابہ کرام
18:59رضی اللہ عنہم کے
19:00فدائل کا ذکر کیا گیا
19:02حضور کا مقصد بیصد کیا ہے
19:03اللہ کے ذنین پر
19:04اللہ کا دین غالب ہو
19:05یہ بات بھی
19:06سورہ فتح کے آخر میں آتی ہے
19:07اور آپ کے پیارے
19:08صحابے کرام
19:10رضی اللہ عنہم
19:11عجمعین
19:12کہ فدائل کو بھی
19:13اس صورت کے آخر میں
19:14بیان کیا گیا ہے
19:15یہ چند نکات ہیں
19:16سورہ فتح کے تعریف کے حوالے سے
19:18اب چلتے ہیں
19:19چند منتخب آیات کے
19:20متعلقی طرف
19:21سورہ فتح کی آیت
19:23نمبر اٹھارہ ہے
19:24بیعت رزوان
19:25اور اصحاب شجرہ
19:27کا بیان ہے
19:27شجر کہتے درخت کو
19:29درخت کے نیچے
19:30بیعت لی تھی
19:31حضور نے
19:31صلی اللہ علیہ وسلم
19:33سیدنا عثمان
19:34رضی اللہ تعالیٰ
19:35کے خون کا بدلہ
19:36لینے کے لیے
19:36بعد دخلی
19:37افواہی ثابت ہوئی
19:38اور جن صحابہ نے
19:39چودہ سو صحابے کرام
19:40نے بیعت
19:41حضور کے ہاتھ پر کی
19:42یہ بیعت
19:43بیعت رزوان
19:44کیونکہ اللہ راضی ہو گیا
19:45اور ان صحابہ کو
19:46اصحاب شجرہ
19:48کہا جاتا ہے
19:49ان کے صاحب
19:50ایمان ہونے
19:51اور ان کے لیے
19:52اللہ کی رضا
19:53کے اعلان کا ذکر
19:54یہ سورہ
19:55فتح کی آیت میں
19:56اٹھارہ میں آ رہا ہے
19:58اشاد ہوا
19:58لقد رضی اللہ عن المؤمنین
20:00یقیناً
20:01اللہ تعالیٰ
20:01راضی ہو گیا
20:02ایمان والوں سے
20:04اذیبایعونک
20:04تحت الشجرہ
20:06جبکہ وہ
20:06آپ کے ہاتھ پر
20:07درخت کے نیچے
20:07بیعت کر رہے تھے
20:08تفصیل کا موقع نہیں
20:10دین اسلام کی تعلیم
20:11کے مطابق
20:11جماعت
20:12سازی کے لیے
20:13بیعت کا تصور
20:14قرآن و سنت سے
20:16سیرس سے
20:16اور امت کی تاریخ
20:18سے ہمیں ملتا ہے
20:18یہاں بھی بیعت کا تذکرہ
20:21اذیبایعونک
20:21تحت الشجرہ
20:22جبکہ وہ
20:23آپ کے ہاتھ پر
20:24درخت کے نیچے
20:25بیعت کر رہے تھے
20:26فعلیم ما فی قلوبی
20:27بس اللہ کے علم تھا
20:28جو ان کے دلوں میں ہے
20:29ایمان ہے
20:30اخلاص ہے
20:30فانزل السکینت علیہم
20:32بس اللہ نے
20:33سکینت سکون
20:34اتمنان کے
20:35کیفیت نازل فرمائی
20:37وَأَثَابَهُمْ فَتْحَمْ قَرِيبًا
20:39اور ایک قریبی
20:40فتح سے
20:40اللہ نے ان کو
20:41نواز دیا
20:41ابھی بیعتیں
20:42رضوان ہو جائے گی
20:44اور سورہ
20:45حدیبیہ کا
20:45معاملہ ہو گیا
20:46بعد میں فتح مکہ
20:47اور دیگر فتوحات
20:48بھی اللہ تعالیٰ
20:49عطا فرمائے گا
20:49یہ چودہ سو
20:50صحابہ کرام
20:52نے بیعت کی
20:52یہ صحابہ شجرہ
20:53کہلاتے ہیں
20:54اور ان کے ایمان کی
20:54گوائی اللہ
20:56دے رہا ہے
20:56اور ان کے لئے
20:57اللہ اپنی رضا
20:58کا اعلان فرما رہا ہے
20:59اس کے بعد
21:00جس آیت کا
21:00ہم نے انتخاب کیا
21:01وہ سورہ فتح کی
21:02آخری آیت
21:03آیت نمبر
21:04انتیس
21:04صحابہ کرام کی
21:06شان و صفات کا
21:07بیان بہت پیارا مقام
21:08محمد الرسول اللہ
21:10محمد صلی اللہ علیہ وسلم
21:12اللہ کے رسول ہیں
21:14وَالَّذِينَ مَعَهُ
21:15أَشْدَّاؤُ عَلَى الْكُفَّارِ
21:17رُحَمَاءُ بَيْنَهُم
21:18اور جو آپ کے ساتھی ہیں
21:19آپ کے ساتھ ہیں
21:19کفار پر بڑے شدید
21:21اور سخت ہیں
21:22آپس میں رحم دل ہیں
21:23یعنی چٹان کی طرح
21:24مضبوط ہیں
21:25سبر اور اس اقامت میں
21:26کوئی کمی نہیں
21:27دھٹے رہتے ہیں
21:27کفار کے مقابلے میں
21:29رُحَمَاءُ بَيْنَهُم
21:30آپس میں بڑے رحم دل ہیں
21:31تَرَا هُمْ رُكَّعَنَ
21:32سُجَّدَئِنِ
21:33يَبْتَغُونَ فَضْلَ
21:34مِنَ اللَّهِ وَرِدْوَانَ
21:35آپ انہیں دیکھیں گے
21:36رُقُو سجدے کی حالت میں
21:38وہ اللہ تعالیٰ کے فضل
21:39اور اس کی رضا کے چہنے والے ہیں
21:41سیماہم فی وجوہ
21:42من اثری سجود
21:43ان کے چہروں پر
21:45ان کے سجدوں کے اثرات
21:47روشن دکھائی دیتے ہیں
21:48چہروں کے روشن ہونے سے
21:50تمہیں اندازہ ہو جائے گا
21:51یہ کثرت سجود کا
21:53احتمام کرنے والے ہیں
21:54ذَلِكَ مَثَلُم فِي تَوْرَاتِ
21:56یہ ان کی مثال طورات میں ہے
21:58صحابے کرام کی
22:00وَمَثَلُم فِي الْإِنجیلِ
22:01اور انجیل میں ان کی مثال ایسے ہے
22:03قَذَرْعِنْ أَخْرَجَ شَتْعَهُ فَآَذَرَهُ
22:06فَاسْتَغْلَدَ فَاسْتَوَعَلَى سُقِهِ
22:09جیسے کہ ایک کھیتی
22:10یعنی کہ ایک کوپل
22:11وہ کوپل مصبوط ہو جائے
22:13اور اپنی نال پر ڈنڈی پر کھڑی ہو جائے
22:15گویا کہ بہار آگئی ہے فصل کی
22:21اس کو دے کر کسان کو بڑی خوشی ہوتی ہے
22:23اور کفار کو بڑا غصا آتا ہے
22:25کون حضور نے ایک کھیتی لگائی
22:27اس تناور درخ کو صحابے کرام کی جماعت کو دے کر
22:30حضور خوش ہوتے ہیں
22:31کفار جلتے ہیں
22:37اللہ نے ان میں سے بولو جو ایمان لائے
22:39جنہوں نے نیک آمال کی وعدہ فرمایا
22:41مغفرت کا اور عجل عظیم کا
22:43یہ حضور کے پیارے صحابے کرام کی
22:45عظمت و شان کو اللہ تعالی نے
22:47سورہ فتح کی آخری آیت میں بیان فرمایا
22:49الحمدللہ سورہ فتح کی بھی
22:51چند منتخب آیات کا مطالعہ مکمل ہوا
22:53چلتے ہیں حاصل کلام کے
22:55مطالعے کی طرف
22:56چند نکات ہیں
22:59اللہ تعالی نے انسانوں کو والدین کے ساتھ
23:01اچھا صدوق کرنے کا حکم فرمایا ہے
23:03نیز اپنے بارے میں اور والدین کے حوالے سے
23:05شکر گداری کی رویش
23:06یعنی جو نعمت ہمیں میری ان پر بھی شکر ادا کرنا ہے
23:09اور جو ماں باپ پر نعمت اللہ نے
23:11نازل فرمائی عطا فرمائی
23:13ان پر بھی شکر ادا کرنا ہے
23:14آمال صالحہ اور توبہ جیسے امور کی
23:17توجہ دلائی ہے
23:19جب جنات نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم
23:21سے قرآن مجید سنا تو نہ صرف
23:23وہ ایمان لے آئے بلکہ انہوں نے
23:25اپنی قوم کے پاس جا کر انہیں بھی ایمان
23:27لانے کی دعوت دی ہم بھی
23:29کچھ کر لے نا جنات سے
23:31سیکھ کر ایک دفعہ سنا تو قرآن کے دعائی
23:33بن گئے ہم نے کتنا قرآن پاک صلی اللہ علیہ وسلم
23:35رکھا ہے الحمدللہ
23:36مسلمان اللہ تعالی کے دین کی مدد کریں گے تو
23:38اللہ تعالی ان کی مدد کرے گا ان کے حوصلے
23:41بڑھائے گا اور انہیں ثابت قدم
23:43رہنے کی توفیق عطا فرمائے گا
23:44اللہ ہمیں اس کی توفیق دیئے رکھے اگر کوئی قوم
23:47اللہ تعالی اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم
23:49کی اطاع سے روگردانی کرے گی تو
23:50اللہ تعالی ان کی جگہ دوسری قوم لے آئے گا
23:53اللہ بنیاز ہے جو ان کی طرح
23:55غافل اور روگردان نہیں ہوگی
23:56بلکہ اپنا سب کچھ اللہ تعالی کے دین
23:59کے لئے قربان کرنے والی ہوگی
24:00اللہ ہمیں سب کچھ لگانے کھپانے کی توفیق
24:02عطا فرمائے اپنے دین کی سر بلندی کے لئے
24:05بیتِ رزوان میں شامل
24:06صحابہ اکرام کو
24:08اللہ سبحان و تعالی نے بشارت عطا فرمائی
24:11کہ اللہ تعالی ان سے راضی ہو گیا
24:12اللہ تعالی نے ان کے دلوں میں موجود حسن
24:14نیت و اخلاص کو جان لیا
24:16ان پر سکون اتمنان نازل فرمایا
24:18انہیں قریبی فتح عطا فرمائی
24:20اور بہت سا مالِ غنیمت
24:23عطا فرمایا
24:23آخری نکتہ ہے کفار پر شخت ہونا
24:26آپس میں رحم دل ہونا
24:28ہمیشہ عبادتِ رب میں رکو سجدہ کرنا
24:30اللہ تعالی کا فضل اور اس کی خوشنوری
24:33طلب کرتے رہنا
24:34یہ اللہ تعالی کے محبوب بندوں
24:35بالخصوص صحابہ اکرام کے اوصاف ہیں
24:37یہ اللہ کے پیارے نبی علیہ السلام
24:40یہ پیارے صحابہ کی صفات
24:41اللہ ہمیں بھی اختیار کرنے کی توفیق عطا فرمائے
24:44ناظر اکرام ایک وقفہ لیتے
24:45اس کے بعد
24:46چھبیس پارے کی مزید صورتوں کے مطالعے کے حوالے سے
24:49کچھ باتیں آپ کے سامنے رکھیں گے
24:50السلام علیکم ورحمت اللہ وبرکاتہ
24:53السلام علیکم ورحمت اللہ وبرکاتہ
24:55ناظر اکرام خوش آمدیر کہتے ہیں آپ کو
24:57الحمدللہ
24:58خلاصہ مزامین قرآن حکیم کا سسلہ جاری ہے
25:01اور قرآن حکیم کے
25:03چھبیس پارے کا ہم مطالعہ کر رہے ہیں
25:04اب چھبیس پارے میں جو صورتیں
25:06ان میں صورت الحجرات ہے پھر صور قوف
25:09اور پھر صور زاریات
25:10چلتے ہیں مطالعہ آگے بڑھاتے ہوئے
25:12سر سے پہلے صورت الحجرات کا تعریف آپ کے سامنے
25:15رکھتے ہیں صورت الحجرات کے
25:17تعریف کے حوالے سے پہلی بات نوٹ فرما لیجئے گا
25:19صورت الحجرات مدنی صورت ہے
25:21تسلسل سے تین مدنی صورتیں آئیں
25:23صور محمد صلی اللہ علیہ وسلم
25:24پھر صور فتح اور صور حجرات
25:26مسلمانوں کے اجتماعی معاملات کے لئے
25:28اہم ہدایات عطا کی گئی
25:30ان کی معاشرت کے اعتبار سے ملی
25:32اور ریاستی امور کے حوالے سے
25:34اور یہاں تک کے بین الاقوامی معاملات
25:37کے حوالے سے بھی رہنمائی عطا کی گئی
25:38تمام معاملات میں اللہ تعالی
25:40اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم
25:42کی اطاعت کا حکم دیا گیا ہے
25:44یہ پہلا اصول آئے دوسرا اصول
25:46نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
25:49کو صدق دل سے
25:50مرکز عقیدہ تسلیم کرنے
25:52اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم
25:54کا عدب و اعترام بجا لانے کی تاقید کی گئی ہے
25:57حضور کا عدب و اعترام
25:58یہ تو ہماری ایمان کا تقادہ ہے
26:00یہ بھی اصولی بات ہمارے سامنے سور حجرات میں آتی ہے
26:04مسلمانوں کے لئے
26:05اجتماعی معاملات اور ان کے اتحاد
26:06کے اصول بیان ہوئے ہیں
26:08اور کچھ ایسی برائیاں
26:10جن سے دل پھٹتے ہیں
26:11اور
26:12معاشروں میں کیاوس پیدا ہوتا ہے
26:15اور برائیاں جنم لیتی ہیں پھر
26:17تو معاشرے اتحاد کے برخص انتشار کا شکار ہوتے ہیں
26:20ان برائیوں سے منع کیا گیا ہے
26:22ایک عالمگیر معاشرے کے قیام کی بنیاد کا ذکر کیا گیا ہے
26:25سارے انسانوں کی زبان
26:27رنگ
26:28نسل
26:28خطے
26:29حتیٰ کے مذاہب تو الگ ہیں
26:30مگر سب انسانوں کا خالق ایک اللہ ہے
26:33اور سب کے اولین والدین آدم و حوہ علیہ السلام
26:36یہ دو کومن فیکٹرز ہیں
26:38دو مشترکہ بنیادیں قرآن بتا رہا ہے
26:41ایک عالمگیر سطح کے معاشرے کو قائم کرنے کے لیے
26:45سچے اہل ایمان کی صفات بیان کی گئی ہیں
26:48بہت اہم بات ہے
26:49سچا مومن کون ہوتا ہے
26:50اس کی تعریف ہمارے سامنے آئے گی انشاءاللہ
26:53دولت ایمان
26:54اللہ تعالیٰ کی بہت بڑی نعمت و احسان ہے
26:56بندے کو اس کا اعتراف کرتے ہوئے شکر گزار بننا چاہیے
27:00احسان نہیں جاتا نہ چاہیے
27:01کہ ہم ایمان لے آئے ہم ایمان لے آئے
27:02پس منظر میں کچھ واقعات بھی ہیں
27:04ہاں دولت ایمان
27:06یہ اللہ تعالیٰ کی نعمت اور احسان ہے
27:08بندے کو اس کی قدر کرتے ہوئے
27:10اور اللہ کا شکر ادا کرنا چاہیے
27:12اللہ تعالیٰ ہم سب کو
27:13اپنے شکر گزار بندوں میں شامل فرمائے
27:16یہ سورت الحجرات کا تعریف ہے
27:18ایک اور اہم بات میں چاہتا ہوں
27:19کہ آپ کے سامنے رکھوں
27:20اٹھارہ آیات سورہ حجرات میں
27:22پانچ مرتبہ الفاظ آئے
27:23یا ایوہ اللہ ایمان والو
27:28اور پانچ مرتبہ
27:29تقوی کا ذکر بھی سورت میں ہمارے سامنے آتا ہے
27:32بہت اہم معاشرتی
27:33اور ملی سطح کی رہنمائی کے حوالے سے
27:36ہدایات ہمیں سورہ حجرات میں ملتی ہیں
27:38سورہ حجرات کے تعریف کے بعد چلتے ہیں
27:40چند منتخب آیات کے متعلقے طرف
27:42سب سے پہلے سورہ حجرات کی آیت نمبر دو
27:45احترام رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر ہے
27:49قرآن کریم میں
27:50نبی اکرم علیہ السلام کے عدب کے حوالے سے
27:52کئی مقامات پر گفتگو ہے
27:53البتہ اس موضوع پر یہ قرآن پاک کی
27:56اہم ترین اور حساس ترین آیت بھی ہے
27:59اشاد ہو رہا ہے
28:00سورہ حجرات آیت نمبر دو میں
28:02اعوذ باللہ من الشیطان الرجیم
28:04بسم اللہ الرحمن الرحیم
28:06یا ایوہ الذین آمنوا
28:08اے وہ لوگ جو ایمان لائے ہو
28:13اپنی آوازوں کو
28:14نبی علیہ السلام کی آواز سے
28:16بلند نہ کرو
28:21اور ایسے ان کے رو برو
28:23ان کے سامنے
28:24ایسے گفتگو نہ کرو
28:25جیسے زور سے آپس میں
28:27ایک دوسرے کے سامنے کر لیتے ہو
28:28ام تحبت اعمالکم
28:31و ام تم لا تشعرون
28:32ایسا نہ ہو کہ تمہارے عمال حبت
28:35یعنی تمہاری نیکیاں
28:36ضائع ہو جائیں اور تمہیں شعور بھی نہ ہو
28:39یہ حساس ترین بقام ہے
28:41احترام رسول کے تعلق سے
28:43صلی اللہ علیہ وسلم
28:44تمہاری آواز بھی
28:45نبی علیہ السلام کی آواز سے
28:46بلند نہ ہو جائے
28:47اس پس منظر میں
28:48کئی واقعات سامنے آتے ہیں
28:49اور اس آیت کے نزول کے بعد
28:51حضرت عبو بکر صدیق
28:52رضی اللہ عنہ
28:53حضرت عمر فاروق
28:54رضی اللہ عنہ
28:55بڑے دھیمے انداز میں
28:56گفتگو کرتے
28:57تو حضور فرما دے
28:58تھوڑا آواز کو بلند کر لو
28:59اندازہ کریں
29:00نبی علیہ السلام کی آواز سے
29:02آواز اوپر چلی جائے
29:03تو نیکیاں برباد
29:04ذرا بے عدبی کا معاملہ ہو جائے
29:06تو ایسے برباد ہو جائیں گی
29:08نیکیاں کے شعور بھی نہ ہو
29:09تو جو لوگ
29:10رسول اللہ علیہ السلام کا انکار کرتے ہیں
29:12معادللہ
29:12آپ کی سنت کا سرے سے انکار کرتے ہیں
29:15آپ کے احکامات کا انکار کرتے ہیں
29:17آپ کی سنتوں اور آپ کی تعلیمات کا
29:18معادللہ مذاق اڑاتے ہیں
29:20ان کا حشر کیا ہوگا
29:21احترام کا تقادہ یہ بھی ہیں
29:23جب نبی علیہ السلام کی
29:24احادیث کا بیان ہو
29:26تو خاموش اختیار کی جائے
29:27توجہ سے سنا جائے
29:28روز رسول پر حاضری ہو
29:29صلی اللہ علیہ وسلم
29:30عدب اور احترام
29:31ملحوز خاطر رکھا جائے
29:32حضور کا نام لیا جائے
29:34تو بڑے عدب اور احترام
29:35کے ساتھ لیا جائے
29:36صلی اللہ علیہ وسلم
29:38مکمل صحیح طور پر پڑھنا چاہئے
29:40اور حضور علیہ السلام کی
29:41تعریمات پر عمل ہو
29:42دعویٰ و حضور سے
29:43محبت کا اور حضور کے
29:44حکامات کو توڑیں
29:45اور حضور کے تقادے
29:46جو ہمارے سامنے ہیں
29:48ان کو فراموش کریں
29:49کس قدر بے عدبی کی بات ہوگی
29:50اللہ معفوظ رکھے
29:52اور نبی علیہ السلام کی
29:53سچی محبت
29:54اور آپ کا پکا
29:55سچا احترام کرنے کے
29:57ہمیں توفیق عطا فرمائے
29:58اگلی آئے جس کا ہم انتخاب کیا
30:00وہ دو آیتیں ہیں
30:01سورہ حجرات کی آیت نمبر گیارہ
30:11ہوتی معاشرے میں انتشار پیدا ہوتا ہے
30:13لڑائی جھگڑے تک نوبت آ جاتی ہے
30:14معاشرہ تباہ ہو جاتا ہے
30:16تو امت کو متحد رکھنا ہے
30:17تو امت کے اتحاد کو
30:19جو چیزیں نقصان پہنچاتی ہیں
30:20ان سے روکا جا رہا ہے
30:22آیت نمبر گیارہ میں
30:24تین ایسی برائیوں کا ذکر ہے
30:25جن سے بچنا ہے
30:26تین ایسی برائیوں جو
30:27مجلسوں میں بیٹھ کر
30:28ایک دوسرے کے سامنے کی جاتی ہیں
30:30اور اس کے بعد آیت نمبر بارہ میں
30:32غیر مجلسی برائیوں کا ذکر ہے
30:34تین ایسی برائیاں ہیں
30:35اور برے کام ہیں
30:36جو ایک دوسرے کے پیٹ پیچھے کیے جاتے ہیں
30:38تو یہ تین جمع تین
30:39چھے باتوں کا ذکر ہے
30:41جن سے روکا گیا
30:42آیت نمبر گیارہ
30:43اشارت فرمایا جا رہا ہے
30:45یا ایوہ اللذین آمنوا
30:47اے وہ لوگوں جو ایمان لائے ہو
30:48لا يسخر قوم من قوم
30:50مرد مردوں کا مذاق نہ اڑائیں
30:53عسا ان یکون خیر منہم
30:55ممکن ہے
31:09ممکن ہے
31:10جن عورتوں کا مذاق اڑائے جا رہا ہے
31:12وہ مذاق اڑانے والی عورتوں سے بہتر ہوں
31:15مردوں کا ذکر الگ
31:16عورتوں کا ذکر الگ
31:17ایک فرق بھی ہے نا
31:18کہ مرد کا دائرہ کار الگ ہے
31:20عورت کا دائرہ کار الگ ہے
31:21اختلاط مرد و زن ہو
31:23آزادانا تو پر ملنا ملانا
31:25ہمارا دین تو اس سے اتفاق نہیں کرتا
31:27پردے کے احکامات ہیں
31:28اور پھر بہرحال عورتوں میں
31:30کچھ نوک جھوکی معاملات زیادہ ہوتے
31:32تو زیادہ ہی معاملہ پیش آ سکتا ہے
31:34بہرحال مردوں کا ذکر الگ
31:36عورتوں کا ذکر الگ
31:37کسی کی ظاہر کو دیکھ کر
31:38مذاق اڑا دیتے
31:39اس کے چہرے کا کلر
31:40ہاں
31:41اس کے چلنے کا انداز
31:42اس کی گفتگو کا انداز
31:44اس کا مالی توبہ کمزور ہونا
31:45ہم ظاہر کو دیکھ کر مذاق اڑاتے ہیں
31:47حالانکہ اللہ دل کو دیکھتا ہے
31:49اور اللہ کے عزت کن کی ہے
31:50اسی سورہ حجرات کی آیت تنبت تیرہ میں ہے
31:53اِنَّ اَكْرَمَكُمْ عِنْدَ اللَّهِ اَتْقَاكُمْ
31:55اللہ کے نگاؤں میں
31:56تم میں سب سے بڑھ کر عزت والا کون ہے
31:58جو سب سے بڑھ کر
31:59اللہ تعالیٰ کا تقوی اختیار کرنے والا ہو
32:01اور حدیث مبارک کے
32:02مسلم شریف میں تقوی دل میں ہوتا ہے
32:04ایمان کی دولت
32:05اخلاص کی دولت
32:06اللہ کی محبت اور آخرت کی فکر
32:09یہ سب دل میں
32:10اللہ دل کو جانتا ہے
32:11تم ظاہر کو دیکھ کر مذاق اڑا رہے ہو
32:13کیا خبر کہ
32:14اللہ کے اس کا مقام بہت بلند ہو
32:16تو نہ مرد مردوں کا مذاق اڑائیں
32:18نہ عورتوں کا مذاق اڑائیں
32:19عام طور پر مذاق ہمارے اڑایا جاتا ہے
32:21جھوٹ بولا جاتا ہے
32:22کریکٹر اسیسنیشن کی جاتی ہے
32:24کردار کشی کی جاتی ہے
32:25اور نجانے کیتنا برا کیا جاتا ہے
32:27اسے دل پھٹ جاتے ہیں
32:28منع کیا گیا
32:29وَلَا تَلْمِزُوا أَنفُسَكُمْ
32:31اور ایک دوسرے کو
32:32عیب نہ لگاؤ
32:33یعنی نکتہ چینی کرنا
32:35عیب نکالنا
32:36پھر کریکٹر اسیسنیشن کرنا
32:38بَيْرُلِّكُلِّهُمَزَّتِ اللُّمَزَا
32:40ہے نا سورہ حمزا میں آخری پارے میں
32:42تباہی ہے بربادی ہے
32:43سامنے بیٹھ کر برائیہ کرنے والے کے لئے
32:47عیب جوئی کرنا عیب لگانا
32:49غلط بات ہے
32:50یہ گھٹیا بات ہے
32:51کسی کے عبرو سے کھیلنا حرام ہے
32:52وَلَا تَنَا بَذُو بِلَلْقَابُ
32:55اور فرمایا جا رہا ہے
32:57بُرے ناموں سے نہ پکارو
32:58ہمارے کوئی اسلام قبول کر لے
33:00کفر سے اسلام میں ہے
33:01تو کفر کا زمانہ یاد دلا دیا جاتا ہے
33:03کبھی ماضی میں کوئی مسلمان
33:05تو برائی میں مبتلا تھا
33:06اور توبہ کر کے نیک ہو گیا
33:07ماضی کا یاد دھیانی کا معاملہ
33:09اس کے سامنے رکھ کر
33:10اس کو چاہے وہ ٹونڈ کیا جاتا ہے
33:12تیش دلائی جاتا ہے
33:13نہیں برے ناموں سے نہ پکارو
33:14تو مزاق سے منع کیا گیا
33:16اور لمز کرنا
33:17یعنی عیب جوئی کرنا
33:18اور برے ناموں سے پکارنا
33:20منع کیا گیا
33:21فرمایا
33:21بِئسَ لِسْمُ الْفُسُوقُ بَعْدَ الْإِمَان
33:24ایمان کے بعد برا نام
33:26یہ تو فسق کی بات ہے
33:28یعنی تم صاحب ایمان
33:29اور دوسروں کو تم برے ناموں سے پکارو
33:32ایمان والا دوسروں کے لئے
33:33امن کا باعث بنتا ہے
33:35تمہاری ذات دوسروں کے لئے
33:37امن کا باعث بنے
33:38نہ کہ تم برے نام رکھ کر
33:39اس کو جو ہے وہ ٹونٹنگ کرو
33:40اور تیش دلاؤ
33:41وَمَلْ لَمْ يَتُبْ
33:42اور جو باز نہ اے
33:43یہ کردار کشی سے
33:44لوگوں کو پریشان کرنے سے
33:46یہ مجلس برائیہ کرنے سے
33:47جو باز نہ اے
33:48فَأُلَائِكَ هُمُ الظَّالِمُونَ
33:50تو یہی لوگ ہیں جو ظالم ہیں
33:52یہ وہ تین برائیہ ہیں
34:06یہاں بھی تین برائیوں کا ذکر ہے
34:08معاشرتی برائیاں
34:09لیکن یہ وہ برائییں
34:10جو کسی کی غیر موجودگی میں کی جاتی ہیں
34:12آئیے ان کا مطالعہ کرتے
34:14سورہ حجرات آیت 12 اشاد ہوا
34:20اے ایمان والو
34:21بہت زیادہ گمان کرنے سے بچو
34:24اِنَّ بَعْدَ الظَّنِّ اِثْم
34:26بے شک باس بدگمانیاں
34:28وہ گناہ ہوتی ہیں
34:29وَلَا تَجَسَّسُ
34:31اور ایک دوسری کی ٹوہمیں
34:32نہ پڑو
34:33وَلَا يَغْتَبَعُذُكُمْ بَعْضَ
34:35اور تم اسے کوئی کسی دوسرے کی غیبت نہ کرے
34:38اَيُحِبُّ آحَادُكُمْ
34:40اَنْ يَأْكُلَ لَحْمَ آخِهِ مَيْتَنًا فَكَرِهْتُمُ
34:43کیا تم اسے کوئی پسند کرے گا
34:45کہ اپنے مردہ بھائی کی لاش میں سے گوش کھائے
34:48پس تمہیں اس سے کرہیت آئی
34:50وَتَّقُوا اللَّهُ
34:51اور اللہ کا تقوی اختیار کرو
34:53اللہ سے ڈھرو
34:53اِنَّ اللَّهَ تَوَّابُ الرَّحِيمِ
34:55بِشَكْ اللَّهَ تعالی
34:56خوب طوبہ قبول فرمانے والا
34:58نہائیت رحم فرمانے والا ہے
35:00یہ سورہ اجرات کی آیت نمبر بارہ کا ترجمہ
35:03یہاں تین معاشرتی برائیاں ذکر کی جاری ہیں
35:06جن کو غیر مجلسی برائیاں کہا جاتا ہے
35:10وہ برائیاں جو پیٹ پیچھے کی جاتی ہیں
35:13نمبر ایک بدگمانی کرنا
35:15نمبر دو کسی کی ٹوہ میں لگنا
35:17اس کا کوئی عیب ہاتھ آجائے
35:19ارنبتین غیبت کرنا
35:20اور یہ اللہ تعالی کا کلام ہے
35:22اس کی خوبصورتی ہے
35:23کہ یہ تین باتیں ترتیب سے ہوا کرتی ہیں
35:25بتایا جا رہا ہے ایمان والو بہت زیادہ گمان کرنے سے بچو
35:29گمان کرنے کے بہت سارے مواقع اور تفسیرات اس کی ہیں
35:32یہاں موقع نہیں بیان کرنے کا
35:33البتہ بعض چیزیں وہ بدگمانیاں ہوتی ہیں
35:36فجر کی نماز میں نظر نہیں آرہا
35:38رات کو سویا ہوگا دیر سے خاک اٹھے گا
35:40حالانکہ پتہ چلا کہ وہ کہیں کسی اور
35:42مسجد میں جہاں تلاوت اچھی ہوتی ہے
35:44امام صاحب کی یا دل سے قرآن ہوتا ہے
35:46یا وہ قرآن پاک سیکھنے جاتا ہے
35:48یا کسی اور مصروفیت کی وجہ سے
35:49وہ بڑے اچھے کام کیلے جا رہے ہیں
35:51ہم پیچھے بدگمانی کر رہے ہیں کہ فجر میں سو رہا ہوتا ہوگا
35:54ایک مثال کافی باقی ہم دیکھ سکتے ہیں
35:56تو بہت سی بدگمانیاں وہ گناہ ہوتی ہیں
35:58اچھا پہلے بندہ بدگمانی کر کے
36:00ایک نیگٹیوٹی دل میں کسی کے بارے میں لاتا ہے
36:03پھر ٹو میں لگتا ہے
36:04تلاش تو کروں کچھ معلوم تو ہو جائے
36:06کچھ ہاتھ تو آ جائے
36:08ساری دنیا کو سوشل میڈیا پر ڈال کر بتاؤں گا
36:10اس کی جو ہے وہ میں آگے غیبت آگے آ رہی ہے
36:13اس کو بدنام کروں گا
36:14تو ٹو میں لگتا ہے کوئی تلاش کرنے کے لئے
36:16پھر اگرہ اسٹیپ کیا ہوتا ہے
36:17کوئی بات ہاتھ آگئے اب اس کو نشر کیا جائے گا
36:19اور آج تو دنیا گلوبل ہے
36:21ایک کلک کے اوپر ساری دنیا میں پھیلا دیا
36:24اور غیبت کر دی کسی
36:25بیک بائٹنگ کر دی
36:26اچھا غیبت کیا ہوتی ہم سب کو بتا ہے
36:29لوگ کہتے ہیں اللہ کی قسم
36:30اللہ معاف کرے میں غیبت نہیں کر رہا میں غیبت نہیں کر رہی
36:33وہ تو ہی ایسی وہ تو ہی ایسا
36:34اور بھئی کیا کیا غیبت تو کیا ہم نے
36:36غیبت کیا ہے حدیث مبارک میں آیا
36:38سنن ابی دعوت کی روایت ہے
36:40تمہارا اپنے بھائی کی غیر موجودگی میں
36:42اس کے بارے میں ایسی بات کہنا
36:44جو اس میں موجود ہو
36:45اور اگر اس کے سامنے کہی جائے
36:47تو یہ غیبت ہے اس کو برا لگے گا
36:48اس کے سامنے کہی جائے تو بری لگے
36:50یہ غیبت ہے
36:51ہم تو کہتے ہی یہی ہیں
36:53اور اگر کوئی بات موجود نہ ہو
36:54اور وہ کہی جائے تو وہ کیا ہے
36:56بہتانو اور بڑا جرم ہے
36:57تو بالحال بدگمانی نہ کرو
36:59توہمی نہ لگو
37:00اور غیبت نہ کرو
37:02اس سے کیا ہوتا ہے
37:03دل میں برے اثرات آتے ہیں
37:05دل میں نفرتیں پیدا ہوتی ہیں
37:06دل پھٹتے ہیں
37:07اور پھر نفرتیں بڑھتی ہیں
37:09اور معاشرے کیاوس کا انتشار کا شکار ہوا کرتے ہیں
37:12تو ان برائیوں سے روکا گیا ہے
37:13آیت 11 میں
37:14مجلسی برائیوں سامنے بیٹھ کر کی جاتی ہیں
37:17اور آیت 12 میں
37:18غیر مجلسی برائیاں
37:20ان سے روکا گیا
37:21جو پیر پیچھے کی جاتی ہیں
37:22امت کے اتحاد کچھ چیزیں پارا پارا کرتے ہیں
37:25اس دن برائیوں سے روکا گیا
37:26یہاں بتایا جا رہا ہے
37:27کیا تم پسند کرو
37:28کہ اپنے مردہ بھائی کی لاش میں سے گوش کھاؤ
37:30تمہیں کراہیت آئی نہ برا لگا
37:32جتنا بھائی کا لاشہ تمہارے سامنے ہو
37:34تم گوش نکال کر کھاؤ
37:35کتنا گندہ لگ رہا ہے
37:36اتنا ہی گندہ یہ ہے
37:38کہ تم بیک بیٹنگ کرو
37:39تم غیبت کرو
37:40یہ ہے
37:41اللہ معاشرتی ہدایات ہمیں دے رہا ہے
37:43وَتَقُوا اللَّهُ فَرْمَا
37:44اللہ سے دھرو
37:44اللہ کا تقوی اختیار کرو
37:46یہ معاشرتی برائی ہیں
37:47دوسروں کی آبرو ریزی کرنا
37:49دوسروں کی آبرو سے کھیلنا ہے نا
37:51یہ دوسروں کی آبرو سے کھیلنا
37:53یوں یہ حرام ہے
37:54کل اللہ کو جواب دینا ہوگا
37:55اِنَّ اللَّهَ تَوَّابَ الرَّحِمْ
37:57بَعْزَا جَوَا
37:57تَوْبَہَ کرو
37:58بِشَكَ اللَّهَ خُوب تَوْبَ
38:03اس کے بعد اگلی آیت
38:04اس کا ہم نے انتخاب کیا ہے
38:05یہ سلح حجرات کی آیت امبر پندرہ ہے
38:07سچے مومن کی تعریف کا ذکر کیا جا رہا ہے
38:10اس سے پچھلی آیت میں ذکر ہے
38:11کچھ لوگوں نے کہا ہم ایمان لے آئے
38:12ہم ایمان لے آئے
38:13فرمایا جا رہا ہے
38:14تم ایمان نہیں لائے
38:15تم اسلام لائے ہو
38:16ابھی کلمہ پڑھ کر
38:17تم اسلام میں داخل ہوئے ہو
38:18تو ان کے اسلام کا تو
38:20ایکسپٹنس کا معاملہ ہے
38:21ان کے ایمان کے دعوے کو
38:22ایکسپٹ نہیں کیا گیا
38:24تو ایک کوششن آرائز ہوتا ہے
38:25سوال پیدا ہوتا ہے
38:26کہ سچے ایمان کیا ہوتا ہے
38:27سچے ایمان والوں کی تعریف کیا ہوتی ہے
38:29سچے مومن کی
38:30دیفنیشن تعریف کیا ہوتی ہے
38:32یہ بتایا جارہا ہے
38:33سلح حجرات کی آیت امبر پندرہ میں
38:34ارشاد ہوا
38:35اِنَّمَ الْمُؤْمِنُونَ الَّذِينَ آمَنُوا بِاللَّهِ وَرَسُولِهِ
38:39بِلَا شُبَا سچے ایمان والے تو وہ ہیں
38:41جو ایمان لائے اللہ پر
38:43اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر
38:46ثُمَّ لَمْ يَرْتَابُ
38:47پھر کسی شک میں مبتلا نہ ہوئے
38:49پہلا جز کیا ہے
38:50سچے مومن کی تعریف کا
38:52دل میں ٹھک جانے والا ایمان
38:54یقینِ قلبی والا ایمان
38:55ہارٹ فیل ٹیسٹیفیکیشن والا ایمان
38:58وہ ایمان جو دل میں ایسا مضبوط ہو گیا
39:00اب کوئی شک شبہ باقی نہ رہے
39:02اچھا
39:03ایمان دل میں ہوگا
39:05تو ثبوت عمل میں آئے گا
39:06عمل کے لئے یہاں بلفظ جہاد آ رہا ہے
39:09اشاد ہوا گئے
39:10وَجَاهَدُ بِأَمْوَالِهِمْ وَأَنفُسِينَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ
39:13اور انہوں نے جہاد کیا
39:15اپنے مالوں اور اپنی جانوں سے
39:16اللہ کی راہ میں
39:17ایمان پکا دل میں ہوگا
39:19کوئی شک نہیں
39:20کوئی شبہ نے ٹھک گیا دل
39:21یہ یقینِ قلبی والا ایمان دل میں ہوگا
39:23تو عمل میں جہاد نظر آئے گا
39:25اور جہاد مستقل معنی میں
39:27جہاد کوشش کے معنی میں
39:28جد و جہد کے معنی میں
39:29اللہ کی بندگی کے لئے محنت ہے
39:31یہ بھی جہاد ہے
39:32اللہ کی بندگی کے دعوت دینے کے لئے محنت ہے
39:34یہ بھی جہاد ہے
39:35اللہ کی بندگی پر
39:36اپنے نظام دینِ حق کو قائم کرنے کے
39:38جد و جہد یہ بھی جہاد ہے
39:40یہ پورا پروسس ہے
39:41یہ ساری زندگی بھر کا عمل ہے
39:43جہاد فی سبیل اللہ
39:44مال سے بھی اور جان سے بھی
39:48فرمایا یہی لوگ
39:49سچے ہیں یہ ایمان کا دعویٰ کرے
39:51تو سچا ایمان کا دعویٰ ہوگا
39:53یہ سچے مومن کی تعریف ہے
39:54ایمان ایسا اللہ اور اللہ کا رسول علیہ السلام پر
39:57دل میں ٹھک جائے
39:59کوئی شک کوئی شبہ نہ رہے
40:01اور اس کی علامت ظاہر میں کیا ہوگی
40:03جہاد فی سب اللہ کا عمل
40:04مستقل محنت اور جد و جہود اسرگل
40:06اللہ کی بندگی کے لیے
40:08اللہ کی بندگی کی دعوت دینے کے لیے
40:10اور اللہ کی بندگی پر مبنی نظام کو قائم کرنے کی جد و جہود کے لیے
40:14اللہ یہ سچا پکا ایمان اور جہاد فی سبیل اللہ کی مستقیل محنت کی
40:18ہمیں توفیق عطا فرمائے
40:20تاکہ ہم بھی سچے مومن قرار پاسکیں
40:23یہ الحمدللہ سورہ حجرات کی چند منتخب آیات کا مطالعہ
40:26ہم نے آپ کے سامنے رکھا
40:27قرآن کریم میں 26 پارے میں سورہ قوف کا آغاز ہوتا ہے
40:31اب سورہ حجرات کے بعد
40:32اب یہ مکی صورت ہے
40:33اور مکی صورتوں کے سسلہ آگے چلتا رہے گا انشاءاللہ
40:36اور اب قرآن پاکی آخری منزل کا آغاز ہوتا ہے
40:40سات منزلیں ہیں
40:41ساتویں منزل قرآن پاکی سورہ قوف سے شروع ہوتی ہیں
40:44آئیے سورہ قوف کے مزامین کے حوالے سے
40:47کچھ تذریعہ آپ کے سامنے رکھتے ہیں
40:49تعریف کے شکل میں
40:50سورہ قوف کے تعریف کے حوالے سے
40:52چند نکات آپ کے سامنے رکھتے ہیں
40:54سورہ قوف مکی صورت ہے
40:56اس سے قرآن کریم کی ساتویں اور آخری منزل کا آغاز ہوتا ہے
41:00اور ساتویں منزل کا اکثر موضوع
41:02جو ہے وہ آخرت کا انزار
41:03آخرت کا ڈھراوہ آخرت کے حوالے سے
41:05توجہ دلانا ہے
41:06نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم
41:09کو سورہ قوف سے خاص محبت تھی
41:11آپ اکثر جمعے کے خطبے
41:13اور نماز عیدین میں اس کی تلاوت فرماتے تھے
41:15سورہ نبی دعو شریف کے روایت ہے
41:17عدل فطر بعیدل ادھا میں اس کی تلاوت فرماتے
41:20اور جمعے کے خطبے میں بھی اس کی تلاوت
41:22حضور فرماتے صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
41:24تو اس سورہ قوف حضور کی محبوب
41:26صورتوں میں شامل
41:27اس صورت کا بنیادی موضوع قیامت کا واقع ہونا ہے
41:30آغاز میں بیان ہے کہ
41:31نہایت قدرت والا اللہ تعالی
41:33قیامت قائم فرمائے گا
41:35اللہ علاہ کلی شئین قدیر ہے
41:37وہی قیامت کو برپا کرنے والا ہے
41:39ہم سب کو ایک دن مرنا ہے
41:41اللہ تعالی مرنے کے بعد
41:42ہمیں دوبارہ زندہ فرمائے گا
41:44یہ بنیادی موضوعات ہیں
41:45جو سور قوف میں ہمارے سامنے آتے ہیں
41:47ہمیں میدان حشر میں جمع کیا جائے گا
41:49نام اعمال دیے جائیں گے
41:51حساب و کتاب ہوگا
41:52نیک لوگ جنت و برے لوگ جہنم میں داخل کیے جائیں گے
41:55صورت کے آخر میں
41:56قیامت کا مندر کھیچا گیا ہے
41:58اور صور پھونکے جانے کا ذکر ہے
42:00یہ آخرے سے متعلق موضوعات
42:01بار بار قرآن پاک میں آئے
42:03یہ سور قوف میں بھی ہمارے سامنے آتے ہیں
42:06سور قوف کے تعرف کے بعد چلتے ہیں
42:08منتخب آیات کے مطالعے کے طرف
42:09سور قوف کی آیات سولہ
42:11تا اٹھارکہ
42:12ہم متعلق کرنے ہیں مختصرا
42:13اللہ کا علم کامل
42:15اور آمال کا ریکارڈ
42:17یہ ذکر کیا جا رہا ہے
42:19آخری منزل ہو
42:20یہ سور قوف ہو
42:21آخرت کا موضوع مستقل موضوع ہے
42:23یہاں بتایا جا رہا ہے
42:25سور قوف کی آیت انبر سولہ میں
42:28وَلَقَدْ خَلَقْنَا الْإِنسَانَ
42:30اور یقیناً ہم نے انسان کو پیدا فرمایا
42:32وَنَعَلَبُ مَا تُوَسْوِسُ بِهِ نَفْسُهُ
42:35اور ہم جانتے ہیں
42:36جو وس وس بھی اس کے جی میں اٹھتا ہے
42:40اللہ اکبر
42:41ہماری باتیں ہوں
42:42ہمارے عامال تو بڑی بات
42:43ہمارے باطن کے رازوں کو
42:45اللہ جانتا ہے
42:46ہمارے نیتوں کو اللہ جانتا ہے
42:47کوئی وس وسہ
42:49کوئی خیال بھی آتا ہے
42:51ہمارے نفس میں
42:57اور ہم انسان کی شہرک سے بھی
42:59زیادہ اس کے قریب ہیں
43:01شہرک سے بھی زیادہ
43:03اللہ ہمارے قریب ہے
43:04گویا ہم جتنا
43:06اپنے آپ سے قریب ہیں
43:07اس سے زیادہ
43:08اللہ تعالی ہم سے قریب ہے
43:10اپنی شان کے مطابق
43:11اِذْ يَتَلَقَّ الْمُتَلَقِّيَانِ
43:13عَنِ الْيَمِينِ
43:14وَعَنِ الشِّمَالِ قَعِينِ
43:16جب لکھنے والے دو لکھ لیتے ہیں
43:19دائیں سے اور بائیں سے تیار بیٹھے
43:21کون کرامن کاتبیم
43:22لکھ رہے ہیں نا
43:23ہمارے عامال کا ریکارڈ
43:24تیار ہو رہا ہے
43:25اور آج کے دول میں
43:27ریکارڈنگ ہم سب کو پتا ہے
43:29آپ یہ سکرین پر دیکھ رہے ہیں
43:31میرے سامنے کیمرہ
43:32اویلبل ہے
43:32اور یہ سب کچھ
43:33ریکارڈ پر اویلبل ہے
43:35تو اللہ سبحانہ تعالی کا ریکارڈ
43:37کتنا مضبوط اور محفوظ ہوگا
43:39اللہ اکبر
43:40آگے رشاعت فرمایا
43:42مَا يَلْفِذُ مِن قَوْلٍ
43:44إِلَّا لَدَيْهِ رَقِيبٌ عَتِي
43:45کوئی لفظ انسان
43:47ایک بات کے طور پر
43:49نہیں نکالتا مو سے
43:50مگر ایک لکھنے والا
43:52تیار ہی بیٹھا ہوتا ہے
43:53اس کا ساتھی
43:54اللہ اکبر
43:55ہمارے عامال بھی محفوظ ہیں
43:58ہمارے اقوال بھی محفوظ ہیں
43:59ہماری نیت ارادے بھی محفوظ ہیں
44:02اللہ تعالی ہم سب کے حساب
44:04کو آسان فرمائے
44:06سورہ قوف کے بعد
44:07قرآن پاک میں
44:08چھبیس پارے کے آخر میں
44:09سورہ زاریات کا آغاز ہوتا ہے
44:11اس کی تکمیس ستائی سے پارے میں ہوتی ہے
44:13البتہ چھبیس پارے کے آخر میں
44:15سورہ زاریات کا آغاز ہوتا ہے
44:17آئیے سورہ زاریات کے تعریف کے حوالے سے
44:19چند باتیں سمجھتے ہیں
44:20سورہ زاریات کے تعریف کے حوالے سے پہلا نکتہ
44:23آغاز میں
44:24اللہ تعالی نے
44:24ہواوں کی قسم ذکر فرما کر
44:26قیامت کی یقین دھیانی کرائی
44:28ہواوں کو چلانے والا
44:30تیز چلانے والا
44:31نرم چلانے والا
44:32سبحان اللہ
44:32بادنوں کو ہانکنے والا ہواوں کے ذریعے
44:35کون اللہ سبحانہ وتعالی
44:37ہواوں کی قسمیں اٹھا کر اللہ نے قیامت کا تذکرہ فرمایا
44:40پھر قیامت نے انکار کرنے والوں کی مذہبت کی گئی ہے
44:43اہل جنت کی صفات اور عندہ انجام کا ذکر ہے
44:46حضرت عبرائیم علیہ السلام کی شان مہمان نوازی
44:49اور انہیں فرشتوں کی طرف سے ایک صاحب علم لڑکے کی بشارت کا ذکر ہے
44:53جناب اسحاق علیہ السلام کی ولادت کی بشارت
44:57نافرمان قوموں کا عبرتناک انجام بیان کیا گیا
44:59جو واقعہ تفسیر سے طویل مکی صورتوں میں آتے ہیں قوموں کے بارے میں
45:02وہ مختصر الفاظ میں سور زاریات میں بیان کیے گئے
45:05پھر بتایا گیا ہے کہ جنات اور انسانوں کی تخریق کا مقصد
45:09اللہ تعالیٰ کی عبادت ہے
45:10آیت نمبر چھپن ہے سور زاریات کی جہاں ذکر ہے
45:13کہ انسانوں اور جنات کو اللہ نے فقط اپنی عبادت کیلئے پیدا کیا
45:17یہ تعرف کے حوالے سے چند باتیں سور زاریات کے زیل میں
45:19اس کے بعد چلتے ہیں سور زاریات کی منتخب آیات کے متعلقے طرف
45:24سور زاریات کی آیات پندرہ تا انس کا ہم نے انتخاب کیا ہے
45:28اہل جنت کی صفات اور حسین انجام
45:31درابوں کا ذکر بھی آتا رہا اب آئیے بشارتیں بھی سن لیں
45:34اہل جنت کی صفات اور حسین انجام سور زاریات آیت نمبر پندرہ
45:39اللہ تعالیٰ ارشاد فرما رہا ہے
45:41ان المتقین فی جنات وعیون
45:44بے شک متقین باغات و چشموں میں ہوں گے
45:47باغات جنت کے چشم جنت کے سبحان اللہ
45:49آخذین ما آتاہم ربوہم لے رہے ہوں گے
45:53وہ جو ان کے رب نے انہیں عطا کیا ہوگا
45:55اللہ فضل فرمائے گا انعام کے توبت
45:58جنت کی بے شمار نعمت عطا فرمائے گا
46:00استفادہ کر رہے ہوں گے
46:02انہم کانو قبل ذالک محسنین
46:04بے شک اس سے پہلے یہ لوگ محسنین تھے
46:07احسان یعنی حسن کے ساتھ عمل کرتے تھے
46:09بہترین عبادت اللہ تعالیٰ کی بجا لاتے تھے
46:12دنیا میں بامقصر زندگی گداری
46:14اب یہ جنت میں باغات میں
46:16اور چشموں میں اور نعمتوں میں
46:17پھل پھول رہے ہیں
46:18فائدہ اٹھا رہے ہیں
46:20کیا کرتے تھے دنیا میں یہ محسنین
46:22اور یہ جنت والے
46:23کانو قلیلم من اللیل ما یحجعون
46:26وہ رات میں تھوڑا ہی آرام کیا کرتے تھے
46:29اللہ اکبر
46:30آرام کرتے تھے مکد تھوڑا
46:32اور وقت لگاتے تھے قیام اللیل میں
46:34جس کم تحجت کی نماز کہتے ہیں
46:35رات کو کھڑے ہو کر
46:36اللہ سے عراض و نیاز کی باتیں کرتے
46:38آج امت یہ راتیں کہاں بسر ہوتی ہیں
46:40مجھے کچھ کہنے کی ضرورت نہیں
46:42اللہ کے سامنے بھی بسر ہوتی ہے
46:43کہ نہیں ہمیں غور کرنا چاہئے
46:46وَبِلْأَسْحَارِهُمْ يَسْتَوْفِرُونَ
46:47اور سہری کے عوقات میں
46:48وہ استغفار کرتے
46:49سبحان اللہ
46:50رات کا آخری حصہ ہوتا ہے
46:52حدیث مبارک میں آتا ہے
46:53اللہ اپنی شان کے مطابق
46:55پہلے آسمان پر نزول فرماتا ہے
46:56اور اللہ فرماتا ہے
46:57کوئی مانگنے والا میں دے دوں
46:58کوئی استغفار کرنے والا میں دے دوں
47:00کوئی حاجت مند
47:00کہ اس کی حاجت کو پورا کر دوں
47:02ہی نوکس اٹ آر ڈورس
47:03اللہ ہمارے
47:04سبحان اللہ
47:05دروازوں پر دستک دیتا ہے
47:06مانگنے تو مانگ لو
47:07سہری کے وقت میں
47:08کھڑے ہو کر
47:09وہ قیام اللیل کا بھی اتمام
47:10اور استغفار بھی کرتے تھے
47:12اللہ کی حقوق
47:13ادا کرنے کے ساتھ
47:14اور کیا کرتے تھے
47:15وَفِي أَمُوَالِمْ حَقُّ لِسَّائِرِ وَالْمَحْرُومِ
47:18اور ان کے مالوں میں
47:19حق معیم تھا
47:20سوال کرنے والوں کے لئے بھی
47:22اور محروم لوگوں کے لئے بھی
47:23رشتہ دار ہوں گے
47:24پڑوسی ہوں گے
47:25مانگتے نہیں
47:26مگر ضرورت مند ہو جاتے ہیں
47:27تو محروم کو بھی دیتے تھے
47:29سوال کرنے والوں کو بھی دیتے تھے
47:30تو فکسٹ تھا
47:31یہ اللہ کی راہ میں خرچ ہوگا
47:33یہ مخلوق خدا کی
47:34جو ہے وہ حاجات کو پورا کرنے کے لئے خرچ ہوگا
47:36تو رات میں کھڑے ہوتے تھے
47:38سہری مستفار کرتے تھے
47:39اور مخلوق خدا پر خرچ بھی کرتے تھے
47:42اللہ یہ صفات اختیار کرنے کی
47:44ہمیں توفیق دے
47:44اور اللہ ہم سب کو جنت الفردوس عطا فرمائے
47:47الحمدلہ عزی کرام
47:48چھبیس پارے کی صورتوں کا تعرف
47:50اور چند منتخب آیات کا مطالعہ
47:52ہمارے سامنے آیا
47:52آخر میں حاصل کلام آپ کے سامنے رکھنا چاہیں گے
47:56چند نکات
47:59نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا عدب و اعترام
48:02اہم ترین فریضہ اور جزوے ایمان ہے
48:05لہذا ہمیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی
48:08حد درجہ تعظیم و توقیر بجاہ لانی چاہیے
48:10کیونکہ آپ کی بے عدبی کرنے والے کے
48:12تمام عامال ضائع ہو جاتے ہیں
48:14اور بے عدبی کرنے والوں کو اس کا شعور بھی نہیں ہوتا
48:17بہت حساس بات ہے
48:18ہم دوسروں کا مذاق زائدی حالت کو دیکھ کر اڑاتے ہیں
48:21جبکہ اللہ تعالی انسان کے باطن کو دیکھتا ہے
48:24مذاق اڑانے والوں کو سوچنا چاہیے
48:26کہ وہ جس کا مذاق اڑا رہے ہیں
48:28ہو سکتا ہے کہ وہ اپنی نیکی اور تقوی کی وجہ سے
48:31اللہ تعالی کی نظر میں ان سے زیادہ اچھا ہو
48:34مسلمان کا کسی مسلمان کو تانہ دینا
48:36گویا اپنی ملت کو داغدار کرنا ہے
48:38تانے مدعہ جو ہی نہ کرو
48:40نیس کسی شخص یا گروہ کو بلے علقاف سے بکارنا
48:43بہت برا عمل ہے
48:45کسی کے بارے میں بلا وجہ برا گمان نہیں رکھنا چاہیے
48:48سوے زن یعنی بد گمانی
48:50بعض اوقات غلط فہمیوں
48:52اور افسوس ناغ و اخدامات کا سبب بن جاتا ہے
48:55کسی کی غیر موجودگی میں
48:56اس کی برائی کرنا جبکہ وہ برائی
48:58اس میں موجود ہو غیبت کہلاتا ہے
49:00اور غیبت کو مردہ بھائی کا گوش
49:02کھانے سے تشبیح دی گئی ہے
49:03کراہیت آتی انسان کو غیبت سے بچنا چاہیے
49:06اللہ تعالی ہمارے جی میں آنے والے
49:08ہر خیال سے واقف ہے
49:09اور اللہ تعالی ہم سے ہماری رگ جان
49:11یعنی شہرک سے بھی زیادہ قریب ہے
49:14ہماری ہر چھوٹی بڑی بات
49:16ہمارے نام عمال میں محفوظ کی جا رہی ہے
49:18اللہ ہم سب کے حساب کو آسان فرما دے
49:20نیک عمال کرنا
49:22رات میں عبادت کرنا
49:23مغفرت مانگنا
49:25ضرورت مندوں پر خرش کرنا
49:27پرہیزگاروں کی صفات ہیں
49:28انہی لوگوں کو اللہ تعالی جنت کی نعمتوں
49:31اور خصوصی عنایات سے مشرف فرمائے گا
49:34اللہ تعالی ہم سب کو جنت الفردوس عطا فرمائے
49:37پرگرام کے آخر میں حدیث رسول صلی اللہ علیہ وسلم پیش خدمت ہے
49:41فرمان نبوی
49:42رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا
49:45قرآن کریم کی ایک آیت کو سمجھنا سو رکت نفل سے افضل ہے
49:49نفل کی بات ہو رہی
49:50ایک آیت سمجھنا قرآن پاک کی سو رکت نفل سے افضل ہے
49:53سننے ابن ماجہ شریف کی روایت ہے
49:55اللہ ہمیں قرآن پاک کا مزید ذوق و شوق
49:58اور سمجھنے اور عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے
50:01آمین
50:02یا رب العالمین
50:02وآخر دعوانہ
50:03ان الحمدللہ رب العالمین
50:05والسلام علیکم ورحمت اللہ وبرکاتہ
Comments