Skip to playerSkip to main content
  • 5 months ago
हाईकोर्ट में लंबित मामलों की संख्या रिकॉर्ड स्तर पर पहुंच गई है. जिससे जज पर काम का बोझ बढ़ गया है.

Category

🗞
News
Transcript
00:00Ilhaabad High Court کے Justice Subhas Vidyarthi کا وہ comment کہ میں بھوکا ہوں, تھکا ہوا ہوں اور آج عادث
00:08نہیں لکھوا سکتا ہوں
00:09اس کے بعد Subhas Vidyarthi نے فیصلے کو ڈیزارو کر دیا
00:12Supreme Court دورہ Remand کی سنوائی کرتے ہوئے یہ وقت تب Justice صاحب نے دیا تھا
00:18Justice صاحب کے بیان کے بعد یہ چرچائے تیج ہو گئی ہیں کہ آخر ہندوستان کی نیائے ویوستہ کس اسطحیق
00:25میں ہے
00:26کیا واقعی میرے ججو کے اوپر دباؤ نہیں ہے یا پھر cases کی اسطحیق ایسی ہے کہ سبھی کو سمیں
00:32رہتے نیائے مل جاتا ہے
00:33اس ویوستہ کو سمجھنے کے لیے ہم نے Supreme Court کے Lawyer صحیح تمام لوگوں سے باتشیت کی اور اسطحیق
00:39کو سمجھنے کی کوسس کی
00:40ہائی کورٹ کے ابھی جو دو ججبنٹس آئے ہیں
00:42ریسنٹ پاس میں ایک رائیس ورسل سٹیٹ او یوپی جو علاواز ہائی کورٹ کی ڈیویزن بینچ نے پایٹ کیا
00:49اور چندر لیکھنہ سنگھ مرسل سٹیٹ او یوپی جو لکھنو بینچ نے آج ایس پایٹ کیا
00:54لکھنو بینچ میں جس بینچ نے یہ آرڈر پاس کیا ہے
00:59it is one of the most remarkable benches of our ہائی کورٹ
01:02اور اس میں انہوں نے لیمنٹ کیا ہے
01:04کہ سپریم کورٹ نے ایک matter تھا جو time bound طریقے سے decide ہونا تھا
01:09اس کے last date اس دن تھی جس دن کورٹ ویکیشنز کے لیے بند ہو رہی تھی
01:14وہ مقدمہ چونکہ ارجن تھا
01:15چار بہے مانیے جہ چھاپ نے اس کو pick up کیا
01:18اور سوہ ساک بہے تک اس پر سنوائی ہوئی
01:21اور وہ اتنا زیادہ exhaust ہو گئے
01:23کہ ان کو کھانا کھانے کے لیے
01:24because of exhaustion وہ آرڈر نہیں لکھوا پایا
01:27اور آرڈر ریزرگ کر لیا اسی date سے
01:29اور ہوکفلی آرڈر اسی date کا ہی آئے گا
01:32اور دازمانوں نے لکھا بھی دیا ہوگا
01:33but see the point which he raised
01:36جو issue ہے وہ یہ ہے
01:37کہ یہ ایکنی dependency کیوں ہو رہی ہے
01:39اگر ہم علاباد ہائی کورٹ کا
01:41justice clock دیکھیں گے
01:42تو دیکھیں گے کہ علاباد ہائی کورٹ میں
01:4410 لاکھ case spending ہے
01:45وہیں لگاؤں بیج میں
01:4612 لاکھ case قریب پر بھی spending ہے
01:48تو اتنے زیادہ جب cases spending ہو جائیں گے
01:51اور infrastructure نہیں ہوگا
01:52judges نہیں ہوں گے
01:54supporting staff نہیں ہوگا
01:56تو یہ مورد روپ کیسے لے گا
01:57access to justice کا جو concept ہے
02:00جو ہمارا سمیدان پروائیڈ کرتا ہے
02:02کہ ہر آدمی کو access to justice ہوگا
02:04لیکن access to justice
02:05تبھی مورد روپ لے پائے گا
02:07جب enough number of judges بھی ہو
02:09سباس وردارتی کا observation
02:11مہد ایک judge کی تھکار نہیں
02:12بلکہ ہمارے پوری judicial infrastructure کی crime reality ہے
02:16جب ایک ہائی کورٹ کا judge کو
02:18on record یہ لکھنا پڑ جاتا ہے
02:20پرشان کی وہ physically incapacitated
02:22اور hungry ہیں
02:23تو یہ ہمارے پورے system کے لئے
02:25ایک warning bell ہے
02:26ایک دن میں آپ امارن کریے
02:28ایک دن میں 230 سے زیادہ cases کی
02:31listing کرنا اور رات
02:32سوا ساتھ بجے تک bench پر بیٹھنا
02:34کسی بھی انسان کے لئے
02:36super human task ہے
02:37ہمیں یہ سمجھنا ہوگا
02:39کہ ایک کوٹ ہے
02:39justice hurried is justice buried
02:41تھاکا ہوا دماغ
02:43کبھی مکمل نیاج دے نہیں سکتا
02:45اس معاملے میں
02:46سب سے بڑا جو موتا ہے
02:47وہ judicial wellness کا ہے
02:48ایک judge کی mental اور physical health
02:51direct ہمارے quality of justice کو effect کرتی ہے
02:54ایک طرف supreme court کے deadline
02:56کسی case میں کی pressure ہے
02:57کہ آپ کو اس کو expedite کرنا ہے
02:59اور دوسری وہ vacancy کی وجہ سے
03:01بڑھتا ہوا backlog
03:02judges کو cognitive burnout کی طرف دھکیل رہا ہے
03:05اگر adjudication process میں
03:07ہمیں human element اور help کو
03:09ignore کر دیا گیا ہے
03:10تو آپ سمجھیں کہ
03:12due process of law کے خلاف ہو گئے
03:14justice وگارتی نے جو
03:16امنداری دکھائی
03:17وہ system کو
03:18صدھارنے کا ایک موقع ہے
03:19اب وقت آ گیا ہے
03:21کہ ہم case management کو
03:22rationalize کریں
03:23اور judicial vacancy کو
03:25war footing پر
03:26fill کرنے کریں
03:28اور ہمیں ایک ایتھا framework چاہیے
03:29جہاں judges کو machine نہیں
03:31انسان سمجھا جائے
03:33اور انہیں وہ environment
03:35ملے جہاں وہ کسی
03:36بینہ کسی physical
03:37یا mental stress
03:39کے نسبب شروع سے
03:40فیصلہ دے سکے
03:41اگر نیائے دینے والے ہاتھ
03:43ہی تک جائیں گے
03:43تو قانون کی بنیاد
03:45کمزور ہو جائے گی
03:46justice ویدیارتی کا
03:47یہ order
03:47systematic reform
03:48کی شروعات ہونی چاہیے
03:50ویڈیو جنرلس ویجے کے ساتھ
03:51میں پشاند مشرا
03:52ای ٹی وی بھارت
03:53لکھنا ہو
Comments

Recommended