Skip to playerSkip to main content
  • 9 hours ago
Khulasa e Mazameen e Quran - Episode 13 - Rehmat e Sehr - 3 March 2026 - ARY Qtv
Transcript
00:00Allah'a ta'a kalamu pardha ya Rasul ne
00:04Asham bi bang safha ko likha ya Rasul ne
00:09Nakhmeduhu wa nusalli ala Rasulhi al-Karim
00:12Amma abad bismillahirrahmanirrahim
00:14Allahumma salli ala Muhammadin wa ala ahli Muhammadin
00:17Wabharik wa sallim
00:18Rabbish rahali sadri yasir li amri
00:21Wahlul qudata min lisani yafqahu qawli
00:23Maja'ali wazira min ahli
00:25Amin ya Rabbil alameen
00:27ناظر کرام السلام علیکم ورحمت اللہ وبرکاتہ
00:30امید آپ خیر آفیت سے ہوں گے
00:32اور ہماری دعا ہے کہ آپ جہاں کہیں بھی ہوں
00:34اللہ تعالی آپ سب کو اور ہم سب کو اپنے زمان میں رکھیں
00:37آفیت اور السلامتی سے نوازیں
00:39اللہ تعالی ہمارے دلوں کو نور قرآن سے منور فرمائے
00:42قرآن پاک کو سیکھتے ہوئے سمجھتے ہوئے
00:45ہدایت لیتے ہوئے عمل کرنے کی توفیق اطا فرمائے
00:48مزامین قرآن حکیم کا بیان جاری ہے
00:50اور آن انشاءاللہ ہم قرآن حکیم کے
00:52تیروے پارے کے مزامین کا خلاصہ آپ کے سامنے بیان کریں گے
00:57اور انشاءاللہ تعالی اس تیروے پارے میں ہم دیکھیں گے
01:00کہ سوری یوسف کی آیت 53 سے
01:02سوری ابراہیم کی آیت 52 تک کی آیات شامل ہیں
01:07درمیان میں ایک اور صورت بھی ہمارے سامنے آ جائے گی
01:09اس کا ذکر آ جائے گا صورت و رات کا
01:11تو سوری یوسف کی آیت 53 سے
01:13قرآن حکیم کے تیروے پارے کا آغاز ہوتا ہے
01:16اور آپ کو یاد ہوگا پچھلی نشیس میں ہم نے
01:18سوری یوسف کا مطالعہ شروع کر دیا تھا
01:21وہاں بھی کچھ تعرف ہمارے سامنے آیا تھا
01:23آئیے آج کا مطالعہ آگے بڑھاتے ہیں
01:25سب سے پہلے سوری یوسف کے حوالے سے
01:27چند نکتے تعرف کے
01:29پھر آپ کے سامنے ہم دہرا دیتے ہیں
01:31بہت ہی قیمتی قصہ ہے
01:33اور بہترین قصہ جس کو قرار دیا گیا
01:36قرآن کریم میں یوسف علیہ السلام کے قصے کو
01:38جو کہ سوری یوسف میں بیان ہوا
01:40اس کے تعرف کے حوالے سے یاد دہانی کے طور پر چند باتیں
01:42اللہ تعالی نے حضر یوسف علیہ السلام
01:45کا امتہائی ایمان افروز
01:46اور سبق آموس دلچسپ قصہ
01:49بڑی وداہ سے بیان فرمایا ہے
01:51اگلا نکتہ ہے
01:52تعرف کے ذیل میں
01:54زندگی کے بہت سے گوش و مثلاً ایمانیات
01:56ذکر الہی
01:58صبر شکر حیاء
02:00اخلاق حسن سلوک
02:02ہمدردی درگزر
02:03گھر تجارت اور حکومت تک کے بارے میں
02:07رہنمائی عطا کی گئی ہے
02:08بہت سارے نکتے
02:09علم و حکمت کے ہمارے سامنے آتے ہیں
02:11اگلا نکتہ ہے تعرف کے ذیل میں
02:13بتایا گیا ہے کہ خاتم الانبیہ
02:14سیدنا محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہی
02:19کامیاب رہیں گے
02:20جیسے حضرت یوسف علیہ السلام کامیاب رہے
02:23داستان یوسف کا تذکرہ ہے
02:25اور داستان محمدی بیان ہو رہی ہے
02:28صلی اللہ علیہ وسلم
02:29حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی مخالفت کرنے والے
02:32ایک دن نادم ہوں گے
02:33جیسے حضرت یوسف علیہ السلام سے
02:35حسرت کرنے والے بھائیوں کو بھی
02:37نادم ہونا پڑا تھا
02:39اور یہ سمجھایا جائے ہے مشہیکین مکہ کو
02:41جو مخالفت کرنے رسول اکرم علیہ السلام کی
02:44ایک دن تمہیں بھی شرمندگی اٹھانی پڑے گی
02:47اور ندامت سے گذرنا پڑے گا
02:49یہ نکتے پہلے بھی ہم نے آپ کے سامنے رکھے
02:50آج ہم تیروے پارے کا مطالعہ کر رہے ہیں
02:53تو چاہا گیا کہ اس کا تعریف دوبارہ
02:55یہ سوری یوسف کا تعریف دوبارہ
02:56آپ کے سامنے رکھ دیا جائے
02:58آگے بڑھتے ہیں
02:59اور منتخب آیات کا مطالعہ آپ کے سامنے رکھتے ہیں
03:02اس زمین میں سب سے پہلے جس آیت کا ہم نے انتخاب کیا
03:04یہ قرآن پاک کے تیروے پارے کی پہلی آیت ہے
03:07سورہ یوسف کی آیت نمبر تریپن
03:10برائی سے بچاؤ اللہ کے فضل ہی سے ممکن ہے
03:13ایسا ہی ذکر پشل نشیس میں بھی تھا
03:15یوسف علیہ السلام کی دعا کے زیل میں
03:17اب ان کے قول کے حوالے سے ایک بات آ رہی ہے
03:19سورہ یوسف کی آیت نمبر تریپن
03:21اللہ تعالی نے ارشاد فرمایا ہے
03:23وَمَا أُبَرْيُوا نَفْسِينَ
03:25میں اپنے نفس کو بری قرار نہیں دیتا
03:29اِنَّ النَّفْسَ لَأَمَّارَةٌ بِسُوئِي
03:32بے شک نفس تو برائی کی بڑی شدید دعوت دیتا ہے
03:35اِلَّا مَا رَحِيمَ رَبِّ
03:37مگر یہ کہ جس پر اللہ سبحانہ وتعالی میرے رب رحم فرمائے
03:41مراد وہی محفوظ رہ سکتا ہے
03:43اِنَّ رَبِّ غَفُورُ رَحِيمُ
03:46بے شک میرے رب اللہ سبحانہ وتعالی
03:48بہت بخشنے والا نہائیت رحم فرمانے والا ہے
03:52یہ سیدن یوسف علیہ السلام کے تعلق سے کلام ہو رہا ہے
03:55اور پھر پیغمبرانہ آجزانہ اخلاق کا تذکرہ ہو رہا ہے
04:00کہ وقت کے پیغمبر یوسف علیہ السلام سبحان اللہ ورس کر رہے ہیں اللہ کے حضور
04:05پہلے تو دعا ہم نے پڑھیں
04:06وہ جو قید خانے میں دعا تھی اس کا ذکر آئے تھا پشنی مرتبہ
04:09اب جو آیت کریمہ اس وقت ہمارے سامنے سور یوسف کے آیت نمبر تیرے پن کیا ذکر آ رہا ہے
04:14میں اپنے نفس کو بری قرار نہیں دیتا
04:16نفس تو ہے برائی کی شدید دعوت دینے والا
04:19سوائے اس کے جس پر میرا اللہ میرا رب رحم فرمائے
04:22یعنی برائی سے بچنا اللہ ہی کی توفیق سے ممکن ہے
04:26دیکھئے سور فاتحہ میں ہم کیا پڑھتے ہیں
04:28ایہاک نعبدو آگے کیا ہے
04:30و ایہاک نستعین
04:31اللہ ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور تجھ ہی سے مدد مانگتے ہیں
04:34مہا نقطہ سمجھنے کا کیا ہے
04:36اللہ کی عبادت اس کی توفیق کے بغیر ممکن نہیں ہے
04:40ادھان کے الفاظ سنتے ہیں
04:41حیال السلام حیال الفلہ کیا جواب دیتے ہیں
04:44معلوم ہے نا آپ کو
04:45حیال السلام اور حیال الفلہ کا جواب ہے
04:47لا حول ولا قوت الا باللہ
04:49ہمارا خیال ہے
04:50شیطان کو بگانے کی لا حول ولا قوت الا باللہ
04:53پڑھا جاتا ہے
04:54نا اس وقت تو آعوذ باللہ پڑھتے ہیں
04:56شیطان سے بچنے کی
04:57اس کے حملوں سے بچنے کے لئے
04:58لیکن معذن کہتا ہے
05:00حیال السلام کہتے
05:01لا حول ولا قوت الا باللہ
05:02وہ کہتا ہے
05:03حیال الفلم کہتے
05:04لا حول ولا قوت الا باللہ
05:05کیا مطلب
05:06لا حول ولا قوت الا باللہ
05:08کا مطلب ہے
05:09کہ اللہ کے سوا کسی کے پاس نہ
05:10کوئی طاقت ہے اور نہ قوت ہے
05:12معذن کہہ رہے ہیں نماز کی طرف آؤ
05:14ہم کہتے ہیں اللہ کی توفیق کے بغیر ممکن نہیں
05:16تم مانگتے ہیں توفیق اللہ نماز کی توفیق دے دے
05:19معذن پوکاتا ہے
05:20فلاح کامیابی کی طرف آؤ
05:22کامیاب نہیں ہو سکتے جب تک اللہ کی توفیق شامل
05:24حال نہ ہو تم التجا کرتے ہیں
05:26اللہ توفیق دے دے اور فلاح
05:27یعنی کامیابی ہمیشہ کی کامیابی عطا کر دے
05:30تو یہاں بھی سبق بتایا جا رہا ہے
05:32سکھایا جا رہا ہے کہ برائی سے
05:34بچنا اللہ کے فضل ہی سے
05:36ممکن ہے نیکی میں آگے بڑھنا
05:38اللہ ہی کے فضل سے ممکن ہے
05:40تو اللہ سے نیکی کی توفیق مانگنی چاہیے
05:42اور اللہ تعالی سے گناہوں سے بچنے کی
05:44التجا کرنی چاہیے
05:45اللہ تعالی مجھو اور آپ کو اس کی توفیق عطا فرمائے
05:49اگلی آئے جس کا میں انتخاب کیا
05:50سورہ یوسف کی آیت
05:53یہاں ذکر آ رہا ہے
05:54تدبیر الہی کا اور تصور دین کا
05:57دین کا وسیطہ تصور کیا ہے
05:59اس کے حوالے سے بھی ایک بات آئے گی
06:00اور اللہ تعالی نے ایک تدبیر سکھائی تھی
06:03کس کو یوسف علیہ السلام کو
06:05یہ بات پہلے بھی ہم ذکر کر چکے
06:06بہترین قصہ ہے قرآن پاک کا
06:08مگر خلاصہ مزامین قرآن کے بیان میں
06:10تو وقت نہیں ہے ہمارے پاس
06:12کہ پورا قصہ بیان کیا جا سکے
06:13وہ مشہور واقعہ ہے نا
06:15کہ اپنے بھائی یعنی چھوٹے بھائی
06:17بنیامین کے بورے میں پیالہ
06:19رکھوا دیا تھا
06:20کس نے یوسف علیہ السلام نے
06:21یاد آیا
06:22اور پھر ان کے ہی بورے سے
06:24وہ دریافت ہوا مل گیا
06:25تو پھر بھائی کو
06:26یعنی بنیامین کو
06:27چھوٹے بھائی کو روک لیا گیا
06:28تفصیل آپ تفاصیل میں پڑھ دیجئے گا
06:31البتہ اللہ تعالی نے
06:32اس معاملے کی نسبت
06:34اپنی طرف فرمائی ہے
06:36کہ چھوٹے بھائی بنیامین کو
06:38روک لینے کی
06:39ایک تدبیر
06:40اللہ تعالی نے
06:40یوسف علیہ السلام کو
06:41سکھا دی
06:42اس کا ذکر ہے
06:43اس آیت کریمہ میں
06:44سورہ یوسف کی آیت
06:46نبت چھے سیونٹی سکس
06:47اشاد ہو رہا ہے
06:48فَبَدَعَ بِأَوْعِيَتِهِمْ قَبْلَ وِعَائِ اَخِهِ
06:52پھر انہوں نے
06:54ان کے بوروں میں سے
06:55تلاشی لینا شروع کی
06:56اپنے بھائی
06:58یعنی چھوٹے بھائی
06:58بنیامین کے بورے کی
07:00تلاشی سے پہلے
07:01فَمَسْتَخْرَ جَهَمِ بِعَائِ اَخِهِ
07:04پھر اسے نکال لیا
07:06اپنے بھائی کے بورے سے
07:07یعنی پیالہ تھا
07:08قَذَالِكَ كِدْنَا لِيُوسف
07:11یہ اللہ تعالی اشارت فرمارا ہے
07:13قَذَالِكَ كِدْنَا لِيُوسف
07:14یہ تین الفاظ
07:15بہت قیمتی ہیں
07:16اس طرح ہم نے
07:18یوسف کے لیے تدبیر فرمائی
07:19علیہ السلام
07:20اللہ تعالی فرمارا ہے
07:21تفسیر آپ پڑھئے پورے واقعے کی
07:23سوری یوسف کا مطالعہ کیجئے گا
07:24تفاصیر کا مطالعہ کیجئے گا
07:26یہ بورے میں
07:27پیالہ رکھوانے کا معاملہ
07:28پھر اپنے بھائی کے بورے سے
07:30نکال لیے جانے کا معاملہ
07:31اللہ فرمارا ہے
07:32قَذَالِكَ كِدْنَا لِيُوسف
07:34اس طرح ہم نے تدبیر فرمائی
07:36یوسف کے لیے
07:37علیہ السلام چھوٹے بھائی کو
07:38روک لینے کے لیے
07:39آگے اللہ تعالی اشارت فرما رہا ہے
07:41مَا كَانَ لِيَا خُذَا أَخَاهُ فِي دِينِ الْمَلِكِ
07:44اِلَّا اَن يَشَاءَ اللَّهُ
07:46وہ بادشاہ کے دین میں رہتے ہوئے
07:49اپنے بھائی کو روک نہیں سکتے تھے
07:51مگر یہ کہ اللہ تعالی چاہے
07:53اب بادشاہ کا دین اس سے کیا مراد
07:55دین کا لفظ قرآن پاک میں
07:57کئی مفاہیم استعمال ہوا
07:59یا یہ قانون کے مفہوم میں بھی استعمال ہوا ہے
08:02کہ بادشاہ کے قانون کے مطابق
08:04تو یوسف علیہ السلام کا
08:06اپنے بھائی کو روکنا کچھ ممکن نہیں تھا
08:08تو اللہ تعالی نے یہ تدبیر سکھا دی تھی
08:11بولے میں پیالہ رکھوانے کی
08:12اور پھر بھائی کے بولے سے اس کو نکال لینے کی
08:15اور اس کے نتیجے میں چھوٹے بھائی
08:16بینی آمین کو روک لینے کی
08:18مزید تفصیل میں نہیں جا رہے
08:20لیکن دین الملک
08:21اچھا قرآن پاک میں دین اللہ کے الفاظ بھی آتے ہیں
08:23یاد آیا آپ کو
08:24سورہ نصر میں ہم پڑھتے ہیں
08:26اِذَا جَا نَصُرُ اللَّهِ وَالْفَتْحُ وَرَعِيْتَ النَّاسِ يَدْخُلُونَ فِي دِینِ اللَّهِ اَفْوَاجَ
08:31تو دین اللہ کا بھی ہوتا ہے
08:33یہاں تو دین ملک
08:34یعنی بادشاہ کا بیان ہو رہے
08:35تو جب بادشاہ کا قانون چلتا ہو
08:38تو دین کس کا ہوگا
08:39بادشاہ کا
08:40جب پارلیمنٹ کا قانون چلتا ہو
08:42تو دین یعنی سسٹم آف لائف کس کا ہوگا
08:44پارلیمنٹ کا
08:46کیا خیال ہے
08:47اور جب قانون اور حکم
08:48اللہ کا چلتا ہو
08:50تو پھر دین کس کا ہوگا
08:51اللہ کا
08:52سمجھیں اس چیز کو
08:53یہ دین الملک کا ذکر آگے
08:55آج کل دین الجمہور ہے
08:57جمہور مجورٹی
08:58جو چاہے فیصلہ کر لے
08:59کوئی شراب کو حلال کر دے
09:00کوئی زنہ کو حلال کر دے
09:01کوئی حمجنس پرسی کو حلال کر دے
09:03الگی بی ٹی کیو کو حلال کر دے
09:05معادلہ کر رہے ہیں نا دنیا میں لوگ
09:06حرام کام کو حلال کر رہے ہیں
09:08معادلہ
09:08تو یہ جمہور کا دین ہے
09:10جنہور کا سسٹم ہے
09:11جو چاہے وہ سسٹم بنا لیں
09:12یہ بادشاہ کا دین ہے
09:13جو چاہے وہ سسٹم بنا لیں
09:14اوہ بھائی جب دین
09:15اللہ کا ہوگا
09:16تو حکم کس کا چلے گا
09:17اللہ کا
09:29دین جو سمجھنا ضروری ہے
09:35تو آج اللہ کا حکم اللہ کی شریعت نافذ ہے
09:38نہیں تو دین تو کسی اور کا چلنا ہے
09:41تو دین تو اللہ کا چلنا چاہیے
09:43اللہ کا حکم نافذ ہونا چاہیے
09:45اور اللہ کی شریعت نافذ ہونی چاہیے
09:47یہ مستقل قرآن پاک کا موضوع ہے جو ہمارے سامنے آتا ہے
09:51بارحال فرمایا
09:52مَا كَانَ لِيَا خُدَ أَخَاؤ فِي دِينِ الْمَلِكِ إِلَّا أَن يَشَاءَ اللَّهِ
09:57ان کے لئے ممکن نہیں تھا کہ اپنے بھائی کو بادشاہ کے دین
10:00یعنی قانون کے مطابق روک لیتے
10:02مگر یہ کہ اللہ جو چاہے تو اللہ کے تدبیر سکھا دی
10:05نَرْفَعُ دَرَجَاتِ مَنَّ شَاءَ
10:08ہم جس کے چاہتے درجات کو بلند کرتے ہیں
10:10وَفَوْقَ كُلِّ ذِي عِلْمٍ عَلِيمٍ
10:13اور ہر علم رکھنے والے کے اوپر
10:15ایک بہت بڑا علم رکھنے والا ہوا کرتا
10:18یعنی مخلوق کا علم تو کچھ بھی نہیں ہے
10:20اللہ تعالیٰ کے علم کے مقابلے میں
10:22سب سے بڑھ کر علم کس کے پاس ہے
10:23اللہ سبحانہ وتعالی کے پاس
10:25اگلی آئے جس کا ہم نے انتخاب کیا
10:28وہ سورہ یوسف کی آیت نمبر 101 ہے
10:30اور یہاں حضرت یوسف علیہ السلام کی
10:33امدہ دعائیں نقل کی
10:34بہت پیاری باتیں ان دعاؤں کے زیل میں
10:37ہمارے سامنے آتی ہیں
10:38پیغمبرانہ اخلاق کا ذکر بھی آتا ہے
10:40پیغمبرانہ عاجزی کا ذکر بھی آتا ہے
10:42پیغمبر اللہ سے کیسے التجا کرتے ہیں
10:44اللہ تعالی سے کیا کیا مانگتے ہیں
10:46اللہ تعالی میں سکھا رہا ہے
10:47سورہ یوسف کی آیت نمبر 101
10:51فرمایا گیا
10:52رب قد آتیتنی من الملک
10:54اے میرے رب یوسف علیہ السلام
10:56اللہ تعالی سے التجا کر رہے ہیں
10:57اے میرے رب بیشک
10:58تُو نے مجھے بادشاہت میں سے عطا فرمایا
11:00وَعَلَّمْتَنِ مِنْ تَعْوِيلِ الْأَحَادِيثِ
11:03اور تُو نے مجھے معاملہ فہمی
11:05باتوں کا فہم سکھایا
11:06فاطر السماوات والأرض
11:09اے آسمانوں اور زمین کے پیدا فرمانے والے اللہ
11:12انتا ولیی فی الدنیا والآخرہ
11:15تو میرا ولی کارساز ہے دنیا اور آخرت میں
11:18توفنی مسلمن
11:19مجھے اسلام کی حالت میں وفات عطا فرما
11:23وَالْحِقْنِ بِالصَالِحِينَ
11:25اور مجھے نیک لوگوں کے ساتھ شامل فرما
11:27اللہ اکبر کس قدر قیمتی تعلیمات
11:30ہمارے سامنے آ رہی ہیں
11:32یہ اختیار عطا ہوا تھا
11:34یوسف علیہ السلام کو مصر کی زمین پر اختیار عطا ہوا تھا
11:37اور خزانوں کی ذمہ دار
11:38جن کے حوالے کر دی گئی تھی
11:40یہ تیر وے پارے کے شروع میں بات آتی ہے
11:41یہ کس کی طرف نسبت اور یہ اللہ
11:43تُو نے عطا فرمایا
11:44اچھا خوابوں کی تعبیر ہو
11:47جیسے خوابوں کی تعبیر انہوں نے قید خانے میں بھی بتائی
11:50باشا کے خواب کی بھی تعبیر بتائی
11:51یا معاملہ فہمی ہو
11:53decision making ہو
11:54یہ علم اللہ تعالی نے عطا فرما
11:56نسبت اللہ کی طرف
11:57اللہ تُو نے عطا فرما
11:58باشاعت میں سے اختیار تُو نے دیا
12:00یہ علم تُو نے اے اللہ دیا
12:01تُو کون ہے اللہ
12:02تُو آسمان و زمین کا پیدا فرمانے والا ہے
12:05کل اختیار تو تیرا ہے
12:06اور تُو ہی میرا ولی اور کارساز دنیا اور آخرت میں
12:10کس قدر توحید کے عاملی پہلوں کا بیان ہے
12:13اے توفنی مسلمہ
12:14اے میرے رب مجھے اسلام کی حالت پر وفاد دے
12:17پیغمبر اسے بڑھ کر مسلم کون ہوگا
12:19پیغمبر اسے بڑھ کر فرما بردار کون ہوگا
12:22اللہ تعالی کا وہ دعا کر رہے ہیں
12:23اللہ تَوَفَنِ مسلمہ
12:25مجھ اسلام کی حالت پر وفاد دے
12:27وَالْحِقْنِ بِسْصَالِحِينَ
12:29اور مجھے صالحین میں شامل فرما دے
12:31اللہ اکبر
12:32کس قدر عاجزانہ کلام ہے
12:33کس قدر عاجزی سے
12:35اللہ سے مانگا جا رہا ہے
12:37اور کس قدر
12:38اللہ تعالیٰ کے عظمتوں کا تذکرہ بھی ہو رہا ہے
12:40تو دعا میں یہ مطلوب ہے نا
12:41عاجزی مطلوب ہے
12:42ان کے ساری مطلوب ہے
12:43اللہ تعالیٰ کے عظمت کا بیان مطلوب ہے
12:45اللہ تعالیٰ مانگنا ہمیں سکھا رہا ہے
12:48پیغمبروں کی دعاوں کے ذریعے سے
12:51اگلی آیت جس کا ہم نے انتخاب کے
12:52سوری عصف میں سے وہ آیت نمبر ایک سو آٹھ
12:55نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی
12:58تئیس برس کی مستقل سنت
13:00سوری عصف کی آیت نمبر ایک سو آٹھ میں
13:02فرمایا جا رہا ہے
13:03اللہ کے رسول علیہ السلام سے کہلوایا جا رہا ہے
13:06قُلْ حَذْهِ سَبِيلِي أَدْعُوا إِلَى اللَّهِ
13:09اے نبی صلی اللہ علیہ وسلم فرما دیجئے
13:11یہ میرا راستہ ہے
13:13میرا طریقہ ہے
13:14ادعُوا إِلَى اللَّهِ
13:15میں اللہ کی طرف دعوت دیتا ہوں
13:17على بصیرت پوری بصیرت
13:19یعنی یقین و کنوکشن کے ساتھ
13:26اور وہ بھی جنہوں نے میری اتباع کی
13:29یہ ہے تئیس برس کی سنت کا بیان
13:31نبی اکرم علیہ السلام کی
13:33کہ یہ میرا راستہ ہے
13:34یہ میرا طریقہ ہے
13:36میں اللہ کی طرف دعوت دیتا ہوں
13:37پوری بصیرت و یقین و کنوکشن کے ساتھ
13:40میں بھی یہ کام کر رہا ہوں
13:41اور میری اتباع کرنے والے بھی یہ کام کر رہے ہیں
13:43اور اللہ ہر عیب سے پاک ہے
13:47اور میں شرک کرنے والوں میں سے نہیں ہوں
13:50اب غور کیجئے
13:51اللہ کے نبی علیہ السلام کی
13:52تئیس برس کی سنت دعوت الاللہ
13:54آپ کی اتباع کرنے والے بھی یہی کام کر رہے ہیں
13:57اس سے پتا چلا
13:58کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی
14:00اتباع کا سب سے بڑا تقادہ کیا ہے
14:03وہ ہے تئیس برس کی سنت کو
14:05ادا کرنا اور وہ ہے
14:06دعوت الاللہ کی سنت
14:08ہر مسلمان پر لازم ہے
14:10عالم بننا مفتی بننا حافظ قرآن بننا
14:13مسجد کا امام بننا بڑے مناسب ہیں
14:15مگر یہ فرض کے درجے میں اس معنی میں نہیں ہیں
14:17لیکن دعوت کا کام کرنا
14:19ہر مسلمان پر فرض ہے
14:21جو اس کا علم ہو
14:22جتنا اس کا علم ہو
14:24جتنی اس کی صلاحیت ہو
14:25جتنی اس کی کیپیسٹی ہو
14:27جتنا اس کا دائرکار ہو
14:28ہر مسلمان پر دعوت کا کام کرنا فرض ہے
14:30کیوں یہ امت دعوت کے کام کے لئے اٹھائی گئی
14:33خیر کی دعوت دینے کے لئے اٹھائی گئی
14:35نیکی کا حکم دینے کے لئے پیدا کی گئی
14:37بری سے رکنے کے لئے کھڑی کی گئی
14:39سورہ العمران
14:40آیت ملک سدس میں آتا ہے
14:42کم تم خیر امت
14:43اخرجت لِمناسی
14:44تأمرون بالمعروفی
14:45و تنہون عن المنکر
14:47تم بہترین امت ہو
14:48جنہیں لوگوں کے لئے بھرپاک کیا گیا
14:50تم نیکی کا حکم دو گے
14:51اور بدی سے روکو گے
14:52تو یہ امت اس کام کے لئے کھڑی کی گئی
14:55تو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی
14:57ہر ادا ہر سنت قیمت تھی
14:58لیکن مستقل ترین سنت
15:01تیز برس کی مستقل سنت
15:02جس میں کسی مکتب فکر میں کوئی اختلاف نہیں ہے
15:05وہ دعوت الاللہ کی سنت ہے
15:07ہاں دعوت یقین کے ساتھ
15:09conviction کے ساتھ
15:10ارے دین کو پڑھیں گے تو دین کا کام کر سکیں گے
15:13یقین کے ساتھ
15:14خران پاک کو سمجھیں گے
15:15یقین کی کیفیت پیدا ہوگی
15:17بصیرت پیدا ہوگی
15:18conviction پیدا ہوگا
15:20تو آگے کام کر سکیں گے
15:21لیکن یہ کام کرنا ہے فرد ہے
15:22اور یہ کام پورے conviction و بصیرت کے ساتھ کرنا ہے
15:25اللہ تعالی مجھے آپ کو ہم سب کس کی توفیق عطا فرمائے
15:29الحمدللہ
15:30سورہ یوسف میں سے چند منتخب آیات کا مطالعہ مکمل ہوا
15:33قرآن حکیم کے تیروے پارے میں
15:35اگلی صورت آتی ہے
15:36سورت الرعد
15:37اور سورت الرعد کا پہلے ہم آپ کے سامنے تعرف رکھتے ہیں
15:41اور پھر اس کی چند منتخب آیات کا مطالعہ
15:43آپ کے سامنے پیش کیا جائے گا
15:44سورت الرعد کے تعرف کے حوالے سے پہلا نکتہ ہے
15:47یہ سورت الرعد مکی صورت ہے
15:49اگلا نکتہ ہے
15:51عقید توحید کو عقلی دلائل کے ساتھ بیان کیے گئے ہیں
15:54اللہ تعالی کی توحید کی جا بجا دلائل پیش کیے جارے ہیں
15:57قرآن پاک میں
15:57یہاں عقلی دلائل پیش کیے گئے ہیں
15:59توحید کے اعتبار سے
16:01اگلا نکتہ
16:02حق و باطل کے فرق پر دلائل دیئے گئے ہیں
16:05حق اور باطل کی جو کشا کش کا سسلہ مکی دور میں جاری تھا
16:08اس کے فرق کے لیے کئی دلائل پیش کیے گئے
16:11انبیاء کرام علیہ السلام کو جھٹلانے والوں کے عبرتناک انجام
16:15اور متقی لوگوں کے لیے بہترین مقام کا ذکر ہے
16:18یعنی جہنم والوں کا تذکرہ بھی ہے
16:20اور جنت والوں کا بھی تذکرہ
16:22یہ مکی صورتوں کا مستقل موضوع ہے
16:25جس سورہ رات میں بھی زیر گفتگو آتا ہے
16:27آخری نکتہ ہے
16:28سورت الرات کے تعرف کے زیل میں
16:30نبوت و رسالت پر مشرکین کے اعتراضات کا بھرپور جواب دیا گیا ہے
16:35یہ چند نکات ہیں
16:37سورہ رات کے تعرف کے اعتبار سے
16:39اب آئیے آگے چلتے ہیں
16:41سورہ رات کے چند منتخب مقامات
16:43یعنی چند منتخب آیات کا مطالعہ آپ کے سامنے رکھتے ہیں
16:45سب سے پہلے
16:46سورہ رات کی آیت میں سترہ کا ہم نے انتخاب کیا ہے
16:49اور بہت پیارا مقام ہے
16:51بڑا جامع مقام ہے
16:52بڑا قیمتی مقام ہے
16:53حق و باطل کے لیے مثالیں
16:55یہ یہاں پر بیان کی گئی ہیں
16:57حق اور باطل کے فرق کو بیان کرنے کے لیے
17:00اللہ تعالیٰ نے مثالیں عطا فرمائیں
17:02اشاد ہوا
17:02اَنزَلَ مِنَ السَّمَائِ مَاعًا
17:05اللہ تعالیٰ نے آسمان سے بارش کو برسایا
17:09فَسَالَتْ أَوْدِيَتُمْ بِقَدْرِهَا
17:11تو ندی نالے
17:12انہوں نے اپنی وسعت کے مطابق
17:15جو ہے وہ اس سے پانی لے لیا
17:16یعنی پانی بہنا شروع ہو گیا ندی نالوں میں
17:18یعنی نالوں سے مراد برساتی نالے ہیں
17:20فَحْتَمَلَ السَّيْدُ زَبَدْ لَرْرَابِيَا
17:23پھر جو وہ پانی بہ رہا ہوتا ہے
17:26وہ اپنے اوپر کچھ کچھرے کو
17:29کچھ کھوٹ کو لے آیا
17:30جب پانی بہتا ہے
17:32تو پانی تو بہتا ہے
17:33اوپر کچھ کچھرہ وغیرہ دکھائی دیتا ہے
17:35فرمایا
17:36وَمِمَّا يُوْقِدُونَ عَلَيْفِ النَّارِ بِتِغَوَحِلْيَةٍ
17:39اَوْ مَتَاعٍ زَبَدٌ مِثْلُ
17:41اور وہ جو آگ میں
17:43تپاتے مراد دھاتوں کو
17:44زیورات بنانے کے لیے
17:46یا کوئی اور استعمال کی چیزیں
17:48تیار کرنے کے لیے
17:49ان میں بھی اسی طرح کا جھاگ ہوتا ہے
17:51جب دھات کو سونا ہو
17:53چاندی ہو آگ میں ڈالا جاتا ہے
17:55کھوٹ الگ کرنے کے لیے
17:56تو دھات نیچے رہتی ہے
17:58کھوٹ اوپر نظر آتا ہے
18:00دو مثالیں ہو گئیں
18:01پانی بہتا ہے اوپر کچھرہ نظر آتا ہے
18:03دھات نیچے رہتی ہے
18:05اوپر کھوٹ نظر آتا ہے
18:06آگے اللہ تعالیٰ فرما رہا ہے
18:08کذالک یدرب اللہ الحق والباطل
18:11اسی طرح اللہ تعالیٰ حق اور باطل کی
18:13مثالوں کو بیان کرتا ہے
18:14فَأَمَّا زَبَدُ فَيَذْهَبُ جُفَاءَ
18:18تو جو جھاگ ہوتا ہے
18:20وہ اڑ کر ختم ہو جاتا ہے
18:21وَأَمَّا مَا يَنفَعُ النَّاسَ فَيَمْكُثُ فِي الْأَرْضِ
18:25اور جو شئے لوگوں کو نفع پہنچانے والی ہے
18:28وہ زمین میں برقرار رہتی ہے
18:29کذالک یدرب اللہ الامثال
18:32اسی طرح اللہ سبحانہ وتعالی
18:33مثالیں بیان فرماتا ہے
18:34اور مثالیں لوگوں کی سمجھنے کیلئے بیان کرتا ہے
18:37اللہ سبحانہ وتعالی
18:38اب یہاں حق و باطل کی کیا مثالیں آئیں
18:40بھائی ندی نالوں میں پانی بارش کا بہتا ہے
18:43اوپر کو جھاگ کچھرا نظر آتا ہے
18:45اور دھاتوں سے زیورات
18:47یدی کا سامان بنانے کے لیے
18:55پانی بہتا ہے اوپر جھاگ نظر آتا ہے
18:57دھات نیچے ہوتی اوپر کھوٹ
19:00یا جھاگ نظر آتا ہے
19:01یہی حق اور باطل کی مثالیں ہیں
19:03کیا مطلب کئی مرتبہ
19:05جھاگ کچھرا کھوٹ
19:07اوپر نظر آتا ہے یہ اصل نہیں ہے
19:09اصل تو نیچے وہ پانی ہے
19:11اصل تو نیچے وہ تو دھات ہے
19:13لیکن نظر کے آتے ہیں کئی مرتبہ
19:15کھوٹ اور جھاگ
19:17اور یہ کچھرا
19:18تو باطل بھی کچھرا ہے
19:20باطل بھی کھوٹ ہے
19:22Yes.
19:23He also has a sword.
19:24He has said nothing to hide.
19:26But he has on the right hand.
19:29If it has a sword in the right hand,
19:33he will be on the right hand.
19:34If he is on the right hand hand and a sword,
19:38he has a sword.
19:41ώ باطل بھی جھاک کی طرح بیٹھ جاتا ہے باطل بھی جھاک کی طرح اُر جاتا ہے کھوٹ کی طرح
19:47کچھلی
19:47کی طرح ختم ہو جاتا ہے حق واقعی رہتا ہے اور جو شائع لوگوں کو نفع پہنچانے
19:52والی ہیں وہ زمین میں برقرار رہتی ہے تو حق کی بات وحی کی تعلیم اللہ کی
19:57تعلیم خالق کی تعلیم ہدایت کی بات یہ برقرار رہے گی وقتی طور پر جھاک کی
20:03طرح کھوٹ کی طرح کچھری کی طرح
20:05باطل اوپر نظر آئے گا
20:07لیکن اللہ تعالیٰ فرما رہا ہے
20:09یہ مثال جیسے پانی کی اور دھاتوں کی
20:11تمہارے سامنے آئی اسی طرح حق و باطل
20:13کا معاملہ ایک وقت آتا ہے کہ
20:15جھاک کی طرح باطل اڑ جائے گا
20:17ہٹ جائے گا کھوٹ کی طرح ختم ہو جائے گا
20:19اور حق باقی رہ جائے گا
20:20البتہ یاد رہے
20:22اسی سورہ رات میں حق والوں کی صفات
20:25اللہ تعالیٰ نے بیان فرمائی
20:33اور اللہ کی خاطر اس کے دین کے خاطر
20:36اپنی جان اور مال کو لگانے کو تیار ہو جائیں
20:38تو پھر اللہ تعالیٰ کی مدد
20:40ان کے شامل حال ہوتی ہے
20:42اور باطل جھاک کی طرح اڑ جاتا ہے
20:44اور حق کا بول بالا ہوتا ہے
20:45اللہ حق کا ساتھ دینے والوں میں
20:48مجھے اور آپ کو بھی شامل فرمائے
20:50اور اللہ کے کلمے کی سر بلند دیں
20:52اور اللہ کے دین کے نفاس
20:54کے جد و جہود کے لیے ہمیں ہمارا تن
20:56من اور دھن یعنی جان
20:58مال اور دل سب کچھ دینے
21:00اور لگانے کی توفیق عطا فرمائے
21:02اگلی آئے جس کا ہم نے انتخاب کیا
21:04سورة الرات میں سے وہ آیت نمبر اٹھائیس ہے
21:06اور یہاں ذکر آ رہا ہے
21:08اس بات کا کہ اتمنان قلب
21:10اللہ تعالیٰ کے ذکر سے حاصل ہوتا ہے
21:12مشہور آیت قرآن پاک کی سورة الرات
21:14آیت نمبر اٹھائیس ارشاد ہوا
21:16اللہ دین آمنو وہ کے جو ایمان لائے
21:19وَتَطْمَئِنُ قُلُوبُمْ بِذِکْرِ اللَّهِ
21:21اور ان کی دل
21:22اللہ کی یاد سے
21:23اللہ کے ذکر سے اتمنان پاتے ہیں
21:25جنت کی بشارت کا تذکرہ ہوا
21:27جنت کی نعمتوں کا تذکرہ ہوا
21:29کن کے لئے ہیں
21:30وہ جو ایمان لائے
21:31اور ان کے دل
21:32اللہ کے ذکر سے اتمنان پاتے ہیں
21:34اَلَا بِذِکْرِ اللَّهِ تَطْمَئِنُ الْقُلُوبُ
21:37آگاہ ہو جاؤ
21:38کہ دلوں کو اتمنان
21:39اللہ کے ذکر سے ہی میسر آتا ہے
21:41یہ دل روح کا عبود ہے
21:43یہ دل روح کا مسکن ہے
21:45روح اللہ کی طرف سے آئی وی شہ ہے
21:48ہاں
21:49سورہ بنی اسرائیل میں آتا ہے
21:50پندر میں پارے میں
21:51امری ربی
21:51یہ میرے رب کے حکم سے ہے
21:53تو یہ دل کو اتمنان ملے گا
21:55اللہ کے ذکر سے
21:56دل روح کا مسکن ہے
21:58عبود ہے
21:59اور روح کا تعلق
22:00اللہ کی ذات سے ہے
22:01تو جتنا اللہ کے ساتھ
22:03تعلق مضبوط ہوگا
22:05کنیکشن مضبوط ہوگا
22:07اللہ کی یاد میں بندہ لگا رہے گا
22:09دل میں بھی اللہ کی یاد
22:10زبان پر اللہ کی یاد
22:12عمل میں اللہ کی یاد
22:13یعنی احکامات کی پیروی کرنا
22:15یہ وہ شہ جو دلوں کو اتمنان عطا کرتی
22:17اور سچی بات ہے
22:18کہ سب سے نایاب کموڈیٹی
22:20سب سے مشکل کموڈیٹی
22:22یا شہ جو دنیا میں محصر نہیں
22:24آ پا رہی وہ
22:25اتمنان قلب ہے
22:26انگلیش میں پیس آف مائنڈ کہہ دیتے ہیں
22:28اس کو بہرحال
22:29وہ
22:31یہ دلوں کو اتمنان
22:33اللہ کے ذکر سے حاصل ہوتا ہے
22:34مسائب ہوں پریشانی ہیں
22:36دو رکر نماز بندہ ادا کر لیں
22:37دو آنسو اللہ کے سامنے بہا لیں
22:39نہ کسی سیکیٹریس کی فی پے کرنی پڑے گی
22:43نہ کسی
22:44ہائی فائی قسم کے
22:45ڈاکٹر صاحب سے مشورہ کرنا پڑے گا
22:47سجدے کو
22:48اللہ تعالیٰ کے رسول نے فرمایا
22:50کہ سب سے زیادہ سجدہ
22:51اللہ کا قرب عطا کرتا ہے
22:53بندہ سب سے زیادہ
22:54اللہ کے قریب ہوتا ہے
22:55سجدے کی ہاتھ میں
22:56یہ پیشانی زمین پر لگا کر
22:58اللہ کے سامنے دو آنسو بہا کے دیکھ لیں
22:59بہت سستے میں کام ہو جائے گا
23:01سکون قلب میں اثر آئے گا
23:02اللہ اپنے ان بندوں میں
23:04ہمیں شامل رکھے
23:05جو کثرت سے اللہ تعالیٰ کا ذکر کرنے والے ہوں
23:08یہ سورہ رات کی دو آیات
23:10منتخب کر کے
23:11ہم نے آپ کے سامنے رکھی
23:12اب آئیے کہ
23:13حاصل کلام کے طور پر
23:14جن آیات کو ہم نے
23:15تھوڑی سی تشریح کے ساتھ سمجھا
23:18ان آیات کے حوالے سے
23:19ٹیک آوے جو لیسنز ہوتے ہیں
23:21ان کو سمجھیں
23:21پہلا نکتہ
23:23اللہ تعالیٰ کی توفیق کے بغیر
23:25برائیوں سے بچنا ممکن
23:26نہیں
23:27یوسف علیہ السلام کا قول بھی سامنے آیا
23:29اجتماعی معاملات میں
23:30جس کا قانون جاری ہو
23:32دراصل دین یعنی نظام
23:33اسی کا چلتا ہے
23:34بادشاہ کا قانون چلنا ہے
23:36تو بادشاہ کا دین ہے
23:37جمہور کا دین چل
23:38قانون چلنا ہے تو جمہور کا دین ہے
23:40اللہ کا حکم نافذ ہوگا
23:41اللہ کا قانون نافذ ہوگا
23:42تو دین اللہ کا ہوگا
23:44تیسرے نکتہ
23:45اللہ تعالیٰ سے
23:46اسلام کی حالت پر خاتمے
23:47اور نیک لوگوں میں
23:49شامل کیے جانے کی
23:50دعا کا احتمام کرنا چاہیے
23:52یہ بھی یوسف علیہ السلام کی دعا
23:54ہم نے سمجھی تھی
23:54نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم
23:57کی تیز ورس کی سنت
23:58دعوت الاللہ کے فریضے
24:00کو انجام دینا ہے
24:01اللہ اس سنت کو
24:02ادا کرنے کی
24:03ہمیں توفیق عطا فرمائے
24:05باطل پانی کے جھاگ کی طرح
24:07غالب دکھائی دیتا ہے
24:08مگر آخر کار
24:09باطل جھاگ ہی کی طرح
24:11اڑ جاتا ہے
24:11اور حق غالب آتا ہے
24:13یہ حق و باطل کی مثالیں
24:14ہم نے جانی
24:15سکون اور اتمنان قلب
24:17کا اصل ذریعہ
24:17اللہ تعالیٰ کی یاد ہے
24:19مال سے
24:21سکون نہیں ملتا
24:22مال زیادہ ہوتے تو
24:23کبھی ہارٹ بیٹ بڑھ بھی جاتی ہے
24:25بعض لوگوں کی
24:26سکون اور اتمنان قلب
24:27کا ذریعہ
24:28اور اصل ذریعہ
24:29وہ اللہ تعالیٰ کی یاد ہے
24:30اللہ تعالیٰ کا ذکر ہے
24:32اللہ تعالیٰ ہمیں
24:32اس کی توفیق اتا فرمائے
24:34ایک چھوڑا سا وقفہ لیتے ہیں
24:35اس کے بعد سسلہ
24:36انشاءاللہ جاری رہے گا
24:36خلاصہ مزامین
24:38قرآن حکیم کے بیان کا
24:39السلام علیکم ورحمت اللہ وبرکاتہ
24:41السلام علیکم ورحمت اللہ وبرکاتہ
24:44ناظرین ہم خوش آمدید
24:45کہتے ہیں آپ کو
24:46خلاصہ مزامین
24:47قرآن حکیم کا
24:48سسلہ جاری ہے
24:49آج ہم قرآن حکیم کے
24:51تیروے پارے کے
24:52مزامین کا خلاصہ
24:53آپ کے سامنے رکھ رہے ہیں
24:54اب بات آگے بڑھے گی
24:56اور سورہ ابراہیم
24:57کا ہم آغاز کریں گے
24:58قرآن حکیم کے
24:59تیروے پارے میں
25:00سورہ ابراہیم کی
25:01آیت نمبر ایک تا باون
25:03یہ آیات شامل ہیں
25:04آئیے ہم اپنا مطالعہ
25:06آگے بڑھانے کی کوشش کرتے ہیں
25:08اور سورہ ابراہیم کا تعارف
25:09پہلے آپ کے سامنے رکھیں گے
25:11ہمیشہ کیا تنہیں
25:12اب سورت کا آغاز کرتے
25:13تو تعارف رکھا جاتا ہے
25:14آپ کے سامنے
25:15سورہ ابراہیم کے تعارف
25:16کے حوالے سے پہلی بار
25:17سورہ ابراہیم
25:18مکی سورت ہے
25:19اور یہ مکی سورتوں
25:20کا ایک سسلہ جو
25:21مستقل جاری ہے
25:22انبیاء اکرام
25:23علیہ السلام
25:24اور ایمان والوں پر
25:26اللہ تعالیٰ کے خاص
25:27فضل کے ظہور
25:29اور منکرین کی
25:30تباہی و بربادی
25:31کا ذکر کیا گیا ہے
25:32مکی سورتوں
25:33مستقل مدامین
25:34آپ اور ہم جانتے
25:35توحید کا تذکرہ
25:36آخرت کا بیان
25:37رسالت کے حوالے سے
25:39گفتگم
25:39رسالت کے بیان کے زیل میں
25:41پیغمبروں پر ایمان
25:42لانے والے
25:43اور پیغمبروں کا
25:44انکار کرنے والے
25:45ان دونوں گروہوں
25:46کا تذکرہ آتا ہے
25:47تو سورہ ابراہیم میں بھی
25:48اللہ تعالیٰ کے نیک بندوں پر
25:50اللہ تعالیٰ کے خاص
25:51فضل کے ظہور کا تذکرہ
25:53اور پیغمبروں کی دعوت
25:54کا رد کرنے والوں کی
25:56تباہی بربادی
25:57کا ذکر کیا گیا ہے
25:58حضرت موسیٰ رہ السلام
26:00اور سابقہ رسولوں کی
26:01اپنی قوموں کے ساتھ
26:02کشمکش کا بیان ہے
26:03یہ مستقل موضوع ہے
26:05جو مکی صورتوں میں
26:06دکھائی دیتا ہے
26:07دنیا داروں کو
26:08رہنما بنانے
26:09اور شیطان کے
26:10جھوٹے وعدوں
26:11اور تسلیوں پر
26:13یقین رکھنے والوں
26:14کا حال
26:15بیان کیا گیا ہے
26:16تو دنیا پرسی میں
26:17مبتلا ہو جانے والے
26:19وہ شیطان کے
26:20پیروکار بن جاتے ہیں
26:21اور ان کا
26:22حشر کیا ہونے
26:23قیامت کے دن
26:24اس کے بارے میں
26:25تفصیل بھی آئی ہے
26:26اور شیطان کی
26:27پوری تقریر ہے
26:28جو اللہ تعالیٰ نے
26:29سورہ ابراہیم میں
26:30نقل کی ہے
26:31اور وہ کہے گا
26:32کہ اللہ نے جو
26:33وعدے کیے تھے
26:34وہ سچے تھے
26:34میں نے جو
26:35جو وعدے کیے تھے
26:35جھوٹے تھے
26:36آج میں تمہاری
26:37کوئی دادرسی نہیں
26:38کر سکتا
26:39میں بھی جہنم میں
26:40تم بھی میرے ساتھ
26:40جہنم میں
26:41استغفراللہ
26:42اللہ شیطان کے حملوں
26:43اور اس کیپی روی
26:44سے ہم سب کی
26:45حفاظت فرمائیں
26:46اگنہ نقطہ
26:47تعریف کے حوہر سے ہیں
26:48اللہ تعالیٰ کی
26:49بے شمار نعمتوں
26:50کے ذکر کے ذریعے
26:51اللہ تعالیٰ کی
26:52یاد دلائے گئی ہے
26:53اللہ تعالیٰ کی
26:54نعمتوں کو
26:54شمار کرنا بھی
26:55ممکن نہیں
26:56جا بجا
26:57ان نعمتوں کا
26:58ذکر کر کے
26:58اللہ تعالیٰ کی
26:59یاد دلائے جا رہی ہے
27:00ایک اور اہم مقام
27:01اور ایک اور اہم بات ہے اس سورہ ابراہیم میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کی عظیم دعاوں کا ذکر
27:07پورا ایک رکوع ہے سیکنڈ لاسٹ رکوع سورہ ابراہیم کا
27:10یعنی آخر سے پہلے والا رکع جس میں ابراہیم علیہ السلام کی عظیم دعائیں ذکر کی گئیں
27:15اور آخرے نقطہ ہے سورہ ابراہیم کے تعرف کی حوالے سے قیامت کا حیبت ناک حال بیان کیا گیا ہے
27:22بڑا یعنی ایک حیبت ناک کیفیت کا پہلو ہے جو اس مقام پر بیان کیا گیا ہے
27:29جس میں یہ بھی ہے کہ گندک کے کرتے ہوں گے جس میں آگ بھڑکے گی جو جہنم والوں کو
27:35پہنائے جائیں گے
27:36اللہ تعالیٰ جہنم کے عذاب سے ہم سب کی حفاظت فرمائیں
27:39یہ سورہ ابراہیم کے تعریف کے والے سے چند باتیں تھیں جو میں نے آپ کے سامنے رکھی
27:43امام آگے چلتے ہیں اور ترتیب کے مطابق چند منتخب آیات کا مطالعہ آپ کے سامنے رکھتے ہیں
27:49سب سے پہلے جس آیت کا ہم نے انتخاب کیا سورہ ابراہیم میں سے وہ سورہ ابراہیم کی آیت امبر
27:54بائیس ہے
27:55شیطان کی تقریر کا تذکرہ ہے اور شیطان کا فریب ہے اس تقریر کے دوران میں جو بیان کیا جا
28:02رہا ہے
28:02جس کو قرآن پاک نے نقل کیا سورہ ابراہیم آیت امبر بائیس اشاد ہوا
28:06وَقَالَ الشَّيْطَانُ لَمَّا قُدِيَ الْأَمْرَ و جب معاملہ چکا دیا جائے گا تو شیطان کہے گا آخرت میں فیصلے ہو
28:13جائیں گے
28:13یہ جنت والے ہیں یہ جہنم والے ہیں معاملہ چکا دیا جائے گا فیصلے کر دیا جائیں گے نتائج بتا
28:19دیا جائیں گے
28:20اب شیطان کہے گا اِنَّ اللَّهَ وَعَادَكُمْ وَعَدَ الْحَقُّ بے شک اللہ تعالیٰ نے تم سے سچا وعدہ کیا تھا
28:28وَوَعَدْتُكُمْ اور میں نے بھی تم سے وعدے کیے تھے فَاخْلَفْتُكُمْ میں نے وعدوں کی خلاف ورزی کی
28:33کیوں شیطان تو ہے جھوٹا تو اس کے وعدے بھی کیا ہیں جھوٹے ہیں
28:37وَمَا كَانَ لِيَ عَلِيْكُمْ سُلْطَانٍ إِلَّا أَنْ دَعَوْتُكُمْ فَاسْتَجَبْتُمْ لِي
28:43اور میرے تم پر کوئی زور نہیں تھا کہ میں تم سے اپنی بات منواہی لیتا
28:48سوائے اس کے کہ میں نے تمہیں پکارا میں نے تمہیں دعوت دی
28:51تم نے میری دعوت قبول کر لی تم چاہتے تو رحمان کی دعوت قبول کرتے
28:55لیکن شیطان کہہ رہا ہے کہے گا بلکہ قیامت کریں تقریر کرے گا
28:59اس تقریر کو اللہ نے آج نقل کر کے ہمیں بتا دی
29:01کل یہ پیش آنے والا ہے معاملہ
29:03کہ میں نے جھوٹے وعدے کیے تھے میرے تم پر کوئی زور نہیں تھا
29:06بس میں نے تمہیں پکارا تھا
29:08اللذی یوسوسو فی صدور انناس وسوسے ڈالے تھے
29:11دعوت دی تھی پکارا تھا انویٹیشن دیا تھا
29:14تم نے میری دعوت قبول کر لی
29:16فَلَا تَلُومُونِي وَلُومُوا أَنفُسَكُمْ
29:19مجھے ملامت نہ کرو مجھے برا بھلا نہ کہو
29:22اپنے آپ کو ملامت کرو
29:24اپنے آپ کو برا بھلا کہو
29:26یہ اللہ تعالیٰ کا سچا کلامِ قرآنِ پاک
29:29اللہ تعالیٰ تقریر نقل کر رہا ہے
29:31جو شیطان کرے گا قیامت کے دن
29:32اللہ تعالیٰ آج ہمیں بتا رہا ہے
29:35کیا کہے گا شیطان
29:36فَلَا تَلُومُونِي وَلُومُوا أَنفُسَكُمْ
29:38مجھے ملامت نہ کرو اپنے آپ کو ملامت کرو
29:41آج ہم کہتے ہیں شیطان نے مروا دی
29:42یہ کر دے شیطان دشمن تو ہے ہمارا
29:44مگر اس کو پھوکے مارنے کی اجازت
29:46ہمیں تو دیتے ہیں جی جی
29:48وہ منوان ہی سکتا ہے وہ انوائٹ کر سکتا ہے
29:51دعوت دے سکتا ہے
29:52وہ فریب کر سکتا ہے
29:54ہمارے ساتھ دھوکہ دینے کی کوشش کر سکتا ہے
29:56مگر اس کو آنے کا موقع ہمیں دیتے ہیں
29:58جی قرآنِ قریم میں
30:00سورہ زخرف کی آیت نمبر ہے
30:01چھتے سورہ زخرف آیت تھرڈی سکس
30:09جو رحمان کے ذکر اور یاد سے ہٹتا ہے
30:11ہم اس پر ایک شیطان مسلط کر دیتے ہیں
30:13وہ اس کا ساتھی بن جاتا ہے
30:14ہم جب اللہ کو بھولاتے ہیں
30:16اللہ تعالیٰ کی طرف سے غافل ہو جاتے ہیں
30:18اللہ تعالیٰ کو بھولا بیٹھتے ہیں
30:20تو شیطان کو دراندازی کا اندر آنے کا معاقہ ملتا ہے
30:23اللہ ہم سب کی افادت فرمائے
30:24ایک گلاس ہو
30:25خالی ہے تو جو چاہے اس میں انڈیل دیں
30:27جو چاہے اس میں بھر دیں
30:31دل میں اللہ کی یاد ہو
30:33شیطان دو رہے گا
30:33دل میں اللہ کی یاد نہ ہو
30:34تم یہ خالی ہے نا شیطان انٹر ہو جائے گا
30:37اللہ تعالیٰ ہم سب کی افادت کرے
30:38تو کہے گا مجھے ملامت نہ کرو
30:40اپنے آپ کو براہ بھولا کہو
30:41نہ میں تمہاری داد رسی کر سکتا
30:46نہ تم میری داد رسی کر سکتا
30:47نہ میں تمہیں جہنم سے بچا سکتا ہوں
30:49نہ تم مجھے بچا سکتے ہو
30:51یہ بہت بڑا ڈروپ سین کا مرحلہ
30:59میں تو اس کا انکار کرتا ہوں
31:01جو اس سے پہلے تم مجھے شریک ٹھہراتے رہے
31:04اللہ کا حکم چھوڑ کر میرا حکم مانتے تھے
31:06اللہ تعالیٰ کی عبادت کی بجائے میرا حکم مانتے تھے
31:09میری دعوت قبول کرتے تھے
31:10تمہارے شرکی میں نفی کرتا ہوں
31:12تمہارے شرک کا میں انکار کرتا ہوں
31:15یہ شیطان کہہ گا کل قیامت کے دن
31:17اِنَّ الظَّالِمِينَ لَهُمْ عَذَابٌ عَلِيمٌ
31:19بے شک ظالموں کے لئے درد ناغ عذاب ہوگا
31:21اور ظلم کا لفظ قرآن کریم میں
31:23شرک کے لئے بھی آتا ہے
31:24سورہ لقمان کی آیت مطیرہ میں
31:26اِنَّ الشِّرْكَ لَذُلْمُ عَذِيمٌ
31:29یقین ہے شرک سب سے بڑا ظلم ہے
31:30یہ الفاظ آئے ہیں
31:31یہ ہے نازر کرام
31:33اللہ تعالیٰ جو رحمان و رحیم ہے
31:36اس نے یہ قرآن پاک میں بتا دی ہے
31:38یہ سب کچھ پیش ہونے والا ہے
31:40قیامت کے دن
31:41اور پیش آنے والا ہے قیامت کے
31:43یہ شیطان کی تقریر ہوگی
31:44اللہ تعالیٰ شیطان کے فریب
31:46اس کے حملوں سے ہماری فعادت فرمائے
31:48اور اللہ تعالیٰ کی یعات سے جڑے رہنے
31:50اللہ تعالیٰ کے احکامات پر عمل کرنے کی
31:51کوشش کرنے کی
31:52اللہ ہمیں توفیق عطا کریں
31:54ورنہ کر یہ ڈروپ سین ہونے والا ہے
31:55شیطان الٹا بھاگ جائے گا
31:57میں تو تم سے جھوٹے وعدے کیے تھے
31:59اللہ تعالیٰ کے وعدے تو سچے تھے
32:00اللہ تعالیٰ یہ سب بتا رہا ہے
32:02ہمارا کام کیا ہے
32:04ان باتوں کے یقین تو رکھیں
32:05اور اس کے مطابق عمل کریں
32:07اس کے بعد آگے بڑھتے ہیں
32:08اور اگلی جن آیات کا ہم نے انتخاب کی
32:10مشہور مقامات ہیں قرآن پاک
32:12سورہ ابراہیم کی آیات چوبیس تا ستائیس
32:14کلمہ طیبہ
32:15اور کلمہ خبیصہ کی مثال
32:17کلمہ طیبہ
32:18لا الہ الا اللہ
32:19اور کلمہ خبیصہ کیا ہے
32:21شرک کی بات
32:22کفر کی بات
32:23وہ کلمہ خبیصہ ہے
32:24یہ مثال اللہ تعالیٰ دونوں کلمات کے حوالے سے
32:27عطا فرما رہا ہے
32:28اس مقام پر
32:29سورہ ابراہیم کی آیات چوبیس تا ستائیس
32:32اشاد ہوا
32:36کیا آپ نے نہیں دیکھا
32:38کہ اس طرح اللہ تعالیٰ نے
32:39پاکیزہ کلمہ کی مثال کو بیان فرمایا
32:41کہ شجرتن طیبتن
32:43جیسے کہ پاکیزہ درخت ہو
32:45اسلوہا ثابتن
32:46اس کی جڑ زمین میں مصبوط ہے
32:49وفرعوہا فی السماء
32:51اور اس کی شاخ آسمان میں پھیلی ہوئی ہیں
32:53تُعْتِ اُقُوا لَهَا كُلَّ حِينِ مِئِذْنِ رَبِّهَا
32:57وہ اللہ تعالیٰ کے حکم سے
32:59اپنے رب کے حکم سے
33:00ہر موسم میں خوب پھل عطا کرتا ہے
33:02وَيَدْرِبُ اللَّهُ الْأَمْثَالَ لِمْنَاسِ
33:04اور اللہ تعالیٰ لوگوں کے لئے
33:06مثال بیان فرماتا ہے
33:07لَعَلَّهُمْ يَتَذَكَّرُونَ تَاکِهُوا
33:09دھیان دیں اور نصیت حاصل کریں
33:11کلمہ طیبہ کیا ہے
33:13یہ کلمہ لا الہ الا اللہ
33:15جس کو ہم کلمہ شہادت بھی کہتے ہیں
33:18اشد و لا الہ الا اللہ
33:19جس میں اللہ کی توحید کی گواہی کا ذکر ہے
33:21اسے کلمہ طیبہ کہا جا رہا ہے
33:24بچپنس میں معلوم ہے
33:25اول کلمہ طیب طیب من پاک
33:27لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ
33:29سب کوئی یاد ہے نا
33:30اس کی مثال اللہ تعالیٰ دے رہے
33:32کیسے؟ جیسے کہ ایک درخت ہو
33:33جڑ زمین میں مضبوط
33:35شاخِ آسمان میں پھیلی ہوئی
33:37اور ہر موسم میں وہ
33:38اللہ کے حکم سے پھل عطا کرتا ہے
33:40کیا مطلب؟
33:41یہ بندہ مومن کے دل میں جو ایمان ہے
33:44اس کے لئے اللہ تعالیٰ
33:46ایک مثال بیان کر رہا ہے
33:47وہ جو بندہ مومن
33:47اللہ کی توحید پر ایمان رکھتا ہے
33:49اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہیں کرتا
33:52اس کی مثال اللہ تعالیٰ بیان کر رہا ہے
33:54یہ ایمان دل میں مضبوط ہو
33:56تو نیک آمال کی فصل اگنا شروع ہو جائے گی
34:00اور یہ فصل پورے عالم کے لئے
34:02نفع کا باعث ہوگی
34:04اور ہر موسم میں
34:05ایمان والا بندہ
34:06اس کا کردار بڑا امدہ ہوگا
34:08ہر معاملے میں
34:09اس کا کردار بڑا امدہ ہوگا
34:11جیسے بھی حالات آجائیں
34:12کردار بہت امدہ ہوگا
34:14ہر قسم کی معاملات میں
34:15لوگوں سے ڈیل کرنے میں
34:16لوگوں سے معاملہ کرنے میں
34:17اس کا کردار بہت اچھا ہوگا
34:20جو سامنے آئے گا
34:21جیسے ایک ایسا درخ
34:22ہر موسم میں وہ پھل دے
34:23ایسے ہی بندہ مومن
34:25صاحب ایمان بندہ
34:27اللہ کی توحید پر کاربند بندہ
34:29اس کا کردار بھی
34:30ہر موسم میں بہت امدہ ہوگا
34:31یہ کلمیں
34:32تیبہ کی مثال آگئیں
34:34اب کلمہ خبیصہ ناپاک
34:36کلمے کی مثال بھی
34:37اللہ تعالیٰ بتا رہا ہے
34:37شر کے بارے میں
34:38کفر کے بارے میں اشاد ہوا
34:39وَمَثَلُ كَلِمَتِن خَبِيثَتِن
34:42اور مثال ناپاک کلمے کی
34:44كَشَجَرَتِن خَبِيثَتِن
34:48ایسی ہے جیسے کہ
34:49ایک ناباق قسم کا درخت ہو
34:52جس کو اس کی جرس زمین سے
34:54نکال دیا گیا ہو
34:55مَا لَهَا مِن قَرَار
34:56اس میں کوئی قرار نہیں
34:57کوئی ثبات نہیں
34:58جب جڑ اکھیڑ دی گئی
35:00تو درخت کھڑا نہیں رہ سکتا
35:02کیا مطلب
35:03ایک ایسا درخت
35:04جس کی جرس اس کو نکال
35:05باہر کر دیا گیا ہو
35:06کھڑا نہیں رہ سکتا
35:07تو پھل کیا دے گا
35:08ہے نا بیکار ہو گیا نا
35:09اسی طرح شرک والا بندہ
35:12کفر کرنے والا بندہ
35:13شرک کرنے والا بندہ
35:15اس کی مثال
35:16اسی درخت کی طرح ہے
35:17اس میں کوئی پائیداری نہیں
35:18کہتے ہیں نا
35:18جھوٹ کے پاؤں نہیں ہوتے
35:20شرک کے لئے کوئی دلیل نہیں
35:22اللہ کا کفر کرنا
35:24مَعَادَ اللہ کو دلیل نہیں ہے
35:25اس کے لئے
35:25توحید کے دلائل بے شمار ہیں
35:27تو کفر کرنے والا
35:28شرک کرنے والا
35:29اس کے پاس کوئی بنیاد نہیں ہے
35:30جیسے جھوٹ کے پاؤں نہیں ہوتے
35:32کفر کرنے والا
35:33شرک کرنے والا کوئی دلیل اس کے پاس نہیں ہے
35:35اور جیسے وہ درخ
35:37جس کو جر سے اکھیڑ دیا گیا ہو
35:39اب اس میں کیا کوئی پھل تو آنے ہی سکتا
35:41ہاں وہ اس میں جھار جھنکار ہوگی
35:43کانٹے ہوں گے اس طرح کی چیزیں جو نقصان
35:45کا باعث ہوں گی اسی طرح کفر پر
35:47اڑا رہنے والا شرک پر اڑا رہنے والا
35:49وہ کردار کے اعتبار سے برا ہوگا
35:52نفع دینے کے اعتبار سے بہت دور ہوگا
35:54نقصان پہنچانے کے اعتبار سے
35:55بہت قریب ہوگا اللہ اکبر کبیرہ
35:57ایک برا کردار سامنے آئے گا
35:59جو مخلوق خدا کے لئے بھی نقصان کا باعث
36:01ہوگا اور خالق کے ساتھ کفر کرنے
36:03والا شرک کرنے والا اس سے بڑا
36:05کوئی ظالم نہیں ہو سکتا
36:07آگے ایک اور بات اللہ تعالی نے بیان فرمائی
36:09يثبت اللہ الذین آمن
36:11مل قول ثابت فی الحیات الدنیا
36:13وفی الآخرہ اللہ تعالی
36:15ایمان والوں کو
36:17مضبوطی عطا کرتا ہے
36:19مضبوط بات کے ذریعے سے
36:21دنیا کی زندگی میں بھی اور آخرت میں بھی
36:24قول ثابت کیا ہے حدیث میں
36:25ذکر آتا ہے لا الہ الا اللہ
36:27یہ مضبوط کلمہ ہے
36:29تو اللہ اس مضبوط کلمہ کے ذریعے
36:31دنیا کی زندگی میں مضبوطی عطا فرماتا
36:34ایمان والوں کو اور آخرت میں
36:35دنیا میں کیا ہے توحید پر کاربند ہوگا
36:38تو کردار امدہ ہوگا
36:39آمال اچھے ہوں گے یہ بندہ
36:41دوسروں کے لئے نفع کا باعث
36:43بنے گا نقصان کا باعث نہیں بنے گا
36:46اور بدلتے حالات میں
36:48باوقع رویہ بھی سامنے آئے گا
36:49مسئیبت آئے گی تو صبر کرے گا
36:51اللہ کے فیصلے پہ راضی رہے گا
36:53نعمت ملے گی تو اترائے گا نہیں شکر ادا کرے گا
36:56عاجزی اختیار کرے گا سبحان اللہ
36:58اور قبر میں بھی حدیث میں آتا ہے
36:59کہ لا الہ الا اللہ کا کلمہ
37:02یہ بندہ مومن کو فائدہ دے گا
37:04تو دنیا میں بھی
37:06اور آخرت میں بھی یہ قول ثابت
37:07لا الہ الا اللہ کے کلمے کے ذریعے
37:10اللہ تعالیٰ ایمان والوں کو مضبوطی عطا
37:12فرماتا ہے
37:14اور اللہ تعالیٰ ظالمین کو
37:16گمراہ کرنے کا فیصلہ فرما دیتا ہے
37:20اور اللہ جو چاہتا ہے
37:22کرتا ہے جس کو چاہے ہدایت دے
37:23جس کو چاہے گمراہ کرنے کا فیصلہ کر لے
37:25جس میں طلب اور طلب سچی ہوگی
37:27ہدایت کا طلبگار ہوگا
37:29اللہ کلمہ توحید کی توفیق عطا کر دے گا
37:31مضبوطی عطا کر دے گا
37:32جو ظلم کی روش پر آئے گا
37:33شرک کے روش پر آئے گا
37:34کفر کے روش پر آئے گا
37:36جانتے بوشتے حق کو رد کرے گا
37:38اللہ تعالیٰ اس کی گمراہی کا فیصلہ کر دے گا
37:40اللہ گمراہی کی ہر شکل سے
37:42ہماری افادت فرمائے
37:43اور اللہ تعالیٰ کلمہ توحید
37:45کلمہ طیبہ کے تقاضب پر عمل کرنے میں
37:47ہمیں استقامت عطا فرمائے
37:49اس کے بعد اگلی جن آیات کا ہم نے انتخاب کیا
37:51وہ بہت مشہور آیات ہیں
37:53بہت مشہور دعائیں
37:54ہم سب کو یاد بھی ہیں
37:55حضرت ابراہیم علیہ السلام کی دعائیں
37:58سورہ ابراہیم کی آیات چالیس اور اکتالیس کے روشنی میں
38:01ویسے تو یہ جو رکوع ہے
38:03سیکنڈ لاس رکوع سورہ ابراہیم کا
38:05ابراہیم علیہ السلام کی بہت ساری دعائیں پر
38:07اللہ تعالیٰ سے امن کی التجا کرنا
38:10اللہ تعالیٰ سے توحید پر کارمند رہنے کی التجا کرنا
38:13ابراہیم علیہ السلام نے توحید کی دعوت دی
38:15ان کی آجزی کا ذکر ہے
38:17بطو سے بچا لیے جانے کی دعا کرنا
38:19اسی طرح مکہ کی بے آباز زمین میں
38:22وہ اپنی اہلیہ حضرت حاجرہ کو چھوڑ آئے تھے
38:25عدود پیتے بچے اسمیل علیہ السلام کو چھوڑ آئے تھے
38:27تو مکہ کو اللہ تو آباد فرما دے
38:30لوگوں کے دل یہاں پر تو متوجہ کر دے
38:32سبحان اللہ ان کو پھلوں کا رزق عطا فرما
38:34نعمت عطا فرما
38:35یہ بہت ساری دعائیں
38:37یہ سورہ ابراہیم اس مقام پر نقل کینگا
38:39پھر آخر میں یہ دعائیں آتی ہیں
38:41جو ہم سب کو یاد بھی ہیں الحمدللہ
38:43البتہ ہم دعائیں پڑ رہے ہوتے ہیں
38:46جبکہ دعائیں پڑ دی نہیں چاہیئے
38:48بلکہ دعائیں مانگنی چاہیئیں
38:50کیا مطلب جب ہم بغیر ترجمہ
38:52کے بغیر سمجھے تو پھر پڑ ہی رہے ہوتے ہیں
38:54سمجھ میں تو نہیں آتی
38:55لیکن جب ترجمہ ذہن میں ہوگا مفہوم ذہن میں ہوگا
38:58تو اب دعا پڑ ہی نہیں جائے گی
38:59بلکہ دعا مانگی جائے گی
39:01کیا دعائیں ہیں
39:02سورہ ابراہیم کی آیات چالیس اور اکتالیس
39:17اپنے لئے بھی دعا مانگ رہے ہیں
39:19اور اپنی اولاد کے لئے بھی دعا مانگ رہے ہیں
39:21معلوم ہوا
39:22اپنے اکیلے اکیلے کے نیک بننے کی فکر نہیں کرنی چاہیئے
39:25اپنی اولاد اپنے گھر والوں
39:27اور اپنے متعلقین کے بارے میں بھی
39:30فکر مند ہونا چاہیئے
39:31ابراہیم علیہ السلام کی دعائیں ہیں
39:33اللہ مجھے نماز خائم کرنے والا بنا دے
39:35اور میری اولاد کو بھی
39:37ہم غور کریں
39:38ہم خود نماز کے پابند ہیں
39:40پانچ وقت کی نماز رودانہ مقررہ اوقات پر فرض کی گئی ہے
39:45نماز صرف رمضان میں فرض نہیں ہے
39:47صرف حج عمرے کی موقع پر لازم نہیں ہے
39:49یا کسی کے انتقال ہو تو دو تیم دن کے لئے
39:51انہیں نمازوں کے اعتمام کر لیں نہیں
39:53پوری زندگی مرتے دم تک نماز کی فرضیت ہے
39:56رودانہ پانچ مرتبہ
39:58مقررہ اوقات میں نماز کو ادا کرنا
40:00اس کا تقادہ ہے
40:01اپنی بھی فکر کرنی اپنے اولاد کی بھی
40:03رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا
40:06بچہ سات سال کا ہو جائے نماز کی تلقین کرو
40:09دس سال کا ہو جائے تھوڑی سختی کرو
40:10اچھا جی سختی جی ہاں بہت سختی کرتے ہیں
40:13بچوں کے سکول بھیجنے کے لئے
40:15کالج بھیجنے کے لئے
40:16جوب پر بھیجنے کے لئے
40:17ان کی ایکسسائز کے لئے
40:19ان کی ہومورک کے لئے
40:20ان کی اٹھیوشن کے لئے
40:21ان کی دنیا کی ایڈوکیشن کے لئے
40:23ان کی پروفیشنل میں
40:24excellence
40:24to be a good
40:25and good
40:26we have our own
40:26and we can do it
40:28so Allah
40:29Almighty
40:29our
40:29law
40:29have to
40:30do it
40:30we have to do it
40:31what's up
40:31what's up
40:32is it
40:33not
40:35but
40:35like
40:36we have to
40:37do it
40:39for a
40:39if you have
40:40exams
40:40you have to
40:41get rid of it
40:42of course
40:43university
40:43percent
40:44come
40:44to
40:44get rid of it
40:45or
40:45not
40:46you have to
40:46do it
40:46don't
40:47do it
40:48Allah
40:50is
40:51了解 سکھا رہے ہیں اپنے پیغمبروں کی دعاءوں کے ذریعے سے
40:53کہ فکرمندی اولاد کے بارے میں بھی ہونی چاہئیں
40:55رَبِّ جَعَلْنِي مُقِيمَ الصَّلَاتِ وَمِن ذُرِّيَّتِ
40:58اے میرے رب مجھے نماز قائم کرنے والا
41:00بناو میری اولاد کو بھی
41:02رَبَّنَا وَتَقَبَّلْ دُعَا
41:04اے ہمارے رب و میری دعا قبول فرمالے
41:06رَبَّنَا وَفِرْلِه
41:08اے ہمارے رب میری مغفرت فرمالے
41:21So that's why we're going to do it.
41:51ابراہیم علیہ السلام کی دعاوں کے ذریعے سے
41:53ہمیں سکھایا جا رہا ہے
41:54اچھا
41:55ذرا تنہائی میں بیٹھ کے ہم سوچیں
41:57کہ ہم نے پچھلے چوبیس گھنٹوں میں
41:59اپنے لیے جنت کی دعا
42:02کتنی مرتبہ اللہ تعالی سے کی
42:03اور اپنے لیے جہنم سے
42:06بچنے کی دعا کتنی مرتبہ کی
42:08اپنے گھر والوں سے ہمیں محبت ہے
42:10ہم کہتے ہیں
42:11we love our family
42:12we are sincere to our family
42:15ہم اپنے گھر والوں سے بڑی محبت کرتے ہیں
42:17ہم اپنے گھر والوں کے ساتھ بڑے مخلص ہیں
42:19تو ان کو جہنم سے بچانے کے بارے میں
42:22فکر مند ہیں
42:23یہ پتا چلے گا
42:25اتنی ہی بات سے
42:25کہ ان کے لیے دعا کتنی کر رہے ہیں ہم لوگ
42:28یہاں تو پیغمبر بتا رہے ہیں
42:29لا ربنا اغفر لی
42:30اے ہمارے رب
42:31مجھے بخش دے
42:32ولی والدیہ میرے والدین کو
42:33ولی المؤمنین تمام ایمان والوں کو
42:35یوم یقوم الحساب
42:36جب حساب دن قائم ہوگا
42:38حساب کتاب قائم ہوگا
42:39اس دن سب کے لیے بخش دیے جانے کی دعا کر رہے ہیں
42:42اور ہم اپنے بیلیوڈ ونس کے لیے
42:45اپنے پیاروں کے لیے
42:46اپنے محبوب بچوں کے لیے
42:47گھر والوں کے لیے دعائیں کرتے ہیں
42:49تو چیک کر لیجئے
42:50پتا چل جائے گا
42:51یہ تو قرآن پاک دعائیں کرنا ہمیں سکھا رہے ہیں نا
42:54اللہ اکبر کبیرہ
42:55تو نماز کے بارے میں فکر مند ہونا
42:57اپنی نماز کے بارے میں
42:58اپنے بچوں کی نماز کے بارے میں
43:00اپنی مفرد کے بارے میں
43:01اپنے والدین کی مفرد کے بارے میں
43:03اپنے گھر والوں کی مفرد کے بارے میں
43:04اور تمام ایمان والوں کے بارے میں فکر مند ہونا
43:07پھر قرآن پاک اور مقامات پر دیگر باتیں بھی بتاتا ہے
43:10سورہ تحریم کی آیت امبر چھے میں ذکر ہے
43:13قو انفسکم و احلیکم نارو
43:15اپنے آپ کو اور اپنے گھر والوں کو جہنم کی آگ سے بچاؤ
43:18دنیا میں گرمی پڑتی تو فکر مندی تو ہوتی ہے
43:20مگر خالی فکر مندی ہوتے
43:22ایسی لگوا سکتے تو ایسی لگاتے ہیں
43:24پنکھے دو کر لیتے ہیں
43:26کیا خیال ہے
43:26ہاں بجدی دستیاب نہیں
43:28تو بعض لوگ جنریٹر لگا لیتے ہیں
43:30اور فیسلیٹیز اختیار کر لیتے ہیں
43:32کیوں گرمی سے بچنا ہے
43:33گھر والوں کو بچانا ہے
43:34تو جہنم کی گرمی سے بچنے کیلئے
43:36جہنم کی گرمی سے اپنے آپ کو بچانے کیلئے
43:38گھر والوں کو بچانے کیلئے
43:40فکر مند ہیں
43:41اچھا دعائیں ہی نہیں کر رہے
43:43تو باقی کیا خواہ کچھ کام کریں گے
43:45دعائیں نہیں کر رہے اگر
43:47تو باقی کیا کریں گے ہم
43:48فکر مندی اگر ہوگی تو کوئی عوال ہوگا نا
43:51جہنم کی آگ سے بچنے کے بارے میں
43:53ہم کتنے فکر مند ہیں
43:54ان دعاؤں سے یہ جائزہ لینے کی طرف توجہ ہو جاتی ہے
43:59یہ ابراہیم علیہ السلام کی دعائیں
44:00اللہ ہمیں سمجھ کر مانگنے کی بھی توفید
44:03اور ان کے تقاض و پرعمل کی بھی توفیق
44:05عطا فرمائیں
44:05الحمدللہ
44:06اللہ تعالیٰ کی توفیق سے ناظر کرام
44:08ہم نے سوری ابراہیم کی چند منتخب آیات
44:10آپ کے سامنے رکھی
44:11اس کے بعد آخر میں
44:13حاصل کلام کے طور پر چند نکتے رکھتے ہیں
44:15یعنی جو باتیں تشریم میں ہمارے سامنے آئیں
44:18ان سے ٹیک اوئے کیا ہمیں لیسنس ملتے ہیں
44:21ان کو ہم حاصل کلام کے طور پر آپ کے سامنے رکھتے ہیں
44:24پہلی بات
44:25شیطان کی باتیں اور وعدیں جھوٹے ہیں
44:27روز قیامت گناہگاروں سے صاف کہہ دے گا
44:30کہ اپنے آپ کو برا کہو
44:31مجھے ملامت نہ کرو
44:32یہ ڈراب سین ہونے والا قیامت کے دن
44:34اور صاف کہہ دے گا
44:35اپنے آپ کو برا بلا کہو
44:36مجھے کیوں گانیاں دیتے ہو
44:38میں نے پھوکے مارنے کے لیے
44:40تم نے موقع دیا تھا
44:41اور ساری پھوک مارنے کے بعد
44:44عمل تم نے خود کیا تھا
44:45برائی کہا گناہ کہا
44:46نافرمانی کا کام تھا
44:47تم نے خود کیا تھا
44:48بھگتو
44:48مجھے برا بلا کیوں کہتے ہو
44:50استغفراللہ
44:51یہ صاف شیطان کہہ دے گا
44:53قیامت کے دن
44:53اور یہ قرآن پاک پا لکھا ہے
44:55اللہ اکبر
44:56اگلا نکتہ
44:57عقیدہ توحید کے حامل شخص کے کردار کے اثرات
45:01مخلوق کے لیے مفید
45:02جبکہ کفر و شر کے حامل شخص کے کردار کے اثرات
45:06ناپاک اور نقصان دے ہوتے ہیں
45:08ایمان سے امن ملے گا دوسروں کو
45:10ایمان سے امن اور نفع ملے گا دوسروں کو
45:13اور کفر و شر تو ویسی گندگی ہے
45:15تو گندگی کے نتیجے میں
45:16ناپاک اثرات ملیں گے
45:17نقصان کے اثرات ملیں گے
45:19اللہ اکبر
45:19تیسری بار
45:21اپنے لیے
45:22اپنے والدین کے لیے
45:24اور تمام مؤمنوں کے لیے مغفرت کی دعا کرنا
45:27انبیاء کرام علیہ السلام کا طریقہ ہے
45:29جس پر ہمیں بھی عمل کرنا چاہیے
45:32اور آج مانگنے میں بڑی کمی ہے
45:33اللہ تعالیٰ ہماری اس کمی کو
45:40مسلمانوں کے لیے
45:41اور کافروں کے ہدایت کی دعا مانگنی چاہیے
45:43اللہ سب کو ہدایت دے دے
45:44مسلمانوں کے مغفرت کی دعا مانگنی چاہیے
45:46اور جب ہم دوسروں کے لیے مانگ رہے ہوں گے
45:48تو ہمارے حق میں قبل ہوں گے دعا انشاءاللہ
45:51حدیث سے پتا چلتا ہے
45:52اور جب آج ہم دوسروں کے لیے مانگ رہے ہوں گے
45:55اللہ دوسروں کے دل میں ڈالے گا
45:56وہ ہمارے لیے مانگ رہے ہوں گے
45:57فائدہ ہمارا ہی ہے
45:59اللہ ہمیں عمل کرنے کی توفیق
46:01عطا فرمائے آخر میں
46:02معمول کے مطابق ایک حدیث مبارک آپ کے سانے
46:05رکھتے ہیں فرمان نبوی
46:07صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
46:09رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم
46:11نے اشارت فرمایا قرآن کریم
46:13پڑھا کرو بے شک یہ اپنے پڑھنے والے
46:15کیلئے روز قیامت شفاعت
46:17کرنے والا بن کر آئے گا یہ صحیح مسلم
46:19شریف کی روایت ہے اور قرآن
46:21پاک کی تلاوت روزانہ کرنی چاہیے
46:23یہ ہماری روح کی غزہ ہے اور نماز
46:25کے علاوہ بھی تلاوت کرنی چاہیے
46:26نماز میں تو کرتے ہیں نا وہ تو فرض ہے
46:28نماز کے علاوہ قرآن پاک کی تلاوت کرنی چاہیے
46:31اور صرف رمضان حج عمرہ
46:32یا کسی کے انتقال ہی کے موقع پر نہیں
46:34پوری زندگی مستقل قرآن پاک کی تلاوت
46:37کرنی چاہیے اور اللہ کے پیارے پیغمبر
46:39علیہ السلام کیا فرمارے ہیں پڑھا کرو
46:41قرآن پاک یہ بے شک اپنے پڑھنے
46:43والے کے لئے شفاعت کرنے والا بن کر آئے گا
46:45ہم نہیں چاہتے کہ قرآن پاک کی شفاعت ہمیں
46:47ملے تو اس کی تلاوت کا سرس سے کریں گے
46:49یہ ہمارے حق میں شفاعت کرنے والا ہوگا
46:51اللہ تعالی ہم سب کے حق میں
46:53قرآن پاک کی شفاعت کو قبول فرمائے
46:54دعا ہے اللہ تعالی میری آپ کی
46:56ہم سب کے تمام مسلمانوں کی مغفرت
46:59فرمائے قرآن پاک سے محبت
47:01اور اس کی تقاضوں پر حمل کی توفیق
47:02عطا فرمائے اسی کے ساتھ اجازت چاہتے ہیں
47:05وآخر دعوانا
47:06ان الحمدللہ رب العالمین
47:08والسلام علیکم ورحمت اللہ وبرکاتہ
Comments

Recommended