- 3 hours ago
Category
📺
TVTranscript
00:05As-salamu alaykum wa rahmatullahi wa barakatuh
00:10Bismillahirrahmanirrahim
00:10Nakhmedhu wa nusalli ala rasulihil karim
00:15Nazirin, Raah Nour کے ایک اور episode کی طرف
00:18آج ہم چلیں گے
00:20اور آج میرے جو موضوع دیا گیا میرے دل سے
00:24ہم نیٹورک کی تمام انتظامیاں
00:27اور تمام مالکان کے لئے دل سے دعا ہے
00:29کہ خلفہ راشدین کا انتظامی امور کے اعتبار سے
00:34کیا نظم تھا
00:36کہ آج جس کو غیروں نے بھی اپنا کر
00:39دنیا کی کامیابیاں اپنی جھولیوں میں امڈھیل لی ہیں
00:43اور آج ہم کیوں پیچھے رہ گئے ہیں
00:46کہ ہم نے اس نظام کو چھوڑ دیا
00:49آج اس پر گفتگو کریں گے
00:51آقا کریم علیہ السلام نے فرمایا
00:59جیسے میری سنت میری بات ماننا ضروری ہے
01:03میرے خلائفہ راشدین مہدیین کی بات ماننا بھی
01:07اسی طرح ضروری ہے
01:09خلافت راشدہ کی جو بیس اور بنیاد
01:13جو آقا کریم علیہ السلام کو
01:15اللہ نے توفے میں عطا فرمائی
01:18صداقت اور امانت
01:20صداقت اور امانت یہ وہ بیس اور بنیاد ہے
01:24کہ اسی پہ ساری خلافت راشدہ چلتی ہے
01:27اور اگر ہم بھی امن کا گہوارہ
01:30اپنے وطن کو اپنے گھر کو
01:32اپنے نظام کو بنانا چاہتے ہیں
01:34تو ہمیں سب سے پہلے صداقت اور امانت کے اوپر آنا ہوگا
01:39اس مبارک سسٹم کے اندر
01:42اس مبارک نظام کے اندر
01:44کچھ خوبیاں تھی
01:45اس خوبیوں میں سے چند ایک
01:48میں ذکر کرنا چاہوں گا
01:49سب سے پہلی جو چیز
01:51آپس کی مشاورت ہوتی تھی
01:54اکیلا فرد واحد
01:56فیصلہ نہیں کرتا تھا
01:58حالانکہ امام الانبیاء صاحبے وہی ہیں
02:01خود عمل کر کے بتایا
02:03وَمَا يَنْتِقْ عَنِ الْحَوَا
02:05اِنْ هُوَا إِلَّا وَحِيٌّ يُوحَا
02:07ہر چیز جو امام الانبیاء بولتے تھے
02:11فرماتے تھے
02:12کرتے تھے
02:12وہ اللہ کی طرف سے
02:14وہی ہوتی تھی
02:15اس کے باوجود
02:17اللہ تعالیٰ اپنے محبوب کو فرمارے ہیں
02:19اور اسی کو خلیفہ راشدین نے
02:21مضبوطی سے تھاما
02:22اور وہ کیا تھا
02:24وَشَّاوِرْهُمْ فِي الْأَمْرِ
02:26کہ آپس میں مشورہ کر کے چلے
02:28فیصلہ
02:29ڈکٹیٹرشپ والا معاملہ نہیں ہونا چاہیے
02:31مشورہ کر کے
02:33سب کی رائے لے کے
02:34وہ لوگ جو رائے کے اہل ہیں
02:37اور جن کو اللہ نے نوازہ ہوا ہے
02:39ان کو ساتھ جوڑ کر
02:41پھر آگے معاملے کو لے کے چلیں
02:44تو سب سے پہلی چیز
02:46جو صحابہ اکرام خلیفہ راشدین کی
02:48جو بنیادی صفتی وَأَمْرُهُمْ
02:50جس کو قرآن دوسری جگہ کہتا ہے
02:52وَأَمْرُهُمْ شُورَ بَيْنَهُمْ
02:55ان کا ہر معاملہ آپس کے مشورے سے ہوتا تھا
02:58اور قیامت کی صبح تک کے لیے
03:00ہمیں رہنمائی کر دی
03:01مَا خَابَ مَنِسْتَخَارَ
03:03وَلَا نَدِمَ مَنِسْتَشَارَ
03:05جو مشورہ کر کے چلے گا
03:07وہ کبھی بھی ندامت نہیں اٹھائے گا
03:10اور جو استخارہ کرے گا
03:12اللہ اس کو بڑی برکتوں سے نوازے گا
03:14تو پہلا اصول آپس کا مشورہ
03:17دوسری بات جو بڑی اہم ہے
03:20کہ جن لوگوں کے اندر اہلیت ہوتی چیز
03:25ہوتے تھے ان کی تقرریاں
03:28اہلیت کی بنیاد پر
03:29سفارشوں کی بنیاد پر نہیں
03:31اندر کے مطالبے کی بنیاد پر نہیں
03:34کہ مجھے یہ وزارت ملنی چاہیے
03:36مجھے یہ اہدہ ملنی چاہیے
03:37اس بنیاد پر نہیں تھی
03:38اہلیت ہو اور دیانت دار ہو
03:41جو بندہ خود مطالبہ کرے
03:44وہ دیانت دار ہوئی نہیں سکتا
03:45جو بندہ خود مطالبہ کرے
03:47وہ اہل ہوئی نہیں سکتا
03:49اور یہ اصول سامنے رکھ لی دیئے
03:51Aq.A.S. نے فرمایا
03:53إِذَا وُسِّدَ الْأَمْرُ إِلَىٰ غَيْرِ أَهْلِهِ فَانْتَذِرِ السَّاعَةِ
03:58کہ جب معاملہ غیر اہل کو دے دی جائے گا
04:01تو پھر قیامت کے انتظار کرنا
04:03تو آج ہم میں سے کسی کے اندر بھی
04:06ہمارے حکمرانوں میں سے
04:07یا ہم میں سے کسی نے اگر بننا ہے
04:09کسی بھی احدے پر آنا ہے
04:10اگر ہم اہل نہیں ہیں
04:12اور دوسرے نمبر پر یہ سب سے نا اہل ہونے والی بات ہے
04:16کہ مجھے یہ وزارت ملے
04:18مجھے یہ چیز ملے
04:19وہ بندہ اس سسٹم کو
04:22اس نظام کو نہیں لے کے چل سکتا
04:24دوسری جو بنیادی خلفہ راشدین کی جو صفت تھی
04:27وہ اہلیت اور دیانت داری کے اوپر تقرری ہوتی تھی
04:32اہل کو ذمہ داری دی جاتی تھی
04:34نہ اہل کو ذمہ داری نہیں دی جاتی تھی
04:38اور تیسرا پوائنٹ
04:39سخت احتساب اور شفافیت
04:43سیئن عمر فروغ رضی اللہ تعالیٰ نے سوٹ پینا ہوئے
04:45ان کا چونکہ مل سالا قد راستہ
04:47تو پوچھنے والا پوچھ رہا ہے
04:50ایک طرف اتنا ان کا دب دبا اور روب
04:54کہ جس راستے سے گزریں
04:55ما سالکا
04:58اللہ سالکا
04:59شیطان فجن قد تو
05:01شیطان اس راستے کو چھوڑ دے
05:03اتنا ان کا روب اور دب دبا
05:05اور دوسری طرف یہ فضاء بنائی ہوئی تھی
05:07کہ جو چاہے وہ سوال کر سکتا ہے
05:11کھلی کچھری
05:12اپنے چار بندے بٹھا کے نہیں ہوتی تھی
05:14بلکہ جو چاہتا تھا
05:16شفافیت کا یہ لیول تھا
05:17کہ پوچھ سکتا تھا
05:18کہ آپ نے یہ جو سوٹ پینا ہوا ہے
05:21یہ تو اتنا اتنا ہر ایک ہو آیا
05:23اس میں تو آپ کا سوٹ بنی نہیں سکتا
05:25تو کیا جواب دیا
05:26کہ مجھے خوش ہوئی
05:28کہ امت کے اندر ایسے لوگ موجود ہیں
05:30جو ہم سے پوچھ رہے ہیں
05:32پوچھنے پر نراز نہیں ہوئے
05:33بلکہ خوش ہوئے
05:34اور فرمایا
05:35میرے بیٹے کو بھی
05:36چونکہ وہ بھی صحابی ہیں
05:37ان کو بھی یہ سوٹ ملا
05:39مجھے بھی
05:39تو ہم دونوں نے ملا کر
05:41اس سوٹ کو پورا کیا
05:43اتنی شفافیت
05:44اور سخت احتساب کی صورتحال یہ تھی
05:47ایک دہاتی آدمی تواف کر رہا ہے
05:51اور وہاں پر ایک وقت کا شہزادہ
05:53وہ بھی تواف کر رہا ہے
05:54اس دہاتی کا پاؤں
05:56اس کے جبے پہ آ گیا
05:58تو اس نے تھپر رسید کیا
06:00حضور مر تک بعد جب پہنچی
06:01فرمای اس کو بلائے جائے
06:03ایڈورڈ گوبن نے
06:04جو ایک انگریز مورخ ہے
06:06یہ بات لکھی ہے
06:07کہ اس ایک واقعے نے
06:09ہزاروں لوگوں کو
06:11اسلام میں داخل کروایا ہے
06:13اس ایک واقعے نے
06:14اور وہ اصول کیا تھا
06:16یہ سخت احتساب کے تحت
06:18یہ واقعہ آ رہا ہے
06:20کہ بلائے اس دہاتی کو بھی
06:22اور اس شہزادے کو بھی
06:24فرمایا کیا معاملہ ہے
06:25یہ معاملہ ہے
06:26کہ آدھی زمین پہ تُو چلے
06:28آدھی زمین پہ تیرا جبہ چلے
06:30تو عام پبلک کہاں پر چلے
06:32اللہ نے ان کو آزاد پیدا کیا ہے
06:35ان کی ماں نے ان کو آزاد پیدا کیا ہے
06:37تم کون ہوتے ہیں ان کو غلام بنانے والے
06:40اور اس دہاتی کو بلائیا گیا
06:42اور فرمایا اس کو تھپڑ رسید کرو
06:45جب تھپڑ رسید کرنے کی باری آئی
06:47تو بقاعدہ کتابوں میں لے کیا
06:49کہ اس کے کپڑے سارے گندے ہو گئے
06:52یہ روب اور دب دبہ شفافیت کی انتہا دیکھیں
06:55پھر زمین رضی اللہ
06:56اس دہاتی کو جب تھپڑ مانے کا کہا
06:59تو اس کے کپڑے سارے خراب ہو رہے ہیں
07:00اور جب وہ تھپڑ مارے کے لئے
07:02یوں ہاتھ لے کے
07:03چچیرے کے بالکل پاس پہنچا
07:05تو اس نے ہاتھ کو نیچے کر لیا
07:07اور آقا کریم کا وہ فرمان پڑا
07:12کریم وہی ہے کہ قدرت کے باوجود
07:14معاف کر دے
07:15یہ احتساب کی
07:17قفیت تھی
07:18کہ فرمایا کہ
07:19بنو عدی اگر کوئی غلطی کریں گے
07:22تو ان کو ڈبل سزا
07:23اپنے خاندان کے متعلق فرمایا
07:25خلافت راشتہ کے اندر
07:28ہم باتیں تو بہت کرتے ہیں
07:30کیا ہم عملی طور پر بھی
07:32اس کو پرانا چاہتے ہیں
07:33اس کو ضرور سوچی گا
07:34کہ خلافت راشتہ کی بات تو بہت
07:36لیکن کیا ہم عملی طور پر بھی تیار ہیں
07:39کہ وہ ہمارے اندر آجے
07:40اس کے لئے
07:41ہمارے حکمرانوں کو بھی
07:43عوام کو بھی
07:44یہ
07:45اپنی ذات کے لئے
07:47جو سوچ و بچار کی جاری ہے
07:48کہ مجھے پروٹوکول کیسے ملجے
07:50مجھے سہولت
07:50اس کو کراس لگانا ہوگا
07:53پھر وہ نظام قائم اور دائم ہوگا
07:55وہ احتساب کے لئے
07:57ایک چوتھا اور بڑا اہم اصول
08:00وہ احتساب کے لئے
08:01خود کو پیش کرتے تھے
08:03اور ہم اپنا حساب دینے سے بھاگتے ہیں
08:05کسی جگہ سے بھی نوٹس آجے
08:08کیوں
08:08وجہ کیا ہے کہ اندر گربڑ چل رہی ہے
08:11ہم چاہی نہیں رہے کہ وہ معاملہ چلے
08:13تو خود احتسابی کے لئے
08:15تیار ہونا پڑے گا
08:16یہ چوتھا اصول
08:17اور اس دور کے اندر
08:19اللہ پاک نے جو نظام بنایا
08:22ہر طرف رحمتی رحمتی
08:24اِذَتُ تُخِذَ الْفَيْءُ دُوَلَا
08:26وَالزَّكَاةُ مَغْرَمَا
08:28وَالْأَمَانَةُ مَغْنَمَا
08:29وَتُعَلِّمَ لِغَيْرِ الدِّينَ
08:31یہ مشکا شریف کی لمبی حدیث ہے
08:33کہ اس وقت وہاں پر
08:35مالِ غنیمت کو مالِ غنیمت سمجھا جاتا تھا
08:38آج مالِ غنیمت کو ذاتی مال سمجھا جاتا ہے
08:41اس دور کے اندر
08:43زکاة کو
08:43زکاة سمجھا جاتا تھا
08:45اور سعادت سمجھا جاتا تھا
08:46کہ راہ حق میں خرج کریں
08:48آج اس کو چٹی اور توان سمجھا جا رہا ہے
08:51ماباب کے ساتھ
08:52اس دور میں دوستیاں تھی
08:53آج جب سے اس خلافت کو چھوڑا
08:55ماباب کے ساتھ نفرتیں
08:57اور دوستہ باب کے ساتھ دوستیاں
08:59بیوی قریب ہوگی
09:01ماں دور ہوگی
09:02دوست قریب ہوگے
09:03باپ دور ہوگیا
09:04یہ اس نظام کو جب سے ہم نے چھوڑا
09:07ہماری تباہی اور بربادی شروع ہوگی
09:09سیدہ صدیق اکبر
09:10رضی اللہ تعالیٰ نو
09:12خلافت سنبھالتے ہیں
09:14تو پہلا خطبہ پتا کیا دیا
09:17فرمایا
09:18اللہ اکبر
09:21وَالضَّعِيفُ فِيكُمْ
09:23قَوِيٌ عِنْدِ
09:24تم میں سے جو سب سے زیادہ
09:26ضعیف اور کمزور ہے نا
09:27وہ میرے کاغذوں میں
09:29سب سے زیادہ قوی اور طاقتور ہے
09:30کہ میں نے اللہ کو اس کا کیا جواب دینا
09:32اگر کوئی غلط معاملہ ہو گیا تو
09:34اور دوسرا
09:36وَالْقَوِيُ فِيكُمْ
09:37ضَعِيفُنْ عِنْدِ
09:38جو جتنا مرضی طاقت والا کیوں نہ ہو
09:41میرے کاغذوں میں وہ کمزور ہے
09:42کیونکہ میں نے اس سے وہ حق لے کر
09:44جس کا حق بنتا اس کو دینا ہے
09:47سیدہ صدیق اکبر رضی اللہ تعالیٰ نو
09:48خود بوڑوں کی خدمت کے لیے
09:51جایا کرتے تھے
09:52بقیدہ لسٹے بنوائیں
09:54تمام خلافہ راشدین کے طریقہ اٹھا کے دیکھیں
09:56بڑوں کی بوڑوں کی
09:58کمزوروں کی
09:59لسٹے بنوائیاتی
10:01ان کا حال احوال پوچھا جاتا
10:03کہ حالات کیا چر رہے ہیں
10:04دو دو سال
10:06سیدہ صدیق اکبر اپنے خلافت میں
10:07ایک نابینہ آدمی کی خدمت کرتے ہیں
10:10اور اس کو اپنا تعرف تک نہیں کروایا
10:11کہ میں ہوں کون
10:13اور سیدہ عمر فروغ جب اسی روش پہ اس کے پاس جاتے ہیں
10:15تو جب آکے بتایا
10:17کہ میرے سے پہلے وہ آتے تھے
10:18اب میں آیا ہوں
10:19تو وہ زمی غیر مسلم
10:21مجبور ہو گیا کہ
10:22کھانا بعد میں کھاؤں گا
10:23پہلے مجھے کلمہ پڑاؤ
10:24یہ مذہب اسلام ہے
10:27تو ناظرین
10:28چلتے ہیں ایک چھوٹے سے وقفہ کی طرف
10:31پھر واپس آتے ہیں
10:32مزید اس کے بارے میں کچھ گزارش ہرز کرتے ہیں
10:40راہ نور میں خوشحامدیت کہتے ہیں
10:42ناظرین
10:43سیدنا
10:45صدیق اکبر
10:45سیدنا عمر فاروق
10:46سیدنا عثمان غنی
10:48سیدنا عوری المرتضی
10:49خلفہ راشدین کے دور میں
10:51جو انتظامی مور تھے
10:52اس حوالے سے
10:53میں ایک گزارش ارز کرنا چاہوں گا
10:55کہ
10:56کیا شان تھی ان لوگوں کی
10:58سیدنا عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ
11:00تمام صحابہ
11:02مریدے رسول ہیں
11:03عمر فاروق مرادے رسول ہیں
11:06آپ نے فرمایا
11:07لوکانا بعدی نبیا لکانا عمر
11:10اے عمر
11:10اگر میرے بعد نبی ہوتے
11:13تو وہ آپ ہوتے
11:14اور ایک جگہ فرمایا
11:16کہ
11:16ہم میں سے ہر ایک نے دنیا سے جانا ہے
11:18اے عمر جب آپ دنیا سے جائیں گے
11:22تو قیامت کی صبح تک
11:24اسلام روتا رہے گا
11:25کہ کون چنا گیا
11:26اور صحابہ اکرام
11:28بڑا خوبصور تذکرہ کرتے فرماتے ہیں
11:30کہ مَا نَزَلَ بِالنَّاسِ مِنْ اَمْرٍ قَدْتُ فَسَعَلُوا فِيهِ
11:34اِلَّا نَزَلَ فِيهِ الْقُرْآنِ
11:38کہ سینا عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے
11:40بیسیوں مقامات پہ جب کوئی سوال کیا گیا پوچھا گیا
11:44ان کی جو فرشوں پہ رائے ہوتی تھی
11:47عرشوں سے غہی فیصلہ آتا تھا
11:50یہ رب نے سینا عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو
11:53شان نصیب فرمائی
11:55اور آج غیروں نے ان کے اصولوں کو اپنا کر
11:59عزتوں کی کامیابیوں کی چوٹیوں کو چھو لیا
12:02اور ہم نے ان کو چھوڑ کر
12:04ناکامی اور پستی کی طرف چلے گئے
12:08عمر لاز آج آپ کو یورپ میں نظر آئیں گے
12:10کہ انہوں نے ان اصولوں کو ان قوانین کو اپنا کر
12:15جو سینا عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ دیئے
12:17زیبرا کراسنگ
12:18سب سے پہلے سینا عمر فاروق نے عطا فرمائی
12:21کہ ایک گڑھ سوار نے
12:22ایک پیدل چلنے والے کو ہٹ کر دی
12:25اس وقت سے اصول بنا دیا
12:27کہ ہمیشہ سوار والا جو ہوگا
12:30وہ بریک لگائے گا
12:31جو پیدل ہوگا
12:32اس کو پہلے اجازت تو
12:34زیبرا کراسنگ کی ترتیب وہاں سے شروع ہوئی
12:37اور بڑھوں کی حال احوال لیتے
12:40اور ان کی پوری ترتیب بناتے
12:42آقا کریم علیہ السلام نے فرمایا
12:44جو بڑھے کا انتظام کرتا ہے خدمت کا
12:46اللہ تعالیٰ اس کو دو توفع عطا فرمائیں گے
12:50ایک تو اس کی لمبی زندگی فرما دیں گے
12:52حدیث کے الفاظ ہے جس کا مفہوم ہے
12:54اور فرمایا کہ
12:55اس کی وجہ سے یہ بڑھاپے تک پہنچے گا
12:58اور بڑھاپے میں
12:59اللہ اس کی خدمت کا بندوبست فرما دیں گے
13:02ایسے ہی جیل خاناجات کا انتظام
13:05فوج کا
13:05پولیس کا
13:07عدلیہ کا
13:08صوبوں کے اندر
13:09تقسیم کرنے کا معاملہ
13:11اور صفائی
13:12ستھرائی
13:13کوئی ایسی چیز نہیں
13:14جس کو سیدنا عمر فاروق
13:17رضی اللہ تعالیٰ انہیں چھوڑا ہو
13:19اور بقیادہ
13:20گورنروں کو
13:21اپنے
13:22وزارہ کو
13:23اپنے مشیروں کو
13:25یہ حکم تھا
13:26جو جو بھی
13:27کسی عہدے پر فائز تھے
13:28فرماتے تھے
13:29اذا بلغہو
13:31انعاملہو لا يعود المریض
13:33کہ
13:34اس کے حلقے کے اندر
13:36کوئی بھی بیمار ہو
13:38اگر یہ پتہ لینے کے لیے
13:40نہیں جا رہا
13:41تو اس کو عہدے سے
13:43اٹھا دیا جاتا تھا
13:45کہ تم اس اہل نہیں ہو
13:47کہ تمہیں
13:48مریضوں کا
13:49پتہ لینے کا
13:51اگر تمہارے پاس
13:52وقت نہیں ہے
13:52تو تم اس اہل نہیں ہو
13:53نمبر دو
13:54وَلَا يَدْخُلْ عَلَيْهِ الزَّعِيف
13:57تمہارے پاس
13:59تم جتنے بھی
14:00مصروف ہو
14:00بائیس لاکھ
14:02مربع میل
14:03پاکستان
14:04اور اس جیسی کنٹریز
14:06یہ جھنگے میں آتی
14:07یہ مراد ہے
14:08کہ بائیس لاکھ
14:09مربع میل پہ
14:10آدھی دنیا پہ
14:11حکومت ہو رہی ہے
14:11اور اس وقت
14:13کیا فرما رہے ہیں
14:14وَلَا يَدْخُلْ عَلَيْهِ الزَّعِيف
14:17میرے آپ کی کیا
14:18مصروفیت ہو نہیں ہے
14:19جو سینہ عمر فاروق کی
14:20مصروفیت تھی
14:20فرمائے
14:21مجھے اگر پتہ لگا
14:23کہ کوئی کمزور
14:24کوئی ضعیف
14:26اس کو داخلے میں
14:27پاس آنے میں
14:29دکت ہو رہی ہے
14:30تو ایسے آفیسر کو
14:31ایسے وزیر کو
14:33ایسے گورنر کو
14:34ہٹا دیا جاتا
14:35مریض کے پاس نہیں جا رہا
14:37ضعیف اس کے پاس
14:39اپنا دکھ درد
14:40لے کے نہیں آسکتا
14:41رکاوٹے
14:42اور پیرے دار
14:43اگر مقرر ہے
14:44تو میں تمہیں
14:45اس قابل ہی
14:46تمہیں تو خدمت کی
14:46لگایا ہے
14:47تمہیں اپنی ذات کے
14:48پروٹوکل کی نہیں
14:49لگایا گیا
14:50بلکہ لوگوں کی
14:51خدمت کی لگایا گیا ہے
14:52جو خادم الحرمین
14:54شریف ہے
14:54جو لفظ بولا جاتا
14:55کہ حرمین کے خادم
14:56خادم فلان
14:57خادم فلان
14:58وہ واقعہ تن خادم تھے
15:00تیسرے نمبر پہ
15:01کیا حصول تھا
15:02کہ اگر
15:04مجھے پتہ لگا
15:06کہ تم
15:06اپنی سہولتوں کے
15:08چکروں میں پڑ گئے ہو
15:09تو تمہیں
15:09ہٹا دیے جائے گا
15:10تم اگر
15:11مشکت میں رو گے
15:13تو تمام لوگ
15:15سہولت میں رہیں گے
15:16اور اگر
15:17تم اپنے پروٹوکولز
15:18اور اپنی
15:19اسائشوں کے پیچھے
15:20پڑ گئے
15:21تو ساری دنیا
15:22ساری عوام
15:23مشکت کے اندر
15:24چلی جائے گی
15:25پروٹوکولز
15:26کا خادمہ فرمایا ہے
15:27آج
15:28جن لوگوں نے
15:29ترقی کی ہے
15:30یعنی کو ہم
15:31یوں دیکھتے ہیں
15:32ان کے پروٹوکول
15:33چیک کر لیں
15:33اور آج
15:34ہمارے
15:35اپنے پروٹوکول
15:36کسی بھی
15:37ادارے میں
15:37چلے جائے
15:38اگر ہم
15:39کامیابی چاہتے ہیں
15:40تو ہمیں
15:40خلفہ راشدین کے
15:42نظام کو
15:42فالو کرنا ہوگا
15:43رب کعبہ کی قسم
15:45عزتیں
15:46اور
15:46بلندیاں
15:47ہمارا مقدر
15:48بن جائیں گی
15:49جیسے انہوں نے
15:50اصول بنائے
15:50کہ کوئی
15:51بیمار ہو
15:52تو
15:53مطلقہ
15:53وہاں کا
15:54جو بڑا ہے
15:54اس کے پاس پہنچے
15:55کوئی ضعیف ہے
15:57کمزور ہے
15:57حاجت مند ہے
15:58اس کو آنے کے لیے
16:00کوئی رکاوٹ نہ ہو
16:01اور کوئی
16:02پروٹوکول نہیں
16:03کوئی پیرے دار نہیں
16:04کوئی باہر نہیں
16:05کھڑا
16:06کہ آپ جا سکتے ہیں
16:07نہیں جا سکتے
16:08چوبیس گھنٹے
16:09دروازے
16:10کھلے ہوتے تھے
16:11اور
16:11لوگوں کی
16:12سہولت کے لیے
16:13لوگوں کی
16:14آسانیوں کے لیے
16:15سارے ترتیب
16:16سارے نظام
16:17کو وہ لے کے
16:18چلتے تھے
16:19اور اسی کی برکت تھی
16:20کہ یہ دنیا
16:21عربہ آناسر سے بنی ہے
16:23آگ ہوا پانی
16:24اور مٹی
16:25ایک مرتبہ
16:26مدینہ منورہ میں
16:26زلزلہ آتا ہے
16:27تو سیدن عمر فاروق
16:28اس کے اوپر
16:29کوڑا مارتے ہیں
16:30اور کیا فنواتے ہیں
16:31اسکونی
16:31یا ارزو انہا دیلا
16:33کہ میں تیرے پہ عدل نہیں کر رہا
16:35وہ دن اور آج کا دن
16:37زلزلہ نہیں آیا
16:38سیدنا ابو حریرہ
16:40رضی اللہ تعالیٰ عنہ
16:41کو مدین کا
16:42امیر بنا کر بیجا
16:44واپس آئے
16:45حالانکہ
16:45شیخ الحدیث ہیں
16:47امام الحدیث ہیں
16:48سب سے زیادہ روایت
16:50سیدنا ابو حریرہ سے مروی ہیں
16:52رضی اللہ تعالیٰ عنہ
16:53اس کے باوجود
16:55ایک دفعہ احتساب
16:56ایک دو دفعہ
16:58تین دفعہ
16:58کئی دفعہ احتساب کیا
17:00کہ کہیں کوئی
17:01کمی بیشی نہ ہو جائے
17:03اور اللہ کو کیا جواب دیں گے
17:04اور یہ اصول بنایا ہوا تھا
17:07وَلَا يَدْعُ فَقِيرًا فِي وِلَایَتِهِ إِلَّا آتَا
17:10سیدنا عمر فروق
17:11رضی اللہ تعالیٰ عنہ
17:12ان کی حکمرانی کے اندر
17:14اس خلافت کے اندر
17:15جو فقیر محتاج ہوتا
17:17اس کو وہ چیز عطا ہوتی
17:20وَلَا مَدْيُونًا إِلَّا قَضَا عَنْهُ دَيْنَا
17:23جو کوئی مقروض ہوتا
17:25اس کے کرزوں کی ادائیگی
17:28سیدنا عمر فروق
17:29رضی اللہ تعالیٰ عنہ
17:30اس کی ادائیگی کا بندوبست فرماتے
17:33تیسے نمبر پہ
17:34وَلَا زَعِيفًا إِلَّا آَعَانَهُ
17:37کوئی بھی زعیف کمزور ہوتا
17:39اس کی معاملت کا پورا بندوبست کیا جاتا
17:43وَلَا مَظْلُومًا إِلَّا نَصَرَهُ
17:45جو مظلوم ہوتا
17:47اس کی نصرت اور مدد کا بندوبست کیا جاتا
17:51وَلَا ظَالِمًا إِلَّا مَنَعَهُ
17:53عن الظلم
17:54اور ظالم کی حمت نہیں تھی
17:57کہ وہ ظلم کر سکے
17:58اس کو ظلم سے روکا جاتا تھا
18:01لَيْسَ لِأَحَدٍ إِلَّا لَهُ فِي هَذَا الْمَالِ حَقٌ
18:05فرمائے
18:06یہ جو بیٹل مال ہے
18:08کوئی ایسا شخص نہیں ہے
18:10جس کا اس کے اوپر حق نہ ہو
18:13اور فرمایا آقا کریم علیہ السلام کی
18:15اسی حدیث کو لیتے ہوئے
18:16کہ یہاں جتنے غیر مسلم ہیں
18:20اَنَا اَحَقُ
18:21میں سب سے زیادہ
18:23اپنے ذمہ لیتا ہوں
18:25کہ غیر مسلم
18:26اس کا مطلب یہ نہیں
18:27کہ ہم ان سے نفرت کریں
18:29ہم ان کے ساتھ لڑائی جگڑا شروع کر دیں
18:31بلکہ فرمایا
18:32جیسے مسلمانوں کے جان مال عزت عبرو کی حفاظت ہے
18:36میں سب سے بڑا
18:38اس کا اہل ہوں
18:40میں سب سے بڑی ذمہ داری
18:42اپنے اوپر لیتا ہوں
18:43کہ میں نے ان کے تمام حقوق کو پورا کرنا ہے
18:46خلفہ راشدین نے
18:48اپنی ذات کے لیے بھی کچھ اصول بنائے
18:51اپنے گھر والوں کے لیے بھی اصول بنائے
18:54اور
18:55عام پبلک کے لیے بھی کچھ اصول بنائے
18:58خاص طور پر سینا عمر فروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ
19:00کو اللہ نے جو نوازہ ہوا تھا
19:02اپنی ذات کے لیے
19:04یہ صورتحال تھی
19:06کہ فقر و فاقع کی کیفیت چلیے
19:08لوگوں کے اندر قیت پڑ گئے
19:09عام الرماد جو بڑا مشہور ہے
19:11تو ان کے جو خادم ہیں
19:13وہ فرماتے ہیں
19:20کہ مجھے یہ گمان ہونے لگ پڑا
19:22کہ سینا عمر فروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ
19:24انہیں جس درجے میں
19:26ٹینشن اور ایک دکھی ہونے کی جو کیفیت ہے
19:31اتنی سوار کر لی ہے
19:32اتنے وہ دکھی اور پریشان ہیں
19:35کہ کہت پڑ رہا ہے
19:36کیسے ٹھیک ہوگا
19:37اس کیفیت کو دیکھتے ہوئے
19:40ان کے خادم کیا فرماتے ہیں
19:41کہ مجھے یہ گمان ہونے لگا
19:43کہ شاید اسی میں ان کی شہادت نہ ہو جائے
19:46یہ ان کی صورتحال
19:47اور بیوی نے میٹھا بنایا
19:50فَمَيْا اس وقت تک نہیں کھاؤں گا
19:52حَكْتَ يُحْيَ النَّاسِ
19:54جب تک لوگوں کے اندر کھانا نہ پہنچ جائے
19:57بیٹا پھل کھا رہا ہے
19:58تربوز
19:59فَمَيْا لوگ بوخے ہیں
20:02تَأْقُلُ الْفَاقِحَ
20:04وَا اُمَّتُ مُحَمَّدٌ حَزَلِيٌ
20:07حضور کی امت بوخی ہے
20:09کہت پڑا ہوا ہے
20:11اور تم پھل کھا رہے ہو
20:12اپنی ذات کے لیے احتساب
20:14اپنے گھر والوں کے لیے احتساب
20:16اور اگلی بات
20:18اپنے متلقین
20:19ان کے لیے بھی کیا احتساب
20:21کیا خوبصر سبحان اللہ
20:23اللہ کی قسم
20:25عزتوں کی چوٹیوں پہ
20:26جو بھی پہنچنا چاہتا ہے
20:28ان اصولوں کو سامنے رکھے
20:30ذرا سن کے آپ حیران رہ جائیں گے
20:32فَمَيْا میرے قبیلے کا نام ہے
20:33بنو عدی
20:35بنو عدی جو میرے قریب
20:37میرے عزیز
20:38میرے رشتہ دار
20:40عام بندہ کوئی غلطی کرے گا
20:43اس کو جو سزا بنتی ہے
20:45اتنی ہی ملے گی
20:46لیکن اگر میری نسبت والا
20:49کوئی غلطی کرے گا
20:50میرا عزیز کوئی غلطی کرے گا
20:52میرا رشتہ دار کوئی غلطی کرے گا
20:54بنو عدی میں سے کوئی غلطی کرے گا
20:56اس کو ڈبل سزا ملے گی
20:58یہ نظام دیا
21:00یہ سسٹم دیا
21:02And so the authority of Rashi has
21:08Anne-Karim
21:09And so's 영상
21:12And I'll say
21:13And so on
21:15With a
21:15That I would like to
21:16And I'll say
21:17And I'll say
21:18And so on
21:19And so on
21:27I'll say
21:28And so on
21:30I'll say
21:32ཕ༨ན ཤོར ངསསས ཕགུ སྭབསས ཕགསྲག ཅགུནས ཕདོ ཀྱུ འདེ འགིན འགིས འདིགས འདབཛ ནགས ཧང ཉཤར ཤི དུ
21:43what it is doing
22:13God is re-in-eared, your Father is a disciple or your Father is a disciple of God's father.
22:18God is re-in-eared, your father is a disciple of God's father, your father is a disciple of God's
22:22father.
22:23You are re-in-eared, I have a peer-in-eared, my mother has a follower of His family.
22:28These were the principles that they had our own, their own household of God's parents.
22:35And they had their own own irgendwie and their own dear, their own house.
22:37These principles of God's influence was created by Allah.
22:40Allah نے عزتوں کی چوٹیوں پہ وہ
22:42پوچھایا کہ آج مسلمان
22:44تو مسلمان غیر مسلم
22:46بھی اصول اور نظام
22:48بنانے کی جب باری آتی ہے
22:49تو ان کے در پہ جانا پڑتا ہے
22:51کہ آپ نے کیا کیا تھا ہماری بھی رہنمائی فرمائیے
22:54اللہ تعالی ہم سب کو
22:55اور پوری مسلمانوں کو نہیں
22:58میں تو یہ دعا کروں گا پوری انسانیت
23:00کو اللہ تعفیق عطا فرمائے
23:01کہ اسی روش پہ اسی ترتیب پہ
23:04چلے سیدنا عثمان غنی
23:05رضی اللہ تعالی عنہ
23:07گھر میں بیٹھیں اور ایک
23:10فقیر آتا ہے اور آکے
23:12کیا کہتا ہے کہ کچھ اللہ کے نام پہ
23:14دے دے عثمان غنی کی کیا
23:16شان ہے فرمائے میری
23:18سو بیٹیوں ہوتی اور
23:20ایک ایک کر کے دنیا سے جاتی رہتی
23:22تو میں سو کی سو بیٹیاں
23:24عثمان غنی کے نکاح میں دے دیتا
23:26دو بیٹیاں پوری
23:28کائنات میں یہ واحد
23:29ہستی ہیں جن کے نکاح میں
23:31یکے بعد دیگرے امام الانبیاء
23:34علیہ السلام
23:35عام نبی کی ایسی مثال
23:37نے ملتی اور یہاں امام الانبیاء
23:39کی دو بیٹیاں یکے بعد
23:41دیگرے سیدنا عثمان غنی
23:44رضی اللہ تعالی عنہ کے
23:45اللہ پاک نے عقد میں عطا فرمائی
23:47اور وہ اپنی بیوی کے ساتھ کس بات پہ
23:50تقرار کر رہے ہیں کہ دیا کم کر لو
23:52اور فقیر آرہا اللہ کی نسبہ سے
23:54اس کو سونے کے
23:55توڑے بھر کے دیے جا رہے ہیں
23:57یہ وہ نظام تھا
23:59یہ وہ سلسلہ تھا ایسے ہی
24:01مولا علی کی بات کی جائے
24:05رضی اللہ تعالی عنہ ہم سب کے
24:06ماباب قربان آقا کریم علیہ
24:08صلی اللہ علیہ وسلم پر اور ان کے
24:10اہل بیعت اتحار پر خلفہ راشدین
24:13پر حضرت علی
24:14رضی اللہ تعالی عنہ اپنی ذات
24:17کی خاطر کتنی قربانیاں
24:19کہ ایک فقیر آتا ہے
24:20اور سینا علی رضی اللہ تعالی عنہ کے پاس
24:22آ کے بیٹھ جاتا ہے اور کہتا ہے
24:24بھوک لگی ہے کہ آجو خوشک
24:27روٹی اس سے نہیں کھائی گئی
24:29فقیر ہے
24:30کہا لگتا ہے آپ سے یہ نہیں کھائی جا رہی
24:32وہاں فلان جگہ پر
24:34لنگر لگا ہوا ہاں آپ چلے جاؤ
24:36جب وہاں پر پہنچے
24:37تو وہاں پر تازہ گوشت کا
24:39شوربہ گوشت روٹی سریز چل رہی ہے
24:42کھانے کے بعد نہ اس نے تھوڑا سا اکٹھا کرنا چاہا
24:45تو حسنین کریمین خدمت میں تھے
24:47کہ حضرت کیا کر رہے ہیں
24:49کہ فلان جگہ ایک فقیر ہے
24:50جو خوشک روٹی کھا رہا ہے
24:52اس کے لئے لے کے جانا چاہتا ہوں
24:53تو آگے سے پتا کیا جواب دیا
24:55یہ اسی فقیر کا لگایا ہوا دسر خال
24:58میرے عزیزو چلتے ہیں
25:00ایک بریک کی طرف
25:01بریک کے بعد حاضر ہوتے ہیں
25:02اللہ سے دعا ہے
25:03کہ اللہ تعالی ہم سب کو
25:04خلفہ راشدین کے نقش قدم میں
25:06چلنے کی توفیق عطا فرمائے
25:13راہ نور میں خوش آمدیت کہتے ہیں
25:16ناظرین آج ایک بڑا اہم اشہو
25:19ہمارے عمومن گھروں میں چل رہا ہے
25:20میہ بیوی کا جگڑا
25:22ادھر سے خاندان کا جگڑا
25:25بازوہ بندہ مجبور ہو جاتا ہے
25:27کہ میں ادھر رہوں
25:28یا ادھر جاؤں
25:29اور بازوہ چھوٹی چھوٹی نیچاکیوں کے اوپر
25:32طلاق تک معاملہ چل جاتا ہے
25:34بڑی توجہ سے ہی بات سنیے گا
25:37باوجود اس کے کہ طلاق دینا
25:39جدائی اجازت ہے
25:41حلال ہے
25:42لیکن فرمایا
25:46اللہ کو سب سے مبغوظ طلاق دینا ہے
25:50حلال چیزوں میں سب سے مبغوظ جدائیاں ہیں
25:52جہاں تک ہو سکے
25:54اس کو بچا کر چلنے کی
25:56ہم نے کوشش کرنی ہے
25:58بازوہ لوگ پوچھتے ہیں
26:00کہ
26:00اتنے وسائل نہیں ہے
26:02کہ میں والدین کے ساتھ رہ سکوں
26:05بہن بائیوں کے ساتھ رہ سکوں
26:06تو کیا میں اگر الگ جاتا ہوں
26:08تو میں کہیں نافرمانی میں تو نہیں آتا
26:10نہیں میرے عزیزو
26:11آپ نافرمانی میں نہیں آتے
26:13بلکہ شرن
26:14جو پسند کیا گیا ہے
26:16بیوی کو الگ سے گھر
26:18نہیں دے سکتے
26:19الگ سے ایک کمرہ
26:21جس میں بات اور کچن کی سہولت موجود ہو
26:24تاکہ
26:24یہ جتنی آپس میں
26:26مداخلت ہوتی ہے
26:27یہ انٹرفیرز ہوتے ہیں
26:28اسی سے کام زیادہ خرابی کی طرف آتے ہیں
26:31اس سے جتنا بچا جا سکتا ہے
26:32اور اگر گنجیش نہیں ہے
26:33تو اکٹھے استعمالی طور پر
26:35جو کہ ہمارے
26:36ایشین کلچر کے اندر یہ چیز
26:38کامن ہے
26:39کہ ہم اکٹھے رہتے ہیں
26:40تو اس میں بھی اس چیز کو سامنے رکھنا ہے
26:43کہ لڑائی اور جگڑا
26:45فساد
26:46اس چیز سے بچنا ہے
26:47محبت پیار کی قیفیت
26:49سورہ نصہ میں خاص طور پر
26:51بیویوں کے ساتھ
26:53اچھا شروع کرنے کا آیت نمبر
26:54انیس کے اندر اندارہ فرماتے ہیں
26:56وَعَشِرُوْهُنَّ بِالْمَعْرُوفِ
26:58فَإِنْ كَرِهِتُمُوْهُنْ
27:01فَعَسَىٰ أَنْتَكْرَهُ شَيْئًا
27:03وَيَجْعَلَ اللَّهُ فِيهِ خَيْرًا
27:05کہ اپنے گھر والوں کے ساتھ
27:07اپنی بیویوں کے ساتھ
27:08اچھے طریقے سے پیشہ ہو
27:10بعض افعہ تمہارے سامنے ایسی چیز آ جاتی ہے
27:13جو تمہاری طبیعت میں بوجھ لاتی ہے
27:16تو اس کو سر پہ سوار نہ کنا
27:17فَعَسَىٰ أَنْتَكْرَهُ شَيْئًا
27:19کراہیت آریئے تمہیں
27:20ناپسند ہو رہا ہے
27:21طبیعت میں بوجھ آ رہا ہے
27:23وَيَجْعَلَ اللَّهُ فِي خَيْرًا
27:25کَسِيرًا
27:25ممکن ہے اللہ اس میں سے
27:27تمہاری بڑی خیریں نکال دے
27:28بڑی برکتیں نکال دے
27:30اور ایک اور حدیث میں آتا
27:31ترمیزی شریف کی روایتہ
27:33خیار اکم خیار اکم لینسائہن
27:34تم میں سے سب سے بہترین
27:36بہترین کیا میار مقرر کرنے کی جب باری آئی
27:40تو آپ نے بہترین کا میار
27:42کس چیز پر مقرر فرمایا
27:43کہ تم میں سے بہترین
27:45پھر دوبارہ فرمایا
27:46تم میں سے بہترین وہ ہے
27:47جو اپنے گھر والوں کے ساتھ
27:49اچھے طریقے سے
27:49اپنی بیوی کے ساتھ
27:51اچھے طریقے سے پیش آتا ہے
27:52اور ایک اور حدیث میں فرمایا
27:53خیرکم خیرکم لی اہلی
27:57وانا خیرکم لی اہلی
27:59تم میں سے سب سے بہترین وہ ہے
28:01تم میں سے سب سے بہترین وہ ہے
28:03دو دفعہ فرمایا
28:04جو اپنے گھر والوں کے ساتھ
28:06اچھے طریقے سے پیش آتا ہے
28:07اور میں تم میں سے سب سے زیادہ
28:09اپنے گھر والوں کے ساتھ پیش آتا ہوں
28:12ایک اور مسئلہ
28:13bada discusses kiya jata hai
28:15ki mein klimata bach houn
28:17leken berkat nai hai
28:19meri puri nai pado rai
28:20is ko thoda sa suchna pade gha
28:23कhali mein
28:25mekae ke n der pani daal raha hon
28:27कhali
28:29meka liek to nai hai
28:30koye tanki jaysse pani
28:32mafouz karri hai
28:33اور ghar mein sari tiuti ya
28:34is ki hifazat karri hai
28:36kehin ieg jaga par bhi
28:38tiuti kharab hou gyi
28:39liekaj ho go gei
28:40to sari hifazat ki tbahi ho jati hai
28:42that a lot of rizq, which is the reason why Allah will be able to do it,
28:49which will be done, which will be done with us.
28:51which will be done with us, which will be done with us.
28:55Quran of p.a.k.a.
28:56We'll be able to take a step of the path to get this done.
28:59And in another place,
29:00Aqa Kareem alayhi sallallahu alayhi wa sallam
29:02ne eqa hadith taibahe ma'a fersmaya
29:03Inna lilhaksa nati ziyya anfilwajh
29:06When in the world is a way of trouble,
29:09Allah's chair ko nurani bina jayetayin,
29:11دلوں کو نورانی بنا دیتے ہیں
29:13رزق میں وسط عطا فرماتے ہیں
29:15وسیعتاً فی الرزق و محبتاً فی قلوب الخلق
29:19اللہ مخلوق کے دلوں میں محبتیں پیدا کر دیتے ہیں
29:22آپ مدینہ منورہ کی تجارت
29:24جب آقا کریم علیہ السلام نے تجارت کو وہاں پر شروع کروایا
29:28مدینہ منورہ کا جو بزار تھا
29:30وہاں یہودی تجارت لے کے چاہ رہے تھے
29:32غیر مسلم لے کے چاہ رہے تھے
29:33آپ نے مسلمانوں کو جو اصول عطا فرمائے
29:36جس وجہ سے ان کی تجارت میں رزق میں برکت آئی
29:39وہ یہ تھی کہ صبح و فجر کی نماز پڑھ کر
29:42صبح کے وقت میں برکت ہے
29:44وہ مدینہ منورہ کے بزاروں میں جاتے
29:46اور جو چیز ہوتی وہی پیش کی جاتی
29:50نہ جوٹھی تعریف کی جاتی
29:52کہ میری چیز کچھ ہے اور کچھ پیش کیا جا رہا ہے
29:54ان اصولوں کو اپنائیں گے
29:56جو صحابہ اکرام نے تجارت کے لیے اپنائے
29:59تو اللہ بڑی برکت عطا فرمائیں گے
30:01اور آخری بات
30:03باوضور آ کریں
30:04ایک صحابی ہے اللہ کے رسول
30:05میں چاہتا ہوں
30:07میں رزق میں اللہ وسط عطا فرما دے
30:11تو آپ نے فہم ہے
30:17اللہ رزق کے وسطوں کے دروازے کھول دے گا
30:19اللہ سے دعا ہے
30:20کہ اللہ تعالی ہم سب کو
30:22رزق حلال وسطوں والا نصیب فرمائے
30:25الحمدللہ رب العالمین
30:26وصلاة و السلام علی اشرف الانبیاء والمرسلین
30:30ببنا آتنا فی الدنیا حسنا
30:32وفی الاخرہ حسنتاً
30:34مقنا عذاب النار
30:35مقنا عذاب النار
30:36مقنا عذاب النار
30:38وعدخلنا الجنة معل برار
30:40یا عزیز یا غفار
30:41یا رب العالمین
30:42اللہم اِنَّا زُعَفَا
30:44فَقَوِّ فِي رِزَاكَ زَعْفَنَا
30:46وَخُضْ اِلَى الْخَيْرِ بِنَوَاسِنَا
30:49اے کریم رب ہم بڑے کمزور ہیں
30:51یا اللہ ہم تو اس سے تیرے محبوب کی مانگی دعا کا واسطہ دیتے ہیں
30:55کہ ہمیں بھی خیر کے کاموں میں پکڑ کے لے جا
30:58یا اللہ ہم چاہے نہ چاہے ہمیں خیر کرنے کی توفیق عطا فرمائے
31:01ہمارے اندر وہ طلب وہ قرن پیدا فرمائے
31:04اے کریم رب ہمارے گروں کے اندر رحمتیں برکتیں مودتیں اتا فرمائے
31:09جو مقروض ہیں ان کو کرزوں سے نجات نصیب فرمائے
31:12جو پریشان حال ہیں ان کی پریشانیوں کا خاتمہ فرمائے
31:16اے اللہ جو اولاد کی وجہ سے رشتوں کی وجہ سے پریشان ہیں
31:20یا اللہ ہمارے ان بیٹوں اور بیٹیوں کے لیے آسانیہ فرمائے
31:24اور اولاد کی خوشیاں ہر انسان کو یا اللہ دیکھنی نصیب فرمائے
31:28اے اللہ اولاد کا غم انسان کی کمر کو توڑ دیتا ہے
31:35اے اللہ اولاد کی خوشیاں نصیب فرمائے
31:38اے کریم رب جتنی بھی پریشانی ہیں
31:41تو ہماری حاجتوں کو ہم سے زیادہ جانتا ہے
31:44اِنَّهُ عَلِيمٌ بِذَاتِ الصُّدُورِ
31:47اِنَّهُ يَعْلَمُ السِّرَّ وَأَخْوَى
31:49اے اللہ وہ راز وہ بید وہ ہماری ضرورتیں جو اب ہیں
31:53جو ایندہ آنی ہیں
31:55اے اللہ تو اس سے بھی واقف ہے
31:57اے کریم رب جیسے ہر چرین پرند کو
32:00تو ساری نعمتیں عطا فرماتا ہے
32:02ان کا رزق عطا فرماتا ہے
32:03اے کریم رب فضل فرما کے
32:05کرم فرما کے
32:06ہمیں اطاعت و فرما برداری والی زندگی نصیب فرما
32:09یا اللہ
32:11یہ آنکھیں خوشکو چکی ہیں
32:12اپنے فضل سے اپنے کرم سے
32:14ان آنکھوں میں نمی پیدا فرما دے
32:16یا اللہ جس کو تو توفیق دیتا ہے
32:18اپنے فضل کی اپنے کرم کی
32:20اس کی پہلی نشانی یہ ظاہر کرتا ہے
32:22کہ آنکھوں میں نمی تیرے محبوب نے فرما
32:25ابکو و اللہ فتح باکو
32:27رویا کرو
32:28رونا نہ آئے تو رونے والی صورت ہی بنا لیا کرو
32:31یا اللہ گناہ کر کر کے
32:32آنکھیں خوشکو چکی ہیں
32:34رونے والی صورت کو دے کر
32:36یا اللہ ہماری حالتوں پر
32:38فضل فرما دے کرم فرما دے
32:40ہمارے جتنے بھی متعلقین ہیں
32:42منتظمین ہیں
32:43یا اللہ سب کو جزائے خیر عطا فرما
32:45خاص طور پر
32:46ہم نیٹورک کے مالکان
32:48انتظامیاں
32:49جن کی وجہ سے
32:50یہ پیغام تیرے بندوں تک
32:52تیری بندیوں تک پہنچ رہا ہے
32:53ان کو انتہائی جزائے خیر عطا فرما
32:55اور خیروں کا ذریعہ فرما
32:57اے اللہ جو غلطیاں کمیوں کتائی ہیں
32:59یا اللہ ہم سب کی غلطی کمیوں کتائیوں کو معاف فرما
33:02صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
Comments