Skip to playerSkip to main content
  • 4 hours ago
چغتائی خان سے جڑتا ہے (جو تقریباً 1183ء میں پیدا ہوئے اور 1242ء میں وفات پائی)۔ چغتائی خان نے وسطی ایشیا (ماوراء النہر، ترکستان، کاشغر وغیرہ) میں چغتائی خانیت قائم کی، جو منگول سلطنت کا ایک بڑا حصہ تھی۔ اس خاندان کی بیٹیاں اور پوتیاں “شہزادی” کہلاتی تھیں، لیکن تاریخ میں ان کی مخصوص شخصیات کم مشہور ہیں کیونکہ منگول دور کی تاریخ زیادہ تر مردوں کی فتوحات پر مرکوز رہی۔
ایک مشہور مثال چغتائی خان کی بیٹی توکل خانم ہے — چغتائی خان نے اپنے وزیر اعظم قراچار نوئیاں سے اس کی شادی کی تھی تاکہ سیاسی اتحاد مضبوط ہو۔ یہ شادی چغتائی سلطنت کے استحکام میں اہم تھی، اور اس سے چغتائی برلاس شاخ وجود میں آئی جو بعد میں امیر تیمور اور مغلوں سے جڑی۔
مغل دور میں “چغتائی” کا لفظ فخریہ استعمال ہوتا تھا۔ بابر اور ان کے جانشین خود کو چغتائی ترک کہتے تھے (کیونکہ ان کی زبان چغتائی ترکی تھی، اور نسب چغتائی خان سے جوڑتے تھے، اگرچہ براہ راست نہیں)۔ اس دور کی کئی شہزادیاں مشہور ہوئیں، جیسے:
• شہزادی گلبدن بیگم — بابر کی بیٹی، ہمایوں کی بہن، اور ہمایوں نامہ کی مصنفہ۔ وہ چغتائی خاندان کی ایک اہم خاتون تھیں جنہوں نے مغل تاریخ لکھ کر بہت بڑا کارنامہ انجام دیا۔
• مغل دور میں شہزادیاں جیسے جہانگیر کی بیٹیاں یا اورنگزیب کی بیٹیاں بھی چغتائی خون کی وارث تھیں۔ علامہ اقبال نے جہانگیر کو “شہسوار چغتائی” کہا تھا عدل و انصاف کی وجہ سے۔
اگر تم اردو ادب کی طرف اشارہ کر رہے ہو تو عصمت چغتائی (Ismat Chughtai) کا نام آتا ہے — وہ ایک بہت بڑی افسانہ نگار تھیں (1915-1991)، جن کی کہانیاں “لیحاف”، “ٹیرھی لکیر” وغیرہ نے عورتوں کے مسائل کو بے باکی سے اٹھایا۔ وہ خود کو “چغتائی” کہلاتی تھیں، لیکن “شہزادی” کا لقب استعمال نہیں ہوا — البتہ ان کی شخصیت “چنگلی” اور بے باک تھی، جیسے تمہاری مرغیوں والی کہانی میں!
اگر تم کسی خاص شہزادی (جیسے تاریخی، مغل دور کی، یا کوئی اور) کی بات کر رہے ہو تو مزید تفصیل بتاؤ — میں اس پر مزید گہرائی سے لکھ سکتا ہوں۔ ورنہ، اصل چغتائی شہزادیاں تو وہی تھیں جو چنگیز خان کے خون کی وارث تھیں — آزاد، جنگجو، اور کبھی قابو میں نہ آنے والی

Recommended