00:00جبو کشمیر اسمبلی کا باجٹ اجلاس دوہزار چھو بیس جاری ہے اس وقت میں موجود ہوں سینٹرل حال اسمبلی کمپلیکس کے میں جہاں پہ میرے ساتھ موجود ہے کومنسٹ پارٹی آف انڈیا مارکسٹ کے سینئر لیڈر ایمیل اے کلگام ایموی تاریگامی تاریگامی صاحب کل آپ نے اسمبلی میں ڈیلی ویجرز کا مدہ اٹھایا اس کے ساتھ ساتھ ایمیل اے مہراج ملک کا بھی مدہ اٹھایا کیا امیدیں ہیں آپ کو اس حکومت سے یا مرک
00:30سرکار کی ذمہ داری ہے سرکار نے بار بار یہ دورایا ہے کہ ڈیلی ویجرز کا کیجو لیبرز کا نیڈ بیسٹ ورکرز کا ان کے ریگوریزیشن کے بارے میں ویجز بڑھانے کے بارے میں یہ بار بار دورایا ہے انہوں نے اور ایک ممبر ہونے کے ناتے میری یہ ذمہ داری بن جاتی ہے اور اسی لیے میں نے کل گورنرز ایڈریس میں بھی ایمنڈیمنٹ لائی اسی سوال کو لے کر
00:58کہ ڈیلی ویجرز کیجو لیبرز ان کو ریگوریرائیز کرنے کے بارے میں پوراً قدم اٹھائے جائے اور اس کے علاوہ اسی کے ساتھ میں نے یہ بھی کہا جو سکیم ورکرز ہیں ان کے ویجز جو ہیں جہاں تک آنگلواری ورکرز ہیلپرز آشا ورکرز مدی میل میں کام کرنے اس سکیم میں کام کرنے والے ورکرز سب سے کام ویجز ہیں ان کے پورے ملک کے لیول پر نہیں ہیں
01:26اور یہ سرکار کی ذمہ داری بن جاتی ہے جب دوسرے ریاستوں میں بھی ان کے ویجز کو بڑھایا جاتا ہے تو ہماری سرکار کیوں نہ بڑھائے
01:36وہ سب کام لیا جاتا ہے ان سے کوئی بھی فنکشن ہو کوئی بھی ایکٹیوٹی ہو اس بارے میں ان کو شامل کیا جاتا ہے
01:45لیکن جب ویجز کا سوال ہے وہ تو مزاق ہے اور اسی لیے ہماری یہ ذمہ داری ہے اس ہوس کی ذمہ داری ہے
01:53ہماری سرکار کی ذمہ داری ہے کہ ایسے جو زمرے ہیں ہمارے سماج میں یا جو ورکرز ہیں ہمارے سماج میں وہ یہی چاہتے ہیں
02:04کہ ہمیں اتنا دے دو اب یہ لوگ کہہ رہے ہیں کہ منیموم ویجز اب منیموم ویجز جو یہاں ہے بلا وہ کیا ہے اس کی لیول کیا ہے
02:13ڈلی میں وہ بھی یونین ٹیریٹری ہے کم از کم اتنے ویجز دے دو سکیم ورکرز کو باقی لوگوں کو جتنے دہلی کی یوٹی میں مل رہے ہیں
02:22ہم اور کچھ نہیں کہتے ہیں لیکن یہ لاتو لال کیا جاتا ہے
02:26کئی بارسوں سے یہ مدہ پڑا ہے ڈیلی ویجز کا آج کی بات نہیں یہ نہیں ہے کہاں پہ کمی ہے کہ ابھی بھی منیموم ویجز ایکٹ کی بات کریں
02:34یا پرمنٹ ریگولارائزیشن نہیں ہم کہاں پہ کمی ہے
02:37نہیں میں اس کو منیموم ویجز ایکٹ کے تحت جہاں تک ڈیلی ویجز کا تعلق ہے کیجوی لیو بارس کا ان کے ریگولارائزیشن کی بات کرتا ہوں
02:45میں نے کل بھی یہ یہی مدہ اٹھایا اور آج بھی میں یہی کہوں گا آپ سے بھی یہ بنیادی مدہ ہے بار بار ہے
02:53اور ان کی وجہ سے ہی بیس بیس سال سے کام کر رہے لوگ ہیں
02:57اور مجھے بتائیے ایک بجلی محکمے میں ایک بجلی جو کھمبت گارنے والا ہے جو بٹی جلانے والا ہے
03:06جب وہ مر جاتا ہے بجلی کا کام بجلی کھمبے کو ڈالتے ہوئے تو یارہ اس کا احسار ہو نہیں
03:15اس کو بچے بچوں کا کیا حال ہوگا
03:18ہمارے ہی علاقے میں میکنیکل ڈیویزن میں ایک شخص مراہ کلگام میں
03:23اور کوئی نہیں ہے ان کا خیال رکھنے والا ان کے ماں باپ کو
03:28لیکن احسار ہو نہیں
03:29کانٹریکچول لیکچررز ہے یا پلس تری لیکچررز ہے
03:34جس طرح سے ان کو مہینے کے طور پر ویجز دی جائے ہیں
03:38بہت کم ہے
03:39لیکن لیبر ایکٹ کی وائلیشن ہو رہے ہیں
03:42میں وہی کہہ رہا ہوں کہ یہ کتنا بتائیں کیا بتائیں
03:48یہاں بہت نائنصافیہ ہو رہی ہے
03:51بہرحال ہمیں امید ہے کہ گورنمنٹ آف انڈیا بھی معونت کر لے
03:55اور یہاں کی سرکار بھی اپنی ذمہ داریہ سمائے
03:57میں صرف یہ کہوں گا کہ جو ان کے کنسرنز ہیں وہ میرے خیال میں مناسب بھی ہیں
04:10ایسا نہیں کہنا چاہیے تھا ان کے بارے میں
04:14یا اس کھتے کے بارے میں
04:15جیسا بھی ہوا بہرحال نہیں ہونا چاہیے تھا
04:19بہت بہت شکریہ ہی تھے ہمارے ساتھ
04:21CPIM کے سینئر لیڈر
04:24MLA کلگام
04:24M.Y. تاریگامی
04:26اسمبلی کمپلیکس کے سینٹرل حال سے میں مہودش
04:29M.Y. تاریگامی
Comments