00:00خاموش زہرہ مگر زندہ لوگوں کی فریاد چولستان کے باسیوں کا سب سے بڑا ذریعہ معاش مال مویشی ہیں یہی اونٹ گائے بھیڑ اور بکریاں ان کے بچوں کی روٹی تعلیم اور علاج کا سہارہ ہیں مگر افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ ہیڈ
00:19فرید چولستان میں آج تک کوئی باقاعدہ منڈی مویشیاں قائم نہیں کی گئی نتیجہ یہ ہے کہ غریب مالدار کو جانور بیچنے کے لیے میلوں سفر کرنا پڑتا ہے بروکر اور 38 سستے داموں مال خرید لیتے ہیں اصل محنت کرنے والا چولستانی نقصان میں رہتا ہے حکومت پنجاب اور زلع انتظامیہ سے پرزور مطالبہ ہے کہ ہیڈ فرید چولستان کے علاقہ میں فرید طور پر منڈی مویشیاں قائم کی جائے
00:45تاکہ چولستان کے عوام کو روزگار میں سہولت ملے مال مویشوں کے منصفانہ قیمت مل سکے سہرہ کے باسی بھی ترقی کے سفر میں شامل ہو سکے یہ کوئی سیاسی مطالبہ نہیں یہ حق معاش کی آواز ہے اگر آپ بھی چولستان کے عوام کے ساتھ ہیں تو اس آواز کو شیئر کریں تاکہ ایوانوں تک پہنچ سکے