Skip to playerSkip to main content
  • 12 hours ago
देहरादून में मंसाराम बिल्डिंग अब यादों में बसकर रह जाएगा. मंसाराम बिल्डिंग जर्जर होने पर ध्वस्त किया जा रहा है.

Category

🗞
News
Transcript
00:00ुتراخن کی راجثانی دہرادون کے گھنٹاگر استطیق ایک اعتحاسک building
00:04اب صرف اعتحاس کے پنوں میں ہی رہ جائے گی
00:06اس وقت ہم موجود ہیں منصہ رام building میں
00:09یہ آپ building دکھانا چاہیں گے کافی اعتحاسی building ہے
00:12اور اس کے اگر ہم نرمال قائروں کی بات کریں
00:14تو 1940 کے آس پاس اس building کا نرمال کیا گیا تھا
00:18اور یہ اس دور کی building ہے
00:20جب دہرادون کے چھتر میں جو آوازی building ہویا
00:24آنے بیوسائی building ہو
00:25ایک منجلہ یا دو منجلہ ہوا کرتے تھے
00:27اس دوران سیٹ منصہ رام نے ایک الگ ہی سوچ
00:30اور ایک الگ ہی بھوستے کے نظریے سے اس building کو تیار کیا تھا
00:33جو یہ تین منجلہ building تھی
00:34اور اس building کی خاصیت یہ تھی
00:36کہ یہ کافی بڑا building ناصر تھا
00:37بلکہ اس کو بیوسائی کی روپ سے استعمال بھی کیا جا رہا تھا
00:40اور ساتھ ہی اوپر لوگ رہے بھی رہے تھے
00:42اور اس کی خاصیت یہ تھی کہ یہاں سے دور دور تک پورا پلٹن بازار ہویا
00:46آنے آسپاس کے چھت روپ پورا ساپ طور سے دکھائی دے رہا تھا
00:49یہاں سے
00:49کیونکہ سب سے اوچھی building تھی
00:50لیکن اب اس building کو
00:52توڑنے کی کاروائی پچھلے مہینے شروع ہو گئی ہے
00:54اس building کو توڑا جا رہا ہے
00:56جس کی وجہ یہی ہے کہ
00:58جو building ہے کافی ادھک پرانی ہو چکی ہے
01:01کہ لگ بھگ 90 سال پرانی اس building کو بتایا جا رہا ہے
01:05کیونکہ اس دوران اس کا نرمانکار جو کیا گیا تھا
01:07وہ ایک بہتر اور آنے والے سمیں
01:10یعنی بھوست کو دیکھتے ہوئے تیار کیا گیا تھا
01:12لیکن اب یہ گراسو بھون کی روپ میں جانا جا رہا ہے
01:14اس building کو لمبے سمیں سے خالی پڑا ہوا ہے
01:16لیکن اس کی دکھتیں ہیں کہ
01:18آسپاس کافی ادھک بھیڑ بھاڑ
01:20اور گھنٹا کر کے سمیپ ہونے کی وجہ سے
01:22کوئی گھٹنا درگھٹنا نہ ہو
01:23اس کو لے کر کے اس building کو
01:24پچھلے مہینے گرانے کے قوائز شروع کی گئی
01:27اس building کی خاصت یہ بھی ہے
01:28کہ اس building کا جو design ہے
01:30وہ دلی کناٹ پیلیس سے ملتا جلتا ہے
01:32یہی وجہ ہے کہ اس building کو خاص کر
01:35mini کناٹ پیلیس بھی کہا جاتا تھا
01:37اور اس میں تمام دکانے بھی تھی
01:38photo estate کی دکانے ہوں
01:39studio ہوں
01:41انکپڑے کی دکانے ہوں
01:42یہاں پر موجود تھی
01:44اور اس building کو اب توڑنے کا
01:46ہائی کوٹ کے نردیس کے بعد کیا جا رہا ہے
01:48کیونکہ یہ گراسو بھون ہے
01:49کبھی بھی گر سکتا
01:50کیونکہ اس کا جو pillar ایک طرف سے جو حصہ ہے
01:53وہ پہلے کافیت جھوک چکا تھا
01:55اور اس میں تمام چار طرف سے دارارے بھی آ چکی ہیں
01:58جس کی وجہ سے اس کو گرا جاتا تھا
02:00منصرام کی اگر بات کرے
02:01تو سیٹ منصرام نے اس building کا نرمال کرانے کے دوران
02:04جو ہے
02:05لبکہ سوال لاکھ روپے کا لون لیا تھا
02:07اور یہ لون نبے سال پہلے لیا گیا
02:08کیونکہ اگر آج قیمتوں کی بات کریں
02:10تو اس کی قیمت کروڑوں روپے میں آتی ہے
02:12فیلال اس building کو گرانے کے کام چل رہا ہے
02:14اور سنبھال جتا جا رہا ہے
02:15کہ لبکہ کچھ دنوں میں
02:16اس building کو پوری طرح سے دھوست کر دیا جائے گا
02:18اور یہ building یعنی جو property ہے
02:20یہ LIC کے پاس ہے
02:21اور اس کو کیا کچھ ہوگا
02:23وہ LIC اس پر نرمال کریے
02:24اس کو کیا کچھ نرمال کراتے ہیں
02:26آپ نے کیا اس میں کام کرتے ہیں
02:27لیکن فیلال جو گراسو بھون ہے
02:29گراسو بھون کو اس طرح سے
02:31روپ میں چینج کیا جا رہا
02:32کیونکہ یہ مہنسنام کی building کافی اعتحاسی ہے
02:34اور اب اعتحاس کے پننوں میں
02:36اب یہ درز ہو کر کے رہ جائے گی
02:37کیونکہ اس سمیں ایک بڑی building کی روپ میں جانی جاتی تھی
02:40اس کا ایک ایک ایک رتبہ تھا کہ سکتے ہیں
02:43اس building میں ایک لوگوں کے دکان کھولنے کی لالسہ رہتی تھی
02:46کیونکہ کافی بڑی building تھی
02:47اور لوگوں کافی ادھیک پسند بھی آتے
02:49کیونکہ یہاں سے دور دور کے نظارے بھی
02:50ساپ ساپ دکھائی دیتے تھے
02:52کیامرابین پریبین سون کا ساتھ
02:54روید کمار سونی ایٹی بھارت دہرت
Be the first to comment
Add your comment

Recommended