Skip to playerSkip to main content

Category

People
Transcript
00:00Bڑے لوگوں کو تمنا ہے کہ ہم کربلا جائیں
00:03بڑے لوگوں کو عشق ہے کہ ہم مشہد الردہ جائیں
00:07ہو سکتا ہے کچھ لوگوں کے ذہنوں میں تراز ہو
00:10کہ مولا ہمیں بلاتے کیوں نہیں
00:12غریب ہیں اس لیے نہیں بلاتے
00:14بیمار ہیں اس لیے نہیں بلاتے
00:18مولا جن کے پاس پیسہ ہے مال ہے دولت ہے
00:21وہ تو ہر سال آ رہے ہیں آپ کی زیارت کو
00:24اسی طرح ایک ظائر نے امام حسین پہ تراز کیا
00:28رات کو سو گیا خواب کے عالم میں مولا حسین کی زیارت ہوئی
00:32فرمائے میرے عاشق اگر زندگی میں ایک بار بھی آ سکو
00:36تو ہماری زیارت پہ ضرور آنا
00:37کیونکہ مرنے کے بعد پتا چلے گا
00:40کہ زیارت اہل بیت کا سباب کیا ہے
00:43کہ مولا غریب ہوں بیمار ہوں
00:46صاحب اولاد نہیں
00:47پتہ نہیں کب مر جاؤں منکر و نکیر پوچھیں
00:51کہ اے تو عاشق حسین تھا
00:52اے کسی زیارت لے کر نہیں آیا
00:54امام نے کہا ہم سخی نہیں ہم کریم ہیں
00:58سخی مانگنے پہ دیتا ہے
01:02کریم نہ مانگنے پہ دیتا ہے
01:04اگر دل میں تڑپ ہے
01:07تو کیسے ممکن ہے
01:08ہم تجھے سواب سے محروم رکھیں
01:09کہ مولا کربلا نہیں آسکتا
01:11فرمایا اپنے گھر میں بیٹھ کر
01:15خلو سے دل سے
01:16مجھ حسین کو ایک سلام بھیجو
01:19میں کہوں گا لکھیں تیرے نام عامال
01:24میں اس نے حسین کی زیارت کا سواب کما لیا
01:27تعجب سے کہا مولا اتنا آسان ہے
01:30کہا آ سکو تو آؤ
01:32لیکن ڈر ہے کہ مر جاؤں گا
01:34اور کربلا نہ جا سکوں
01:35خالی ہاتھ کیسے جاؤں اپنی قبر کی طرف
01:37فرما بس مجھ غریب کو ایک سلام کرو
01:40میں کہوں گا لکھیں اس نے سواب اجارت حسین کمایا
01:44کہا مولا اتنا آسان
01:46فرما ایک نشانی ہے
01:48اگر وہ آ جائے
01:49تو سمجھو سواب اجارت حسین مل گیا
01:51مولا کون سی نشانی
01:52کہ جب مجھ غریب کو سلام کرو
01:54مجھ مظلوم کو سلام کرو
01:56سلام کرنے کے بعد
01:57اگر نہ چاہتے ہوئے
01:59آنکھوں سے آنسوں نکل آئے
02:01فرمایے
02:04مت سمجھنا یہ تیرے آنسوں میں
02:06حسین نے تجھے تیرے سلام کا جواب بھیجا ہے
Comments

Recommended