00:00As-salamu alaykum wa rahmatullahi wa barakatuhu
00:04Alhamdulillah
00:09Alhamdulillah alhamdulillahilhananilmanan
00:12Al-lazhi khulakal insana wa alamahul bayan
00:17Wa salatu wa salamu ala rasulihi seyidil insi wal jaan
00:23Wa ala alihi wa ashabihi debil khayri wal ihsan
00:28Amma ba'd
00:28فَاعُوذِ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ
00:35يَسْأَلُونَكَ عَنِ الرُّوحِ
00:38قُلِ الرُّوحُ مِنْ عَمْرِ رَبِّ
00:40صَدَقَ اللَّهُ مَوْلَانَ الْعَظِيمِ
00:44بارگاہِ رسالت مواب صلی اللہ علیہ وسلم میں درودِ پاک کا حدیہ پیش کریں
00:49اللہم صل على سیدنا محمد معدن الجود والکرم
00:55وَعَلِهِ وَأَصْحَابِهِ الْكِرَامِ اَبْنِهِ الْكَرِيمِ
00:59وَبَارِكُ وَسَلِّمْ صَلَاتًا دَعِمَّةً سَرْمَدًا عَبَدًا
01:02اللہ عز و جل نے انسان کو پیدا کیا ہے تو
01:08جسم اور روح دو ایسی چیزوں کے ساتھ رکھا ہے
01:13کہ دونوں کا ایک دوسرے کے لیے ہونا لازم ہے
01:17روح کے بغیر جسم کا بھی کوئی کام نہیں
01:21اور روح ہے جسم نہیں ہے تو اس روح کو بھی کوئی کام نہیں
01:28روح اور جسم دونوں لازم ملزوم ہیں
01:33اور جب تک ان دونوں کا رشتہ ہے زندگی ہے
01:37اور جہاں ان دونوں کا رشتہ ٹوٹا
01:41تو اس کو مردہ کہا جاتا ہے
01:44روح اور جسم کا تعلق ختم ہوتی ہی زندگی بدل جاتی ہے
01:50اب مسئلہ یہ ہے روح اور جسموں میں افضل کون ہے
01:57کون زیادہ آلہ ہے
02:00تو اب یہ دیکھا جاتا ہے
02:03کہ آپ یہ سمجھتے ہوں گے
02:06کہ صرف روح ہے اور جسم نہیں ہے
02:09تو کیا مطلب ہے روح کا
02:10لیکن روح اور جسم کا جب کمپیریزن ہوگا
02:16تو روح اس میں بہت بلند و بالا ہے
02:20اس کی وجہ یہ ہے
02:22کہ روح کے نکل جانے کے بعد
02:25جسم زیادہ دیر تک نہیں سلامت رہ سکتا
02:28چند گھنٹے
02:31چند دنوں کے بعد
02:33اس کے اندر سڑن پیدا ہوگی
02:35اور یہ سڑ گل جائے گا
02:38روح کے نکلنے کے بعد
02:40جسموں کی
02:41کوئی اوقات نہیں رہ جاتی
02:44جسم سب مٹی میں مل جاتے ہیں
02:47گل جاتے ہیں
02:49نبیوں کے اور شہیدوں کے
02:52جسموں کو چھوڑ کر بات کر رہا ہوں
02:54عام طور پر
02:56لیکن روح کیا چیز ہے
02:59اللہ تعالیٰ فرماتا ہے
03:02قرآن پاک میں
03:03اے محبوب آپ سے یہ روح کے بارے میں
03:05پوچھتے ہیں یہ کیا ہے
03:06آپ فرما دیں
03:07روح اللہ کے حکم کا نام ہے
03:10روح اللہ کا حکم ہے
03:13تو روح جس کے اندر موجود ہے
03:18اس کے ساری چیزیں ایکٹیو ہیں
03:21سب چیزیں حرکت کر رہی ہیں
03:23حتیٰ کہ آپ
03:26سننے کی جو طاقت رکھتے ہیں
03:29اس لیے کہ روح آپ کے جسم کے اندر ہے
03:32اور میں بول رہا ہوں
03:33یہ طاقت ہے
03:34اس لیے کہ روح ابھی موجود ہے
03:36ہاتھ اٹھ رہا ہے
03:39پیر چل رہے ہیں
03:41زبان مزہ چک رہی ہے
03:43آنکھیں جھپک رہی ہیں
03:45یہ ساری حرکتیں
03:47روح کے ہونے کی وجہ سے ہیں
03:49روح کا تعلق ختم ہو جائے
03:52تو جسم یہ سارے حرکتیں نہیں کر سکتا
03:54اب میں آپ کو بتا رہا ہوں
03:57تھوڑی سی چیزیں آپ توجہ لے لیں
04:01روح جب ہمارے جسم کے اندر ہے
04:04تو ہم کیا کیا کر سکتے ہیں
04:05اور روح نکل جانے کے بعد
04:09کیا نہیں کر سکتے یہ دماغ میں رکھی آپ
04:11ایک مردہ نہ ہاتھ اٹھا سکتا ہے
04:12نہ پیر اٹھا سکتا ہے نہ آنکھ کھول سکتا ہے
04:15نہ زبان سے چک سکتا ہے کچھ نہیں کر سکتا ہے
04:18لیکن روح ہونے کے وقت آپ بھی اور ہم بھی کیا کیا کر سکتے ہیں
04:23ہم اپنا ہاتھ بھی اٹھا سکتے ہیں پیر سے جہاں تک چاہے چل سکتے ہیں بول سکتے ہیں سن سکتے ہیں دیکھ سکتے ہیں سب ہے
04:30Ruh honen ke wakt
04:32Itna sab joh kar saktay hai
04:34Yeh itna hi nahi
04:36Bhalke mein aapko bata djeta ho
04:39Us ruh ki
04:41Agar koi tərbiyat karta hai
04:43To yeh ruh
04:44Usko itni taqat ata kerti
04:46Itni ki wo joh saamne harakathe
04:48Ho raha hi haat pair hilane ki
04:50Yeh berhthe berhthe berhthe
04:52Itni ho jati ki iske limitation hi nahi hai
04:55Ruh
04:57Usko itni taqat pahuncati hai
04:59Ki aaj ruh meri anndar hai
05:02Min saamne ki diware tuk dhek raha ho
05:04Or ruh taqatver ho jai
05:06To ho sakta hai
05:07Ho مشriq me bait kar
05:09Maghrib ke halat ko dhek raha ho
05:10Ho shumal me bait kar
05:13Ke jnub ke halat dhek sakta hai
05:15Ruh ki taqat
05:17Jab berht jati hai
05:18To ho sakta hai
05:20Aaj mera hath
05:21Aaj mera hath jitna lemba hai
05:24Hoa tuk ki či z chhu sakta ho
05:26Pukr sakta ho
05:27Lekin ruh ki taqat
05:29Jab berht jati hai
05:31To baithe baithe
05:32Medineh taibah se
05:33Mulkei sham me bhi
05:35Kishi ki madd kar saktta
05:36Ab me aata ho
05:39Usi gufthagu per
05:40To phir meire azizo
05:42Ruh ki terebiya
05:44Ke liye kiya karna chahiye hai
05:46Poree dunia bhar ke
05:48Aap dousere mذاheb
05:50Me bhi dhekhen ghe
05:50Religions
05:51Voh log bhi
05:53Tapasya kar raha hai
05:55Átma ki shakti
05:57Hhasil kar raha hai
05:58Alphaz alak
05:59And who power of soul
06:04Quehate hai
06:04Christian lo
06:05Hindu lo
06:07Átma ki shakti
06:09Quehate hai
06:10Us ke liye
06:11Voh dunia ko
06:12Tark kar raha hai
06:13Kuchh klamat
06:14Ke jap kar raha hai
06:15Kishi na kishi
06:16Tarha se
06:16Woha apni roh
06:17Ko bharhani ki
06:18Khošish kar raha hai
06:19To sab
06:20Adiyane me
06:21Yek ko
06:22Ek koncept
06:22Paraya jata hai
06:23Main aap ko
06:25Btaata hon
06:25Aseli roh
06:26Ki taqat
06:27Wo hai
06:28Ruh
06:29Ne ager
06:30Apenne
06:30Rab ko
06:31Pahachan
06:32Liyya
06:32To ye
06:33Sabse
06:33Bedi
06:33Taqat
06:34Var
06:34Ruh
06:36Jis
06:36Wakt
06:37Allah
06:37Rab
06:38Alizat
06:38Ko
06:38Apen
06:38Khalik
06:39Ko
06:39Pahachan
06:40Lieti
06:40He
06:40To
06:42Ruh
06:42Tabarak
06:42wa ta'ala
06:43Ki
06:43Qurb
06:44Pane
06:44Ka
06:44Jho
06:44Uska
06:45Maqam
06:45Hay
06:45Wo
06:46Vilaayet
06:46Ka
06:46Maqam
06:47Hay
06:47Wohin
06:47Se
06:48Uski
06:48Taqat
06:48Ka
06:49Azafah
06:49Ho
06:49Jata
06:49Hame
06:50Is
06:51Ruh
06:52Ki
06:52Trabiyat
06:52Kishi
06:53Kishi
06:53Karni
06:53Ruh
06:54Ki
06:55Trabiyat
06:55Kishi
06:55Kishi
06:55Kishi
06:57Dekhiyan
06:57Aap
06:57Ko
06:57Eek
06:58Simple
06:58Si
06:58Baat
06:58Bata
06:59Rahu
06:59Jism
06:59Kho
07:00Soba
07:00Nashita
07:00Na
07:01Kuro
07:01Do
07:01Pahar
07:01Ka
07:01Khanah
07:02Khanah
07:02Khao
07:14Kho
07:14Bhu
07:14Kha
07:15Kha
07:16Kha
07:16Kha
07:16Kha
07:16Kha
07:16Kha
07:16Kha
07:17Kha
07:17Kha
07:17Kha
07:18Kha
07:18Kha
07:19Kha
07:19Kha
07:20Kha
07:21Kha
07:21Kha
07:21Kha
07:22Kha
07:22Kha
07:22Kha
07:23Kha
07:24Kha
07:24Kha
07:25Kha
07:25Kha
07:25Kha
07:26Kha
07:26Kha
07:26Kha
07:27Kha
07:27Kha
07:27Kha
07:27Kha
07:28Kha
07:40Kha
07:41Kha
07:42Kha
07:42Kha
07:43Kha
07:43Kha
07:44Kha
07:44Kha
07:45but
07:46is
07:48positive
07:48we
07:49have
07:55whom
07:56the
07:56gent
08:00has
08:04甚麼
08:06går
08:07somewhere
08:07is
08:08nothing
08:09ever
08:09of
08:09internet
08:10was
08:12right
08:13کہ روح باقی ہے
08:14روح باقی ہے
08:16اور روح جب تک طاقتور ہے
08:19وہ کیا سے کیا کر سکتی
08:21تصرف اللہ upp terrorist
08:22اس کو آتا کیا ہے
08:23موت کے بعد بھی
08:24علیہ کاملین کی زندگیاں
08:26ہوں جو دیکھتے ہیں
08:27وہ اسی بنیات پر ہے
08:30کہ انہوں نے
08:31اپنی زندگیوں میں
08:32جسم سے زیادہ
08:33اپنی روح کا خیال کیا
08:35لوگ اپنی باڈی بنانے کے لیے
08:38جو محنت کرتے ہیں
08:40کوئی بات نہیں
08:41I really love it.
09:11روح کی
09:13طاقت کی طرف توجہ
09:14آج پوری دنیا
09:16اس سے دور بھاگی ہوئی ہے
09:19ساری چیزیں ہماری روحانیت
09:21نکل گئی ہم میٹل پر محنت کر رہے ہیں
09:23ہم جسموں پر محنت کر رہے ہیں
09:26ہم کپڑوں پر
09:27اپنے ظاہر پر محنت کر رہے ہیں
09:29روح کے لیے
09:31جو اولیاء کاملین
09:32کے ہاں تربیت ہوتی تھی
09:34وہ خال خال نظر آ رہے ہیں
09:36پہلے خانقاہوں میں جانتے ہیں آپ
09:38ماررہ متہرہ
09:41trabaja hindustan kee baut bada hain kaha hai jaha se alha hazret bhi bayt huye the
09:46imam ahle sunnet mujizide din o millet jahha se bayt huye
09:51wo khan ka saadat ki aalhi rasul waha pa rheyen
09:55hazrat shah hamzah ayni radiyallahu teala nye bade payake buzhruh in
10:00unke pas loog ate the terebiyat hasil krene ke liye
10:05اپنے
10:06اپنے زندگیوں
10:09کو سوارنے کے لیے
10:10یہی روح کی تربیت کے لیے
10:12تو ان کو کیا کیا کرائے جاتا تھا پتہ
10:14سب سے پہلی چیز
10:16ان کی تربیت یہ ہوتی تھی
10:18کہ جو چیز تمہاری زندگی
10:21میں حاوی ہونے کی کوشش کر رہی ہے
10:23اس سے اپنے آپ کو چھٹکارہ دلا
10:25جو تمہارے
10:27اوپر حاوی ہو رہی ہے
10:28چاہے وہ نیند ہو
10:29یا بھوک ہو
10:31یا کسی چیز کی چاہت ہو
10:34اگر حاوی ہو رہی ہے
10:35غالب ہو رہی ہے
10:36تو اس سے نجات حاصل کر لو
10:38تب تمہاری روح پاورفل ہوگی
10:40ورنہ تم غلام بن کر کے رہو گے
10:42اپنی خواہشوں کے غلام بن کر کے رہو گے
10:46ابھی من کیا
10:48بیرینی کھانے کا بھاگ کر چلے گئے
10:50تم خواہش کے غلام ہو
10:52تم ظاہری چیزوں کے غلام ہو
10:56نیند تمہیں غلام بنا کر رکھیے
10:58جب وہ آئی تو تم تو لمبے ہو گئے
11:01تمہارا کنٹرول نیند پر نہیں
11:04تمہارا کنٹرول بھوک پر نہیں
11:06بلکہ وہ چیزیں تم پر کنٹرول رکھی ہوئی ہیں
11:10تو سمجھ لو کہ تم کمزور آدمی ہو
11:12تم کمزور ہو
11:14تمہاری روح وہ طاقت نہیں رکھتی
11:16تم مجبور ہو
11:18اولیاء کاملین کو اس کے برعکس
11:22تربیت دی جاتی تھی
11:24بھوک پر کنٹرول
11:26خواہشات نفسانیاں پر کنٹرول
11:29اور نیند پر کنٹرول
11:33حتیٰ کہ میں آپ کو بتاؤں
11:35حضرت شاہ مینہ رحمت اللہ تعالیٰ علیہ
11:38لکھنوں کے بہت بڑے بزرگ ہیں
11:39وہ جب رات کو عبادت کیلئے کھڑے ہوتے ہیں
11:42انسانی فطرت کا تقاضہ ہے
11:44کہ نیند تو آتی ہے
11:45لیکن
11:47وہ یہ چاہتے تھے
11:49کہ نیند انسان کی ضرورت ہے
11:51اس کو بھی میں اپنے اوپر غالب ہونے نہیں دوں گا
11:53میں جب چاہوں سو جاؤں
11:56لیکن نیند جب چاہے
11:57تب مجھے نہ سلائے
11:58نیند میری حاکم نہیں
12:01میں اس پر حاکم ہوں
12:03آپ نے کیا کیا جانتے
12:05رات کو عبادت کے لئے
12:07روزانہ کھڑے ہو جاتے تھے
12:10ایک دن ایسا ہوا
12:11کہ جھپکی آگئی
12:12اور گر گئے
12:14اس کا ان کو اتنا افسوس ہوا
12:17کہ عبادت میں
12:18نیند نے مجھے
12:20اپنا غلام بنا دیا
12:21اللہ رب العزت کی عبادت سے
12:24مجھے نیند نے
12:25دھوکہ ایسا دے دیا
12:27کہ میں گر گیا
12:28اس کا غلام ہو گیا
12:29اس کے بعد سے
12:30رات کو جب کھڑے ہوتے تھے
12:33تو نمک میں
12:34سلائی ڈال کر
12:35اپنی آنکھوں پر سرما لگاتے تھے
12:38نمک کا سرما لگاتے تھے
12:39عام زباد نہیں
12:41سننے میں آپ کو آسان لگ رہا ہو
12:43نمک کے دو تن کے بھی
12:45اگر آنکھ میں چھلے جائیں
12:47تو کیا حالت کرتے ہیں
12:48لیکن حضرت شاہ مینہ فرماتے ہیں
12:51کہ
12:51نمک کو پوری طور پر
12:53آنکھوں پر لگاتے
12:54تو ان کے آنکھوں سے
12:55خون جاری ہو جاتا تھا
12:56لوگ کہتے بھی تھے
12:58کہ آنکھیں سرخ ہو کر
12:59خون بہتی تھی
13:00بہاتی تھی
13:01آپ سے کہا جاتا
13:03کہ آپ اس طرح سے
13:05آنکھوں کو
13:05سختی کر رہے ہیں
13:06آپ کہتے ان آنکھوں کی
13:08وہی سزا ہے
13:09جو مجھے میرے رب سے
13:10دور کر رہی ہیں
13:11نیند کا غلبہ
13:13مجھے لا کر کے
13:14اپنا غلام بناتی
13:15خواہشات کے لیے بھی
13:17انہوں نے ایسا ہی کیا ہے
13:19اپنے خواہشات پر
13:20کنٹرول جب تک آدمی نہیں کرتا
13:22اس کی روح طاقتور نہیں ہے
13:24اس کی روح
13:26کوئی طاقت نہیں رکھتی
13:27وہ کمزور آدمی ہے
13:29اسی لیے میرے عزیزوں
13:31میں جو بات کر رہا تھا
13:33حضرت شاہ حمزہ عینی
13:35ان کے ہاں جو لوگ آتے تھے
13:37کچھ تو پنڈیت بھی آتے تھے
13:39جوگی بھی آتے تھے
13:40تپسیہ کرنے کے لیے
13:41کہ صوفی سنت ہیں
13:43ان کے ہاں جو تربیت ہوتی ہو
13:45بہت عالی درجے کی ہوتی ہے
13:46آپ یہ کہتے تھے
13:48کہ انسان سب سے زیادہ
13:50کن چیزوں کا محتاج ہے
13:51کھانے کا
13:53پینے کا
13:54سونے کا
13:56یہی سب چیزیں ہیں
13:57اس پر تو وہ کنٹرول کرا ہی دیتے تھے
14:01کوئی کوئی ایسا
14:03ان کے پاس مجاہد ہوتا
14:05ریاضت کرنے والا
14:08کہ تین دن
14:09چار دن تک
14:10بغیر کھائے پیئے
14:11عبادت میں مصروف رہتے
14:12کچھ بھی نہیں
14:13اور یہ پوسیبل ہے
14:15کیونکہ اللہ نے
14:16انسان کی باڈی کو
14:18فلیکسیبل بنایا ہے
14:19اس کو جیسا بندہ
14:20ڈھالتا ہے
14:21ویسا جسم بنتا ہے
14:23کوئی چیز ہی پوسیبل نہیں ہے
14:25بزرگوں نے یہ تربیت کیا
14:27اب ایک مقام
14:29ایسا آیا
14:30کہ کھانے پینے کی بات
14:31تو چھوڑو
14:32یہ جو محتاجی ہے
14:34جو بھوک لگتی ہے
14:35اس سے تو انہوں نے
14:36کنارہ کر لیا
14:37ایک شاگرد نے ان سے کہا
14:39کہ حضور
14:40کھانے سے تو ہم
14:42محتاج نہیں ہیں
14:44جب ہم چاہیں گے کھا لیں گے
14:45بھوک ہم کو غلام نہیں
14:47بنا رہی آگئے
14:47پیاس بھی ہم کو غلام
14:49نہیں بنا سکتی
14:50لیکن یہ جو سانس لیتے ہیں
14:53اس کے تو ہم محتاج ہیں
14:54سانسوں کے بغیر
14:56تو رہ نہیں سکتے
14:57آپ نے فرمایا میں وہ بھی
15:00تربیت تمہیں کرا دوں
15:01اس کی بھی تربیت کرا دوں
15:04تو حبس نفس
15:06اولیاء کاملین کیا
15:08میں تصوف کی بات کر رہا ہوں
15:10ایک تربیت یہ بھی ہے
15:11ان کے ہاں حبس نفس
15:13حبس نفس
15:15یا حبس دم
15:16جس کو کہا جاتا ہے
15:17کیا ہے
15:17ان کو سانس روکنے
15:20کی تربیت دی جاتی تھی
15:21سانس روک لوکنے
15:23آپ اپنی ناک اور مو
15:25بند کر کے دیکھو
15:25کتنی دیر روک سکتے ہوں
15:27شاید ایک منٹ
15:28کیونکہ عادت نہیں ہے
15:31ایک منٹ سے زیادہ
15:33اپنے ناک اور مو
15:35کو پکڑ نہیں سکتے
15:36لیکن تربیت کے بعد
15:38تربیت کے بعد
15:39مارارہ متہرہ کی تاریخ میں ہے
15:42حضرت شاہ حمزہ آئینی کی بارگاہ میں
15:44جو تربیت پاتے تھے
15:46ان کو سانس روکنے کی
15:48جو تربیت دی جاتی تھی
15:50فجر کے بعد وہ سانس کو روکتے تھے
15:53تو زہر تک لے کر جاتے تھے
15:55زہر تک تک
15:57لوگوں کو ایسا لگ رہا ہوگا
16:00کہ اڑتی ہوئی باتیں ہیں
16:01نہیں میرے عزیزوں
16:02جب بندہ اپنے جسم کو
16:04ڈھالتا ہے کسی چیز میں
16:06تو اللہ تبارک و تعالی
16:07ہر چیز اس کے لئے
16:08ممکن بنا جیتا
16:09اور ہم نے دنیا میں
16:13اپنے جسموں کو
16:14آزاد کر رکھا ہے
16:15ساری دنیا
16:16اس جسم پر راج کرتی ہے
16:18خواہشات ہم پر حکم کرتے ہیں
16:20ہم ان پر کنٹرول نہیں پا رہے ہیں
16:24آج ضرورت اسی بات کی ہے
16:26کہ ہم
16:27جن چیزوں کے ایڈکٹ ہوتے جا رہے ہیں
16:30ان چیزوں کو
16:30اپنے زندگی سے دور کرتے جائیں
16:32کوئی خواہشات ایسی ہیں
16:34جو میرے اوپر حاوی ہو رہی ہوں
16:36ان خواہشات سے
16:37اپنے دامن کو چھڑانے کی کوشش کریں
16:39اور یہی تربیت بارگاہ ہے
16:42مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کی تھی
16:44ایک بات میں آپ کو بتاتا ہوں
16:46مجبوری کے عالم میں بھی
16:49اولیاء کاملین نے
16:52اپنے آپ کو دنیا کے حوالے نہیں کیا
16:55دنیا کے حوالے نہیں کیا
16:57وہ بچنے کے ہر ممکن کوشش کرتے رہے
17:00ایک بزرگ کے متعلق ہم نے پڑھا ہے
17:03حضرت مشکی رمت اللہ علیہ
17:06عراق کے ایک بزرگ
17:08لیکن وہ جوان شخص مشکی
17:12غالباً عبداللہ کچھ نام تھا
17:14بہت خوبصورت دیکھنے میں
17:17بلکل ہنسم نوجوان
17:18ایک کپڑے کی دکان پر کام کرتے تھے
17:22شہر کی ایک امیر عورت
17:25کپڑا خریدنے آئی
17:27اور وہ عیاش عورت تھی
17:28اس نے لڑکے کو دیکھا
17:29نوجوان کو
17:30اس پر فریفتہ ہو گئی
17:32بہانے سے کپڑے کی بہت بڑی
17:35تھان خریدا
17:35اور اس کے بعد
17:36اس نوجوان سے کہا
17:37کیا تم میرے محل تک پہنچاؤ گے
17:39میں اس کی وجرت دوں
17:41بھولا بھالا نوجوان
17:42کپڑے اٹھا لیا
17:43اور چل پڑا
17:44اس خاتون کے گھر جب پہنچے
17:46تو اس نے کپڑے کی وہ تھان
17:49اندر رکھوائی
17:50اور کمرے میں اسے بلا کر
17:51دروازے بند کر دی
17:53اور اس کے بعد
17:54اس نوجوان سے کہا
17:56کہ تُو اب آزاد نہیں ہے
17:58تُو میرے پاس قید ہے
17:59میں تجھے یہاں پر
18:02اس بہانے سے لے آئے
18:03اور تجھے جو چاہیے
18:04وہ میں دے دوں گی
18:05مال دولت جو بھی ہے
18:06لیکن میری خواہشات پوری کر دیں
18:09وہ کانپنے لگ گئے ہیں
18:11اللہ کا خوف
18:12اللہ کا ڈر
18:13جس کی روح
18:15مضبوط اور طاقتور ہوتی ہے
18:17ہر مسئبت سے
18:18اس کو کسی نہ کسی طرح
18:20بچا لیتی
18:20اللہ کا فضل ہوتا ہے
18:23اس نوجوان نے کہا
18:25یہ ہرگز میں نہیں کر سکتا
18:26میں نہیں کر سکتا
18:28اس خاتون نے کہا
18:30تو پھر تم یہاں سے
18:31بچ کے بھی نہیں جا سکتے
18:32کسی حالت میں
18:34تم بچ کے بھی نہیں جا سکتے
18:36اور نہ کسی کو پتا ہے
18:37کہ تم یہاں اندر ہو
18:38کل کو میں یہ الزام بھی لگا سکتی ہوں
18:40کہ تم نے میری عزت کو
18:42تار تار کیا ہے
18:43اور تمہیں
18:43میں پھانسی کی سزا بھی
18:45دلا سکتی ہوں
18:45اس نوجوان کی
18:48مجبوری دیکھیں
18:49کہ خاتون نے ایسے
18:50اس کے اوپر حاوی ہونے کی
18:51کوشش کی کہ کسی بھی طرح سے
18:53اس کو گناہ کی سرزمین پر
18:55دھکیل دے
18:56لیکن یہ نوجوان
18:59اچانک نجانے
19:01دل و دماغ میں کیا خیال آئے
19:03کہا کہ ٹھیک ہے
19:05مجھے استنجا کرنا ہے
19:08طاحت
19:08ٹائلٹ جانا ہے
19:10اس نے کہا یہیں اندر ہی ہے
19:12اندر تم فارغ ہو جاؤ
19:14تو وہ طاحت خانے میں گیا
19:17نوجوان کچھ نہیں دیکھا
19:19وہاں کی گلازت اٹھا کر
19:20کہ اپنے چہرے پر اپنے جسم پر
19:22سب لگا لیے
19:23اور باہر آیا اس خاتون کے پاس
19:25اس عورت نے دیکھا
19:27کہ بدبو اور یہ گلازت
19:30یہ جسم پر
19:31وہ چیخ مار کر دروازے کھول دی ہے
19:33کہ کوئی پاگل آیا
19:34اس کو گھر سے نکالو
19:35جلدی یہاں سے نکالو اس کو
19:38تو سارے لوگوں نے پکڑ کر کے
19:41ان کو نکال دیا
19:41ایک پاگل نوجوان گھر کے اندر
19:43کیسے گھس آیا
19:44ان کو اس کی نہیں پڑی تھی
19:47کہ مجھے لوگ پاگل کہیں
19:48لوگ میری بدبو کو دیکھیں
19:50لوگ مجھے گلازت ملا ہوا شخص کہیں
19:52کچھ فکر نہیں تھی
19:54وہ نوجوان وہاں سے نکلا
19:57اور راستے میں ایک گوئے میں جا کر
19:59اس نے غسل کیا
20:01روایت میں موجود ہے
20:03اس کے بعد سے ہر دن
20:04ان کے جسم سے مشک کی خوشبو آتی تھی
20:07اللہ تبارک و تعالیٰ کے لیے
20:10جب بندہ
20:10اپنے جسم کو بچھا لیتا ہے
20:13تو رب تبارک و تعالیٰ
20:15اس کو ہمیشہ کے لیے
20:16محفوظ کر دیتا ہے
20:17یا خوشبودار کر دیتا ہے
20:19یہ بات میں اس لیے ارز کر رہا ہوں
20:21کہ جن لوگوں نے خواہشات پر
20:24کنٹرول پا لیا
20:25وہ تھوڑی دیر کی تکلیف تو ہو سکتی ہے
20:29لیکن ہمیشہ کے لیے
20:31اللہ عزوجلہ
20:32اسی عزت بخشتا ہے
20:33کہ آپ اس کو گمان بھی نہیں کر سکتے
20:35گمان بھی نہیں کر سکتے
20:38آج
20:38ہمارے روحوں کی تربیت کی ضرورت ہے
20:42جسم سے زیادہ روح کی تربیت کرو
20:45اور جس کی روح خلیظ ہو گئی ہے
20:47اس روح کا
20:49لوگوں کے درمیان رہنا
20:51ایک مردے کی طرح ہے
20:53مردے کی طرح ہے
20:55اسی لیے
20:57میں نے دیکھا ہے
20:58تاریخ میں آپ کو پتا ہے
21:00حضرت سابر کلیری رحمت اللہ تعالیٰ علیہ کے متعلق
21:04آپ نے سنا ہو گا
21:06کہ آپ کے مرید نے پوچھا تھا
21:09کہ فنا اور بقا کیا چیز ہے
21:11تو آپ نے فرمایا تھا کہ میں تم کو بعد میں بتاؤں گا
21:15فنا اور بقا
21:16فنا کا مطلب ختم ہو گیا
21:18بقا کا مطلب باقی رہنے والا
21:20تو آپ کا انتقال ہوا
21:23آپ کا غسل
21:25کفن
21:26سب کر کے
21:27جنازے کے لیے رکھا گیا
21:28تو کون آگے بڑے نماز پڑھانے کے لیے
21:30صفیں لگیو بھی تھی
21:32ہزاروں کی تعداد میں لوگ موجود تھے
21:34ایک گھڑ سوار آئے
21:36چہرے پر کپڑا پڑا تھا
21:39سیدھے وہ امامت کے آگے بڑھ گئے
21:41نماز پڑھا لیا
21:42سارے لوگ ان کے پیچھے نماز بھی پڑھ لی
21:45کسی نے پوچھا نہیں
21:46اور وہ آئے ہوئے بزرگ
21:48نماز جنازہ پڑھا کر نکل رہے تھے
21:52تو ان کے وہ مرید خاص
21:54جو صابر کلیری کے تھے
21:56انہوں نے ان کو پکڑا
21:56اور پوچھا آپ کون ہیں
21:58مارے پیرو مرشد کی نماز جنازہ پڑھانے
22:01ہوئے آپ کون ہیں
22:02اچانک آئے اور پڑھا کر جا رہے ہیں
22:04کپڑا انہوں نے چہرے سے ہٹایا
22:07تو وہ صابر کلیری ہی تھے
22:08تعبیر علاہ الدین کلیری
22:12ہو سکتا ہے
22:13آج کے موڈرن زمانے میں
22:15لوگ اس کو
22:16کہانی سے تعبیر دیں
22:18آپ نے فرمایا
22:20تم نے مجھ سے سوال کیا تھا
22:22فنہ اور بقا کیا چیز ہے
22:24وہ جنازے میں فنہ ہے
22:26اور یہ تیرے سامنے ہے
22:27یہ بقا
22:28جس نے روح کی تربیت کی
22:31اپنی زندگی میں
22:32اللہ تعالی موت کے بعد بھی
22:34اسے تصرف عطا کرتا ہے
22:35اسے تصرف عطا کرتا ہے
22:38صحیح روایات میں موجود ہے
22:41کہ جس نے
22:42اپنی روح کو
22:43اللہ اور اس کے
22:44رسول کے حوالے کیا
22:45اللہ اس کی جسم کی بھی
22:47فاظت کرتا ہے
22:48صرف روح کی نہیں
22:49جسم کی بھی
22:50شہدہ احد کے بارے میں
22:52دیکھیں
22:53شہدہ بدر کے بارے میں
22:54کہ ان کے جسم بھی نہیں
22:56سڑے گلے
22:57خبروں میں
22:58برسوں تک
22:59اسی طرح سے رہے ہیں
23:00انیس سو پینٹیس میں
23:02انیس سو پینٹیس میں
23:03عراق میں
23:04بغداد کے دریائے دجلہ کے
23:06کنارے دو صحابہ کی
23:08قبریں تھی
23:08حضرت حزیفہ بن یمان
23:10حضرت عبداللہ بن جابر
23:12ان کی قبروں میں
23:13پانی بھر گیا تھا
23:14تو قبریں کھولی گئی تھی
23:16انیس سو پینٹیس کی بات کر رہا تھا
23:18تقریباً
23:20تیرہ سو سال کے بعد
23:21ان کی قبریں کھولی گئی
23:23تو دونوں صحابی جسموں کے ساتھ
23:25صحیح سلامت آرام کر رہے تھے
23:27اخبار کی کٹنگ بھی آج بھی لگی بھی ہے
23:30عراق میں موجود ہے
23:31انیس سو پینٹیس بہت دور کی بات نہیں کر رہا ہوں
23:34سو سال نہیں گزرے بھی
23:35نبے سال پہلے کی بات
23:36ان کے جنازے وہاں سے اٹھائے گئے
23:39اور بغداد سے پینٹیس کلومیٹر دور لے جا کر
23:42حضرت سلمہ نے
23:43فارسی کی قبر کے بغل میں
23:45ان دونوں کو دفن کیا گیا
23:47یہ تاریخ موجود ہے
23:49وہ صحابہ
23:50وہ صحابہ جن کی قبروں میں
23:52ان کے جسم تیرہ سو سال تک باقی ہیں
23:55کہنا یہ ہے
23:57جس نے اپنی روح کو
23:58اللہ کے حوالے کر دیا
24:00اللہ اس کے جسم کی بھی حفاظت کرتا
24:02اور جو صرف جسمانی خواہشات کے لیے جی رہا ہے
24:06اس کے جسم کا حال تو یہ ہے
24:09ادھر روح نکلی
24:10ادھر جسم میں بدبو شروع ہو گئی
24:12ادھر روح نکلی
24:15جسم پھلنا پھولنا شروع کر دیا
24:17عزیزہ نے کہا میں وقار
24:20ہمارے ان جسموں کی اوقات کتنی ہیں
24:23میں آپ کو بتاتا
24:23گفتگو کو سمیٹتے ہوئے صرف اتنی بات ارز کروں
24:27کہا گیا ہے کہ قبر میں
24:29ہماری تختیاں بند کر کے
24:30جب لوگ چلے جاتے ہیں
24:32قبر کی مٹی میں
24:34آپ کو اندازہ ہے
24:36آپ ممبئی کی قبرستانوں کو دیکھتے ہیں
24:38اور بہت جلدی یہاں قبریں کھولی بھی جاتی ہیں
24:41لیکن جہاں نہیں کھولی جاتی ہیں
24:44وہاں کے لیے بھی میں بتا رہا ہوں
24:45دفن کر کے چلے جانے کے بعد
24:48ایک دن کے اندر
24:50صرف ایک دن
24:52چوبیس گھنٹے جب گزر جاتے ہیں
24:54تو پیٹ میں کا اور دماغ میں کا
24:57پورا پانی
24:58پیپ کے ذریعے سے
24:59یا کسی طرح سے
25:00اس کے ناک اور مو سے باہر نکل جاتا ہے
25:02اس کے کانوں سے
25:04سب نکل جاتا ہے
25:06اور اس کے بعد
25:07دن جیسے جیسے گزرتے جاتے ہیں
25:09اگر قبر کے حشرات
25:12یعنی کیڑے مکوڑے
25:13اس کے جسم کو کھانے لگ گئے
25:15تو بہت جلدی
25:16بہت جلدی وہ گلنا شروع کر دیتا ہے
25:20تین دن کے اندر
25:21پیٹ پھٹ جاتا ہے
25:24اور پیٹ کے پھٹ جانے کے بعد
25:26جو تعفن نکلتا ہے
25:28اس کی چیزیں سب اس کی باہر ہو جاتی ہیں
25:31اور
25:32اس کے بعد
25:34نو دن گزر جاتے ہیں
25:36یا دس دن گزر جاتے ہیں
25:38تو جسم کی ساری چمڑی پک جاتی ہے
25:41پوری چمڑی میں
25:43چاہے اس کو جتنے بھی حفاظت سے رکھا جائے
25:46روح نے ساتھ چھوڑ دیا ہے
25:49تو اب جسم
25:49ترتی وار
25:51ایک ایک چیزیں اس کی ختم ہوتی چلی جاتی ہیں
25:54اس کے ناک سے
25:56اس کے کان سے
25:57اس کے موں سے گودا باہر نکل آیا
25:59پیٹ پھٹ گیا
26:01اب چمڑی گلنے لگ گئی
26:03پھر اس کے چالیس دن گزرنے والے ہوتے ہیں
26:07کہ ہڈیاں سب باہر نکلنے لگ جاتی ہیں
26:09دیکھتی ہیں
26:10ہڈیوں کا اظہار ہو جاتا ہے
26:13چہرہ کسی حد تک رکھا جاتا ہے
26:16کہا گیا کہ مہینہ گزر جاتا ہے
26:19کہ اس کی آنکھوں کی پتلیاں بھی باہر نکل جاتی ہیں
26:22مہینہ دو مہینہ گزرتا ہے
26:25کہ اس کے بعد پھر
26:26جسم کے اندر جتنی نرم چیزیں تھی
26:30سب نکل جاتی ہیں
26:31پھر دھانچہ واقعی رہ جاتا ہے
26:32اور دھانچہ ہڈیاں بھی اپنے آپ میں ٹوٹنے لگ جاتی ہیں
26:38اس کے پیروں کی ہڈیاں
26:40اس کے کمر سے الگ ہو جاتی ہیں
26:42اس کے گھٹنے سے اس کے ران کی ہڈیاں الگ
26:45اس کے بازوں کی ہڈیاں الگ
26:47اسی لیے چھ مہینے سال بھر کے بعد
26:50جب آپ قبر کو دوبارہ کھود رہے ہوتے ہیں
26:52تو پورا دھانچہ کسی کو نہیں ملتا
26:54کسی کی گھٹنے کی ہڈی
26:58کسی کے سر کی کھوپڑی
26:59اور کسی کے پیر کی ہڈی
27:01یہی سب چیزیں ملتی ہیں
27:02یہ جسم سب چھوڑ چکا ہوتا ہے
27:04یہ وہی جسم ہے جس کو ہم
27:06گھنٹوں آئینے کے سامنے سجا رہے ہوتے ہیں
27:09یہ وہی جسم ہے
27:11جس کے اوپر ہم اپنی محنت خرچ کر رہے ہیں
27:14چاہے وہ جین میں جا کر
27:16میں نہیں کہتا کہ فٹ نہیں رہنا چاہیے
27:19فٹ رہنا چاہیے
27:20لیکن یہ نہیں ہے کہ کل محنت
27:22ہم اپنے جسم پر لگا ہے
27:23اور روح کا خیال بھی نہیں کیا
27:25روح کا خیال ہی نہیں کیا
27:28تو یہ جسم جس وقت ساتھ چھوڑ دیتا ہے
27:31تو میرے عزیزو بہت برا حشر ہو جاتا ہے
27:34مولا علی کرم اللہ وجہ الكریم
27:37ایک بار قبرستان تشریف لے گئے
27:39قبروں کو سلام کیا
27:41سلام علیکم یا اہل القبور
27:43اور اس کے بعد
27:44وہ مولا کائنات ہیں
27:46قبر والوں سے یوں کہتے ہیں
27:48کیف احوالکم یا اہل القبور
27:51اے قبر والے
27:52تمہارے حالتیں کیا ہیں
27:54سعید ابن مسیب حضرت علی کے ساتھ تھے
27:57حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ کے شاگرد
28:00مدینہ کے مشہور تابعی
28:03سعید ابن مسیب کہتے ہیں
28:05میں مولا علی کو دیکھ رہا تھا
28:06وہ قبر والوں سے پوچھ رہے ہیں
28:08تھوڑی ہی دیر کے بعد
28:09آپ کی آنکھوں سے
28:10موٹے موٹے آنسوں کے قطرات نکلنے لگے
28:13اور دھاروں قطار آپ رونے لگے
28:15سعید ابن مسیب پوچھتے ہیں
28:18مولا علی کرم اللہ وجہ الكریم سے
28:20کہ سرکار آپ ان سے بات کر رہے ہیں
28:23اور رو کس بات پر رہے ہیں
28:25مولا علی نے فرمایا
28:26میں نے ان سے صرف اتنا پوچھا
28:28کہ تمہاری حالتیں کیا ہیں
28:30تو قبر والوں نے مجھے جواب دیا
28:32اے علی ہماری کیا حالتیں پوچھتے ہو
28:35اس چہرے کو رب تبارک و تعالی نے
28:37بچوں کی غزہ بنا دیا ہے
28:39جس کو ہم سجایا کرتے تھے
28:41ان بالوں کو جن میں ہم کنگا کرتے تھے
28:44پیپ نکل آیا ہے
28:46کیڑے کھیچ رہے ہیں
28:47ہماری ان آنکھوں کو آج خیرہ کر دیا گیا ہے
28:51ان آنکھوں کو سیاہ کر دیا گیا ہے
28:54ہمارے وہ بازو جس پر ہمیں بڑا ناز تھا
28:58ہم آج ہلا بھی نہیں پاتے
28:59اور ان کو بڑی مضبوطی کے ساتھ
29:01توڑ دیا گیا ہے
29:02ختم کر دیا گیا ہے
29:04حضرت علی کرم اللہ وجہ والکریم
29:06سعید ابن مسید سے کہتے ہیں
29:08قبر والوں کی یہ جواب پھن کر
29:10بتاؤ کیا میں مسکرا سکتا ہوں
29:13کیا میں ہن سکتا ہوں
29:14تو پھر اللہ کا خوف ہے
29:16کہ میں زارو قطار رو پڑا
29:18میرے عزیزو
29:19ہم سب بھی اسی منزل کے راہی ہیں
29:21ہم بھی اسی آخری مکان کے مسافر ہیں
29:25جہاں ہم سب کے ساتھ یہ ہونا ہے
29:27اس لیے
29:28جب تک رب تبارک و تعالی نے
29:30ہمارے جسم میں روح باقی رکھا ہے
29:33اس روح کی توجہ کرو
29:34اس کی تربیت کرو
29:36ورنہ وقت گزر جانے کے بعد
29:38قرآن پاک میں ہے
29:40کئی ایسے لوگ ہیں
29:41کئی ایسے لوگ ہیں
29:42جو کہتے ہیں رب تعالی سے
29:44کیا کہتے ہیں
29:46اے اللہ
29:49اگر کاش ایک بار
29:51ہم کو تو لوٹا دے
29:52کنہ نعمل
29:53ہم بہت اچھا عمل کریں
29:56عملاً صالحہ
29:57ہم نیک بن کر کے آئیں
29:58ہم لوٹا دیے جائیں
30:01اگر ایک بار ہمیں دوبارہ
30:03دنیا میں بھیج دے
30:04ہم پکے مومن بن کر کے آئیں گے
30:07ہم نیک عبادتگار بن کر کے آئیں گے
30:09رب تعالی فرماتا ہے
30:11کل اللہ
30:11ہرگز نہیں
30:12جو وقت تھا وہ بیٹ چکا
30:14اب عمل کا وقت نہیں
30:16اب صرف حساب کا وقت ہے
30:18اب صرف حساب کا وقت ہے
30:20اسی لیے عربی میں
30:21ایک مقالہ میں پڑھتا تھا
30:23اپنے طالب علمی کے زمانے میں
30:25میں نے تو اپنے سرانے پر
30:26اس کو لگایا ہوا تھا
30:27حاسبو قبل ان تحاسبو
30:30اپنا حساب پہلے پورا کر لو
30:32اس سے پہلے کہ
30:34تمہارا حساب لیا جائے
30:35اپنا کیلکولیشن پورا
30:37کرک کر کے رکھ لو
30:39کہ اس سے پہلے کہ
30:40تمہارا حساب لیا جائے
30:42عزیزہ نگرامی
30:43ڈا آج ہماری زندگی آئیسی ہیں
30:45ہم انکم ٹیکس کے ڈر سے
30:47تو اپنا حساب پورا
30:48صحیح کرنے کی کوشش تو کرتے ہیں
30:50سی اے کو دے دیا
30:51اس کو دے دیا
30:52سب سے پوچھتاج کر کے
30:53کہ کہیں کوئی لیپ ہولز نہ رہ جائے
30:55تاکہ ہم پکڑ میں نہ آئیں
30:57بینکوں کے معاملات صحیح کر رہے ہیں
30:59کہ کہیں ہم ایڈی کے چھاپے میں نہ آ جائے
31:02انکم ٹیکس کے چھاپے میں نہ آ جائے
31:03یہ زیادہ سے زیادہ ہے
31:05why can't you do that?
31:35ھائیں گے وہ رشوت بھی نہیں لیتے ہیں وہ کسی کے بارے میں سفارش
31:39کو قبول بھی نہیں کرتے ان کا حال تو یہ ہے جتنا رب نے ان کو حکم
31:43دیا وہ پورا کر کے ہی رہتے ہیں اگر فرشتہ رشوت لینے والا ہوتا
31:49تو کتنے تو مالدار پیسے دے کر اسرائیل علیہ السلام سے جان
31:53تو بچا لیتے اپنے روح نکالے جانے سے بچا تو لیتے جہاں بندہ
31:58ڈاکٹروں کو پیسے دیتا ہے ملک الموت کو بھی تو دے سکتا تھا
32:02لیکن پوری دنیا کو یہ معلوم ہے کہ یہ فرشتہ رشوت نہیں لیتا
32:06نہ ہی یہ کسی کو ایک منٹ آگے پیچھے ہونے دیتا ہے
32:10جب یہ سارے معاملات تیہ ہیں اور سب کو معلوم ہے
32:14تو آؤ میرے عزیزو اس بارگاہ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم میں
32:19جہاں میرے آقا صلی اللہ علیہ وسلم نے انسانوں کی تربیت فرمائی
32:24ان کی روح کی تربیت فرمائی وہ کون تھے جو صحابہ بنے
32:28شراب کی زندگیاں ان کی بھی تھی جوہے کی زندگیاں ان کی بھی تھی
32:32بچیوں کو پیدا ہوتے ہی گردن مرور کر کے مار دینے والی زندگیاں ان کی بھی تھی
32:37ماں اور بہنوں کو بازاروں میں میلام کر دیا جاتا تھا
32:42عرب کی یہ زندگی تھی لیکن ایک عرب نے آدمی کا بول بالا کر دیا
32:47حاک کے ذروں کو ہمدوش سریعہ کر دیا
32:51خود نہ تھے جو راہ پر اوروں کے حادی بن گئے
32:54کیا نظر تھی جس نے مردوں کو مسیحہ کر دیا
32:58میرے آقا صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر ان کو کس مقام پر پہنچایا
33:04یہ وہ عرب کے بددو لوگ تھے جن کو دنیا وحشی کہتی تھی
33:09مگر میرے مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کی تربیت میں آئے
33:13تو پھر مقام یہ بنا اصحابی کا نجوہ
33:16خود میرے آقا نے فرمایا میرے صحابہ ستاروں کی مانند ہے
33:20جس کی بھی پیروی کروگے ہدایت پا جاؤگے
33:23ان کو بلند مقام واتا کیا کہ چھاند بھی ان کو دیکھے تو رشک کریں
33:28وہ مقام میرے آقا کی اس جلوت خانے میں
33:31اس خلوت قدے میں ہوا ہے
33:33اسی لئے دنیا کی یونیورسٹیاں
33:36دنیا کے سکول جسم تو بنا سکتے ہیں
33:40اور مدینہ کا دربار تمہاری روح کو بناتا ہے
33:44روح کو بناتا ہے
33:45بارگاہ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم میں
33:48ہم اپنے آپ کو سرندر کریں
33:49اور اسی لئے میرے آقا نے فرمایا
33:51لا یؤمن احدکم حتی یکون ہواہو
33:55طبعا لما جئتو بھی
33:56اس وقت تک تم میں سے کوئی بھی مومن نہیں ہو سکتا
34:01جب تک اپنی خواہشات کو میری مرضی کے مطابق نہ بناتے
34:05جب تک آپ اپنی خواہشات کو
34:08رسول اللہ کی مرضی کے مطابق نہیں کرتے
34:11تب تک تو پکے مومن بھی نہیں ہیں
34:13اسی لئے آج یہ احد کرو
34:16کہ ہمارا جینا مرنا حضور کی مرضی کے مطابق ہوگا
34:19حضور پاک کی مرضی کے مطابق ہو
34:21تو پھر روح بھی طاقتور ہوگی
34:23اسی لئے میرے مرشید نے کہا
34:25زندگی یہ نہیں کسی کی کسی کے لئے
34:28زندگی ہے نبی کی نبی کے لئے
34:31ارے نا سمجھ مرتے ہیں زندگی کے لئے
34:34جینا مرنا ہے سب کچھ نبی کے لئے
34:37یا رسول اللہ دہن میں زبان تمہارے لئے
34:40بدن میں ہے جام تمہارے لئے
34:42ہم آئے یہاں تمہارے لئے
34:45اور اٹھے بھی وہاں تمہارے لئے
34:47جب بندے کا یہ عقیدہ بن جائے
34:49تو پھر دیکھو اس کی زندگی میں
34:51انقلاب کیسے آتا ہے
34:53رب تبارک و تعالی ہم سب کو
34:55ہمارے کمزور جسموں سے نجات عطا کر
34:58مضبوط روحانی طاقت عطا فرمائے
35:01مولا کریم ہماری آنکھوں میں
35:03نور مصطفیٰ عطا فرمائے
35:05ہمارے دل کے وسوسوں سے محفوظ فرمائے
35:08ہمارے بازوں میں قوت حیدری عطا فرمائے
35:11مولا کریم اس پوری امت کو
35:13اصلاح کی توفیق عطا فرمائے
35:15رب العالمین ہمارے درمیان
35:17صلاح الدین پیدا فرمائے
35:19ہمارے درمیان خالد ابن ولید
35:21کے نقش قدم پر چلنے والا جوان
35:23عطا فرمائے
35:24صحابہ کا سچا شہدائی عطا فرمائے
35:27غوث و خاجہ کا غلام
35:29ہمارے خاندانوں میں عطا فرمائے
35:31رب العالمین ہماری جمعہ کو قبول فرمائے
35:34حاضرین کے سجدوں میں لذتیں عطا فرمائے
35:37و آخر دعوانا
35:38الحمدللہ رب العالمین
35:40السلام علیکم
Comments