Skip to playerSkip to main content
  • 9 months ago

Category

📚
Learning
Transcript
00:00Iblis کی جنت سے نکالے جانے کے بعد ایک ہی سوچ تھی کہ وہ ایسا کیا کرے جس سے سعیدنا آدم علیہ السلام کو رسوہ کرس کے ایک دن Iblis نے دیکھا کہ جنت کے تمام دروازے بند ہیں مور اور سامپ باہر کھڑے ہیں ان کو دیکھ کر Iblis نے چال چلنے کا سوچا
00:20Iblis فوراں جنت کے دروازے پر کھڑے مور کے پاس پہنچا اور ہمدردانہ لہجہ اپنا کر کہنے لگا کہ بہت جلد تمہیں اور آدم علیہ السلام کو جنت سے نکال دیا جائے گا
00:35ایسا کرو تم مجھے جنت میں لے جاؤ تو بدلے میں تمہیں ایک ترکیب بتاؤں گا میں دعویٰ کرتا ہوں جس پر عمل کر کے تم اور آدم علیہ السلام کبھی جنت سے نہیں نکلو گے
00:48مور Iblis کی بات سوان کر فکر مند ہو گیا کچھ دیر سوچنے کے بعد کہنے لگا کہ تمہاری بات تو میرے دل کو لگی ہے لیکن میں تمہیں اندر کیسے لے کر جاؤں
01:02وہ بھی اتنے محافظوں کے ہوتے ہوئے تو Iblis نے فوراں جواب دیا کہ کیا تم نہیں جانتے میں منتر پڑھ کر خود کو ایک موٹی میں تبدیل کر سکتا ہوں
01:15تم مجھے اپنے منہ میں دبا کر جنت کے اندر لے جانا یہ کہہ کر Iblis نے منتر پڑھا اور خود کو چھوٹے موٹی میں بدل لیا پھر مور نے Iblis کو اپنے منہ میں رکھ کر جنت میں داخل ہوا
01:30یوں Iblis ملون ایک مور کی مدد سے جنت میں داخل ہو گیا یہ مور Iblis کو منہ میں لے کر سیدھا امہ ہوا کے پاس پہنچ گیا
01:41وہاں پہنچ کر Iblis نے دوبارہ خود پہ منتر پھونکا اور انسان کی شکل میں آ گیا
01:47انسانی شکل میں آنے کے بعد اس نے امہ ہوا کو ورغلانے کی کوشش کی اور کہنے لگا
01:55اگر آپ نے اس درخت کا پھل نہ کھایا تو آپ کو جنت سے نکال دیا جائے گا
02:02امہ ہوا بولے یہ درخت تو ممنوع ہے اس کا پھل کھانے سے منہ فرمایا گیا ہے
02:09Iblis دوبارہ بولا کہ اس درخت کا پھل نہ کھایا گیا تو آپ کو اور آدم علیہ السلام کو جنت سے نکال دیا جائے گا
02:20Iblis ملون آخرکار اپنے مکر میں کامیاب ہو گیا اور امہ ہوا نے اس کی باتوں میں آ کر ممنوع درخت کا پھل کھا لیا
02:30اور پھر حضرت آدم علیہ السلام کے پاس پہنچی اور فرمانے لگیں
02:35کہ میں نے اس درخت کا پھل کھا لیا ہے جسے کھانے سے منہ فرمایا گیا تھا
02:42اور اب بھی اس کا پھل کھا لیں تاکہ ہم ہمیشہ جنت میں رہ سکیں
02:47حضرت آدم علیہ السلام فرمانے لگے ہائے افسوس تم نے یہ کیا کر دیا
02:54Iblis کے مکر میں آنے والی امہ ہوا نے سیدنا آدم علیہ السلام کو مجبور کیا
03:01کہ وہ بھی اس درخت کا پھل کھا لیں
03:03پھر آدم علیہ السلام نے بھی ایسا ہی کیا
03:08اور پھر اب دونوں کو جنت سے بے دخل کر دیا گیا
03:13مور یہ سارا معاملہ دیکھ رہا تھا
03:15کیونکہ مور بھی Iblis کے مکر میں آ گیا تھا
03:19اس لئے مور اور اس کا ساتھ دینے والے سامپ کو بھی جنت سے نکال دیا گیا
03:25یوں سیدنا آدم علیہ السلام
03:30امہ ہوا مور اور سامپ جنت سے آتر کر زمین پر آگے سوال یہ پیدا ہوتا ہے
03:37کہ امہ ہوا اور سیدنا آدم کے زمین پر اترنی سے پہلے یہاں کیا تھا
03:42اور کونسی مخلوق آباد تھی اور دنیا کیسے وجود میں آئی تھی
03:48اور جنت اور آسمان کی تخلیق کیسے کی گئی تھی
03:53یہ سب تفصیلات آپ کے ساتھ شیئر کرنے جا رہا ہوں
03:58دوستوں جو ممنو پھل تھا
04:00اس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ گندم تھا
04:04اسی گندم کو پھر انسان کی خوراک بنا دیا گیا
04:08اور انسان اب بھی گندم کی طلب میں رہتا ہے
04:12اور گندم کھا کر اپنے جسم کو طاقت فراہم کرتا ہے
04:17اور اب بات کرتے ہیں
04:18مور کی تو وہ میرے ربو کی بہت پیاری تخلیق ہے
04:22اس کی خوبصورتی دیکھ کر انسان اس میں مگن ہو جاتا
04:26جس طرح اممہ ہوا ابلیس کے فریب میں مگن ہے کر
04:31گندم کا پھل کھا بیٹھی تھی
04:33جب آدم علیہ السلام اممہ ہوا مور اور سامپ کو زمین پر اتارا گیا
04:41تو اس وقت یہ زمین بچھی ہوئی تھی
04:44اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اس وقت زمین پر کیا تھا
04:48اس وقت اللہ کا فرمان یاد آتا ہے
04:52کہ ہم نے زمینوں اور آسمانوں کو چھے دنوں میں تخلیق کیا ہے
04:56ایک جگہ ارشاد ہے کہ اس زمین پر پہلے کچھ بھی نہیں تھا
05:02سوائے پانی کے
05:03تو دوستو یہ معلوم ہوا کہ اس زمین پر آباد ہونے سے پہلے پانی ہی پانی تھا
05:10اور کچھ نہیں تھا اور پھر اللہ تعال نے زمین کو پانی پر بچھایا
05:15اگر بات کریں تفاصیل کی تو یہ بات بھی سانے آتی ہے
05:19جب اللہ نے زمین کو پانی پر بچھایا تو یہ زمین حل رہی تھی
05:25پھر اللہ پاک نے زمین کے اوپر پہاڑوں کو گاہ دیا
05:29جس وجہ سے زمین نے ہلنا بند کر دیا
05:32اور ایک جگہ ٹک گئے
05:34پانی ایسی چیز ہے جس سے اللہ تعال نے مختلف قسم کی مخلوقات کو پیدا فرمایا
05:41اور پانی کو زندگی کی بنیاد بنایا
05:43اور کہتے ہیں کہ آدم علیہ السلام سے پہلے آسمان بھی نہ تھے
05:49تو اللہ تعال نے دو دنوں میں ساتوں آسمانوں کو بنایا
05:54آسمانوں سے پہلے صرف دھوان ہی دھوان تھا
05:57اور کچھ نہ تھا پھر اللہ تعال نے دھوئی سے آسمان بنایا
06:02جب اللہ تعال نے آسمان تخلیق فرمائے
06:06تو اللہ تعال فرماتا ہے
06:08کہ ہم نے آسمانوں میں ستاروں کی مانند چراغ روشن کر دیئے
06:13یعنی اسمان دنیا میں اللہ تعال نے ستارے پیدا فرمائے
06:18جو رات کو چمکتے ہیں
06:20یاد رہے کہ اللہ تعال نے چار دنوں میں زمین اور اس کا سارا نظام بنایا
06:27یہ پہاں، جنگل، دریا، سمندر، سہرہ اور بیک
06:33یہ سب اللہ تعال نے اپنے حکم سے صرف چار دنوں میں تخلیق فرمایا
06:39اور پھر اللہ تعال نے آسمانوں سے بارش برسائی اور زمین پر ترہ ترہ کے پھل درخت، پودے اور سبزہ آگا دیا
06:48دوستو معلوم ہوا کہ جب سیدنا آدم علیہ السلام نہیں تھے
06:55تب بھی یہ کائنات موجود تھی
06:57جب آدم علیہ السلام کو اللہ تعال نے پیدا کرنے کا ارادہ فرمایا
07:03تو اللہ تعال نے اس کائنات کو تخلیق فرمایا
07:06اور جب آدم کو پیدا فرمایا
07:10تو اللہ تعال نے پہلے تو ان کو جنت میں رکھا
07:13اور پھر ابلیس ملون کے مقر میں آ جانے کی وجہ سے
07:17سیدنا آدم علیہ السلام کو جنت سے نکال کر زمین پر بھیجا
07:22یہ سب اللہ تعال کی حکمت تھی
07:26کیونکہ اللہ تعال نے زمین کو آباد فرمانا تھا
07:29دوستو روایات میں یہ بات ملتی ہے
07:32کہ یمن سے کچھ لوگ خاتم النبین حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
07:38کے خدمت میں دین سیکھنے کے لیے حاضر ہوئے
07:42تو انہوں نے یہ سوال کیا کہ یہ کائنات کیسے پیدا ہوئی
07:47جس پر اب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا
07:51کہ جب یہ کائنات موجود نہیں تھی
07:54تو تب اللہ تعال کی ذات موجود تھی
07:56تب اللہ پاک کا عرش پانی پر موجود تھا
08:00اس کے بعد اللہ تعال نے آسمانوں اور زمینوں کو پیدا فرمایا
08:05اور لعا محفوظ میں ہر چیز کو لکھ دیا
08:09دوستو اللہ تعال کی ذات تب بھی موجود تھی
08:12جب کچھ نہ تھا جب ہر طرف پانی ہی پانی تھا
08:16اور دھوان ہی دھوان تھا
08:17اور اللہ تعال کی ذات اب بھی موجود ہے
08:22اور ہمیشہ موجود رہے گی
08:24نہ وہ کسی سے ہے نہ اس سے کوئی ہے
08:26وہ واحد ہے جسے نہ انگ آتی ہے نہ نیند
08:30صرف اللہ ہی کی ذات بابرکت ہے
08:34جو عبادت کے لائق ہے
08:36اور تمام جہانوں کو پیدا فرمانے والی ذات
08:39اللہ ہی کی ہے
08:40زمینوں کو آسمانوں کو جنت اور دوزخ کو
08:45پیدا کرنے والی ذات اللہ ہی کی ہے
08:48اللہ تعال کی مخلوقات کتنی پوشیدہ ہیں
08:52اور کہاں کہاں ہیں
08:54یہ اللہ تعال ہی جانتا ہے
08:56نہ ہم اللہ تعال کی قدرت کو سمجھ سکتے ہیں
08:59نہ اس کے علم کو سمجھ سکتے ہیں
09:02اور انسان کی عقل محدود ہے
09:05انسان صرف اتنا ہی جانتا ہے
09:09جتنا کہ اللہ تعال نے اس کو علم دیا ہے
09:12اور اس سے زیادہ کچھ نہیں جان سکتا
09:15اللہ تعال بہتر علم رکھتا ہے
09:18اور بہتر حکمتوں والا ہے
09:20بہتر حکمتوں کو سمجھ سکتے ہیں
09:25بہتر حکمتوں کو سمجھ سکتے ہیں
Comments

Recommended