00:00один
00:01weeks
00:14when
00:16the
00:18June
00:20the
00:21former
00:23first
00:24second
00:27a different place and a question
00:29one question
00:30one question
00:31one question
00:32one question
00:33one question
00:34this is not a Нuit
00:35anointing
00:36it was a question
00:38which was the place
00:39was the sound of Hussain's
00:41and the sound of the
00:43and the hearers
00:44was the time
00:45a bit of a
00:48a strange
00:50which had his heart
00:52was the one
00:53two sides
00:55and its
00:56It was a strange way that they were saying,
00:59Yeah, Hussein!
01:01This is an imam baray face,
01:03a small chai chai was a big one.
01:07This is a big one that was so easy that it was a big one.
01:11A big stove, a big stove, a big stove,
01:14a big stove, a big stove, and a big stove.
01:15This is where Ali was written.
01:19But this is a big one that was in the world.
01:21Ali was a man who was 40-40.
01:24ुs kya huwa wakt gė pray kya ka hva kya
01:28ुs ke hatho me chai ke piyalo ke d against he
01:30ुs ke aankhau men kodaasi
01:32U s ke dill me e khaamuši yos shayid
01:35sadi home purani thi
01:36ॅm koon ho
01:38ुs ee kyay wala
01:40jho loogeun ke liye chai buna ta hai
01:42Pyr khud ke liye kya
01:43ुhe sawal us ke zhen me akstar atah
01:46Pyr jawab kabhi nöhi mila
01:47ुli ka jiwan saada tha
01:49ुh saabah jaldi uthna
01:51ृjabhe paraana
01:52چاہے بنانا
01:53لوگ ان کو سننا
01:55اور رات کو جب دنیا سو جاتی
01:57اپنے چھوٹے سے کمرے میں واپس لوٹ جانا
02:00اس نے کبھی شکایت نہیں کی
02:02کیونکہ اس کے لیے یہی زندگی تھی
02:04اکھے جیسے کوئی دریا ہو جو چپکے سے بہ رہا ہو
02:08کون ہے یہ
02:10کہاں سے آتی ہے
02:11علی ہر سال سوچتا تھا
02:13پر اس کی حمد کبھی نہیں ہوئی
02:15اس سے بات کرنے کی
02:16لوگ اس لڑکی کو دیکھتے بھی نہیں تھے
02:19جیسے وہ وہاں تھی ہی نہیں
02:20کیا صرف میں ہی اسے دیکھ سکتا ہوں
02:23علی کے دل میں یہ سوال
02:25برسوں سے تھا
02:26پر جواب نہیں ملا
02:27اس سال دسویں محرم کی رات بھی ویسی ہی تھی
02:30مجلس کی آواز
02:32ایک نوہے کی سسکیاں
02:34اور لوگوں کے رونے کی گونج
02:36سب کچھ ایک عجیب سا منظر بنا رہے تھے
02:38کیسے کہا
02:39چائے کا پیالہ اس کی طرف بڑھاتے ہوئے
02:42یہ لو تھوڑی سی چائے
02:43تھنڈ ہے آج
02:44لڑکی نے پہلی بار اس کی طرف دیکھا
02:47اس کی آنکھیں
02:50جیسے کوئی پرانا درد چھپا ہو
02:52جیسے کوئی صدیوں کا غم اس میں سما گیا ہو
02:55اس نے چائے کا پیالہ لیا
02:57ہلکا سا مسکرائی
02:58اور پھر خاموش ہو گئی
03:00علی نے اپنی حمد سنبھالی اور کہا
03:03تم ہر سال یہاں آتی ہو
03:04کہاں سے ہو
03:06کوئی گھر کوئی نام
03:07وہ تھوڑی دیر چپ رہی
03:09پھر اس نے دھیمے سے کہا
03:11میں صرف آشورہ کو آتی ہوں
03:13مجھے کچھ لوگوں کی غمگساری دیکھنی ہوتی ہے
03:17علی کے دل میں ایک سہرن سی دوڑ گئی
03:21اس لڑکی ہی آواز میں کچھ ایسا تھا
03:23جیسے ہوا میں کوئی نوہا گونج رہا ہو
03:25پر دھیمے سے
03:27دل کے اندر غم گساری
03:29یہ کیا مطلب ہوا
03:30اس نے اور سوال کرنا چاہا
03:33پر لڑکی پھر خاموش ہو گئی
03:35اس کی نظر امام باڑے کی طرف تھی
03:37علی واپس اپنے ڈھابے چلا گیا
03:40پر اس کا دل اب اس لڑکی کے ایک لفظ پر
03:43اٹکا تھا
03:44کچھ لوگوں کی غم گساری
03:46کون لوگ
03:48اور کیوں یہ لڑکی
03:49رات کہری ہوتی گئی
03:51امام باڑے کے اندر زاکر نوہے پڑھ رہا تھا
03:54وہ نوہا جو
03:56کربلا کی پیاس اور سیدہ زینب
03:58سلام اللہ لہا کے
03:59سبر کی کہانی سنا رہا تھا
04:02لوگ سینے پر ہاتھ مارتے ہوئے رو رہے تھے
04:04یا حسین
04:05یا حسین کی صدا ہر طرف تھی
04:08علی نے دیکھا
04:09لڑکی اب بھی وہیں بیٹھی تھی
04:11پر اب اس کے چہرے پر ایک ہلکی سی مسکراہٹ تھی
04:14ایک آدمی
04:16مجلس سے نکل کر آیا
04:17اس کے ہاتھ میں پانی کا گلاس تھا
04:20اس نے ایک بچے کو پانی پلایا
04:21اور بچے کے مو سے نکلا
04:23یا حسین
04:24لڑکی نے اس بچے کی طرف دیکھا
04:26اور اس کے آنکھوں میں آنسو آ گئے
04:28یہ کیوں رو رہی ہے
04:29علی سوچنے لگا
04:31کیا بات ہے جو اسے اتنا چھو رہی ہے
04:33علی کے ڈھابے پر لوگ آتے جاتے رہے
04:36ایک بزرگ آدمی
04:38جو ہر سال مجلس میں آتا تھا
04:40علی کے پاس رکا
04:41علی بھائی یہ رات الگ ہے
04:43اس نے کہا
04:45یہ وہ رات ہے جب حضرت امام حسین علیہ السلام
04:48نے سب کچھ گلپان کر دیا
04:50تم بھی کبھی مجلس میں بیٹھو
04:52دل کو سکون ملتا ہے
04:54علی نے صرف مسکرا کر سر ہلا دیا
04:57پر اس کا دھیان
04:58اس لڑکی پر تھا
05:00کیا وہ بھی یہی سکون ڈھونڈتی ہے
05:02تھوڑی دل بعد ایک عجیب سے بات ہوئی
05:05امام باڑے کے باہر
05:06ایک علم جو ہمیشہ سے
05:08وہاں کھڑا تھا
05:09اس کی روشنی میں ایک ہلکی سی چمک دکھائی تھی
05:12جیسے کوئی نور اس میں سے نکل رہا ہو
05:14علی نے اپنی آنکھیں ملی
05:16سوچا شاید تھکان ہے
05:18پر جب اس نے پھر دیکھا
05:20علم اب بھی چمک رہا تھا
05:22ایک ایسی روشنی جو نہ سورج کی تھی
05:25نہ کسی دیئے کی
05:26یہ کیا ہے
05:27اس نے اپنے آسپاس دیکھا
05:29پر کسی اور کو یہ دکھا نہیں
05:31لوگ اپنے غم میں ڈوبے تھے
05:33اور لڑکی
Comments