- 5 months ago
Let_s_touch_the_Sun___Faisal_Warraich
Category
📚
LearningTranscript
00:00چار ہزار پانچ سو سال پہلے دریائے نیل کے کنارے رہنے والے مصری سورج دیوتا کو را کہتے تھے۔
00:16را سب سے طاقتور دیوتا تھا اور اس کا فرض تھا کہ وہ زمانے کو اندھیروں سے نکال کر روشنی میں لائے۔
00:24تو ایک دن را نے اپنا تخت و تاج چھوڑ دیا اور اپنی کشتی میں روشن چراغ لیے آسمان پر تہرنے لگا۔
00:32را جہاں سے گزرتا روشنی پھیلتی چلی جاتی لیکن پھر شام کے قریب را اور اس کے اڑن کشتی مغرب میں زمین کے کناروں تک پہنچتے تو سمندر میں ڈوب جاتے۔
00:44جہاں گہرائیوں میں را دیوتا کو ادھیروں سے ایک طویل جنگ لڑنا پڑتی۔
00:49مصریوں کے بعد رومن تہذیب آئی۔
00:52یہ چونکہ مصر سے تھوڑی جدید تہذیب تھی اس لیے اس کی کہانی بھی مصریوں سے تھوڑی موڈرن تھی۔
00:59بس اتنی موڈرن تھی کہ رومن سورج دیوتا ہیلیس کشتی پر نہیں بلکہ ایک چار گھوڑوں والی بگی پر مشرق سے مغرب کی طرف سفر کرتا تھا۔
01:09اور جب وہ مغرب میں ایک محل میں آرام کرنے کے لیے رکتا تو دنیا میں رات ہو جاتی۔
01:15آج اس مصری تہذیب کو چار ہزار سال اور رومن کو دو ہزار سال ہو چکے ہیں۔
01:22اس لیے آج کی سورج داستان مصریوں اور رومیوں دونوں سے بہت جدید ہے۔
01:28لیکن یہ داستان من بھاتے قصوں پر مشتمل نہیں ہے بلکہ تجربات اور مشاہدات سے لکھی جا رہی ہے۔
01:37میں ہوں فیصل وڑائچ اور دیکھو سنو جانو کی کل کائنات سیریز میں ہم مرکری سے آگے زندگی آمے سورج کی طرف سفر کریں گے۔
01:46ہیلیس کی گھوڑوں والی بگی تو ایک دیو مالا تھی۔
01:56لیکن 1976 میں سچ مچھ کا ایک ہیلیس سپیس کرافٹ سورج پر بھیجا جا چکا ہے۔
02:03اور ایک نہیں دو ہیلیس۔
02:05ہیلیس ون اور ہیلیس ٹو۔
02:07یہ جرمنی اور امریکہ نے مل کر بھیجا تھا۔
02:10یہ دونوں اپنے وقت میں انسان کی بنائی ہوئی سب سے تیز رفتار ترین مشینیں تھیں۔
02:17ہیلیس ٹو کی رفتار ستر کلومیٹر فی سیکنڈ تھی۔
02:20یعنی اگر آپ اس پر سوار ہوں تو کراچی سے لاہور صرف اٹھارہ سیکنڈ میں پہنچ سکتے ہیں۔
02:27یہ مشین کیوں بھیجا گیا؟
02:29آخر سورج کے قریب ترین سپیس مشنز بھیجنے کی ضرورت کیا تھی اور کیا ہے؟
02:35اب اس زمین پر انسان دوسرے انسانوں کی بھوک ختم نہیں کر سکا۔
02:39غربت ختم نہیں کر سکا۔
02:41تو آسمان میں گاڑیاں دوڑانے اور سورج پر کمندیں ڈالنے کی کوشش، وقت اور پیسے کا زیاں کیوں نہیں ہے؟
02:49تو اس کا جواب ہے سولر ونڈز۔
02:52یہ دیکھئے، اس کی آواز سنیے، یہ سورج کی آواز ہے۔
02:58سورج کی سطح پر اس طرح کا عمل ہر وقت ہوتا رہتا ہے۔
03:07جس میں سورج کی باہری سطح پر طوفان اٹھتے دکھائی دیتے ہیں۔
03:11جو دراصل ہائیلی چارجڈ پارٹیکلز ہوتے ہیں۔
03:14ان کے اتنے بڑے بڑے دائرے بنتے ہیں کہ جن کا سائز کئی زمینوں کے برابر ہوتا ہے۔
03:20یہ پاورفل پارٹیکلز، طاقتور ذرات سورج کے مرکز میں پیدا ہوتے ہیں اور سطح سے ہوتے ہوئے ایک طوفان کی طرح خلا میں آگے بڑھتے چلے جاتے ہیں۔
03:31ان طوفانی لہروں کو سولر ونڈز کہتے ہیں۔
03:34ان کے رفتار چار سو کلومیٹر فیس سیکنڈ ہوتی ہیں۔
03:38یہ سولر ونڈز سامنے آنے والی ہر چیز سے پوری قوت سے ٹکراتی ہیں۔
03:43اور اسی طرح ہماری زمین کو بھی ان کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
03:48سولر ونڈز اتنی طاقت رکھتی ہیں کہ زمین پر زندگی اور موڈرن ٹیکنالوجی کو ہمیشہ کے لیے ختم کر سکتی ہیں۔
03:56لیکن یہ ایسا نہیں کر پاتی۔
03:59وہ اس لیے کہ زمین کے گرد ایک مقناطیسی حالہ یعنی مگنیٹک فیلڈ موجود ہے جو زمین کے مرکز سے پیدا ہو رہا ہے۔
04:08جیسے ہی سولر ونڈز زمین کے قریب پہنچتی ہیں، نظر نہ آنے والا مگنیٹک فیلڈ انہیں روک دیتا ہے۔
04:15جس کے باعث یہ لہریں زیادہ تر زمین کو نقصان نہیں پہنچا سکتی۔
04:19ہاں کبھی ایک بار جب یہ سولر ونڈز بہت موزور ہوتی ہیں تو نقصان ہو بھی جاتا ہے۔
04:26جیسے کہ نائنٹین ایٹی نائن میں سولر ونڈز اتنی شدید تھی کہ ان سے کینیڈا میں ہائیڈرو کیوبک گرد تباہ ہو گیا تھا۔
04:34اسی طرح نائنٹین نائنٹی ایٹ میں خلا میں گھومتا امریکی سیٹلائٹ لیکسی فور بھی سولر ونڈز کا نشانہ بن کر اپنے مدار سے باہر گر گیا تھا۔
04:44اور ساڑھے چار کروڑ پیجرز جسے آپ اس وقت کے موبائل فونز کہہ سکتے ہیں کام کرنا بند کر چکے تھے۔
04:52بلکہ بہت سا قیمتی ڈیٹا بھی ہمیشہ کے لیے ضائع ہو گیا تھا۔
04:57خلابازوں کو جو خاص سوٹ پہنایا جاتا ہے اور خلائی مشینوں پر جو خاص کوٹنگ ہوتی ہے اس کا ایک بڑا مقصد انہی سولر ونڈز سے تحفظ کرنا ہوتا ہے۔
05:07اس لیے بہت ضروری ہے کہ ہمیں ان سولر ونڈز کے بارے میں زیادہ سے زیادہ معلومات ہوں۔
05:14جس طرح موسموں کا حال جاننے کے لیے ویب سائٹس ہیں، بلکل اسی طرح خلائی موسم یعنی سولر ونڈز کب آ رہی ہیں، کتنی آ رہی ہیں۔
05:23یہ جاننے کے لیے بھی ویب سائٹس ہیں جن کو دیکھ کر کمیونکیشن سیٹلائٹس اور بجلی فراہم کرنے والے ادارے اپنے سسٹمز اپ ڈیٹ کرتے رہتے ہیں۔
05:33لیکن یہ نظام اس وقت زیادہ بہتر، موڈرن اور طاقتور ہو سکتا ہے جب ہمیں سولر ونڈز کے بارے میں زیادہ سے زیادہ معلومات ہوں۔
05:41تو یہی جاننے کے لیے ہیلیس ون اور ہیلیس ٹو کو سورج کے گرد نائنٹین سیونٹی فور اور سیونٹی سکس میں بھیجا گیا تھا۔
05:50ہیلیس ون دس سال اور ہیلیس ٹو تین سال تک اپنے مشن پر کام کرتا رہا۔
05:55آخری بار ان سے رابطہ نائنٹین ایٹی سکس اور نائنٹین ایٹی میں ہوا تھا۔ اس لیے آج ہم یہ نہیں جانتے کہ یہ دونوں کس حال میں ہیں۔
06:04لیکن سولر ونڈز، کوسمک ریز اور سورج کے مگنیکٹک فیلڈ کے بارے میں ہم جو کچھ بھی جانتے ہیں اس کا ایک بڑا حصہ ہیلیس ون اور ٹو ہی کی وجہ سے انسانیت کے اجتماعی علم کا حصہ بنا۔
06:17معلومات کے لیے ہیلیس ٹو سورج کے اتنا قریب چلا گیا تھا کہ اس کا اور سورج کا فاصلہ صرف چار کروڑ چونتیس لاکھ کلومیٹر رہ گیا تھا۔
06:32لیکن وہ جو کہتے ہیں کہ جیسے جیسے ہمارا علم بڑھتا ہے ہماری جہالت بھی بڑھتی چلی جاتی ہے۔
06:39تو جہاں ہیلیس ون اور ٹو نے کئی سوالوں کے جواب تلاش کیے وہیں کئی نئے سوالات بھی پیدا ہو گئے۔
06:47ایک یہ کہ آخر یہ سولر ونڈز پیدا کیسے ہوتی ہیں اور دوسری یہ کہ سورج کی سطح پر کنڈیشنز میں اتنی زیادہ تبدیلی کیوں اور کیسے آتی ہے۔
06:58یہ جاننا اس لیے بھی ضروری تھا کہ ہمیں علم ہو سکے کہ سولر ونڈز زمین پر انسانی زندگی اور ٹیکنالوجی پر کس طرح اثر ڈالتی ہیں
07:07تاکہ اس سے بچا جا سکے۔
07:10ان سوالوں کے جواب کھوجنے کے لیے ہمیں سورج کے اور بھی قریب جانا تھا۔
07:15اس سے کئی گناہ زیادہ نزدیک جتنا ہیلیس ٹو اور ون جا چکے ہیں۔
07:20تو اب یہ جو لاتھی ٹیکے کمزور سے بزرگ آپ دیکھ رہے ہیں نا ان کی عمر نائنٹی ون یئرز ہے۔
07:28اکانمے سال۔
07:29یہ سائنٹسٹ یوجین پارکر ہے۔
07:32اس ویڈیو کی اپلوڈنگ ڈیٹ کے وقت پارکر سورج کے سامنے کھڑا ہے۔
07:38سائنٹسٹ یوجین پارکر نہیں بلکہ ان کے نام پر بنایا گیا سپیس مشن دی پارکر سولر پروب۔
07:45اس کی رفتار اپنے انتہائی وقت میں ہیلیس سپیس کرافٹ سے بھی بہت زیادہ تیز ہے۔
07:50اور اتنی تیز کہ اگر آپ اس پر لاہور سے کراچی جانا چاہیں تو آپ کو صرف سات سیکنڈ چاہیے۔
07:58یہ پروب بارہ آگست 2018 کو سورج کی طرف بھیجا گیا تھا۔
08:03یہ پہلا مشن تھا جو کسی زندہ انسان کے نام پر بھیجا گیا ہے۔
08:08کیونکہ یوجین پارکر ہی نے سپرسونک سولر ونڈز کی تھیوری دی تھی اور وہ بھی آج سے کوئی 65 برس پہلے۔
08:15تو پارکر سولر پروب نہ صرف سورج کے سامنے پہنچ چکا ہے ملکہ اس نے اپنا کام بھی شروع کر دیا ہے۔
08:22یہ وہ تصویر ہے جو دسمبر 2018 میں اسی پروب نے زمین پر بھیجی تھی۔
08:28یہ سورج کی اس وقت تک کی قریب ترین تصویر تھی۔
08:32اس میں جو نکتہ سا چمک رہا ہے وہ اس کے گرد گھومتا سیارہ اتارت یعنی مرکری ہے۔
08:38پارکر سولر پروب سابقا مشن ہیلیس کی نسبت سورج سے سات گناہ زیادہ قریب جائے گا۔
08:45اپنے بیزوی دائرے میں جب یہ سورج کے قریب ترین ہوگا تو اس کا اور سورج کا فاصلہ محض 61 لاکھ کلومیٹر ہوگا، سکسٹی ون لیک۔
08:56لیکن اس وقت بھی یہ براہراست سورج کے اٹموسفیر میں داخل ہو چکا ہے، اس حصے میں۔
09:02سورج کے اس حصے کو کرونا کہتے ہیں۔
09:05اسے آپ سورج کا کراؤن یا تاج بھی کہہ سکتے ہیں۔
09:09حیران کن بات یہ ہے کہ سورج کی سطح تو بے انتہا گرم ہے ہی۔
09:14لیکن یہ حصہ یعنی کرونا جو سورج کی سطح کے اوپر ہے یہ اس سے بھی کئی گناہ زیادہ گرم ہوتا ہے۔
09:22سورج کی سطح کا درجہ حرارت ہوتا ہے پانچ ہزار چھے سو چھے سٹھ ڈگری سینٹی گریٹ کے آس پاس۔
09:29جبکہ کرونا میں پارٹیکلز کا درجہ حرارت سترہ لاکھ ڈگری سینٹی گریٹ ہوتا ہے۔
09:35یعنی تقریباً تین سو گناہ سے زیادہ گرم۔
09:39ایسا کیوں ہے؟ اس حیرتناک سوال کا جواب بھی یہی پروب معلوم کرے گا۔
09:44لیکن یہاں ٹھہریئے اور سوچئے کہ آخر اتنے زیادہ درجہ حرارت میں، اتنی زیادہ گرمی میں ایک زمین پر بنائی گئی مشین کیسے سلامت رہے گی؟
09:55تو اس کا جواب ہے ٹی پی ایس، ترمل پروٹیکشن سسٹم
10:00پارکر سولر پروب کا سورج کی طرف کا حصہ ساڑھے چار انچ موٹی وائٹ شیلڈ کا بنا ہے۔
10:06یہ وائٹ شیلڈ کاربن کاربن کمپوزٹ کے میٹریل سے خاص طور پر یوں تیار کی گئی ہے کہ یہ زیادہ تر ہیٹ کو بنائکس کر دے گی یعنی میکسیم ہیٹ کو ریفلیکٹ کرے گی۔
10:16اس سے سپیس کرافٹ کے پیچھے والا یہ حصہ تھنڈا رہے گا۔
10:21اس پیچھے والے حصے کے آلات کو تھنڈا رکھنے کے لیے پائپس ہیں جن میں پانی گردش کر رہا ہوتا ہے۔
10:27لیکن پھر بھی کہاں سترہ لاکھ ڈگری سینٹی گریٹ اور کہاں کاربن چھوڑ کچھ بھی ہو اسے تو لمحوں میں پگھل جانا چاہیے۔
10:35تو بات یوں ہے کہ سورج کے اکسٹھ لاکھ کلومیٹر کے فاصلے پر جہاں پارکر سولر پروب ہوگا یہاں سترہ لاکھ ڈگری سینٹی گریٹ درجہ حرارت ان پارٹیکلز کا ہے جو اس حصے میں پھیلے ہوتے ہیں۔
10:49لیکن یہ پارٹیکلز بہت دور دور پھیلے ہوتے ہیں جبکہ اس جگہ عمومی درجہ حرارت ایک ہزار تین سو سے ایک ہزار چار سو ڈگری سینٹی گریٹ تک ہوتا ہے۔
11:00جسے پارکر سولر پروب اپنے زبردست ڈیزائن کی وجہ سے برداشت کر رہا ہے۔
11:05بلکہ اس کا کیمرہ اور سنسرز بھی بخوبی کام کر رہے ہیں۔
11:10اور اگر کوئی حادثہ نہ ہو گیا تو یہ کمز کم سات سال تک یوں ہی انتجربات کرتا رہے گا۔
11:17پارکر سولر پروب سات سال میں سورج کے گرد چوبیس چکر لگائے گا اور پھر سورج ہی میں غوتہ لگا کر ختم ہو جائے گا۔
11:26اس کی بھیجی تصاویر کے ذریعے سورج کے کچھ حصے کا ایک تفصیلی نقشہ بھی تیار کیا جائے گا۔
11:34لیکن یہ نقشہ سازی آسان نہیں ہوگی کیونکہ سورج کا سائز بہت ہی بڑا ہے۔
11:41اتنا بڑا کہ اگر سو زمینوں کو ایک ساتھ جوڑ کر رکھا جائے تو یہ سورج کا ڈائیامیٹر یعنی قطر ہوگا۔
11:49سورج اتنا بڑا ہے کہ دس لاکھ زمینیں اس میں سما سکتی ہیں۔
11:54بلکہ یہ اتنا بڑا ہے کہ اس میں ہمارے پورے نظام شمسی کے تمام سیارے چھ سو مرتبہ ڈال دیے جائیں۔
12:02تو بھی تھوڑی بہت جگہ بچ جائے گی۔ یہ اتنا بھاری ہے کہ سولر سسٹم کا اٹھانمے فیصد سے زیادہ وزن، نائنٹی ایٹ پرسنٹ سے زیادہ صرف سورج کا ہے۔
12:13یہی وجہ ہے کہ سورج کی کشش بھی اتنی ہی زیادہ ہے۔ یہ کشش اتنی زیادہ ہے کہ آٹھ بڑے اور درجنوں چھوٹے سیارے، ایک سو ستر چاند اور انگنت شہابیے اربوں سال سے اس کے سہر سے نہیں نکل پائے۔
12:28ہمارا سورج چار ارب سال سے چمک رہا ہے اور اندازہ ہے کہ مزید چار ارب سال تک یوں ہی چمکتا رہے گا۔
12:37لیکن اس کی چمک آتی کہاں سے ہے؟ سورج چار ارب سال سے روشنی کیسے دے رہا ہے؟
12:43اس کا جواب ہے نیوکلئر فیوجن، ہائیڈروجن بم کے دھماکے۔
12:48سورج دراصل ایک گیس کا بہت بڑا گولہ ہے اس گولے میں سب سے زیادہ ہائیڈروجن، تھوڑی سی ہیلیم اور بہت ہی معمولی مقدار میں دوسرے ایلیمنٹس ہوتے ہیں۔
12:59اب سوال یہ ہے کہ یہ چمکتا کیسے ہے؟
13:02سورج کے مرکز میں بے پناہ گریفٹی، کشش سکل کے باعث، پروٹون یعنی ہائیڈروجن کے چارجڈ آئٹم، ایک دوسرے سے اتنا قریب آ جاتے ہیں کہ وہ ایک دوسرے سے چپک کر رہ جاتے ہیں۔
13:14گویا ان میں پیار ہو جاتا ہے اور ہائیڈروجن کے پروٹون کے مل جانے سے نیا ایٹم ہیلیم وجود میں آ جاتا ہے۔
13:23لیکن یہ ہیلیم کا ذرہ ہائیڈروجن کے ان ایٹم سے بہت ہلکا ہوتا ہے جن کے ٹکرانے سے وہ بنا ہوتا ہے۔
13:31تو اب سوچئے کہ اگر یہ ان سے ہلکا ہے جن سے یہ بنا ہے تو وہ باقی میس کہاں چلا گیا؟
13:38تو اس کا جواب ہے آئینسٹائن کے پاس۔
13:41جی ہاں آئینسٹائن کی مشہور زمانہ ایکویشن ای ایز یوکل ایم سی سکوئر کے مطابق یہ میس انرجی میں بدل جاتا ہے۔
13:49اور یہ انرجی کا ذرہ فوٹون کہلاتا ہے۔
13:52یہ فوٹون کسی دیوانے کی طرح سورج کے اندر مرکز میں مختلف ایٹم سے ادھر ادھر ٹکراتا پھرتا ہے۔
13:59اسے سطح پر آنے میں ہزاروں یا لاکھوں سال لگ جاتے ہیں۔
14:03مگر ایک بار جب یہ سورج کی سطح پر آ جائے تو اسے ہماری زمین تک پہنچنے میں صرف آٹھ منٹ اور بیس سیکنڈ لگتے ہیں۔
14:12بس اتنی سی دیر جتنی دیر میں آپ گرمہ گرم ہیڈ لائن سنتے ہیں فوٹون سورج کی سطح سے آپ تک پہنچ جاتا ہے۔
14:20تو اگلی بار جب آپ سورج کی روشنی میں کچھ دیکھیں یا اس وقت دیکھ رہے ہوں تو جان لیں کہ یہ روشنی کا مہمان ہائیڈروجن بم کے دھماکوں سے پیدا ہوا تھا۔
14:32اس کا نام فوٹون ہے جو کروڑوں کلومیٹر دور سے آیا ہے بڑے جتنوں سے آیا ہے اور اس سے بھی دلچسپ بات یہ کہ یہ روشنی کا ذرہ جو آپ کی دنیا کو روشن کر رہا ہے ہزاروں سال پہلے پیدا ہوا تھا۔
14:46یہ بہت قیمتی ہے کیونکہ اس کے پاس ایک راز بھی ہے اور وہ راز ہے ہماری زمین کو سب سے سستی اور کبھی نہ ختم ہونے والی توانائی دینے کا راز ہے۔
14:57ویسے تو سولر انرجی سے سب واقف ہیں لیکن کیا آپ جانتے ہیں کہ ایک پاگل نے آج سے اٹھتر برس پہلے انیس سو اکتالیس میں نائنٹین فورٹی ون میں سورج کے سامنے زمین کے اوپر چادر تان کر سورج کی روشنی سے مستقل بجلی پیدا کرنے کا آئیڈیا دیا تھا۔
15:16تو یہ تھے امریکی بائیو کیمسٹ آئیزاک ایس اماؤر۔
15:20اس خیال کے مطابق اگر ہم سورج کی روشنی سے زمین پر بجلی پیدا کرنا چاہیں تو یہ کام ہم صرف دل میں کر سکتے ہیں۔
15:28سورج کے سامنے کر سکتے ہیں۔
15:30رات میں، بادل، بارش، طوفان یا کسی بھی ایسی حالت میں یہ سسٹم کام نہیں کرے گا۔
15:35یعنی بجلی پیدا نہیں کرے گا۔
15:38اور ویسے بھی سولر پینلز جتنے زیادہ زمین پر لگائے جائیں وہ بجلی تو اتنی زیادہ دیتے ہیں۔
15:44لیکن جگہ بھی اتنی ہی زیادہ گھیرتے ہیں۔
15:46تو کیوں نہ ان سب مسائل سے بچنے کے لیے زمین پر آنے والی سورج کی روشنی کو خلا ہی میں زمین کے اوپر مدار میں پکڑ لیا جائیں۔
15:55کیونکہ خلا میں بادل ہیں اور نہ بارش اور نہ مٹی کے طوفان ہی آتے ہیں۔
16:00خلا میں پینلز لگا دیے جائیں تو جگہ کم ہونے کا مسئلہ بھی حل ہو جاتا ہے۔
16:05اور ویسے بھی خلا میں تو سورج ہر وقت چمکتا ہے اور کبھی غروب ہوتا ہی نہیں۔
16:11سورج کا تلو اور غروب ہونا تو زمین کی حرکت کی وجہ سے ہمارا اپنا احساس ہی ہے۔
16:17ورنہ سورج تو جب تک ہے سو ہے اور جب سے ہے سو ہے۔
16:23یہ تلو اور غروب تو ہوتا ہی نہیں۔
16:25سن سیٹ اور سن رائز کی کہانی زمین سے چند کلومیٹر اوپر ختم ہو جاتی ہے۔
16:31تو آئیڈیا یہ تھا کہ زمین کے اوپر خلا میں بہت بڑے بڑے سولر پینلز کی چادر سے بنا دی جائے۔
16:38جو سورج کی روشنی کو بجلی میں تبدیل کرے اور پھر ایک لیزر بیم یا مایکرو ویو کے ذریعے یہ بجلی زمین پر ایک مرکزی پاور سٹیشن میں بھیجی جائے۔
16:48یہاں سے کیبلز کے ذریعے اس کو پھر ان جنگوں پر بھیجا جائے جہاں اس کی ضرورت ہے۔
16:54اب خلا میں نہ تو بادل ہیں، نہ بارش اور نہ کبھی سورج غروب ہوتا ہے۔
16:59تو دلچسپ بات بتائیں، چین اب یہی کرنے جا رہا ہے۔
17:03چین نے سولر پاور سپیس پروجیکٹ لانچ کر دیا ہے۔
17:07چین زمین سے چھتیس ہزار کلومیٹر اوپر یہ پینل بنانے کا منصوبہ رکھتا ہے۔
17:13اگر سب کچھ ٹھیک رہا تو دو ہزار چالیس میں دنیا کا پہلا سپیس سولر پاور سٹیشن بجلی فراہم کرنا شروع کر دے گا۔
17:22شمسی توانائی سے بجلی بنانا اس لیے بھی ضروری ہے تاکہ ہم زمین پر کوئلے اور تیل کو جلانے سے بچ جائیں۔
17:29جس کی وجہ سے ہماری نیلی زمین پر ہر گزرتے دن کے ساتھ تباہی بڑھ رہی ہے۔
17:34کیونکہ زمین گرم ہو رہی ہے۔
17:37دنیا میں صاف پانی کے محفوظ زخیریں یعنی پہاڑوں کی برف تیزی سے پگل کر سمندروں میں جا رہی ہے۔
17:44لیکن ایک بات بتائیے۔
17:46کیا آپ جانتے ہیں زمین اور سورج شروع میں صرف آگ جیسے تھے، آگ کے گولے تھے؟
17:53اگر یہ زمین ہماری آگ کا گولہ تھی تو پھر تھنڈا ہونے پر ہماری زمین پر پانی اور پہاڑوں پر برف کہاں سے آئی؟
18:01اس کا جواب وہ سورج کے قریب سے گزرتا شہاب ساکب ہے۔
18:07میٹیور
18:08اسے دمدار ستارہ بھی کہا جاتا ہے۔
18:10یہ اور ایسے عربوں چھوٹے بڑے پتھر سورج کے گرد گھومتے اور اس کی کشش کے باعث اس کی طرف بڑھتے اور اس میں گرتے رہتے ہیں۔
18:19یہ شہابیے دوسرے سیاروں پر بھی گرتے ہیں، ان شہابیوں میں جمع ہوا پانی ہوتا ہے۔
18:26سخت، تھوس، برف، سولیڈ آئیس۔
18:30اس لیے جب یہ خلا میں سورج کی طرف بڑھ رہے ہوتے ہیں تو گرمی اور تیز رفتار کے باعث برف پگلتی ہوئی میلوں تک خلا میں پھیلتی چلی جاتی ہے۔
18:40جو دور سے دیکھنے پر سیارے کی دم لگتی ہے اور بہت سے لوگ سمجھتے ہیں کہ ستارہ ٹوٹا ہے اور اب جو مانگیں گے وہ تمنا پوری ہوگی۔
18:50تمنا گا تو پتا نہیں لیکن یہی شہابیے جب زمین یا کسی دوسرے سیارے سے ٹکراتے ہیں تو ان میں موجود برف ہی اس سیارے کا پانی بنتی ہے۔
19:00ایک مضبوط خیال ہے کہ جب ہماری زمین آگ کے گولے سے ٹھنڈی ہو رہی تھی تو ایسے ہی شہابیوں کی بارش سے ہماری زمین پر پانی دار آیا تھا۔
19:11بادلوں سے لے کر سمندر اور جھیلوں کا سارا پانی انہی شہابیوں کے ذریعے ہی زمین پر آیا تھا۔
19:18لیکن اس دمدار ستارے کے پیچھے جو سرخ سیارہ نظر آ رہا ہے یہ مریخ ہے۔
19:24مارس جہاں انسان کالونی بنانا چاہتا ہے۔ ایسا بھی کہا جاتا ہے کہ زمین پر زندگی کا بیج مریخ ہی سے آیا تھا۔
19:34مریخ پر انسان کو بسانے کی پوری کہانی اور وہاں زندگی کی تلاش کے بارے میں کیا کچھ ہو رہا ہے۔
19:41یہ سب آپ کو دکھائیں گے لیکن کل کائنات کی اگلی قسط میں۔
19:48سورج زمین سے آسٹن پندرہ کروڑ کلومیٹر سے کچھ کم فاصلے پر ہے۔
19:53آخر وہاں سے ایک مشین ہم تک معلومات کیسے بھیجتی ہے۔
19:57یہ جاننے کے لیے کل کائنات سیریز کی دوسری قسط ضرور دیکھیں۔
20:01جبکہ چاند پر ایسا کیا ہے جسے چاند پر جانے والے مشنز چھوڑ کر آئے تھے اسے زمین سے آج بھی چیک کیا جا سکتا ہے۔
20:10یہ جاننے کے لیے یہاں ٹچ کیجئے۔
20:12لیکن فرانسیسی انقلاب کی داستان میں آپ کو دلچسپی ہے تو یہ رہا فرنچ ریولیوشن۔