00:00ایک دن مولانا رومی کے شاغرہ نے آجزی کے ساتھ چند سوالات کیے
00:04شاغرہ نے پوچھا
00:05حضرت زہر کیا ہے؟
00:06مولانا رومی مسکرائے اور فرمایا
00:08زہر صرف بوتل یا دوامے نہیں ہوتا
00:10بلکہ جو چیز ضرورت سے زیادہ ہو وہی زہر ہے
00:13چاہے وہ دولت ہو یا طاقت، محبت ہو
00:15یا نفرت، غرور ہو یا سست
00:17سب زہر بن جاتے ہیں
00:18پھر شاغرہ نے دوسرا سوال کیا
00:20خوف کیا ہے؟
00:21مولانا رومی نے کہا
00:22خوف دراسل غیر یقینی حالات کو قبول نہ کرنے کا نام ہے
00:25اگر ہم غیر یقینی کو قبول کر لیں
00:27تو یہی خوف ایک مہم جوئی بن جاتا ہے
00:29تیسرا سوال آیا
00:30حسد کیا ہے
00:31مولانا رومی نے فرمایا
00:32حسد دوسروں کی خوبیوں کو ماننے سے انکار ہے
00:34لیکن اگر ہم ان خوبیوں کو تسلیم کر لیں
00:36تو یہ حسد نہیں رہت
00:38بلکہ ایک تحریک بن جاتا ہے
00:39شاگرد نے پھر پوچھا
00:40غصہ کیا ہے
00:41مولانا رومی نے فرمایا
00:42غصہ اس وقت پیدا ہوتا ہے
00:44جب ہم ان چیزوں کو قبول نہیں کرتے
00:46جو ہمارے اختیار میں ہی نہیں ہوتے ہیں
00:48اگر ہم قبول کرنا سیکھ جائیں
00:50تو یہی غصہ برداشت بن جاتا ہے
00:52آخر میں شاگرد نے پوچھا
00:53نفرت کیا ہے
00:54مولانا رومی نے گہری سانس لی
00:56اور کہا
00:56نفرت کسی انسان کو
00:58اس کی اصل حیثیت میں قبول نہ کرنے کا نام ہے
01:00اگر ہم کسی کو بغیر شرط کے قبول کر لیں
01:03تو نفرت ختم ہو جاتی ہے
01:05اور وہی محبت میں بدل جاتی ہے
01:07اور پھر مولانا رومی نے فرمایا
01:08میرے نزدیک کسی شخص کی وقعت
01:10اس دن ختم ہو جاتی ہے
01:12جب وہ جھوٹ بولنا شروع کر دیتا ہے
Comments