Skip to playerSkip to main content
  • 7 months ago

Category

😹
Fun
Transcript
00:00سب کچھ چلا گیا
00:12اب رو کیوں رہی ہے کیا ہوا ہے
00:15بیٹا بیٹا تمہاری دادی کا سارا زیور چوری ہو گیا
00:20کیا
00:22اور عمر صاحب
00:24میں اپنی بیٹی کو خود یہاں سے لے کے جاؤں گا
00:28میرا تو یہی گھر ہے نا اور میں یہی رہوں گی
00:34ابریش
00:42اپنی جلدی کیوں آ گئی ہو
00:45تم تو نازو کی طرف گئی تھی
00:47نہیں
00:48وہ مجھے ملی نہیں
00:50آ گئی ہو واپس
00:52نظر نہیں آ رہا آپ کو
00:53او بھائی مجھ پہ کیوں گصہ کر رہی ہو
00:55لڑکا رہی ہو نازو سے
00:58جیسا میں سوچ رہی ہوں
01:06کیا بابا بھی وہی سوچ رہے ہیں
01:11دیکھو مجھے
01:17مجھے یہ سب چیزیں
01:19اچھی نہیں لگتی ہیں
01:21جانتا ہوں جانتا ہوں
01:23ارے انکل
01:25عصت پچائیں اپنی
01:27بڑے بھائیہ تو آپ کو اسی طرح ہر دوسرے دن کال کر کے یہاں بلا لیں گے
01:31بڑے کو یہیں چھوڑ کے جا رہے ہیں
01:36اگر کوئی پیسوں کا معاملہ ہے مجھ سے لے لیں
01:38میں دے دیتی ہوں پیسے
01:41کیسے باب ہیں آپ
01:43اللہ تمہیں معاف کریں
01:51جس کی اتنی پیار کرنے والی اور دعائیں دینے والی بہن ہو
01:55اسے کوئی کیسے نقصان پہ شاہ سے
02:01جی اسلام علیکم
02:02ہیلو اسلام علیکم
02:03بھائی جس نمبر سے آپ کو کال آ رہی ہیں یہ آپ کی کیا لگتے ہیں
02:06بیٹا ہوں میں ان کا
02:08لیکن آپ ان کے نمبر سے مجھے کال کیوں کر رہے ہیں
02:10ابو کھا ہے
02:11بھائی آپ کی ابو روڈ پہ گر کے بے ہوش ہو گئے ہیں
02:14پرمیشن ضروری ہے
02:15جی ڈاکٹر
02:16ہم نے ان کے بیٹے کا انفارم کر دیا
02:18وہ آتے ہی ہوں گئے
02:19چیک
02:24انہیں میجر ہارٹ اٹیک ہوا ہے
02:28مطلب ہے آپ کے باقی لوگوں کو ہم بتا دیتے تو
02:31آپ کے ساتھ
02:34ہو چکی دم کیا
02:35آپ پہلے چیتنے ہمد دکھا چکی ہے نا
02:41اس کی سزا بھی پوری نہیں ہوئی
02:53ہیلو
02:54ہیلو مریم
02:55پریویز بھائی
02:57آپ
02:58اب ابو کسے
03:00مریم
03:02ابو
03:03بچ
03:04ابو
03:06کہو بیٹا کیا کہنا ہے
03:10ابو کو ہارٹ اٹیک آیا
03:12ہاں میں بنا دوں گی
03:14میں اسی پہ خوش ہوں کہ میری بیٹی کو کام کی چیز کھائے
03:18موسیقی
03:28موسیقی
03:30ہاں جائے گا تمہارا
03:31مگر اس طرح مطمئن ہوکے بھی تو نا بیٹھے نا
03:34اس طرح مطمئن ہو کے بھی تو نا بیٹھ ہے نا
03:36میں کے جاننے کی بات
03:38اور کھولا لینے کی
03:39بیگم صاحبہ
03:41آپ جانتی ہیں کہ میں
03:44کتنے سالوں سے اس گھر میں کام کر رہی ہوں
03:46لیکن میں کچھ لینے کا سوچ بھی نہیں سکتی
03:50سندس بھی اپنے کسی قزن کو پسند کرتی ہے
03:54دبریس کے اس لیے اطلاع نہیں ہوگی
03:55دبریس
03:58get ready
04:00تمہیں اب
04:02ارسل سے ملا ہوگا
04:04پسند آئے تھے
04:05سندس کو بہت پسند آئے
04:09اسلام علیکم پیارے ویورز
04:11تو یہ اپیسوڈ بہت انٹرسٹنگ ہے
04:13کیونکہ اس میں جو ہے
04:14تبریس شک کرتا ہے سندس پہ
04:16کہ وہ کسی اور کے ساتھ ہے
04:17وہاں ارسل جو سندس کو پسند کرتا ہے
04:20وہ بھی دیکھ رہا ہوتا ہے
04:21جب تبریس نے زور سے سندس کو پکڑا ہوتا ہے
04:25تو ارسل کہتا ہے
04:26کہ تم اس کو چھوڑے تم کیوں کون ہوتے ہو
04:28تو تبریس آگے سے کہتا ہے
04:29کہ تم اس سے پوچھو یہ کس کے ساتھ تھی
04:31اور جب سندس کا سامنا تبریس سے ہوتا ہے
04:33تو سندس جو ہے زور سے تپڑ مارتی ہے
04:35تبریس کے موہ پہ
04:36اور اس وجہ سے اس کے ممہ اور پاپا پریشان
04:38اور احران ہو جاتے ہیں
04:40کہ سندس نے یہ کیا کر دیا
04:41ابریش گھر واپس جاتی ہے
04:43تو روحان دیکھ کے پر احران ہو جاتا ہے
04:45اور کہتا ہے کہ تم اتنی جلدی واپس آگئے
04:47تم تو نازو کے ساتھ ملنے گئی تھی
04:49تو ابریش آگے سے کہتی ہے
04:50کہنا نازو جو ہے وہ بیزی تھی
04:54مجھے راہیم نے ملنے نہیں دیا
04:55اس نے کہا ہے کہ گھر میں پروبلم ہے
04:56اس وجہ سے نازو سے بعد میں ملنا
04:58ہم آپ کو کول کر دیں گے
05:00تو تم ملنے تو روحان ہران ہو جاتا
05:03کہتا ہے کونسی ایسی پروبلم
05:04پھر وہ کہتا ہے
05:05کہتا ہے کہ چلو کوئی بات نہیں
05:06ہر گھر کے اپنے مسئلے مسائل ہوتے ہیں
05:08کیونکہ ابریش کہہ رہی تھی
05:10کہ پتہ نہیں ان کے گھر کے نظام کیسا ہے
05:12کہ وہ اس طرح کوئی مہمان ہوں کے گھر گیا
05:14اور انہوں نے اسے ملنے سے بغیر یہ بھیج دیا ہے
05:17تو وہ کہتا ہے کہ ہر گھر کے اپنے مسئلے مسائل ہوتا ہے
05:19کوئی بات نہیں
05:19کبھی کبھی انسان کو صبر کر لینا چاہیے
05:22اس کے بعد جو ہے
05:23سندس جو ہے کچن میں ہوتی ہے
05:25تو تبریش آتا ہے
05:26اور اس کے بعد کہتا ہے
05:27کہ جن کو ہم ڈونڈ رہے ہیں
05:28ادھر ادھر ادھر ہیں
05:29وہ ادھر ہیں
05:31تو سندس آگے سے کہتی ہے
05:32کہ آپ پہلے نا اپنی اردو ٹھیک کل ہو
05:35تو وہ کہتا ہے
05:36کہ آپ کا جو مرضی کو
05:37آپ کا مگہ اتر تو میں ہی ہوں
05:39آپ نے زندگی تو میرے ساتھ ہی گزانی آخر کا
05:41لاش پہ آنا تو میرے پاس ہی ہے
05:43پھر اس کے بعد جو ہے نازو
05:44نازو جو ہے
05:46وہ مریم کے فادر کے پاس جاتی ہے
05:49اور اس کو کہتی ہے
05:49کہ تم اب اپنی بیٹی کو چھوڑ کر کیوں جارہے
05:52کیونکہ آپ کو پتا ہے
05:54مریم نے کہہ دیا
05:54کہ ابو یہ میرا گھر ہے
05:55میں اسی گھر میں رہوں گی
05:56نازو جو ہے
05:57وہ مریم کا جینا حرام کرنا چاہتی ہے
05:59وہ اس کے ابو کو کہتی ہے
06:00اب دو دن کی جو آپ کی بیٹی بوکی ہے
06:03اس کو آپ ابھی ادھر چھوڑ کے جارہے ہیں
06:04اتنی آپ میں گہرت ہے
06:06اتنی آپ میں ایگو ہے
06:07کہ آپ ابھی ادھر چھوڑ کے جارہے ہیں
06:09تو یہی باتیں وہ سوچتے ہیں
06:11جب گھر چلا جاتا ہے
06:12تو فٹپات پہ جارہا ہوتا
06:13اور نازو کے یہی ساری باتیں سوچ رہا ہوتا ہے
06:15تو پریشان ہو کر فٹ بات پہ گر جاتا ہے
06:17اور جب اس کو وہاں پہ جو لوگ ہوتے ہیں
06:20وہ اس کو اٹھاتے ہیں
06:21اگر اس کے نمبر سے کول کرتے ہیں
06:23پرویز کو اور پرویز کو بتاتے ہیں
06:24وہ کہتے ہیں آپ آجو ہسپیٹر
06:26ہم اس کو ہسپیٹر لے کے جا رہے ہیں
06:28وہ ہسپیٹر لے کے جاتے ہیں
06:29وہاں جا کر ڈوکٹر بتاتے ہیں
06:30کہ اس کو تو میجر ہارٹ اٹیک ہوئر
06:32اس کی وجہ سے اس کی آرٹریز جو ہیں
06:34وہ بلوک ہو گئے ہیں
06:35اور اس کا ہمیں سرجری کرنی پڑے گی
06:37اور تبریز پھر جب ہسپیٹر پہنچتا ہے
06:40تو وہ وہاں پہ
06:40سوری پرویز جب ہسپیٹر پہنچتا ہے
06:43تو وہاں پہ پوچھتا ہے
06:44کہ میرے ابو ٹھیک تو ہے نا
06:45ڈوکٹر صاحبہ تو وہ کہتا ہے
06:46کہ تمہارے ابو کی آرٹریز جو ہیں
06:49وہ بلوک ہو گئے ہیں
06:50ہم سرجری کرنے ہیں
06:50تمہارے سائن چاہیے
06:52ہمیں ڈوکومنٹس میں
06:52تم میرے ساتھ ہو
06:53لیکن تم دعا گو رہو
06:54اللہ تعالیٰ تمہارے ابو کو
06:56سینط اندرستی عطا فرمائے
06:58اس کے بعد جو ہے
06:59نازو جو ہے وہ لون میں بیٹھ جاتے
07:01اور وہاں پہ باتیں کر رہی ہوتی ہے
07:03اور سوچ رہی ہوتی ہے
07:04کہ روحان سے بھی
07:04اتنے دنوں ہو گیا بات نہیں ہوئی
07:06تو ابھی میں روحان کو کول کر لیتی ہوں
07:08جب وہ فون اٹھاتی ہے
07:09ٹیبل سے تو ادھر سے بڑے بھئیہ آ جاتے ہیں
07:11یعنی کہ عمر عمر اس سے بات ہے
07:13یعنی کہتے ہیں نازو
07:14تم میری بہت اچھی بین ہو
07:15تو وہ آگے سے کہتی ہے
07:16کہ عمر بھئیہ بہت پریشان لگ رہے ہیں
07:18میں ہر بات سے آپ کے سوری کرتی ہوں
07:21تو عمر کے دل میں شک پڑ جاتا ہے
07:23کہ نازو کہ سوری کر رہی ہے
07:25پھر وہ بات کو فوراں کور کرنے کے لیے
07:27کہہ دیتی ہے کہ بھائی
07:28میں اس وجہ سے سوری کرتی ہوں
07:29بھابی مریم نے جو بھی میرے ساتھ کیا
07:32اس وجہ سے میں سوری کرتی ہوں
07:34اس کے بعد پرویز کے ابو کو
07:36جو لوگ لے گئے ہوتے ہیں
07:37ہسپیٹل وہ پھر پرویز سے پوچھتے ہیں
07:40کہ کیا ہم اب گھر چلے جائیں
07:41ہم اپنا کام چھوڑ کر آئے ہوں
07:43آپ اگر ہم اجازت دے تو ہم چلے جاتے ہیں
07:45تو پرویز انہیں کہتا ہے کہ آپ چلے جاؤ
07:47پھر وہ پریشانی کی حالت میں
07:48ادھر ادھر ہسپیٹل میں ہی پھرتا دیواروں کے ساتھ
07:50لگتا رہتا ہے پھر وہ اپنی بہن مریم
07:52کو کول کرتا ہے مریم جو کہ نماز پڑھ رہی ہوتی ہے
07:54اور اس کو کول آتی ہے
07:56تو وہ کول اٹینڈ کرتی ہے
07:57تو پرویز بتاتا ہے کہ بابا کو
07:59میجر ہارٹ اٹیک ہوئے وہ ہسپیٹل ایڈمیٹ ہے
08:01وہ تب ہی جو نازو ہے
08:03وہ دوسرے روم میں اپنے بابا اور ماما کے ساتھ
08:06بیٹھ کر رسم لائی کھا رہی ہوتی ہے
08:07اور اپنے بابا کو کہتے ہیں کہ بابا آپ کو
08:09کیسے پتا چل جاتا ہے جب بھی کوئی چیز
08:11میرے کھانے کو دل کرتا ہے میں تو آپ کو کہتا ہی
08:13میں تو اس کا بابا کہتا ہے کہ بیٹے مجھے
08:15بچپن سے اس چیز کے عادت ہے
08:16کہ تمہیں جب بھی کوئی چیز چاہیے ہوتی ہے
08:18مجھے پتا چل جاتا ہے اور میں تمہارے لئے لے آتا ہوں
08:21یہ وہ یہ باتیں کر رہے ہوتے ہیں
08:22تو مریم جو ہے باہ کر جاتی ہے اور اسے سانس چڑھا ہوتا ہے
08:25اور اسحاق پوچھتا ہے کہ کیا ہوا مریم
08:27تو مریم آگے سے بتاتی ہے کہ میرے بابا کو
08:29جو ہے ہارٹ اٹیک ہوا ہے وہ سارے حران رہ جاتے ہیں
08:32اسحاق مریم کی بات سن کر کہتا ہے
08:33چلو مریم چلیں دون آزو جو ہے
08:35اپنی امی کو کہتی ہے کہ دیکھا بابا کو
08:37اس نے دو آن صبح ہے تو کس طرح موم ہو گئے ہیں
08:40اور اس کے ساتھ جانے کے لئے تیار ہو گئے ہیں
08:42تو اسحاق اس کو کہتا ہے
08:43سباحت کو کہ تم گھر کا کیا لکھنا میں آتا ہوں
08:47پھر جب وہ وہاں پوچھتے ہیں
08:48تو وہاں جا کر تو پرویز کہتا ہے
08:49کہ دیکھ لو پریشانی کے وجہ سے میرے بابا کا کیا ہالو
08:52کہ اسحاق کہتا ہے کہ ابھی تم چپ ہو جاؤ
08:55یہ ٹائم نہیں ہے
08:57یہ بات کرنے کا معاملہ زیادہ بگڑ جائے گا
08:59دوسری سائج پہ جو
09:00جمیل اور شازی ہوتے ہیں وہ بہت پریشان ہوتے ہیں
09:03شازیہ بہت پریشان ہوتے ہیں کہ اس کی بہن
09:05اور اس کا بیٹا یہ کام
09:07کیسے کر سکتے ہیں ایسا ہو نہیں سکتا
09:08وہ تو اتنے میرے وہ جمیل کے ساتھ
09:11بہت بتمیزی کرتی ہے
09:13اور بحث کرتی ہے کہ وہ ایسا نہیں کر سکتے
09:15وہ تو بہت زیادہ میرے تو جمیل کہتا ہے
09:17کہ بس تم چپ رہو
09:18یہ ہمارے گھر کی کوئی ہاؤس ہیلپر بھی
09:20یہ کام نہیں کر سکتی
09:22کیونکہ وہ اتنے سالوں سے ہمارے گھر کام کر رہے ہیں
09:25یہ ساری وہ باتیں کر رہے ہوتے ہیں
09:26تو وہ پھر وہاں پہ تبریز آتا ہے
09:29وہ تبریز گفٹ لے کر آتا ہے
09:31سندس کے لئے اور اپنی آنٹی کے لئے
09:32شازیہ بہت اران ہوتی کہتی
09:34یہ کس چیز کے لئے گفٹ تو
09:35تبریز کہتا ہے کہ مجھے پسند آئے تھے
09:38کہ سندس کو بہت پسند آئیں گے
09:39اور آپ کے لئے بھی میں لے کے آگیا
09:41وہ کہتا ہے ان میں سے کچھ گفٹ جو ہیں
09:43وہ میں سندس کو دکھانے کے لئے لے جاؤ
09:45شازیہ کہتی ہاں ہاں لے جاؤ
09:46پھر وہ سندس کو دکھانے کے لئے لے کے جاتا ہے
09:48پھر وہ اگلے دن پارٹی میں جاتا ہے
09:50وہاں پہ ان کی حافظ میں بیعث ہو جاتی ہے
09:52اور ارسل بھی وہاں پہ ہوتا ہے
09:54جو سندس کو پسند کرتا ہوتا ہے
09:56اور ارسل جو ہے وہ یہ سوچتا ہے
09:58کہ یہ کتنا گھڑیا آدمی ہے
10:00تبریز کیونکہ تبریز کے جو
10:03سوشل اکاؤنٹس کی اکسیس ہے
10:04وہ ارسل کے پاس آگئی ہوتی ہے
10:06اور ارسل جو ہے کہتا ہے کہ یہ تو
10:08بلکل بھی سندس کے لائک
10:09سندس کا سامنا تبریز سے ہوتا ہے
10:13تو سندس جو ہے زور سے تپڑ مارتی ہے
10:15تبریز کے موہ پہ
10:16اور اس وجہ سے اس کے ممہ اور پاپا پریشان
10:18اور احران ہو جاتے ہیں
10:20کہ سندس نے یہ کیا کر دیا
10:21ابرش گھر واپس جاتی ہے
10:23تو روحان دیکھ کے پر احران ہو جاتا ہے
10:25اور کہتا ہے کہ تم اتنی جلدی واپس آگئی
10:27تم تو نازو کے ساتھ ملنے گئی تھی
10:29تو ابرش آگے سے کہتی ہے کہ نا
10:31نازو جو ہے وہ بیزی تھی
10:34مجھے راہیم نے ملنے نہیں دیا
10:35اس نے کہا ہے کہ گھر میں پروبلم ہے
10:36اس وجہ سے نازو سے بعد میں ملنا
10:39ہم آپ کو کول کر دیں گے
10:40تو تم ملنا تو روحان ہران ہو جاتا
10:43کہتا ہے کونسی ایسی پروبلم
10:44پھر وہ کہتا ہے کہ چلو کوئی بات نہیں
10:47ہر گھر کے اپنے مسئلے میں سائل ہوتے ہیں
10:48کیونکہ ابرش کہہ رہی تھی
10:50کہ پتہ نہیں ان کے گھر کے نظام کیسا ہے
10:52کہ وہ اس طرح کوئی مہمان ان کے گھر گیا
10:54اور انہوں نے اسے ملنے سے بغیر یہ بھی دیا ہے
10:57تو وہ کہتا ہے کہ ہر گھر کے اپنے مسئلے میں سائل ہوتا ہے
10:59کوئی بات نہیں
10:59کبھی کبھی انسان کو صبر کر لینا چاہیے
11:02اس کے بعد جو ہے
11:03سندس جو ہے کچن میں ہوتی گیا تو تبریہ داتا ہے
11:06اور اس کے بعد کہتا ہے کہ جن کو ہم
11:08ادھر ادھر ادھر ادھر رہے ہیں
11:09وہ ادھر ادھر ہیں
11:11تو سندس آگے سے کہتی ہے
11:12کہ آپ پہلے نا اپنی اردو ٹھیک کر لو
11:15تو وہ کہتا ہے کہ
11:16جو مرضی کہو آپ کا مگہ ادھر تو میں ہی ہوں
11:19آپ نے زندگی تو میرے ساتھ ہی گزانی آخر کار
11:21لاش پہ آنا تو میرے پاس ہی ہے
11:23پھر اس کے بعد جو ہے نازو
11:24نازو جو ہے وہ
11:27مریم کے فادر کے پاس جاتی ہے
11:29اور اس کو کہتی ہے کہ
11:30اب اپنی بیٹی کو چھوڑ کر کیوں جارہے
11:33کیونکہ آپ کو پتا ہے مریم نے کہہ دیا
11:34کہ ابو یہ میرا گھر ہے میں اسی گھر میں روں گی
11:36نازو جو ہے وہ مریم کا جینا حرام کرنا چاہتی ہے
11:39وہ اس کے ابو کو کہتی ہے
11:40اب دو دن کی جو آپ کی بیٹی بھوکی ہے
11:43اس کو آپ ابھی ادھر چھوڑ کے جارہے ہیں
11:45اتنی آپ میں گہرت ہے
11:46اتنی آپ میں ایگو ہے کہ آپ ابھی ادھر
11:48چھوڑ کے جارہے ہیں تو یہی باتیں وہ سوچتے ہیں
11:51جب گھر چلا جاتا ہے تو فوٹپات پہ جارہا ہوتا ہے
11:53اور نازو کے یہی ساری باتیں سوچ رہا ہوتا ہے
11:55تو پریشان ہو کر فٹبات پہ گر جاتا ہے اور جب اس کو وہاں پہ جو لوگ ہوتے ہیں
12:00وہ اس کو اٹھاتے ہیں اگر اس کے نمبر سے کول کرتے ہیں پرویز کو اور پرویز کو بتاتے ہیں
12:04وہ کہتے ہیں ہم آپ آجو ہسپیٹل ہم اس کو ہسپیٹل لے کے جا رہے ہیں وہ ہسپیٹل لے کے جاتے ہیں
12:09وہاں جا کر ڈوکٹر بتاتے ہیں کہ اس کو تو میجر ہارٹ اٹیک ہوا
12:12اس کی وجہ سے اس کی آرٹریز جو ہیں وہ بلوک ہو گئے ہیں اور اس کا ہمیں سرجری کرنی پڑے گی
12:18اور تبریز پھر جب ہسپیٹل پہنچتا ہے تو وہ وہاں پہ سوری پرویز جب ہسپیٹل پہنچتا ہے
12:23تو وہاں پہ پوچھتا ہے کہ میرے ابو ٹھیک تو ہے نا ڈوکٹر صاحبہ تو وہ کہتا ہے
12:26کہ تمہارے ابو کی آرٹریز جو ہیں وہ بلوک ہو گئے ہیں سرجری کرنے ہیں
12:30تمہارے سائن چاہیے ہمیں ڈوکومنٹس میں تم میرے ساتھ ہو لیکن تم دعا گو رہو
12:35کہ اللہ تعالیٰ تمہارے ابو کو سینطن درستی عطا فرمائے
12:38اس کے بعد جو ہے نازو جو ہے وہ لون میں بیٹھ جاتے ہیں
12:41اور وہاں پہ باتیں کر رہی ہوتی ہے اور سوچ رہی ہوتی ہے
12:44کہ روحان سے بھی اتنے دن ہو گیا بات نہیں ہوئی
12:46تو ابھی میں روحان کو کول کر لیتی ہوں جب وہ فون اٹھاتی ہے
12:49ٹیبل سے تو ادھر سے بڑے بھئیہ آ جاتے ہیں
12:51یعنی کہ عمر عمر اس سے باتے ہیں کہتے ہیں نازو تم میری بہت اچھی بہن ہو
12:55تو وہ آگے سے کہتی ہے کہ عمر بھئیہ بہت پریشان لگ رہے ہیں
12:59میں ہر بات سے آپ کے سوری کرتی ہوں
13:01تو عمر کے دل میں شک پڑ جاتا ہے کہ نازو کے سوری کر رہی ہے
13:05پھر وہ بات کو فوراں کور کرنے کے لیے کہہ دیتی ہے
13:07کہ بھائی میں اس وجہ سے سوری کرتی ہوں
13:09کہ بھابی مریم نے جو بھی میرے ساتھ کیا
13:12اس وجہ سے میں سوری کرتی ہوں
13:14اس کے بعد پرویز کے اببو کو جو لوگ لے کے گئے ہوتے ہیں
13:17ہسپیٹل وہ پھر پرویز سے پوچھتے ہیں
13:20کہ کیا ہم اب گھر چلے جائیں
13:21ہم اپنا کام چھوڑ کر آئے ہیں
13:23آپ اگر ہم اجازت دے تو ہم چلے جاتے ہیں
13:25تو پرویز انہیں کہتا ہے کہ آپ چلے جاؤ
13:27پھر وہ پریشانی کی حالت میں
13:28ادھر ادھر ہسپیٹل میں ہی پھرتا دیواروں کے ساتھ لگتا رہتا ہے
13:31پھر وہ اپنی بہن مریم کو کول کرتا ہے
13:33مریم جو کہ نماز پڑھ رہی ہوتی ہے
13:34اور اس کو کول آتی ہے
13:36تو وہ کول اٹینٹ کرتی ہے
13:37تو پرویز بتاتا ہے کہ بابا کو میجر ہارٹ اٹیک ہوئے
13:40وہ ہسپیٹل ایڈمیٹ ہے
13:41وہ تب ہی جو نازو ہے
13:43وہ دوسرے روم میں اپنے بابا اور ماما کے ساتھ بیٹھ کر
13:46رسم لائک آ رہی ہوتی ہے
13:47اور اپنے بابا کو کہتے ہیں
13:49کہ بابا آپ کو کیسے پتا چل جاتا ہے
13:50جب بھی کوئی چیز میرے کھانے کو دل کرتا ہے
13:52میں تو آپ کو کہتی ہوں
13:53تو اس کا بابا کہتا ہے
13:54کہ بیٹے مجھے بچپن سے اس چیز کی عادت ہے
13:56کہ تمہیں جب بھی کوئی چیز چاہیے ہوتی ہے
13:58مجھے پتا چل جاتا ہے
13:59اور میں تمہارے لئے لے آتا ہوں
14:01یہ وہ یہ باتیں کر رہے ہوتے ہیں
14:02تو مریم جو ہے باہ کر جاتی ہے
14:04اور اسے سانس چڑھا ہوتا ہے
14:05اور اسحاق پوچھتا ہے
14:06کہ کیا ہوا مریم
14:07تو مریم آگے سے بتاتی ہے
14:08کہ میرے بابا کو جو ہے ہارٹ اٹیک ہوا ہے
14:10وہ سارے حران رہ جاتے ہیں
14:12اسحاق مریم کی بات سن کر کہتا ہے
14:13چلو مریم چلیں دون آزو
14:15جو ہے اپنی امی کو کہتی ہے
14:16کہ دیکھا بابا کو
14:17اس نے دو آنسوبہ ہے
14:19تو کس طرح موم ہو گئے ہیں
14:20اور اس کے ساتھ جانے کے لئے تیار ہو گئے ہیں
14:22تو اسحاق اس کو کہتا ہے
14:23سباحت کو کہ
14:24تم گھر کا کیا لکھنا میں آتا ہوں
14:27پھر جب وہ وہاں پوچھتے ہیں
14:28تو وہاں جا کر پرویز کہتا ہے
14:30کہ دیکھ لو پریشانی کی وجہ سے
14:31میرے بابا کا کیا حال ہو گئے
14:32اسحاق کہتا ہے
14:33کہ اب بھی تم چپ ہو جاؤ
14:35یہ ٹائم نہیں ہے
14:37یہ بات کرنے کا معاملہ زیادہ بگڑ جائے گا
14:39دوسری سائل پہ جو
14:40جمیل اور شازی ہوتے ہیں
14:42وہ بہت پریشان ہوتے ہیں
14:43شازیہ بہت پریشان ہوتے ہیں
14:44کہ اس کی بہن
14:45اور اس کا بیٹا یہ کام کیسے کر سکتے ہیں
14:48ایسا ہو نہیں سکتا
14:48وہ تو اتنے امیر ہے
14:49وہ جمیل کے ساتھ
14:51بہت بتمیزی کرتی ہے
14:53اور بحث کرتی ہے
14:54کہ وہ ایسا نہیں کر سکتے
14:55وہ تو بہت زیادہ امیر ہے
14:56تو جمیل کہتا ہے
14:57کہ بس تم چپ رہو
14:58انہیں یہ ہمارے گھر کی
14:59کوئی ہاؤس ہلپر
15:00یہ کام نہیں کر سکتی
15:02کیونکہ وہ اتنے سالوں سے
15:03ہمارے گھر کام کر رہے ہیں
15:05یہ ساری وہ باتیں کر رہے ہوتے ہیں
15:06تو پھر وہاں پہ تبریز آتا ہے
15:09وہ تبریز گفٹ لے کر آتا ہے
15:11سندس کے لئے
15:11اور اپنی آنٹی کے لئے
15:12شازیہ بہت اران ہوتی
15:14کہتی یہ کس چیز کے لئے گفٹ
15:15تو تبریز کہتا ہے
15:17کہ مجھے پسند آئے تھے
15:18کہ سندس کو بہت پسند آئیں گے
15:19اور آپ کے لئے بھی میں لے کے آگیا
15:21وہ کہتا ہے ان میں سے کچھ گفٹ جو ہیں
15:23وہ میں سندس کو دکھانے کے لئے لے جاؤ
15:25شازیہ کہتی ہاں ہاں لے جاؤ
15:26تو پھر وہ سندس کو دکھانے کے لئے لے کے جاتا ہے
15:29پھر وہ اگلے دن پارٹی میں جاتا ہے
15:30وہاں پہ ان کی
15:31آپس میں بیس ہو جاتی ہے
15:32اور ارسل بھی وہاں پہ ہوتا ہے
15:34جو سندس کو پسند کرتا ہوتا ہے
15:36اور ارسل جو ہے وہ یہ سوتا ہے
15:38کہ یہ کتنا گھٹیا آدمی ہے تبریز
15:41کیونکہ تبریز کے جو
15:43سوشل اکاؤنٹس کی اکسیس ہے
15:44وہ ارسل کے پاس آگئی ہوتی ہے
15:46اور ارسل جو ہے کہتا ہے
15:47کہ یہ تو بالکل بھی سندس کے لائک
15:49سندس کا سامنا تبریز سے ہوتا ہے
15:54تو سندس جو ہے زور سے تپڑ مارتی ہے
15:55تبریز کے موہ پہ
15:56اور اس وجہ سے اس کے ممہ اور پاپا پریشان
15:58اور احران ہو جاتے ہیں
16:00کہ سندس نے یہ کیا کر دیا
16:02ابرش گھر واپس جاتی ہے
16:03تو روحان دیکھے پر احران ہو جاتا ہے
16:05اور کہتا ہے کہ تم اتنی جلدی واپس آگئے
16:07تم تو نازو کے ساتھ ملے گئی تھی
16:09تو ابرش آگے سے کہتی ہے
16:10نازو جو ہے وہ بیزی تھی
16:14مجھے راہیم نے ملنے نہیں دیا
16:15اس نے کہا ہے کہ گھر میں پروبلم ہے
16:17اس وجہ سے نازو سے بعد میں ملنا
16:19ہم آپ کو کول کر دیں گے
16:20تو روحان ہران ہو جاتا ہے
16:23کہتا ہے کونسی ایسی پروبلم
16:24پھر وہ کہتا ہے
16:25کہتا ہے کہ چلو کوئی بات نہیں
16:27ہر گھر کے اپنے مسئلے میں سائل ہوتے ہیں
16:28کیونکہ ابرش کہہ رہی تھی
16:30کہ پتا نہیں ان کے گھر کے نظام کیسا ہے
16:32کہ وہ اس طرح کوئی مہمان ان کے گھر گیا
16:34اور انہوں نے اسے ملنے سے بغیر ہی بھیج دیا
16:37تو وہ کہتا ہے کہ ہر گھر کے اپنے مسئلے مسائل ہوتے ہیں
16:39کوئی بات نہیں
16:40کبھی کبھی انسان کو صبر کر لینا چاہیے
16:42اس کے بعد جو ہے
16:43سندس جو ہے کچن میں ہوتی ہے
16:46تو تبریز آتا ہے
16:46اور اس کے بعد کہتا ہے
16:47کہ جن کو ہم ڈونڈ رہے ہیں
16:48ادھر ادھر ڈونڈ رہے ہیں
16:49وہ ادھر ہیں
16:51تو سندس آگے سے کہتی ہے
16:53کہ آپ پہلے اپنی اردو ٹھیک کل ہو
16:55تو وہ کہتا ہے
16:56کہ آپ کا جو مرضی کو
16:58آپ کا مگہ اتر تو میں ہی ہوں
16:59آپ نے زندگی تو میرے ساتھ ہی گزانی آخر کار
17:01لاش پہ آنا تو میرے پاس ہی ہے
17:03پھر اس کے بعد جو ہے نازو
17:05نازو جو ہے
17:06وہ مریم کے فادر کے پاس جاتی ہے
17:09اور اس کو کہتی ہے
17:10کہ تم اب اپنی بیٹی کو چھوڑ کر کیوں جارہے
17:13کیونکہ آپ کو پتا ہے
17:14مریم نے کہہ دیا
17:14کہ ابو یہ میرا گھر ہے
17:16میں اسی گھر میں رہوں گی
17:17نازو جو ہے
17:18وہ مریم کا جینا حرام کرنا چاہتی ہے
17:19وہ اس کے ابو کو کہتی ہے
17:20اب دو دن کی جو آپ کی بیٹی بوکی ہے
17:23اس کو آپ ابھی ادھر چھوڑ کے جارہے ہیں
17:25اتنی آپ میں گہرت ہے
17:26اتنی آپ میں ایگو ہے
17:28کہ آپ ابھی ادھر چھوڑ کے جارہے ہیں
17:30تو یہی باتیں وہ سوچتے ہیں
17:31جب گھر چلا جاتا ہے
17:32تو فوٹپات پہ جا رہا ہوتا ہے
17:33اور نازو کی یہی ساری باتیں سوچ رہا ہوتا ہے
17:35تو پریشان ہو کر فوٹپات پہ گر جاتا ہے
17:37اور جب اس کو
17:38وہاں پہ جو لوگ ہوتے ہیں
17:40وہ اس کو اٹھاتے ہیں
17:41اگر اس کے نمبر سے کول کرتے ہیں
17:43پرویز کو
17:43پرویز کو بتاتے ہیں
17:44وہ کہتے ہیں
17:45آپ آجو ہسپیٹر
17:46ہم اس کو ہسپیٹر لے کے جا رہے ہیں
17:48وہ ہسپیٹر لے کے جاتے ہیں
17:49وہاں جا کر ڈوکٹر بتاتے ہیں
17:50کہ اس کو تو میجر ہارٹ اٹیک
17:52اس کی وجہ سے اس کی آرٹریز
17:54جو ہیں وہ بلوک ہو گئے گے اور اس کا
17:56ہمیں سرجری کرنی پڑے گی اور
17:58تبریز پھر جب ہسپیٹل پہنچتا ہے
18:00تو وہ وہاں پہ پہ پوچھتا ہے
18:04کہ میرے اببو ٹھیک تو ہے نا
18:05ڈوکٹر صاحبہ تو وہ کہتا ہے کہ تمہارے اببو
18:07کی آرٹریز جو ہیں وہ بلوک ہو گئے
18:10ہم سرجری کرنے ہیں تمہارے سائن چاہیے
18:12ہمیں ڈوکومنٹس میں تم میرے ساتھ ہو لیکن
18:14تم دعا گو رہو کہ اللہ تعالی
18:16تمہارے اببو کو سینطن درستی عطا فرمائے
18:18اس کے بعد جو ہے نازو
18:20جو ہے وہ لون میں بیٹھ جاتے ہیں اور وہاں پہ
18:22باتیں کر رہی ہوتی ہیں اور سوچ رہی ہوتی ہے
18:24کہ روحان سے بھی اتنے دن ہو گیا بات نہیں
18:26ہوئی تو ابھی میں روحان کو کول کر لیتی
18:28ہوں جب وہ فون اٹھاتی ہے ٹیبل
18:30سے تو ادھر سے بڑے بھئیہ آ جاتے ہیں
18:31یعنی کہ عمر عمر اس سے باتیں گئے ہیں
18:33کہتے ہیں نازو تم میری بہت اچھی بہن ہو
18:35تو وہ آگے سے کہتی ہے کہ عمر بھائیہ
18:38بہت پریشان لگ رہے ہیں میں ہر بات
18:39سے آپ کے سوری کرتی ہوں تو عمر
18:42کے دل میں شک پڑ جاتا ہے
18:44کہ نازو کہ سوری کری ہے پھر وہ
18:45بات کو فوراں کور کرنے کے لیے کہہ دیتی ہے
18:47کہ بھائی میں اس وجہ سے سوری کرتی ہوں
18:49کہ بھابی مریم نے جو بھی
18:51میرے ساتھ کیا اس وجہ سے میں
18:53سوری کرتی ہوں اس کے بعد پرویز
18:55کے ابو کو جو لوگ لے کے گئے ہوتے ہیں
18:57ہسپیٹل وہ پھر پرویز سے
19:00پوچھتے ہیں کہ کیا ہم اب گھر چلے جائیں
19:02ہم اپنا کام چھوڑ کر آئے ہیں آپ اگر
19:03اجازت دے تو ہم چلے جاتے ہیں تو
19:05پرویز انہیں کہتا ہے کہ آپ چلے جاؤ پھر وہ
19:07پریشانی کی حالت میں در ادھر ہسپیٹل میں
19:09پھرتا دیواروں کے ساتھ لگتا رہتا ہے پھر
19:11وہ اپنی بہن مریم کو کول کرتا ہے مریم
19:13جو کہ نماز پڑھ رہی ہوتی ہے اور اس کو
19:15کول آتی ہے تو وہ کول ٹینٹ کرتی ہے
19:17تو پرویز بتاتا ہے کہ بابا کو
19:19میجر ہارٹ اٹیک ہوئے وہ ہسپیٹل ایڈمیٹ ہے
19:21وہ تب ہی جو نازو ہے
19:24وہ دوسرے روم میں اپنے بابا اور
19:25ماما کے ساتھ بیٹھ کر رسم لائی کھا رہی ہوتی ہے
19:27اور اپنے بابوں کو کہتے ہیں کہ بابا آپ کو
19:29کیسے پتا چل جاتا ہے جب بھی کوئی چیز
19:31میرے کھانے کو دل کرتا ہے میں تو آپ کو کہتا ہی
19:33میں تو اس کا بابا کہتا ہے کہ بیٹے مجھے
19:35بچپن سے اس چیز کی عادت ہے کہ تمہیں
19:37جب بھی کوئی چیز چاہیے ہوتی ہے مجھے پتا چل جاتا ہے
19:39اور میں تمہارے لئے لے آتا ہوں
19:41یہ باتیں کہہ رہے ہوتے ہیں تو مریم جو ہے
19:43باہ کر جاتی ہے اور اسے سانس چڑھا ہوتا ہے اور
19:45اسحاق پوچھتا ہے کہ کیا ہوا مریم
19:47تو مریم آگے سے بتاتی ہے کہ میرے بابا
19:49کو جو ہے ہارٹ اٹیک ہوا ہے وہ سارے حران
19:51رہ جاتے ہیں مریم کی بات سن کر کہتا ہے
19:53چلو مریم چلیں دون آزو جو ہے
19:55اپنی امی کو کہتی ہے کہ دیکھا بابا
19:57کو اس نے دو آن صبح ہے تو کس طرح
19:59موم ہو گئے ہیں اور اس کے ساتھ جانے
20:01کے لئے تیار ہو گئے ہیں تو اسحاق اس کو
20:03کہتا ہے سباحت کو کہ تم
20:05گھر کا کیا لکھنا میں آتا ہوں
20:07پھر جب وہ وہاں پوچھتے ہیں تو وہاں جا کرتا
20:09پرویز کہتا ہے کہ دیکھ لو پریشانی
20:11کی وجہ سے میرے بابا کا کیا ہالو گئے
20:13اسحاق کہتا ہے کہ اب بھی تم چپ ہو جاؤ
20:15یہ ٹائم نہیں ہے
20:17یہ بات کرنے کا معاملہ زیادہ بگڑ جائے گا
20:19دوسری سائٹ پہ جو
20:20جمیل اور شازی ہوتے ہیں وہ بہت پریشان ہوتے ہیں
20:23شازیہ بہت پریشان ہوتے ہیں کہ اس کی بہن
20:25اور اس کا بیٹا یہ کام
20:27کیسے کر سکتے ہیں ایسا ہو نہیں سکتا
20:29وہ تو اتنے میرے وہ جمیل کے ساتھ
20:31بہت بتمیزی
20:33کرتی ہے اور بحث کرتی ہے کہ وہ ایسا نہیں
20:35کر سکتے وہ تو بہت زیادہ میرے تو جمیل
20:37کہتا ہے کہ بس تم چپ رہو
20:38یہ ہمارے گھر کی کوئی ہاؤس ہیلپر بھی
20:40یہ کام نہیں کر سکتی کیونکہ
20:42وہ اتنے سالوں سے ہمارے گھر کام کر رہے ہیں
20:45یہ ساری وہ باتیں کر رہے ہوتے ہیں
20:47تو پھر وہاں پہ تبریز آ جاتا ہے
20:49وہ تبریز گفٹ لے کر آتا ہے
20:51سندس کے لئے اور اپنی آنٹی کے
20:52شازیہ بہت حران ہوتی کہتی ہے یہ کس چیز
20:55کے لئے گفٹ تو تبریز
20:57کہتا ہے کہ مجھے پسند آئیتا ہے کہ سندس کو بہت
20:59پسند آئیں گے اور آپ کے لئے بھی میں لے کے آگے
21:01وہ کہتا ہے ان میں سے کچھ گفٹ
21:03جو ہے وہ میں سندس کو دکھانے کے لئے
21:05لے جاؤ شازیہ کہتی ہے ہاں ہاں لے جاؤ
21:06پھر وہ سندس کو دکھانے کے لئے لے کے جاتا ہے
21:09پھر وہ اگلے دن پارٹی میں جاتا ہے وہ وہاں پہ
21:11ان کی حاپس میں بیعث ہو جاتی ہے
21:13اور ارسل بھی وہاں پہ ہوتا ہے جو
21:15سندس کو پسند کرتا ہوتا ہے اور ارسل
21:17جو ہے وہ یہ سوتا ہے کہ یہ
21:19کتنا گھڑیا آدمی ہے
21:21تبریز کیونکہ تبریز
21:23کے جو سوشل اکاؤنٹس کی اکسیس ہے وہ
21:24ارسل کے پاس آگئی ہوتی ہے اور
21:26ارسل جو ہے کہتا ہے کہ یہ تو بالکل بھی سندس
21:29کے لائک
21:29سندس کا سامنا
21:33تبریز سے ہوتا ہے تو سندس جو ہے
21:34زور سے تپڑ مارتی ہے تبریز کے موہ پہ
21:36اور اس وجہ سے اس کے ممہ اور پاپا پریشان
21:38اور احران ہو جاتے ہیں کہ
21:40سندس نے یہ کیا کر دیا
21:42اب بریش گھر واپس جاتی ہے تو روحان
21:44دیکھ کر ہران ہو جاتا ہے اور کہتا ہے کہ تم
21:46اتنی جلدی واپس آگئی ہو تم تو نازو کے ساتھ
21:48ملنے گئی تھی تو اب بریش آگے سے
21:50کہتا ہے کہ نازو جو ہے وہ بیزی تھی
21:54مجھے راہیم نے ملنے نہیں دیا اس نے کہا ہے کہ
21:56گھر میں پرابلم ہے اس وجہ سے نازو سے
21:58بعد میں ملنا ہم آپ کو کول کر دیں گے
22:00تو تم ملنے تو روحان
22:02ہران ہو جاتا ہے کہتا ہے کون سی ایسی
22:04پرابلم ہے پھر وہ کہتا ہے کہتا ہے کہ
22:06چلو کوئی بات نہیں ہر گھر کے اپنے مسئلے میں
22:08سائل ہوتے ہیں کیونکہ اب بریش کہہ رہی تھی
22:10کہ پتہ نہیں ان کے گھر کے نظام
22:12کیسا ہے کہ وہ اس طرح کوئی مہمان ان کے گھر
22:14گیا اور انہوں نے اسے ملنے سے
22:16بغیر ہی بھی دیا ہے تو وہ کہتا ہے کہ
22:18ہر گھر کے اپنے مسئلے میں سائل ہوتے ہیں کوئی بات نہیں
22:20کبھی کبھی انسان کو صبر کر لینا
22:22چاہیے اس کے بعد جو ہے
22:23سندس جو ہے کچن میں ہوتی ہے تو
22:26تبریہ داتا ہے اور اس کے بعد کہتا ہے کہ
22:28جن کو ہم ادھر ادھر ادھر ادھر رہے ہیں
22:30وہ ادھر ادھر ہیں تو
22:31سندس آگے سے کہتی ہے کہ
22:33پہلے نا اپنی اردو ٹھیک کر لو
22:35تو وہ کہتا ہے کہ آپ کا جو مرضی
22:38کو آپ کا مگہ اتر تو میں ہی ہوں آپ نے زندگی
22:39تو میرے ساتھ ہی گزانی آخر کا
22:41لاش پہ آنا تو میرے پاس ہی ہے پھر اس کے
22:44بعد جو ہے نازو نازو جو
22:46ہے وہ
22:47مریم کے فادر کے پاس جاتی ہے اور اس کو
22:49کہتی ہے کہ تم اب
22:51اپنی بیٹی کو چھوڑ کر کیوں جا رہے ہیں کیونکہ
22:53آپ کو پتا ہے مریم نے کہہ دیا کہ ابو یہ میرا
22:55گھر ہے میں اسی گھر میں روں گی نازو
22:57جو ہے وہ مریم کا جینا حرام کرنا چاہتی ہے
22:59اس کے ابو کو کہتی ہے اب دو دن
23:01کی جو آپ کی بیٹی بھو کی ہے
23:03اس کو آپ ابھی ادھر چھوڑ کے جا رہے ہیں
23:05اتنی آپ میں گہرت ہے اتنی آپ میں
23:07ایگو ہے کہ آپ ابھی ادھر چھوڑ کے
23:09جا رہے ہیں تو یہی باتیں وہ سوچتا ہے جب گھر چلا جاتا ہے تو فوٹوپات
23:12پہ جا رہا ہوتا ہے اور نازو کے یہی ساری باتیں سوچ رہا ہوتا ہے
23:15تو پریشان ہو کر فوٹوپات پہ گر جاتا ہے اور جب اس کو وہاں پہ
23:19جو لوگ ہوتے ہیں وہ اس کو اٹھاتے ہیں گھر اس کو کول اس کے نمبر
23:22سے کول کرتے ہیں پرویز کو اور پرویز کو بتاتے ہیں وہ کہتے ہیں
23:25ہم آپ آجو ہوسپیٹر ہم اس کو ہوسپیٹر لے کے جا رہے ہیں وہ ہوسپیٹر
23:28لے کے جاتے ہیں وہاں جا کر ڈوکٹر بتاتے ہیں کہ اس کو تو میجر ہارٹ
23:32اٹیک ہوئر اس کی وجہ سے اس کی آرٹریز جو ہیں وہ بلوک ہو گئے گی اور
23:36اس کا ہمیں سرجری کرنی پڑے گی اور تبریز پھر جب ہسپیٹل پہنچتا ہے
23:40تو وہ وہاں پہ سوری پرویز جب ہسپیٹل پہنچتا ہے تو وہاں پہ پوچھتا
23:44ہے کہ میری اببو ٹھیک تو ہے نا ڈوکٹر صاحبہ تو وہ کہتا ہے کہ
23:47تمہارے اببو کی آرٹریز جو ہیں وہ بلوک ہو گیا ہم سرجری کرنے
23:51تمہارے سائن چاہیے ہمیں ڈوکومنٹس میں تم میرے ساتھ ہو لیکن تم دعا
23:54گو رہو کہ اللہ تعالیٰ تمہارے اببو کو سینط درستی عطا فرمائے
23:58اس کے بعد جو ہے نازو جو ہے وہ لون میں بیٹھ جاتے ہیں اور وہاں
24:01پہ باتیں کر رہی ہوتی ہے اور سوچ رہی ہوتی ہے کہ روحان سے بھی
24:05اتنے دن ہو گیا بات نہیں ہوئی تو ابھی میں روحان کو کول کر لیتی
24:08ہوں جب وہ فون اٹھاتی ہے ٹیبل سے تو ادھر سے بڑے بھئی آ جاتے
24:11ہیں یعنی کہ عمر عمر اس سے باتیں یعنی کہتے ہیں نازو تم میری
24:15بہت اچھی بہن ہو تو وہ آگے سے کہتی ہے کہ عمر بھئی آپ بہت
24:18پریشان لگ رہے ہیں میں ہر بات سے آپ کے سوری کرتی ہوں تو عمر کے
24:22دل میں شک پڑ جاتا ہے کہ نازو کے سوری کری ہے پھر وہ بات کو
24:26فوراں کور کرنے کے لیے کہہ دیتی کہ بھائی میں اس وجہ سے سوری
24:29کرتی ہوں کہ بابی مریم نے جو بھی میرے ساتھ کیا اس وجہ سے میں
24:33سوری کرتی ہوں اس کے بعد پرویز کے ابو کو جو لوگ لے کے گئے ہوتے
24:37ہیں ہسپیٹل وہ پھر پرویز سے پوچھتے ہیں کہ کیا ہم اب گھر
24:41چلے جائیں ہم اپنا کام چھوڑ کر آئے ہوں آپ اگر ہم اجازت دے
24:44تو ہم چلے جاتے ہیں تو پرویز انہیں کہتا ہے کہ آپ چلے جاؤ پھر وہ
24:47پریشانی کی حالت میں ادھر ادھر ہسپیٹل میں ہی پھرتا دیواروں کے
24:50ساتھ لگتا رہتا ہے پھر وہ اپنی بہن مریم کو کول کرتا ہے مریم
24:53جو کہ نماز پڑھ رہی ہوتی ہے اور اس کو کول آتی ہے تو وہ کول
24:57ٹینٹ کرتی ہے تو پرویز بتاتا ہے کہ بابا کو میجر ہارٹ اٹیک
25:00ہوئے وہ ہسپیٹل ایڈمیٹ ہے وہ تب ہی جو نازو ہے وہ دوسرے روم
25:04میں اپنے بابا اور ماما کے ساتھ بیٹھ کر رسم لائک آ رہی ہوتی
25:07ہے اور اپنے بابا کو کہتے ہیں کہ بابا آپ کو کیسے پتا چل جاتا ہے
25:10جب بھی کوئی چیز میرے کھانے کو دل کرتا ہے میں تو آپ کو
25:13کہتا ہی ہم نے تو اس کا بابا کہتا ہے کہ بیٹے مجھے بچپن سے اس
25:16چیز کی عادت ہے کہ تمہیں جب بھی کوئی چیز چاہیے ہوتی ہے
25:19مجھے پتا چل جاتا ہے اور میں تمہارے لیے لے آتا ہوں یہ وہ یہ
25:21باتیں کر رہے ہوتے ہیں تو مریم جو ہے باہ کر جاتی ہے اور اسے سانس
25:24چڑھا ہوتا ہے اور اسحاق پوچھتا ہے کہ کیا ہوا مریم تو مریم آگے سے
25:28بتاتی ہے کہ میرے بابا کو جو ہے ہارٹ اٹیک ہوئے وہ سارے
25:31حران رہ جاتے ہیں مریم کی بات سن کر کہتا ہے چلو مریم چلیں
25:34دون آزو جو ہے اپنی امی کو کہتی ہے کہ دیکھا بابا کو اس نے دو
25:38آنسبہ ہیں تو کس طرح موم ہو گئے ہیں اور اس کے ساتھ جانے کے لیے
25:42تیار ہو گئے ہیں تو اسحاق اس کو کہتا ہے سباحت کو کہ تم گھر کا
25:46کیا لکھنا میں آتا ہوں پھر جب وہ وہاں پوچھتے ہیں تو وہاں جا کر
25:49پرویز کہتا ہے کہ دیکھ لو پریشانی کو وجہ سے میرے ابو کا
25:52کیا ہالو کے اسحاق کہتا ہے کہ اب بھی تم چپ ہو جاؤ یہ ٹائم
25:57نہیں ہے یہ بات کرنے کا معاملہ زیادہ بگڑ جائے گا دوسری سائل
26:00پہ جو جمیل اور شازی ہوتے ہیں وہ بہت پریشان ہوتے ہیں شازیاں
26:03بہت پریشان ہوتے ہیں کہ اس کی بہن اور اس کا بیٹا یہ کام کیسے
26:07کر سکتے ہیں ایسا ہو نہیں سکتا وہ تو اتنے امیر ہے وہ جمیل کے
26:11ساتھ بہت بتمیزی کرتی ہے اور بحث کرتی ہے کہ وہ ایسا
26:15نہیں کر سکتے وہ تو بہت زیادہ میرا تو جمیل کہتا ہے کہ بس
26:17تم چھپ رہو یہ ہمارے گھر کی کوئی ہاؤس ہیل پر بھی کام یہ
26:21کام نہیں کر سکتی کیونکہ وہ اتنے سالوں سے ہمارے گھر کام
26:24کر رہے ہیں یہ ساری وہ باتیں کر رہے ہوتے ہیں تو پھر تو وہاں
26:28پہ تبریز آ جاتا ہے وہ تبریز گفٹ لے کر آتا ہے سندس کے
26:31وہاں رات ٹار ہیںتے ہیں وہاں آگا ہے تو ہمارے گفٹ لے کر
26:35لے ہ tasks سے موزے گفٹ لے کر تبریز پھر سندس کو بہت پسند
26:39آئیں گے اور آپ کے لیے بھی میں لے کر آ گیا پھر وہ کہتا ہے ان
26:42میں سے کچھ گفٹ جو ہیں وہ سندس کو دکھانے کے لیے لے جاؤ شادیا
26:45کہتی ہے ہاں ہاں لے جاؤ تو پھر وہ سندس کو دکھانے کے لیے
26:48لے کر جاتا ہے پھرا وہ اگلے دن پارٹی میں جاتا ہے وہاں پہ ان کی
26:51کی حاپس میں بیس ہو جاتی ہے اور ارسل بھی وہاں پہ ہوتا ہے جو سندس
26:55کو پسند کرتا ہوتا ہے اور ارسل جو ہے وہ یہ سوتا ہے کہ یہ کتنا
27:00گھڑیا آدمی ہے تبریز کیونکہ تبریز کے جو سوشل اکاؤنٹس کی اکسیس
27:04ہے وہ ارسل کے پاس آگئی ہوتی ہے اور ارسل جو ہے کہتا ہے کہ یہ
27:08تو بالکل بھی سندس کے لائک ہے سندس کا سامنا تبریز سے ہوتا ہے
27:14تو سندس جو ہے زور سے تپڑ مارتی ہے تبریز کے موہ پہ اور اس وجہ سے
27:17اس کے ممہ اور پاپا پریشان اور احران ہو جاتے ہیں کہ سندس
27:21نے یہ کیا کر دیا ابریش گھر واپس جاتی ہے تو روحان دیکھ پہ
27:25احران ہو جاتا ہے اور کہتا ہے کہ تم اتنی جلدی واپس آگئی ہے
27:27تم تو نازو کے ساتھ ملنے گئی تھی تو ابریش آگے سے کہتی ہے کہ
27:31نازو جو ہے وہ بیزی تھی مجھے راہیم نے ملنے نہیں دیا اس نے
27:36کہا ہے کہ گھر میں پروبلم ہے اس وجہ سے نازو سے بعد میں ملنا ہم
27:39آپ کو کول کر دیں گے تو تم ملنا تو روحان احران ہو جاتا
27:43کہتا ہے کونسی ایسی پروبلم پھر وہ کہتا ہے کہتا ہے کہ چلو
27:46کوئی بات نہیں ہر گھر کے اپنے مسئلے مسائل ہوتے ہیں کیونکہ
27:49ابریش کہہ رہی تھی کہ پتہ نہیں ان کے گھر کے نظام کیسا ہے کہ
27:52وہ اس طرح کوئی مہمان ان کے گھر گیا اور انہوں نے اسے ملنے سے
27:56بغیر ہی بھی دیا ہے تو وہ کہتا ہے کہ ہر گھر کے اپنے مسئلے
27:59مسائل ہوتے ہیں کوئی بات نہیں کبھی کبھی انسان کو صبر کر لینا
28:02چاہیے اس کے بعد جو ہے سندس جو ہے کچن میں ہوتی ہے تو
28:06تبریہز آتا ہے اور اس کے بعد کہتا ہے کہ جن کو ہم ڈونڈ رہے ہیں
28:09ادھر ادھر ڈونڈ رہے ہیں وہ ادھر ادھر ہیں تو سندس آگے سے
28:12کہتی ہے کہ آپ پہلے نا اپنی اردو ٹھیک کر لو تو وہ کہتا ہے
28:16کہ آپ کا جو مرضی کو آپ کا مگہ اتر تو میں ہوں آپ نے زندگی تو
28:20میرے ساتھ ہی گزانی آخر کا لاش پہ آنا تو میرے پاس ہی ہے پھر
28:23اس کے بعد جو ہے نازو نازو جو ہے وہ مریم کے فادر کے پاس
28:29جاتی ہے اور اس کو کہتی ہے کہ تم اب اپنی بیٹی کو چھوڑ کر کیوں
28:33جا رہے کیونکہ آپ کو پتا ہے مریم نے کہہ دیا کہ ابو یہ میرا
28:35گھر ہے میں اسی گھر میں رہوں گی نازو جو ہے وہ مریم کا جینا
28:39حرام کرنا چاہتی ہے وہ اس کے ابو کو کہتی ہے اب دو دن کی جو
28:42آپ کی بیٹی بھوکی ہے اس کو آپ ابھی ادھر چھوڑ کے جا رہے ہیں اتنی
28:45آپ میں گہرت ہے
28:46اتنے آپ میں ایگو ہے
28:48کہ آپ ابھی ادھر چھوڑ کے جا رہے ہیں
28:50تو یہی باتیں وہ سوچتے ہیں
28:51جب گھر چلا جاتا ہے
28:52تو فوٹپات پر جارہا ہوتا ہے
28:53اور نازو کے یہی ساری باتیں سوچ رہا ہوتا ہے
28:55تو پریشان ہو کر فوٹپات پر گر جاتا ہے
28:57اور جب اس کو وہاں پر جو لوگ ہوتے ہیں
29:00وہ اس کو اٹھاتے ہیں
29:01گھر اس کے نمبر سے کول کرتے ہیں
29:03پرویز کو اور پرویز کو بتاتے ہیں
29:05وہ کہتے ہیں
29:05آپ آج ہو ہسپیٹر
29:06ہم اس کو ہسپیٹر لے کے جا رہے ہیں وہ ہسپیٹر لے کے جاتے ہیں
29:09وہاں جا کر ڈوکٹر بتاتے ہیں کہ
29:11اس کو تو میجر ہارٹ اٹیک ہوئر
29:13اس کی وجہ سے اس کی آرٹریز جو ہیں وہ بلوک ہو گئے ہیں
29:15اور اس کا ہمیں سرجری کرنی پڑے گی
29:18اور تبریز پھر جب ہسپیٹر پہنچتا ہے
29:20تو وہ وہاں پہ سوری پرویز جب ہسپیٹر پہنچتا ہے
29:23تو وہاں پہ پوچھتا ہے کہ میرے ابو ٹھیک تو ہے نا
29:26ڈوکٹر صاحبہ تو وہ کہتے ہیں کہ
29:27تمہارے ابو کی آرٹریز جو ہیں وہ بلوک ہو گیا
29:30ہم سرجری کرنے ہیں تمہارے سائن چاہیے
29:32ہمیں ڈوکومنٹس پر تم میرے ساتھ ہو
29:34لیکن تم دعا گو رہو کہ
29:35اللہ تعالیٰ تمہارے ابو کو سنت درستی عطا فرمائے
29:38اس کے بعد جو ہے نازو جو ہے وہ لون میں بیٹھ جاتے ہیں
29:41اور وہاں پہ باتیں کر رہی ہوتی ہیں
29:43اور سوچ رہی ہوتی ہے کہ روحان سے بھی
29:45اتنے دن ہو گیا بات نہیں ہوئی
29:46تو ابھی میں روحان کو کول کر لیتی ہوں
29:48جب وہ فون اٹھاتی ہے ٹیبل سے
29:50تو ادھر سے بڑے بھئیا آ جاتے ہیں
29:52یعنی کہ عمر اس سے باتیں گئے ہیں
29:54کہتے ہیں نازو تم میری بہت اچھی بہن ہو
29:56تو وہ آگے سے کہتی ہے کہ عمر بھئیا
29:58بہت پریشان لگ رہے ہیں میں ہر بات
29:59سے آپ کے سوری کرتی ہوں تو عمر
30:02کے دل میں شک پڑ جاتا ہے
30:04کہ نازو کے سوری کر رہی ہے پھر وہ بات
30:06کو فوراں کور کرنے کے لیے کہہ دیتی ہے
30:08کہ بھائی میں اس وجہ سے سوری کرتی ہوں
30:10کہ بھابی مریم نے جو بھی
30:12میرے ساتھ کیا اس وجہ سے
30:13میں سوری کرتی ہوں اس کے بعد پرویز
30:16کے ابو کو جو لوگ لے گئے ہوتے ہیں
30:18ہسپیٹل وہ پھر پرویز سے
30:20پوچھتے ہیں کہ کیا ہم اب گھر چلے جائیں
30:22ہم اپنا کام چھوڑ کر آئے ہوں آپ اگر
30:23اجازت دے تو ہم چلے جاتے ہیں تو
30:25پرویز انہیں کہتا ہے کہ آپ چلے جاؤ پھر وہ
30:27پریشانی کی حالت میں ادھر ادھر ہسپیٹل میں
30:38تو پرویز بتاتا ہے کہ بابا کو
30:39میجر ہارٹ اٹیک ہوئے وہ ہسپیٹل ایڈمیٹ ہے
30:42وہ تب ہی جو نازو ہے
30:44وہ دوسرے روم میں اپنے بابا اور
30:45ماما کے ساتھ بیٹھ کر رسم لائی کھا رہی ہوتی ہے
30:47اور اپنے بابا کو کہتے ہیں کہ بابا آپ کو
30:49کیسے پتا چل جاتا ہے جب بھی کوئی چیز
30:52میرے کھانے کو دل کرتا ہے میں تو آپ کو کہتے ہیں
30:54میں تو اس کا بابا کہتا ہے کہ بیٹے مجھے
30:55بچپن سے اس چیز کی عادت ہے کہ تمہیں
30:57جب بھی کوئی چیز چاہیے ہوتی ہے مجھے پتا چل جاتا ہے
31:00اور میں تمہارے لئے لے آتا ہوں
31:01یہ باتیں کہہ رہے ہوتے ہیں تو مریم جو ہے باگ کر
31:04جاتے ہیں سندس کا سامنا تبریز سے ہوتا ہے
31:06تو سندس جو ہے زور سے تپڑ مارتی ہے
31:07تبریز کے موہ پہ اور اس وجہ سے اس کے ممہ اور
31:10پاپا پریشان اور احران ہو جاتے ہیں
31:12کہ سندس نے یہ کیا کر دیا
31:14ابرش گھر واپس جاتی ہے
31:15تو روحان دیکھ کے پر احران ہو جاتا ہے
31:17اور کہتا ہے کہ تم اتنی جلدی واپس آگئے
31:19تم تو نازو کے ساتھ ملنے گئی تھی
31:21تو ابرش آگے سے کہتی ہے کہ نا
31:23نازو جو ہے وہ بیزی تھی
31:26مجھے راہیم نے ملنے نہیں دیا
31:27اس نے کہا ہے کہ گھر میں پروبلم ہے اس وجہ سے
31:29نازو سے بعد میں ملنا ہم آپ کو کول کر دیں گے
31:32تو تم ملنے تو
31:33روحان ہران ہو جاتا ہے کہتا ہے
31:35کونسی ایسی پروبلم پھر وہ کہتا ہے
31:37کہتا ہے کہ چلو کوئی بات نہیں ہر گھر کے اپنے
31:39مسئلے مسائل ہوتے ہیں کیونکہ
31:41ابرش کہہ رہی تھی کہ پتا نہیں ان کے گھر کے
31:43نظام کیسا ہے کہ وہ اس طرح کوئی مہمان
31:45ان کے گھر گیا اور انہوں نے اسے ملنے
31:48سے بغیر ہی بھیج دیا ہے تو وہ
31:49کہتا ہے کہ ہر گھر کے اپنے مسئلے مسائل ہوتے ہیں
31:51کوئی بات نہیں کبھی کبھی انسان کو
31:53صبر کر لینا چاہیے اس کے بعد جو ہے
31:55سندس جو ہے کچن میں
31:57ہوتی گیا تو تبریز آتا ہے اور اس کے بعد
31:59کہتا ہے کہ جن کو ہم ادھر ادھر
32:01رونڈ رہے ہیں وہ ادھر ادھر ہیں
32:03تو سندس آگے سے کہتی ہے کہ
32:05آپ پہلے نا اپنی اردو
32:07ٹھیک کلو تو وہ کہتا ہے کہ
32:08آپ کا جو مرضی کو آپ کا مگہ اتر تو میں ہی ہوں
32:11آپ نے زندگی تو میرے ساتھ ہی گزانی آخر کا
32:13لاش پہ آنا تو میرے پاس ہی ہے
32:15پھر اس کے بعد جو ہے نازو
32:17نازو جو ہے وہ
32:19مریم کے فادر کے پاس جاتی ہے
32:21اور اس کو کہتی ہے کہ تم
32:22اب اپنی بیٹی کو چھوڑ کر کیوں جا رہے
32:25آپ کو پتا ہے مریم نے کہہ دیا
32:26کہ ابو یہ میرا گھر ہے میں اسی گھر میں رہوں گی
32:29نازو جو ہے وہ مریم کا جینا حرام
32:31کرنا چاہتی ہے وہ اس کے ابو کو کہتی ہے
32:32اب دو دن کی جو آپ کی بیٹی بوکی ہے
32:35اس کو آپ ابھی ادھر چھوڑ کے جا رہے ہیں
32:37اتنی آپ میں گہرت ہے
32:38اتنی آپ میں ایگو ہے کہ آپ ابھی ادھر
32:40چھوڑ کے جا رہے ہیں تو یہی باتیں وہ سوچتے ہیں
32:43جب گھر چلا جاتا ہے تو فٹپات پہ جا رہا
32:45اور نازو کی یہی ساری باتیں سوچ رہا
32:47ہوتا ہے تو پریشان ہو کر فٹپات پہ
32:49گر جاتا ہے اور جب اس کو
32:50وہاں پہ جو لوگ ہوتے ہیں وہ اس کو اٹھاتے ہیں
32:53گھر اس کے نمبر سے کول کرتے ہیں
32:55پرویز کو اور پرویز کو بتاتے ہیں وہ کہتے ہیں
32:57آپ آجو ہسپیٹر ہم اس کو
32:59ہسپیٹر لے کے جا رہے ہیں وہ ہسپیٹر لے کے جاتے ہیں
33:01وہاں جا کر ڈوکٹر بتاتے ہیں کہ
33:02اس کو تو میجر ہارٹ اٹیک ہوئر
33:04اس کی وجہ سے اس کی آرٹریز جو ہیں وہ
33:06بلوک ہو گئے گا اور ان کا
33:08ہمیں سرجری کرنی پڑے گی اور
33:10تبریز پھر جب ہسپیٹر پہنچتا ہے تو وہ
33:12وہاں پہ سوری پرویز جب ہسپیٹر
33:14پہنچتا ہے تو وہاں پہ پوچھتا ہے کہ
33:16میرے اببو ٹھیک تو ہے نا ڈوکٹر صاحبہ تو وہ
33:18کہتا ہے کہ تمہارے اببو کی
33:20آرٹریز جو ہیں وہ بلوک ہو گئے ہم سرجری
33:22کرنے ہیں تمہارے سائن چاہیے ہمیں
33:24ٹوکومنٹس میں تم میرے ساتھ ہو لیکن تم دعا
33:26کو رہو کہ اللہ تعالیٰ تمہارے اببو
33:28کو سینط درستی عطا فرمائے
33:30اس کے بعد جو ہے نازو جو ہے وہ
33:32لون میں بیٹھ جاتے ہیں اور وہاں پہ
33:34باتیں کر رہی ہوتی ہے اور سوچ رہی ہوتی ہے
33:36کہ روحان سے بھی تین دن ہو گیا بات نہیں ہوئی
33:38تو ابھی میں روحان کو کول کر لیتی ہوں
33:40جب وہ فون اٹھاتی ہے ٹیبل سے
33:42تو ادھر سے بڑے بھئیہ آ جاتے ہیں
33:43یعنی کہ عمر عمر اس سے باتیں گئے ہیں کہتے ہیں
33:46نازو تم میری بہت اچھی بہین ہو
33:47تو وہ آگے سے کہتی ہے کہ عمر بھئیہ
33:50بہت پریشان لگ رہے ہیں میں ہر بات
33:51سے آپ کے سوری کرتی ہوں تو عمر
33:54کے دل میں شک پڑ جاتا ہے
33:56کہ نازو کے سوری کر رہی ہے پھر وہ
33:57بات کو فوراں کور کرنے کے لیے کہہ دیتی ہے
33:59کہ بھائی میں اس وجہ سے سوری کرتی ہوں
34:01کہ بھابی مریم نے جو بھی
34:03میرے ساتھ کیا اس وجہ سے
34:05میں سوری کرتی ہوں اس کے بعد پرویز
34:07کے اببو کو جو لوگ لے کے گئے ہوتے ہیں
34:09ہسپیٹل وہ پھر پرویز سے
34:12پوچھتے ہیں کہ کیا ہم اب گھر چلے جائیں
34:14ہم اپنا کام چھوڑ کر آئے ہیں آپ اگر
34:15اجازت دے تو ہم چلے جاتے ہیں تو
34:17پرویز انہیں کہتا ہے کہ آپ چلے جاؤ پھر وہ
34:19پریشانی کی حالت میں ادھر ادھر ہسپیٹل میں
34:21پھرتا دیواروں کے ساتھ لگتا رہتا ہے پھر
34:23وہ اپنی بہن مریم کو کول کرتا ہے مریم
34:25جو کہ نماز پڑھ رہی ہوتی ہے اور اس کو
34:27کول آتی ہے تو وہ کول اٹینڈ کرتی ہے
34:29تو پرویز بتاتا ہے کہ بابا کو
34:31میجر ہارٹ اٹیک ہوئے وہ ہسپیٹل ایڈمیٹ ہے
34:33وہ تب ہی جو نازو ہے
34:36وہ دوسرے روم میں اپنے بابا اور
34:37ماما کے ساتھ بیٹھ کر رسم لائی کھا رہی ہوتی ہے
34:39اور اپنے بابا کو کہتے ہیں کہ بابا آپ کو
34:41کیسے پتا چل جاتا ہے جب بھی کوئی چیز
34:43میرے کھانے کو دل کرتا ہے میں تو آپ کو کہتے ہیں
34:45میں تو اس کا بابا کہتا ہے کہ بیٹے مجھے
34:47بچپن سے اس چیز کے عادت ہے
34:49کہ تمہیں جب بھی کوئی چیز چاہیے ہوتی ہے
34:51مجھے پتا چل جاتا ہے اور میں تمہارے لئے لے آتا ہوں
34:53یہ وہ یہ باتیں کر رہے ہوتے ہیں
34:54تو مریم جو ہے باہ کر جاتی ہے اور اسے سانس چڑھا ہوتا ہے
34:57اور اسحاق پوچھتا ہے کہ کیا ہوا مریم
34:59تو مریم آگے سے بتاتی ہے کہ میرے بابا
35:01کو جو ہے ہارٹ اٹیک ہوا ہے وہ سارے حران رہ جاتے ہیں
35:04اسحاق مریم کی بات سن کر کہتا ہے
35:05چلو مریم چلیں دو نازو جو ہے
35:07اپنی امی کو کہتی ہے کہ دیکھا بابا کو
35:09اس نے دو آنسو بہائے ہیں تو کس طرح
35:11موم ہو گئے ہیں اور اس کے ساتھ جانے کے لئے
35:13تیار ہو گئے ہیں تو اسحاق اس کو کہتا ہے
35:15سباحت کو کہ تم
35:17گھر کا کیا لکھنا میں آتا ہوں
35:19پھر جب وہ وہاں پوچھتے ہیں تو وہاں جا کرتا ہے
35:21پرویز کہتا ہے کہ دیکھ لو پریشانی کے وجہ سے
35:23میرے بابا کا کیا ہال ہو گئے
35:25اسحاق کہتا ہے کہ اب بھی تم چھپ ہو جاؤ
35:27یہ ٹائم نہیں ہے
35:29یہ بات کرنے کا معاملہ زیادہ بگڑ جائے گا
35:31دوسرے سائل پہ جو
35:32جمیل اور شازی ہوتے ہیں وہ بہت پریشان ہوتے ہیں
35:35شازیاں بہت پریشان ہوتے ہیں کہ اس کی بہن
35:37اور اس کا بیٹا یہ کام
35:39کیسے کر سکتے ہیں ایسا ہو نہیں سکتا
35:41وہ تو اتنے میرے وہ جمیل کے ساتھ
35:43بہت بتمیزی کرتی ہے
35:45اور بحث کرتی ہے کہ وہ ایسا نہیں کر سکتے
35:47وہ تو بہت زیادہ میرے تو جمیل کہتا ہے
35:49بس تم چھپ رہو یہ ہمارے گھر
35:51کی کوئی ہاؤس ہیلپر بھی
35:52یہ کام نہیں کر سکتی کیونکہ وہ اتنے
35:55سالوں سے ہمارے گھر کام کر رہے ہیں
35:57یہ ساری وہ باتیں کر رہے ہوتے ہیں
35:59تو وہ پھر وہاں پہ تبریز آ جاتا ہے
36:01وہ تبریز گفٹ لے کر آتا ہے
36:03سندس کے لئے اور اپنی آنٹی کے
36:04شازیاں بہت اران ہوتی کہتی ہے یہ کس چیز
36:07کے لئے گفٹ تو تبریز کہتا ہے
36:09کہ مجھے پسند آئے تھے کہ سندس کو بہت پسند آئیں گے
36:11اور آپ کے لئے بھی میں لے کر آگیا
36:13وہ کہتا ہے ان میں سے کچھ گفٹ جو ہیں
36:15وہ میں سندس کو دکھانے کے لئے لے جاؤ
36:17شازیاں کہتی ہے ہاں ہاں لے جاؤ
36:18پھر وہ سندس کو دکھانے کے لئے لے کر جاتا ہے
36:21پھر وہ اگلے دن پارٹی میں جاتا ہے وہاں پہ ان کی
36:23آپس میں بیعث ہو جاتی ہے
36:25اور ارسل بھی وہاں پہ ہوتا ہے جو سندس کو پسند کرتا ہوتا ہے
36:28اور ارسل جو ہے وہ یہ سوتا ہے کہ یہ کتنا گھٹیا آدمی ہے تبریز
36:33کیونکہ تبریز کے جو سوشل اکاؤنٹس کی اکسیس ہے وہ ارسل کے پاس آگئی ہوتی ہے
36:38اور ارسل جو ہے کہتا ہے کہ یہ تو بالکل بھی سندس کے لائک ہے
Comments

Recommended