00:00ایک گانف کے آدمی نے مٹی اور گارے کی مدد سے اپنا گھر بنایا
00:03گھر میں اس نے ایک چھوٹی سی سات نمازیوں کی مسجد بھی بنائی
00:07کیونکہ اس کے سات بیٹے تھے
00:08جب نرمان پورا ہو گیا تو اس نے اپنے بیٹوں کو بولایا اور کہا
00:12میں چاہتا ہوں کہ اس مسجد کی لپائی جنت کی مٹی سے کی جائے
00:16تم سب بھائی جاؤ اور جنت کی مٹی ڈونڈ کر لاؤ
00:18بیٹے یہ سن کر پریشان ہو گئے کہ جنت کی مٹی کہاں سے لائیں
00:22لیکن یہ پتا کا عدیش تھا
00:24تو چھے بیٹے خوج پر نکل پڑے جبکہ سب سے چھوڑ اور ساتھوں بیٹا بیمار تھا
00:28اس لیے وہ گھر پر ہی رہا
00:30شام کو سبھی بھائی تھکے ہارے کھالی ہاتھ لوٹے
00:33تو کیا دیکھتے ہیں
00:34چھوٹا بھائی گھر میں ایک بوری میں مٹی بھر کر بیٹھا ہے
00:37پتا نے حیرانی سے پوچھا
00:39بیٹا تو تو گھر پر ہی تھا
00:41پھر تجھے جنت کی مٹی کہاں سے مل گئی
00:43چھوٹے بیٹے نے جواب دیا
00:44میں سارا دن ماں کے پیچھے پیچھے چلتا رہا
00:47جہاں جہاں وہ قدم رکھتی تھی
00:49وہاں وہاں سے مٹی اٹھا کر اکٹھا کرتا گیا
00:52یہی ہے جنت کی مٹی
Comments