- 6 months ago
Category
😹
FunTranscript
00:00. . . . . . .
00:30. . . .
01:00. . . . .
01:29What does it look good and what does it look bad?
01:42Get ready, go to the doctor.
01:44I don't want to go.
01:45When you say to go, go, go!
01:55What happened to your uncle?
01:57They don't sleep.
01:59They don't sleep.
02:01They don't sleep in blood pressure.
02:09The doctor gave me medicine.
02:19So this is just the doctor?
02:21You're not the doctor.
02:23You're the doctor.
02:27You're the doctor.
02:29You're the doctor.
02:31You're the doctor.
02:33You're the doctor.
02:35You're the doctor.
02:37You're the doctor.
02:39This is the end of the day of the day.
03:09ये रिष्टा, नफरत और तलही के सिवा कुछ भी नही, हादी इसकी बातों पर हामोश रहेगा, जैसे उसके लफजों ने उसे गहरे जहम दिये हो, लेकिन वो अपना दिल का हाल चुपा लेगा, जो ही हया डिनर के बाद बाहर कدم रखेगी, कुछ शर्पसंद लोग इसे तं
03:39को हवजदा कर देगी, लेकिन इसी लम्हे हादी एक शेर की तरह आगे बढ़ेगा, और इन बदमाशों से जुर्दार लड़ाई करेगा, इसकी जुर्रत और बहादरी देखकर, हया के दिल में एक अजीब सा इकसाद जागेगा, वो हिरान रहे जाएगी, कि ये वो ही हाद
04:09दुसरी तरफ कहानी एक नया मोड लेती है, जब हया अपने गरवालों से मिलने जाती है, तो उसके गरवालों के चहरों पर परिशानी के साएं वाजिख होते है, जारा जो हया की बेहन है, हमज़ा से गबराई हुई, आवाज में कहती है, अब हम हया का सामना कैसे करेंगे,
04:39अब सब मुझे देखकर इतना परिशान क्यूं है, ऐसी क्या बात है, जो आप मुझसे चुपा रही है, इसकी आवाज में वेचेनी और शक जलकता है, लेकिन जल्द ही हकीकत का परदा हड़ता है, और हया को पता चल जाता है, कि जारा और हमज़ा की शादी हो चुकी है, य
05:09बर जाता है, और वो बगेर कुछ कहे, गर वापस लोटाती है, गर पहुंचते ही, हादी, उसे रोकता है, और गहरी आवाज में केता है, हया अब वेसला तुमने करना है, क्या तुम अपने शोहर के साथ, इस गर में इज़त के साथ, रहना चाहती हो, या उस मंगेतर के पा
05:39महबत करता, तो क्या वो तुम्हारी बेहन से शादी कर लेता, इसकी महबत तो एक दोका थी, हादी की इबादे हया के दिल में आग लगा देती है, वो गुस्य से चिख कर केती है, हादी, तुम ये मत सोचना, कि मैं तुम्हारे साथ रहूंगी, मैं तुम से नफरत करती हू
06:09गर में रहती है, वो एक कम्याब फैशन डिजाइनर है, लेकिन इसकी जिन्दगी में एक हला है, इसके मंगेतर एहमद की कुम्शूदगी, दो साल कबल एहमद एक कार हादसे के बाद गयब हो गया था, और आईशा अब भी उसके इनतिजार में है, राजिया बेगम अपनी
06:39एक दिन आईशा एक फैशन इवेंट में अरसलान से मिलती है, जो एक कम्याब करोबारी शक्सियत है, अरसलान की पुर असरार शक्सियत और गहरी आंगे आईशा को मतवज़ा करती है, लेकिन वो उसे नजर अंदास करने की कोशश करती है, इवेंट के दौरान अरसलान आ�
07:09आईशा इसे कबूल कर लेती है, लेकिन इसे अरसलान की मौजूदगी अजीब लगती है, चंद हबतों बाद आईशा और अरसलान एक दुसरे के करीब आना शुरू होते हैं, अरसलान आईशा के साथ वक्त गुजारता है, और उसे अपनी जिन्दगी के बारे में कुछ ब
07:39कि अरसलान कुछ चुपा रहा है, एक रात जब आईशा अरसलान के दफ्तर में एक फाइल लेने जाती है, उसे एक तास्वीर मिरती है, जिसमें अरसलान और इहमत एक साथ कड़े है, आईशा हिरान रही जाती है, कि अरसलान इहमत को कैसे जानता है, उदर महरीन जो आईश
08:09।
08:39She says,
09:09One day Aisha came to Raziya Begum's house with a fuller hand in which was written that Ahamud's house was not a lie but one thing was a lie.
09:21Aisha is a lie and she is a lie and she is a lie and she is a lie.
09:27رازیہ بیگم آہر کر ٹوٹ جاتی ہے اور بتاتی ہے کہ احمد نے ایک بڑی دوکے داہی تھی
09:37وہ عائشہ کی ہندان کے کروبار سے بڑی رقم چوری کر کے باگ گیا تھا
09:43اور رازیہ بیگم نے اسے بچانے کے لیے سب سے جھوٹ بولا کہ وہ مر گیا
09:48یہ راز عائشہ کے لیے ایک بڑا صدمہ ہوتا ہے وہ اپنے ہندان سے ناراض ہو جاتی ہے
09:56اور گھر چوڑنے کا فیصلہ کرتی ہے اسی دوران مہرین ارسلان کے قریب جانے کی کوشش کرتی ہے
10:04اور اسے بتاتی ہے کہ عائشہ اسے کبھی قبول نہیں کرے گی
10:08لیکن ارسلان کہتا ہے کہ وہ صرف عائشہ سے محبت کرتا ہے
10:12عائشہ ارسلان سے ملنے جاتی ہے اور اسے احمد کی تصویر کے بارے میں پوچھتی ہے
10:19ارسلان آہر کر اپنا راز کولتا ہے وہ بتاتا ہے کہ وہ احمد کا بھائی ہے
10:26اور احمد کی دوکہ دہی کی وجہ سے اس کا ہندان تباہ ہو گیا تھا
10:31ارسلان آہشہ کے قریب اس لیے آیا تھا کہ وہ اپنے بائی کی غلطیوں کا ازالہ کرنا چاہتا تھا
10:38وہ آہشہ کی ہندان کو اپنا کروباری پروجیکٹ دے کر ان کی مالی مدد کرنا چاہتا تھا
10:45لیکن اس دوران اسے عائشہ سے سچی محبت ہو گئی
10:49عائشہ یہ سن کر پریشان ہو جاتی ہے وہ ارسلان پر غصہ کرتی ہے
10:56کہ اس نے اسے سچ چپایا لیکن ساتھ ہی وہ اس کی امانداری اور قربانی سے متاثر بھی ہوتی ہے
11:04وہ ارسلان سے کہتی ہے کہ اسے چونے کیلئے وقت چاہیے
11:09چاند دن بعد عائشہ کو پتہ چلتا ہے کہ محرین نے ارسلان کے حلاف ایک سازش کی ہے
11:18محرین نے عائشہ کے ڈیزائن چوری کر کے عرسلان کے برانڈ کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی
11:25عائشہ اپنی بہن کی اس حرکت سے دل بردشتہ ہو جاتی ہے اور اسے معاف کرنے سے انکار کر دیتی ہے
11:33لیکن عرسلان عائشہ سے کہتا ہے کہ محرین کو معاف کر دو
11:38کیونکہ نفرت دل کو بچال کرتی ہے
11:41آہر کر عائشہ اپنے دل کی بات سنتی ہے
11:45وہ ارسلان سے اپنی محبت کا اعتراف کرتی ہے
11:49اور کہتی ہے کہ وہ اس کے ساتھ ایک نئی زندگی شروع کرنا چاہتی ہے
11:55رازیہ بیگم بھی اپنی غلطیوں کی معافی مانگتی ہے
11:59اور عائشہ سے کہتی ہے کہ وہ اسے کبھی دکھ نہیں دینا چاہتی تھی
12:03جب حادی کا دل حیاء کی طرف مائل ہونا شروع ہوگا
12:09تو وہ اسے ایک شاندار ڈینر پر مدو کرے گا
12:14جہاں چاندنی رات کی سہر انگیزی اور نرم موسیقی کا جادو ہوگا
12:19لیکن حیاء کا دل حادی کے لیے ذرا بھی نہیں دڑکتا
12:24وہ حادی کی اس کوشش کو دیکھ کر تنگ آ جائے گی اور تلہی سے کہے گی
12:31حادی اس رشتے کو اتنا سر پر سوار کرنے کی کوئی ضرورت نہیں
12:36یہ رشتہ تو بس ایک کاغذی بندن ہے جو جلد ہی ہتم ہو جائے گا
12:42میرے لیے یہ رشتہ نفرت اور تلہی کے سوا کچھ بھی نہیں
12:47حادی اس کی باتوں پر حاموش رہے گا جیسے اس کے لفظوں نے اسے گہرے زہم دیے ہو
12:56لیکن وہ اپنا دل کا حال چپا لے گا جو ہی حیاء دینر کے بعد باہر قدم رکھے گی
13:04کچھ شرپتن لوگ اسے تنگ کرنے کی کوشش کریں گے
13:08ان کی بدتمیزی اور ہر ازار اصائی حیاء کو افزدہ کر دے گی
13:13لیکن اسی لمحے حادی ایک شیر کی طرح آگے بڑھے گا
13:18اور ان بدماشوں سے زوردار لڑائی کرے گا
13:23اس کی جرت اور بہادری دیکھ کر
13:25حیاء کے دل میں ایک عجیب سا اخساس جاگے گا
13:29وہ حیران رہ جائے گی کہ یہ وہی حادی ہے
13:33جسے وہ پسند نہیں کرتی
13:36پھر بھی اس نے اس کی عزت کی حاطر اپنی جان حاطرے میں ڈال دی
13:41ادھر دوسری طرف کہانی ایک نایا مور لیتی ہے
13:45جب حیاء اپنے گروالوں سے ملنے جاتی ہے
13:49تو اس کے گروالوں کے چہروں پر پریشانی کے سوائے واضح ہوتے ہیں
13:55ذرا جو حیاء کی بہن ہے
13:57حمزہ سے گبرائی ہوئی آباز میں کہتی ہے
14:02اب ہم حیاء کا سامنا کیسے کریں گے
14:05اگر اسے حاقیقت پتا چل گئی
14:07تو وہ میرے بارے میں کیا سوچے گی
14:10حیاء اپنے والدائن سے اب سب مجھے دیکھ کر
14:14اتنا پریشان کیوں ہے
14:16ایسی کیا بات ہے جو آپ مجھ سے چھپا رہی ہے
14:19اس کی آواز میں بیچینی اور شک جلکتا ہے
14:23لیکن جلد ہی حقیقت کا پردہ ہٹتا ہے
14:27اور حیاء کو پتا چل جاتا ہے
14:29کہ زارہ اور حمزہ کی شادی ہو چکی ہے
14:32یہ حبر حیاء کی دل پر بجلی بن کر گرتی ہے
14:35اس کا دل غم اور غصے سے بر جاتا ہے
14:39اور وہ بغیر کچھ کہے
14:40گھر واپس لوٹ آتی ہے
14:42گھر پہنچتے ہی
14:44حادی اسے روکتا ہے
14:46اور گہری آباز میں کہتا ہے
14:48حیاء اب فیصلہ تم نے کرنا ہے
14:51کیا تم اپنے شہر کے ساتھ
14:53اس گھر میں عزت کے ساتھ
14:55رہنا چاہتی ہو
14:56یا اس منگیتر کے پاس
14:58واپس جانا چاہتی ہو
14:59جو تمہارا انتظار بھی نہ کر سکا
15:02وہ مزید کہتا ہے
15:03اگر حمزہ تم سے سچی محبت کرتا
15:06تو کیا وہ تمہاری بہن سے شادی کر لیتا
15:09اس کی محبت تو ایک دھوکہ تھی
15:12حادی کی یہ بات حیاء کے دل میں
15:14آگ لگا دیتی ہے
15:16وہ غصے سے چیخ کر کہتی ہے
15:18حادی تم یہ مت سوچنا
15:20کہ میں تمہارے ساتھ رہوں گی
15:22میں تم سے نفرت کرتی ہو
15:24اور جیسے ہی تمہاری بہن ملے گی
15:27میں یہ گھر چوڑ کر چلی جاؤں گی
15:28آئیشہ اپنے ہندان کے ساتھ
15:31ایک پرتاش گھر میں رہتی ہے
15:34وہ ایک کمیاب فیشن ڈیزائنر ہے
15:36لیکن اس کی زندگی میں ایک حالہ ہے
15:39اس کے منگیتر احمد کی گمشودگی
15:41دو سال قبل
15:43احمد ایک کار حادثے کے بعد
15:46غیب ہو گیا تھا
15:47اور آئیشہ اب بھی
15:49اس کے انتظار میں ہے
15:51رازیہ بیگم اپنی بیٹی کو
15:54شادی کے لیے رازی کرنے کی کوشش کرتی ہے
15:56لیکن آئیشہ ہر بار انکار کر دیتی ہے
16:00ایک دن آئیشہ ایک فیشن ایونٹ میں
16:04ارسلان سے ملتی ہے
16:06جو ایک کمیاب کروباری شخصیت ہے
16:09ارسلان کی پر اثرار شخصیت
16:11اور گہری آنکھیں
16:13آئیشہ کو متوجہ کرتی ہے
16:15لیکن وہ اسے
16:16نظر انداز کرنے کی کوشش کرتی ہے
16:19ایونٹ کے دوران
16:20ارسلان آئیشہ کی ڈیزائن کی
16:23تعریف کرتا ہے
16:24اور اسے اپنے برانڈ کے لیے
16:27ایک بڑا پروجیکٹ آفر کرتا ہے
16:29آئیشہ اسے قبول کر لیتی ہے
16:32لیکن اسے ارسلان کی موجودگی
16:35عجیب لگتی ہے
16:36چند ہفتوں بعد
16:39آئیشہ اور ارسلان
16:40ایک دوسرے کے قریب آنا شروع ہوتے ہیں
16:43ارسلان آئیشہ کے ساتھ
16:45وقت گزارتا ہے
16:47اور اسے اپنی زندگی کے بارے میں
16:49کچھ بتاتا ہے
16:51وہ ایک یتیم ہے
16:52اور اس نے
16:53اپنی محنت سے
16:55یہ مقام حاصل کیا
16:57لیکن آئیشہ کو
16:58شک ہوتا ہے
16:59کہ ارسلان
17:00کچھ چپا رہا ہے
17:01ایک رات
17:02جب آئیشہ ارسلان کے دفتر میں
17:05ایک فائل لینے جاتی ہے
17:06اسے ایک تاثویر ملتی ہے
17:09جس میں ارسلان اور احمد
17:11ایک ساتھ کڑے ہیں
17:12آئیشہ حیران رہی جاتی ہے
17:14کہ ارسلان احمد کو کیسے جانتا ہے
17:17خدر مہرین
17:19جو آئیشہ کی کمیابی سے
17:20حسد کرتی ہے
17:22ارسلان کو
17:23آئیشہ سے دور کرنے کی کوشش کرتی ہے
17:26وہ ارسلان سے
17:27جھوٹ بولتی ہے
17:29کہ آئیشہ
17:30اب بھی احمد سے محبت کرتی ہے
17:32اور اسے
17:33کبھی قبول نہیں کرے گی
17:35ارسلان
17:37اس بات سے
17:38پریشان ہو جاتا ہے
17:39لیکن وہ آئیشہ سے
17:41اپنے دل کی بات کہنے کا
17:43فیصلہ کرتا ہے
17:45ایک رات
17:46ارسلان آئیشہ کو
17:47ایک خوبصورت جیل کے کنارے لے جاتا ہے
17:50اور اسے
17:52اپنی محبت کا
17:53اعتراف کرتا ہے
17:55آئیشہ
17:56جو اب بھی
17:57احمد کے انتظار میں ہے
17:59ارسلان کو
18:01ٹہرا دیتی ہے
18:02وہ کہتی ہے
18:04میں کسی سے محبت نہیں کر سکتی
18:06جب تک مجھے
18:08احمد کی حقیقت
18:10نہ پتا چلے
18:11ارسلان
18:12ہموش رہتا ہے
18:13لیکن اس کی آنکوں میں
18:15ایک عجیب سی چمک ہوتی ہے
18:17آئیشہ اپنی ماں
18:20رازیہ بیگم سے
18:21احمد کے بارے میں سوال کرتی ہے
18:24لیکن رازیہ بیگم
18:26ہر بار
18:27بات
18:28ٹال دیتی ہے
18:29ایک دن
18:29آئیشہ کو
18:30رازیہ بیگم کی کمرے سے
18:32ایک پرانا حد ملتا ہے
18:34جس میں لکھا ہے
18:36کہ احمد کی گمشودگی
18:38کوئی حادثہ نہیں تھا
18:39بلکہ
18:40ایک منصوبہ تھا
18:42آئیشہ ہیران
18:44رہ جاتی ہے
18:45اور اپنی ماں سے
18:46سچ پوچھتی ہے
18:48رازیہ بیگم
18:49آہر کر
18:50ٹوٹ جاتی ہے
18:51اور بتاتی ہے
18:52کہ احمد نے
18:54ایک بڑی دوکہ دہی کی تھی
18:56وہ آئیشہ کی ہندان کے
18:58کروبار سے
18:58بڑی رکم چوری کر کے
19:00باگ گیا تھا
19:02اور رازیہ بیگم نے
19:03اسے بچانے کے لیے
19:05سب سے جھوٹ بولا
19:06کہ وہ مر گیا
19:07یہ راز
19:09آئیشہ کیلئے
19:10ایک بڑا صدمہ ہوتا ہے
19:12وہ اپنے ہندان سے
19:14ناراض ہو جاتی ہے
19:15اور گھر چوڑنے کا
19:17فیصلہ کرتی ہے
19:18اسی دوران
19:19مہرین
19:20ارسلان کے قریب
19:22جانے کی کوشش کرتی ہے
19:23اور اسے بتاتی ہے
19:25کہ آئیشہ
19:26اسے کبھی قبول نہیں کرے گی
19:28لیکن ارسلان کہتا ہے
19:30کہ وہ صرف
19:31آئیشہ سے محبت کرتا ہے
19:33آئیشہ
19:34ارسلان سے ملنے جاتی ہے
19:36اور اس سے
19:37احمد کی تاصویر کے بارے میں
19:39پوچھتی ہے
19:39ارسلان
19:41آہر کر
19:42اپنا راز کولتا ہے
19:43وہ بتاتا ہے
19:45کہ وہ احمد کا بائی ہے
19:46اور احمد کی دوکہ دہی کی وجہ سے
19:49اس کا ہندان
19:50تباہ ہو گیا تھا
19:52ارسلان
19:53آئیشہ کی قریب
19:54اس لیے آیا تھا
19:56کہ وہ اپنے بائی کی غلطیوں کا
19:58ازالہ کرنا چاہتا تھا
20:00وہ آئیشہ کی ہندان کو
20:01اپنا کروباری پروجیکت دے کر
20:04ان کی مالی مدد کرنا چاہتا تھا
20:06لیکن اس دوران
20:08اسے آئیشہ سے
20:09سچی محبت ہو گئی
20:11آئیشہ یہ سن کر
20:13پریشان ہو جاتی ہے
20:15وہ ارسلان پر غصہ کرتی ہے
20:17کہ اس نے
20:18اس سے سچ چپایا
20:20لیکن ساتھ ہی
20:22وہ اس کی امانداری
20:23اور قربانی سے متاثر بھی ہوتی ہے
20:26وہ ارسلان سے کہتی ہے
20:28کہ اسے سوچنے کے لیے
20:29وقت چاہیے
20:31چند دن بعد
20:32آئیشہ کو پتہ چلتا ہے
20:34کہ محرین نے
20:35ارسلان کے حلاف
20:37ایک سازش کی ہے
20:38محرین نے
20:39آئیشہ کے ڈیزائن
20:40چوری کر کے
20:41ارسلان کے برانڈ کو
20:42نقصان پنچانے کی کوشش کی
20:45آئیشہ اپنی بہن کی
20:46اس حرکت سے
20:48دل بردشتہ ہو جاتی ہے
20:49اور اسے معاف کرنے سے
20:51انکار کر دیتی ہے
20:52لیکن ارسلان
20:54آئیشہ سے کہتا ہے
20:55کہ محرین کو معاف کر دو
20:56کیونکہ نفرت دل کو
20:58بہجل کرتی ہے
20:59آہر کر
21:01آئیشہ
21:02اپنے دل کی بات
21:04سنتی ہے
21:05وہ ارسلان سے
21:06اپنی محبت کا اعتراف کرتی ہے
21:09اور کہتی ہے
21:10کہ وہ اس کے ساتھ
21:12ایک نئی زندگی
21:13شروع کرنا چاہتی ہے
21:14رازیہ بیگم بھی
21:15اپنی غلطیوں کی معافی مانگتی ہے
21:17اور آئیشہ سے کہتی ہے
21:19کہ وہ اسے
21:20کبھی دکھ نہیں دینا چاہتی تھی
21:22جب حادی کا دل
21:24حیاء کی طرف
21:26مائل ہونا شروع ہوگا
21:28تو وہ اسے
21:29ایک شاندار ڈینر پر
21:30مدو کرے گا
21:32جہاں چاندنی رات کی
21:34سہر انگیزی
21:35اور نرم موسیقی کچھا
21:37جادو ہوگا
21:38لیکن حیاء کا دل
21:39حادی کیلئے
21:41ذرا بھی نہیں دڑکتا
21:43وہ حادی کی
21:44اس کوشش کو دیکھ کر
21:46تنگ آ جائے گی
21:47اور تلہی سے کہے گی
21:49حادی اس رشتے کو
21:51اتنا سر پر سوار کرنے کی
21:53کوئی ضرورت نہیں
21:54یہ رشتہ تو بس
21:56ایک کاغذی بندن ہے
21:57جو جلد ہی
21:59ہتم ہو جائے گی
22:00میرے لیے یہ رشتہ
22:01نفرت اور تلہی کی سوا
22:03کچھ بھی نہیں
22:04حادی اس کی باتوں پر
22:07حاموش رہے گا
22:08جیسے
22:09اس کے لفظوں نے
22:10اسے گہرے زہم دیے ہو
22:12لیکن وہ
22:13اپنا دل کا حال
22:15چھپا لے گا
22:16جن ہی
22:17حیاء ڈینر کے بعد
22:19باہر قدم رکھے گی
22:20کچھ شرفتن لوگ
22:22اسے تنگ کرنے کی
22:23کوشش کریں گے
22:25ان کی بدتمیزی
22:26اور ہرزارہ سائق
22:28حیاء کو
22:28افزدہ کر دے گی
22:30لیکن اسی لمحے
22:32حادی
22:32ایک شیر کی طرح
22:34آگے بڑھے گا
22:35اور ان بادماشوں سے
22:37زردار لڑائی کرے گا
22:39اس کی جرت
22:40اور بہادری دیکھ کر
22:41حیاء کے دل میں
22:43ایک عجیب سا احساس جاگے گا
22:45وہ حیران رہ جائے گی
22:47کہ یہ وہی حادی ہے
22:48جسے وہ پسند نہیں کرتی
22:50پھر وہ اس نے
22:51اس کی عزت کی حاطر
22:53اپنی جان ہترے میں ڈال دی
22:55ادھر دوسری طرف
22:58کہانی
22:59ایک نیا موڑ لیتی ہے
23:00جب حیاء
23:01اپنے گروالوں سے ملنے جاتی ہے
23:04تو اس کے گروالوں کے چہروں پر
23:06پریشانی کے سائے
23:07واضح ہوتے ہیں
23:09زارہ
23:10جو حیاء کی بہن ہے
23:11حمزہ سے
23:12گبرائی ہوئی
23:13آواز میں کہتی ہے
23:15اب ہم حیاء کا سامنا کیسے کریں گے
23:17اگر اسے حقیقت
23:19پتہ چھل گئی
23:20تو وہ میرے بارے میں کیا سوچے گی
23:22حیاء
23:23اپنے والدائن سے پوچھتی ہے
23:25اب سب
23:26مجھے دیکھ کر
23:27اتنا پریشان کیوں ہے
23:28ایسی کیا بات ہے
23:30جو آپ مجھ سے چھپا رہے ہیں
23:32اس کی آواز میں
23:33پیچینی اور شک جلگتا ہے
23:36لیکن جلد ہی
23:37حقیقت کا پردہ ہٹتا ہے
23:39اور حیاء کو پتہ چل جاتا ہے
23:41کہ زارہ اور حمزہ کی شادی ہو چکی ہے
23:44یہ حبر حیاء کے دل پر
23:47بجلی بن کر گرتی ہے
23:48اس کا دل غم اور غصے سے بر جاتا ہے
23:52اور وہ بغیر کچھ کہے
23:54گر واپس لوٹ آتی ہے
23:56گر پہنچتے ہی
23:58حادی اسے روکتا ہے
24:00اور گہری آواز میں کہتا ہے
24:03حیاء
24:04اب ویسلہ تم نے کرنا ہے
24:06کیا تم
24:06اپنے شہر کے ساتھ
24:08اس گرم عزت کے ساتھ رہنا چاہتی ہو
24:11یا اس منگیتر کے پاس
24:13واپس جانا چاہتی ہے
24:15جہاں تمہارا انتظار بھی
24:17نہ کر سکا
24:19وہ مزید کہتا ہے
24:21اگر حمزہ
24:22تم سے سچی محبت کرتا
24:24تو کیا وہ تمہاری بہن سے
24:25شادی کر لیتا
24:27اس کی میں
24:28یعنی حادی کی یہ باتیں
24:31حیاء کے دل میں
24:32آگ لگا دیتی ہے
24:33وہ غصے سے چکھ کر کہتی ہے
24:35حادی تم یہ مت سوچنا
24:37کہ میں تمہارے ساتھ رہوں گی
24:39میں تم سے نفرت کرتی ہوں
24:41اور جیسے ہی تمہارے بہن ملے گی
24:44میں یہ گھر چھوڑ کر چلی جاؤں گی
24:47جب حادی کا دل
24:51حیاء کی طرف
24:53مائل ہونا شروع ہوگا
24:55تو وہ اسے
24:56ایک شاندار ڈینر پر
24:59مدو کرے گا
25:01جہاں چاندنی رات کی سہر انگیزی
25:04اور نرم موسیقی کا
25:07جادو ہوگا
25:09لیکن حیاء کا دل
25:11حادی کیلئے
25:13ذرا بھی نہیں دڑکتا
25:15وہ حادی کی اس کوشش کو دیکھ کر
25:19تنگ آ جائے گی
25:21اور تلہی سے کہے گی
25:23حادی
25:25اس رشتے کو
25:27اتنا سر پر سوار کرنے کی
25:30کوئی ضرورت نہیں
25:32یہ رشتہ تو بس
25:35ایک کاغذی بندن ہے
25:37جو جلد ہی حتم ہو جائے گا
25:41میرے لیے یہ رشتہ
25:43نفرت اور تلہی کے سوا
25:46کچھ بھی نہیں
25:47حادی
25:49اس کی باتوں پر
25:51حاموش رہے گا
25:53جیسے اس کے لفظوں نے
25:56اسے گہرے زہم دیئے ہو
25:59لیکن وہ اپنا دل کا حال
26:02چپا لے گا
26:05جو ہی
26:05حیاء ڈینر کے بعد
26:08باہر قدم رکھے گی
26:10کچھ شرفسند لوگ
26:13اسے تنگ کرنے کی کوشش کریں گے
26:16ان کی بدتمیزی
26:18ہر زہر اصائی
26:21حیاء کو زدہ کر دے گی
26:24لیکن اسی لمحے
26:26حادی
26:27ایک شیر کی طرح
26:29آگے بڑھے گا
26:31اور ان بعد معاشوں سے
26:34زردار لڑائی کرے گا
26:37اس کی جررت
26:39اور بہادری دیکھ کر
26:41حیاء کے دل میں
26:43ایک عجیب سا احساس جاگے گا
26:46وہ حیران رہ جائے گی
26:49کہ یہ وہی حادی ہے
26:51جس سے وہ پسند نہیں کرتی
26:54پھر بھی
26:55اس نے
26:57اس کی عزت کی حاطر
26:59اپنی جان ہترے میں ڈال دی
27:02ادھر دوسری طرف
27:04کہانی
27:06ایک نیا مور لیتی ہے
27:09جب حیاء
27:10اپنے گروالوں سے ملنے جاتی ہے
27:12تو اس کی گروالوں کی چہروں پر
27:14پریشانی کی سائے
27:16واضح ہوتے ہیں
27:17زارہ
27:18جو حیاء کی بہن ہے
27:19حمزہ سے گبرائی ہوئی آواز میں کہتی ہے
27:22اب ہم حیاء کا سامنا کیسے کریں گے
27:24اگر اسے
27:25حقیقت پتہ چل گئی
27:27تو وہ میرے بارے میں
27:28کیا سوچے گی
27:29حیاء
27:30اپنے والے دائن سے پوچھتی ہے
27:32اب سب مجھے دیکھ کر
27:33اتنا پریشان کیوں ہوں
27:34ایسی کیا بات ہے
27:36جو آپ مجھ سے چھپا رہے ہیں
27:38اس کی آواز میں بچے نہیں
27:39اور شک جلگتا ہے
27:41لیکن جلد ہی حقیقت کا
27:43پردہ ہٹتا ہے
27:45اور حیاء کو پتہ چلتا ہے
27:48کہ زارہ اور حمزہ کی
27:50شادی ہو چکی ہے
27:51یہ حبر
27:53حیاء کے دل پر
27:55بجلی بن کر گرتی ہے
27:57اس کا دل
27:59غم اور غصے سے بر جاتا ہے
28:01اور وہ بغیر کچھ کہے
28:04گر واپس لوٹ آتی ہے
28:06گر پہنچتی ہی
28:08حادی
28:09اسے روکتا ہے
28:10اور گہری آواز میں کہتا ہے
28:13حیاء
28:14اب فیصلہ تم نے کرنا ہے
28:16کیا تم
28:17اپنے شہر کے ساتھ
28:19اس گرم عزت کے ساتھ رہینا چاہتی ہو
28:22یا اس منگیتر کے پاس
28:25واپس جانا چاہتی ہو
28:27جو تمہارا انتظار بھی نہ کر سکا
28:30وہ مزید کہتا ہے
28:31اگر حمزہ
28:33تم سے سچی محبت کرتا
28:35تو کیا وہ تمہاری بہن سے
28:37شادی کر لیتا
28:39اس کی محبت تو
28:40ایک دوکہ تھی
28:42حادی کی یہ بادی حیاء کے دل میں
28:45آگ لگا دیتی ہے
28:46وہ غصے سے چک کر گیتی ہے
28:49حادی
28:50تم یہ مت سوچنا
28:52کہ میں تمہارے ساتھ رہوں گی
28:54میں تم سے نفرت کرتی ہوں
28:56اور جیسے ہی تمہاری بہن ملے گی
28:59میں یہ گھر چھوڑ کر چلی جاؤں گی
29:01آئیشہ اپنے ہندان کے ساتھ
29:05ایک کرتاش گھر میں رہتی ہے
29:07وہ ایک کامیاب فیشن ڈیزائنر ہے
29:10لیکن اس کی زندگی میں
29:13ایک ہلا ہے
29:14اس کے منگیتر احمد
29:17جمشودگی دو سال قبل
29:19احمد ایک کار حادثے کے بعد
29:22غائب ہو گیا تھا
29:25اور آئیشہ اب بھی
29:26اس کی انتظار میں ہے
29:28رازیہ بیگم اپنی بیٹی کو
29:31شادی کے لیے رازی کرنے کی کوشش کرتی ہے
29:35لیکن آئیشہ ہر بار انکار کر دیتی ہے
29:39ایک دن آئیشہ ایک فیشن ایونٹ میں
29:43ہرسلان سے ملتی ہے
29:46جو ایک کمیاب کروباری شخصیت ہے
29:49ہرسلان کی پرارسرار شخصیت
29:53اور گہری آنکھیں
29:55آئیشہ کو متوجہ کرتی ہے
29:57لیکن وہ اسے نظر انداز کرنے کی کوشش کرتی ہے
30:02ایونٹس کے دوران
30:04ارسلان آئیشہ کی ڈیزائن کی تعریف کرتا ہے
30:08اور اسے اپنے بران کے لیے
30:11ایک بڑا پروجیکٹ آفر کرتا ہے
30:14آئیشہ اسے قبول کر لیتی ہے
30:17لیکن اسے ارسلان کی موجودگی
30:20عجیب لگتی ہے
30:22چند ہفتوں بعد
30:23آئیشہ اور ارسلان
30:25ایک دوسرے کے قریب آنا شروع ہوتی ہے
30:28ارسلان آئیشہ کے ساتھ وقت گزارتا ہے
30:32اور اسے اپنی زندگی کے بارے میں
30:35کچھ بتاتا ہے
30:36وہ ایک یتیم ہے
30:38اور اس نے اپنی محنت سے
30:40یہ مقام حاصل کیا
30:42لیکن وہ آئیشہ کو شک ہوتا ہے
30:45کہ ارسلان کو چھپا رہا ہے
30:47ایک رات
30:48جب آئیشہ ارسلان کے دفتر میں
30:51ایک فائل لینے جاتی ہے
30:53اسے ایک تاثویر ملتی ہے
30:56جس میں ارسلان اور احمد
30:59ایک ساتھ کڑے ہیں
31:00آئیشہ حیران رہ جاتی ہے
31:03کہ ارسلان احمد کو کیسے جانتا ہے
31:06خدر مہرین
31:07جو آئیشہ کی کمیابی سے
31:09حصد کرتی ہے
31:10ارسلان کو آئیشہ سے
31:12دور کرنے کی کوشش کرتی ہے
31:15وہ ارسلان سے جھوٹ بولتی ہے
31:18کہ ارسلان اب بھی احمد سے
31:20محبت کرتی ہے
31:22اور اسے کبھی قبول نہیں کرے گی
31:24ارسلان اس بات سے پریشان ہو جاتا ہے
31:28لیکن وہ آئیشہ سے
31:29اپنے دل کی بات کہنے کا
31:32فیصلہ کرتا ہے
31:33ایک رات ارسلان
31:35آئیشہ کو
31:36ایک خوبصورت جیل کے کنارے لے جاتا ہے
31:40اور اسے اپنی محبت کا
31:42اعتراف کرتا ہے
31:44آئیشہ
31:46جو اب بھی احمد کی انتظار میں ہے
31:49ارسلان کو ٹھرا دیتی ہے
31:51وہ کہتی ہے
31:53میں کسی سے محبت نہیں کر سکتی
31:56جب تک مجھے
31:58احمد کی حقیقت نہ پتا چلے
32:00ارسلان ہاموش رہتا ہے
32:02لیکن اس کی آنکھوں میں
32:04ایک عجیب سی چمک ہوتی ہے
32:07آئیشہ اپنی ماں رازیہ بیگم سے
32:10احمد کے بارے میں کہتی ہے
32:13یعنی سوال کرتی ہے
32:14لیکن رازیہ بیگم کی
32:16ہر بار
32:19بات ٹال دیتی ہے
32:21ایک دن آئیشہ کو
32:22رازیہ بیگم کی کمرے میں
32:25ایک پرانا حد ملتا ہے
32:27جس میں لگا ہے
32:28کہ احمد کی گمشودگی کوئی حادثہ نہیں تھا
32:32بلکہ ایک منصوبہ تھا
32:34آئیشہ حیران رہ جاتی ہے
32:36اور اپنی ماں سے سچ پوچھتی ہے
32:39رازیہ بیگم آہر کا
32:41ٹھوٹ جاتی ہے
32:42اور بتاتی ہے
32:44کہ احمد نے ایک بڑی دوکہ دہی کی تھی
32:47وہ آئیشہ کی ہندان کی کروبار سے
32:50بڑی رقم چھوڑی کر کے باگ گیا تھا
32:53اور رازیہ بیگم نے
32:55اسے بچانے کے لیے
32:56سب سے جھوٹ بولا
32:58کہ وہ مر گیا
32:59یہ راز آئیشہ کیلئے
33:02ایک بڑا صدمہ ہوتا ہے
33:04وہ اپنے ہندان سے ناراض ہو جاتی ہے
33:07اور گرج چھوڑنے کا فیصلہ کرتی ہے
33:10اسی دوران
33:12مہرین ارسلان کے قریب جانے کی کوشش کرتی ہے
33:16اور اسے بتاتی ہے
33:17کہ آئیشہ
33:18اسے کبھی قبول نہیں کرے گی
33:21ایک نارسلان کہتا ہے
33:23کہ وہ صرف آئیشہ سے محبت کرتا ہے
33:26آئیشہ ارسلان سے ملنے جاتی ہے
33:29اور اسے احمد کی تصویر کے بارے میں پوچھتی ہے
33:33ارسلان آہر کر اپنا راز کھولتا ہے
33:36وہ بتاتا ہے
33:38کہ وہ احمد کا بائی ہے
33:40اور احمد کی دوہا دکیو کی وجہ سے
33:43اس کا ہندان تباہ ہو گیا تھا
33:46ارسلان آئیشہ کی قریب
33:47اس لئے آیا تھا
33:48کہ وہ اپنے بائی کی غلطیوں کا ازالہ کرنا چاہتا تھا
33:52وہ ایشہ کی ہندان کو
33:54اپنا کروبار پروجیکت دے کر
33:56ان کی مالی مدد کرنا چاہتا تھا
34:00لیکن اس دوران
34:01اسے آئیشہ سے
34:03سچی محبت ہو گئی
34:04آئیشہ یہ سن کر
34:06پریشان ہو جاتی ہے
34:07وہ ارسلان پر غصہ کر دی ہے
34:10کہ اس نے
34:11اسے سچ چھپایا
34:12لیکن ساتھ ہی وہ
34:14اس کی منداری اور قربانی سے
34:16متاثر بھی ہو دی ہے
34:17وہ ارسلان سے کہتی ہے
34:19کہ اسے سوچنے کے لئے کچھ وقت چاہیے
34:22چند دن بعد آئیشہ کو پتہ چلتا ہے
34:24کہ محرین نے
34:25ارسلان کے حلاف ایک سازش کی ہے
34:28محرین نے
34:29ایشہ کی ڈیزائن چوری کر کے
34:31ارسلان کی برانٹ کا نقصان پہنچانے کی کوشش کی
34:34ایشہ اپنی بہن کی سرکت سے
34:36دل بردشتہ ہو جاتی ہے
34:38اور اسے معاف کرنے سے انکار کر دیتی ہے
34:41لیکن ارسلان آئیشہ سے کہتا ہے
34:43کہ محرین کو معاف کر دو
34:45کیونکہ نفرت دل کو بوجل کر دیتی ہے
34:48آہر کر
34:49آئیشہ اپنے دل کی بات سنتی ہے
34:51اور ارسلان سے اپنی محبت
34:53کا اطراف کر دی ہے
34:54اور کہتی ہے
34:55کہ وہ اس کے ساتھ
34:56ایک نئے زندگی شروع کرنا چاہتی ہے
34:58راز جب ایکم بھی
35:00اپنی غلطیوں کی معافی مانگتی ہے
35:01پر آئیشہ سے کہتی ہے
35:03کہ وہ اسے کبھی دکھ نہیں دینا چاہتی ہے
35:05موسیقی
35:08موسیقی
Comments