Skip to playerSkip to main content
  • 5 months ago

Category

😹
Fun
Transcript
00:00سب کچھ چلا گیا
00:12اب رو کیوں رہی ہے کیا ہوا ہے
00:15بیٹا بیٹا تمہاری دادی کا سارا زیور چوری ہو گیا
00:20کیا
00:22اور عمر صاحب
00:24میں اپنی بیٹی کو خود یہاں سے لے کے جاؤں گا
00:28سب کچھوں
00:30میرا تو یہی گھر ہے نا
00:32اور میں یہی رہوں گی
00:41ابریش
00:44اپنی جلدی کیوں آ گئی ہو
00:46تم تو نازو کی طرف گئی تھی
00:48نہیں
00:50آ گئی ہو واپس
00:52نظر نہیں آرہا آپ کو
00:54او بھائی مجھ پہ کیوں غصہ کر رہی ہو
00:56لڑکا رائیو نازوں سے
00:57جیسا میں سوچ رہی ہوں
01:06کیا بابا بھی
01:09وہی سوچ رہے
01:11دیکھو مجھے
01:18مجھے یہ سب چیزیں اچھی نہیں لگتی ہیں
01:20جانتا ہوں جانتا ہوں
01:23ارے انکل عصت پچائیں اپنی
01:27بڑے بھائیہ تو آپ کو اسی طرح ہر دوسرے دن
01:29کال کر کے یہاں بلا لیں گے
01:31اپٹے کو یہیں چھوڑ کے جا رہے ہیں
01:33کوئی پیسوں کا معاملہ ہے
01:37مجھ سے لے لیں
01:38میں دے دیتی ہوں پیسے
01:40کیسے باب ہیں آپ
01:43اللہ تمہیں معاف کرے
01:45جس کی اتنی پیار کرنے والی اور دعائیں دینے والی بہن ہو
01:54اسے کوئی کیسے نقصان پشاہ سے
01:57جی اسلام علیکم
02:02ہیلو اسلام علیکم
02:03بھائی جس نمبر سے آپ کو کال آ رہی ہیں
02:06یہ آپ کے کیا لگتے ہیں
02:07بیٹا ہوں نے ان کا
02:08لیکن آپ ان کے نمبر سے مجھے کال کیوں کر رہے ہیں
02:11ابو کھا ہے
02:11بھائی آپ کے ابو روڈ پہ گر کے بے ہوش ہو گئے ہیں
02:14پرمیشن ضروری ہے
02:15جی ڈاکٹر
02:16ہم نے ان کے بیٹے کا انفارم کر دیا
02:18وہ آتے ہی ہوں گئے
02:20چیک
02:20مطلب ہے آپ کے باقی لوگوں کو ہم بتا دیتے تو
02:31آپ کے ساتھ
02:33ہو چکی دم کیا
02:36آپ پہلے چیتنے ہمد دکھا چکی ہے نا
02:42اس کی سزا بھی پوری نہیں ہوئی
02:44ہلو
02:54ہلو مریم
02:55پریویز بھائی
02:57آپ
02:58اب
02:59ابو کسے
03:01مریم
03:02ابو
03:03ابا جی
03:04ابا جی
03:06کہو بیٹا کیا کہنا ہے
03:10ابو کو ہارٹ اٹیک آیا
03:13ہاں میں بنا دوں گی
03:16میں اسی پہ خوش ہوں کہ میری بیٹی کوئی کام کی چیز کھائے
03:19ہو جائے گا تمہارا
03:31مگر اس طرح مطمئن ہو کے بھی تو نہ بیٹھے نا
03:36میں کے جانے کی بات
03:38اور کھولا لینے کی
03:39بیگم صاحبہ
03:41آپ جانتی ہیں
03:43کہ میں
03:44کتنے سالوں سے اس گھر میں کام کر رہی ہوں
03:46لیکن میں کچھ لینے کا سوچ بھی نہیں سکتی
03:49سندز بھی اپنے کسی کزن کو پسند کرتی ہے
03:54دبریس کے اس لیے اطلاع نہیں ہوگی
03:55دبریس
03:58سندز کو بہت پسند آئے
04:09اسلام علیکم پیارے ویوورز
04:11تو یہ اپیسوڈ بہت انٹرسٹنگ ہے
04:13کیونکہ اس میں جو ہے
04:14تبریس شک کرتا ہے سندز پہ
04:16کہ وہ کسی اور کے ساتھ
04:17اور وہاں ارسل جو سندز کو پسند کرتا ہے
04:20وہ بھی دیکھ رہا ہوتا ہے
04:21جب تبریس نے زور سے سندز کو پکڑا ہوتا ہے
04:25تو ارسل کہتا ہے
04:26کہ تم اس کو چھوڑے
04:26تم کیوں کون ہوتے ہو
04:28تو تبریس آگے سے کہتا ہے
04:29کہ تم اس سے پوچھو
04:30یہ کس کے ساتھ تھی
04:31اور جب سندز کا سامنا تبریس سے ہوتا ہے
04:33تو سندز جو ہے
04:34زور سے تپڑ مارتی ہے
04:35تبریس کے موہ پہ
04:36اور اس وجہ سے
04:37اس کے ممہ اور پاپا پریشان
04:38اور احران ہو جاتے ہیں
04:40کہ سندز نے یہ کیا کر دیا
04:41ابرش گھر واپس جاتی ہے
04:43تو روحان دیکھے پر احران ہو جاتا ہے
04:45اور کہتا ہے
04:46کہ تم اتنی جلدی واپس آگئے
04:47تم تو نازو کے ساتھ
04:48ملنے گئی تھی
04:49تو ابرش آگے سے کہتا ہے
04:50کہ نازو جو ہے وہ
04:53بیزی تھی
04:54مجھے راہیم نے ملنے نہیں دیا
04:55اس نے کہا ہے
04:55کہ گھر میں پروبلم ہے
04:56اس وجہ سے
04:57نازو سے بعد میں ملنا
04:58ہم آپ کو کول کر دیں گے
05:00تو تم ملنے
05:01تو روحان ہران ہو جاتا
05:03کہتا ہے
05:03کونسی ایسی پروبلم
05:04پھر وہ کہتا ہے
05:05کہتا ہے کہ
05:06چلو کوئی بات نہیں
05:06ہر گھر کے اپنے مسئلے میں سائل ہوتے ہیں
05:08کیونکہ
05:17کہتا ہے کہ
05:17ہر گھر کے اپنے مسئلے مسائل ہوتا ہے
05:19کوئی بات نہیں
05:19کبھی کبھی انسان کو
05:21صبر کر لینا چاہیے
05:22اس کے بعد جو ہے
05:23سندس جو ہے
05:25کچن میں ہوتی ہے
05:25تو تبریز آتا ہے
05:26اور اس کے بعد کہتا ہے
05:27کہ جن کو ہم ڈونڈ رہے ہیں
05:28ادھر ادھر ادھر ہیں
05:29وہ ادھر ہیں
05:31تو سندس آگے سے کہتی ہے
05:32کہ آپ پہلے نا
05:34اپنی اردو ٹھیک کلو
05:35تو وہ کہتا ہے
05:36کہ آپ کا جو مرضی کو
05:37آپ کا مگہ اتنے تو
05:38میں ہوں
05:39آپ نے زندگی تو
05:39میرے ساتھ ہی گزانی آخر کا
05:41لاش پہ آنا تو
05:42میرے پاس ہی ہے
05:43پھر اس کے بعد
05:44جو ہے نازو
05:44نازو جو ہے
05:46وہ
05:47مریم کے فادر کے پاس جاتی ہے
05:49اور اس کو کہتی ہے
05:49کہ
05:50اب اپنی بیٹی کو
05:52چھوڑ کر کیوں جارہے ہیں
05:52کیونکہ
05:53آپ کو پتا ہے
05:54مریم نے کہہ دیا
05:54کہ ابو یہ میرا گھر ہے
05:55میں اسی گھر میں رہوں گی
05:56نازو جو ہے
05:57وہ مریم کا جینا
05:58حرام کرنا چاہتی ہے
05:59وہ اس کے ابو کو کہتی ہے
06:00اب دو دن کی
06:01جو آپ کی بیٹی بوکی ہے
06:03اس کو آپ ابھی
06:04ادھر چھوڑ کے جا رہے ہیں
06:04اتنی آپ میں
06:05گہرت ہے
06:06اتنی آپ میں ایگو ہے
06:07کہ آپ ابھی ادھر
06:08چھوڑ کے جا رہے ہیں
06:09تو یہی باتیں
06:10وہ سوچتے ہیں
06:11جب گھر چلا جاتا ہے
06:12تو فوٹپات پہ جا رہا ہوتا ہے
06:13اور نازو کے یہی
06:14ساری باتیں سوچ رہا ہوتا ہے
06:15تو پریشان ہو کر
06:16فوٹپات پہ گر جاتا ہے
06:17اور جب اس کو
06:18وہاں پہ جو لوگ ہوتے ہیں
06:20وہ اس کو اٹھاتے ہیں
06:21اگر اس کے نمبر سے
06:22کول کرتے ہیں
06:23پرویز کو
06:23اور پرویز کو بتاتے ہیں
06:24وہ کہتے ہیں
06:25آپ آجو ہوسپیٹر
06:26ہم اس کو ہوسپیٹر لے کے جا رہے ہیں
06:28وہ ہوسپیٹر لے کے جاتے ہیں
06:29وہاں جا کر
06:29ڈوکٹر بتاتے ہیں
06:30کہ اس کو تو
06:31میجر ہارٹ اٹیک ہوار
06:32اس کی وجہ سے
06:33اس کی آرٹریز جو ہیں
06:34وہ بلوک ہو گئے گی
06:35اور اس کا
06:36ہمیں سرجری کرنی پڑے گی
06:37اور
06:38تبریز پھر جب
06:39ہوسپیٹر پہنچتا ہے
06:40تو وہ وہاں پہ
06:40سوری پرویز
06:42جب ہوسپیٹر پہنچتا ہے
06:43تو وہاں پہ پوچھتا ہے
06:44کہ میرے ابو
06:45ٹھیک تو ہے نا
06:45ڈوکٹر صاحبہ
06:46تو وہ کہتا ہے
06:46کہ تمہارے ابو
06:47کی آرٹریز
06:49جو ہیں وہ بلوک ہو گئے
06:50ہم سرجری کرنے ہیں
06:50تمہارے سائن چاہیے
06:52ہمیں دوکومنٹس میں
06:52تم میرے ساتھ ہو
06:53لیکن تم دعا گو رہو
06:54کہ اللہ تعالیٰ
06:55تمہارے ابو کو
06:56سینط اندرستی
06:57عطا فرمائے
06:58اس کے بعد جو ہے
06:59نازو جو ہے
07:00وہ لون میں بیٹھ جاتے
07:01اور وہاں پہ
07:01باتیں کر رہی ہوتی
07:03اور سوچ رہی ہوتی ہے
07:04کہ روحان سے بھی
07:04اتنے دنوں ہو گیا
07:05بات نہیں ہوئی
07:06تو ابھی میں روحان
07:07کو کول کر لیتی ہوں
07:08جب وہ فون اٹھاتی ہے
07:09ٹیبل سے
07:10تو ادھر سے
07:10بڑے بھئیہ آ جاتے ہیں
07:11یعنی کہ عمر
07:12عمر اس سے باتیں
07:13کہتے ہیں
07:13نازو تم میری
07:14بہت اچھی بہن ہو
07:15تو وہ آگے سے
07:16کہتی ہے کہ
07:17عمر بھئیہ
07:17بہت پریشان لگ رہے ہیں
07:18میں ہر بات سے
07:20آپ کے سوری کرتی ہوں
07:21تو عمر کے دل میں
07:22شک پڑ جاتا ہے
07:23کہ نازو کہ سوری کر رہی ہے
07:25پھر وہ بات کو
07:26فوراں کور کرنے کے لیے
07:27کہہ دیتی ہے
07:27کہ بھائی
07:28میں اس وجہ سے
07:29سوری کرتی ہوں
07:29بھابی مریم نے
07:31جو بھی میرے ساتھ کیا
07:32اس وجہ سے
07:33میں سوری کرتی ہوں
07:34اس کے بعد
07:35پرویز کے ابو کو
07:36جو لوگ لے کے گئے ہوتے ہیں
07:37ہسپیٹل
07:38وہ پھر پرویز سے پوچھتے ہیں
07:40کہ کیا ہم اب
07:41گھر چلے جائیں
07:41ہم اپنا کام چھوڑ کر آئے
07:43آپ اگر ہم
07:43اجازت دے تو
07:44ہم چلے جاتے ہیں
07:45تو پرویز انہیں کہتا ہے
07:46کہ آپ چلے جاؤ
07:47پھر وہ پریشانی کی حالت میں
07:48ادھر ادھر ہسپیٹل میں
07:49پھرتا دیواروں کے ساتھ
07:50لگتا رہا تھا
07:51پھر وہ اپنی بہن
07:52مریم کو کول کرتا ہے
07:53مریم جو کہ
07:53نماز پڑھ رہی ہوتی ہے
07:54اور اس کو کول آتی ہے
07:56تو وہ کول اٹینٹ کرتی ہے
07:57تو پرویز بتاتا ہے
07:58کہ بابا کو
07:59میجر ہارٹ اٹیک ہوئے
08:00وہ ہسپیٹل ایڈمیٹ ہے
08:01وہ تب ہی جو نازو ہے
08:03وہ دوسرے روم میں
08:04اپنے بابا اور ماما کے ساتھ
08:06بیٹھ کر رسم لائک آ رہی ہوتی ہے
08:07اور اپنے بابا کو کہتے ہیں
08:08کہ بابا آپ کو
08:09کیسے پتا چل جاتا ہے
08:10جب بھی کوئی چیز
08:11میرے کھانے کو دل کرتا ہے
08:12میں تو آپ کو کہتا ہوں
08:13میں تو اس کا بابا کہتا ہے
08:14کہ بیٹے مجھے بچپن سے
08:15اس چیز کی عادت ہے
08:16کہ تمہیں جب بھی
08:17کوئی چیز چاہیے ہوتی ہے
08:18مجھے پتا چل جاتا ہے
08:19اور میں تمہارے لئے لے آتا ہوں
08:21یہ وہ یہ باتیں
08:22کہہ رہے ہوتے ہیں
08:22تو مریم جو ہے باگ کر جاتی ہے
08:24اور اسے سانس چڑھا ہوتا ہے
08:25اور اسحاق پوچھتا ہے
08:26کہ کیا ہوا مریم
08:27تو مریم آگے سے بتاتی ہے
08:28کہ میرے بابا کو جو ہے
08:29ہارٹ اٹیک ہوا ہے
08:30وہ سارے حران رہ جاتے ہیں
08:32اسحاق مریم کی بات سن کر کہتا ہے
08:33چلو مریم چلیں
08:34دون آزو جو ہے
08:35اپنی امی کو کہتی ہے
08:36کہ دیکھا بابا کو
08:37اس نے دو آنسو بہائے ہیں
08:39تو کس طرح موم ہو گئے ہیں
08:40اور اس کے ساتھ جانے کے لئے
08:41تیار ہو گئے ہیں
08:42تو اسحاق اس کو کہتا ہے
08:43سباحت کو
08:44کہ تم گھر کا کیا لکھنا
08:46میں آتا ہوں
08:47پھر جب وہ وہاں پہنچتے ہیں
08:48تو وہاں جا کر
08:49تو پرویز کہتا ہے
08:49کہ دیکھ لو پریشانی کو
08:51جیسے میرے بابا کا کیا ہالو
08:52کہ اسحاق کہتا ہے
08:53کہ ابھی تم چپ ہو جاؤ
08:55یہ ٹائم نہیں ہے
08:57یہ بات کرنے کا معاملہ
08:58زیادہ بگڑ جائے گا
08:59دوسری سائٹ پر جو
09:00جمیل اور شازی ہوتے ہیں
09:02وہ بہت پریشان ہوتے ہیں
09:03شازیہ بہت پریشان ہوتے ہیں
09:04کہ اس کی بہن
09:05اور اس کا بیٹا
09:06یہ کام کیسے کر سکتے ہیں
09:08ایسا ہو نہیں سکتا
09:08وہ تو اتنے میرے
09:09وہ جمیل کے ساتھ
09:11بہت بتمیزی کرتی ہے
09:13اور بحث کرتی ہے
09:14کہ وہ ایسا نہیں کر سکتے
09:15وہ تو بہت زیادہ میرے
09:16تو جمیل کہتا ہے
09:17کہ بس تم چپ رہو
09:18انہیں یہ ہمارے گھر کی
09:19کوئی ہاؤس ہیلپر بھی
09:20یہ کام نہیں کر سکتی
09:22کیونکہ وہ اتنے سالوں سے
09:23ہمارے گھر کام کر رہے ہیں
09:24یہ ساری وہ باتیں
09:25کر رہے ہوتے ہیں
09:26تو پھر وہاں پہ
09:28تبریز آتا ہے
09:29وہ تبریز گفٹ
09:30لے کر آتا ہے
09:31سندس کے لئے
09:31اور اپنی آنٹی کے
09:32شازیہ بہت اران ہوتی
09:34کہتی ہے یہ کس چیز کے لئے
09:35گفٹ تو
09:35تبریز کہتا ہے
09:37کہ مجھے پسند آئے تھے
09:38کہ سندس کو بہت پسند آئیں گے
09:39اور آپ کے لئے بھی
09:40میں لے کر آگیا
09:41وہ کہتا ہے
09:42ان میں سے کچھ گفٹ جو ہیں
09:43وہ میں سندس کو دکھانے کے لئے
09:44لے جاؤ
09:45شازیہ کہتی ہے
09:45ہاں ہاں لے جاؤ
09:46تو پھر وہ سندس کو
09:47دکھانے کے لئے لے کر جاتا ہے
09:48پھر وہ اگلے دن
09:49پارٹی میں جاتا ہے
09:50وہاں پہ ان کی
09:51آپس میں بیعث ہو جاتی ہے
09:52اور ارسل بھی وہاں پہ ہوتا ہے
09:54جو سندس کو پسند کرتا ہوتا ہے
09:56اور ارسل جو ہے
09:57وہ یہ سوچتا ہے
09:58کہ یہ
09:58کتنا گھڑیا آدمی ہے
10:00تبریز
10:01کیونکہ
10:02تبریز کے جو
10:03سوشل اکاؤنٹس کی اکسیس ہے
10:04وہ ارسل کے پاس آگی ہوتی ہے
10:06اور ارسل جو ہے
10:07کہتا ہے کہ یہ تو
10:08بلکل بھی سندس کے لائک
10:09سندس کا سامنا
10:13تبریز سے ہوتا ہے
10:13تو سندس جو ہے
10:14زور سے تپڑ مارتی گیا
10:15تبریز کے موہ پہ
10:16اور اس وجہ سے
10:17اس کے ممہ اور پاپا پریشان
10:18اور احران ہو جاتے ہیں
10:20کہ سندس نے یہ کیا کر دیا
10:21ابریش گھر واپس جاتی ہے
10:23تو روحان دیکھ کے پر
10:24احران ہو جاتا ہے
10:25اور کہتا ہے
10:26کہ تم اتنی جلدی واپس آگی
10:27تم تو نازو کے ساتھ
10:28ملنے گئی تھی
10:29تو ابریش آگے سے کہتی ہے
10:30کہ نازو جو ہے وہ
10:33بیزی تھی
10:34مجھے راہیم نے ملنے نہیں دیا
10:35اس نے کہا ہے
10:36کہ گھر میں پروبلم ہے
10:36اس وجہ سے
10:37نازو سے بعد میں ملنا
10:39ہم آپ کو کول کر دیں گے
10:40تو تم ملنا
10:41تو روحان ہران ہو جاتا
10:43کہتا ہے
10:43کونسی ایسی پروبلم
10:44پھر وہ کہتا ہے
10:45کہتا ہے کہ
10:46چلو کوئی بات نہیں
10:47ہر گھر کے اپنے مسئلے میں سائل ہوتے ہیں
10:48کیونکہ
10:49ابریش کہہ رہی تھی
10:50کہ پتہ نہیں
10:50ان کے گھر کے نظام کیسا ہے
10:52کہ وہ اس طرح
10:53کوئی مہمان ہوں کے گھر گیا
10:54اور انہوں نے
10:54اسے ملنے سے
10:56بغیر یہ بھیج دیا ہے
10:57تو وہ کہتا ہے
10:57کہ ہر گھر کے اپنے مسئلے
10:58مسائل ہوتا ہے
10:59کوئی بات نہیں
10:59کبھی کبھی انسان کو
11:01صبر کر لینا چاہیے
11:02اس کے بعد جو ہے
11:03سندس جو ہے
11:05کچن میں ہوتی ہے
11:06تو تبریش آتا ہے
11:06اور اس کے بعد کہتا ہے
11:07کہ جن کو ہم
11:08ادھر ادھر ادھر
11:09ادھر ادھر رہے ہیں
11:09وہ ادھر
11:10ادھر ہیں
11:11تو سندس آگے سے
11:12کہتی ہے
11:12کہ آپ
11:14پہلے نا
11:14اپنی اردو
11:15ٹھیک کر لو
11:15تو وہ کہتا ہے
11:16کہ آپ کا
11:17جو مرضی کو
11:18آپ کا مگہ اتر
11:18تو میں ہی ہوں
11:19آپ نے زندگی
11:19تو میرے ساتھ
11:20گزانی آخر کار
11:21لاش پہ آنا
11:22تو میرے پاس ہی ہے
11:23پھر اس کے بعد
11:24جو ہے نازو
11:24نازو جو ہے
11:26وہ
11:27مریم کے فادر کے پاس
11:29جاتی ہے
11:29اور اس کو کہتی ہے
11:30کہ تم
11:30اب اپنی بیٹی کو
11:32چھوڑ کر کیوں جارہے
11:33کیونکہ
11:33آپ کو پتا ہے
11:34مریم نے کہہ دیا
11:34کہ ابو یہ میرا گھر ہے
11:35میں اسی گھر میں روں گی
11:37نازو جو ہے
11:37وہ مریم کا
11:38جینا حرام کرنا چاہتی ہے
11:39وہ اس کے
11:40ابو کو کہتی ہے
11:40اب دو دن کی
11:41جو آپ کی بیٹی بوکی ہے
11:43اس کو آپ ابھی
11:44ادھر چھوڑ کے جارہے ہیں
11:45اتنی آپ میں
11:45گہرت ہے
11:46اتنی آپ میں
11:47ایگو ہے
11:48کہ آپ ابھی
11:48ادھر چھوڑ کے جارہے ہیں
11:50تو یہی باتیں
11:50وہ سوچتے ہیں
11:51جب گھر چلا جاتا ہے
11:52تو فوٹپات پہ جا رہا ہوتا ہے
11:53اور نازو کے یہی
11:54ساری باتیں سوچ رہا ہوتا ہے
11:55تو پریشان ہو کر
11:56فوٹپات پہ گر جاتا ہے
11:57اور جب اس کو
11:58وہاں پہ جو لوگ ہوتے ہیں
12:00وہ اس کو اٹھاتے ہیں
12:01گھر اس کے نمبر سے
12:02کول کرتے ہیں
12:03پرویز کو
12:03پرویز کو بتاتے ہیں
12:04وہ کہتے ہیں
12:05آپ آجو ہسپیٹل
12:06ہم اس کو ہسپیٹل لے کے جا رہے ہیں
12:08وہ ہسپیٹل لے کے جاتے ہیں
12:09وہاں جا کر
12:09ڈوکٹر بتاتے ہیں کہ اس کو تو میجر ہارٹ اٹیک ہوگا
12:12اس کی وجہ سے اس کی آرٹریز جو ہیں وہ بلوک ہو گئے گی
12:15اور اس کا ہمیں سرجری کرنی پڑے گی اور تبریز پھر جب ہسپیٹل
12:19پہنچتا ہے تو وہ وہاں پہ سوری پرویز جب ہسپیٹل پہنچتا ہے
12:23تو وہاں پہ پوچھتا ہے کہ میرے ابو ٹھیک تو ہے نا
12:25ڈوکٹر صاحبہ تو وہ کہتا ہے کہ تمہارے ابو کی آرٹریز جو ہیں
12:29وہ بلوک ہو گیا ہم سرجری کرنے ہیں تمہارے سائن چاہیے
12:32ہمیں ڈوکومنٹس میں تم میرے ساتھ ہو لیکن تم دعا گو رہو
12:35کہ اللہ تعالیٰ تمہارے ابو کو سنت درستی عطا فرمائے
12:38اس کے بعد جو ہے نازو جو ہے وہ لون میں بیٹھ جاتے ہیں
12:41اور وہاں پہ باتیں کر رہی ہوتی ہے اور سوچ رہی ہوتی ہے
12:44کہ روحان سے بھی اتنے دن ہو گیا بات نہیں ہوئی
12:46تو ابھی میں روحان کو کول کر لیتی ہوں جب وہ فون اٹھاتی ہے
12:49ٹیبل سے تو ادھر سے بڑے بھئی آ جاتے ہیں
12:51یعنی کہ عمر اس سے باتیں کہتے ہیں نازو تم میری بہت اچھی بہین ہو
12:55تو وہ آگے سے کہتی ہے کہ عمر بھئی آپ بہت پریشان لگ رہے ہیں
12:59میں ہر بات سے آپ کے سوری کرتی ہوں
13:01تو عمر کے دل میں شک پڑ جاتا ہے کہ نازو کے سوری کر یہ
13:05پھر وہ بات کو فوراں کور کرنے کے لیے کہہ دیتی ہے
13:07کہ بھائی میں اس وجہ سے سوری کرتی ہوں
13:09کہ بھابی مریم نے جو بھی میرے ساتھ کیا
13:12اس وجہ سے میں سوری کرتی ہوں
13:14اس کے بعد پرویز کے ابو کو جو لوگ لے گئے ہوتے ہیں ہسپیٹل
13:18وہ پھر پرویز سے پوچھتے ہیں
13:20کہ کیا ہم اب گھر چلے جائیں
13:21ہم اپنا کام چھوڑ کر آئے ہوں
13:23آپ اگر ہم اجازت دے تو ہم چلے جاتے ہیں
13:25تو پرویز انہیں کہتا ہے کہ آپ چلے جاؤ
13:27پھر وہ پریشانی کی حالت میں
13:28ادھر ادھر ہسپیٹل میں ہی پھرتا دیواروں کے ساتھ لگتا رہتا ہے
13:31پھر وہ اپنی بہن مریم کو کول کرتا ہے
13:33مریم جو کہ نماز پڑھ رہی ہوتی ہے
13:34اور اس کو کول آتی ہے
13:36تو وہ کول اٹینٹ کرتی ہے
13:37تو پرویز بتاتا ہے کہ بابا کو میجر ہارٹ اٹیک ہوئے
13:40وہ ہسپیٹل ایڈمیٹ ہے
13:41وہ تب ہی جو نازو ہے وہ دوسرے روم میں
13:44اپنے بابا اور ماما کے ساتھ بیٹھ کر رسم لائک آ رہی ہوتی ہے
13:47اور اپنے بابا کو کہتا ہے
13:49کہ بابا آپ کو کیسے پتا چل جاتا ہے
13:50جب بھی کوئی چیز میرے کھانے کو دل کرتا ہے
13:52میں تو آپ کو کہتا ہی
13:53مرے تو اس کا بابا کہتا ہے
13:54کہ بیٹے مجھے بچپن سے اس چیز کی عادت ہے
13:56کہ تمہیں جب بھی کوئی چیز چاہیے ہوتی ہے
13:58مجھے پتا چل جاتا ہے
13:59اور میں تمہارے لئے لے آتا ہوں
14:01یہ وہ یہ باتیں کہہ رہے ہوتے ہیں
14:02تو مریم جو ہے باہ کر جاتی ہے
14:04اور اسے سانس چڑھا ہوتا ہے
14:05اور اسحاق پوچھتا ہے
14:06کہ کیا ہوا مریم
14:07تو مریم آگے سے بتاتی ہے
14:08کہ میرے بابا کو جو ہے ہارٹ اٹیک ہوئے
14:10وہ سارے حران رہ جاتے ہیں
14:12اسحاق مریم کی بات سن کر کہتا ہے
14:13چلو مریم چلیں دون آزو
14:15جو ہے اپنی امی کو کہتی ہے
14:16کہ دیکھا بابا کو
14:17اس نے دو آن صبح ہیں
14:19تو کس طرح موم ہو گئے ہیں
14:20اور اس کے ساتھ جانے کے لئے تیار ہو گئے ہیں
14:22تو اسحاق اس کو کہتا ہے
14:23سباحت کو کہ تم
14:25گھر کا کہاں رکنا میں آتا ہوں
14:27پھر جب وہ وہاں پوچھتے ہیں
14:28تو وہاں جاکت پرویز کہتا ہے
14:30کہ دیکھ لو پریشانی کو
14:31جیسے میرے بابا کا کیا حالو کے
14:32اسحاق کہتا ہے
14:33کہ اب بھی تم چھپ ہو جاؤ
14:35یہ ٹائم نہیں ہے
14:37یہ بات کرنے کا معاملہ زیادہ بگڑ جائے گا
14:39دوسرے سائل پر جو
14:40جمیل اور شازی ہوتے ہیں
14:42وہ بہت پریشان ہوتے ہیں
14:43شازیہ بہت پریشان ہوتے ہیں
14:44کہ اس کی بہن
14:45اور اس کا
14:46بیٹا یہ کام کیسے کر سکتے ہیں
14:48ایسا ہو نہیں سکتا
14:48وہ تو اتنے میرے
14:49وہ جمیل کے ساتھ
14:51بہت بتمیزی کرتی ہے
14:53اور بحث کرتی ہے
14:54کہ وہ ایسا نہیں کر سکتے
14:55وہ تو بہت زیادہ میرے
14:56تو جمیل کہتا ہے
14:57کہ بس تم چھپ رہو
14:58یہ ہمارے گھر کی
14:59کوئی ہاؤس ہیل پر
15:00یہ کام نہیں کر سکتی
15:02کیونکہ وہ اتنے سالوں سے
15:03ہمارے گھر کام کر رہے ہیں
15:05یہ ساری وہ باتیں
15:05کہہ رہے ہوتے ہیں
15:06تو وہ پھر
15:07تو وہاں پہ تبریز آتا ہے
15:09وہ تبریز گفٹ
15:10لے کر آتا ہے
15:11سندس کے لئے
15:11اور اپنی آنٹی کے
15:12شازیہ بہت اران ہوتی
15:14کہتی یہ کس چیز کے لئے
15:15گفٹ تو
15:15تبریز کہتا ہے
15:17کہ مجھے پسند آئے تھے
15:18کہ سندس کو بہت پسند آئیں گے
15:19اور آپ کے لئے بھی
15:20میں لے کر آگیا
15:21وہ کہتا ہے
15:22ان میں سے کچھ گفٹ جو ہیں
15:23وہ میں سندس کو دکھانے کے لئے
15:25لے جاؤ
15:25شازیہ کہتی ہاں ہاں لے جاؤ
15:26تو پھر وہ سندس کو دکھانے کے لئے
15:28لے کر جاتا ہے
15:29پھر وہ اگلے دن پارٹی میں جاتا ہے
15:30وہاں پہ ان کی
15:31آپس میں بیس ہو جاتی ہے
15:32اور ارسل بھی وہاں پہ ہوتا ہے
15:34جو سندس کو پسند کرتا ہوتا ہے
15:36اور ارسل جو ہے
15:37وہ یہ سوتا ہے
15:38کہ یہ
15:38کتنا گھٹیا آدمی ہے
15:41تبریز
15:41کیونکہ
15:42تبریز کے جو
15:43سوشل اکاؤنٹس کی اکسیس ہے
15:44وہ ارسل کے پاس آگئی ہوتی ہے
15:46اور ارسل جو ہے
15:47کہتا ہے
15:47کہ یہ تو بالکل بھی سندس کے لائک
15:49سندس کا سامنا
15:53تبریز سے ہوتا ہے
15:54تو سندس جو ہے
15:54زور سے تپڑ مارتی ہے
15:55تبریز کے موہ پہ
15:56اور اس وجہ سے
15:57اس کے ممہ اور پاپا پریشان
15:58اور احران ہو جاتے ہیں
16:00کہ سندس نے یہ کیا کر دیا
16:02ابریش گھر واپس جاتی ہے
16:03تو روحان دیکھ
16:04احران ہو جاتا ہے
16:05اور کہتا ہے
16:06کہ تم اتنی جلدی واپس آگئے
16:07تم تو نازو کے ساتھ
16:08ملنے گئی تھی
16:09تو ابریش آگے سے کہتی ہے
16:10کہ نازو جو ہے وہ
16:13بیزی تھی
16:14مجھے راہیم نے ملنے نہیں دیا
16:15اس نے کہا ہے
16:16کہ گھر میں پروبلم ہے
16:17اس وجہ سے
16:17نازو سے بعد میں ملنا
16:19ہم آپ کو کول کر دیں گے
16:20تو تم ملنے
16:21تو روحان ہران ہو جاتا
16:23کہتا ہے
16:23کونسی ایسی پروبلم
16:24پھر وہ کہتا ہے
16:25کہتا ہے کہ چلو
16:26کوئی بات نہیں
16:27ہر گھر کے اپنے مسئلے
16:28مسائل ہوتے ہیں
16:28کیونکہ
16:29ابریش کہہ رہی تھی
16:30کہ پتہ نہیں
16:30ان کے گھر کے نظام
16:32کیسا ہے
16:32کہ وہ اس طرح
16:33کوئی مہمان ہوں کے گھر گیا
16:34اور انہوں نے
16:34اسے ملنے سے
16:36بغیر ہی بھیج دیا
16:37تو وہ کہتا ہے
16:37کہ ہر گھر کے اپنے
16:38مسئلے مسائل ہوتا ہے
16:39کوئی بات نہیں
16:40کبھی کبھی انسان
16:41کو صبر کر لینا چاہیے
16:42اس کے بعد جو ہے
16:43سندس جو ہے
16:45کچن میں ہوتی ہے
16:46تو تبریش آتا ہے
16:46اور اس کے بعد
16:47کہتا ہے
16:47کہ جن کو ہم
16:48ادھر ادھر ادھر
16:49ادھر ادھر ہیں
16:49وہ ادھر
16:50ادھر ہیں
16:51تو سندس آگے سے
16:52کہتی ہے
16:53کہ آپ
16:54پہلے نا
16:54اپنی اردو
16:55ٹھیک کلو
16:55تو وہ کہتا ہے
16:56کہ آپ کا
16:57جو مرضی کو
16:58آپ کا مگہ اتھر
16:58تو میں ہی ہوں
16:59آپ نے زندگی
16:59تو میرے ساتھ
17:00ہی گزانی آخر کا
17:01لاش پہ آنا
17:02تو میرے پاس ہی ہے
17:03پھر اس کے بعد
17:04جو ہے نازو
17:05نازو جو ہے
17:06وہ
17:07مریم کے فادر کے پاس
17:09جاتی ہے
17:09اور اس کو کہتی ہے
17:10کہ تم
17:10اب اپنی بیٹی کو
17:12چھوڑ کر کیوں جا رہا ہے
17:13کیونکہ آپ کو
17:14پتا ہے
17:14مریم نے کہہ دیا
17:14کہ ابو یہ میرا گھر ہے
17:16میں اسی گھر میں رہوں گی
17:17نازو جو ہے
17:18وہ مریم کا
17:18جینا حرام کرنا چاہتی ہے
17:19وہ اس کے
17:20ابو کو کہتی ہے
17:20اب دو دن کی
17:21جو آپ کی بیٹی بوکی ہے
17:23اس کو آپ ابھی
17:24ادھر چھوڑ کے جا رہا ہے
17:25اتنی آپ میں
17:26گہرت ہے
17:26اتنی آپ میں
17:27ایگو ہے
17:28کہ آپ ابھی
17:28ادھر چھوڑ کے جا رہے ہیں
17:30تو یہی باتیں
17:30وہ سوچتا ہے
17:31جب گھر چلا جاتا ہے
17:32تو فٹ پاٹ پر جا رہا ہوتا ہے
17:33اور نازو کے
17:33یہی ساری باتیں
17:34سوچ رہا ہوتا ہے
17:35تو پریشان ہو کر
17:36فٹ پاٹ پر گر جاتا ہے
17:37اور جب اس کو
17:38وہاں پہ جو لوگ ہوتے ہیں
17:40وہ اس کو اٹھاتے ہیں
17:41اگر اس کے نمبر سے
17:42کول کرتے ہیں
17:43اور پروئیسکو
17:43اور پروئیسکو
17:44بتاتے ہیں
17:44وہ کہتے ہیں
17:45آپ آجو ہسپیٹر
17:46ہم اس کو ہسپیٹر
17:47لے کے جا رہے ہیں
17:48ہوسپیٹر لے کے جاتے ہیں وہاں جا کر ڈوکٹر بتاتے ہیں کہ اس کو تو میجر ہارٹ اٹیک ہوگا ہے اس کی وجہ سے اس کی آرٹریز جو ہیں وہ بلوک ہو گئے ہیں اور اس کا ہمیں سرجری کرنی پڑے گی اور تبریز پھر جب ہوسپیٹر پہنچتا ہے تو وہ وہاں پہ پوچھتا ہے کہ میری اببو ٹھیک تو ہے نا ڈوکٹر صاحبہ تو وہ کہتا ہے کہ تمہارے اببو کی آرٹریز جو ہیں وہ بلوک ہو گئے ہیں ہم سرجری کرنے ہیں تمہارے سائن چاہیے ہمیں ڈوکومنٹس میں تم میرے
18:18فرمائے اس کے بعد جو ہے نازو جو ہے وہ لون میں بیٹھ جاتے ہیں اور وہاں پہ باتیں کر رہی ہوتی ہے اور سوچ رہی ہوتی ہے کہ روحان سے بھی اتنے دن ہو گیا بات نہیں ہوئی تو ابھی میں روحان کو کول کر لیتی ہوں جب وہ فون اٹھاتی ہے ٹیبل سے تو ادھر سے بڑے بھئیہ آ جاتے ہیں یعنی کہ عمر عمر اس سے باتے گئے ہیں کہتے ہیں نازو تم میری بہت اچھی بہن ہو تو وہ آگے سے کہتی ہے کہ عمر بھئیہ بہت پریشان لگ رہے ہیں میں ہر بات سے آپ کے سوری کرتی ہوں تو ع
18:48میں اس وجہ سے سوری کرتی ہوں کہ بابی مریم نے جو بھی میرے ساتھ کیا اس وجہ سے میں سوری کرتی ہوں اس کے بعد پرویز کے ابو کو جو لوگ لے کے گئے ہوتے ہیں ہسپیٹل وہ پھر پرویز سے پوچھتے ہیں کہ کیا ہم اب گھر چلے جائیں ہم اپنا کام چھوڑ کر آئے ہیں آپ اگر ہم اجازت دے تو ہم چلے جاتے ہیں تو پرویز انہیں کہتا ہے کہ آپ چلے جاؤ پھر وہ پریشانی کی حالت میں ادھر ادھر ہسپیٹل میں ہی پھرتا دیواروں کے ساتھ لگتا رہتا ہے پ
19:18پرویز بتاتا ہے کہ بابا کو میجر ہارٹ اٹیک ہوئے وہ ہسپیٹل ایڈمیٹ ہے وہ تب ہی جو نازو ہے وہ دوسرے روم میں اپنے بابا اور ماما کے ساتھ بیٹھ کر رسم لائی کھا رہی ہوتی ہے اور اپنے بابا کو کہتے ہیں کہ بابا آپ کو کیسے پتا چل جاتا ہے جب بھی کوئی چیز میرے کھانے کو دل کرتا ہے میں تو آپ کو کہتی ہی مرے تو اس کا بابا کہتا ہے کہ بیٹے مجھے بچپن سے اس چیز کی عادت ہے کہ تمہیں جب بھی کوئی چیز چاہیے ہوتی ہیں مجھے
19:48ماما کے سے بتاتی ہے کہ میرے بابا کو جو ہے ہارٹ اٹیک ہوئے وہ سارے حران رہ جاتے ہیں مریم کی بات سن کر کہتا ہے چلو مریم چلیں دون آزو جو ہے اپنی امی کو کہتی ہے کہ دیکھا بابا کو اس نے دو آن صبح ہیں تو کس طرح موم ہو گئے ہیں اور اس کے ساتھ جانے کے لیے تیار ہو گئے ہیں تو اساق اس کو کہتا ہے سباحت کو کہ تم گھر کا کیا لکھنا میں آتا ہوں پھر جب وہ وہاں پہنچتے ہیں تو وہاں جا کرتا ہے تو پرویز کہتا ہے کہ دیکھ لو پریشانی کے وجہ سے میرے
20:18معاملہ زیادہ بگڑ جائے گا دوسری سائٹ پہ جو جمیل اور شازی ہوتے ہیں وہ بہت پریشان ہوتے ہیں شازیاں بہت پریشان ہوتے ہیں کہ اس کی بہن اور اس کا بیٹا یہ کام کیسے کر سکتے ہیں ایسا ہو نہیں سکتا وہ تو اتنے میرے وہ جمیل کے ساتھ بہت بتمیزی کرتی ہے اور بحث کرتی ہے کہ وہ ایسا نہیں کر سکتے وہ تو بہت زیادہ میرے تو جمیل کہتا ہے کہ بس تم چھپ رہو انہیں یہ ہمارے گھر کی کوئی ہاؤس ہیلپر بھی یہ کام نہیں کر سکتی کیونکہ
20:48وہاں پہ تبریز آ جاتا ہے وہ تبریز گفت لے کر آتا ہے سندس کے لیے اور اپنی آنٹی کے لیے بھی شازیہ بہت حران ہوتی کہتی ہے یہ کس چیز کے لیے گفت تو تبریز کہتا ہے کہ مجھے پسند آئے تھے کہ سندس کو بہت پسند آئیں گے اور آپ کے لیے بھی میں لے کر آگئے اور پھر وہ کہتا ہے ان میں سے کچھ گفت جو ہیں وہ میں سندس کو دکھانے کے لیے لے جاؤں شازیہ کہتی ہے ہاں ہاں لے جاؤ تو پھر وہ سندس کو دکھانے کے لیے لے کر جاتا ہے
21:18ہوتا ہے کہ یہ کتنا گھڑیا آدمی ہے تبریز کیونکہ تبریز کے جو
21:23سوشل اکاؤنٹس کی اکسیس ہے وہ ارسل کے پاس آگئی ہوتی ہے اور ارسل
21:27جو ہے کہتا ہے کہ یہ تو بالکل بھی سندس کے لائک سندس کا سامنا
21:33تبریز سے ہوتا ہے تو سندس جو ہے زور سے تپڑ مارتی ہے تبریز کے
21:36موہ پہ اور اس وجہ سے اس کے ممہ اور پاپا پریشان اور احران ہو
21:40جاتے ہیں کہ سندس نے یہ کیا کر دیا اب رشگر واپس جاتی ہے تو روحان
21:44دیکھ کر ہران ہو جاتا ہے اور کہتا ہے کہ تم اتنی جلدی واپس آگئی
21:47ہو تم تو نازو کے ساتھ ملنے گئی تھی تو اب رش آگے سے کہتی ہے کہ
21:51نازو جو ہے وہ بیزی تھی مجھے راہیم نے ملنے نہیں دیا اس نے
21:55کہا ہے کہ گھر میں پروبلم ہے اس وجہ سے نازو سے بعد میں ملنا ہم
21:59آپ کو کول کر دیں گے تو تم ملنا تو روحان ہران ہو جاتا کہتا ہے
22:03کونسی ایسی پروبلم پھر وہ کہتا ہے کہتا ہے کہ چلو کوئی بات نہیں ہر
22:07گھر کے اپنے مسئلے مسائل ہوتے ہیں کیونکہ اب رش کہہ رہی تھی
22:10کہ پتا نہیں ان کے گھر کے نظام کیسا ہے کہ وہ اس طرح کوئی
22:13مہمان ان کے گھر گیا اور انہوں نے اسے ملنے سے بغیر یہ بھی دیا
22:17تو وہ کہتا ہے کہ ہر گھر کے اپنے مسئلے مسائل ہوتا ہے کوئی
22:19بات نہیں کبھی کبھی انسان کو صبر کر لینا چاہیے اس کے بعد جو
22:23ہے سندس جو ہے کچن میں ہوتی گیا تو تبریت آتا ہے اور اس کے بعد
22:27کہتا ہے کہ جن کو ہم ڈونڈ رہے ہیں ادھر ادھر ڈونڈ رہے ہیں وہ
22:30ادھر ادھر ہیں تو سندس آگے سے کہتی ہے کہ آپ پہلے نا اپنی
22:35اردو ٹھیک کر لو تو وہ کہتا ہے کہ آپ کا جو مرضی کو آپ کا
22:38مگہ اتر تو میں ہی ہوں آپ نے زندگی تو میرے ساتھ ہی گزانی آخر
22:41کا لاش پہ آنا تو میرے پاس ہی ہے پھر اس کے بعد جو ہے نازو نازو جو
22:45ہے وہ مریم کے فادر کے پاس جاتی ہے اور اس کو کہتی ہے کہ تم اب اپنی
22:52بیٹی کو چھوڑ کر کیوں جا رہے ہیں کیونکہ آپ کو پتا ہے مریم نے
22:54کہہ دیا ہے کہ ابو یہ میرا گھر ہے میں اسی گھر میں رہوں گی نازو
22:57جو ہے وہ مریم کا جینا حرام کرنا چاہتی ہے وہ اس کے ابو کو کہتی
23:00اب دو دن کی جو آپ کی بیٹی بھوکی ہے اس کو آپ ابھی ادھر چھوڑ کے
23:04جا رہے ہیں اتنی آپ میں گہرت ہے اتنی آپ میں ایگو ہے کہ آپ ابھی
23:08ادھر چھوڑ کے جا رہے ہیں تو یہی باتیں وہ سوچتے ہیں جب گھر
23:11چلا جاتا ہے تو فوٹوپات پہ جا رہا ہوتا ہے اور نازو
23:13کی یہی ساری باتیں سوچ رہا ہوتا ہے تو پریشان ہو کر فوٹوپات
23:17پہ گر جاتا ہے اور جب اس کو وہاں پہ جو لوگ ہوتے ہیں وہ اس
23:20کو اٹھاتے ہیں گھر اس کو کول اس کے نمبر سے کول کرتے ہیں پرویز
23:23کو پرویز کو بتاتے ہیں وہ کہتے ہیں ہم آپ آجو ہوسپیٹل ہم اس
23:27کو ہوسپیٹل لے کے جا رہے ہیں وہ ہوسپیٹل لے کے جاتے ہیں وہاں
23:29جا کر ڈوکٹر بتاتے ہیں کہ اس کو تو میجر ہارٹ اٹیک ہوئر اس کی وجہ سے
23:33اس کی آرٹریز جو ہیں وہ بلوک ہو گئے گی اور اس کا ہمیں سرجری کرنی
23:37پڑے گی اور تبریز پھر جب ہسپیٹل پہنچتا ہے تو وہ وہاں پہ سوری پرویز
23:42جب ہسپیٹل پہنچتا ہے تو وہاں پہ پوچھتا ہے کہ میری ابو ٹھیک تو ہے
23:45نا ڈوکٹر صاحبہ تو وہ کہتا ہے کہ تمہارے ابو کی آرٹریز جو ہیں وہ
23:49بلوک ہو گیا ہم سرجری کرنے ہیں تمہارے سائن چاہیے ہمیں
23:52ڈوکومنٹس میں تم میرے ساتھ ہو لیکن تم دعا گو رہو کہ اللہ تعالیٰ
23:56تمہارے ابو کو سنت درستی عطا فرمائے اس کے بعد جو ہے نازو جو
24:00ہے وہ لون میں بیٹھ جاتے ہیں اور وہاں پہ باتیں کر رہی ہوتی ہے
24:03اور سوچ رہی ہوتی ہے کہ روحان سے بھی تین دن ہو گیا بات نہیں ہوئی
24:06تو ابھی میں روحان کو کول کر لیتی ہوں جب وہ فون اٹھاتی ہے ٹیبل
24:10سے تو ادھر سے بڑے بھئی آ جاتے ہیں یعنی کہ عمر عمر اس سے بات
24:13یہ نے کہتے ہیں نازو تم میری بہت اچھی بہن ہو تو وہ آگے سے
24:16کہتی ہے کہ عمر بھئی آپ بہت پریشان لگ رہے ہیں میں ہر بات
24:19سے آپ کے سوری کرتی ہوں تو عمر کے دل میں شک پڑ جاتا ہے کہ نازو
24:24کے سوری کری ہے پھر وہ بات کو فوراں کور کرنے کے لیے کہہ دیتی
24:27کہ بھائی میں اس وجہ سے سوری کرتی ہوں کہ بابی مریم نے جو بھی میرے
24:32ساتھ کیا اس وجہ سے میں سوری کرتی ہوں اس کے بعد پرویز کے اببو
24:36کو جو لوگ لے کے گئے ہوتے ہیں ہسپیٹل وہ پھر پرویز سے پوچھتے
24:40ہیں کہ کیا ہم اب گھر چلے جائیں ہم اپنا کام چھوڑ کر آئے ہوں
24:43آپ اگر ہم اجازت دے تو ہم چلے جاتے ہیں تو پرویز انہیں کہتا ہے
24:46کہ آپ چلے جاؤ پھر وہ پریشانی کی حالت میں ادھر ادھر ہسپیٹل میں
24:49ہی پھرتا دیواروں کے ساتھ لگتا رہتا ہے پھر وہ اپنی بہن مریم
24:52کو کول کرتا ہے مریم جو کہ نماز پڑھ رہی ہوتی ہے اور اس کو کول
24:56آتی ہے تو وہ کول ٹینٹ کرتی ہے تو پرویز بتاتا ہے کہ بابا
24:59کو میجر ہارٹ اٹیک ہوئے وہ ہسپیٹل ایڈمیٹ ہے وہ تب ہی جو نازو
25:03ہے وہ دوسرے روم میں اپنے بابا اور ماما کے ساتھ بیٹھ کر رسم
25:07لائک آ رہی ہوتی ہے اور اپنے بابا کو کہتے ہیں کہ بابا آپ کو
25:09کیسے پتا چل جاتا ہے جب بھی کوئی چیز میرے کھانے کو دل کرتا ہے
25:13میں تو آپ کو کہتا ہی ہم نے تو اس کا بابا کہتا ہے کہ بیٹے
25:15مجھے بچپن سے اس چیز کی عادت ہے کہ تمہیں جب بھی کوئی چیز
25:18چاہیے ہوتی ہے مجھے پتا چل جاتا ہے اور میں تمہارے لیے لے
25:21آتا ہوں یہ وہ یہ باتیں کر رہے ہوتے ہیں تو مریم جو ہے باہ کر
25:24جاتی ہے اور اسے سانس چڑھا ہوتا ہے اور اسحاق پوچھتا ہے کہ کیا
25:27ہوا مریم تو مریم آگے سے بتاتی ہے کہ میرے بابا کو جو ہے ہارٹ اٹیک
25:30ہوئے وہ سارے حران رہ جاتے ہیں مریم کی بات سن کر کہتا ہے
25:33چلو مریم چلیں دون آزو جو ہے اپنی امی کو کہتی ہے کہ دیکھا بابا
25:37کو اس نے دو آن صبح ہے تو کس طرح موم ہو گئے ہیں اور اس کے ساتھ
25:41جانے کے لیے تیار ہو گئے ہیں تو اسحاق اس کو کہتا ہے سباحت کو
25:44کہ تم گھر کا کیا لکھنا میں آتا ہوں پھر جب وہ وہاں پوچھتے ہیں
25:48تو وہاں جا کرتا ہے کہ دیکھ لو پریشانی کو وجہ سے میرے ببو کا کیا
25:52حالو کے اسحاق کہتا ہے کہ اب بھی تم چھپ ہو جاؤ یہ ٹائم
25:56نہیں ہے یہ بات کرنے کا معاملہ زیادہ بگڑ جائے گا دوسری سائل
26:00پہ جو جمیل اور شازی ہوتے ہیں وہ بہت پریشان ہوتے ہیں شازی
26:03ہے بہت پریشان ہوتے ہیں کہ اس کی بہن اور اس کا بیٹا یہ کام
26:07کیسے کر سکتے ہیں ایسا ہو نہیں سکتا وہ تو اتنے امیر ہے وہ جمیل
26:10کے ساتھ بہت بتمیزی کرتی ہے اور بحث کرتی ہے کہ وہ ایسا نہیں
26:15کر سکتے وہ تو بہت زیادہ میرا تو جمیل کہتا ہے کہ بس تم
26:17چھپ رہو یہ ہمارے گھر کی کوئی ہاؤس ہیل پر بھی کام یہ کام
26:22نہیں کر سکتی کیونکہ وہ اتنے سالوں سے ہمارے گھر کام کر رہے
26:25ہیں یہ ساری وہ باتیں کر رہے ہوتے ہیں تو پھر تو وہاں پہ تبریز
26:28آ جاتا ہے وہ تبریز گفٹ لے کر آتا ہے سندس کے لیے اور اپنی
26:32آنٹی کے شازیہ بہت اران ہوتی کہتی یہ کس چیز کے لیے گفٹ تو تبریز
26:37کہتا ہے کہ مجھے پسند آئیتا ہے کہ سندس کو بہت پسند آئیں گے
26:39اور آپ کے لیے بھی میں لے کے آگیا ہو پھر وہ کہتا ہے ان میں سے
26:42کچھ گفٹ جو ہیں وہ میں سندس کو دکھانے کے لیے لے جاؤ شازیہ
26:45کہتی ہاں ہاں لے جاؤ تو پھر وہ سندس کو دکھانے کے لیے لے
26:48کے جاتا ہے پھر وہ اگلے دن پارٹی میں جاتا ہے وہ وہاں پہ ان کی
26:51آپس میں بیعث ہو جاتی ہے اور ارسل بھی وہاں پہ ہوتا ہے جو سندس
26:55کو پسند کرتا ہوتا ہے اور ارسل جو ہے وہ یہ سوتا ہے کہ یہ کتنا
27:00گھڑیا آدمی ہے تبریز کیونکہ تبریز کے جو سوشل اکاؤنٹس کی
27:04اکسیس ہے وہ ارسل کے پاس آگئی ہوتی ہے اور ارسل جو ہے کہتا
27:07ہے کہ یہ تو بالکل بھی سندس کے لائک ہے سندس کا سامنا تبریز سے
27:13ہوتا ہے تو سندس جو ہے زور سے تپڑ مارتی ہے تبریز کے موہ پہ
27:16اور اس وجہ سے اس کے مم اور پاپا پریشان اور احران ہو جاتے ہیں
27:20کہ سندس نے یہ کیا کر دیا ابریش گھر واپس جاتی ہے تو روحان
27:24دیکھ پہ حران ہو جاتا ہے اور کہتا ہے کہ تم اتنی جلدی واپس آگئی
27:27اور تم تو نازو کے ساتھ ملنے گئی تھی تو ابریش آگے سے کہتی
27:31ہے کہ نا نازو جو ہے وہ بیزی تھی مجھے راہیم نے ملنے نہیں
27:35دیا اس نے کہا ہے کہ گھر میں پرابلم ہے اس وجہ سے نازو سے بعد
27:38میں ملنا ہم آپ کو کول کر دیں گے تو تم ملنے تو روحان حران
27:43ہو جاتا کہتا ہے کونسی ایسی پروبلم پھر وہ کہتا ہے کہتا
27:46ہے کہ چلو کوئی بات نہیں ہر گھر کے اپنے مسئلے مسائل ہوتے ہیں
27:48کیونکہ ابریش کہہ رہی تھی کہ پتہ نہیں ان کے گھر کے نظام
27:52کیسا ہے کہ وہ اس طرح کوئی مہمان ان کے گھر گیا اور انہوں نے
27:55اسے ملنے سے بغیر یہ بھی دیا ہے تو وہ کہتا ہے کہ ہر گھر کے
27:58اپنے مسئلے مسائل ہوتے ہیں کوئی بات نہیں کبھی کبھی انسان کو
28:01صبر کر لینا چاہیے اس کے بعد جو ہے سندس جو ہے کیچن میں ہوتی
28:06ہے تو تبریز آتا ہے اور اس کے بعد کہتا ہے کہ جن کو ہم ڈونڈ رہے ہیں
28:09ادھر ادھر ادھر ہیں وہ ادھر ادھر ہیں تو سندس آگے سے کہتی ہے
28:13کہ آپ پہلے نا اپنی اردو ٹھیک کر لو تو وہ کہتا ہے کہ آپ کا جو
28:17مرضی کو آپ کا مگہ اتر تو میں ہوں آپ نے زندگی تو میرے ساتھ ہی
28:20گزانی آخر کا لاش پہ آنا تو میرے پاس ہی ہے پھر اس کے بعد جو
28:24ہے نازو نازو جو ہے وہ مریم کے فادر کے پاس جاتی ہے اور اس
28:29کو کہتی ہے کہ اب اپنی بیٹی کو چھوڑ کر کیوں جارہے کیونکہ آپ
28:34کو پتا ہے مریم نے کہہ دیا کہ ابو یہ میرا گھر ہے میں اسی گھر میں
28:36رہوں گی نازو جو ہے وہ مریم کا جینا حرام کرنا چاہتی ہے وہ اس
28:40کے ابو کو کہتی ہے اب دو دن کی جو آپ کی بیٹی بھوکی ہے اس کو آپ
28:44ابھی ادھر چھوڑ کے جارہے ہیں اتنی آپ میں گہرت ہے اتنی آپ میں ایگو
28:48ہے کہ آپ ابھی ادھر چھوڑ کے جا رہے ہیں تو یہی باتیں وہ سوچتے ہیں جب
28:51گھر چلا جاتا ہے تو فوٹپات پہ جا رہا ہوتا ہے اور نازو کے یہی ساری
28:54باتیں سوچ رہا ہوتا ہے تو پریشان ہو کر فوٹپات پہ گر جاتا ہے اور جب
28:58اس کو وہاں پہ جو لوگ ہوتے ہیں وہ اس کو اٹھاتے ہیں گھر اس کو کول
29:02اس کے نمبر سے کول کرتے ہیں پرویز کو اور پرویز کو بتاتے ہیں وہ
29:05کہتے ہیں ہم آپ آجو ہسپیٹر ہم اس کو ہسپیٹر لے کے جا رہے ہیں وہ
29:08ہسپیٹر لے کے جاتے ہیں وہاں جا کر ڈوکٹر بتاتے ہیں کہ اس کو تو میجر ہارٹ
29:12اٹیک ہوگا اس کی وجہ سے اس کی آرٹریز جو ہیں وہ بلوک ہو گئے گا اور اس کا
29:16ہمیں سرجری کرنی پڑے گی اور تبریز پھر جب ہسپیٹر پہنچتا ہے تو وہ وہاں
29:21پر سوری پرویز جب ہسپیٹر پہنچتا ہے تو وہاں پر پوچھتا ہے کہ میرے
29:25ابو ٹھیک تو ہے نا ڈوکٹر صاحبہ تو وہ کہتا ہے کہ تمہارے ابو کی آرٹریز
29:29جو ہے وہ بلوک ہو گیا ہم سرجری کرنے ہیں تمہارے سائن چاہیے ہمیں
29:32ڈوکومنٹس میں تم میرے ساتھ ہو لیکن تم دعا گو رہو کہ اللہ تعالیٰ
29:36تمہارے ابو کو سنت درستی عطا فرمائے اس کے بعد جو ہے نازو جو ہے وہ
29:40لون میں بیٹھ جاتے ہیں اور وہاں پہ باتیں کر رہی ہوتی ہے اور سوچ رہی
29:44ہوتی ہے کہ روحان سے بھی اتنے دن ہو گیا بات نہیں ہوئی تو ابھی میں روحان
29:47کو کول کر لیتی ہوں جب وہ فون اٹھاتی ہے ٹیبل سے تو ادھر سے بڑے
29:51بھئیہ آ جاتے ہیں یعنی کہ عمر عمر اس سے باتے ہیں کہتے ہیں نازو
29:54تم میری بہت اچھی بہن ہو تو وہ آگے سے کہتی ہے کہ عمر بھئیہ آپ
29:58بہت پریشان لگ رہے ہیں میں ہر بات سے آپ کے سوری کرتی ہوں تو عمر
30:02کے دل میں شک پڑ جاتا ہے کہ نازو کے سوری کر رہی ہے پھر وہ بات
30:06کو فوراں کور کرنے کے لیے کہہ دیتی ہے کہ بھائی میں اس وجہ سے سوری
30:09کرتی ہوں کہ بابی مریم نے جو بھی میرے ساتھ کیا اس وجہ سے میں
30:14سوری کرتی ہوں اس کے بعد پرویز کے ابو کو جو لوگ لے کے گئے ہوتے
30:18ہیں ہسپیٹل وہ پھر پرویز سے پوچھتے ہیں کہ کیا ہم اب گھر
30:21چلے جائیں ہم اپنا کام چھوڑ کر آئے ہیں آپ اگر ہم اجازت دے
30:24تو ہم چلے جاتے ہیں تو پرویز انہیں کہتا ہے کہ آپ چلے جاؤ پھر وہ
30:27پریشانی کی حالت میں ادھر ادھر ہسپیٹل میں ہی پھرتا دیواروں کے
30:30ساتھ لگتا رہتا ہے پھر وہ اپنی بہن مریم کو کول کرتا ہے
30:33مریم جو کہ نماز پڑھ رہی ہوتی ہے اور اس کو کول آتی ہے تو وہ
30:37کول ٹینٹ کرتی ہے تو پرویز بتاتا ہے کہ بابا کو میجر ہارٹ
30:40اٹیک ہوئے وہ ہسپیٹل ایڈمیٹ ہے وہ تب ہی جو نازو ہے وہ دوسرے
30:44روم میں اپنے بابا اور ماما کے ساتھ بیٹھ کر رسم لائی کھاری ہوتی
30:47اور اپنے بابوں کو کہتے ہیں کہ بابا آپ کو کیسے پتا چل جاتا ہے جب بھی
30:51کوئی چیز میرے کھانے کو دل کرتا ہے میں تو آپ کو کہتے ہیں
30:53میں تو اس کا بابا کہتا ہے کہ بیٹے مجھے بچپن سے اس چیز کی عادت ہے
30:57کہ تمہیں جب بھی کوئی چیز چاہیے ہوتی ہے مجھے پتا چل جاتا ہے
31:00اور میں تمہارے لئے لے آتا ہوں یہ وہ یہ باتیں کہہ رہے ہوتے ہیں
31:02تو مریم جو ہے باہ کر جاتے ہیں سندس کا سامنا تبریز سے ہوتا ہے
31:06تو سندس جو ہے زور سے تپڑ مارتی ہے تبریز کے موہ پہ اور اس وجہ سے
31:09تو اس کے ممہ اور پاپا پریشان اور احران ہو جاتے ہیں
31:12کہ سندس نے یہ کیا کر دیا
31:14ابریش گھر واپس جاتی ہے تو روحان دیکھ احران ہو جاتا ہے
31:17اور کہتا ہے کہ تم اتنی جلدی واپس آگئے
31:19تم تو نازو کے ساتھ ملنے گئی تھی
31:21تو ابریش آگے سے کہتی ہے کہ نازو جو ہے وہ بیزی تھی
31:26مجھے راہیم نے ملنے نہیں دیا
31:27اس نے کہا ہے کہ گھر میں پروبلم ہے اس وجہ سے
31:29نازو سے بعد میں ملنا ہم آپ کو کول کر دیں گے
31:32تو ملنا تو روحان ہران ہو جاتا ہے
31:35کونسی ایسی پروبلم پھر وہ کہتا ہے
31:37کہتا ہے کہ چلو کوئی بچ نہیں
31:39ہر گھر کے اپنے مسئلے مسائل ہوتے ہیں
31:40کیونکہ ابریش کہہ رہی تھی
31:42کہ پتہ نہیں ان کے گھر کے نظام کیسا ہے
31:44کہ وہ اس طرح کوئی مہمان ہوں کے گھر گیا
31:46اور انہوں نے اسے ملنے سے بغیر یہ بہت دیا ہے
31:49تو وہ کہتا ہے کہ ہر گھر کے اپنے مسئلے مسائل ہوتے ہیں
31:51کوئی بچ نہیں
31:52کبھی کبھی انسان کو سبر کر لینا چاہیے
31:54اس کے بعد جو ہے
31:55سندس جو ہے کچن میں ہوتی ہے تو
31:58تبریہ داتا ہے اور اس کے بعد کہتا ہے کہ جن کو
32:00ہم ڈونڈ رہے ہیں ادھر ادھر دونڈ رہے ہیں وہ ادھر
32:02ادھر ہیں تو سندس آگے سے
32:04کہتی ہے کہ آپ
32:06پہلے نا اپنی اردو ٹھیک کر لو تو وہ کہتا ہے
32:08کہ آپ کا جو مرضی کو آپ کا
32:10مگہ اتر تو میں ہی ہوں آپ نے زندگی تو میرے ساتھ
32:12ہی گزانی آخر کا لاش پہ آنا
32:14تو میرے پاس ہی ہے پھر اس کے بعد
32:16جو ہے نازو نازو جو ہے
32:18وہ مریم
32:20کے فادر کے پاس جاتی ہے اور اس کو کہتی ہے
32:22کہ تم اب اپنی بیٹی کو
32:24چھوڑ کر کیوں جا رہے ہیں کیونکہ آپ کو پتا ہے
32:26مریم نے کہہ دیا کہ ابو یہ میرا گھر ہے
32:28میں اسی گھر میں رہوں گی نازو جو ہے
32:30وہ مریم کا جینا حرام کرنا چاہتی ہے
32:31اس کے ابو کو کہتی ہے اب دو دن کی جو
32:34آپ کی بیٹی بھوکی ہے اس کو آپ
32:36ابھی ادھر چھوڑ کے جا رہے ہیں اتنی آپ میں
32:38گہرت ہے اتنی آپ میں ایگو ہے
32:40کہ آپ ابھی ادھر چھوڑ کے جا رہے ہیں
32:42تو یہی باتیں وہ سوچتے ہیں جب گھر چلا جاتا ہے
32:44تو فوٹپات پہ جا رہا ہوتا ہے اور نازو
32:45یہی ساری باتیں سوچ رہا ہوتا ہے تو
32:47پریشان ہو کر فوٹپات پہ گر جاتا ہے
32:49اور جب اس کو وہاں پہ جو
32:51لوگ ہوتے ہیں وہ اس کو اٹھاتے ہیں گھر
32:53اس کے نمبر سے کول کرتے ہیں پرویز
32:55کو اور پرویز کو بتاتے ہیں وہ کہتے ہیں
32:57ہم آپ آجو ہسپیٹل ہم اس کو ہسپیٹل لے کے جا رہے ہیں وہ ہسپیٹل لے کے جاتے ہیں وہاں جا کر ڈوکٹر بتاتے ہیں کہ اس کو تو میجر ہارٹ اٹیک ہو گیا اس کی وجہ سے اس کی آرٹریز جو ہیں وہ بلوک ہو گئے گا اور اس کا ہمیں سرجری کرنی پڑے گی اور تبریز پھر جب ہسپیٹل پہنچتا تو وہ وہاں پہ سوری پرویز جب ہسپیٹل پہنچتا تو وہاں پہ پوچھتا ہے کہ میرے اببو ٹھیک تو ہے نا ڈوکٹر صاحبہ تو وہ کہتا ہے کہ تمہارے اب
33:27اللہ تعالیٰ تمہارے اببو کو سینط درستی عطا فرمائے اس کے بعد جو ہے نازو جو ہے وہ لون میں بیٹھ جاتے ہیں اور وہاں پہ باتیں کر رہی ہوتی ہیں اور سوچ رہی ہوتی ہے کہ روحان سے بھی تین دن ہو گیا بات نہیں ہوئی تو ابھی میں روحان کو کول کر لیتی ہوں جب وہ فون اٹھاتی ہے ٹیبل سے تو ادھر سے بڑے بھئیہ آ جاتے ہیں یعنی کہ عمر عمر اس سے باتیں گئے ہیں کہتے ہیں نازو تم میری بہت اچھی بہین ہو تو وہ آگے سے کہتی ہے کہ عمر بھئیہ بہت پریشان ل
33:57ہے پھر وہ بات کو فوراں کور کرنے کے لیے کہہ دیتی ہے کہ بھائی میں اس وجہ سے سوری کرتی ہوں کہ بھابی مریم نے جو بھی میرے ساتھ کیا اس وجہ سے میں سوری کرتی ہوں اس کے بعد پرویز کے اببو کو جو لوگ لے گئے ہوتے ہیں ہسپیٹل وہ پھر پرویز سے پوچھتے ہیں کہ کیا ہم اب گھر چلے جائیں ہم اپنا کام چھوڑ کر آئے ہیں آپ اگر ہم اجازت دے تو ہم چلے جاتے ہیں تو پرویز انہیں کہتا ہے کہ آپ چلے جاؤ پھر وہ پریشانی کی حالت میں ادھر اد
34:27کو کول آتی ہے تو وہ کول ٹینٹ کرتی ہے تو پرویز بتاتا ہے کہ بابا کو میجر ہارٹ اٹیک ہو گا وہ ہسپیٹل ایڈمیٹ ہے وہ تب ہی جو نازو ہے وہ دوسرے روم میں اپنے بابا اور ماما کے ساتھ بیٹھ کر رسم لائی کھا رہی ہوتی ہے اور اپنے بابوں کو کہتے ہیں کہ بابا آپ کو کیسے پتا چل جاتا ہے جب بھی کوئی چیز میرے کھانے کو دل کرتا ہے میں تو آپ کو کہتی ہوں تو اس کا بابا کہتا ہے کہ بیٹے مجھے بچپن سے اس چیز کی عادت ہے کہ تمہیں جب بھی کوئ
34:57ہوتا ہے اور اسحاق پوچھتا ہے کہ کیا ہوا مریم تو مریم آگے سے بتاتی ہے کہ میرے بابا کو جو ہے ہارٹ اٹیک ہوا ہے وہ سارے حران رہ جاتے ہیں اسحاق مریم کی بات سن کر کہتا ہے چلو مریم چلیں تو نازو جو ہے اپنی امی کو کہتی ہے کہ دیکھا بابا کو اس نے دو آنسبہ ہے تو کس طرح موم ہو گئے ہیں اور اس کے ساتھ جانے کے لئے تیار ہو گئے ہیں تو اسحاق اس کو کہتا ہے سباحت کو کہ تم گھر کا کیا لکھنا میں آتا ہوں پھر جب وہ وہاں پہنچتے ہیں تو وہاں ج
35:27یہ ٹائم نہیں ہے یہ بات کرنے کا معاملہ زیادہ بگڑ جائے گا دوسری سائل پر جو جمیل اور شازی ہوتے ہیں وہ بہت پریشان ہوتے ہیں شازی ہے بہت پریشان ہوتے ہیں کہ اس کی بہن اور اس کا بیٹا یہ کام کیسے کر سکتے ہیں ایسا ہو نہیں سکتا وہ تو اتنے میرے وہ جمیل کے ساتھ بہت بتمیزی کرتی ہے اور بحث کرتی ہے کہ وہ ایسا نہیں کر سکتے وہ تو بہت زیادہ میرے تو جمیل کہتا ہے کہ بس تم چھپ رہو ہمارے گھر کی کوئی ہاؤس ہیلپر بھی کام یہ
35:57ساری وہ باتیں کر رہے ہوتے ہیں
35:59تو پھر وہاں پہ تبریز آ جاتا ہے
36:01وہ تبریز گفت لے کر آتا ہے
36:03سندس کے لئے اور اپنی آنٹی کے لئے
36:04شازیہ بہت حران ہوتی کہتی ہے یہ کس چیز
36:07کے لئے گفت تو تبریز کہتا ہے
36:09کہ مجھے پسند آئے تھے کہ سندس کو بہت پسند
36:11آئیں گے اور آپ کے لئے بھی ملے کے آگیا
36:13وہ کہتا ہے ان میں سے کچھ گفت
36:15جو ہیں وہ میں سندس کو دکھانے کے لئے لے جاؤ
36:17شازیہ کہتی ہے ہاں ہاں لے جاؤ تو
36:18پھر وہ سندس کو دکھانے کے لئے لے کر جاتا ہے
36:21پھر وہ اگلے دن پارٹی میں جاتا ہے وہاں پہ
36:23ان کی آپس میں بیعث ہو جاتی ہے
36:25اور ارسل بھی وہاں پہ ہوتا ہے جو سندس
36:27کو پسند کرتا ہوتا ہے اور ارسل
36:29جو ہے وہ یہ سوچتا ہے کہ یہ
36:31کتنا گھٹیا آدمی ہے
36:33تبریز کیونکہ تبریز کے
36:35جو سوشل اکاؤنٹس کی اکسیس ہے وہ
36:36ارسل کے پاس آگئی ہوتی ہے اور ارسل
36:39جو ہے کہتا ہے کہ یہ تو بلکل بھی سندس کے لائک
Be the first to comment
Add your comment

Recommended