00:00There is a sign that is
00:01وَسَارِعُوا إِلَا مَغْفِرَةً مِّن رَبِّكُمْ
00:04Ey muslimans
00:06دوڑ لگا دو
00:09اور آگے سے آگے نکلنے کی کوشش کرو
00:12مسارعت کے معنی ہوں گے
00:16تیز دوڑنے میں
00:18ایک دستے کے ساتھ
00:19مقابلہ کرتے ہوئے آگے نکلنے کی کوشش
00:22سَارِعُوا إِلَا مَغْفِرَةً مِّن رَبِّكُمْ
00:27اپنے رب کی مغفرت کی طرف دوڑو
00:30اور دوڑ میں مقابلہ کرو
00:32ایک دستے سے آگے نکلنے کی کوشش کرو
00:34وَجَنَّتِن
00:36اور اس جنت کی طرف دوڑ لگاؤ
00:39اَرْضُحَ السَّمَاوَاتُ وَالْلَرْضِ
00:43جس کا پھیلاؤ آسمان ورزمین جتنا ہے
00:46وَعِدَّقِ الْمُتَّقِيب
00:49وہ تیار کی گئی ہے
00:52سجائی گئی ہے
00:54اسے پورے احتوام کے ساتھ
00:57تیار کیا گیا ہے
00:59اہلِ تقویٰ کے لیے
01:01ان اہلِ تقویٰ کی کچھ اوصاف کیا ہیں
01:04اللَّذِينَ يُنفِقُونَ فِي السَّرَّائِ وَالْضَّرَّا
01:10وہ لوگ کے جو خرچ کرتے ہیں
01:14مراد ہے اللہ کی راہ میں
01:15اور اللہ کی راہ میں خرچ کرنے کی دو مدیں ہیں
01:19اللہ کی رضا کے لیے اس کے مندوں میں سے جو محتاج ہوں
01:25جن کو کوئی ضرورت لاحق ہوں
01:28ان کی مند کرنے کیتی ہوں
01:32بیوائیں ہوں
01:33بسکید ہوں
01:35کوئی قرض کلے دب گئے ہوں
01:38وہ سب کے سب اس میں آ جائے
01:41لہٰذا دوسری مد کیا ہے
01:45وہ ہے اللہ کے دینوں کے لیے خرچ کرنا
01:49دین کی تعلیم و تعلیم کا کوئی نظام بنانا
01:55پھر یہ کہ دین کو دوسروں تک پہنچانا
01:59اس کے لیے سارے ذرائع جو بھی کسی زمانے میں
02:04عبلاغ کے موجودوں ان سب کو استعمال کرنے
02:07اس کے لیے خرچ ترکار ہے
02:10بارک
02:12میں اس ارز کر رہا تھا کہ یہ دو مندے ہیں
02:16خرچ کرنے کی
02:17اللہزین یرفقون فی السرائع و دورائع
02:21مسرد کی حالت میں
02:24آدمی کے پاس کافی ہے
02:27غنی ہے
02:28تب خرچ کر رہا ہے
02:29تو ضائع باتیں
02:30اس حالت میں طبیعت پر اتنا بوجھ نہیں ہوتا
02:33خرچ کرنے میں
02:34لیکن خود تنگی محسوس کر رہا
02:36اور پھر خرچ کریں
02:37یہ ظاہر گویا کہ اس سے اگلا ایک قدم ہے
02:40درہا ہے
02:41تکلیف کے اندر بھی ہو تو خرچ کریں
02:43اور وہ لوگ جو اپنے غصے کو پی جانے والے ہیں
02:52اور غصہ ظاہر باتیں آتا ہے
02:58کسی شخص کی کسی غلطی پر کسی خطا پر
03:01یا وہ آپ اس نے آپ کے ساتھ کوئی زیادتی کی ہے
03:05ابھی تو غصہ آئے گا
03:06لہذا غصے کو تو پی جاؤ
03:09اور لوگوں کو معاف کر
03:11یہ دو کام کے حقیقت
03:15ایسی کام کے دو رخ ہیں
03:17کہ غصہ آیا ہے تو اسے پی جاؤ
03:19اور جس شکل میں تم پر زیادتی کی ہے
03:23تمہارے خیال میں زیادتی کی ہے
03:24ہو سکتا ہے وہ اپنی جگہ پر صحیح ہوگی
03:26لیکن یہ کہ بہرحال تمہیں غصہ آیا ہے
03:29اس غصے کو پی جاؤ
03:31اور اسے معاف کر
03:32اور ظاہر بات ہے کہ
03:36اللہ تعالیٰ کو تو ایسے محسنین ہی پسند ہیں
03:39اب یہاں بھی نوٹ کر لیجئے
03:41وہی درجہ احسان
03:42جو ہم پڑھ چکے ہیں بڑی تفصیل سے
03:45حدیث جبرائیل کے حوالے سے
03:47گفتگو شروع ہوئی تھی
03:48بعد میں پھر بھی مختلف مواقع پر
03:50گفتگو آتی رہی ہے
03:51اور علی حدیث میں پھر آنی ہے
03:53احسان کی سے کہتے ہیں
03:56اللہ تعالیٰ کو ایسے محسن
03:58جو اپنے اس دین کو خوبصورت بنا لے
04:02دین ان کا جو ہے
04:04اور دینی زندگی ان کی جو ہے
04:06وہ دل کو لبانے والی ہو
04:08وہ لوگوں کو پسند آنے والی ہو
04:10بلکہ یہ کہ
04:12اس کے اندر جو ہے وہ حسن جو ہے
04:13دل آویزی پیدا ہو جائے
04:15تو اس آیت کے حوالے سے
04:17میں آج پھر حدیث آپ کو سنا رہا ہوں
04:19اس کے راوی حضرت ابو حریرہ رضی اللہ تعالیٰ
04:24انہوں نے ذکر کیا ہے
04:26اور اس کی روایت کی ہے
04:27امام مخاری نے کیا ہے رحمہ اللہ
04:29ایک شخص نے
04:37حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا
04:40عوثی نے
04:43حضور مجھے پیچھ وسیعت سرمائی ہے
04:46اور ایک ہے ایک مرتبہ آپ نے
05:07ایک بات کیا دیئی ہے
05:09عوثی نے
05:09مجھے وسیعت فرمائی ہے
05:11مجھے نصیحت فرمائی ہے
05:12آپ نے ایک ہی بات فرمائی
05:17غصہ نہ کیا تھا
05:21مغلوم الغضب نہ ہو جائے
05:24گصہ آئے
05:27اور تم پر چھا جائے
05:29تمہارے اوپر اپنا غلبہ تھا
05:31فرددہ مرارا
05:34اس شخص کے دل میں شاید تو اور بات تھی
05:37اس نے پھر پوچھا
05:39آپ سے نے حضور مجھے وسیعت میں
05:42آپ نے پھر فرمایا
05:44لاتا ہوگا
05:45پھر پوچھا
05:47وہ تقرار کرتا رہا
05:49اور حضور نے بھی ہر مرتبہ وہی بات دیتا
05:50اب اس سے اندازہ ہو جاتا ہے
05:54کہ یہ بات کتنی اہم ہے
05:56تم
05:57پہلی بات تو میں آپ کو یہ بتا دوں
06:01کہ غصہ آ جانا
06:03کوئی غیر سکری بات نہیں
06:05غصہ اللہ تعالی نے انسان میں رکھا ہوا ہے
06:09البتہ غصہ کے اعتبار سے
06:13حضرت حسن
06:14غالباً حسن بسری
06:17رحم اللہ
06:17ان کا ایک قول بڑا حقیبانہ ہے
06:20بہت حقیبانہ
06:21وہ فرماتے ہیں کہ
06:24ایک انسان تو وہ ہوتا ہے
06:25جو پورا انسان ہوتا ہے
06:27مکمل انسان
06:28ایک ہوتا ہے نصف و رجل
06:31آدھا انسان
06:32وہ انسانیت کے میار پر پورا پورا نہیں اترتا
06:36ہاں نصف و رکھا جاتا
06:38اور ایک انسان ہوتا ہے
06:41نہیں سب میرا جلیل
06:41وہ انسان ہوتا ہے
06:43وہ حیوان ہوتا ہے
06:44پورا انسان وہ ہے
06:48جسے غصہ دیر میں آئے
06:50اور جلدی رفع ہو جائے
06:56اور آدھا انسان وہ ہے
06:57جسے غصہ جلدی آئے
06:59لیکن جلدی رفع بھی ہو جائے
07:01جب دیر میں آئے
07:04تو دیر میں رفع ہو
07:06یہ دونوں برابر ہو جائے
07:07جلدی غصہ آیا
07:09جلدی ہی ختم بھی ہو گئے
07:11دیر میں آیا
07:12دیر لگا دی جانے بھی
07:13اور جو شصرے سے انسانیت کا
07:17مستحق ہی نہیں
07:18کہ اسے انسان مانا جائے
07:20وہ غصہ جلدی آ جائے
07:22اور دیر میں جائے
07:23وہ حصل میں پھر انسان نہیں
07:25وہ اخلاقی اعتبار سے
07:26پورا انسان کہلانے کا مستحق نہیں
07:29تو غصہ کے اعتبار سے
07:32یہ تین درجے جو ہیں
07:33وہ سامنے رہتے ہیں
07:34پھر مزاجوں کی بات بھی ہوتی ہے
07:37اللہ تعالیٰ نے مختلف مزاج بنائے ہیں
07:41بعض
07:43قبائے کے اندر جمال کا انسان سے
07:45جمالی شخصیت خوبصورت شخصیت
07:48تمام
07:50بعض جلالی مزاج کے لوگ ہوتے ہیں
07:53یہ ہمارے مدرگوں میں بھی ہوتا ہے
07:54دیندار لوگوں میں بھی ہوتا ہے
07:58یہاں تک کے نبیوں میں بھی ہے
07:59حضرت موسیٰ علیہ السلام
08:02جلالی تمیت کی آدمی ہے
08:04آپ کو معلومت کے واقعات
08:08تو ہمارے سامنے ہیں
08:09جو قرآن میں وجود
08:10ایک نمتی کا اور ایک اسرائیلی کا جھگڑا ہو رہا تھا
08:14اس اسرائیلی نے مدد مانگی
08:16تو حضرت موسیٰ نے ایک مکہ لگایا ہے
08:20اس قبطی کو اور اس کی جان نکال دی
08:21تو ان کی غزب کا
08:25ان کی جلالی تمیت کا یہ آدم
08:26اور اس کا سب تمرہ نفس ہے
08:30جو قرآن مجید میں آتا ہے
08:31کہ جب اللہ تعالیٰ نے
08:34جب ہجرت ہو گئی
08:36اور مصر سے حضرت موسیٰ علیہ السلام
08:38اپنی قوم کو لے کر
08:39بنیسائی کو لے کر نکل آئے
08:41دریا یا سمندر بھی اللہ نے پاڑ کرا دیا
08:45سمندر کو یا دریا کو پاڑ کر
08:47اس کے بعد
08:48وہ مرحلہ آیا کہ انہیں اب شریعت دی جائے
08:52اس لیے کہ اصل میں
08:55ہجرت کے بعد پھر شریعت آتی ہے
08:57ہجرت سے پہلے کا وقت جو ہے
09:00وہ تو ایک کشاکش کے اندر گزرتا ہے
09:02جیسے کہ بارہ برس
09:04حضور کے مکہ میں ہیں
09:05ایک کشاکش ہے جسے آپ آپ طور پر
09:08کشبکش کہہ دیتے ہیں
09:09ایک سٹرگل ہے
09:11اس میں مصیبتیں ہیں
09:13تکلیفیں ہیں
09:14ماریں کھائی جا رہے ہیں
09:15وغیرہ وغیرہ
09:15تو ابھی کسی تفصیلی شریعت کی لیے
09:19جانے کا موقع نہیں تھا
09:20نماز بھی جا کر پنج وقتہ جو ہے
09:23وہ سن گیارہ نبوی میں فرض ہوئی ہے
09:25یعنی آپ سمجھ یہ
09:27کہ ہجرت سے ایک ڈیر سال پہلے
09:29اس کے علاوہ زکاة کا کوئی نظام ابھی واقعی نہ
09:33کہ یہ
09:33اتنے میں سے اتنا کوئی نہیں
09:35ہاں عام طور پر لفظ زکاة استعمال ہوا ہے
09:39اپنے مال کو پاک کرو
09:40پاک کرتے رہا کرو
09:41مال میں سے صدقہ خیرات لگالتے رہا کرو
09:44اس سے وہ مال پاک کرتا ہے
09:46تو اسی طریقے سے
09:49جو ہجرت آئی حضور پر
09:51جو ہجرت کے مال شریعت ناظرین
09:53کوئی مدینہ منورہ میں
09:54اور دورہ ترجمہ قرآن میں
09:57یہ بات واضح میں کر دیا کرتا ہوں
09:59کہ اس شریعت کا بلوپرنٹ جو ہے
10:02یہ لذہ آپ میں سے بہت سے حضرات جانتے ہوگی
10:05کوئی عمارت بنانی ہو
10:06تو اس کا جو نقشہ بنتا ہے
10:07پہلا وہ ایک نیلے کاغذ بر بنتا ہے
10:10بلوپرنٹ
10:11تو بلوپرنٹ جو ہے
10:14اس شریعت محمدی علی صاحبی
10:15صلی اللہ علیہ وسلم کا
10:16وہ سورہ مقرآ متیار
10:18پھر اس میں جو
10:20تفاصیل کے
10:22اور پورے جو خد و خال آئے ہیں
10:24وہ پھر سورہ نساء
10:26اور سورہ مائدہ
10:27اس کی تکمیل کی شروع
10:28بہرحال جب حضرت موسیٰ کو
10:31ہم اللہ تعالیٰ نے طلب کیا
10:32چالیس دن کے لیے
10:34کوہی طور پر
10:35اس کو ہم چنلہ بھی کہہ سکتے ہیں
10:38چالیس روز کی
10:39اللہ تعالیٰ نے
10:40ان سے ریاضت کروائی
10:41مشقت روزہ
10:42اور یہ کہ عبادت
10:44اور ذکر الہی
10:45اس کے بعد
10:48انہیں اللہ نے
10:48تورا دعا فرمائی
10:49اس میں آپ کو
10:52یاد آ جانا چاہیے
10:53حضور سے بھی
10:54قرآن مجید کے
10:56نزول سے قبل
10:57اسی طرح کا معاملہ
10:58غار حیرہ میں
10:59آپ کی جو
11:00خلوت گزینی ہوتی تھی
11:01اور وہاں پر جو بھی آپ
11:03اب کیا عبادت کرتے تھے
11:05یہ ہمیں معلوم نہیں
11:06لیکن یہ ہے کہ
11:07عام طور پر
11:08جو محدثین نے کہا ہے
11:10کانا صفت اتامو دہی
11:12فی غار حیرہ
11:13اتفکر و بل اعتبار
11:15غور و فکر کرتے تھے
11:16یہ کائنات کیا ہے
11:18کیا اس کا نظام ہے
11:19یہ معاشرہ ہمارا
11:20کدھر جا رہا ہے
11:21یہ خرابیاں کیوں
11:22بڑھ رہی ہیں
11:23یہ کیوں انسان
11:24انسان کا خون کرتا ہے
11:25یہ کیا بات ہے
11:26یہ چاہمہ یہ ہے
11:27کہ کچھ لوگ
11:28بھوکے مر رہے ہیں
11:29اور کچھ لوگ
11:29جو ہے ان کے پاس
11:30بہت دولت جمع ہو گئی
11:31یہ غور و فکر جو ہے
11:33تو یہ آپ کا رہا ہے
11:35مہرحال
11:36لیکن یہ کہ تخلیہ
11:37اور غار میں
11:39آپ کا قیام
11:40یہ اپنی جگہ پر سامنے
Comments