00:00ڈراما سیریل کار زارے دعا میں رازی کا مالک اسے نوکڑی سے نکال دیتا جب دل مان جائے کہ میری معذور بیٹی سے شادی کے لیے تو آ جانا رازی بتا ہی دیتا میں شادی شدہ ہوں یوں رازی سرک پر جا رہا اپنے سونے کا بندوبست کرنے کے لیے جگہ نہیں مل رہی نمل اپنے نانا جان کے ساتھ تھی گاری کھڑاب رات کا ٹائم کوئی میکینک نہیں ملتا اس لیے نمل رازی کو آواز دیتی ہیلپ ہی کر دو
00:26رازی ابھی آ ہی رہا تھا کہ بہت تیز چلتی ہوئی بائیک جو کہ چور تھے اور نمل کا پرس پکڑ لیتے نمل چھوڑ نہیں رہی تھی نانا جان کہتے رہے پرس کو چھوڑ دو لیکن رازی آ کر سب سے پہلے نمل کو گاری میں بیٹھا دیتا اور اپنی جان دو پر لگا دیتا چوروں کے ہاتھ میں ہی پسٹول تھی لیکن رازی کو کوئی ڈرڈ نہیں جو گولی نمل کو لگنی تھی وہ رازی کو لگ جاتی
00:51چوروں نے رازی سے بہت مار کھائی لیکن رازی کو گولی لگنے کے بعد نمل رازی کو پکڑتی ہسپتال لے جاتی کافی خون بھی بہ چکا تھا یہاں گڑ میں تنوں گبڑا جاتی اور رازی کے لیے دعا کرتی پھر اپنے ماں باپ کو بتا ہی دیتی رازی کام چھوڑ نہیں تھا وہ چھپ کر کام کر کے پیسے کماتا تھا سارے پیسے تنوں نکال کر اببا کو دے دیتی رازی یہاں بہت ہی سیریس کنڈیشن میں نانا جان کو بہت ٹینشن لگ جاتی
01:21رہا تھا میں نے اسے بلا لیا مدد کے لیے یوں نانا جان رازی کا بہت اچھا علاج کرواتے جب تک رازی ٹھیک نہیں ہو جاتا اس کے پاس رہیں گے یہاں سہیل کو تنوں کی دوست صاف کہہ دیتی میں سب کو چیک چیک کر بتاؤں گی رازی اچھا لڑکا تھا تم نے پھسایا اسے ایسا ہی ہوتا چچا کو سہیل کی گنونی حرکتوں کا پتہ چلتا تو رازی کی واپسی کا انتظار کرتے رازی کو اب بہت اچھا لائف سٹائل ملنے والا
01:49نانا جان رازی کو اپنا مینجر بنا لیتے رازی انہیں تنوں کا بتا نہ سکا رازی نے ابھی نمل کی جان ایک اور بار بچانی ہے یوں نمل اسے ہیرو مان لے گی اور کچھ کچھ سوچ لے گی
Comments