Skip to playerSkip to main content
In this shocking video, we uncover the story of a fake judge who was arrested in Sargodha while posing as an Additional Judge. This individual deceived the public and committed fraud under the guise of judicial authority. Join us as we delve into the details of this case, including how the fraud was uncovered, the methods used by the imposter, and the implications for the local community. Stay informed about the latest developments in this intriguing case and learn how to protect yourself from similar scams. Don't forget to like, share, and subscribe for more updates on legal matters and public safety.
Anchor: Awais Khurram

#FakeJudge #JusticeSystem #FraudAwareness #JudicialFraud #Sargodha

Follow Us on Facebook: https://www.facebook.com/urdupoint.network/
Follow Us on Twitter: https://twitter.com/DailyUrduPoint
Follow Us on Instagram: https://www.instagram.com/urdupoint_com/
Visit Us on Web: https://www.urdupoint.com/

Category

🗞
News
Transcript
00:00بورے والا میں خود کو اڈیشنل سیشن جج ظاہر کرنے والا جالی جج پولیس کے ہتھے چڑ گیا
00:30پولیس نہیں میں کہہ سکتا محلے دار مسجد میں جانے والے ہمسائے ایون کے ساتھ والے گھروں کو بھی اس کا نہیں پتا تھا یہ جج نہیں ہے
00:39اس میں میں اکیلی پولیس کے علاوہ پورے معاشرے میں کہ ہمیں ایک دوسرے کے گھروں کا ہی نہیں پتا یہ تو جج تھا چلے جال سازی سے لوگوں کو لوٹ رہا تھا
00:49خدا نہ خواستہ کوئی دہشتگرد ہو کوئی تخریب کار ہو ملک دشمن اناثر میں سے کوئی بندہ ہو اور وہ اس طرح رہ رہا ہے اس کا ساتھ والے گھروں کو نہیں پتا
00:59تو یہ بڑی پریشانی والی بات ہے پتہ ایسے نہیں چل سکا کہ وہ اپنی پوسٹنگ باہر بتاتا تھا ایک آت دن کے لیے اگر آتا تھا تو پھر غائب ہو جاتا تھا
01:08اور ہفتے میں دو دن ویکنڈ پہ آتا تھا لوگوں کو یہ ہوتا تھا کہ یہ جاج ہے واقعی اور اس نے باہر اپنا ایڈیشن سیشن جاج کی نیم پلیٹ لگائی ہوئی تھی
01:18گلی میں ایک مینر لگایا ہوا تھا اس وجہ سے وہ نہیں پکڑا گیا لیکن جب موت آتی ہے وہ سو دن کہتے ہیں کہ چور کا ایک دن ساتھ کا ہوتا ہے
01:28تو اللہ تعالیٰ نے اس میں ہمیں کامیابی دی ہے اور وہ پکڑا گیا ہے
01:31آپ کو کیسے شک ہوا اس کی کون سی ایسی حرکت تھی جس سے آپ کو پتا چلا یہ تو جالی بندہ ہے
01:39جی بلکل اسی طرح آفیس میں بیٹھے تھے تو وہ مجھے چٹ آئی ہے جی ایڈیشن سیشن جاج صاحب ہے
01:45میں بڑھ کے کھڑا ہوگے ان کو ملا ہوں اور ان کو بٹھایا ہے ان کو پانی بلایا ہے اور اس کے بعد چاہے آفر کی ہے
01:52انہوں نے سب سے پہلے جو شک اس بات پہ ہوئی کہ پہلا کام ہی جو مجھے بتایا کہ میرا جی ایک کروڑ پہہ کا یہ میرے ساتھ بندہ ہے اس کا چیک ڈس آنور کا پرچہ دے دیں
02:03تو میں نے کہا جی میں پہلے پارٹی کو بلاؤں گا سن کے میں دے دوں گا انہوں نے اس بات پہ مجھے تھریٹ کرنا شروع کر دیا جی کہ میں پھر آپ کو فلان سے فون کراؤں گا فلان سے کراؤں گا
02:14اس سے دو دن پہلے اس کی مجھے کال بھی آئی تھی کال پہ یہی کہہ رہا تھا جی کہ میرے پاس افسران آتے ہیں آپ میرے گھا رہے ہیں کھانا کھانے کے لیے میرے گھا رہے ہیں
02:23اور کبھی بھی پوری سروس میں ہم نے دیکھا کہ ججی سبان تو عام اپنے بہت خاص لوگوں تو ان کے اپنے ذاتی فنکشنز میں جاتے ہیں
02:31اس طرح اپنے گھروں میں ان کو ایس ایچوز کو ڈی ایس پی کو بلانے کا ہوتا ہی نہیں ہے ان کو اجازت ہی نہیں ہے
02:36تو مجھے وہ کھٹک پہلے سے رہا تھا کہ یہ بندہ جو گھروں میں بلا رہا ہے ایس ایچوز کو بلا رہا ہے ریونیو کے افسران کو دعوتیں دے رہا ہے
02:44اور جو اس طرح کے پروپوگنڈے کر رہا ہے اس پہ مجھے شک پہلے ہی تھا لیکن جب وہ آگے میری اس سے بات چیت شروع ہوئی تو میرا شک یقین میں بدل گیا
02:52کریمنل ریکارڈ کیا ہے اس کا
02:56جب اس پہ اسی طرح شک ہوا میں نے اس کا بیج پوچھا کہ آپ کون سے بیج کی ہیں
03:02تو اس کو مجھے اس نے یہی بتایا کہ میں پنڈی میں پہلے رہا ہوں ایڈیشن سیشن جج
03:07جب میں نے اسے پوچھا کہ آپ کون سے یہ میں جوڈیشل اکیڈمی گیا ہیں تو وہ کوئی صحیح جواب نہیں دے سکا
03:12اس کے بعد اس کو سمجھ آگی کہ میں پھنسنے لگاؤں
03:15پھر یہ نکلنے لگا ہے اور آگے جب ہمارے عملے نے روکا ہے تو پھر انہوں نے اس کو دمکیاں دینا شروع کر دی ہیں
03:21دمکیاں دینا شروع کر دی ہیں اور ویپن ان کے پاس تھے
03:25باہر جا کے دیکھا ہے تو ان کی گاڑی بھی کھڑی تھی
03:28اور اس میں جب چیک کیا ہے تو ایٹومیٹک ویپن تھے کوئی لیسنس نہیں تھا
03:33اور اس میں پھر ہم نے ان کا ریکارڈ چیک کیا ہے
03:35ریکارڈ میں یہ چار سو انا نوے ایف کا سرگوڈا کا اشتیاری نکلا ہے
03:41ساری پھر ہم نے انٹیروگیشن کی ہے
03:43یہ بیسیکلی جو ایک بگڑے ہوئے نوجوان ہوتے ہیں جو اپنے گھر والوں سے جھوٹ بولتے ہیں
03:49اس کی سٹوری ایسے ہے کہ یہ سرگوڈا کا ایک گاؤں ہے وہاں کا رائشی تھا
03:53باپ اس کا چھوٹا سا ذمہ دار تھا
03:55دو اس کی بہنیں تھیں شادی شدہ تھا
03:58اس نے اپنے باپ کا رقمہ بکوایا سارا کہ میں نے باہر جانا ہے
04:02اور باہر یہ ایمبیسیز میں جا کے انٹریو بھی دیتا رہا
04:05انٹریو میں یہ ریجیکٹ ہو گیا
04:07اس نے اب اس کے پاس چونکہ پیسہ سارا ضائع کر چکا تھا
04:10جوئے میں دوسرے محرکات میں
04:12ایاشیوں میں
04:14تو اس نے اس پیسے کو بچانے کے لیے
04:16اور اپنے گھر والوں سے شرمندگی مٹانے کے لیے
04:19اس نے ایک دو سمیں ایسی خرید لیں
04:21موبائل سمز
04:23جو کہ باہر کی تھی
04:24اور ان موبائل سمز تھے
04:26اپنے گھر والوں سے یہ رابطہ کر کے کہتا تھا
04:29کہ میں باہر کے ملک میں بیٹھا ہوا
04:31وہیں سے یہ بندہ لہور آ جاتا ہے
04:35لہور جوڈیشل اکیڈمی ہے ہماری جہاں پہ ججی سبان کی ٹریننگ ہوتی ہے
04:40ادھر نزدی کی کسی پرائیویٹ ہاؤسٹل پہ رہتا تھا یہ
04:43وہاں اس کی ان سے کوئی ججی سبان کو دیکھتا تھا
04:46یا کوئی ان کے گراؤنڈ میں جاتا ہوگا
04:48ان کو تھوڑا بہت ان کے رہن سین کا پتہ چل گیا
04:51اب اس کے ذہن میں ایک پلان آیا
04:54وہ بڑا خطرناک ہے
04:55وہ میں آپ کو یہ بتاتا ہوں
04:57یہ پھر لوگوں کو لوٹنے لگ گیا
05:00باہر بھیجنے کا جانسہ دے کے
05:01کوئی بھی سادہ لوگ بندہ دیکھتا تھا
05:04اسے کہتا تھا جی کہ میں آپ کا انٹریویو کروا دیتا ہوں
05:07باہر سے آپ کو کال آئے گی
05:09اور آپ نے اتنے مجھے پیسے دینے
05:11اور اس کے بعد
05:13آپ کو میں انٹریویو کال آئے گی
05:15اور اسی سیم سے جو باہر کے نمبر والی سیم ہوتی تھی
05:18یہ بندہ
05:19خود یا کسی دوست کے ذریعے کال کرواتا تھا
05:22اس بندے کا انٹریویو کرواتا تھا
05:24اس طرح کر کے اس نے مختلف
05:26شہروں سے
05:27چار سے پانچ کروڑ پیہ کا فراڈ بھی کیا ہے
05:30لوگوں کو چونہ لگایا ہے
05:31نہ کوئی دہشتگرد تھا
05:34نہ کوئی تقریبکار تھا
05:35یہ بیسیکلی ایک بگڑا ہوا نوجوان تھا
05:38اور لوگوں سے فراڈ کرتا تھا
05:39مکمل دور پر ایک فراڈ گیا تھا
05:41اور اپنی شناخت بچانے کے لیے
05:44یہ جب بورے والا میں آیا ہے
05:45تو اس نے اپنے آپ کے ایک اجاج بنا لیا ہے
05:47تو اب یہ اپنے کیفر کردار کو پہنچائے جی
05:50سر اس کے پاس
05:54نیلی بکتی
05:55جالی نمبر پلیٹ
05:56اور ناجائز اسلحہ بھی ہے
05:58اس حوالے سے کون سی دفعات اس پر لگائی گئی ہیں
06:01اس پر جس ساری ایک تو جو پولیس والوں کو دھمکیاں دیں ہیں
06:0433 53 ہم نے لگائی ہے
06:06اسرے کی 506 20 لگائی ہے
06:09اور جو جالی چیزیں سی
06:10420, 488, 471 کے جرم میں وہ لگائیں ہیں
06:15پھر اس کا ریمانڈ لیا ہے ہم نے
06:16اور ججے سبان نے ہمارے پر بڑی مربانی کیا
06:20انہوں نے ہمیں اپریشیٹ بھی کیا ہے
06:21انہوں نے اس کا ریمانڈ دیا ہے
06:23ریمانڈ کے دوران ہم نے اس کے تمام جو جالی ڈاکومنٹس تھے
06:26وہ قبضے میں لیئے ہیں
06:27اس کے علاوہ اس کے گھر سے جو اس نے بکس رکھی ہوئی تھی
06:30ایون کے کتابیں رکھی ہوئی تھی
06:33لاؤ کی گاڑی کے اندر
06:35اور کارڈ بنائے ہوئے تھے
06:36اپنے کارڈ چھپائے ہوئے تھے
06:37جو گھروں پر نیم پلیٹ لگائی تھی وہ
06:39اور اس کے گھر سے جو اور ڈاکومنٹس ملے
06:42جو چیزیں ملی وہ ہم نے بدریہ فرد قبضے میں لیئے ہیں
06:45اور اب یہ کل جوڈیشل ہو گیا ہے
06:48اور انشاءاللہ اس کو پوری پوری قانون کے مطابق سزاہت لوائیں گے
06:51موسیقی
Comments

Recommended