00:00بسم اللہ الرحمن الرحیم السلام علیکم ورحمت اللہ برکاتہ
00:06بے شک تمام طریفیں اسی خدا تعالی کی ہیں جس نے انسان کو پیدا کیا
00:12بے شک ہم اسی سے مدد مانگتے ہیں اور اسی کی رحمت کے طلبگار ہیں
00:18حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اللہ تعالی کے بندے اور رسول ہیں
00:25میری جو آج کی ویڈیو ہے یہ ہے حضرت زینب رضی اللہ عنہ کے بارے میں
00:31کہ جب وہ یرزید کے دربار میں حاضر ہوئی تو انہوں نے وہاں کیا خطبہ دیا
00:37اور جب وہ یرزید کی بیوی ام الحند سے ملی تو ام الحند نے ان کے ساتھ کیسا برتاؤ کیا
00:46اور جب وہ وہاں سے ازاد ہو کر کربلا واپس آئی اور پھر مدینہ تشریف لائی
00:53تو نبی پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی قبر مبارک پر جا کر کیا انہوں نے کہا
01:01یہ سب میں آپ کو اپنی آج کی ویڈیو میں ڈٹیل سے بتاؤں گی
01:06آئیے ویڈیو کا آغاز کرتے ہیں اور میرے چینل کو لائک شیئر اور سبکرائب کرنا نہ بھولیں
01:13وہ واقعہ کربلا کے بعد کا ہے
01:16جب اہلِ بیعت کے کافلے کو یرزید کے دربار دمشق اور شام میں لائیا گیا
01:24اس واقعے کی تفصیلات کتب اور تاریخ اور روایت میں مختلف انداز میں بیان ہوئی ہیں
01:32جب اہلِ بیعت کو قید کر کے دمشق لائیا گیا
01:39اور یرزید نے انہیں اپنے دربار میں پیش کیا
01:43تو کچھ دنوں بعد بی بی زینب اور دیگر اسیر خواتین کو یرزید کے محل کے ایک کمرے میں رکھا گیا
01:53یرزید کی بیوی باز روایت میں اس کا نام ہند آیا ہے
01:59جو حضرت ہند بن عبداللہ یا دوسری روایت کے مطابق الگ شخصیت ہے
02:06جب قیدیوں کو دیکھنے آئی تو اس نے ان کی حالت دیکھی
02:11عورتیں بے چادری کی حالت میں تھی
02:15سروں پر چادریں نہ تھی
02:18چیروں پر گرد و غبار پیروں میں زنجیریں بندی ہوئی تھی
02:23یرزید کی بیوی نے جب ان کا یہ حال دیکھا
02:28تو حیران ہو کر پوچھا
02:30یہ کون عورتیں ہیں اور کیوں اتنی بے حرمت حالت میں رکھی گئی ہیں
02:37بی بی زینب نے بلند لہجے میں فرمایا
02:40ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اہلِ بیعت سے ہیں
02:47یہ زرزید کا ظلم ہے جس نے ہمیں بے پردہ کیا
02:52ہمارے مردوں کو شہید کیا
02:55اور ہمیں قید کر کے لائے گیا
02:58یرزید کی بیوی یہ سن کر رو پڑی اور کہا
03:03کیا تُو واقع نبی کریم کی نواسی ہو
03:06بی بی زینب نے فرمایا
03:09ہاں میں زینب بنتِ علی ہوں فاطمہ تُززہرہ کی بیٹی
03:14یہ سن کر یرزید کی بیوی بہت شرمندہ ہوئی
03:19بعض روایت کے مطابق
03:21اس نے فوراں چادریں اور کپڑے مگوائے
03:24اور ان خواتین کو دے دئیے
03:27اس نے یرزید سے بھی شکایت کی اور کہا
03:31تُو نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی
03:36نواسیوں کو قیدی بنا کر بے حرمتی کیوں کی
03:41یرزید کی بیوی کا دل اہلِ بیعت کے لیے نرم پڑ گیا تھا
03:47اور اس نے بی بی زینب سے معافی مانگی
03:50اور ان کے ساتھ عدب سے پیش آئی
03:54بی بی زینب کی یرزید کی بیوی سے ملاقات شام کے دربار کے بعد ہوئی
04:02یرزید کی بیوی اہلِ بیعت کی حالت دیکھ کر متاثر اور شرمندہ ہوئی
04:09اس نے بی بی زینب کو عزت دی پردہ دیا اور یرزید سے بھی احتجاج کیا
04:17حضرت زینب بنت علی نے یرزید کے دربار شام میں جو خطبہ
04:25ارشاد فرمایا وہ اسلامی تاریخ کا سب سے بڑا خطبہ ظاہر ہوا
04:32حضرت زینب یرزید کے دربار میں باوقار انداز میں کھڑی ہوئی
04:39بغیر کسی خوف کے یرزید تخت پار قرور سے بیٹا ہوا تھا
04:45اور دربار میں وزیر شامی عوام اور سپاہی مجود تھے
04:51حضرت زینب نے یرزید کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا
04:56تمام تعریفیں اس اللہ کے لیے ہیں جو تمام جہانوں کا پروردگار ہے
05:02اور درود ہو میرے نانا محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر
05:10اے یرزید اللہ نے ہمیں علم حکمت صبر حلیم اور حق پر استقامت عطا کی ہے
05:19تم سمجھتا ہے کہ آج تم ہم پر فتح یاب ہو گیا یہ تیری خام حیالی ہے
05:27اے یرزید توں آج خوش ہو رہا ہے مسکرا رہا ہے مگر یاد رکھ
05:34توں نے رسول خدا کے نواسے کو شہید کیا ہے
05:38اور ان کے اہلِ بیعت کو قید کیا اور ان کی عورتوں کو بے پردہ کیا
05:46کیا یہ تیرا سلام ہے کیا یہی تیرے دین کی تعلیم ہے
05:52توں نے ہمارے پاکیزہ خون کو بہایا
05:55توں نے کربلا میں ظلم کی تاریخ رکم کی
05:59اے یرزید توں یہ سمجھتا ہے کہ آج دنیا تیرے ہاتھ میں ہے
06:06توں تخت پر بیٹھا ہے اور ہم قید میں ہیں
06:10توں سن لے اللہ کی قسم توں ہم پر غلبہ رکھتا ہے
06:15نہ ہم ظلیل ہیں عزت اللہ کے ہاتھ میں ہے
06:19اور ہم وہی خاندان ہیں جنہیں اللہ نے ہر دور میں عزت دی
06:25توں اپنے مظالم پر خوش نہ ہو
06:29کیونکہ ایک دن آئے گا جب توں اللہ کے حضور پیش کیا جائے گا
06:35اس دن ہم گواہی دیں گے
06:38کہ توں نے ہمارے ساتھ کیا کیا
06:40قیامت کے دن تجھے ہمارے نانا
06:43رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ
06:49کھڑا کیا جائے گا
06:51اس دن تیرا کوئی ساتھی نہ ہوگا
06:54تیرا کوئی لشکڑ نہ ہوگا
06:56تیرے محل بیکار ہوں گے
06:58پھر حضرت زینب نے
07:01اپنے بائی امام حسین کا ذکر کرتے ہوئے
07:05فرمایا
07:06میرے بائی حسین کو توں نے بے دردی سے شہید کیا
07:11وہی حسین جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی آنکھوں کا نور تھے
07:19وہی حسین جو جنت کے نوجوانوں کے سردار تھے
07:24توں نے ہمیں شہید کر کے سمجھا کہ ہم ختم ہوگے
07:28نہیں یرزید ہرگز نہیں
07:30توں ہمارا نام مٹا نہیں سکتا
07:33ہمارا ذکر قیامت تک رہے گا
07:36ہم نے جو کچھ کربلا میں دیا وہ اللہ کی راہ میں دیا
07:42ہم سبر کرنے والے ہیں اور ہمیں اللہ کی رضاہی عزیز ہے
07:48حضرت زینب نے یرزید کے ظلم کو بے نکاب کیا
07:54آپ نے اپنا طرف رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نواسی اور امام علی اور فاطمہ کی بیٹی کے طور پر کیا
08:08آپ نے اللہ کے انصاف قیامت اور آخرت کو یاد دلایا
08:14پورے دربار میں حضرت زینب کے الفاظ سے خاموشی چھا گئی
08:21جتنی کے یرزید بھی شرمندہ ہوا
08:25کئی شام کے لوگ بعد میں پشمان ہوئے کچھ نے تو توبہ بھی کی
08:33حضرت زینب کا خطبہ ظلم کے خلاف سب سے طاقتور آواز تھا
08:41آپ نے بے پردگی قید بھائی کی شہادت بچوں کی مظلومیت کے باوجود خوف کی بجائے ایمان صبر اور فصاحت کا مظاہرہ کیا
08:54یہ خطبہ رہتی دنیا تک ظلم کے خلاف قیامت اور خاتون کی بہادری کی ایک آلہ مثال ہے
09:03پرزید بن ماویہ نے جب حضرت امام حسین علیہ السلام کا مبارک سر اقدس دربار میں مگوایا
09:14تو اس نے اس کے ساتھ انتہائی گستاخانہ اور بے فلوک کیا جو تاریخ کا سب سے دلخراش باب ہے
09:25جب حضرت امام حسین کا سر مبارک دمشق لایا گیا
09:32تو اسے ایک سونے کے تشت یعنی ٹریب میں رکھ کر
09:38یرزید کے سامنے پیش کیا گیا
09:41وہ منظر انتہائی رکت انگیز تھا
09:45مگر یرزید نے کسی غم یا ندامت کا اظہار نہیں کیا
09:51یہ سب سے زیادہ مشہور اور دلخراش واقعہ ہے
09:57یرزید نے اپنے ہاتھ میں بانس یا لکڑی کی چڑی لی
10:02اور امام حسین کے لب و دندان مبارک پر مارنے لگا
10:08اس عمل پر دربار میں مجود ایک بزرگ صحابی حضرت زید بن ارکم
10:15یا بعض کے مطابق انصر بن مالک نے احتجاج کیا
10:20اور کہا اے یرزید توں اس چیرے پر چھری مار رہا ہے
10:26جسے میں نے خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو چومتے ہوئے دیکھا ہے
10:34مگر یرزید خموش رہا اور مزاخ اڑاتا رہا
10:39یرزید نے خوشی کے اظہار میں اشار پڑے
10:44جن کا مفہوم یہ ہے
10:46کاش آج میرے بدر کے مقتول بزرگ زندہ ہوتے
10:52اور دیکھتے کہ میں نے کیسے ان کا بدلہ لے لیا
10:56ان اشار سے اس کا بغض نبوی خاندان اور فتح بدر کی شخصت کا بدلہ لینے کا جذبہ ظاہر ہوتا ہے
11:07یرزید نے یہ سب کچھ بی بی زینب امام سجاد اور دیگر اہل بیعت کے سامنے کیا
11:16بی بی زینب نے یہ منظر برداشت کرنے کے باوجود اپنا وقار نہ کھویا
11:23بلکہ اسی موقع پر آپ نے وہ مشہور خطبہ دیا
11:28جب حضرت زینب بنت علی کو واقع کربلا کے بعد قید کیا گیا
11:36تو کئی دنوں کی قید دربار کوفہ اور پھر دربار یرزید میں خطبہ دینے کے بعد
11:45یرزید نے اہل بیعت کو بظاہر رہا کرنے کا اعلان کیا
11:50لیکن یہ رہائی محض دکھاوے کی تھی
11:53اصل میں امت کے شدید رد و عمل کچھ صحابہ کی مخالفت اور حضرت زینب کے خطبات
12:03نے یرزید کو مجبور کیا
12:05کہ وہ اہل بیعت کو مدینہ واپس بیجنے پر راضی ہو جائے
12:11یہ واپسی خود ایک تاریخی روحانی اور دل سوز واقعہ ہے
12:16جسے اسلامی تاریخ میں غم و خزن کا مکمل منظر نامہ سمجھا جاتا ہے
12:24یرزید نے بظاہر ندامت ظاہر کی اور اہل بیعت کو واپس مدینہ بیجنے کا اعلان کیا
12:32امام زین العابدین نے مطالبہ کیا کہ ہمیں کربلا جانے کی اجازت دی جائے
12:40تاں کہ ہم شہدہ کی قبروں پر ماتم کر سکیں
12:44یرزید نے مجبور ہو کر اجازت دے دی
12:48اہل بیعت کا کافلہ شام سے کوفہ اور پھر کربلا پہنچا
12:54بی پی زینب امام سجاد اور دیگر خواتین نے قبور شہدہ پر گریہ و ماتم کیا
13:02بی پی زینب نے بھائی حسین کی قبر سے لیٹ کر دردناک نوہا اور دعا کی
13:10چند دن بعد کربلا میں قیام کے بعد کافلہ مدینہ کے لیے روانہ ہوا
13:17کافلے میں امام زین العابدین علیل تھے
13:22حضرت زینب غم میں ٹوٹی ہوئی مگر ہونسلے کے پہاڑ
13:27سکینہ رکیہ اگر زندہ تھی تو دیگر شہدہ کی بہنیں بیوہ اور یتین بچے شامل تھے
13:37جب کافلہ مدینہ منورہ کے قریب پہنچا
13:41حضرت زینب نے امام سجاد سے فرمایا
13:46بیٹا سجاد مدینے میں کیسے داخل ہوں
13:49ہم تو گئے تھے پردے میں عزت و شان کے ساتھ
13:54اب ہم یتین بچے زخمی دل اور قید کی نشانیوں کے ساتھ لوٹ رہے ہیں
14:01کافلے نے مدینہ کے باہر قیام کیا
14:05حضرت زینب نے ایک قاصد کو مسجد نبوی بیجا
14:10جا کر مدینہ والوں سے کہہ دو
14:13نبی کی نواسی قید کے بعد واپس آئی ہے
14:17حسین کی بین
14:19عباس کی بین
14:20کربلا کی
14:21اسیر
14:22جب مدینہ والوں کو خبر ملی
14:26تو شہر میں ماتم چھا گیا
14:29خواتین سر کھول کر روتے ہوئے
14:32دروازوں پر آئی
14:33بچے بورے سب رونے لگے
14:35مدینہ کی فضاء میں بس ایک صدا گونج رہی تھی
14:40روایت ہے کہ بی بی زینب نے مدینہ کی مسجد میں
14:46یا بنو حاشم کے گھر میں اہل مدینہ سے خطاب کیا
14:51یہ خطاب درست سے بڑا ہوا تھا
14:54لوگ کو تم نے ہمیں اکیلا چھوڑا
14:58تم نے نبی کے نواسے کی نصرت نہ کی
15:02تمہاری خاموشی سے یرزید کو طاقت ملی
15:05حسین کو شہید کیا گیا اور تم خاموش رہے
15:10ہر گھر سے روتی ہوئی عورتوں کی آوازیں آتی تھی
15:15حضرت علی اکبر قاسم عباس علی اسکر کے گھروں میں بے بسی کا عالم تھا
15:23ہر گلی ہر کوچا گم کربلا سے برا ہوا تھا
15:28حضرت زینب جب یرزید کے دربار سے رہا ہو کر مدینہ آئی
15:34تو کافلہ انتہائی غمزدہ تھا
15:38مدینے میں سناٹا ماتم اور نوحہ چھایا ہوا تھا
15:43بی بی زینب نے لوگوں کو جنجوڑا
15:46بیدار کیا ظلم کے خلاف آواز بلاند کی
15:50اس واپسی نے امت کو یہ سبق دیا
15:54کہ ظلم کے خلاف حق پر ڈٹے رہنا ہی حقیقی کمیابی ہے
16:00چاہے سب کچھ قربان کرنا پڑ جائے
16:03کافلہ اہل بیت جیسے ہی مدینہ منورہ پہنچا
16:08حضرت زینب نے سب سے پہلے روزہ رسول جانے کی ہوائش ظاہر کی
16:15امام سجاد نے اجازت دی اور چند اہل حرم خواتین کے ساتھ
16:21بی بی زینب روزہ رسول پر گئی
16:24بی بی زینب نے روزہ رسول سے لپٹ کر
16:29بلند آواز میں گریہ زاری شروع کی اور فرمایا
16:34اے نانا محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
16:41آپ پر درود و سلام ہو
16:44امت نے تیرے نواسے کو شہید کر دیا
16:48یا رسول اللہ حسین کو بے یاروں مددگار
16:53میدان کربلا میں زبا کر دیا
16:56ہم تیرے گھرانے کو قید کر کے شام لے جایا گیا
17:01ہم پر ظلم ہوا بے پردہ کیا گیا
17:05بی بی زینب بے اختیار رو پڑی
17:10کبھی روزے سے لپٹتی کبھی مٹی پر گرتی
17:14مدینہ کی خواتین بنو حاشم کی عورتیں اور صحابہ کی ازواج جمع ہو گئی
17:22ہر طرف آہو پکار چیخو پکار کی کیفیت تھی
17:26حضرت زینب نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے روزے پر بیٹھ کر
17:34اپنے بھائی حسین کی شہادت کا حال بیان کیا
17:38نانا جان بھائی حسین کا لاشہ تین دن تک میدان کربلا میں بغیر کفن کے پڑا رہا
17:47نانا جان آپ کی بیٹھیوں کو بے پردہ قید کیا گیا
17:52نانا جان آپ کے گھر کو اجار دیا گیا
17:56میدان کی گلیوں میں ہم پر ظلم و ستم کیے گئے
18:02لوگ روتے ہوئے محجد نبوی اور روزہ رسول کے آس پاس جمع ہو گئے
18:09بعض روایت کے مطابق بی بی زینب روزہ رسول پر بے ہوش ہو گئی
18:16جب حضرت زینب روزہ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر پہنچی
18:23آپ نے روزے سے لپٹ کر فریاد کی
18:27کربلا کا مکمل حال نانا رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حضور پیش کیا
18:35آپ کی گریہ زاری سے مدینے میں ماتم چھا گیا
18:40یہ منظر صبر درد قربانی اور ایمان کا بے مثال
18:45نمونہ ہے
Comments