Skip to playerSkip to main content
  • 7 months ago
When Lady Zainab (A.S) was brought as a prisoner to the court of Yazid, her dignity, patience, and powerful speech left everyone astonished. Yazid’s wife, who was familiar with the noble lineage of the Prophet’s family, was deeply moved by Lady Zainab’s condition and eloquence. It is said that she showed sympathy towards Lady Zainab (A.S) and felt sorrow upon hearing about the tragedies of Karbala. She even took care of some of the needs of the captive women. This incident reflects that even in the palaces of tyranny, the voice of truth can shake hearts, and Lady Zainab’s character left a lasting impression even in such a place.

Category

😹
Fun
Transcript
00:00بسم اللہ الرحمن الرحیم السلام علیکم ورحمت اللہ برکاتہ
00:06بے شک تمام طریفیں اسی خدا تعالی کی ہیں جس نے انسان کو پیدا کیا
00:12بے شک ہم اسی سے مدد مانگتے ہیں اور اسی کی رحمت کے طلبگار ہیں
00:18حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اللہ تعالی کے بندے اور رسول ہیں
00:25میری جو آج کی ویڈیو ہے یہ ہے حضرت زینب رضی اللہ عنہ کے بارے میں
00:31کہ جب وہ یرزید کے دربار میں حاضر ہوئی تو انہوں نے وہاں کیا خطبہ دیا
00:37اور جب وہ یرزید کی بیوی ام الحند سے ملی تو ام الحند نے ان کے ساتھ کیسا برتاؤ کیا
00:46اور جب وہ وہاں سے ازاد ہو کر کربلا واپس آئی اور پھر مدینہ تشریف لائی
00:53تو نبی پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی قبر مبارک پر جا کر کیا انہوں نے کہا
01:01یہ سب میں آپ کو اپنی آج کی ویڈیو میں ڈٹیل سے بتاؤں گی
01:06آئیے ویڈیو کا آغاز کرتے ہیں اور میرے چینل کو لائک شیئر اور سبکرائب کرنا نہ بھولیں
01:13وہ واقعہ کربلا کے بعد کا ہے
01:16جب اہلِ بیعت کے کافلے کو یرزید کے دربار دمشق اور شام میں لائیا گیا
01:24اس واقعے کی تفصیلات کتب اور تاریخ اور روایت میں مختلف انداز میں بیان ہوئی ہیں
01:32جب اہلِ بیعت کو قید کر کے دمشق لائیا گیا
01:39اور یرزید نے انہیں اپنے دربار میں پیش کیا
01:43تو کچھ دنوں بعد بی بی زینب اور دیگر اسیر خواتین کو یرزید کے محل کے ایک کمرے میں رکھا گیا
01:53یرزید کی بیوی باز روایت میں اس کا نام ہند آیا ہے
01:59جو حضرت ہند بن عبداللہ یا دوسری روایت کے مطابق الگ شخصیت ہے
02:06جب قیدیوں کو دیکھنے آئی تو اس نے ان کی حالت دیکھی
02:11عورتیں بے چادری کی حالت میں تھی
02:15سروں پر چادریں نہ تھی
02:18چیروں پر گرد و غبار پیروں میں زنجیریں بندی ہوئی تھی
02:23یرزید کی بیوی نے جب ان کا یہ حال دیکھا
02:28تو حیران ہو کر پوچھا
02:30یہ کون عورتیں ہیں اور کیوں اتنی بے حرمت حالت میں رکھی گئی ہیں
02:37بی بی زینب نے بلند لہجے میں فرمایا
02:40ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اہلِ بیعت سے ہیں
02:47یہ زرزید کا ظلم ہے جس نے ہمیں بے پردہ کیا
02:52ہمارے مردوں کو شہید کیا
02:55اور ہمیں قید کر کے لائے گیا
02:58یرزید کی بیوی یہ سن کر رو پڑی اور کہا
03:03کیا تُو واقع نبی کریم کی نواسی ہو
03:06بی بی زینب نے فرمایا
03:09ہاں میں زینب بنتِ علی ہوں فاطمہ تُززہرہ کی بیٹی
03:14یہ سن کر یرزید کی بیوی بہت شرمندہ ہوئی
03:19بعض روایت کے مطابق
03:21اس نے فوراں چادریں اور کپڑے مگوائے
03:24اور ان خواتین کو دے دئیے
03:27اس نے یرزید سے بھی شکایت کی اور کہا
03:31تُو نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی
03:36نواسیوں کو قیدی بنا کر بے حرمتی کیوں کی
03:41یرزید کی بیوی کا دل اہلِ بیعت کے لیے نرم پڑ گیا تھا
03:47اور اس نے بی بی زینب سے معافی مانگی
03:50اور ان کے ساتھ عدب سے پیش آئی
03:54بی بی زینب کی یرزید کی بیوی سے ملاقات شام کے دربار کے بعد ہوئی
04:02یرزید کی بیوی اہلِ بیعت کی حالت دیکھ کر متاثر اور شرمندہ ہوئی
04:09اس نے بی بی زینب کو عزت دی پردہ دیا اور یرزید سے بھی احتجاج کیا
04:17حضرت زینب بنت علی نے یرزید کے دربار شام میں جو خطبہ
04:25ارشاد فرمایا وہ اسلامی تاریخ کا سب سے بڑا خطبہ ظاہر ہوا
04:32حضرت زینب یرزید کے دربار میں باوقار انداز میں کھڑی ہوئی
04:39بغیر کسی خوف کے یرزید تخت پار قرور سے بیٹا ہوا تھا
04:45اور دربار میں وزیر شامی عوام اور سپاہی مجود تھے
04:51حضرت زینب نے یرزید کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا
04:56تمام تعریفیں اس اللہ کے لیے ہیں جو تمام جہانوں کا پروردگار ہے
05:02اور درود ہو میرے نانا محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر
05:10اے یرزید اللہ نے ہمیں علم حکمت صبر حلیم اور حق پر استقامت عطا کی ہے
05:19تم سمجھتا ہے کہ آج تم ہم پر فتح یاب ہو گیا یہ تیری خام حیالی ہے
05:27اے یرزید توں آج خوش ہو رہا ہے مسکرا رہا ہے مگر یاد رکھ
05:34توں نے رسول خدا کے نواسے کو شہید کیا ہے
05:38اور ان کے اہلِ بیعت کو قید کیا اور ان کی عورتوں کو بے پردہ کیا
05:46کیا یہ تیرا سلام ہے کیا یہی تیرے دین کی تعلیم ہے
05:52توں نے ہمارے پاکیزہ خون کو بہایا
05:55توں نے کربلا میں ظلم کی تاریخ رکم کی
05:59اے یرزید توں یہ سمجھتا ہے کہ آج دنیا تیرے ہاتھ میں ہے
06:06توں تخت پر بیٹھا ہے اور ہم قید میں ہیں
06:10توں سن لے اللہ کی قسم توں ہم پر غلبہ رکھتا ہے
06:15نہ ہم ظلیل ہیں عزت اللہ کے ہاتھ میں ہے
06:19اور ہم وہی خاندان ہیں جنہیں اللہ نے ہر دور میں عزت دی
06:25توں اپنے مظالم پر خوش نہ ہو
06:29کیونکہ ایک دن آئے گا جب توں اللہ کے حضور پیش کیا جائے گا
06:35اس دن ہم گواہی دیں گے
06:38کہ توں نے ہمارے ساتھ کیا کیا
06:40قیامت کے دن تجھے ہمارے نانا
06:43رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ
06:49کھڑا کیا جائے گا
06:51اس دن تیرا کوئی ساتھی نہ ہوگا
06:54تیرا کوئی لشکڑ نہ ہوگا
06:56تیرے محل بیکار ہوں گے
06:58پھر حضرت زینب نے
07:01اپنے بائی امام حسین کا ذکر کرتے ہوئے
07:05فرمایا
07:06میرے بائی حسین کو توں نے بے دردی سے شہید کیا
07:11وہی حسین جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی آنکھوں کا نور تھے
07:19وہی حسین جو جنت کے نوجوانوں کے سردار تھے
07:24توں نے ہمیں شہید کر کے سمجھا کہ ہم ختم ہوگے
07:28نہیں یرزید ہرگز نہیں
07:30توں ہمارا نام مٹا نہیں سکتا
07:33ہمارا ذکر قیامت تک رہے گا
07:36ہم نے جو کچھ کربلا میں دیا وہ اللہ کی راہ میں دیا
07:42ہم سبر کرنے والے ہیں اور ہمیں اللہ کی رضاہی عزیز ہے
07:48حضرت زینب نے یرزید کے ظلم کو بے نکاب کیا
07:54آپ نے اپنا طرف رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نواسی اور امام علی اور فاطمہ کی بیٹی کے طور پر کیا
08:08آپ نے اللہ کے انصاف قیامت اور آخرت کو یاد دلایا
08:14پورے دربار میں حضرت زینب کے الفاظ سے خاموشی چھا گئی
08:21جتنی کے یرزید بھی شرمندہ ہوا
08:25کئی شام کے لوگ بعد میں پشمان ہوئے کچھ نے تو توبہ بھی کی
08:33حضرت زینب کا خطبہ ظلم کے خلاف سب سے طاقتور آواز تھا
08:41آپ نے بے پردگی قید بھائی کی شہادت بچوں کی مظلومیت کے باوجود خوف کی بجائے ایمان صبر اور فصاحت کا مظاہرہ کیا
08:54یہ خطبہ رہتی دنیا تک ظلم کے خلاف قیامت اور خاتون کی بہادری کی ایک آلہ مثال ہے
09:03پرزید بن ماویہ نے جب حضرت امام حسین علیہ السلام کا مبارک سر اقدس دربار میں مگوایا
09:14تو اس نے اس کے ساتھ انتہائی گستاخانہ اور بے فلوک کیا جو تاریخ کا سب سے دلخراش باب ہے
09:25جب حضرت امام حسین کا سر مبارک دمشق لایا گیا
09:32تو اسے ایک سونے کے تشت یعنی ٹریب میں رکھ کر
09:38یرزید کے سامنے پیش کیا گیا
09:41وہ منظر انتہائی رکت انگیز تھا
09:45مگر یرزید نے کسی غم یا ندامت کا اظہار نہیں کیا
09:51یہ سب سے زیادہ مشہور اور دلخراش واقعہ ہے
09:57یرزید نے اپنے ہاتھ میں بانس یا لکڑی کی چڑی لی
10:02اور امام حسین کے لب و دندان مبارک پر مارنے لگا
10:08اس عمل پر دربار میں مجود ایک بزرگ صحابی حضرت زید بن ارکم
10:15یا بعض کے مطابق انصر بن مالک نے احتجاج کیا
10:20اور کہا اے یرزید توں اس چیرے پر چھری مار رہا ہے
10:26جسے میں نے خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو چومتے ہوئے دیکھا ہے
10:34مگر یرزید خموش رہا اور مزاخ اڑاتا رہا
10:39یرزید نے خوشی کے اظہار میں اشار پڑے
10:44جن کا مفہوم یہ ہے
10:46کاش آج میرے بدر کے مقتول بزرگ زندہ ہوتے
10:52اور دیکھتے کہ میں نے کیسے ان کا بدلہ لے لیا
10:56ان اشار سے اس کا بغض نبوی خاندان اور فتح بدر کی شخصت کا بدلہ لینے کا جذبہ ظاہر ہوتا ہے
11:07یرزید نے یہ سب کچھ بی بی زینب امام سجاد اور دیگر اہل بیعت کے سامنے کیا
11:16بی بی زینب نے یہ منظر برداشت کرنے کے باوجود اپنا وقار نہ کھویا
11:23بلکہ اسی موقع پر آپ نے وہ مشہور خطبہ دیا
11:28جب حضرت زینب بنت علی کو واقع کربلا کے بعد قید کیا گیا
11:36تو کئی دنوں کی قید دربار کوفہ اور پھر دربار یرزید میں خطبہ دینے کے بعد
11:45یرزید نے اہل بیعت کو بظاہر رہا کرنے کا اعلان کیا
11:50لیکن یہ رہائی محض دکھاوے کی تھی
11:53اصل میں امت کے شدید رد و عمل کچھ صحابہ کی مخالفت اور حضرت زینب کے خطبات
12:03نے یرزید کو مجبور کیا
12:05کہ وہ اہل بیعت کو مدینہ واپس بیجنے پر راضی ہو جائے
12:11یہ واپسی خود ایک تاریخی روحانی اور دل سوز واقعہ ہے
12:16جسے اسلامی تاریخ میں غم و خزن کا مکمل منظر نامہ سمجھا جاتا ہے
12:24یرزید نے بظاہر ندامت ظاہر کی اور اہل بیعت کو واپس مدینہ بیجنے کا اعلان کیا
12:32امام زین العابدین نے مطالبہ کیا کہ ہمیں کربلا جانے کی اجازت دی جائے
12:40تاں کہ ہم شہدہ کی قبروں پر ماتم کر سکیں
12:44یرزید نے مجبور ہو کر اجازت دے دی
12:48اہل بیعت کا کافلہ شام سے کوفہ اور پھر کربلا پہنچا
12:54بی پی زینب امام سجاد اور دیگر خواتین نے قبور شہدہ پر گریہ و ماتم کیا
13:02بی پی زینب نے بھائی حسین کی قبر سے لیٹ کر دردناک نوہا اور دعا کی
13:10چند دن بعد کربلا میں قیام کے بعد کافلہ مدینہ کے لیے روانہ ہوا
13:17کافلے میں امام زین العابدین علیل تھے
13:22حضرت زینب غم میں ٹوٹی ہوئی مگر ہونسلے کے پہاڑ
13:27سکینہ رکیہ اگر زندہ تھی تو دیگر شہدہ کی بہنیں بیوہ اور یتین بچے شامل تھے
13:37جب کافلہ مدینہ منورہ کے قریب پہنچا
13:41حضرت زینب نے امام سجاد سے فرمایا
13:46بیٹا سجاد مدینے میں کیسے داخل ہوں
13:49ہم تو گئے تھے پردے میں عزت و شان کے ساتھ
13:54اب ہم یتین بچے زخمی دل اور قید کی نشانیوں کے ساتھ لوٹ رہے ہیں
14:01کافلے نے مدینہ کے باہر قیام کیا
14:05حضرت زینب نے ایک قاصد کو مسجد نبوی بیجا
14:10جا کر مدینہ والوں سے کہہ دو
14:13نبی کی نواسی قید کے بعد واپس آئی ہے
14:17حسین کی بین
14:19عباس کی بین
14:20کربلا کی
14:21اسیر
14:22جب مدینہ والوں کو خبر ملی
14:26تو شہر میں ماتم چھا گیا
14:29خواتین سر کھول کر روتے ہوئے
14:32دروازوں پر آئی
14:33بچے بورے سب رونے لگے
14:35مدینہ کی فضاء میں بس ایک صدا گونج رہی تھی
14:40روایت ہے کہ بی بی زینب نے مدینہ کی مسجد میں
14:46یا بنو حاشم کے گھر میں اہل مدینہ سے خطاب کیا
14:51یہ خطاب درست سے بڑا ہوا تھا
14:54لوگ کو تم نے ہمیں اکیلا چھوڑا
14:58تم نے نبی کے نواسے کی نصرت نہ کی
15:02تمہاری خاموشی سے یرزید کو طاقت ملی
15:05حسین کو شہید کیا گیا اور تم خاموش رہے
15:10ہر گھر سے روتی ہوئی عورتوں کی آوازیں آتی تھی
15:15حضرت علی اکبر قاسم عباس علی اسکر کے گھروں میں بے بسی کا عالم تھا
15:23ہر گلی ہر کوچا گم کربلا سے برا ہوا تھا
15:28حضرت زینب جب یرزید کے دربار سے رہا ہو کر مدینہ آئی
15:34تو کافلہ انتہائی غمزدہ تھا
15:38مدینے میں سناٹا ماتم اور نوحہ چھایا ہوا تھا
15:43بی بی زینب نے لوگوں کو جنجوڑا
15:46بیدار کیا ظلم کے خلاف آواز بلاند کی
15:50اس واپسی نے امت کو یہ سبق دیا
15:54کہ ظلم کے خلاف حق پر ڈٹے رہنا ہی حقیقی کمیابی ہے
16:00چاہے سب کچھ قربان کرنا پڑ جائے
16:03کافلہ اہل بیت جیسے ہی مدینہ منورہ پہنچا
16:08حضرت زینب نے سب سے پہلے روزہ رسول جانے کی ہوائش ظاہر کی
16:15امام سجاد نے اجازت دی اور چند اہل حرم خواتین کے ساتھ
16:21بی بی زینب روزہ رسول پر گئی
16:24بی بی زینب نے روزہ رسول سے لپٹ کر
16:29بلند آواز میں گریہ زاری شروع کی اور فرمایا
16:34اے نانا محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
16:41آپ پر درود و سلام ہو
16:44امت نے تیرے نواسے کو شہید کر دیا
16:48یا رسول اللہ حسین کو بے یاروں مددگار
16:53میدان کربلا میں زبا کر دیا
16:56ہم تیرے گھرانے کو قید کر کے شام لے جایا گیا
17:01ہم پر ظلم ہوا بے پردہ کیا گیا
17:05بی بی زینب بے اختیار رو پڑی
17:10کبھی روزے سے لپٹتی کبھی مٹی پر گرتی
17:14مدینہ کی خواتین بنو حاشم کی عورتیں اور صحابہ کی ازواج جمع ہو گئی
17:22ہر طرف آہو پکار چیخو پکار کی کیفیت تھی
17:26حضرت زینب نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے روزے پر بیٹھ کر
17:34اپنے بھائی حسین کی شہادت کا حال بیان کیا
17:38نانا جان بھائی حسین کا لاشہ تین دن تک میدان کربلا میں بغیر کفن کے پڑا رہا
17:47نانا جان آپ کی بیٹھیوں کو بے پردہ قید کیا گیا
17:52نانا جان آپ کے گھر کو اجار دیا گیا
17:56میدان کی گلیوں میں ہم پر ظلم و ستم کیے گئے
18:02لوگ روتے ہوئے محجد نبوی اور روزہ رسول کے آس پاس جمع ہو گئے
18:09بعض روایت کے مطابق بی بی زینب روزہ رسول پر بے ہوش ہو گئی
18:16جب حضرت زینب روزہ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر پہنچی
18:23آپ نے روزے سے لپٹ کر فریاد کی
18:27کربلا کا مکمل حال نانا رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حضور پیش کیا
18:35آپ کی گریہ زاری سے مدینے میں ماتم چھا گیا
18:40یہ منظر صبر درد قربانی اور ایمان کا بے مثال
18:45نمونہ ہے
Comments

Recommended