00:00आज जी शक्सियत का जिकर हम अपनी वीडियो में करने जा रहे हैं। उनका नाम है चिराख हसन हसरत।
00:10Assalamualaikum आपको हमारे चैनल पाकिस्तान बाइगराफिय में खुश शाम दीद।
00:15चिराख हसन हसरत एक शायर और सहाफी थे। उन्होंने शायरी उस वक शुरू की जब वो अब स्कूल में तालब इलम थे।
00:24चिराख हसन हसरत 1904 में पूँच कश्मीर में पैदा हुए लेकिन मेट्रिक के बाद पाकिस्तान हिजरत कर गए।
00:33अपने केरियर के अवल में चिराख में मुख्तलिफ मकाम स्कूल में अर्दू और फार्सी में पढ़ना शुरू किया।
00:40उन्होंने सोला किताबें लिखी।
00:42इंसां, जमीदार, शेराजा, शहबास जैसे कई अखबारा से भी वाबस्ता रहे।
00:50उन्होंने मुख्तलिफ कल्मी नामों का इस्तमाल किया।
00:54जिन में कॉलंबस, कूचागाट और सिंदबाज जहाजी शामिल है।
00:591920 में वे शिमला के एक स्कूल में फार्सी के उस्ताद के तौर पर शामिल हुए।
01:05जहां उनकी मुलाकात अबुलकराम अजास से हुई।
01:09वो इससे बहुत मतासर हुआ।
01:11और जल्द ही कॉलकता में उससे दोबारा मिलने के लिए स्कूल छोड़ दिया।
01:16हसरत ने इतराफ किया कि उन्होंने अजास से ना सिर्फ सहाफत बलके सियासत और अदब के बारे में भी बहुत को सीखा है।
01:251925 में हसरत ने नई दुनिया अख़बार में शुमूरी तक्तियार की।
01:29यहां वो कॉलंबस के नाम से मशूर कॉलम कॉलकते की बात लिखते थे।
01:34इस कॉलम की वज़ज़ से वो बहुत मशूर हुए और बेशतर सीनिर सहाफियों ने उनकी तारीफ की।
01:41इसके बाद वो इंस्टेंट एडिटर के तौर पर असर जदीद में शामिल हुए।
01:46जहां उन्होंने कूचा गार्ट के नाम से एक मशाहिया कॉलम मुत्बा लिखा और इसने सहाफी और मजानिगार के तौर पर उनकी शोहरत में मजीद अज़ाफा किया।
01:571926 में उन्होंने कॉलकता से अपना एक अदबी जरीदा आफ़ताब शुरू किया।
02:03हसरत ने इस्तकलाल और फिर जमहूर के लिए भी काम किया जो हिंदुस्तान के अज़ादी के मौहम चला रहा था।
02:10हसरत कॉंग्रस के हामी थे और उन्होंने 1928 में नहर रूपोर्ट की हमायत की जिसके हक में कई कॉलम लिखे।
02:18चुंके मुस्लमान की अक्सरियत ने इस रिपृर्ट को मस्रित कर दिया था।
02:22इसलिए इसकी हमायत ने इस हिंदुस्तान के मुस्लमानों में मकबूलियत को दी।
02:27Hisrata نے Kolkata چھوڑ دیا اور Lahore میں Zafir Ali Khan کے اخبار ذمہ دار میں شامل ہو گئے
02:331939 میں وہ Zafir Ali Khan کے ساتھ کام کرنے Lahore آئے
02:38انہوں نے Lahore کے مختلف اخبارات کے لیے لکھا
02:42اور پھر 1936 میں اخبار شہرازہ شروع کیا
02:481940 میں انہوں نے All India Radio دہلی میں شمولی تختیار کی
02:53دہلی جانے کے فوراً بعد حسرت فوج میں بھرتی ہو گئے
02:57اور تیزی سے میجر کے عہدے پر فائز ہو گئے
03:00وہ زیادہ دیر تک کہیں کام نہیں کر سکتے تھے اور کچھ مختلف تلاش کرتا تھا
03:05جراغ حسن حسرت کا انتقال 26 جون 1955 کو Lahore میں ہوا
03:10انہوں نے 16 کتابیں لکھی بدقسمتی سے ان کا ایک بھی شیئر مجموعہ شائع نہیں ہوا
03:17ان کی چند مشہور کتابیں یہ ہیں
03:19کیلے کا چھلکا، مطیبت، حرف و حکمت، ڈاکٹر کرو، مردم دیدہ
03:27اردو میں بہت سے ایسے مزہ نگار ہیں جنہوں نے اپنے مزہیہ کالموں کی بنیاد پر بہت شہرت اور عزت حاصل کی
03:34لیکن چراغ حسن حسرت کے مزہیہ کالموں نے انہیں جو شہرت اور مقبولت حاصل کی وہ مزہ نگاروں میں بھی کم ہے
03:43وہ کئی اخبارات سے وابستہ رہے اور کئی ناموں سے لکھتے رہے
03:47چراغ حسن حسرت انیس سو چار میں کشمیر کے بار ہمولہ کے قریب ایک گاؤں میں پیدا ہوئے
03:54ایک شاعر اور صحافی تھے
03:56اس نے جو کچھ لکھا اس میں زیادہ تر مزہ کی ایک لکیر تھی
04:00اور وہ شاید کسی بھی چیز سے زیادہ مزہ نگار تھے
04:04انہوں نے شاعری اس وقت شروع کی جب وہ ابھی سکول میں طالب علم تھے
04:09اس وقت بھی ان کا فطری جھکاؤ ان کی شاعری سے ظاہر ہوا کہ وہ مزہیہ اور تنزیہ تھا
04:16ابوالکلام ازاد کلکتہ میں تھے اور اپنے مشہور اخبار
04:20الہلال کے دوبارہ اجزاء کا منصوبہ بنانے کے علاوہ
04:24پیغام کے نام سے ایک نیا ہفتہ وار شروع کرنے کی تیاری کر رہے تھے
04:29ازاد نے حسرت کو شامل ہونے کو کہا
04:32اس نے مجبور کیا لیکن کسی غلط فہمے کی وجہ سے
04:36تھوڑی دیر بعد چھوڑ دیا
04:38حالانکہ بعد میں اسے اپنے فیصلے پر پچتاوا ہوا
04:42اور ازاد کے ساتھ بار لگا دی
04:44حسرت نے اعتراف کیا کہ انہوں نے ازاد سے نہ صرف صحافت
04:49بلکہ سیاست اور عدب کے بارے بھی بہت کچھ سیکھا
04:52حسرت واپس پونچ کشمیر آیا
04:551925 میں وہ دوبارہ کلکتہ چلے گئے
04:58اور اخبار نئی دنیا سے منسلک ہو گئے
05:01یہاں وہ کولمبس کے نام سے مزہیہ کولم کلکتہ کی باتیں لکھتے تھے
05:05یہ کولم بہت مقبول ہوا اور ابوکرام ازاد
05:09زفر علی خان اور محمد علی جوہر جیسے سینئر صحافیوں
05:13اور سیاسی رہنماؤں نے ان کی تعریف کی
05:16جلدی وہ ایک ہفتہ روزہ اثر جدید میں
05:19اسٹینٹ ایڈیٹر کے طور پر شامل ہو گئے
05:22یہاں انہوں نے کوچا گار کے نام سے مزہیہ کولم مطابق لکھا
05:27اس نے صحافی اور مزہ نگار کے طور پر ان کی شہرے میں مزید اضافہ کیا
05:31لیکن انہیں جلد ہی چھوڑنا پڑا کیونکہ ہفتہ روزہ مسلم لی کا کٹرہامی تھا
05:38اور حسرت ابو کلام ازاد کی شخصیت اور ان کی کانگریسی نواز پولیسیوں کے زیر اثر تھا
05:441926 میں حسرت نے کولکتہ سے ایک عدبی جریدہ آفتاب کا آغاز کیا
05:49ایک سچی اردو مہانہ آفتاب اس حقیقت کے باوجود دیر ساتھ زیادہ زندہ نہ رہ سکا
05:56اس نے کارائین کی توجہ حاصل کر لی تھی اور ناوہ مصنفین نے
06:02اسے مشرقی ہندوستان کا واحد اردو مہانہ بنانے میں اپنا حصہ ڈالا
06:07یہ دعویٰ ہے کہ ہمیشہ اس کے ماسٹ ہیٹ پر ظاہر ہوتا ہے
06:11بعد میں حسرت نے استقلال اور پھر ایک اور اردو روزنامہ جمہور کے لیے بھی کام کیا
06:18جو ہندوستان کی ازادی کی موہم چلا رہا تھا
06:21حسرت 1929 میں لاہور آئے اور وہ کلکتہ میں نامور عدیبوں کی صحبت میں رہے
06:27اور یہ شہر خود برطانوی ہندوستان کا سابق دارہ حکومت ہونے کی وجہ سے
06:32اس وقت جدید اور کامل ثقافتی چمک کے تصویر تھا
06:36لیکن اس وقت تک لاہور ایک صدیوں پرانا شہر ہونے کے ناتے
06:41شہر اور اس کے مضافات میں بھی تاریخی اثار موجود تھے
06:45اردو اشارت اور تباعت کا ایک مرکز بن کر ابرا تھا
06:50لاہور سے بے شمار عدبی رسائل لکھر رہے تھے
06:54اور کلکتہ کی طرف لاہور میں بھی نامور عدیبوں کی ایک کہکشن جمع تھی
06:58اس عدبی اور ثقافتی منظر میں مسلح شامل کرنا
07:03یوپی اور پنجاب کے درمیان عدبی اور ثقافتی دشمنی تھی
07:07نیاز مندان لہور ایک غیر رسمی عدبی حلقہ تھا
07:12جو پنجاب کے شاعروں اور عدیبوں کی طرف سے جوابی تحریر لکھ کر ان کا دفاع کرتا تھا
07:18اگرچہ پہ ظاہر ایک بیکار اور ناغوار تصادم تھا
07:23لیکن اس دشمنی نے دونوں طرف سے بہت سے دلچسپ اور تنزیہ ٹکروں کو جنم دیا
07:28اور آج عدبی تاریخ کا ایک دلچسپ حصہ بناتا ہے
07:33عبد المجید سالک، پترس بخاری، صوفی طبسم، حفیظ جلندر، امتیاز علی تاج، عبد الرحمان چغتائی اور کچھ دوسرے عدیب اس حلقے کے نمائی رکن تھے
07:47جلدے چراخ حسن حسرت اس کے رکن بن گئے اور اس حلقے کی کوششوں میں شامل ہو گئے
07:54جو اس نے دہلی اور لکھنو کے طرف لہور کو بھی عدب کے ایک الگ مکتب کے طور پر پہنچانا تھا
08:001930 میں دہلی میں لہور میں عدبی سرگرمیوں کا ایک اور مرکز عرب ہوتل تھا
08:07اگرچہ یہ نام رکھا گیا تھا لیکن یہ نہ عرب تھا نہ ہی کوئی ہوتل
08:13یہ رستوار تھا در حقیقت یہ کوئی ریسٹورنٹ بھی نہیں تھا
08:18کیونکہ اسلامیہ کالیج کے قریب فٹ پاتھ پر وہ سیدھا اور روغنی لکڑی کی کرسیاں اور میزوں والی ایک چھوٹی سی دکان تھی
08:27لیکن لہور کے دانشوروں کا مرکز بننے سے پہلے عرب ہوتل لہور کا ایک اور عام طرات خانہ تھا
08:35جس کا مقصد طالب علم کو کم قیمت پر مناسب کھانا اور چائے فراہم کرنا تھا
08:42کچھ عدیب پاس ہی رہتے تھے اور کچھ اخبارات کے دفاتر بھی آج پاس تھے
08:47اسلامیہ کالیج سڑک کے اس پار تھا
08:50جلتی طلبہ اور زیر ترطیب صحافی تجارت کے چند حربے سیکھنے کے لیے حسرت کے پاس آنا شروع ہو گئے
08:58اور کچھ ہی عرصے میں عرب ہوتل لہور کا مقبول ترین عدبی ملاب بن گیا
09:03یہ افسوس کی بات ہے کہ ہم ایسی جگہوں کو محفوظ کرنے کی پروان نہیں کرتے
09:09حالانکہ ہم اس بات کی تعریف کرتے ہیں کہ دوسرے ممالک میں ایسی جگہوں کو کیسے محفوظ کیا جاتا ہے
09:15آج عرب ہوتل کا کوئی نشان نہیں ہے لیکن یہ بہت سے طالب علموں اور صحافیوں کے لیے ایک غیر رسمی تربیتی مرکز تھا
09:24اور حسرت ہی نے پارٹی کو آگے بڑھایا
09:27زمیدار میں حسرت نے افکار و احادیث لکھا جو مشہور کولم عبد المجید صالق نے لکھا تھا
09:35احسان میں انہوں نے متبا سندھ بات جہازی کے نام سے لکھی
09:39حسرت نے لاہور سے اپنا جریدہ شیرزہ شروع کیا
09:44اور ایک پیروڈی جدید جغرافیہ پنجاب کو سیریل کیا
09:48جسے اردو کے بہترین پیروڈیز میں شمار کیا جا سکتا ہے
09:53لاہور میں زمیدار احسان اور شہباز سمیت مختلف اخبارات
09:58اور پبلیشرز کے لیے کام کرنے کے بعد حسرت نے انیس سو چالیس میں آل انڈیا ریڈیو دہلی میں شمولیت اختیار کی
10:06لیکن ان کے دوستوں کے لیے اصل چونکا دینے والی خبر حسرت کے فوج میں شمولیت تھی
10:13انہوں نے سوال کیا کہ حسرت جیسا لاپروا اور خوشنصیب شخص
10:18آواز کے نظم و ضبط سے کیسے بچ سکتا ہے
10:22لیکن در حقیقت فوجیوں کے لیے نکالے گئے اخبار کے ایڈیٹر تھے
10:27وہ نہ صرف زندہ رہا بلکہ ترقی کے منزل تیہ کرتا رہا
10:31اور اپنی پوری لاپرواہی کے ساتھ جلد ہی میجر کے عودے پر پہنچ گیا
10:36حسرت کو فوجیوں کے لیے اخبار کی ایڈیٹنگ کے لیے سنگاپور بھیجا گیا
10:41جس کا نام جوان تھا اور رومن اردو میں شائع ہوتا تھا
10:47حسرت نے سنگاپور سے واپس آئے اور امروز لاہور میں بطور ایڈیٹر شامل ہوئے
10:54ہمیشہ کی طرح اس کے انتظامیہ کے ساتھ کچھ اختلافات ہوئے اور استیفہ دے دیا
10:59چراخ حسرت ایک بیچین رو تھے
11:02وہ کہیں زیادہ دیر تک کام نہیں کر سکتے تھے اور کچھ مختلف تلاش کرتے تھے
11:08لیکن پھر ان کی طبیعت بگڑ گئی اور انہیں روزنامہ نوائے وقت میں کالم لکھ کر کنات کرنا پڑی
11:14اردو زبان پر ان کی حکمرانی اس کی اکل استعارے اور اشارے نے اسے ہر پڑھنے والے کے لیے ایک حقیقی دعوت بنا دیا
11:24ڈاکٹر طیب منیر کا پی ایس ڈی کا مقالا چراخ حسن حسرت دوہزار تین میں ادارہ یادگار غالب نے شائع کیا تھا
11:33اور اس تحریر کو لکھنے کے لیے میں نے ان کے کتاب پر بہت زیادہ انحصار کیا ہے
11:38ڈاکٹر طیب منیر نے حسرت کے شائعی بھی مرتب کر کے شائع کی ہے جس کا عنوان بات حسن جار کی ہے
11:48تو یہ ہے چراخ حسن حسرت کے سوانے حیات
11:54مجھے امید ہے ہماری باقی ویڈیوز کے طرح آپ کو یہ ویڈیو بھی بہت پسند آئی ہوگی
11:59اپنا فیڈ پیک ہمیں کمنٹس کے ذریعے دینا مد بھولیں
12:03اور ساتھ ہی ہماری اس ویڈیو کو لائک اور شیئر ضرور کرتے ہیں
12:07اور ہماری چینل کو سبسکرائب کر دیں شکریہ
Comments