00:00आज जिस शिक्सियत का जिकर हम अपनी वीडियो में करने जा रहे हैं वो है करनल शेर खान शहीद
00:25करनर शेर खान पाकिस्तान आर्मी के एक फौजी अफसर थे वो निशाने हैदर हासिल करने वालों में से एक थे
00:47पाकिस्तान आर्मी की 27 सिंध रेजमिट में कैप्टन थे और बात में कारगिल के तनाज़े के दौरान बारवी एनलाई रेजमिट में ताई नाथ हुए
00:57वो कारगिल जंग के दौरान एक्शन में शहीद हुए थे
01:01कारगिल जंग के दौरान इनकी बहादरी पर इन्हें निशाने हैदर से नवाजा गया था
01:07जो के पाकिस्तान का सबसे बड़ा फौजी एजाज है
01:11करनल शेर खान यकम जनवरी 1970 को नवे किले सवाबी केपी के में एक पश्टून घराने में पैदा हुए
01:21वो दो भाईयों और दो बहनों में सबसे चोटे थे
01:24इनकी वालदा का इंतकाल इस वक्त हुआ जब वो छे साल के थे
01:29करनल शेर खान की परवरिश इनके वालद ने की
01:32खान ने अपने इंटर्मेडियेट तालीम सवाबी के एक गवर्मेंट पोस्ट ग्रेजूट कॉलिज से मकमल की
01:39और बाद में पाकिस्तान की मुसल्ले अफवाद में शमूलियत इख्तियार की
01:44करनल शेर खान ने अपनी पूरी जिन्दगी में अपने इलाके के गरीब लोगों का ख्याल रखा
01:51और अपनी तनखा का पेश्चे हिस्सा इनकी मदद में सर्फ किया
01:55जमीरे लाला में रोशन चराहे आर्जू कर दे
02:00चमन के जर्रे जर्रे को शहीद जस्तजू कर दे
02:04करनल शेर खान ने अपने इंटरमिडियर तालीम मकमल करने के बाद
02:10पहले पाकिस्तान एर फोर्स में बतौर एर में शमूलियत इख्तियार की थी
02:14But in 1992, the officer was registered in Pakistan's army
02:2013 October 1994, Khon has purchased by the 27th anniversary of the regiment
02:27Khargyil Junk drew a time
02:32Khon has got a set of
02:367-2 Çokyans
02:38ان کی چوکیاں دیسانی پاحاتی میں 17000 LGs سالہ پینج چوکیاں کائن کی
02:44پارٹی فوج نے اپنی ستریر Koregeک پوسٹوں پر قبضہ کرنے کے لیے
02:50اپنی پوزیشن پر 8 حملے گئے تھے تاہم خان اور ان کے عادتبی
02:55ان ستریر Koregeک کو دفاع کرنے میں یقینب کامیاب رہے
03:00پانچ جولائی 1999 کو ہندوستانی فوج نے ایک اور حملہ کیا اور دو
03:06foreign
03:34TAHM, LADAYIKE DORAN WU MACHINE GUN KI GOLI KA NISHANAH BENE AOR SHEHEED HOUE
03:41HINDOUS THANI FAUGE KEY BRIGIEDYER MPS BAJOAH CAPTIN KHAN KAKE AGDAMAAD SE BAHT MUTASIR HUUE
03:48AND THEY DON'T KNOW JOUAN AFSAR KII BAHADERI KA HAWALA DETE HUUE HAKOMET PAKISTAN KOA KUHT LIKHA
03:54باجوا نے خان کے لیے ایک حوالہ لکھا اور پاکستانی حکام کو ان کی لاش واپس کرتے ہوئے اسے اپنی جیب میں رکھ لیا
04:03جنگ کے دوران خان کے اقدامات کی تصدیق ان کے ساتھی پاکستانی فوجوں نے بھی کی
04:11اور خان کو بعد از مرک پاکستان کے عالی ترین فوجی عزاز نشان حیدر سے نوازا گیا
04:18جنگوں میں اکثر مخالف سپاہی اپنے سرسر عزم اور بہادری کی وجہ سے اکثر دوسری طرف سے عزت حاصل کرتے ہیں
04:271999 میں ہندوستان کی بریگیڈیر باجوا نے ایک نیوز چینل سے بات کرتے ہوئے کہا
04:34کہ ان کی بریگیڈ کو حکمت عملی کی لحاظ سے اہم ٹائگر ہل پر قبضہ کرنے کا کام سونپا گیا تھا
04:40انہوں نے یہ ذمہ داری 18 گرینڈیرز کو سونپی جو پہلے تولولنگ کی جنگ میں شامل تھے
04:47اور تقریباً 60 ہلافتوں کا سامنا کر چکے تھے
04:50اور آٹھویں بیٹیلین سکھ ریجمنٹ جو پہلے سے ہی ٹائگر ہل کے ایٹ گیٹ مضبوط بنیاد پر موجود تھی
04:56اور تقریباً 25 جوانوں کو کھو چکے تھے اس سے پہلے کی جڑبوں میں
05:00انہوں نے کہا کہ میں نے 18 گرینڈیرز کو ان کی گھاٹک پلاتون اور جنوب مغرب اور مشرق سے
05:07دیگر کمپنیوں کے ساتھ ٹائگر ہل ٹاپ پر قبضہ کرنے کا کام سوپا
05:11میں نے 8 سکھوں کے کمانڈنگ آفیسر کو تنبیہ کی تھی کہ ٹائگر ہل ٹاپ پر کسی بھی کمک جوابی حملے کو روکنے کے لیے
05:18دو افسران کے ساتھ تقریباً 50 اہلکاروں کو جنوب مغربی لائن پر اتارنے کے لیے تیار رکھیں
05:254 جولائی 1999 کو 18 گرینڈیرز کے کیپٹن بلون سنگھ کی سربراہی میں
05:30گھاٹک پلاتون ٹائگر ہل ٹاپ پر قبضہ کرنے میں کامیاب ہو گئی
05:34لیکن جنگ ابھی جاری تھی
05:3618 گرینڈیرز کے دیگر دستوں کے ساتھ پلاتون کی حمایت کے لیے روانہ ہو گئے تھے
05:41انہوں نے کہا کہ دری آسنات جنوب مغربی لائن سے ممکنہ جوابی حملے کا خدشہ رکھتے ہوئے
05:48میں نے 8 سکھوں کو حکم دیا
05:50جن میں 52 اہلکاروں پر مشتمل دو افسران چار جونئر کمیشن آفیسر اور چھتالیس سپاہی کو پکڑنے کے لیے
05:57خصوصیت کوڈ نیم انڈیا گیٹ اور ہیلمٹ انہوں نے کہا کہ بھیجا گیا تھا
06:03دن کی روشنی میں مشاہدہ کرنے اور دشمن کے شدید توپ خانے اور دیگر فائٹ سے بچنے کے لیے
06:10آٹھ سکھ ایک خوشک نالے کے پیچھے چلے
06:12اور پانچ جولائی کی پہلی روشنی تک دشمن کی دو چوکیوں پر قبضہ کرنے کے بعد پوزیشن میں تھے
06:17ریڈیو انٹرسپشن سے کسی بھی وقت جوابی حملے کا امکان ظاہر کیا گیا تھا
06:22پاجوا نے کہا کہ اگلی صبح تقریباً 6.45 پر پہلا جوابی حملہ 20 آدمیوں کی ایک کمزور پلائٹون نے کیا تھا
06:31جس سے آٹھ سکھوں نے پیچھے چھوڑ دیا
06:33لیکن اس کے بعد وہ کیا ہی دیکھتے ہیں کہ دو پاکستانی افسران
06:39بعد نے بارہ نورڈرن لائٹ انفنٹری کے کیپٹن کرنل خان اور سپیشل سرویس گروپ کے میجر اقبال کے نام سے شناکت کیے گئے
06:47کہ قیادت میں ایک شدید حملے میں تین جیسیوز ہلاک ہو گئے
06:52پاجوا نے مزید کہا کہ اس حملے کو توپ خانے سے مدد فرہم کی گئی
06:57انہوں نے باقی ہندوستانی فوجیوں کو دوسرے مقام پر واپس جانے پر بری طرح مجبور کر دیا تھا
07:02انہوں نے کہا کہ ایک وقت میں ایسی صورتحال پیدا ہو گئی تھی
07:06جس میں ہمارے دونوں افسران زخمی ہوئے
07:08جن میں تین اور پندرہ فوجی ہلاک ہو گئے تھے
07:12اس کے علاوہ اٹھارہ فوجی زخمی ہو گئے تھے
07:15اور یہ سارے حملے کرنے والے صرف دو فوجی جوان تھے
07:18جن میں سے ایک کیپٹن کرنل خان تھے
07:21اس موقع پر بریگیڈیر باجوا نے کہا کہ سب سے آگے کے سپاہی سپاہی ستپال سے ان سے بات کی
07:27اور انہیں معلوم ہوا کہ کیپٹن خان جو حملے کی خیادت کر رہے تھے
07:32وقتن فوقتن باقی فوجیوں کو آگے بڑھنے کی ترغیب دے رہے تھے
07:36انہوں نے محسوس کیا کہ پاکستانی افسر کو ہٹانا ضروری ہے
07:40ورنہ یہ حملہ ہم نہیں جیت سکیں گے
07:42اور کیپٹن کرنل شیر خان کے ان شدید حملوں سے
07:46ڈر کے دشمن نے کیپٹن خان کو دس گھس سے گولی مار دی
07:51باجوا کہتے ہیں کہ جب ہم نے کیپٹن کرنل شیر خان کی لاش کو نیچے اتارا
07:56تو ان کی جیب میں ان کی اہلیا کے اردو کے لکھے ہوئے خط ملے
08:01تو باجوا نے کہا کہ کیپٹن واقعی بہت بہادری سے لڑے تھے
08:06میت کو دلی روانہ کرنے سے پہلے باجوا کہتے ہیں
08:09کہ انہوں نے اپنے جنرل آفیس کماننگ کو خان کی بہادری سے آگاہ کیا
08:14اور تعریفی خط لکھنے کی خواہش کا ازار کیا
08:17اور کہا کہ کیپٹن خان نے بہت بہادری سے جنگ لڑی ہے
08:20اور ان کی قدر کرنی چاہیے
08:22باجوا نے کرنل شیر خان کی جیب میں ایک کاغذ کا ٹکڑا
08:27جو کہ ہاتھ سے لکھا گیا تھا ان کی جیب میں رکھا
08:29گل تنازہ میں ایسے ہی پاکستانی فوج کی کیپٹن کرنل شیر خان
08:35شہید ہوئے جن کو رہتی دنیا تک یاد رکھا جائے گا
08:39نظر اللہ پہ رکھتا ہے مسلمانِ غیور
08:43موت کیا شہ ہے فقط عالمِ مانی کا سفر
08:47کرنل شیر خان کو ان کی شہادت کے بعد متعدد اوارڈ سے نوازا گیا
08:53اور سب سے بڑا اوارڈ نشانِ حیدر ان کے نام کیا گیا
08:58کرنل شیر خان کے آبائی شہر نوے قلعے کا نام بدل کر کرنل شیر خان قلعے رکھ دیا گیا
09:05ان کے آبائی شہر میں ایک مقبرہ قائم کیا گیا جہاں ان کا جست خاکی رکھا گیا
09:10ہر سال پاکستانی حکومت پاکستان کی مسلح افواج اور دیگر مقامی لوگ نماز پڑھنے کے لئے مقبرے پر جاتے ہیں
09:18آبائی شہر کرنل شیر خان شہید کے قریب گاؤں اسمائیلیا میں ایک کیڈٹ کالج ان کے نام پر رکھا گیا ہے
09:25یہ مردان سوابی روڈ پر مردان کے قریب تقریباً وسط میں واقع ہے
09:30اس تک گرینڈ ٹرنک روڈ سے نوشہرہ مردان کے راستے اور موٹر وے پر
09:35جو کہ ایم ون سوابی یار شکع انٹرچینڈ سے بھی رسائی حاصل کی جا سکتی ہے
09:41پاکستان کے دار الحکومت اسلام آباد کے ایف الیون سیکٹر میں ایک سڑک ان کے نام سے منصوب ہے
09:47ملک بھر میں فوجی چھاؤنیوں میں کئی سڑکیں ان کے نام سے منصوب کی گئی ہیں
09:52سرِ خاکِ شہیدِ برگِ حائے لالا می پاشم
09:57کے خونش با نحالِ ملتِ ما سازگارِ آمد
10:02تو ناظرین یہ تھی کرنل شیر خان شہید کی سوانِ حیات
10:06امید ہے آپ کو ہماری باقی ویڈیوز کی طرح یہ ویڈیو بھی پسند آئی ہوگی
10:11اپنا فیڈبیک ہمیں کومنٹس کے ذریعے بتانا بالکل مت بھولئے
10:15ہماری اس ویڈیو کو لائک اور شیئر بھی کر دیں
10:19اور ساتھ ہی ہمارے چینل پاکستان بائیگرفی کو سبسکرائب بھی کر دیں
10:23ابھی تک کی ہماری تمام ویڈیوز کو پسند کرنے کا بہت شکریہ
10:28ملتے ہیں آپ سے اپنی اگلی ویڈیو میں
10:30اللہ حافظ
Comments