00:00لاہور میں عوام کے 110 ملین روپے سے تیار ہونے والی بائیکرز گرین لائن کو گیس پائپ لائن ڈالنے کے لیے اکھار دیا گیا
00:09غریب عوام کا پیسہ جو اضائع کر رہے ہیں
00:11جب انہوں نے کام کر لینا ہوتا ہے پھر انہیں یاد آنا جی گیس کے پائپ بھی ڈالنے ہیں
00:16گرین لائن ڈالی گئی اس کی وجہ سے ایکسیڈنٹ کے ریٹ بڑھ گیا
00:18وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز صاحبہ کی ہدایت پر لاہور کے اندر ایک گرین لائن بنائی گئی
00:27جسے بائیکر لائن بھی کہا گیا جس کا مقصد یہ تھا کہ چنچی رکشے بائیکز کا جو گزر ہے وہ اس لائن کے ذریعے ہو
00:36لیکن اگر ہم اس کی لاغت کی بات کریں تو 110 ملین کا یہ پروجیکٹ چند ماہ کام کرنے کے بعد بنایا گیا
00:45جس کے ساتھ یہ ڈیوائیڈر بنائے گے اور یہ اشارہ دن ریڈ کلر کے یہ پوائنٹس بنائے گے
00:51جس سے پتا چلتا ہے کہ یہ گرین لائن کی طرف بائیکز جائیں گی
00:55چند ماہ اس پر کام ہوا اسی کے بعد آج کی تاریخ میں اسی گرین لائن پر موجود ہیں
01:01آپ کو ایک مزے کی چیز بتاتا ہوں یہ میں گرین لائن پر کھڑا ہوں یہ میں گیس پائپ لائن کے پروجیکٹ پر کھڑا ہوں
01:08یہ گرین لائن ہے یہ پھر سے گیس پروجیکٹ جو پائپ لائن ڈالیں گا یہ وہ ہے
01:14110 ملین روپے کی لاغت سے تیار ہونے والا یہ منصوبہ چند ماہ کے بعد دوبارہ سڑک کو اکھڑا گیا
01:21اور عوام کی سہولت کے لیے ایکسیڈنٹ سے بچانے کے لیے بنائی جانے والی گرین لائن کو دوبارہ سے توڑ دیا گیا
01:30اور عوام ناس کے لیے اسے بند کر دیا گیا
01:33یہ فیروزبور روڈ اگر ہم کلمہ چوک سے قصور کی طرف تو یہ اس جگہ پہ واقعہ ہے
01:39جس کے سامنے حمید لطیف ہوسپیٹل بھی آتا ہے
01:42اس کا جو دوسری طرف روڈ ہے
01:44اس پروجیکٹ کے اندر جتنے پیسے لگے میرا پنجاب حکومت سے سوال ہے کہ کیا عوام کو اس کا فائدہ ہوا
01:51اس کے اگر ہم ڈیٹیل میں بات کریں تو سب سے پہلے جب یہ منصوبہ بنایا گیا
01:57اس پر ایک سو دس ملین روپے لگائے گئے
01:59اسی کے بعد ایک بارش لاہور کے اندر ہوتی ہے
02:03اور اس منصوبے کی اصل حقیقت عوام پر روشناس ہوتی ہے
02:08ہوتا گیا ہے کہ یہ گرین کلر یہ گرین لائن کے اندر جب بارش اوپر سے پڑتی ہے
02:13چند گھنٹے کی بارش کے بعد یہ ٹوٹل کلر اتر جاتا ہے
02:18سب سے پہلا اس کا راز یہ فواش ہوتا ہے کہ اس کے اندر کس نویت کا کام کیا گیا
02:24اسی کے بعد ہوتا یہاں پر کیا ہے کہ جیسے ہی رنگ والی ہم سامنے دیکھتے ہیں
02:30کہ گرین لائن کے اوپر سے رنگ مکمل طور پر اتر گیا
02:33اسی کے بعد اگلا سوال عوام کی جانب سے
02:36کہ کتنے پرسنٹ لوگ اس گرین لائن کا استعمال کر رہے تھے
02:41میں آپ کو دکھاتا ہوں اسی ویڈیو کے اندر لائف ثبوت
02:45یہ موٹر سائیکل آ رہے ہیں
02:47یہ موٹر سائیکلوں کی تعداد میرا کیمرہ میں آپ کو دکھائے گا
02:51اور دوسری جانب آپ دیکھ سکتے ہیں
02:53رکشے بائکس وہ استعمال ہو رہی ہیں مین روڈ پر
02:58کوئی ٹریفک وارڈن یہاں پر موجود نہیں ہے
03:01کوئی پولیس والا یہاں پر موجود نہیں ہے
03:04جو عوام کے اندر شعور اجاگر کر سکے
03:06اور یہ ہم نے خوشتہ چار ماہ کے اندر دیکھا
03:09کہ کوئی بھی ایسا یہاں پر ہدایات نہیں لگائے گئی
03:13دوسری جانب اگر میں اسی روڈ گرین لائن جو ابھی
03:16اکھاڑی گئی ہے گیس پائپ لائن پروجیکٹ کے لیے
03:19کوئی یہاں پر لگایا نہیں گیا
03:22بتانے کے لیے اطلاع دینے کے لیے
03:23کہ یہاں پر کام جاری ہے جو مرضی بندہ ادھر سے آتا ہے
03:27ادھر جلدہ جائے
03:29یہ گرین لائن کو اکھاڑ دیا گیا
03:31عوام کے لیے بند کر دیا گیا
03:33اور بتایا بھی نہیں گیا
03:34اور سب سے حیران کن جو بات ہے
03:37جس انجینئر کی جانب سے یہ پاس کیا گیا
03:40کہ سب سے نیچے والے حصے کے
03:41اتنا چھوٹا سا ایریا جہاں پر صرف سے
03:45چار سے پانچ بائکس گزر سکتی ہیں
03:47ایک ٹائم کے اندر
03:48وہاں پر صرف ڈیوائیڈر چھوٹا سا لگا گیا
03:51جسے ہم چار انچ کا ڈیوائیڈر کہہ سکتے ہیں
03:54چار انچ کے ڈیوائیڈر لگانے کے بعد
03:57کوئی اشارہ نہیں لگایا گیا
03:59کوئی بندہ یہاں پر حکومت کا موجود نہیں ہے
04:02ٹریفک وارڈر موجود نہیں ہے
04:04جو اطلاع دے سکے
04:05اور دوسرا سب سے بڑا سوال یہ ہے
04:08کہ جب یہ آپ نے بنانا ہی تھا
04:11کیس پائپ لائنگ ڈالنی ہی تھی
04:12تو یہ پروجیکٹ نہ شروع کرتے
04:14یہ ایک سو دس ملین روپے تعلیم پر لگ سکتے تھے
04:18کسی ہسپتال پر لگ سکتے تھے
04:19عوام سے بھی جانتے ہیں
04:21عوام کی رائے عوام کیا کہتی ہے
04:23یہ انہوں نے غلط کیا
04:26یہ غریب عوام کا پیسہ جو ازائیں کر رہے ہیں
04:29ان کو چاہیے ایسے کاموں کو چھوڑ کے غریب عوام کو رلیگ دیں
04:33چیزیں سستی کریں
04:34اور ایسے یہ کام ابھی ہے
04:36انہوں نے توڑ دیا پیپ گیس لائنگ ڈالنے کے لیے
04:38انہیں پہلے نہیں پتا تھا کہ یہ کام کرنا ہے
04:41تو پہلے ہی کر لیتے ہیں
04:42ایسے فضول خرچی کر رہے ہیں
04:43یہ استعمال بھی کرتے ہیں لائنیاں نہیں استعمال کرتے ہیں
04:46یہ تقریباً بیس فیصد بھی لوگ نہیں استعمال کرتے
04:49زیادہ آپ خود ہی دیکھ لیں
04:51یہ دیکھو وہ اس سائیڈ پہ جا رہے ہیں
04:53اس کو فالو ہی نہیں کرتے
04:54اس کا کوئی مقصد ہی نہیں ہے
04:56ایسے پیسے زائیں گی ہیں
04:57انہوں نے انہیں چاہیے غریبوں پہ خرچ کر دیں
04:59تو وہ بہتر کر دیں
05:00انسانوں دہ پہ لوگوں
05:04ایک دیوی چواجدے ہیں
05:05اگڑیاں پر چڑ جندیوں نے
05:08پہلے انہیں یاد نہیں ہوتا کہ انہوں نے کام کرنا کیا ہے
05:17جب انہوں نے کام کر لینا ہوتا ہے
05:19تو پھر انہیں یاد آنا جی
05:20گیس کے پائپ بھی ڈلنے ہیں
05:22ابھی سی وی چیز بھی ڈلنے ہیں
05:23اور مختلف قسم کے کام جو انہیں بعد میں یاد آجاتے ہیں
05:26سننے میں آتا ہے کہ یہاں پر اس ڈیوائیڈر کی وجہ سے
05:30گاڑیاں بڑی ایکسیڈنٹ کا سبب بن رہی ہیں
05:32کیا سمجھتے ہیں ایسا ہوتا ہے یا افواہیں ہیں
05:36جی کئی دفعہ میں نے بھی دیکھا ہے کہ ایکسیڈنٹس ہوتے ہیں
05:39اور ایسے انسیڈنٹس جو ہیں وہ پیچھ آتے رہتے ہیں
05:43جو گاڑیاں ہوتی ہیں وہ چلتی مین روڈ پہ ہی ہیں
05:46حالانکہ اس کا کوئی بینیفیٹ نہیں ہے جو ہمیں انہوں نے پروائیڈ کیا
05:49یہ گرین در
05:50کوئی وارڈن مغیرہ بھی کھڑا ہوتا ہے
05:52ایدر گرین لائن کے تر
05:53میں نے کبھی نہیں دیکھتا
05:55پیسہ لگائے تھے عوام کا
06:00دوبارہ پھر وہ اسے توڑ دیتے ہیں
06:02دوبارہ پھر بنا لیتے ہیں
06:03اسی طرح پورے لہور کا پروڑیٹیڈوں نے ایسے کیا ہے
06:06مطلب بنی بنائی چیز کو تور دیتے ہیں
06:08دوبارہ پھر وہ عوام کا ہی پیسے سے وہ ہی کار لیتے ہیں
06:10موڈ لینے کی خاطر ہے
06:12یہ ہی ہے سنتے ہیں
06:13اچھا یہ جو گرین لائن ہے بائیک لائن بنائی گی ہے
06:16بائیکر لائن
06:16اس کو استعمال بھی کرتی ہیں عوام یا نہیں
06:19یہ بائی جانے یہ پہلے ہی بات ہے
06:20انہیں بنانے نہیں چاہیے چاہیے تھی
06:21کیونکہ اوپر سے گاری آتے ہیں
06:33کوئی مین سے ہی سب لوگ جا رہے ہیں کوئی بھی نہیں
06:36جب سے بنائے تب سے یہی ہے
06:38تب سے یہی ہے
06:39تو توڑا بھی گیا ہے پہلے پیسے لگائیں اب توڑ دیا گیا
06:42بس ہماری پیسے ہیں نا
06:44اپنے خود سے لگے ہوتے تو نہ کرتے
06:47ایک سو دس ملین روپے لگے ہیں یہ کئی اور بھی لگ سکتے
06:50کوئی سکول بن سکتا تھا
06:52کوئی بھی ایسی چیز بن سکتی تھی قریبوں کے لیے
06:55کیا سمجھتے ہیں یہ کیسا کام ہے
07:00عوام کوئی فائدہ ہو رہا ہے اس سے
07:01عوام کوئی نقصان ہو رہا ہے اس سے
07:03کیونکہ جب یہ گرین لائن ڈالی گئی
07:05اس کی وجہ سے ایکسیڈنٹ کے ریٹ بڑھ گیا
07:07کافی ساری چیزیں میں اکثر صبح ہی در سے ٹریول کرتا ہوں
07:10اور وہ آ کے ان میں کوئی ٹرک بغیرہ بجاتا ہے
07:12اس کے بعد اس کو فولو کوئی عوام نہیں کر رہی تھی
07:14تو یہ بس ایک اسی طرح پڑی ہوئی تھی
07:16اب انہوں نے ایک نئی چیز کی ہے کہ اس کو کھوڑ کے
07:18اب اس میں گیس لائن ڈال لیں
07:19اب جب وہ گیس لائن ڈال لیں گے اس کو دوبارہ سے بنائیں گے
07:21تو اس میں عوام کا تو ہو رہا ہے نقصان
07:23ہمارے سارے ٹیکس کے پیسے اسی میں جا رہے ہیں
07:25ایڈنین جو بزنسز جن سے کمارے ہیں ان کو فائدہ ہو رہا ہے
07:29اچھا اس کی جگہ کون سا ایسا پروجیکٹ ہے جو عوام کے لیے بنایا جاتا
07:32عوام اس سے مستفید ہو پاتی
07:35اچھا ایسے بہت سارے پروگرام میں جو کیے جا سکتے
07:37لیکن جو فرسٹ او فول ہے کہ کافی چیزوں کو سولرائز کر دی ہے
07:40جیسے کافی ساری پلیسیز ہیں وہ دھوپ میں پڑی رہتی ہیں
07:43اور اگر ان پر اگر ہم سولر پلیٹس انکلیمنٹ کر دے
07:45تو اس سے عوام کو فائدہ ہو سکتا ہے
07:46کیونکہ بجلی جنریٹ ہوگی
07:48اور جو ہم ڈیپلیشن میں اس کی جانتے ہیں
07:49ایڈیوکیشن پر لگ سکتا تھا
07:50ایڈیوکیشن میں بھی لگ سکتا ہے
07:52ایڈیوکیشن سیکٹر ہمارا کافی زیادہ سٹرگل کر رہے
07:54اس میں لگ سکتا ہے بالکل
07:55ناظرین اس وقت میں موجود ہوں
08:00اچھرا کے قریب جو فلائی آور ہے
08:03جو گزرتا ہے کسور کی جانب
08:05یہاں پر بھی آپ گیس کی وہ پائپ لائنز موجود ہیں
08:09جسے آپ دیکھ سکتے ہیں
08:10پائپ جو رکھے گئے ہیں
08:13اس بات کا یہ ثبوت دے رہے ہیں
08:15کہ آنے والے ایک دو دن کے اندر
08:18یہاں پر جو گرین لائن ہے
08:20اس کو بھی اکھاڑا جائے گا
08:22اور گیس پائپ لائن اس کے اندر ڈالی جائے گی
08:25لیکن سوال یہاں پر یہ ہے
08:27کہ گرین لائن جو بائیکر لائن بھی کہی جاتی ہے
08:31اس کا استعمال کیا تھا
08:33تاکہ بائیکس رکشہ اور جو دوسری گاڑیاں ہیں
08:37وہ یہاں سے گزر سکیں
08:38لیکن اگر میرا کیمرہ مین دکھا سکے
08:40مین روڈ کی جانب
08:42تو سوال یہ ہے کہ سو میں سے
08:44صرف دو بائیکس یہاں گرین لائن استعمال کر رہی ہیں
08:47اور باقی رکشہ موٹر سائیکل
08:50جو دوسری چنگچی ہیں
08:52وہ آپ دیکھ سکتے ہیں
08:53وہ دوسرے روڈ سے گزر رہی ہیں
08:56گرین لائن کا استعمال نہیں ہے
08:58روڈ پر جو بائیک چلنی ہے
09:00رکشہ چلنا ہے
09:01یا چنگچی چلنی ہے
09:02اس کو باقاعدہ طور پر
09:04قانون ڈافذ کرنے کے لیے
09:06کوئی وارڈن یہاں پر موجود نہیں ہے
09:09یا ادھر پیچھے اشارے پر موجود نہیں ہے
09:12جو اطلاع دیکھ
09:13کائل کرے
09:14کہ آپ نے یہ والی لائن استعمال کرنی ہے
09:18اپنی بائیک چلانے کے لیے
09:19ون میں بھی آپ دیکھ سکتے ہیں
09:21لوگ آ رہے ہیں
09:22کوئی پوچھنے والا نہیں
09:23دوسری جانب روڈ دکھایا جائے
09:25تو ٹوٹل بائیک رکشے
09:27وہ روڈ استعمال کر رہے ہیں
09:29آخر اس گرین لائن کا مقصد کیا ہے
09:32اتنا پیسہ کیوں لگایا گیا
09:34جب اس پر قانون ہی نہیں بنایا جائے گا
09:37کوئی جو ٹریفک وارڈنز ہیں
09:40ان کی ڈیوٹی نہیں لگائی جائے گی
09:41عوام کے اندر شعور نہیں پیدا کیا جائے گا
09:44آنے والے دنوں میں یہ بھی توڑا جائے گا
09:47اس کے اندر بھی پائیپ لائن ڈالے جائیں گی
09:49جو گیس کا پروجیکٹ اب بنایا جا رہا ہے
09:51یہ جتنا بھی روڈ ہے
09:53کذافی سٹیڈیم سے آگے
09:54اور اس کے بعد جو چلڈرن ہسپیٹل ہے
09:57اس کے قریب تر
09:58یہ پائیپ لائن ڈالی جا رہی ہے
10:00وہاں پر بھی آپ کو لے کے چلیں گے
10:02اور دکھاتے ہیں
10:03کہ وہاں پر کس طرح
10:04عوام کا پیسہ
10:06مٹی میں ملایا جا چکا ہے
10:08موسیقی
Comments