00:00Firaun کو پھر تھوڑا شاک ہوا
00:01ایک روایت یوں بھی لکھی ہے بعض لوگوں نے
00:05کہ Firaun ایک دن اٹھایا ہوا تھا
00:06حضرت موسیٰ کی ابھی تھوڑی سی عمر تھی
00:08تو آپ نے اس کی داڑی پکڑ کے تو ایک گھنسہ دے مارا
00:10جلالی تو شروع سے ہے نا
00:12تو کہنے لگا
00:13آسیا تو مان نہ مان یہ بچہ وہی ہے
00:15تو حضرت بی بی آسیا کہنے لگی کہ
00:19تجھے غلط فہمی ہے یہ وہ نہیں ہے
00:21اس نے کہا دیکھو نا یہ تو اٹھاتی ہے تو پیار کرتا ہے
00:25اور میرے جب قریب آتا ہے تو اس کے لب و لہج میں
00:28میں تلخی محسوس کرتا ہوں
00:30اس نے کہا بچوں کو کیا پتا
00:31خیر ایک طرف اس نے کھانے پینے کی چیزیں رکھتی
00:35ایک طرف انگارے رکھ دیئے
00:36وہ بھی حضرت یع سیا کہتی ہے کہ تجھے سمجھ آئے
00:38بچے بچے ہوتے
00:39حضرت موسیٰ بچے تو تھے پر تھے تو اللہ کے نبی نا
00:43اللہ کے نبی تھے
00:45جب اس نے کہا نا یہ بچے ہیں
00:46تو حضرت موسیٰ علیہ السلام بجائے
00:49انگاروں کی طرف جانے
00:51کہ نبی تھے وہ سیدھے کھانے پینے والی
00:53چیزوں کی طرف بڑھنے لگے
00:54پھر انہوں نے لگا آپ بتا
00:56اللہ تعالیٰ نے حضرت جبریل کو بھیجا
00:58انہیں کہا ادھر نہیں جانا آپ ادھر جائیے
01:01تو آپ آگ کی طرف گئے
01:03اور ایک کوئلہ اٹھا کے زبان پر رکھ لیا
01:05تو آپ سے یہ کہنے لگی سمجھ آئی
01:07بچے کو کیا بدا کدھر جانا ہے کدھر نہیں جانا
01:09اگر وہ اتنا ہی خیال ہوتا
01:11وہی بچہ ہوتا تو آگ
01:13اور بعد مفسرین نے لکھا ہے
01:14یہ جو حضرت موسیٰ دعا مانگتے تھے
01:17رب شرح لی صدری و یا سر لی امری
01:19یہ وہ آگ کا انگارہ
01:21جب کوئلہ موں میں رکھاتا
01:22تو اس کی وجہ سے زبان میں کچھ لکنت آگئی
01:25تو آپ دعا کرتے تھے
01:26کہ یا اللہ میری زبان کی وہ بند گرہ کھول دے
01:29تاکہ میں کھل کے
01:31فیرون کے سامنے بات کر سکوں
01:33وہی حضرت موسیٰ پلنے لگے
01:35وہی پلے
01:37وہی جوان ہوئے
01:38وہی اللہ نے ساری دولتیں دی
01:40بہن بھی ملی
01:41ماں بھی ملی
01:42اور سارے عزیزوں کا پیار بھی ملا
01:45اسی گھر کے اندر اللہ نے پرورش کر کے
01:48فیرون کے ظلم سے بنی اسرائیل کو نجات عطا فرمائے
01:51موسیٰ پھر فیرون کے گھر میں پلنے لگے
01:54اور جب جوان ہو گئے
01:57تو فیرون کے ہاں جو ظلم ہوتا تھا
02:00حضرت موسیٰ اس پر بول پڑتے تھے
02:02جلال فرماتے
02:04تو فیرون پھر نراز نراز رہنے لگا
02:06یہاں تک کہ اس نے آپ کو نکال دیا
02:08آپ تشریف لے گئے وہاں سے
02:11تو حضرت موسیٰ ایک دن شام کے وقت
02:16دوبارہ آئے بستی میں
02:18لوگ سوئے ہوئے تھے
02:19تو دو آدمی
02:21ایک بنی اسرائیل میں سے
02:23اور ایک فیرون کی اپنی قوم میں سے
02:26وہ دو نافت میں جھگڑ رہے تھے
02:28لیکن وہ جو حضرت موسیٰ کی
02:32بنی اسرائیل کی قوم کا شخص تھا
02:34اس پر وہ قب تھی
02:35وہ جو فیرون کے قریبی لوگوں میں سے تھا
02:38وہ ظلم کر رہا تھا
02:39اور بودھ اٹھانے کی بات کر رہا تھا
02:41اب اس نے حضرت موسیٰ کو پکارا
02:44کہ یہ دیکھیں میرے ساتھ کس طرح کی بات کر رہا
02:46تو حضرت موسیٰ کا ارادہ بھی نہیں تھا
02:49آپ نے بس اس کو سمجھایا
02:50آپ اور کچھ لوگوں کو سمجھ
02:51تو حضرت موسیٰ نے پھر ایک مکہ مارا
02:54ایک گھنسہ مارا صرف ایک ہی
02:57ایک ہی
02:59یہ کئی تگڑے اور دلیر اس طرح کے بھی ہوتے ہیں
03:01کہ گھنسہ ایک بھی برداشت نہیں کرتے
03:03وہ ایک مارا آدمی دھڑام سے زمین پہ گرا
03:06اور ماری گیا
03:07حضرت موسیٰ کا ارادہ نہیں تھا
03:10ایک ہم مر گیا
03:11حضرت موسیٰ علیہ السلام نے
03:15اس بات پر اپنے رب سے استقوار بھی فرمائی
03:17قرآن کہتا ہے کہ انہوں نے معافی جائی
03:19کہ اللہ میرا ارادہ نہیں تھا
03:21بہرحال
03:22اگلے دن نا
03:24حضرت موسیٰ دوبارہ آئے
03:26موسیٰ دوبارہ آئے
Comments