00:00اور آج کی بارات کے دولہ سنجے راؤت صاحب
00:04یہ انسان کے شریر میں جو اس کے سر کے اندر ایک چیز ہوتی ہے جسے ہم مستش کہتے ہیں
00:15دماغ کہتے ہیں
00:17یہ کجیب کمپیوٹر ہے
00:19یہ ہمارے جنم لینے سے پہلے چلنا شروع کر دیتا ہے
00:23اور پھر ہم جنم لیتے ہیں
00:27تو یہ 24-7 چلتا ہی رہتا ہے
00:31ہم سو جائیں ہم بے ہوش ہو جائیں
00:33ہمارا مستش جو ہے برین جو ہے وہ چلتا ہی رہتا ہے
00:38وہ سپنے دیکھتا ہے کچھ کرتا ہے لیکن کام کرتا رہتا ہے
00:42اور کبھی کبھی جب ہم میڈیکلی ڈیڈ اناؤنس کر دیے جاتے ہیں
00:50پھر روایب ہوتے ہیں
00:52تب بھی وہ چڑھ رہا ہوتا ہے
00:54پورے جیون میں یہ جو برین ہے یہ ایک ہی بار رکتا ہے اور پوری طرح رک جاتا ہے
01:03جب آپ کو ایک ایسی کتاب کے بارے میں بولنا پڑتا ہے جو آپ نے پڑھی نہیں ہے
01:08اب اگر آپ پستک کے بارے میں نہیں بول سکتے تو پھر چوئس یہ ہوتی ہے کہ پستک کو لکھنے
01:17کبھنے کے بارے میں گھڑی نہیں میرے پاس لیکن شاید ابھی
01:23آئی پی ایل میچ شروع ہو گیا ہوگا کئی دنوں سے رکا ہوگا تھا
01:27ہمارے سنجے جی بھی بائی چمپرمنٹ ٹی ٹوینٹی کی پلیئر ہے
01:33یہ
01:35بیک و فوٹ پہ بول روکنے کو نہیں مانتے
01:41یہ کریس سے باہر نکل کے چوہ اور شکہ ہی مارتے
01:45اور انہیں ڈر نہیں لگتا کہ ہو سکتا اس ٹم بھی ہو جائے
01:51مگر یہ تو بول کو باہری نکالنے کی فکر میں رہتے ہیں
01:56میری ان سے کیسے پریشہ ہوا اور کیسے اتنا محبت کا رشتہ بنا
02:03یہ میں تھوڑا سا آپ کو بتانا چاہوں گا
02:06جیسے کسی بھی جنتانتر میں ایک اسمبلی ایک پارلیمنٹ کی ضرورت ہے
02:13الگ الگ وچاردارہ کی پارٹیوں کی ضرورت ہے
02:16ان میں الیکشن کی ضرورت ہے
02:19ایک اگر ہو سکے
02:21تو ایماندار میڈیا کی بھی ضرورت ہے
02:26اسی طرح ایسے ناغرک بھی ہونے چاہیے
02:37جو کسی پکارٹی کے نہ ہوں
02:39انہیں جو بات سکھ لگے کہیں
02:41جو بات بری لگے وہ کہیں
02:44پارٹی لائلٹی نہیں کوئی
02:47سب پارٹی ہماری اور کوئی پارٹی بھی ہمارے دن ہے
02:50تو میں بھی انہی میں سے ایک ہوں
02:53تو نتیجہ کیا ہوتا ہے
02:56کہ اگر آپ ایک طرف سے بات کر رہے ہیں
02:59تو ایک ہی لوگوں کو ناخش کریں گے
03:01لیکن اگر ہر طرف سے بات کر رہے ہیں
03:03تو بہت زیادہ لوگوں کو ناخش کرتے ہیں
03:05میں کبھی آپ ملیے گا
03:08الگ
03:08تو میں دکھاؤں گا
03:10اپنا آپ کو
03:10ٹویٹر
03:11اپنا
03:12واتس اپ
03:15جس میں مجھے
03:16دونوں طرف سے گھلیاں آتی ہیں
03:19ایسا نہیں ہے
03:21میں بہت
03:22ٹھینکلے سوں گا
03:23اور یہ نہ کہوں کہ
03:24بہت سے لوگ
03:25اپیشیٹ بھی کرتے ہیں
03:26بہت سے لوگ
03:27حمد بھی بڑھاتے ہیں
03:28تعریف بھی کرتے ہیں
03:29پرشنسہ بھی کرتے ہیں
03:31لیکن یہ بھی سچ ہے
03:32کہ مجھے
03:34ادھر سے بھی جو
03:35ایکسٹریمیس کا گالی دیتا ہے
03:37اور ادھر کا ایکسٹریمیس بھی گالی دیتا ہے
03:39یہی صحیح ہے
03:40اگر ان میں سے ایک نے گالی دینا بند کر دی
03:43تو مجھے پریشانی ہو جائے گی
03:44کہ میں کیا گڑ بل کر رہا ہوں
03:46تو یہ کہتے ہیں
03:48کہ تو تو کافر ہے
03:51اور جہنم میں جائے گا
03:53وہ کہتے ہیں
03:56جہادی پاکستان چلا جا
03:58اب اگر میرے پاس
04:01صرف چوئیس پاکستان
04:02اور جہنم یعنی نرکی ہے
04:04تو میں نرکی جانا پسند کروں
04:07اگر یہی بس چوئیس ہے
04:12تو ہوا یہ کہ
04:15جب سے میں ممبئی
04:17تو میں آیا تھا
04:17سالے انیس سال کا تھا
04:19جو کچھ بنا
04:20جو کچھ مجھے ملا
04:22جو کچھ جہاں بھی تو پہنچا
04:24یہ سب ممبئی کی مہاراش کا کرم
04:27تو تو میں سات جنم بھی نہیں ہوتار پاؤں گا
04:32تو اچنے
04:35پہلے تو ہم دوسرے کاما
04:37پیچھے سمجھے تیس برسوں میں کچھ ہو شایا
04:40کہ بھئی یہ سب بھی سوچو کیا ہو رہا ہے
04:42دیش میں
04:42تو یہ سب باتیں شروع ہوئیں
04:46تو ہوا یہ کہ
04:47پتھلے تیس برسوں میں
04:48چار بار مجھے پولیس پروٹیکشن ملا
04:51اور میں نے مانگا نہیں کبھی
04:54میں جب گھر واپس آیا
04:56کسی ریکارڈنگ سے
04:57شوٹنگ سے
04:57تو دیکھا پولیس بیٹھی ہوئی ہے
04:59تو میں نے بھائی کیوں ہوں
05:00تو کہنے نہیں ہوا
05:02ہمیں کمشنر صاحب نے کہا ہے
05:03کہ آپ کو
05:04تھریٹ پرسیپشن ہے
05:06تو ہم آپ کو بٹھا رہے ہیں
05:08چار بار میں سے
05:09تین بار مجھے مللاؤں کی وجہ سے
05:12یہ بلکل ریکارڈ پہ ہے
05:15پہلی بار جب
05:17اے ان روی صاحب تھے
05:18یہاں کے
05:19چیف آب دو پولیس
05:21انہوں نے
05:22لیا تھا
05:24اور تب ہی میرے ان سے
05:25ملاقات بھی
05:26میں تو جانتا نہیں تھا
05:27میں نے ایسے تب تک
05:28کوئی کام کیا نہیں تھے
05:29کہ مجھے پولیس سے ملنا پڑے
05:31اور یہ تین بار کے بعد
05:35ایک بار ایسا ہوا
05:36کہ دوسری طرف سے آ گیا
05:38اور جو الزام مجھ پہ لگا تھا
05:40وہ ٹھیک نہیں تھا
05:42تو میں نے سوچا
05:44اب یہ بیس پچیس لوگوں کو
05:45میں کہاں الگ الگ جواب دوں گا
05:47اور میں بتاؤں گا
05:49کہ میں نے کیا کہا تھا
05:50اور کیوں کہا تھا
05:52تو میں نے ایک آرٹیکل لکھا
05:55وہ تو میں نے انگلیش میں لکھا تھا
05:57لیکن میں نے سوچا
05:58کہ اسے چھپنا کہا چاہیے
06:00اور میرے دھیان میں آیا
06:02ایک اخبار
06:04سو میں نے اسے مراتھی میں
06:06ٹرنسلیٹ کروایا
06:07اور میں نے فون کیا سنجی جی کو
06:10کہ آپ سے میں ملنا چاہتا ہوں
06:13کہ لے آ جائیے
06:15میں ان کے آفیس گیا
06:16سامنا میں
06:18میں نے کہا
06:19کہ سر میں ایک آرٹیکل دیکھا ہے
06:21جو میں چاہتا ہوں
06:22سامنا میں چھپے
06:23کہیں اور چھپے نہ چھپے
06:25اور میں نے انہیں دیا
06:29وہ آرٹیکل دو تین پیج کا تھا
06:32انہوں نے ایک پانچ منٹ پر پڑھ لیا
06:34کہ نے کس نے ٹرنسلیٹ کیا ہے
06:37بہت اچھا ٹرنسلیٹشن ہے
06:38میں نے کہا پہلی تحریف میری نہیں ہوئی
06:41جس نے ٹرنسلیٹ کیا تھا
06:43اس کی کی آپ کو یاد ہوگا
06:45تو میں نے کہا
06:46بتایا میں نے کفالہ لے
06:48بہت اچھا ہے
06:49اچھا ہے اس نے کیا ہے
06:50تو ابھی تک مجھے نہیں معلوم تھا
06:53کہ یہ چھپیں گے
06:54کہیں گے
06:54یہ چھپ دوں گا
06:55کہ نہیں
06:55تو میں نے کہا
06:56سر پھر میں تو چاہتا ہوں
06:58کہ سامنا میں آئے
06:59اس لیے کہ جو میں نے
07:00لکھا ہے
07:01دل سے لکھا
07:01اور یہی سچ ہے
07:02تو میں نے
07:03دل سے لکھا ہے
07:04سچ ہے
07:05تو ہمیں چھپے گے
07:06اور کون چھپے گا
07:07تو وہ
07:09سامنا میں چھپا
07:11اس کے بعد
07:12وہ اور بھی بہت جگہ چھپا
07:14جو بڑے بڑے پیپرز ہیں
07:16لیکن میں آپ کو
07:17ایک بات بتاؤں
07:18کہ ہر پیپر نے
07:20ہندی کے بھی
07:21انگلیش کے دے
07:22میرا ایک سنٹنس
07:24کہیں سے کار دی جیا
07:25ایک پیرا گراف
07:26کہیں سے کم کر دیا
07:27وہ پورا آرٹیکل
07:29صرف سامنا میں چھپا
07:30یہ سچ
07:34تو میں تو ان کا بھکت ہو گیا
07:37آنکھیں کھول کے
07:39اند بھگت نہیں
07:41اس دنے فیصلہ ہو گیا تھا
07:54کہ اگر یہ کبھی جیل گئے
07:56اور پھر انہوں نے جیل کے بارے میں
07:58کتاب لکھی
07:59اور اس کا ویموچن کیا
08:00اور مجھے بلایا
08:01تو میں جاؤں گا
08:03اسی دنے فیصلہ ہو گیا
08:11چاہی پر انہوں نے جیل دفع کبھی
08:12جیل please
08:24جیل کپ Ahí پھر انہوں نےengine
08:28چھپی کررتا
08:29y تسکی گیا
Comments