Skip to playerSkip to main content
दिल्ली: विदेशी मामलों के जानकार रॉबिंदर सचदेव ने कहा है कि भारत के पास पानी का ब्रह्मास्त्र है जो आने वाले समय में पाकिस्तान के लिए परेशानी का कारण बनेगा। भारत से होकर तीन नदियां पाकिस्तान जाती हैं, अगर भारत मोदी जी के नेतृत्व में उन नदियों पर बांध बनाकर पानी रोकेगा तो थोड़ा समय लगेगा लेकिन उससे भारत जब चाहे पानी के बहाव को मोड़ सकता है। वहीं तुर्किए को लेकर उन्होंने कहा कि टर्की का बहिष्कार होना चाहिए उसने पाकिस्तान को ड्रोन हमला करने में साथ दिया है। टर्की को बॉयकॉट करना है तो वहां टूरिस्ट बनकर जाना बंद कर दें।


#IndiaPakistanTensions #WaterAsWeapon #IndusWatersTreaty #ModiLeadership #PakistanRivers #TurkeyBoycott #TurkishDrones #IndiaNationalSecurity #Geopolitics #SouthAsiaConflict

Category

🗞
News
Transcript
00:00ré پانی کے معاملے کو لے کر پاکستان پریشان دیکھ رہا ہے پاکستان
00:06کو کچھ پریشانی actually immediately بھی ہو جائے گی سوخہ پڑنے کے
00:11آثار ہیں 30% اس سال اس گرمیوں میں پاکستان میں اور اس کے اوپر
00:17بھارت نے اگر تھوڑا بھی پانی ادھر ادھر divert کر دیا روک دیا تو
00:21اس کا compounding effect ہوگا یہ تو immediate میں ہے پاکستان کو جو
00:27problem ہوگی وہ long term میں ہوگی اور اس long term problem میں بھارت ابھی
00:34سے کام کرنا شروع کر رہا ہے موڈی جی کی leadership direction اور dynamism
00:39میں کہوں گا really دیکھیں پانی جو ہے یہ بھرماستر ہے پر یہ بھرماستر
00:47جو ہمارے پاس ہے یہ ابھی استعمال نہیں ہو سکتا کیونکہ ابھی یہ
00:52پورا تیار بنا نہیں ہے ابھی کے حالاتوں میں جن تین ندیوں کا پانی
00:59بھارت کے حصے آتا ہے وہ اس کا flow ہے total 35 million acre feet
01:03اس 35 million میں سے 30 million تم استعمال کر لے رہے ہیں پورا 5 million
01:09acre feet flow کرتا جا رہا ہے پاکستان میں جو دوسری تین ندییں ہیں جو
01:15western rivers ہیں جنوے پاکستان کا حق ہے ان کا پانی کا flow ہے
01:20135 million acre feet وہ ہمارے بھارت سے ہو کے جاتا ہے پر ہم اس میں
01:27کوئی پانی استعمال نہیں کرتے آلموسٹ نہیں کرتے وہ پورا
01:31اگر 135 میں سے قریب 130 million acre feet پاکستان جا رہا ہے جسے
01:36ہمیں اس سمدھی میں روکنا یا استعمال کرنے کی permission نہیں ہے اب
01:43آنے والے سمعے میں بھارت جو کرے گا اور already ہم کر رہے ہیں پہلی
01:47بات تو یہ جو ہماری ندییں ہمارے حصے آتی ہیں 35 million
01:50acre feet والی جن میں 30 ہم اپنی طرف رکھتے ہیں پانچ جو جا رہا ہے
01:56ان پانچ million acre feet پانی کا ہم استعمال بڑھ چڑھ کے کر رہے ہیں
02:00ہم نے کچھ ڈائم پروجیکٹس بنانے شروع کر دی ہیں ہائیڈرو
02:04انرجی ہم harness کریں گے کچھ irrigation systems بھی بنیں گے تو یہ
02:09ہم اس سمیں تیجی سے بڑھانے شروع کر رہے ہیں اس میں time لگے گا کچھ
02:14جلدی ہو جائیں گے کچھ project ہوتے ہیں پانچ پانچ سال دست سال
02:17بھی لگتے ہیں کیونکہ بہت یہ بہت انچائیوں پہ پہاڑیوں پہ ایسے
02:22علاقے جہاں آپ کی engineering پہنچ ہی نہیں سکتی یہ بہت بڑے
02:25challenge ہے بہت بڑا پیسہ بھی لگے گا بٹ ہم اگر اس میں engineering
02:31اور پیسی کی viability دیکھتے ہوئے اس طرح کے projects بناتے جائیں تو ہم
02:36difference کریں گے پہلی بار جو ہماری اپنی ندیوں کا پانی ہے جو
02:41تین دوسری ندی ہیں جن کا پانی کا اس سمدھی میں ہمیں استعمال
02:46allowed نہیں تھا ہم اسی سمدھی کو re-negotiate ہم بڑے سالوں سے
02:50کہہ رہے ہیں پاکستان سے کی ہمیں اسے revise کرنا ہے تو ہم اب
02:55ان ندیوں کے پانی کو بھی استعمال کرنے کی پریاس اور
02:59projects بنائیں گے یہ لمبا سمیں لگے گا اس میں
03:05بڑے بڑے projects ہوں گے پر میرے وچار سے یہ ہماری
03:09ہماری پیڈی کی جمع داری ہے کہ ہم اتنے سارے projects اور
03:14ایسے بنا جائیں ایک بھرماستر create کر جائیں اگلی
03:18generation کے لیے کہ جب آگے پھر سے کبھی پاکستان اور پاکستان
03:23ایسی ضرورت اور ایسے behavior کرتا رہے گا آگے کبھی بھی ہماری
03:27future generation کو پانی کو بھرماستر کی طرح استعمال کرنا ہو
03:31تو بھرماستر تیار ہوگا میرے وچار سے ہمیں target کرنا چاہیے
03:352030 یا 2047 تک تو کم سے کم آدھا پانی ہمارے control میں ایسے
03:42ہونا چاہیے کہ اگر ہم چاہیں تو اسے بھارت کی divert اور
03:46زیادہ کر دیں یا پاکستان کی طرف پانی کم کر دیں تو بھارت
03:50فیلال میرے خیال سے اس راستے پہ چل پڑا ہے تو پاکستان
03:54obviously چنتیت ہے immediate میں اور long term میں اسے دکھ رہا ہے
03:58یہ تو بھارت بہت بڑا ایک water bomb بنا جائے گا
04:01ugly generation کے لیے اور پاکستان کا future really بہت
04:06خطرے میں پڑ سکتا ہے دیکھئے اس سمیں Turkey boycott کی بات
04:10چل رہی ہے بالکل سمجھ آتی ہے یہ تو ہمیں پہلے سے ہی پتا ہے
04:13کیونکہ Turkey کے drones تو پاکستان پہلے سے خرید رہا ہے اور
04:17اب ہاں جنگ ہوئی تو اس نے استعمال کی ہے پرنتو problem
04:20اور زیادہ یہ بھی ہے کہ بیٹھنے کو تو چائنا بھی بیٹھتا ہے
04:25weapons پاکستان کو okay ترکی کی problem یہ زیادہ ہے یہ
04:30Turkey کشمیر کے مردے کو لے کر کہ diplomatic front پہ بہت
04:33زیادہ باتیں ہم بھارت کے خلاف کرتا ہے اور پاکستان کے ساتھ
04:37diplomatically کھڑا ہوتا ہے تو اس سمجھ جو boycott Turkey چل رہا ہے
04:41میرے وچار سے بلکل بڑتا ہے اس میں ہمیں دو ایک چیزیں دیکھنی
04:44دو تین ٹھیک ہے Turkey boycott کرو پر Turkey کو اپنے گھر میں
04:51گھیرو also تو اگر ہمارے tourist Turkey نہیں جاتے انہیں کوئی
04:56اور destination جانا ہے دنیا میں تو Greece چلے جاؤ Greece اور
05:01Turkey آپ مان لیں جے قریب قریب India پاکستان جیسے ہیں
05:04Greece کے ساتھ بھارت کے رشتے already اچھے ہیں ہماری سرکار
05:08نے ایک بہت ہی strategic step لے رکھا ہے already یہ جو
05:11India Middle East Europe corridor ہے اس میں بھارت سے سمودری
05:15link ہے Arab Emirates کو اس کے بعد rail link ہے Saudi Arabia
05:19Jordan سے لے کے Israel تک اس کے بعد Israel کے ہائفا
05:22port سے سمودری link ہے یورپ کو اور یورپ میں ہم کونسے
05:26port میں link بنا رہے ہیں Greece میں وہ اس لیے بنا رہی ہے
05:31ہم choose کر سکتے تھے Italy بھی Italy بھی ہمارا اچھا دوست
05:34ہے پرنتو I think سرکار نے بڑا سوچ سمجھ کے Greece کو
05:38landing point choose کیا ہے Turkey کو signal یا clear cut ہے
05:42کہ ہم تو تمہارے backyard میں آ گئے ہیں تو اس طرح کی
05:45گھیرہ بندی کچھ ہماری سرکار کر رہی ہے ہمارے جو
05:49tourists ہیں وہ Turkey نہ جا کر کے Greece جائیں
05:52Cyprus جائیں Cyprus اور Turkey کی آپس میں بہت friction ہے
05:57Armenia جائیں Armenia اور Turkey کی friction ہے تو ہمارے
06:02tourists ان دیشوں میں جائیں جادہ نزبت کی Turkey اور ان
06:06دیشوں کے ساتھ ہمارے already اچھے رشتے ہیں Greece ہو گیا
06:09Cyprus ہو گیا Armenia ہو گیا ہمیں ان رشتوں کو اور بڑھانا چاہیے
06:14موسیقی
06:17موسیقی
Be the first to comment
Add your comment

Recommended