- 9 months ago
Deene e islam
Category
🤖
TechTranscript
03:52تو وہ تو بچارا
06:38مر جائے گا
06:39اس نے جب دیکھا
06:41اس کو تو کم و پیش سال ہونے کو آیا
06:43یہ چل بھی رہا ہے
06:44اس نے کہا تُو مرے یا نہیں
06:46اس نے کہا تیرے ٹیسٹ تو بتا رہے تھے
06:50ڈائی مہینے بعد تُو ختم ہو جائے گا
06:52تیرا بلڈ کینسر اس لیول پر جا چکا تھا
06:54اس نے کہا تیرے سامنے میں
06:56انہیں کہا چل میرے نال حسبتال
06:57وہ حسبتال لے گیا
06:58جب جا کے اس کے ٹیسٹ کیے تو ایسے تھا
07:01جس کے کبھی کینسر تھا ہی نہیں
07:03ہنڈی ہنڈی
07:07کل لا بل لا تکرمون الیتیم
07:11ولا تحاضون علا طعام المسکین
07:18و تأکلون تراس اقل اللمّا
07:24و تحبون المال حب جمّا
07:29تیان کریئے حضرت
07:30اکدہ آئے پانچو
07:32چپ کر کے نہ
07:34جا کے دے آئی
07:35ہم تو گتر اپنے دروازے بند کر چکے ہیں
07:38میں نے پڑھا میرے مولا مشکل
07:40کشا رضی اللہ تعالیٰ
07:41اپنے دروازے کے باہر بیٹھے رو رہے تھے
07:44کوئی عاشق گزرا
07:46کھڑا ہو گیا
07:47ارز کرتا ہے مولا کیوں رو رہے ہیں
07:49آپ نے فرمایا لگتا ہے
07:51اللہ علی سے نراز ہو گئے ہیں
07:53ارز کرتا ہے مولا
07:55اللہ زمانے سے نراز ہو سکتا ہے
07:56لیکن علی سے نراز ہو سکتا
07:58آپ نے فرمایا نہیں مجھے لگتا ہے کہ ہو گیا ہے
08:01اس نے رضی حضور ہو کیسے
08:03فرمایا کتنے دن گزر گئے
08:05علی کے گھر میں کوئی مہمان ہی نہیں آیا ہے
08:07جدوں حضرت کو جو ہے
08:10ویکھیو
08:11کتے نہ کتے کوئی ایسا ہندہ ہے
08:13جڑیس پانچ سودا
08:15بلکہ
08:17ہمارے سیالکوٹ کے
08:19قریب ایک علاقہ ہے سبڑے آل
08:21بھائی ایک بذر گزریاں کا نام تھا
08:24حافظ صابر علی صابر عقمت اللہ
08:26آپ کبھی یوٹیوب پہ لکھیں گے بھی نا
08:28حافظ صابر علی صابر رحمت اللہ
08:30تو حضرت کے بیانات کھل جائیں گے
08:32اور
08:33بہت زبردست
08:35عالم دین تھے
08:37اور تقریباً یہ جو
08:39ساٹھ والی لائن ہے
08:41تب حضرت نے ایم میں کیا تھا
08:42عالم بھی تھے اور ساتھ ایم میں بھی تھے
08:45اس لیے وہ
08:45ایک کالج میں پروفیسر بھی تھے
08:48لیکن جیسے جیسے
08:50اللہ ان کو اوچا کرتا گیا
08:52وہ ویسے ویسے نیچے ہوتے گئے
08:54پروفیسر تھے لیکن ایک وقت آیا
08:56کہ پریس کی ہوئے کپڑے پین نے
08:58چھوڑ دیئے لکھیں
08:59بالکل اسی طرح جایا کرتے تھے
09:01وہ جب کہیں جاتے تھے نا
09:03تو لوگ حضرت کی جوتیاں اٹھا لیا کرتے تھے
09:05تو حضرت کو اچھا نہیں لگتا تھا
09:07وہ تانگا آکے نا
09:08آپ نے جوتیاں بہنیں چھوڑ دیئے
09:09ننگے وہاں رہتے تھے
09:11مدرسہ بھی تھا ان کا ایک
09:13وہ
09:14جمعے رات کو جایا کرتے تھے
09:17بس اپنے گھر
09:18باقی پھر جب جمعے کی فضر کے لیے آنا
09:21تو پھر
09:22جمعے رات کی اشاہ تک
09:24جو ہے نا وہ
09:25مسجد میں مدرسے میں راہ کرتے تھے
09:27بڑی کمال شخصیت
09:28وہ ایک دفعہ نا حضرت
09:30گرمی بڑی تھی
09:31جون چاہتا
09:32اور حضرت ساکھ کڑاکے کا جون
09:34جان نکالنے والا جون
09:36تقریباً
09:37ٹیمپریچر
09:38فورٹی سیون
09:38فورٹی ایٹ پہ چلا گیا ہوا
09:40اب جس بندے نے آنا نا
09:42اس نے آکے عرض کرنی
09:43آفے صاحب
09:45دعا فرمائیں بارش کے بھی
09:47اور آپ کبھی یوٹیوب پہ لکھیں گے نا
09:48آفے صاحب علی صاحب
09:49اور دعا لکھیے گا ان کی
09:51آپ جب سنیں گے نا
09:53تو آپ کو یقین ہو جائے گا
09:54کہ یہ بندے میں
09:55کوالٹی تھی
09:56کہ یہ اللہ کو منا سکتا تھا
09:58ایسی سون ہی دعا کرتے تھے
09:59اور وہ
10:01ہر بندے نے کہنا
10:04لیکن بارش
10:06ملک صاحب ہیں
10:08جنہوں نے بتایا
10:10وہ کہتے ہیں
10:11میں گھر تھا تو میرے دروازے پہ دستک ہوئی
10:14میں نے دروازہ کھولا
10:15تو مدرسے کا بچہ تھا
10:17اور وہ کہتے ہیں
10:17یہ آپ کو حافظ صاحب بلا رہے ہیں
10:19کہتے ہیں میں آیا
10:20تو حافظ صاحب نے نے
10:20مجھے ایک ہزار دیا
10:21اور دیکھے فرمانے لگے
10:23ملک صاحب
10:24اس کا وہ کیمہ لے کے آئیے گا
10:25جو آپ
10:26گھر میں
10:27خود کھاتے ہیں
10:29کہتے ہیں میں سمجھ گیا
10:30میں دکاندار کے پاس گیا
10:32میں نے کہا
10:32نہ چربی
10:33نہ چھچڑا
10:36کہتے ہیں میں نے ایک ہزار کا بڑا کیمہ لیا
10:40اور میں شاپڑ لے کے
10:42مدرسے میں حافظ صاحب کے پاس
10:43کہتے ہیں
10:44مجھ سے کیمہ کا شاپڑ لے کے
10:45کہنا لگے
10:46ملک صاحب آپ جائیں گھر
10:47کہتے ہیں
10:48میں بھی گھر نہیں گیا
10:49میں باہر جا کے
10:50نہ چھپ گیا
10:50اب حافظ صاحب کے
10:52اگر مسجد سے باہر نکلے
10:53تو مین
10:54اڈے پہ جانے کے لئے دو راستے تھے
10:56ایک اس سائیڈ کا راستہ
10:57جو مین راستہ تھا
10:59جہاں گاڑی
11:00مدرسے کے قریب آ جائے کرتی
11:02دوسرا
11:03بلکل بھری گلیوں والا راستہ
11:05جہاں
11:06دو بندے با مشکل سے گزر سکتے ہیں
11:07کہتے ہیں
11:08بھری گر راستے سے گئے
11:09میں بھی پیچھے پیچھے چل پڑا
11:11تو تین چار موڈ
11:13انہوں نے کٹے
11:13تو کھڑے ہو کے نا
11:15میری طرف دیکھے
11:15کہنا لگے ملک صاحب
11:16چھپ چھپ
11:17کہتے ہیں
11:17نہ ہو آنے ہیں
11:18کہتے ہیں
11:20میں ساتھ چل پڑا
11:21کہتے ہیں
11:22مین اڈے میں پہنچے
11:24اڈا کراس کر کے آگے
11:25کھیتوں میں چلے گئے
11:27کہتے ہیں
11:27کھیتوں میں کافی آگے جانے کے بعد
11:29جا کے دیکھتے کہ آئے ہیں
11:30کہ منظر کیا ہے
11:31کہ ایک کتی آئے ہے
11:32جس نے بچے دی ہوئیں
11:33ٹھیک ہے جی
11:35لیکن ہوا کیا ہے
11:36کہ کوئی گاڑی والا
11:37اس کو ہٹ کر گیا ہوا ہے
11:38تو اس کی پچھلی ٹانگیں
11:39ٹوٹ چکی ہیں
11:40اب کیونکہ ٹانگیں ہیں
11:42کوئی نہیں پچھلی
11:43اس لیے وہ کھانے کے لیے
11:44جا ہی نہیں سکتی تھی
11:45وہ بھی بھوکی
11:46اس کے بچے بھی بھوکے
11:48وہ بھی رو رہی ہے
11:50بچے بھی رو رہے ہیں
11:51تو بارش کدھر سے آئے پھر
11:52وہ تو راب کا ولی تھا نا
11:55اس کو کہیں نہ کہیں سے
11:57کوئی تار
11:58آ گیا
12:00کہ اوہ روندی پہیئے
12:01تھے بارش
12:02تار نہیں پہنٹے
12:03ماں پکھیئے
12:05بچے پکھے
12:06بارش
12:06کہہ دے
12:08آپس صاحب اس کو دیکھ کے نہ رو پڑے
12:10اس کی بقیدہ آنکھوں سے آنسو گر رہے تھے
12:12حافظ صاحب رو پڑے
12:14شاپر کا موں کھولا
12:15شاپر کو فولڈ کیا
12:17تاکہ اس کو پریشانی ہو
12:18کھر کے نہ
12:20اس کے سامنے رکھا
12:21پتہ نہیں کب کی بھوکی تھی
12:22وہ
12:23ٹوٹ پڑی ہے درد
12:25شاپر پہ نہ
12:26اس نے پیڑ بھر کے کیمہ کھایا
12:28جب کیمہ کھا لیا
12:29تو اس نے آشما کی طرح
12:31موں کھر کے نہ کو آواز نکال دی
12:33تو ملک صاحب کہتے ہیں
12:35کہ جب ہم گئے تو گرمی کی وجہ سے
12:37پسینے میں بھیگے گئے
12:38لیکن جب واپس آئے
12:40تو باران رحمت میں نہاتے ہوئے آئے
12:42حافظ صاحب جدو بھی
12:45کوئی معاملہ آئے تھے
12:45چیک کری ہو
12:46کتے نہ کتے کوئی
12:48رونداندہ ہے
12:50جڑے سپانچ سودا
12:52حق دار
12:52اللہ دوے حضرت
12:54قریب ہوئے باندھنا کرتا
12:55اللہ میں خود کہہ رہا ہوں
12:56بہت مشکل ہے مینیش کرنا
12:58لوگ بہت تانگ کرتے ہیں
13:00پھر بھی تانگنا ہوئی ہوئے
13:01اے بھیکی ہو
13:02مالک نے کنی مہر کی تھی
13:03اور کوشش کری ہو
13:05کہ
13:06اللہ دی مخلوقتے
13:07اپنا ہاتھ
13:08نرم رکی
13:09حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ
13:11پکڑ کے
13:12جھاڑو دے رہی
13:13سارا گھر صاف کیا
13:15مشکلی پانی لینے چلے گئے
13:18پانی لے کے آئے
13:19پھر کہی آ کے
13:20تو
13:21آٹا گونڈا
13:22آٹا تیار ہونے کے لئے رکھ دیا
13:24سالن بنایا
13:25سالن پک گیا
13:27روٹی پکائی
13:28سالن برتن میں ڈالا
13:30روٹی لی
13:30اممہ کے پاس آئے
13:32اممہ کو اٹھا کے بیٹھایا
13:33ایک نوالہ توڑا
13:35اور اس کو سالن میں ڈپ کیا
13:37اور نوالہ
13:38اممہ کی ہونٹوں سے لگایا
13:39تاکہ
13:41اممہ کو پتہ لگے
13:42کہ نوالہ کھانا ہے
13:43کیونکہ بولنا نہیں تھا نا ابھی
13:45یہ ابھی اممہ کو پتہ نہ چلے
13:47کہ ابو بکر نہیں ہے
13:48اس لئے بولے کچھ نہیں
13:49نوالہ ہونٹوں سے لگایا
13:51تاکہ اممہ
13:52سمجھ جائے کہ نوالہ کھانا ہے
13:54لیکن حضرت عمر فاروق
13:55عزی اللہ تعالیٰ انفرماتے ہیں
13:57نوالہ ہونٹوں سے لگا
13:58ساتھ ہی اممہ بول پڑی
13:59اور کہتی کیا ہے
14:01آج ابو بکر نہیں آئے
14:03آج ابو بکر نہیں آئے
14:06کیونکہ مزاج مبارک میں جلال بھی تھا
14:09آپ نے فرمایا
14:11اوئے
14:11اس کو تو نظر آتا ہے
14:14میں تو امی اتنی دیر لگا رہا
14:16کہ پوچھے گی تو بتاؤں گا
14:18اس کو تو نظر آتا ہے
14:20اور اگر اس کو نظر نہیں آتا ہے
14:21تو اس کو کیسے پتہ چل گیا
14:22کہ ابو بکر نہیں آئے
14:23آپ فرماتے ہیں
14:24میں نے کاما تجھے نظر آتا ہے
14:26وہ آگے سے کہتی ہے
14:28اے آنے والے اللہ کی عزت و عظمت کی قسم
14:30مجھے نظر نہیں آتا
14:32آپ نے فرمایا
14:33پھر تجھے کیسے پتہ ابو بکر نہیں آئے
14:35تو آپ فرماتے ہیں
14:36اس نے موں کھول کے دکھایا
14:37تو موں میں دانت ہی کوئی نہیں تھا
14:39کہتی ہے
14:40جانے والے پتہ ہی اس طرح چل گیا
14:41کیونکہ میں نوالہ چبا نہیں سکتی ہے
14:43میرے موں میں دانت کوئی نہیں
14:45جب ابو بکر آتے ہیں
14:47تو پہلے نوالہ خود چباتے ہیں
14:48اس کو نرم کرتے ہیں
14:50اور جب وہ نرم ہو جاتا ہے
14:52اس کو میرے موں میں رکھتے ہیں
14:54میں اس کو نگل جاتی ہوں
14:55آج جب سخت نوالہ ہونٹوں سے لگا
14:58میں سمجھ گئی ہو نہ ہو
14:59ابو بکر نہیں آئے
15:01ہو میرا کام
15:04غریبوں کی حمایت کرنا
15:06دردمندوں سے
15:08ضعیفوں سے
15:09محبت کرنا
15:10پڑا ہم نے ضرور ہے
15:12لیکن کی
15:13انہوں نے پڑھے آتے کوئی نہیں
15:16لیکن
15:16کی ہے
15:18دب کے کی ہے
15:20اس لئے حضرت
15:21احسپا سے آؤ
15:23اس وقت
15:25ہمارے پاکستان کو پیار کی ضرورت ہے
15:27دیکھو تُسا ہی پاکستان کن حالات سے گزر رہا ہے
15:31اور اسی حضرت
15:32عجیب قوم ہے
15:34نہیں
15:34دین سیکھو
15:36دین سیکھو
15:38اور اللہ کی طرف سے
15:40اللہ کی طرف
15:41غصہ
15:42اللہ کے لئے
15:43محبت
15:44اللہ کی طرف
15:46تو وہ
15:48ہم جنازے پہ چلے گئے
15:49امیر کا جنازہ تھا
15:51راشی بڑا زیادہ تھا
15:53وہ
15:53ابھی
15:54جو وقت دیا گیا تھا
15:56اس میں کوئی منٹ
15:56ڈیڑھ منٹ
15:57باقی تھا
15:58تو کسی بندے نے
16:00حضرت کو گزارش کی
16:01کہ حضرت کو
16:02گل سنا دے ہو
16:03حضرت چک
16:04پھر کسی بندے نے
16:06کہا حضرت کوئی بات
16:07سنا دیں
16:08حضرت پھر چک
16:09پھر کسی بندے نے
16:10کہا حضرت کوئی
16:11تھوڑی سی تربیت
16:12فرما دیں
16:13حضرت پھر چک
16:14اب میں سامنے کڑا تھا
16:16میں
16:16یا
16:16بلا حضرت کوئی بندے نے
16:17کیا حضرت کوئی بندے
16:18ہم خان کا واپس
16:23اب وہ گو گو میرے اندر
16:25بات چل رہی تھی
16:26تو پتہ نہیں
16:27حضرت نے کوئی توجہ فرمائی
16:28کہ بات اندر سے
16:30زبان تک آگئے
16:31میں نے
16:31اس کی حضور
16:32کو
16:32آپ نے جنازے پر
16:34تقریر نہیں فرمائی
16:35تو میرے تو
16:36سوال کا جواب نہیں دیا
16:37سوال میں سے
16:38سوال نکالا
16:39پنجابی بولتے تھے
16:41مجھے فرمانے
16:41کہ مولوی جی
16:42کی ہونا سی
16:43تقریر کیتے ہیں
16:45میں جناب ہے
16:46لوکانے کو
16:48سکھ لینا سی
16:48اوہ اوہ اوہ
16:49مجھے آگے سے
16:51فرمان لگے
16:51مولوی جی
16:52جڑی میت
16:54موڑے ہیں
16:54تے لائے کے آئے
16:55سان
16:55او دے گلو تے سکھیا
16:57کا کھنی مین
16:57انہوں کی سکھانا سی ہے
16:59چسکہ لانے
17:02ہم
17:03جس کا لگاتے ہیں
17:05اور آپ
17:06فرمان لگے
17:08جڑی میت
17:09موڑے ہیں
17:10تے چوک کے لے
17:10آئے سان
17:11اوہ دے گلو تے سکھیا کا کھنی
17:13مین انہوں کی سکھانا
17:15یہ ایسی کھنہ لیں
17:17ان دے تے جنازگاہ
17:18سکھان واسطے
17:19بہت کو جسی ہے
17:20جنازگاہ دے نال جڑی
17:22اینیاں کبران سن
17:23اوہ بہت
17:24پھر حضرت پھر جس نے
17:27سیکھ لیا
17:27پھر وہی بول پڑا
17:29کوئی بن گیا
17:30رونک
17:31پکھیاں دی
17:32کوئی چھوڑ کے
17:34شیش محل چلے
17:36حضرت
17:37اے سیرتیں انجن
17:38کر چھڑ دے لیکن
17:39اے اندر اللہ مندہ
17:41اے کتے مندہ
17:42جدن اے مان لیا
17:44پھر ہی کٹ تولنے کوئی نہیں ہے
17:46جدن اے نو منالیا
17:48پھر اس دن اسی دونم بری کرنی
17:50کوئی نہیں ہے
17:52اے انجن کر چھڑ دے لیکن
17:53اے والا مندہ
17:55پڑ پڑ عالم
17:57فاضل ہوئے ہو
17:59کدھی اپنے آپ
18:00پڑے
18:01جا جا وڑ دے
18:04مندر مسیطی
18:05کدھی من اپنے وچ
18:07وڑے آئی نہیں
18:09اے میں ہی لڑنا ہے
18:11شیطان دے نال بندیا
18:13کدھی نفس اپنے
18:15نہ لڑے آئی نہیں
18:17آکھے پیر بھلے شا
18:19اٹھ دیاں پڑنا ہے
18:21جڑا کرویٹ ہونو پڑے
18:22حضرت صاحب
18:24باتیں بڑی ہیں
18:25لیکن کچھ میری بھی
18:26مجبوری ہے
18:27ایشاہ بھی پڑنی ہے
18:28میں بس ایک کی گزارش
18:30کرانگا حضرت
18:30ان عہدہ علی پاس سے
18:32صرف اللہ اور
18:34اللہ کے رسول کو
18:35یہ نہ دو
18:35ہم نے صرف یہ دی ہوئی ہے
18:36یہ ہم نے ان کو دیا
18:38اے ایسی رضیات شکیلہ
18:41نو دے شڑے جا
18:42اے انہ
18:43یہ ان کا ہے
18:44یہ ان کا ہے
18:47اللہ ہم سب پر رحم فرمائے
18:49جو کہا
18:50جو سنا
18:51اللہ اس پر عمل کی
18:53تفیق عطا فرمائے
18:54ہم کیوں کہ کافی حباب ہیں
18:56ہمیشہ
18:56الحمدللہ رب العالمین
18:59الحمد لله رب العالمين
19:03الحمد لله رب العالمين
19:07والات والسلام على سيد الأنبياء والمتقوين
19:15أما بعد فأعوذ بالله من الشيطان الرجيم
19:21بسم الله الرحمن الرحيم
19:24وقال الله تعالى في الكلام المجين
19:29والذين آمنوا أشهدوا حبا لله
19:34صدق الله العظيم
19:37وصدق رسوله النبي الكريم الأمين
19:41حب شرحلي صدري وعسللي أمري
19:47وحلل اقدتم من لساني يفقه قولي
19:52مولا يسللي وسللي دائماً أبدا
19:56على حبيبك خير الخلق كلهن
20:00محمد سيد القولين وسكنين
20:06والفريخين من عرب ومن عدمي
20:10فإن من جودك الدنيا ودرتها
20:14ومن علومك علم اللوح والقالمي
20:20يَا أَكْرَمَ الْخَلْقِي مَعْلِي مَنْ أَلُوذُ بِي
20:25سِمَاكَ عَنْدَ حُلُولِ الْحَادِثِ الْعَمَمِي
20:29إِنَّ اللَّهَ وَمَلَاكِكَتَهُ
20:34يَا أَيُّهِ الَّذِينَ آمَنُوا
20:39صُّلُّوا عَلَيْهِ وَسَلِّمُوا تَسْلِمًا
20:42صلات والسلام عليك يا سیدی
20:47یا نبی اللہ
20:49وَأَلَىٰ أَلِكَ وَأَصْحَابِكَ
20:53يَا سَيِّدِي
20:55ایک بار پھر کوشش کرنی ہے لیکن توجہ اور محبت کے ساتھ پڑھنی ہے
21:03صلات والسلام عليك يا سیدی نبی اللہ
21:10وَأَلَىٰ أَلِكَ وَأَصْحَابِكَ
21:14يَا سَيِّدِي آنُوا
21:15کوشش فرمائے کریں کہ محبت ہی سے پڑھا کریں
21:21لیکن ہوتا یہ ہے کہ جب کہا جاتا ہے
21:24کہ محبت سے پڑھیں
21:25تو آپ تھوڑا سا اوچھی پڑھ دیتے ہیں
21:27اور کہتے ہیں اے جے محبت
21:29اللہ محبت کا نہ
21:31کچھ آہستہ سے تعلق اور نہ
21:33کچھ اوچھا پڑھنے سے تعلق
21:35کیونکہ محبت نہ تو ہونٹوں کا فیل ہے
21:38اور نہ ہی محبت زبان کا فیل ہے
21:40بلکہ محبت دل کا فیل ہے
21:42ٹھیک ہے
21:43اس لیے آواز آپ جیسی چاہے رکھا کریں
21:46لیکن پڑھیں دل سے
21:47کیونکہ محبت والا درود
21:49تب بھی مانا جائے گا
21:50کہ جب دل سے پڑھا جائے گا
21:53لیکن ہم
21:55زبان پہ رکے ہوئے ہیں
21:57دل تک
21:58نہیں محبت پا
22:01حالکہ اللہ حضرت فرما رہے ہیں
22:03دل ہے وہ دل جو تیری یاد سے
22:05معمود رہا ہے
22:06دل ہے وہ دل جو تیری یاد سے
22:10معمود رہا ہے
22:11لیکن ہوتا یہ ہے کہ ہم
22:13ادھر سے سنتے ہیں اور ادھر سے نکال دیتے ہیں
22:15ٹھیک ہے جی؟
22:16کیونکہ اگر ہم یہاں سے سنیں اور یہاں تک جانے دیں
22:20تو پھر ہم ضرور کسی سے پوچھیں
22:22کہ حضرت میں تو سمجھتا تھا کہ زبان ہی پڑھتی ہے
22:25تو والا حضرت تو کہہ رہے ہیں دل بھی پڑھتا ہے
22:27تو دل کیسے پڑھتا ہے
22:29پوچھے ہی نہیں کبھی کسی نے
22:31کبھی کسی نے
22:33پوچھا ہی نہیں
22:35تو پھر اس سے پتہ لگتا ہے
22:37ادھر سے
22:37سنتے ہیں اور ادھر سے
22:40کیونکہ اگر ہم اس بات کو دل تک جانے دیتے
22:43تو پھر ہم ضرور
22:44کسی نہ کسی سے سوال کرتے
22:47کہ حضرت دل بھی پڑھتا ہے
22:50اور میں تقریباً
22:53حضرت اس کو سادہ رکھیں
22:55سونڈ والے بھائی جی
22:56اس کو سادہ رکھیں
22:58جتنا سادہ رکھیں کہ مزہ اتنا زیادہ آئے گا
23:02ایکو نہ کھولیں اس کی
23:03اس کو سادہ کر دیں ملکو
23:05سادی سی آواز دیں ہمیں
23:06میں نے دو ہزار پانچ میں
23:11سادہ کریں
23:11حضرت دی اس کو سادہ کریں
23:13بالکل آپ اس کو سادہ کر دیں
23:17سادی سی آواز دیں ہمیں آپ
23:19ابھی بھی گونج ہے آپ کی آواز میں بڑی زیادہ
23:22میں نے گونج کا کیا کرنا ہے
23:24سادہ سی آواز دیں ہمیں
23:25دو ہزار پانچ میں
23:31میں نے پہلا جمعہ پڑھایا تھا
23:34حالانکہ میری فراغت دو ہزار آٹھ کی ہے
23:36لیکن کوئی پیرو مرشد کا حکم تھا
23:39تو سر تسلیم خم کرنا پڑا
23:41یہ کموں پیش انیس سال گزر گئے
23:44مجھے آج تک کبھی کسی نے نہیں پوچھا
23:47کہ مصبعی ساتھ دل بھی پڑھتا ہے
23:49آج تک گزیل بھی پوچھا
23:51اور یہ شعر میرے خیال سے
23:53آپ نے کو پہلی بار مجھ سے نہیں سنا
23:55یہ شعر آپ نے کئی بار پہلے نہیں سنا ہے
23:57لیکن بس سن لیتے ہیں
23:59آگے جاتا کوئی نہیں ہے
24:02لیکن پتہ نہیں
24:04اب بھی آپ نے کسی سے پوچھنا ہے
24:06کہ نہیں پوچھنا ہے
24:07لیکن لکھا ہے کہ حضرت مجدد الفسانی
24:10رحمت اللہ تعالی سے سوال ہوا تھا
24:13کہ حضرت دل بھی پڑھتا ہے
24:16آپ نے فرمایا تھا
24:17ہاں دل بھی پڑھتا ہے
24:19اس نے پھر سوال کیا
24:20حضرت دل کیسے پڑھ سکتا ہے
24:22آپ نے فرمایا
24:23کیوں تجھے کیا مسئلہ دل کا پڑھتا ہے
24:25کہ حضور گوشت کا ایک ٹکڑا ہے
24:28گوشت کا ایک لوتھڑا ہے
24:31یہ کیسے پڑھے گا
24:32یہ کیسے پڑھ سکتا ہے
24:34آپ نے فرمایا
24:35زبان بھی تو گوشت کا لوتھڑا ہی ہے
24:37جو اللہ اس کو تفیق دے سکتا ہے
24:39تو تھوڑی سی حمد کر
24:40وہ ترے دل کو بھی دے دے گا
24:42لیکن بعد پھر وہ یہ نہ حمد کرتا
24:45کوئی نہیں ہے
24:46ہم اس کا چسکہ لے لیتے ہیں
24:50اور آپ اس کا چسکہ لے لیتے ہیں
24:53اس سے آگے بات نہیں جاتی
24:55کوئی چسکہ
24:57کوئی اس کا
24:58اور کوئی
25:00ہزاروں باتیں ایسی ہیں
25:01جب سنتے ہیں
25:02لیکن کبھی کسی نے پوچھا ہی نہیں ہے
25:05دیکھو نا یہ بھی تو رنگی ہے نا
25:08کوئے سرکار میں ہوگا
25:09کہیں مشروف توا
25:11دل اگر سینے میں ہوتا تو دھڑکتا ہوتا
25:14سن لیتے ہیں لیکن پوچھتا کوئی
25:16بس یاد رہا
25:18اتنا کہ سینے سے لگی جالی
25:20پھر یاد نہیں
25:21کیا کیا انوار نظر آئے
25:23سن لیتے ہیں لیکن پوچھتا
25:25کوئی
25:26اور پھر میں اکثر خود کو کہتا ہوں
25:29مولوی سلمان
25:29تو تو انیس سالہ جی کالا پہ آگیا ہے
25:32میں
25:33قربان جاؤں اپنے دادا پیرو مرشد پہ
25:36جن کا دورانیاں کموں پیش
25:39ایک سو سال تھا
25:40مسنت پہ جلوہ گر رہے
25:43اور ایک سو سال حضرت
25:45اپنی ڈیوٹی دی
25:46صبح فجر پڑھ کے بیٹھتے تھے
25:48اور رات تقریبا نو دس بجے تک
25:51اپنی خان کا دروازہ کھول کے بیٹھے رہتے تھے
25:53تاکہ کل کو کوئی سیال کوٹی
25:55یہ کلیم نہ کرے اللہ کی بارگاہ میں
25:57کہ اگر میں نے رب کا پتہ پوچھنا ہوتا
26:00تو کس سے پوچھتا جا کے
26:01اور دو ہزار تیرہ میں حضرت کا وشال ہوا
26:05دو ہزار نو میں حضرت
26:07نے بالکل سکوت اختیار کر لیا
26:10ویسے بھی بڑے کم گو تھے
26:11بہت کم بولتے تھے
26:13میں نے حضرت کے ساتھ
26:15ایسے ایسے پروگرم بھی اٹینڈ کیے
26:17کہ دو دو اڑھائی اڑھائی گھنٹے
26:19ہم بیٹھے رہے
26:20کیوں کچھ نہیں بولے
26:22تو میں پاس بیٹھا رہاں
26:24وہ میرے اندر چل رہا ہوتا تھا
26:25یار اتنی دنیا بیٹھی ہے حضرت
26:27چک بیٹھے ہیں
26:28چلو خود نہیں گفتگو کرنی
26:30تو مجھے ہی کہہ دے میں کر دیتا ہوں
26:32تو تب سمجھ نہیں آتی تھی
26:33لیکن اب سمجھ آتی ہے
26:34کہ حضرت کیوں نہیں بولتے تھے
26:36کیونکہ اس بابے کو نظر آتا تھا
26:38کہ یہ سارے چسکہ لگانے آئے
26:39کیونکہ اس بابے کو
26:42نظر آتا تھا
26:43کہ سیکھنے کوئی بھی نہیں آیا
26:45سب چسکہ لگانے آئے
26:47سب اس کا مزا لینے آئے
26:48تو یہ باتیں
26:50یہ اتنی سستی نہیں ہیں
26:51کہ ایمی مزے مزے میں سنا دی جائے
26:53اب سمجھ آتی ہے
26:55کیونکہ اب
26:56میں صبح کا گھر سے نکلا ہوں
26:58ہر روز ہزاروں لوگ ہمیں ملتے ہیں
27:01اے مصبعی صاحب تاڑیاں
27:02ساری ہیں تقریریں سنیاں نے
27:03تو میں ایک دفعہ بندے کو پاؤں کے
27:05ناخون سے لے کے اوپر تک دیکھتا ہوں
27:07اور پھر پوچھتا ہوں
27:08بھا یہ سنیاں ہی نہیں نا
27:09منی میری کڑیا
27:10میں کی دو کیا ہی کہ داڑی نہ رکھ
27:13میں کی دو کیا ہی کہ صرف ننگا رہا ہے
27:17سن رہے ہوں چسکے لگ رہے ہیں
27:18لگاؤ جتنے لگا سکتے ہیں
27:21لیکن نظر صاحب
27:22اتھے عملاندے ہونے نے نہ بیڑے
27:25کسے نہیں تیری ذات پوچھنی ہے
27:26اس لیے بڑا سننا سنانا ہو گیا
27:29اب کچھ تھوڑا گیا ہویا رہا ہے
27:32حضور بلل شاہ بھی کہتے ہیں
27:34علم بس کریں ہو یا
27:35یہ نہیں کہہ رہے کہ علم حاصلی نہ کر
27:39فرمائے بس کروں
27:40بڑیاں سن لئی ہیں
27:42مشوائی صاحب دیاں تقریران
27:43پیرہ جمل صاحب دیاں
27:44ردہ ساکر
27:45ان مننہ لے پاسے ہیں
27:46ان عملہ لے پاسے ہیں
27:48علم بس کریں ہو یار
27:50اکو الف تیرے درکار
27:53علف مراد اللہ
27:56علم بس کریں ہو یار
27:58اکو الف تیرے درکار
28:01علم ناوے وچ شمار
28:03جاندی عمر نہیں اتبار
28:06علم بس کریں ہو یار
28:08اب حضرت آؤ کوئی تھوڑا سا
28:11میری سمجھ میں نہیں آتا
28:13کہ یہ ہم
28:14زبان سے دل تک کا فاصلہ
28:16کیوں تیہ نہیں کر سکے ہیں
28:17یہاں
28:19اگر میں دیکھوں تو
28:21دس سال سے لے کر
28:22ساٹھ پہنسٹھ تک
28:24والے حباب بیٹھے ہیں
28:25تو حضرت یہ
28:27زبان سے دل تک کا فاصلہ
28:28کوئسی سال کا تو نہیں ہے
28:29یہ چھوٹی انگلی
28:31دل پہ رکھیں
28:32اللہ ہو جی
28:33ایک والشت کا فاصلہ ہے
28:36پتہ نہیں ہم سے کیوں تیہ نہیں ہوا
28:37کل بھی
28:38اللہ
28:39ادھر ہی تھا
28:40آج بھی اللہ
28:42ساٹھ سال کے بعد
28:43ادھر ہی آئے
28:43کل بھی
28:44رسول پاک
28:45ادھر ہی تھے
28:46ساٹھ سال گزر گئے
28:47اب بھی ادھر ہی ہیں
28:48دل تک یہ معاملہ
28:51آئی نہیں سکا
28:51کوئی
28:52اور میں حضرت جب
28:53اپنے
28:54اسلاف کو پڑھتا ہوں
28:55تو ہم تو
28:55زبان سے دل تک نہیں آئے
28:57وہ تجھ سے بھی آگے گئے
28:59وہ حضرت شاہ حسین
29:01نے لکھا تھا
29:02ہاں فرماتے ہیں
29:03ربہ میرے حال دا محرم
29:05توں اے
29:06ربہ میرے حال دا محرم
29:09توں اے
29:10اندر توں اے
29:13باہر توں اے
29:15روم روم بچ
29:17توں اے
29:18کہے
29:19فقیر حسین نے مانا
29:21میرا سب کچھ توں اے
29:22لیکن یہاں بات
29:25اس سے آگے
29:26اس لیے میں گزارش کروں گا
29:28حضرت
29:29تھوڑا جیا گیا ہو
29:30کیونکہ دل ہے وہ دل
29:32جو تیری یاد سے
29:34معمور رہا
29:35دھنڈو
29:36تلاش کرو
29:37تو میرے حضرت صاحب
29:39حضرت دو ہزار نو میں
29:41ویسے چپ کر گئے
29:42اور دو ہزار نو تک
29:44اگر سیالکوٹ میں
29:45کوئی آپ کا جاننے والا ہوا
29:46تو آپ تصدیق
29:47کروا لیجئے گا
29:49کہ جب تک حضرت بولے
29:50گیارہ بجے کے بعد
29:52حضرت کی مسجد میں
29:53جگہ نہیں ملتی تھی
29:54ٹھیک ہے جی
29:55حالا کوئی حضرت
29:56کوئی کرسی توڑ
29:57خطیب نہیں تھے
29:58حضرت بہت آہستہ
29:59گفتگو کرتے تھے
30:01بہت ٹھہراو تھا
30:02گفتگو میں
30:03اتنا آہستہ بولتے تھے
30:05کہ اگر کوئی چاہتا
30:06تو حضرت کے
30:07الفاظ گن سکتا تھا
30:08کہ حضرت نے
30:09کتنے لفظ بولے ہیں
30:10لیکن پتہ نہیں
30:11بولتے کیا تھے
30:12کہ جب بولتے تھے
30:13تو دلوں کے تار
30:13چھیڑتے تھے
30:14حضرت سارے
30:15لیکن وہ بابا بھی
30:17ایک وقت آیا
30:18کہ چھپ کر گیا
30:19وہ
30:21ایک دفعہ
30:22سیالکوٹ میں
30:23ایک
30:23فوتری ہو گئی
30:25تو آپ کو پتہ ہے
30:26ہمارے جو ذرا دوست ہیں
30:28جن کے پاس
30:28ذرا پیسے ہیں
30:29اللہ نے ان کو پیسہ دیا
30:30سٹیٹس ذرا
30:31ان کا ٹھیک ہے
30:31تو ان کا کوئی فوت ہو جائے
30:33تو ان کا
30:34جنازہ محلے کے
30:35امام کے ساتھ
30:36ہوتا
30:37نہیں ہے
30:38وہ چاہتے ہیں
30:39کہ ان کو
30:40اندسین تو محلوی آئے
30:42جنازہ پڑھا
30:42پتہ نہیں
30:44یہ بھی کیا ایشو ہے
30:45وہ
30:46ظاہر ہے پھر جی وہ
30:47اس کی تسکین نہیں ہوتی
30:50ہمارا ترہ نیچے ہو جائے گا
30:52کیسے لوگوں کو بتائیں
30:53کہ جنازہ پڑھانا
30:55واسطے
30:55اوہ ایاسی
30:56ہو سکتا ہے
30:58کسی کی اچھی نیت بھی ہو
30:59لیکن
31:00شاہد انہوں نے ناظر یہا
31:01کہ حضرت اچھی نیت ہو
31:03باقی چوپی بھلی ہے
31:04تو ادھر بھی اسی طرح تھا
31:06سارا سیالکوٹی
31:07ہمڑ آیا
31:07حضرت کی خان کا
31:08کہ جنازہ آپ پڑھائیں
31:10بے نیاز بندہ تھا
31:12حضرت کو
31:12نہ کسی سے غرض
31:14نہ کسی سے کوئی وجہ
31:15تو حضرت نہیں ماننے
31:16جنازہ کے لئے
31:17لیکن وہ پھر بندے
31:18اتنے پڑھے بیچ میں
31:19کہ ہاں کرنی پڑ گئے
31:20اب وہ
31:21جب جنازہ پڑھانے کے لئے
31:22پہنچے نا
31:24تو کیونکہ
31:24امیر بندے کا جنازہ تھا
31:26اب پتہ نہیں
31:26حضرت میری قوم نے
31:27یہ کس کتاب میں
31:28مسئلہ پڑھ لیا ہے
31:29کہ امیر جنازے
31:30امیر بندہ کے
31:31جنازے پہ سواب
31:32بہت زیادہ ہوتا ہے
31:33اور غریب بندے کے
31:35جنازے پہ سواب
31:36ہوتا ہی کوئی نہیں
31:36یہ پتہ نہیں
31:38کس کتاب میں
31:39یہ مسئلہ پڑھا ہے آپ نے
31:40یہ کتاب کس نے لکھی
31:41اس کا مصنف کون ہے
31:43کس نے اس کتاب کو
31:44پبلش کیا
31:45اور کس دکان سے
31:46آپ نے یہ کتاب خریدیا گا
31:48کہ جس میں یہ مسئلہ لکھا ہے
31:49نورالعزا سے لے کر
31:51قدوری تک
31:52پرفر آگے ان کتابوں سے
31:54جتنی کتابیں لکھی گئیں
31:55ہاں وہ رکن الدین ہے
31:57ہاں وہ انبار شریعت ہے
31:59ہاں وہ بار شریعت ہے
32:00ہاں وہ فتح و رزویہ شریعت ہے
32:02کسی میں یہ مسئلہ نہیں لکھا
32:04کہ امیر بندے کے
32:05جنازے پہ سواب زیادہ ہے
32:07اور غریب بندے کے
32:08جنازے پہ سواب
32:09یہ پتہ نہیں
32:11آپ نے کتر سے پڑھا
32:12یہ والا مسئلہ تھا
32:13اور کیا نام ہے جو
32:14اس کتاب کا
32:15لیکن پڑھے آتے ہیں
32:17نا کی دونے درد
32:18کیونکہ ساری قوم
32:20اسی مسئلے پہ عمل کر رہی ہے
32:21ساری قوم
32:24اسی مسئلے پہ عمل کر رہی ہے
32:26میں اس دن
32:27یہ اسلام آباد جا رہا تھا
32:28تو لالا موسیٰ سے
32:29میں گزر رہا تھا
32:31تو وہ
32:31گاڑی آہستہ ہو گئی
32:33تو میں نے باہر دیکھا
32:34کہ کیا وجہ ہے
32:35تو ایک جنازہ جا رہا تھا
32:36تو وہ
32:38ہم جب پاس سے گزرے
32:39تو
32:39چار یا پانچ بندے وہ تھے
32:41جنہوں نے چار پائی اٹھا رکھی تھی
32:42تو باقی میں نے گنے
32:44تو جنازے کے ساتھ
32:45صرف سولہ بندے تھے
32:46میں سمجھ گیا
32:47کہ کوئی غریب مرے آئے
32:48کیونکہ اگر کوئی امیر مرا ہوتا
32:50تو پھر سولہ نہیں ہونے تھے
32:52پھر سولہ سو ہونے تھے
32:53اور پھر میں اپنی منافقت پہ حیران
32:55کہ حضرت
32:56ہم میں کس طرح منافقت
32:58کوٹ کوٹ کے بھر چکی ہے
33:00پاکستانیوں میں
33:01صبح
33:02ہمارے سکولوں میں
33:04کیا پڑا پڑھائے جاتا ہے
33:05ظاہر ہے
33:06سارے سکول سے گزرے ہوئے ہیں ہم بھی
33:07صبح
33:08ہمارے سکولوں میں
33:09کیا پڑا پڑھائے جاتا ہے
33:10ہو میرا کام
33:12غریبوں کی
33:14حمایت
33:16کرنا
33:17لیکن حمایت کیا کرنی ہے
33:19حضرت
33:19ہم تو غریب کے جنازے پہ بھی
33:21نہیں جاتے ہیں
33:21حمایت
33:23ہم نے کسی غریب کی کیا کرنی
33:25بلکہ اس ملک میں
33:26تو حضرت
33:27جتنے قانون ہے ہی
33:28غریبوں کے لئے
33:29امیر کے لئے تو کوئی قانون نہیں
33:30امیر بندہ
33:32اپنی لینڈ کروزر کے نیچے
33:33ساتھ بندے کچل دیتا ہے
33:34اور ڈاکٹر اس کو سیٹیفکیٹ بنا دیتا ہے
33:37کہ یہ پاگل ہے
33:38اور پھر اس کو جہاز پہ پٹھا کے
33:40دبائی بھیج دیا جاتا ہے
33:42ہے کوئی امیر کے لئے بھی در قانون ہے
33:44اور سارے قانون ہی غریب کے
33:46ساری مصیبتیں غریب کے لئے
33:48غریب کا کوئی نہیں
33:50نہ کوئی پیر غریب کا
33:52نہ کوئی مشوائی صاحب کسی غریب کے
33:54نہ کوئی ناتخان کسی غریب کا دوست
33:56سب امیری کے ششکے ہیں
34:00غریب کو کون پوچھتا ہے
34:02میں تو کہتا ہوں یہ صبح سمبلی میں بند کرواؤ
34:04اس کو حضر صاحب کیا منافقت ہے
34:06یا پھر اس کو بدل لو
34:08جو کرتے ہیں ہم غریب کے ساتھ پڑو بھی ہو
34:10یہ حضر صاحب پڑتے ہیں
34:12ہو میرا کام غریبوں کے حمایت کرنا
34:14تو اس کو بدلو
34:15ہو میرا کام غریبوں کو تونکے رکھنا
34:18یہ پڑا کرو یہ پڑایا کرو
34:20اپنے بچوں
34:20کیونکہ کر بھی یہی رہے ہیں
34:22کر بھی اللہ معاف فرمائے یہی رہے ہیں
34:25لیکن حضر صاحب جب کتاب کھولی
34:27تو میں دنگ رہ گیا
34:29کہ ہمارے بڑے پڑتے تو یہ نہیں تھے
34:32کہ ہو میرا کام غریبوں کی حمایت کرنا
34:34لیکن کرتے دب کے غریبوں کی حمایت دے
34:37امیروں سے تم کتالو کی کوئی نہیں تھا
34:40حضرت خاجہ نظام الدین علیہ رحمت اللہ تعالیٰ لیکن
34:43بادشاہ نے پیغام بھیجا
34:45میں آپ کی خانکہ میں آنا چاہتا ہوں
34:47آپ نے فرمایا دو دروازے ہیں
34:48ایک سے تو آئے گا دوسرے سے میں نکل جاؤں گا
34:51اب تو گتر لیں
34:53اب تو حالات بھی ایسے ہو گئے ہیں
34:56کیا بھولو
34:56امیر غریب پیر صاحب کے ساتھ اندر بیٹھ کے
35:00حرن کا گوش کھاتا ہے
35:02اور غریب مرید بائر ادھرے
35:04ٹوٹی تھالی میں دال کھاتا ہے
35:05منہوں بندہ کہنا نے
35:07مصباح صاحب تو ہی کدھن کسے پیر کھلو گولی کھا لڑنے
35:10لیکن کیا کریں
35:12خانکاؤں میں بھی وہ رنگ نہیں رہے
35:14امیر مریدوں کے لئے
35:16کچھ ہو رہا ہے
35:17اللہ ہونا تو یہ چاہیے تھے
35:19کہ پیر صاحب
35:19امیر مرید کو ٹوٹی تھالی میں دال کھلائیں
35:22اس کا کوئی تذکیہ ہو
35:23اس کے اندر کا فیرون مسلمان ہو
35:26حضرت صاحب
35:27اس کے اندر کا جو نمرود ہے
35:29اس کے اندر کا جو شداد ہے
35:30وہ مسلمان ہو
35:31لیکن کیا ہے
35:33اب حضرت وہ پیر صاحب کے پاس جاتا ہے
35:35تو اور بڑا فیرون بن کے واپس آتا ہے
35:37کیونکہ وہ سمجھتا ہے
35:38وہ میرے بھائی ہیں
35:40وہ کہتے ہیں
35:41وہ فلان حضرت صاحب نہ
35:42مجھ سے بڑا پیار کرتے ہیں
35:43میں نے کہا
35:44تُر سے کوئی نہیں کرتے
35:45تیری لینڈ گروزر سے کرتے ہیں
35:47اترو ہے ہاں
35:48تُو ہی رکشے
35:48اللہ میں دیکھ
35:49نہ تیرا نکڑا پیار کرتا ہے
35:50چوپ پلی ہے
35:52لیکن جب بھی
35:54میں نے اپنی اصلاف کو پڑا
35:55قربان جا مجھے
35:57یہ کتابوں میں لکھا ہے
35:59کہ جب جناب سیدونہ صدیق اکبر
36:00رضی اللہ تعالیٰ نے
36:01خلیفہ بنے
36:02تو ایک بچی آپ کے پاس آئی
36:04اور اس نے آکے رونا شروع کر دیا
36:06آپ نے اسے پوچھا
36:08کہ کیوں رو رہی ہے
36:09اور اس کرتی ہے
36:10خلیفہ رسول
36:11اس لیے رو رہی ہوں
36:12کہ اللہ کے رسول کا
36:13وثال ہو گیا
36:15آپ نے فرمایا
36:16اگر تیرے رونے کی وجہ
36:17اللہ کے رسول کا وثال ہے
36:19تو پھر تجھے کیا بتاؤں
36:21کہ اس وقت
36:21ابو بکر کے دل کا
36:22کیا حال ہے
36:23اور اس کرتی ہے
36:25خلیفہ رسول
36:26ایک وجہ اور بھی ہے
36:27آپ نے فرمایا
36:28وہ بتا
36:28اور اس کرتی ہے
36:29خلیفہ رسول میں يتیم
36:31میرے ماں نہیں ہے بھائی
36:34نہیں ہے بہن نہیں ہے
36:35گھر میں ایک بوڑی دادی ہے
36:37وہ اندی بھی ہے وہ کمزور بھی ہے
36:39وہ بیمار بھی ہے اور ہمارے پاس
36:41کچھ بکریاں ہیں جن کا
36:43دودھ دھو
36:45کے چو کے نکال کے جو بھی
36:47آپ سکتے ہیں تو بیچ کے
36:49نا ہم بزار میں تو ہم اپنا گزارہ کرتے ہیں
36:52تو آپ نے فرمایا رو کیوں رہی ہے
36:53اور اس کرتی خلیفہ رسول روتی
36:55اس لیوں کیونکہ میرے ہاتھ چھوٹے چھوٹے ہیں
36:57ان سے بکریوں کا دودھ نکل سکتا
37:00نہیں دادی اندھی
37:02ہے وہ بھی بکریوں کا دودھ نکال
37:03سکتی نہیں جب تک
37:05اللہ کے رسول اپنی حیات زہری
37:08کے ساتھ ہمیں موجود تھے
37:09آپ روز ہمارے گھر تشریف لائے کرتے
37:12تھے اور ہمیں بکریوں کا دودھ نکال کے
37:13دیا کرتے تھے
37:14وہ نبیوں میں رحمت
37:18لکب آنے والا
37:19مراد غریبوں
37:22کی پرلا
37:22وہ اپنے پرائے کا غم کھانے
37:26پتہ نہیں پاکستانی ہوں
37:28اسی کلے طریقے تھے
37:29کس کی عادات ہم نے اپنا لی
37:32کس کے انداز ہم نے اختیار کر لی
37:35غسیلے
37:36لڑا کے
37:38سینے اجکینے رکھا نہ لیں
37:40پتہ نہیں ہم
37:42کس کے طریقے پر چل نکلے
37:44ملاد کسی دا منانے ہیں
37:46لیکن طریقے کسی دے اپناے ہیں
37:49ملاد حضور نبی علیہ السلام کا
37:52مناتے ہیں لیکن طریقے
37:53پتہ نہیں کس کی
37:55جنابِ صدیقِ اکبر
37:57رضی اللہ تعالیٰ انہوں رو پڑے ہیں
37:58رو کے پتہ اس بچی کو جواب کیا دیا
38:01اب نے فرمایا
38:02تو رونا
38:03میرے محبوب کا تو وشال ہو گیا
38:05لیکن ان کا نوکر ابو بکر بھی زندہ ہے
38:08اور جب تک ابو بکر زندہ رہے گا
38:11آج کے بعد تیری بکریوں کا دودھ
38:13ابو بکر نکالا کرے گا
38:15حضرت صاحب پڑھتے تو وہ نہیں تھے
38:19کہ ہو میرا کام
38:20غریبوں کے حمایت کریں
38:22لیکن کرتے دب کے تھے
38:23ہم پڑھتے ہیں لیکن کرتے
38:26بلکہ ہم نے حضرت کسی کے ساتھ کیا کرنا ہے
38:30ہم تو ایک دوسرے سے لڑے ہوئے
38:31بھائی بھائی سے لڑا ہے
38:33چاچا بھتیجے سے لڑا ہے
38:36ماما بھانجے سے لڑا ہے
38:38ہم تو آپس میں لڑے ہوئے
38:40تو لڑنا تو کسی اور سے تھا
38:41لڑا ہم آپس میں پڑے سارے
38:43میں
38:44آپ انجھے نہیں پتا کہ فیصلہ بات سے
38:47فیصلہ کتنا بنے گا
38:49میں اگر سیالکورٹ میں نا کینٹ جائے نا ہم
38:52کینٹ انٹر ہوں
38:53تو وہاں ایک تختی لگی ہے
38:57جس پہ لکھا ہے
38:58جمعوں بتیس کلومیٹر ہے
39:00تو جب میں
39:02حالیٰ میں بہت کم اس راستے سے جاتا ہوں
39:04میں اگر کینٹ جانا ہوں تو
39:05میں کسی اور راستے سے چلا جاتا ہوں
39:06کیونکہ تھوڑا جذباتی اور حساس مزاج بندا ہوں
39:09تو جب حضرت وہ بتیس
39:11یہ نظر پڑتی ہے نا تو دل میں بتیس چھید ہوتی
39:14کہ یار ساڑے تو صرف بتی کلومیٹر ساں لیکن اسی انہا واسطے کو جو بھی کیتا
39:19ساڑے غصے
39:21ساڑے ڈانڈ
39:23ساڑے قد
39:24ساڑیاں چوڑیاں چھاتیاں
39:27انہاں دیکھاں ماں سکیاں
39:29یہ ڈانڈ اسی ایک دوجہ نہیں بخائے
39:32یہ چوڑیاں چوڑیاں چھاتیاں اسی ایک دوجہ
39:34یہ زور اسی ایک دوسرے تلائے
39:36دیکھ کیا محول ہے
39:38پراپرا آدم مارو ہے
39:40محلے میں دس گھار رہے ہیں آٹھ سے میری لڑائی ہے درستہ
39:44بھر لڑنا تو کسی اور سے تھا
39:45لڑ ہم آپس میں پڑے ہیں سارے
39:47وہ پھر کہتا ہے مولوی سلیمان
39:50بتی کلومیٹر تیرے کلو جمعوے
39:52تو این علی کاکھ نہیں کر سکیا
39:54تو فلسطین لیکی کرنا ہے
39:55اس لئے پتر
39:58اللہ دا واسطہ جے
39:59اپنے آدھے گل میں چھڑیئے
40:02تیاری کریئے جنہ دے پھڑنے
40:04انہ دے پھڑیئے درستہ
40:05دا دا واسطہ کوئی ہوش کرو
40:07کوئی قرآن کی طرف آؤ
40:10کوئی اللہ کی طرف آؤ
40:11کوئی رسول کی طرف آؤ
40:13قرآن کیا کہہ رہے
40:15والقاظمین الگئی
40:17وہ غصہ پین دے نہیں
40:18ایتھے پائی پین دے ہی کوئی نہیں ہے
40:21تو ہم نے صرف پڑھا ہے
40:23کہ ہو میرا کام غریبوں کی
40:25لیکن کیتی
40:26یہ حضور غوثیازم
40:29رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے لئے لکھا ہے
40:31یہ حضور غوثیازم رضی اللہ تعالیٰ عنہ
40:34وہ خود کو چادر میں چھپائے
40:37بزار سے گزر رہے تھے
40:39وہ چادر میں اس لئے چھپا رکھا تھا
40:41کہ ظاہر ہے اگر ایسے جاؤں گا
40:43تو لوگ دیکھیں گے اور محبت میں اکٹھے ہو جائیں گے
40:46کسی کو دھکا لگے گا
40:48کسی کے پاؤں پہ پاؤں آئے گا
40:50میری وجہ سے کسی کو نقصان نہ پہنچے
40:52اس لئے حضور شیخ عبدالقادر جلانی
40:55حضور غوثیازم
40:56خود کو چادر میں چھپائے گزر رہے ہیں
40:59وہ لکھایا کہ اس وقت بزار میں کپڑا چور کھڑا تھا
41:04اور اس کی نظر حضور غوثیازم
41:06رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی چادر پہ پڑ گئے
41:08اب اس کو یہ نہیں پتا کہ
41:10چادر کے نیچے کون ہے
41:12اس نے تو چادر دیکھی
41:13اس نے خیال کیا کہ اگر
41:16یہ چادر چھین کے بھاگ جاؤں
41:18تو جتنی قیمتی چادر ہے
41:20مجھے کتنے دن کچھ نہیں کرنا پڑے گا
41:21اتنی مہنگی بکے یہ بزار میں جاکے
41:23لیکن کیونکہ بزار میں
41:25چادر چھین کے بھاگنا ناممکن تھا
41:28اس نے کہا اب انتظار کرتا ہوں
41:30کہ چادر والا بزار سے
41:32رش سے گیدرین سے
41:34باہر آ جائے
41:35دو تین بندوں کی کوئی ٹینشن نہیں وہ میں دیکھ لوں گا
41:37لیکن اتنے بندے نہیں مجھ سے سنبھالے جائیں گے
41:41اب وہ بھی چل رہا ہے
41:41اور حضور غوثیازم بھاک بھی چل رہا ہے
41:44حالا کیا حضور غوثیازم بھاک کو
41:46پتا نہیں تھا پیچھے کون چل رہا ہے اور کس نیز سے چل رہا ہے
41:48آپ تو فرماتے ہیں میرے
41:50اللہ نے میرے لئے اس دنیا کو
41:52ایسے کر دیا ایسے کھانے والے کے
41:54سامنے دسترخان ہوتا ہے
41:55آپ کو پتا تھا لیکن چلتے
41:58رہے وہ بھی چلتا رہا ہے
41:59اب جب حضور غوثیازم بھاک بزار سے باہر نکل آئے
42:02اور اب چور کے نزدیک
42:04یہ جگہ چادر چھین کے بھاگنے کے لئے
42:06بلکل موضوع ہے
42:07تو اس نے پکڑ کے نا آپ کی چادر کو کھیچا
42:10وہ چادر کھیچ رہا ہے
42:12بار بار
42:12ادھر حضور غوثیازم رضی اللہ تعالیٰ عنہ
42:14اللہ کی بارگاہ میں کیا عرض کرتے ہیں
42:16مفہوم ہے
42:18رب کریم
42:19پکڑی چادر اس نے بری نیت سے ہے
42:22لیکن پکڑ عبدالقادر کی لئے ہے
42:25پکڑی چادر اس نے بری نیت سے ہے
42:30لیکن پکڑ اس نے عبدالقادر کی لئے ہے
42:33اب اگر اس نے چادر پکڑ ہی لئے ہے
42:36تو اے میرے اللہ اس کو توفیق کے توبہ دے دے
42:39تاکہ یہ میری چادر پکڑے پکڑے
42:41میرے ساتھ جنت میں جائز ہیں
42:43اوہ کیا ہم کیا
42:46ان کے انداز کیا
42:49اس لئے تو پھر اقبال رویا تھا
42:52اور اقبال نے رو کے کہا تھا
42:54تھے تو آبا وہ تمہارے ہی
42:57مگر تم کیا ہو
42:59انہ دا غصہ بھی اللہ لئی
43:01انہ دا پیار بھی اللہ لئی
43:03انہ دیاں لڑائینا بھی اللہ
43:04انہ دا معاف کرنا بھی اللہ
43:07تم کیا ہو
43:08نا تمہارا غصہ اللہ کے لئے
43:11نا تمہارا پیار اللہ کے لئے
43:13تھے تو آبا وہ تمہارے
43:16مگر تم کیا ہو
43:19ہاتھ پہ ہاتھ دھرے منتظرے فردہ ہو
43:23یہ جناب سیدنا عمر فاروق
43:25عضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں
43:27کہ عرصہ دراز تک
43:28میری یہ کوشش رہی کہ میں
43:31سیدنا صدیق اکبر عضی اللہ تعالیٰ عنہ پہ
43:34سبقت لے جاؤں مدردہ
43:36لیکن فرماتے ہیں وہ وقت تو وہ ویل آیا
43:38کہ مجھے بھی کہنے ہی پڑ گیا
43:40اے عمر
43:40سبقت تو دور
43:42کاش تو ابو بکر کے سینے کا اقبال ہی ہوتا ہے
43:45آپ کہا کرتے تھے
43:47اے خلیفہ رسول
43:48مجھ سے سارا کچھ لینے بس
43:50غار سور کی ایک رات
43:52مجھے عطا فرما دیا
43:53ابو بکر تو ابو بکر ہے
43:55اے فرماتے ہیں
43:57مدینہ پاک کے مضافات میں
43:58ایک امہ تھی
44:00جن کا صدیق اکبر عضی اللہ تعالیٰ عنہ
44:03اس سے نہ تو کوئی تعلق تھا
44:05اور نہ ہی حال میں
44:06اور نہ ہی مستقبل میں
44:07صدیق اکبر کو اس امی مائی سے کوئی کام تھا
44:10اور نہ کام پڑھ سکتا تھا
44:13وہ مائی نبینہ تھی
44:14اس کا بیٹا ایک غزوے میں
44:17جامع شہادت نوش کر چکا تھا
44:18لیکن صدیق اکبر عضی اللہ تعالیٰ عنہ
44:21روزانہ اس کے گھر جایا کرتے تھے
44:23جھاڑو دینا
44:24تازہ پانی بھرنا
44:25سالن بنانا روٹی پکانی
44:27اور سارا کچھ امہ کو کھلا کے واپس آتا
44:30جب کبھی نبی پاک علیہ السلام کی
44:32ڈیوٹی میں ہوتے تو کسی مقول بندے کی
44:34ڈیوٹی لگاتے
44:35تاکہ امہ کو کسی قسم کی پریشانی ہو
44:38جناب عمر فاروق عضی اللہ تعالیٰ عنہ
44:41فرماتے ہیں ہم کسی کی ڈیوٹی لگا رہے تھے
44:43میں نے سن لیا
44:43آپ تو ڈیوٹی لگا کے تشریف لے گئے
44:47میں نے اس شخص کو کہا
44:48اوے چل ڈیوٹی تیری لائیے
44:51لیکن میں جاؤں گا
44:53ٹھیک ہے تو نہیں جانا کوئی
44:54تو ایزی رہنا
44:55ٹھیک ہے
44:56تجھے نہیں ضرورت جانے کی
44:58میں جاؤں گا
44:58اور آپ فرماتے ہیں ارادہ یہ تھا
45:00کہ آج اس طرح خدمت کرنی ہے
45:02کہ امہ کو صدیق اکبر کی خدمت بھول جائے
45:05اور وہ کہے کہ خدمت تو آج ہی ہوئی ہے
45:08آپ فرماتے ہیں میں مقررہ وقت پہ گیا
45:10جا کے دروازہ کھولا
45:12اور دبے لفظوں میں آہستہ سے
45:15السلام علیکم کہا
45:17تاکہ ابھی امہ کو پتا نہ چلے
45:18کہ ابو بکر نہیں آئے
45:21اور جس کی حضرت ابو بکر
45:23ڈیوٹی لگاتے ہیں وہ بھی نہیں آیا
45:25نیا بندہ ہے کوئی آج
45:27جب پوچھے گی تو پھر بتاؤں گا
45:29فرماتے ہیں جھاڑو پکڑا
45:30اور میں نے وہ گھر کی صفائی شروع کر
45:33میں اکثر سوچتا ہوں یار
45:35کیا رنگ بھرے تھے
45:37نبی پاک علیہ السلام
45:38نے اپنے اصحاب میں
45:41اپنے یاروں میں شان دیکھو
45:43مقام و مرتبہ دیکھو
45:45مراد رسول ہیں اللہ سے مانگ
45:47کے لیے لیکن حضرت کیا
45:49ایک اندی مائی کے گھر میں جا کے جھاڑو
45:51دے رہے ہیں یہاں حضرت ہم
45:53دو عمرے نہیں کر لیتے دو حاج
45:55نہیں کر لیتے تو جناب
45:57پتہ نہیں ہم اپنے آپ کو وقت کا باید
45:59ہی سمجھنے لگ پڑتی ہیں
46:00تو اور پور ہمارے بدل جاتے ہیں
46:03وہاں مقام و مرتبہ
46:05دیکھو حضرت لیکن انداز دیکھو
46:07چار پیسے نہیں آتے
46:09حضرت ہمارا سٹیٹس بدل جاتا ہے
46:11یار بدل لیں گے رشتے دار
46:13بدل لیں گے دوست بدل لیں گے
46:15اب میرا سٹیٹس یہ
46:17نہیں کیا ہوا ہے تیرے سٹیٹس
46:19پہلے بھی تو پخانے ہی کرتا تھا
46:23پہلے بھی تو پشاپ کرتا تھا
46:25پہلے بھی ترے موہ میں
46:27تھوک تھا بولتے ہوئے
46:28اکثر نیچے گرا کرتا تھا
46:30اب بھی تھوک ہی ہے
46:30آپ کو سونے کے انڈے دینے لگ پڑا
46:33بھر اتنا فرق آیا ہے
46:35پہلے بھائی ذرا
46:48فردو میں بلغم تھی اب بھی بلغم
46:50پہلے بھی تیری رگو میں خون تھا اب بھی
46:52خونی ہے پہلے بھی
46:54تیرے پتے میں سفراء تھا تلی میں
46:56سعوداء تھا اب بھی ہوئی ہے بدلہ
46:58کیا ہے ترہی ہے اور
47:00حضرت صاحب اللہ دیکھ
47:02قدی نہ بدلی ہو
47:03اللہ مجھے پتا ہے بڑا مشکل کام ہے
47:06لوگوں کو منیج کرنا پھر بھی منیج کرنا
47:08لیکن بدلی ہو
47:10علماء کثیر تعداد میں
47:12بیٹھے ہیں کیونکہ میں نے دو تین
47:14باتیں اور بھی کرنی ہیں حضرت صاحب
47:16جے غریب نہ نہ ہوں
47:18تے کل پھر کسے بھی امیر
47:20نے بخشیا جانا
47:21میری گالی یاد رکھیں
47:24یہ غریب نہ ہوں
47:26تے کل کسے بھی امیر نے بخشیا جانا
47:29حضرت صاحب
47:30اللہ مجھے معاف کرے میں تو
47:32اس گھڑی کا جواب نہیں دے سکتا ہے
47:34سم لَتُسْلُنَّ
47:37يَوْمَا اِذِنَا نِنَّعِ
47:38میں تو اس کا جواب نہیں کیا جواب دوں گا
47:41بھئی ٹائم ہی بتا رہی ہے نا
47:43تو جو وہ پتھان لے کے کھڑا ہے
47:45وہ جو اڑھائیسوں میں دے دیتا ہے
47:47وہ بھی ٹائم ہی بتا رہی ہے
47:48اے کیوں ہوں ایڈی مہنگی برینڈ دی کڑی بننی
47:50میں تو اس کا کوئی جواب نہیں دے سکتا
47:54جب پوچھ لے آمال کا نہیں
47:56دا سوئے
47:56ایڈی مہنگی کڑی کیوں بننی
47:59کی کانگا
48:00مصبعی ساتھ چھپ کر کے کھلوتے ہیں
48:03پھر بچنا کے میں
48:04کوئی یتین کوئی غریب
48:07کوئی بیوہ کوئی مسکین
48:08کوئی غریب
48:09جو اس ٹائم اٹھ پوے
48:11اللہ دی بارگاہ چرز کرے ربا
48:14ایڈا چلا میرا چلا
48:16ایڈی وجہ نہ بلدھا رہے
48:18چالنا نو معاف کر چھڑ سائیں
48:20باقی حضرت صاحب
48:22میں کہتا ہوں
48:24مثال کے طور پر کیا جواب دوں گا
48:26کیا جواب دوں گا
48:29جڑی پتھان دے کول
48:31ڈیڑھ سوالی کڑی ہے
48:32ٹائم تو بھی دست دی ہے نا
48:33کیا جواب دوں گا
48:34ایڈی جان چھٹنی جا
48:37ٹائم تو بھی دیں گا
Comments