00:00چکوال کے نفیس احمد نے گیارہ سو پودے لگا کر جنازگاہ کو سجا دیا
00:05جب بھی میں جنازہ پڑھنے آتا میرا دل جو اینبو کام تھا
00:08خود شروع ہو گیا کہ میں نے اس کو ایسا سجانا ہے کہ پورا پاکستان میں ایسی جنازگاہ نہیں ہو
00:13کوئی ایسی جگہ نہیں ہے جہاں پہ پودا رکھا جائے جنازگاہ میں
00:16یہ جو آپ نے جنازگاہ کو اتنا رینویٹ کیا ہے
00:21گیارہ سو گملا گیارہ سو پودے گیارہ سو آپ نے مختلف فلاورز لگا دیئے ہیں
00:27اور یہاں پہ مختلف اقسام کے درخت لگائے ہیں کیوں لگائے ہیں کیا سوچا آپ کی
00:31بس مجھے شوک پودوں کی اور تو ایسی جگہ ملی نہیں ہے
00:36میں نے یہی سوچا کہ جنازگاہ کو سجا دی
00:39مجھے یہ بتائیں کہ یہ آپ نے اپنے پیسوں سے لگائے
00:43یہ میں نے اپنے پیسوں سے لگایا ایک ایک پودا خریدا ایک ایک گملا خریدا
00:47آپ سے دس دن پندرہ دن میں پھر پنچیں گم لے رکھتا رہا
00:50اس میں پوری جنازگاہ میں جو پودے لگے ہیں ٹیم لگے ہیں میرا پانچ سال لگے ہیں
00:55آپ نے کون سے عرصے میں کب سے اسٹارٹ لیا
00:58مجھے یہ بارے مہینے کی سترین طریقہ جو ہے سات سال ہو گئے ہیں
01:01اب مجھے سات سال اور تین ماہ اور تریس دن ہو گئے ہیں
01:05کیوں آپ کو یہ لگا کہ جنازگاہ میں یہ پودے لگانے چاہیے
01:08اس کو رینویٹ کرنا چاہیے اتنا اس کو خوبصورت بنانا چاہیے
01:11اس کی آخر وجہ کیا ہے
01:12سیدھی صاحب نے بنوائی تھی
01:15اور یہ اتنا بڑا حال اتنا خوبصورت جگہ
01:19اور آگے جو ہے وہ سرورت اس چھات سے اوپر تھے
01:22وہ جب بھی میں جنازہ پڑھنے آتا میرا دل جو ہے نا وہ کام تھا
01:26لوگوں نے کہا کہ لگاتے ہیں لگاتے ہیں بس لگائی نہیں ہے
01:29لیکن پھر میں آپ خود شروع ہو گیا کہ میں نے اس کو ایسا سجانا ہے
01:32کہ پورا پاکستان میں ایسی جنازہ گاہ نہیں ہوگی
01:35آپ یہ کہہ سکتے ہیں کہ اس پہ آپ نے لاکھوں روپے لگائیں
01:38پیسوں کے حساب میں نے نہیں کیا
01:41میری شوق ہے میں کوئی ایسی جگہ نہیں ہے جہاں پہ پودا رکھا جائے جنازہ گاہ میں
01:46پیسوں کے حساب سے میں نے نہیں پودے لگائے
01:48آپ بتا رہے تھے کہ آپ صبح جب آتے ہیں
01:51تو آپ کا پرندے تک ویٹ کرتے ہیں یہ کیا سین ہے
01:54یہ سردیوں کے موسم میں جو دس بجے میں ان کو چابل
01:58یہ چکوال سے نیشنل والے کی رسے لے کے آتا ہوں
02:02پروٹ اور پانی نانے والا لاغ پینے والا لاغ پھر چاول اور کافی چیزیں جو ہے وہ
02:11دن کے دس بجے ایک ہزار پرندہ میری انتظار کرتا ہے
02:17اور میرا استقبال کرتا ہے
02:19کبھی کبھی یہ خیال تو آتا ہوگا کہ
02:21یار اتنا ٹائم ہو گیا ہے اتنے پیسے بھی لگ گیا ہیں تو بس کر دوں
02:24یہ خیال آتا ہی نہیں ہے میں تو کہتا ہوں وہ اور جگہ
02:27اب جنازگاہ بھار گیا اور مقبستان کے طرف رکھ کیا
02:31وہ پورا گروپ بن گیا پھر میرے ساتھ
02:34وہ بھی پودے لگائے ہیں وہ بار
02:36آپ کے ساتھ اس کار خیر میں
02:38اس محبت بڑے کے ایک پیغام میں
02:41آپ کے جو اہلِ علاقہ ہیں وہ بھی شامل ہے
02:44شامل ہے پورا گروپ بننا گیا
02:46یہ کب بنائے گروپ
02:47دیر دو سال ہو گئے ہیں
02:49کون کون سے پودے یہاں بھی لگے ہوئے ہیں
02:57کدھر کافی لگے ہیں یہ سرائی پام لگا ہوئے ہیں کنگی پام لگا ہوئے ہیں
03:01ویٹا پام لگا ہوئے ہیں رات کی رانی بیلیں غلاب وائف ایکس یوکیا
03:07بے شمار پودے ہیں شات پہ بھی لگے ہوئے ہیں
03:11کون سی خواہش ہے ابھی جو اس ان پودوں کی حوالے سے ہو
03:14کہ یار اب یہ پودا رہ گیا یہ لگانا ہے
03:17ایسا کوئی ایسا پودا نہیں ہے جو میں نے نہیں لگا ہے
03:20جو مجھے اچھا لگتا
03:21کریچی سے چکوال سے پتوکی سے
03:24وہ میاندید کرتا کہ یہ میں نے جنرازگاہ میں لگا
03:28میں نے سنیا آپ کے یہ کاروبار بھی ہے
03:30دکان ہے چھوٹی نرسی ہے میری
03:33یہ پہلے بھی تھی یا ابھی بنائی ہے
03:34نہیں کافی اچھے سے میری
03:36پودوں کے حوالے سے کچھ کیڑے مکوڑے بھی لگ جاتے ہیں
03:40گل سڑ بھی جاتے ہیں
03:41ان حوالوں سے آپ کے پاس کیا چیزیں ہیں
03:44وہ کہاں سے لاتے ہیں
03:45کیا کرتے ہیں ان کے حوالے سے
03:46پاکستانیوں کو پلانٹس کے حوالے سے
04:00پودوں کے حوالے سے
04:01فلاورز کے حوالے سے
04:03اس جیسچر کے حوالے سے
04:04کیا پیغام دینا چاہیں گے
04:06میں سر پیغام دینا چاہتا ہوں
04:08کہ ہر گوہ
04:09ہر شہر
04:10ہر جگہ
04:12جو قبرستان ہے
04:13یہ جنازگاہ ہے
04:14ان کو سجایا جائے
04:15اب ہی ہمارے آس پاس
04:17جو ہیں وہ بندے شروع ہو گئے ہیں
04:19سجانے کی
04:20اندر سے دیکھتے ہیں
04:21اور ربال کے پیچھے جو ہے
04:23تو میرا یہی پیغام ہے کہ
04:25قبرستان میں پودے لگائے جائیں
04:28لوگ سائے پہ بیٹھیں گے
04:30درست کو سجایا جائے
04:31مسجد کو سجایا جائے
04:32موسیقا
04:45موسیقی
Comments