"لا حول ولا قوۃ الا باللہ" کا مطلب ہے "نہ کوئی طاقت ہے اور نہ ہی کوئی قوت مگر اللہ کی طرف سے"۔ اس کلمے کی فضیلت احادیث میں کئی جگہ بیان کی گئی ہے۔ چند فضائل درج ذیل ہیں:
1. **بہترین ذکر**: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "ابو موسیٰ! کیا میں تجھے جنت کے خزانوں میں سے ایک خزانے کی خبر نہ دوں؟" میں نے کہا: کیوں نہیں، اللہ کے رسول! آپ نے فرمایا: "لا حول ولا قوۃ الا باللہ" (صحیح بخاری و مسلم)۔
2. **مشکلات سے نجات**: یہ ذکر مشکلات اور پریشانیوں میں مددگار ثابت ہوتا ہے۔ جب بھی انسان کسی مشکل میں ہو تو اسے بار بار پڑھنے سے دل کو سکون اور اللہ کی مدد حاصل ہوتی ہے۔
3. **تقدیر کی تبدیلی**: یہ کلمہ اس بات کا اعتراف ہے کہ ہم اپنی قوت اور طاقت سے کچھ نہیں کر سکتے بلکہ سب کچھ اللہ کی مشیت سے ہوتا ہے۔
4. **جنت میں ایک درخت**: حدیث میں آتا ہے کہ "لا حول ولا قوۃ الا باللہ" پڑھنے سے جنت میں ایک درخت لگ جاتا ہے (ترمذی)۔
اس ذکر کو کثرت سے پڑھنے کی تلقین کی گئی ہے کیونکہ یہ اللہ کی عظمت اور انسان کی عاجزی کا اعتراف ہے اور اس کے ذریعے اللہ کی مدد اور فضل حاصل ہوتا ہے۔
Comments