Skip to playerSkip to main content
  • 10 years ago
.
یہ حکایت انجیل شریف کے رکوع 15 کی آیات 8 تا 10 سے لی گئی ہے۔ حکایت کچھ یوں ہے کہ فرض کیجئے کسی نادار خاتون کے پاس صرف دس ہی دینار رہے ہوں اور ان میں سے ایک کھو جائے تو کیا وہ اسے ڈھونڈنے کی اس وقت تک ہر ممکن کوشش نہیں کرتی رہے گی جب تک اسے ڈھونڈ نہ لے۔" اور اگر وہ کھویا ہوا درہم مل جائے تو اس کی خوشی کا کوئی ٹھکانہ نہیں رہے گا۔ وہ آس پڑوس کے لوگوں کو خوشی سے بتاتی پھرے گی کہ اللہ کا لاکھ لاکھ شکر ہے کہ میرا کھویا ہوا درہم مل گیا ہے۔ بالکل اسی طریق پر اللہ تبارک و تعالے اور فرشتے اس وقت خوش ہوتے ہیں جب کوئی بھٹکا ہوا انسان راہ راست پر واپس آ جائے۔
Comments

Recommended